کیا واقعی علماء قیادت کے اہل نہیں؟

کیا واقعی علماء قیادت کے اہل نہیں؟
ایک بے لاگ جائزہ
شعیب رضا فاطمی 
ملک کے معروف عالم و دانشور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے حالیہ مضمون جو معارف میں شائع ہواہے میں ہندوستانی علماء کرام اور نظامِ مدارس کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں، وہ یقیناً چونکا دینے والے ہیں۔ ان کی تحریر کا سب سے اہم اور متنازعہ نکتہ یہ ہے کہ ملت کے عام مسلمان علماء کو اپنا قائد اور رہنما تو مانتے ہیں، لیکن موجودہ علماء قیادت کے اہل نہیں ہیں کیونکہ وہ ملک اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، سیاسی و سماجی نظام، میڈیا کی زبان اور جدید تقاضوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ یہ بات بہت سوں کو ناگوار گزر سکتی ہے، لیکن اس پر جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کوئی نئی بات کہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلم دانشوروں، مصلحین اور خود متعدد علماء کی جانب سے مدارس کے نصاب، طریقۂ تعلیم اور قیادت کے بحران پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلے کو نسبتاً دوٹوک اور بے پردہ انداز میں بیان کر دیا ہے۔
لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پورے ہندوستان کے علماء کرام کے بارے میں یہ عمومی فیصلہ دینا درست ہے کہ وہ قیادت کے اہل نہیں ہیں؟ کیا یہ حقیقت کے مطابق ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
اگر ہندوستان کے علماء واقعی قیادت کے اہل نہ ہوتے تو آزادی کی تحریک میں مولانا محمود حسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے رفقاء کا کردار تاریخ میں اس قدر روشن نہ ہوتا۔ اگر علماء قیادت سے ناواقف ہوتے تو بابری مسجد سے لے کر شہریت ترمیمی قانون (CAA) تک متعدد مواقع پر مسلم عوام کی اجتماعی رہنمائی ممکن نہ ہو پاتی۔ اگر علماء مکمل طور پر حالاتِ حاضرہ سے بے خبر ہوتے تو ملک بھر میں چلنے والے ہزاروں تعلیمی، رفاہی اور سماجی ادارے ان کی سرپرستی میں کامیابی سے کام نہ کر رہے ہوتے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ علماء نااہل ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے تقاضے ان روایتی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکے ہیں جن کے ذریعے گزشتہ صدی میں قیادت کی جاتی تھی۔
آج قیادت صرف فقہ، حدیث اور تفسیر جاننے کا نام نہیں رہی۔ آج قیادت کے لیے آئینِ ہند کی سمجھ، میڈیا کے مزاج کا ادراک، بین الاقوامی سیاست کا شعور، معاشیات، قانون، ٹیکنالوجی اور ابلاغ عامہ کی مہارت بھی ضروری ہے۔ دنیا بدل چکی ہے لیکن مسلم معاشرے کے بہت سے ادارے اس تبدیلی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکے۔ یہی وہ خلا ہے جس کی طرف ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اشارہ کر رہے ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستانی مسلمان گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ان کے خلاف سیاسی بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں، میڈیا ٹرائل ہوتے ہیں، قانونی اور آئینی مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن اکثر مواقع پر مسلم سماج کے پاس ایسے ترجمان کم نظر آتے ہیں جو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اپنی بات رکھ سکیں۔ اس کا نقصان پوری ملت کو اٹھانا پڑتا ہے۔
تاہم اس ناکامی کی تمام ذمہ داری صرف علماء پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ آخر جدید تعلیم یافتہ مسلم طبقہ کہاں ہے؟ کتنے مسلم بیوروکریٹس، وکلا، صحافی، پروفیسرز اور کارپوریٹ ماہرین اپنی قوم کے اجتماعی مسائل میں سنجیدگی سے حصہ لیتے ہیں؟ اگر علماء سے قیادت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو جدید تعلیم یافتہ طبقے کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔
اصل بحران قیادت کا نہیں بلکہ قیادت کی یک رخی ساخت کا ہے۔ ایک ایسا سماج جو صرف علماء پر انحصار کرے گا، وہ بھی ادھورا رہے گا اور ایک ایسا سماج جو علماء کو مکمل طور پر نظرانداز کر دے گا، وہ بھی اپنی روحانی اور تہذیبی بنیادوں سے محروم ہو جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی اور عصری علوم کے حامل افراد مل کر ایک مشترکہ قیادت تشکیل دیں۔
مدارس کے نظام میں اصلاح کی بحث بھی نئی نہیں ہے۔ خود اکابر علماء نے مختلف ادوار میں نصاب میں تبدیلیوں اور عصری مضامین کی شمولیت کی حمایت کی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ہونی چاہیے یا نہیں ،سوال یہ ہے کہ تبدیلی کی نوعیت کیا ہو اور اس کا مقصد کیا ہو۔ اگر مدارس اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے زبان، ابلاغ، قانون، سماجیات، سیاسیات اور ٹیکنالوجی کی بنیادی تعلیم شامل کریں تو یقیناً اس سے فارغین کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر اصلاح کے نام پر مدارس کو اپنی روح اور مقصد سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ بھی نقصان دہ ہوگا۔
مسلمانوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا المیہ تعلیمی پسماندگی، معاشی کمزوری، سیاسی بے وزنی اور فکری انتشار ہے۔ ان مسائل کا حل نہ صرف مدارس کے پاس ہے اور نہ صرف یونیورسٹیوں کے پاس۔ یہ ایک اجتماعی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے جس میں علماء، دانشور، ماہرینِ تعلیم، صنعت کار، صحافی اور نوجوان سب شریک ہوں۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی تحریر سے جزوی طور پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے بعض عمومی نتائج کو مبالغہ آمیز بھی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے اٹھائے ہوئے بنیادی سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو قومیں خود احتسابی سے بھاگتی ہیں، وہ تاریخ کے دھارے سے بھی باہر ہو جاتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم علماء کے دفاع یا مخالفت میں صف بندی کریں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں مسلم قیادت کیسی ہونی چاہیے۔ ایسی قیادت جو دین سے بھی واقف ہو اور دنیا سے بھی، جو مسجد کے منبر پر بھی مؤثر ہو اور پارلیمنٹ کے ایوان میں بھی، جو عربی اور اردو بھی جانتی ہو اور انگریزی و ہندی میں بھی اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہو، جو مذہبی شناخت کی محافظ بھی ہو اور قومی مسائل کی فہم بھی رکھتی ہو۔
اگر ہم یہ توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید ہماری تقدیر واقعی بدل سکتی ہے۔ اور اگر ہم صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے تو پھر ہماری کمزوریاں ہمارے مخالفین سے زیادہ ہمارا اپنا نقصان کرتی رہیں گی۔

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم