مولانا ابوالحسن علی ندوی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے خطبے سے اقتباس:

مولانا ابوالحسن علی ندوی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے خطبے سے اقتباس:
”اگر مجھ سے کوئی کسی ملک کی تعریف کرے اور بتائے کہ وہ بڑی فوجی طاقت کا مالک ہے، اس کی معاشیات بڑی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، دنیا کی بڑی طاقتوں سے اس کے بڑے اچھے تعلقات ہیں اور ان کی نظر میں اس کا بڑا احترام ہے، تو مجھے یہ سن کر اطمینان نہیں ہوگا۔ میں کہوں گا کہ مجھے یہ بتائیے کہ وہاں کے اسکولوں اور کالجوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے طلبہ تک، نئی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں کس درجے کا احساسِ ذمہ داری پایا جاتا ہے؟ ان میں ضبطِ نفس کی کتنی طاقت ہے؟ ان میں اپنے تاثرات کو حدِ اعتدال میں رکھنے کی کتنی صلاحیت اور قانون کے احترام کی کتنی عادت ہے؟ اگر وہ صاحب کہیں گے کہ اس کی طرف سے تو میں اطمینان نہیں دلا سکتا، تو میں کہوں گا کہ پھر مجھے اس ملک کے حال و مستقبل کے بارے میں کوئی اطمینان نہیں ہے۔“
(بانگ ِدرا، لکھنؤ، مئی، جون، جولائی، ۲۰۰۰ء، سے ماخوذ)

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم