شیخ یوسف القرضاویؒ کی مشہور چھوٹی مگر بہت گہری کتاب

شیخ یوسف القرضاویؒ کی مشہور چھوٹی مگر بہت گہری کتاب
 جس کا نام ہے "أين الخلل؟" 
 72 صفحات کی یہ چھوٹی سی کتاب اسلامی تحریکوں کی ناکامی پر ایک خود احتسابی ہے۔
جہاں انہوں نے ناکامی کی پانچ بڑی قسم اقسام بتائیں ہیں
 

ان میں سے تیسری بیماری کا نام ہے 
 
"تربیت میں خلل"

وہ لکھتے ہیں: ہم نے تحریکیں کھڑی کر لیں، جماعتیں بنا لیں، نعرے ایجاد کر لیے، لیکن انسان نہیں بنائے۔

اور یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔

تربیت ہے کیا؟
تربیت صرف معلومات دینا نہیں ہے۔ تربیت انسان کے اندر کو بدلنا ہے۔ قرآن اسے "تزکیہ" کہتا ہے۔
"قد أفلح من زكاها وقد خاب من دساها"
ترجمہ: یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا، اور نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا۔
(سورۃ الشمس، آیات ۹–۱۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 13 سال مکہ میں کوئی حکومت قائم نہیں کی، صرف انسان بنائے۔ دارِ ارقم میں وہ تربیت گاہ تھی جہاں ابوبکر و عمر و بلال جیسے رجال بنے۔ پھر ان بنے ہوئے انسانوں نے دنیا بدل دی۔

ہم نے یہ ترتیب الٹ دی۔ ہم انسان بنائے بغیر ہی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔

قرضاویؒ کے مطابق آج تربیت میں تین بڑے خلل ہیں:

1- روحانی تربیت کا خلل:

ہماری مسجدیں آباد ہیں، مگر دل ویران ہیں۔ زبان پر اللہ اکبر ہے، دل میں خوفِ دنیا ہے۔

ہم نے قیام اللیل کو چھوڑ دیا، صبح کے اذکار کو چھوڑ دیا، تنہائی میں اللہ کے سامنے رونے کو چھوڑ دیا۔ ہماری دعوتی سرگرمیاں تو بہت ہیں، مگر اللہ سے تعلق کمزور ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہم تھوڑی سی آزمائش پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ جیل، فقر، یا شہرت آتے ہی ہمارا سارا اخلاص بہہ جاتا ہے، کیونکہ جڑیں گہری نہیں تھیں۔

2- فکری تربیت کا خلل:

ہم نے نوجوان کو سوچنا نہیں سکھایا، صرف نعرہ لگانا سکھایا۔

اسے دلیل نہیں دی، جذبات دیے۔ وہ سوال کرے تو ہم اسے بدتمیز کہہ کر خاموش کرا دیتے ہیں۔ اسی لیے آج کا نوجوان ایک شکوک و شبہات والی ویڈیو دیکھ کر دین سے بدظن ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کی فکری بنیادیں کچی ہیں۔

ہم اسے قرآن کے مقاصد، سنت کی حکمت، فقہ کا تنوع نہیں پڑھاتے۔ بس اپنی جماعت کا لٹریچر رٹا دیتے ہیں۔ ایسا ذہن جو صرف ایک زاویے سے سوچے، وہ کبھی امت کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔

3- اخلاقی اور سلوکی تربیت کا خلل:

یہ سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔

ہم اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، مگر آپس میں حسد، غیبت، بدگمانی، وعدہ خلافی اور تکبر میں ڈوبے ہیں۔ ایک ہی صف میں کھڑے دو بھائی ایک دوسرے کا عیب تلاش کر رہے ہیں۔

قرضاویؒ کہتے ہیں، اللہ نے فتح اخلاق والوں کو دی ہے، نعرے والوں کو نہیں۔ جب صحابہؓ نے کہا "إنا نحب الموت كما تحبون الحياة" تو یہ صرف بات نہیں تھی، یہ ان کا کردار تھا۔

آج ہم سچ میں خیانت کرتے ہیں، امانت میں کوتاہی کرتے ہیں، اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد کیوں نہیں کرتا؟

اس خلل کا نتیجہ کیا نکلا؟
نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری تحریکیں کارکنوں سے بھری ہیں، مگر مردوں سے خالی ہیں۔ شور بہت ہے، اثر کم ہے۔ ہم دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں، خود کو نہیں بدلنا چاہتے۔

علاج کیا ہے؟
علاج وہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا۔

1. خلوت کو جلوت پر مقدم کرو: دن بھر کی مصروفیات سے پہلے رات کا ایک حصہ اللہ کے لیے نکالو۔
2. علم کو عمل سے جوڑو: ہر ہفتے ایک آیت، ایک حدیث کو صرف پڑھو نہیں، اس پر جیو۔
3. چھوٹی جماعت میں تربیت لو: پانچ سات مخلص بھائیوں کی ایسی مجلس بناؤ جہاں تم ایک دوسرے کا محاسبہ کر سکو، نصیحت کر سکو۔

یاد رکھیں، خلل اسلام میں نہیں ہے۔ اسلام آج بھی ویسا ہی کامل ہے جیسا چودہ سو سال پہلے تھا۔ خلل ہم میں ہے۔

جب ہر شخص یہ کہنے کے بجائے کہ "امت میں خلل ہے" یہ کہے کہ "مجھ میں خلل ہے اور مجھے اپنی تربیت کرنی ہے" تو اسی دن سے امت کی تربیت شروع ہو جائے گی۔

ممتحن کیسا ہو

🌷 ممتحن کیسا ہو 🌷
👈 مکتب کا امتحان مکتب والوں سے کروائیں تو زیادہ مناسب ہے۔
👈 ممتحن طریقۂ امتحان سے واقف ہو۔
👈 ممتحن مخلص اور خیر خواہ ہو۔
👈 ممتحن امین ہو۔
👈 ممتحن مشفق ہو (بچوں سے پیار سے سوالات کرے / پیش آئے)۔
👈 نصاب و نظام کے دائرہ میں رہ کر سوالات کرے۔
👈 خارجی سوالات نہ کرے۔
👈 حسب و نسب کی رعایت نہ کرے اور نہ کسی سے مرعوب ہو۔
👈 کیفیت میں حق بات، حق نیت کے ساتھ اور حق طریقے سے لکھے۔
👈 مقصد پر نظر ہو، ذریعہ پر زیادہ نظر نہ ہو۔ جیسے: ایک بچہ صحتِ حروف اور قواعد کے ساتھ اور روانی کے ساتھ قرآن پڑھتا ہو تو مقصد حاصل ہو گیا ہے؛ اب مخرج، قواعد اور ہجے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ میں امتحان میں تین چیزیں دیکھتا ہوں:
👈 مقدارِ واقفیت، یعنی بچوں کو اپنے نصاب کے متعلق کتنی معلومات ہیں۔
👈 مقدارِ دل چسپی، یعنی بچوں نے امتحان میں کس قدر شوق ظاہر کیا۔
👈 مقدارِ ذہنی حیات، یعنی بچوں میں کتنی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔
بہر حال امتحان اصلاح کے لیے ہونا چاہیے نہ تعریف کے لیے۔
سوال: ایک بچے سے کم سے کم کتنے سوالات کرنے چاہییں؟
جواب: جب تک ممتحن کو اطمینان نہ ہو۔
سوال: امتحان اجتماعی ہے یا انفرادی؟
جواب: انفرادی ہے۔
سوال: ایک ساتھ کتنے بچوں کو بلانا چاہیے؟
جواب: ممتحن کی یکسوئی پر ہے، دو چار۔
سوال: مدرس کو ممتحن کے ساتھ بٹھانا چاہیے کہ نہیں؟
جواب: ممتحن کے ساتھ مدرس رہے تو بہتر ہے۔
غلطی ہو تو اصلاح فرمائیں
فقط
الطاف ہتھورنی

لاتور میں منعقد تربیتُ الفضلاء کے پروگرام میںحضرت مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے یہ فکری و تربیتی ملفوظات محض چند جملوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اپنے اندر فکر و بصیرت، اصلاح و تربیت اور تجرباتِ زندگی کے ایک ایک مکمل بیان کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ ہر ملفوظ اپنے دامن میں ایک مستقل پیغام، ایک گہری حقیقت اور انسان کی اصلاح کے لیے ایک مکمل سبق لیے ہوئے ہے۔

لاتور میں منعقد تربیتُ الفضلاء کے پروگرام میں
حضرت مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے یہ فکری و تربیتی ملفوظات محض چند جملوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اپنے اندر فکر و بصیرت، اصلاح و تربیت اور تجرباتِ زندگی کے ایک ایک مکمل بیان کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ ہر ملفوظ اپنے دامن میں ایک مستقل پیغام، ایک گہری حقیقت اور انسان کی اصلاح کے لیے ایک مکمل سبق لیے ہوئے ہے۔

1۔ باسی مطالعہ سے تازہ فتنوں کا مقابلہ نہیں ہوسکتا
باسی مطالعہ سے نئے اور تازہ فتنوں کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ بدلتے ہوئے حالات اور نت نئے فتنوں کے لیے تازہ مطالعہ، گہری فکر اور مسلسل علمی جستجو ضروری ہے۔

2۔ قلتِ مال کا غم ہے، قلتِ اعمال کا نہیں
ہمیں قلتِ مال کا غم تو سوار ہے، مگر قلتِ اعمال، قلتِ مطالعہ، قلتِ صفات اور قلتِ فکرِ آخرت کا کوئی غم نہیں..

3۔ وقت نہیں ملا یا اہمیت نہیں تھی؟
کسی نیک کام کے چھوٹ جانے پر یہ نہ کہیں کہ "وقت نہیں ملا"؛ بلکہ اپنے دل سے پوچھیں کہ کہیں حقیقت یہ تو نہیں کہ اس کام کی اہمیت ہی دل میں نہیں تھی؟

4۔ زندگی کا مقصد متعین کیجیے
زندگی کا ایک مقصد متعین کیجیے، لیکن اس سے پہلے اس مقصد کو دل میں اہمیت دیجیے۔ دل میں کسی کام کی حقیقی اہمیت پیدا ہوجائے تو اس کے لیے گنجائش بھی نکل آتی ہے، ورنہ گنجائش ہوتے ہوئے بھی راستے سکڑ جاتے ہیں۔

5۔ مخلوق سے تعلق بھی خدا کی رضا کے لیے ہو


6۔ قوم کی ایک بڑی کمزوری
یہ قوم مردہ پرست اور زندہ فراموش ہے؛ یعنی گزر جانے والوں کو یاد کرتی ہے، مگر جو زندہ ہیں، ان کی قدر و خدمت اور ان سے استفادہ کرنے میں غفلت برتتی ہے۔

7۔ ظلم سے تقویٰ نے روکا یا موقع نہ ملنے نے؟
ہمیں ظلم سے تقویٰ نے نہیں روکا، بلکہ بہت مرتبہ مواقع کے نہ ملنے نے روکا ہے۔ اصل تقویٰ یہ ہے کہ موقع موجود ہو، اختیار حاصل ہو، پھر بھی انسان اللہ کے خوف سے ظلم سے باز رہے۔

8۔ اولیاء اللہ کی فکر: حسنِ خاتمہ
اولیاء اللہ کو ہمیشہ حسنِ خاتمہ کی فکر سوار رہتی ہے۔ 

9۔ ہم لطیف کے بندے ہیں، لطف کے نہیں
ہم لطیف کے بندے ہیں، لطف کے نہیں۔ کارِ خیر میں لطف آئے یا نہ آئے، آسانی ہو یا دشواری، دل چاہے یا نہ چاہے؛ خیر کا کام خیر ہونے کی وجہ سے کیا جائے گا۔

10۔ وسائل کی کمی نہیں، عزائم کی پستی کا غم ہونا چاہیے

وسائل کی کمی کی فکر تو ہمیں ستاتی ہے، مگر عزائم کی پستی کا کوئی غم نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کتنے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ارادے کتنے بلند ہیں۔

11۔ عدمِ توجہ سب سے بڑی مصیبت ہے
عدمِ ترکیز (کام پر فوکس نہ کرنا) آج کی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے۔ جو شخص اپنے مقصد اور کام پر توجہ مرکوز نہیں رکھتا، وہ اپنی صلاحیتوں کو منتشر کر دیتا ہے۔

12۔ شریعت کی سرحدوں کے مجاہد بن کر جینا

اگر شریعت کی سرحدوں کا مجاہد بن کر جینا اور مرنا ہماری زندگی کا لازمہ بن جائے تو پھر زندگی کا ہر قدم دین کی حفاظت، اس کی سربلندی اور اس کی پاسداری کے لیے اٹھے گا۔

13۔ نبی اور صحابی کے سوا سب کچھ بن سکتے ہو

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کا ایک فکر انگیز جملہ ہے:
"تم نبی اور صحابی کے سوا سب کچھ بن سکتے ہو۔"
اللہ تعالیٰ کی عطا کے دروازے بند نہیں ہیں۔
﴿وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا﴾
یعنی: آپ کے رب کی عطا کبھی ممنوع اور محدود نہیں رہی۔

14۔ موافق حالات میں کسی نے دین کا کام نہیں کیا

آقا کریم ﷺ سے لے کر آج تک کسی نے موافق حالات میں دین کا کام نہیں کیا۔ دین کی خدمت ہمیشہ آزمائشوں، مشکلات اور ناموافق حالات کے درمیان ہوئی ہے۔ اسبابِ تعیش انسان کو سلا دیتے ہیں، جبکہ مشکلات اسے جگاتی ہیں۔

15۔ دین محفوظ ہو تو لوگوں کی قدر و ناقدری بے اثر ہے
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب ایک قول ہے کہ لوگوں کی قدر اور ناقدری کا کوئی اثر نہیں پڑتا، اگر دین محفوظ ہو۔ اصل کامیابی لوگوں کی نگاہ میں مقبول ہونا نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں دین کی حفاظت کے ساتھ سرخرو ہونا ہے۔

16۔ دل شکنی گوارا نہیں، دین شکنی بالکل نہیں

ہم کوشش کریں گے کہ دل شکنی بھی نہ ہو اور دین شکنی بھی نہ ہو؛ لیکن جہاں دین کی حفاظت کا معاملہ ہو اور دونوں میں سے ایک کا انتخاب ناگزیر ہوجائے تو دین شکنی کو ہرگز گوارا نہیں کیا جائے گا۔

17۔ قید اور مشکل حالات بھی کام سے نہیں روک سکتے
غزہ میں ایک قرآنِ مجید سے گیارہ لوگ حافظِ قرآن بن گئے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، عزمِ مصمم ہو تو انسان قید کے زمانے میں بھی کام کرسکتا ہے۔

18۔ خدا کی نصرت کی ایک صورت
خدا کی نصرت صرف ظاہری اسباب اور غیر معمولی واقعات کا نام نہیں؛ یہ بھی اللہ کی نصرت ہے کہ بندے کو اپنے مشن پر استقامت نصیب ہوجائے۔

19۔ بے نفسی پر خدا کی عنایت
حیدرآباد میں بارش کے موسم میں بارش نہیں ہو رہی تھی۔ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو لوگوں نے درخواست کی کہ حضرت! رحمتِ باراں کے لیے دعا فرما دیجیے۔ آپ نے فرمایا:
"جب یہ گنہگار یہاں سے روانہ ہوجائے گا تو بارش ہوگی۔"
اس واقعے سے بے نفسی اور اپنی ذات کو کچھ نہ سمجھنے کا سبق ملتا ہے؛ اور معلوم ہوتا ہے کہ بے نفسی پر خدا کی عنایت ہوتی ہے۔

20۔ دین کی مجلس میں طالب بن کر بیٹھیں
دین کی مجالس میں طالب بن کر بیٹھیں، ناقد بن کر نہیں.. 

21۔ نفسانی موانع، سرکاری موانع سے بڑے ہیں

دین کے کام میں سرکاری موانع اگرچہ رکاوٹ بنتے ہیں، مگر نفسانی موانع اس سے کہیں بڑے ہیں۔ 

22۔ اختیاری تربیت نہ ہو تو اضطراری تربیت آتی ہے

جب بندہ اختیاری تربیت نہیں کرتا تو باری تعالیٰ اسے اضطراری تربیت کے مراحل سے گزارتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شفقت ہے کہ وہ اپنے بندے کو مختلف حالات کے ذریعے سنوارتے اور تربیت فرماتے ہیں۔

23۔ دشمنوں کی سازشوں کے تذکرے ہماری زبانوں پر بہت ہیں، مگر افسوس کہ ہم ان کی جہدِ مسلسل، منصوبہ بندی اور محنت سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ صرف شکایت کافی نہیں؛ ہمیں اپنی محنت اور جدوجہد کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔

24۔ مقام ہمیشہ کام کی وجہ سے ملتا ہے
انسان کو ہمیشہ کام کی وجہ سے مقام دیا جاتا ہے۔ محض نسبت، دعویٰ یا خواہش انسان کو بلند نہیں کرتی؛ مسلسل محنت، اخلاص اور خدمت ہی مقام پیدا کرتی ہے۔

25۔ بڑوں کی شفقت، چھوٹوں کی اطاعت
معاشرے اور دینی جماعتوں میں توازن کے لیے ضروری ہے کہ بڑوں کی طرف سے شفقت ہو اور چھوٹوں کی طرف سے اطاعت... 

26۔ خوبیوں پر نظر رکھنے والا پوری امت کو جوڑ دیتا ہے، جبکہ خامیوں پر نظر رکھنے والا اپنے خاندان سے بھی جڑ نہیں پاتا۔  

27۔ دین کے ہر شعبے کا احترام ضروری ہے
دین کے ہر شعبے کا احترام ہونا چاہیے۔
تبلیغ سے ایمان بنتا ہے، مدرسہ سے جمتا ہے، خانقاہ سے سجتا ہے، اور سیاست سے ان سب شعبوں کو تحفظ ملتا ہے۔


28۔ ضرورت کی تکمیل سے زیادہ ذمہ داری کی فکر
ہمیں صرف اپنی ضرورت کی تکمیل کی فکر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل کی فکر زیادہ ہونی چاہیے.. 

29۔ رزق کو نہیں، رزاق کو یاد کرو*
اے انسان! جتنا تو رزق کو یاد کرتا ہے، اگر اتنا ہی رزاق کو یاد کرنے لگے تو خدا کا ولی بن جائے۔
بسیار خوری سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں، پھر بھی فاقے کا ڈر ستاتا ہے۔ افریقہ میں بھوک سے اتنی اموات نہیں ہوتی جتنی ہمارے یہاں بسیار خوری کی وجہ ہوتی ہیں.. 

30۔ جس کے لیے کام کررہا ہوں وہ بھوکا نہیں رکھے گا
جس اللہ کے لیے میں کام کررہا ہوں، وہ تو فراعنہ کو بھی کھلا رہا ہے، مجھے کیسے بھوکا رکھے گا؟


31۔ جہاں اندازے ختم ہوتے ہیں، وہاں سے خدا رزق دیتا ہے
جہاں سے انسان کے اندازے ختم ہوتے ہیں، وہاں سے خدا روزی دیتا ہے۔ اس لیے اسباب اختیار کرتے ہوئے بھی دل کا اعتماد اسباب پر نہیں، مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے۔

32۔ ضرورت کی حقیقت
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا قول ہے:
"ضرورت وہ ہے جس کے بغیر ضرر ہو۔"


33۔ اسراف بڑھا تو انفاق کم ہوگیا*
اسراف بڑھ گیا، اس لیے انفاق کم ہوگیا۔ جب انسان اپنی آسائشوں اور غیر ضروری اخراجات میں زیادہ خرچ کرنے لگتا ہے تو دوسروں پر خرچ کرنے، صدقہ کرنے اور اللہ کی راہ میں دینے کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔

34 خوش قسمت وہی ہے جو قسمت پر خوش ہو

35۔ قناعت کی حقیقت
قناعت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت ہر کسی کو نہیں ملتی۔ 

36۔ موجود کی ناقدری، مفقود کا غم*
ہماری بڑی کمزوری یہ ہے کہ موجود کی ناقدری اور مفقود کا غم لیے بیٹھے رہتے ہیں۔ جو ہمارے پاس ہے اس کی قدر نہیں کرتے، اور جو ہمارے پاس نہیں ہے اسی کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔

37۔ خدا سے اخلاص، بندوں سے اخلاق
زندگی کا ایک خوبصورت اصول یہ ہونا چاہیے کہ خدا سے اخلاص کا اور بندوں سے اخلاق کا تعلق ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں اخلاص ہو اور مخلوق کے ساتھ معاملات میں حسنِ اخلاق ہو۔

38۔ کام کرکے ڈرنے والے مقبول بندے اور کام کرکے نڈر ہونے والے مردود بندے ہوتے

39۔ دشمن پنپ نہیں سکتا ہماری اندرونی طاقت کے بغیر۔

40۔ احتیاج اور احتجاج کے جذبے کا فرق
احتیاج کے جذبے سے چلنے والا کام پر ٹک جاتا ہے، احتجاج کے جذبے سے چلنے والا کام پر ٹک نہیں پاتا۔ 

*41۔ فرش نہیں، عرش کی نگاہ*
ہمیشہ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ مجھے فرش پر نہیں، عرش پر کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟

آہ ایک اور محراب کا چراغ بجھ گیا. خدارا رحم کریں۔

*آہ ایک اور محراب کا چراغ بجھ گیا!*
 *زیپٹو ڈلیوَری کے دوران دو منزلہ عمارت سے گرکر ایک حافظِ قرآن کی درد ناک موت* 

کل تک جو شخص مسجد کے محراب میں کھڑا ہوکر لوگوں کو اللّٰہ کا کلام سناتا تھا، آج وہی شخص اپنے اہلِ خانہ کو بے سہارا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔

*قاری محمد ساجد خان قاسمی، ساکن سہرسہ، بہار،* گزشتہ 13، 14 برس سے ضلع ٹمکور کے تُرْویکیرے میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بچوں کی تعلیم کی خاطر بنگلور منتقل ہوئے اور آر۔ٹی نگر بنگلور کی اعلیٰ مسجد میں نائب امام کی ذمہ داری سنبھالی، مگر یکم اگست 2026 کو استعفیٰ دے دیا۔

اپنے دو صفحات پر مشتمل استعفیٰ نامے میں انہوں نے بعض ذمہ داران کی جانب سے مسلسل ذہنی اذیت اور تکلیف کا ذکر بھی کیا تھا۔

ایک اہلیہ، دو معصوم بچے (6 سالہ لڑکا اور 3 سالہ لڑکی) اور ایک ضعیف والد کی کفالت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے قاری صاحب نے *زیپٹو میں ڈلیوَری* کا کام شروع کیا۔

*مگر شاید کسی کو خبر نہ تھی کہ جو ہاتھ کبھی قرآن تھامتے تھے، وہی ہاتھ ایک دن ڈلیوری کا سامان اٹھائے موت کے دروازے تک پہنچ جائیں گے۔*

آرٹی نگر کے ایک اپارٹمنٹ میں ڈلیوری کے دوران لفٹ کے لیے بنائی گئی کھلی جگہ سے وہ نیچے جاگرے اور شدید زخمی ہوگئے۔ ایک دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آج صبح ان کی روح پرواز کرگئی۔

آہ۔۔۔۔۔آج ایک امام چلا گیا…
ایک باپ چلا گیا…
ایک شوہر چلا گیا…
ایک بیٹا چلا گیا…
اور اپنے پیچھے ایک اہلیہ، دو بچے (6 سالہ لڑکا اور 3 سالہ لڑکی) اور ایک بوڑھے باپ کو چھوڑ گیا۔

*یہ صرف ایک حادثہ نہیں، ہم سب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔*

 *اِس موقع پر مساجد کے ذمہ داران سے درد مندانہ اپیل کرتی ہے کہ ائمہ و مؤذنین بھی انسان ہیں؛ انہیں عزت، سکون اور حسنِ سلوک کی ضرورت ہے۔ اگر مسجد کی خدمت کرنے والوں کو ہی ذہنی اذیت دی جاتی رہی، تو ایک ایک کرکے باصلاحیت علماء اور حفاظ محرابوں سے دور ہوتے جائیں گے، اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔* 

 *علاقے کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ مکان مالک کے خلاف کیس درج کرائے تاکہ مرحوم کو معاوضہ مل سکے، کیوں کہ جس جگہ سے قاری صاحب گرے تھے، وہ لفٹ کی کُھلی جگہ تھی اور کوئی دیوار یا آڑ، نہیں رکھے تھے، اگر ہم کھڑے ہوں گے تو حافظ صاحب کے اہل خانہ کے لیے کچھ مدد ہوجائے گی* 

اللّٰہ تعالی قاری محمد ساجد خان صاحب قاسمی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

بندہ جب عمل میں کوتاہی کرتاہے تو وہ پچاس پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتاہے

‏بندہ جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے تو اللہ اس کو فکر میں مبتلا کردیتا ہے، اہل و عیال کی فکر میں، بیوی بچوں کی تکلیف میں، معیشت کے اندر منافع کی کمی میں، اولاد کے نافرمان بن جانے میں، بیوی کے ساتھ باہم نفرت ہوجانے میں، وہ جدھر بھی جاتا ہے ٹھوکر کھاتا ہے۔

(شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ)

مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟

بسم اللّه الرحمن الرحيم

مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟


از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

کبھی کبھی آدمی کسی ایسے سوال سے دوچار ہوجاتا ہے جس کا جواب اگر عقل سے دیا جائے تو بہت آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اسے بعض لوگوں کے ذہنی سانچوں میں رکھ کر دیکھا جائے تو وہ اتنا پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ آدمی کو اپنے عقل مند ہونے پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے ہی سوالوں میں ایک سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟
یہ سوال میں نے ایک دن میر صاحب کے سامنے رکھا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ شاید تاریخِ سائنس کے صفحات الٹیں گے، مسلمانوں کے علمی زوال کے اسباب بیان کریں گے، یورپ کی صنعتی ترقی اور مسلم دنیا کی پسماندگی کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے، یا کم از کم سائیکل کے موجد کا نام بتاکر میری علمی تشنگی دور کردیں گے۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ سائیکل کی ایجاد کا مسئلہ بالآخر بدعت کے مسئلے تک پہنچے گا، اور دو پہیوں والی یہ معمولی سی سواری ہمیں فقہی اصولوں کی ایسی شاہراہ پر لے جائے گی جہاں سائیکل تو کہیں پیچھے رہ جائے گی اور بدعت آگے آگے دوڑتی ہوئی نظر آئے گی۔
میں نے گفتگو کا آغاز اس خیال سے کیا کہ مسلمانوں نے بہت سی چیزیں ایجاد نہیں کیں اور ان کی عدمِ ایجاد کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں نے بینک ایجاد نہیں کیا۔ اس کی وجہ مجھے بہت صاف معلوم ہوتی ہے۔ بینک کا بنیادی تصور سودی سرمایہ داری سے وابستہ ہے، اور اسلام تو غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور عدل کا دین ہے۔ بینک اگر غریب کی ضرورت کو اپنے منافع کا ذریعہ بنادے تو یہ غریب کے خون کو چوسنے کی ایک مہذب، قانونی اور ٹائی باندھے ہوئے شکل ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے بینک ایجاد نہیں کیا۔
پھر مسلمانوں نے جدید قومی ریاست بھی ایجاد نہیں کی۔ یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ قومی ریاست نے دنیا کو نقشوں پر خانوں میں تقسیم کیا، سرحدوں کو مقدس بنایا، انسان کو انسان سے جدا کیا، اور کبھی کبھی ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابل لا کھڑا کیا۔ ظلم کے اس نظام کو مسلمان اپنی طرف سے ایجاد کیوں کرتے؟
اسی طرح مسلمانوں نے موبائل فون ایجاد نہیں کیا۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ موبائل فون میں اگرچہ بہت سے فوائد ہیں، لیکن اس کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں۔ آدمی اسے ہاتھ میں لیتا ہے تو معلوم نہیں رہتا کہ وہ فون استعمال کررہا ہے یا فون اسے استعمال کررہا ہے۔ ایک زمانے میں انسان اپنی جیب میں موبائل رکھتا تھا، اب موبائل انسان کو اپنی جیب میں رکھتا ہے۔ قرآن پڑھنے کے لیے موبائل کھولا جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد آدمی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے خود نہیں معلوم کہ وہ آیا کیوں تھا۔ سو مسلمانوں نے موبائل ایجاد نہ کیا تو شاید اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی۔
کار اور ہوائی جہاز بھی مسلمانوں کی ایجاد نہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے اچھی بات ہے۔ کار دھواں چھوڑتی ہے، ہوائی جہاز فضا میں کاربن چھوڑتا ہے، پٹرول جلتا ہے، ماحول خراب ہوتا ہے، اور انسان ہزاروں میل کا سفر صرف اس لیے کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے پیروں کے نیچے اور چھوٹا دیکھ سکے۔ مسلمان اگر یہ چیزیں ایجاد نہ کرسکے تو کم از کم ماحولیات کے خلاف ایک جرم سے تو محفوظ رہے!
لیکن میرے ذہن میں ایک سوال مدت سے گردش کررہا تھا: مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟
یہ سوال اس لیے زیادہ دلچسپ ہے کہ سائیکل نہ بینک ہے، نہ موبائل فون، نہ قومی ریاست، نہ ہوائی جہاز۔ اس میں نہ سود ہے، نہ پٹرول، نہ دھواں، نہ کاربن کا وہ ہجوم جو آج کے ماحولیات کے ماہرین کو پریشان کرتا ہے۔ اس میں آدمی اپنے پاؤں سے توانائی پیدا کرتا ہے اور اپنے پاؤں سے ہی اسے حرکت دیتا ہے۔ رفتار بھی ہے، مگر ایسی نہیں کہ آدمی کو اپنے ہی شہر کے لوگوں سے ملنے کا وقت نہ ملے۔ اونٹ اور گدھے کے مقابلے میں خرچ بھی کم ہے، خوراک بھی کم چاہیے، اصطبل بھی نہیں چاہیے، اور راستے میں اگر تھک جائے تو خود ہی رک سکتا ہے۔
مزید یہ کہ سائیکل چلانا ورزش بھی ہے۔ آدمی ایک ہی وقت میں سفر بھی کرتا ہے اور ورزش بھی۔ یعنی ایک کام کے اندر دوسرا کام! اگر کفایت شعاری، صحت، ماحولیات اور نقل و حمل سب کو ایک چیز میں جمع کرنا ایجاد کا معیار ہے تو سائیکل اس امتحان میں بدرجۂ اتم کامیاب ہے۔
میں نے یہ اشکال میر صاحب کے سامنے پیش کیا۔ وہ کچھ دیر سوچتے رہے۔ مجھے امید ہوئی کہ اب کوئی بڑا علمی جواب سامنے آئے گا۔ آخرکار فرمایا: "تمہاری بات تو سولہ آنے درست ہے!"
میں نے دل میں کہا: الحمدللہ! سائیکل کی ایجاد کا دروازہ کھل گیا۔ پھر میں نے عرض کیا: "ضرورت ایجاد کی ماں ہے، اور سائیکل ہمیشہ سے انسانوں کی ضرورت رہی ہے۔"
لیکن بات یہاں ختم نہ ہوئی۔ مجھے خیال آیا کہ مسلمانوں نے طب میں اتنی تحقیق کی۔ ابن سینا نے بیماریوں، علاج اور انسانی جسم کے بارے میں اتنی تفصیل سے لکھا۔ دوسرے مسلمان اطبا نے صدیوں تک طب کی خدمت کی۔ اگر وہ سائیکل ایجاد کرلیتے تو شاید کتنی ہی بیماریاں پیدا نہ ہوتیں۔ آدمی روزانہ سائیکل چلاتا، جسمانی ورزش ہوتی، موٹاپا کم ہوتا، دل مضبوط ہوتا، اور شاید جدید انسان کو آج جم کی فیس ادا کرکے سائیکل چلانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
میر صاحب نے فوراً اس بات سے اختلاف کیا۔ فرمایا: "مجھے تمہاری آخری بات سے قطعاً اتفاق نہیں۔ صحت کے لیے سائیکل سب سے بہتر چیز نہیں۔ کشتی ہے، یا پھر کبڈی ہے۔"
میں نے کہا: "لیکن کشتی اور کبڈی تو سائیکل سے پہلے دنیا میں موجود تھیں۔ اگر مسلمانوں نے سائیکل ایجاد کرلی ہوتی تو کوئی نئی چیز تو ہوتی!"
انہوں نے فرمایا: "اسی لیے مسلمانوں پر کوئی الزام نہیں آتا۔"
میں کچھ دیر خاموش رہا۔ میں نے سوچا کہ شاید اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم ایجاد کو صرف اس وقت ایجاد سمجھتے ہیں جب اس میں کوئی ایسا عنصر نہ ہو جو پہلے سے موجود چیزوں میں پایا جاتا ہو۔
میں نے عرض کیا: "میر صاحب! سائیکل میں اصل چیز یہ ہے کہ وہ ٹرانسپورٹ ہے، ورزش ثانوی چیز ہے۔ آدمی سائیکل پر بیٹھ کر کہیں جاتا ہے۔ ورزش اس کا لازمی مقصد نہیں، ایک ضمنی فائدہ ہے۔"
میر صاحب مسکرائے اور فرمایا: "تمہاری اس بات کا جواب میرے پاس پوشیدہ ہے۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں نے سائیکل کیوں ایجاد نہیں کی۔"
میں فوراً سمجھ گیا کہ اب بات سائیکل سے آگے نکلنے والی ہے۔ میں نے پوچھا: "وہ کیسے؟" فرمایا: "تم نے یہ نہیں سنا کہ اگر کوئی شخص سلام کرے اور اسی وقت ’صلی اللہ علی محمد‘ بھی کہہ دے تو یہ بدعت ہے؟"
میں نے کہا: "بالکل، سنا ہے۔"
فرمایا: "تو یہی معاملہ ہے۔ دو اچھی چیزیں الگ الگ اچھی ہیں، مگر انہیں ملا دیا جائے تو بدعت ہوجاتی ہے۔"
میں نے کہا: "بالکل، دو الگ الگ اچھی چیزوں کو بلا دلیل اس طرح ملا دینا کہ اسے دین کا مستقل طریقہ سمجھا جائے، یہ بدعت ہوسکتی ہے۔"
میر صاحب نے فرمایا: "بس! یہی سائیکل کا مسئلہ ہے۔ اس میں دو اچھی چیزوں کو جمع کردیا گیا ہے: ٹرانسپورٹ اور ورزش۔"
میں نے سوچا کہ یہ کیا خوب اصول دریافت ہوا ہے! اگر دو مفید چیزوں کو جمع کردینا بدعت ہے تو انسانی تہذیب کی نصف سے زیادہ ایجادات تو اسی لمحے مشتبہ ہوجائیں گی۔
میں نے عرض کیا: "میر صاحب! پھر تو میلاد بھی بدعت ہونا چاہیے۔"
وہ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: "دیکھیے، عید ایک الگ چیز ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ولادت ایک الگ چیز۔ اگر دو الگ چیزوں کو جمع کرنا بدعت ہے تو میلاد میں بھی دو الگ چیزوں کو جمع کیا گیا: ایک طرف عید کا تصور، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا ذکر۔
پھر تو آپ کے اصول کے مطابق وہاں بھی وہی اشکال پیدا ہونا چاہیے جو سائیکل میں ہے۔"
میر صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس مجھے دیکھتے رہے۔ میں بھی خاموش رہا۔ چند لمحے ایسے گزرے جیسے سائیکل کے دونوں پہیے ایک ہی جگہ رک گئے ہوں۔
پھر میر صاحب اٹھے اور جاتے جاتے فرمایا: "لگتا ہے کسی مفتی کی صحبت نے تمہیں خراب کردیا ہے!"
میں نے سوچا، واقعی صحبت کا اثر بڑا عجیب ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں میں سائیکل کے موجد کو تلاش کررہا تھا، اور اب ایک فقہی اصول کے موجد کی تلاش میں ہوں۔
یہ واقعہ میرے لیے محض ایک مجلس کی بات نہیں، بلکہ ہمارے فکری مزاج کی ایک چھوٹی سی تصویر ہے۔ ہم اکثر سوال کا جواب تلاش کرنے کے بجائے ایسا اصول تلاش کرتے ہیں جس سے سوال ہی ختم ہوجائے۔ اگر کوئی پوچھے کہ فلاں چیز کیوں نہیں ہوئی تو ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس کے تاریخی، معاشرتی، اقتصادی اور علمی اسباب کیا تھے؛ ہم ایک ایسا فقہی یا نظریاتی خانہ بنا لیتے ہیں جس میں اسے رکھ کر اطمینان سے کہہ سکیں: "یہ اس لیے نہیں ہوا کہ اس میں فلاں خرابی تھی۔"
حالانکہ دنیا اس طرح نہیں چلتی۔ ایجادات کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ انسان جہاں ضرورت محسوس کرتا ہے، وہاں غور کرتا ہے، تجربہ کرتا ہے، ناکام ہوتا ہے، پھر کامیاب ہوتا ہے۔ کبھی ایک قوم بنیاد رکھتی ہے، دوسری اسے آگے بڑھاتی ہے، تیسری اس میں نئی صورت پیدا کرتی ہے۔ تہذیب ایک ایسی میراث ہے جس میں ہر نسل کچھ نہ کچھ اضافہ کرتی ہے اور کچھ نہ کچھ دوسروں سے حاصل کرتی ہے۔
اگر مسلمان بینک کے بعض نظاموں کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مالیاتی ادارہ قائم ہی نہیں کرسکتے۔ اگر قومی ریاست کے ظلم سے اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی تنظیم اور نظمِ اجتماعی کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ اگر موبائل فون کے نقصانات ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مواصلات کی ایجاد ہی مذموم ہوگئی۔ اور اگر کار ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ مسلمان ایجاد سے دست بردار ہوجائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کریں جو انسان اور ماحول دونوں کے لیے بہتر ہو۔
اور سائیکل؟ سائیکل تو اس پورے قضیے میں شاید سب سے بے قصور چیز ہے۔ نہ اس نے کسی سے سود لیا، نہ کسی غریب کا خون چوما، نہ آسمان میں دھواں چھوڑا، نہ کسی سرحد پر پاسپورٹ مانگا۔ وہ خاموشی سے دو پہیوں پر کھڑی رہی، انسان نے پاؤں مارے اور وہ چل پڑی۔
لیکن ہم نے اسے بھی نہ چھوڑا۔ اس لیے میں اب کبھی سائیکل دیکھتا ہوں تو صرف اس کے دو پہیے نہیں دیکھتا؛ مجھے اس میں دو نظریات بھی نظر آتے ہیں: ایک پہیہ نقل و حرکت کا، دوسرا ورزش کا۔ اور میں سوچتا ہوں کہ اگر انسانی عقل ہر دو اچھی چیزوں کو ملانے سے ڈرے تو شاید تہذیب کبھی آگے نہ بڑھے۔
آخر سائیکل نے کیا گناہ کیا تھا؟ اس نے صرف اتنا کیا تھا کہ انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسے صحت مند بھی رکھنا چاہا تھا۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی خطا تھی۔

افسوس کیا سے کیا ہو گیے

*افسوس کیا سے کیا ہو گیے*

ایک صاحب تین ہزار روپے کے جوتے پہنتے ہیں،

کتاب معلوم کی، ہم نے کہا کہ پانچ سو روپے...
بولے : اتنی مہنگی؟

یعنی جوتے تین ہزار کے مہنگے نہیں...

ہوٹلوں پر ایک ایک وقت میں صرف زبان کے ذائقے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کر دینا مہنگا نہیں....

ڈاکٹر کو ذرا سی دوا کے ہزاروں روپے سر جھکا کر دے دینا مہنگا نہیں!

لاکھوں روپے کا موبائل استعمال کرنا مہنگا نہیں!

لیکن امام کو پانچ سو روپے ماہانہ دینا مہنگا ہے.....
مدرسہ میں پڑھنے والے بچے کے استاد کو تین سو روپے ماہانہ دینا مہنگا ہے...
اور دل و دماغ کھولنے والی کتاب کو پانچ سو روپے میں خریدنا مہنگا ہے...

اب ایسی ذہنیت والی قوم کے سروں پر جوتے نہ پڑیں تو کیا پھول برسائیں جائیں!

منقول

اساتذه كى صحيح فكر کریں

*اساتذه كى صحيح فكر کریں!*
*👈ہم نے‌ جگہ جگہ مدرسے بنا لیے۔۔۔ عمارتیں بلند کر* *لیں۔۔۔ در و دیوار سنوار لیے۔۔۔ فرشوں پر نفیس ٹائلیں بچھا دیں۔۔۔ دفاتر آراستہ کر لیے۔۔۔ مگر ایک سوال ہے: ان سب عمارتوں کے اندر قوم کا مستقبل تعمیر کرنے والےاُستاذ کا کیا بنا؟*
👈ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں: "اُستاذ قوم کا معمار ہے!"
مگر کبھی یہ بھی سوچا کہ جس معمار کے اپنے گھر کی بنیاد معاشی پریشانی، کم تنخواہ، عدمِ تحفظ اور مسلسل فکروں پر کھڑی ہو، وہ دوسروں کے مستقبل کی عمارت آخر کب تک مضبوط رکھ سکے گا؟
*👈ہم نے اُستاذ سے اخلاص مانگا؛ اُس نے دیا۔*
*محنت مانگی؛ اُس نے کی۔*
*وقت مانگا؛ اُس نے اپنی راحت قربان کر دی۔*
بچوں کے اخلاق سنوارنے کو کہا؛ اُس نے اپنی توانائی لگا دی۔
👈نتائج بہتر لانے کو کہا؛ اُس نے اپنی نیند، سکون اور ذاتی زندگی تک داؤ پر لگا دی۔
👈مگر کبھی ہم نے یہ بھی پوچھا: "اُستاذ! تم خود کیسے ہو؟"
👈یہ سوال شاید ہمارے پورے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا سوال ہے۔

👈ہمیں اُستاذ کی کلاس میں موجودگی چاہیے، مگر اُس کی زندگی میں سکون نہیں۔
👈ہمیں اُس کے لبوں پر علم چاہیے، مگر اُس کے دل میں چھپی پریشانی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔
ہمیں اُس سے نسلوں کی تربیت چاہیے، مگر اُس کے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں۔
*👈یہ کیسا انصاف ہے؟*
*ہم چاہتے ہیں کہ اُستاذ بچوں کو اعتماد دے، جبکہ وہ خود معاشی عدمِ تحفظ میں مبتلا ہو۔*
👈ہم چاہتے ہیں کہ وہ بچوں کو امید سکھائے، جبکہ وہ اپنے گھر کے اخراجات کے سامنے بے بس ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ وہ بچوں کو بڑے خواب دکھائے، جبکہ اُس کے اپنے خواب مسلسل ضرورتوں کے نیچے دب رہے ہوں۔
*👈پھر ہم حیران ہوتے ہیں:*
*مدارس تو بڑھ رہے ہیں، مگر مدرسے سے لوگ دور کیوں ہو رہے ہیں؟*
👈اُساتذہ تو موجود ہیں، مگر اُن کے لہجے میں وہ پہلی سی حرارت اور تڑپ کیوں نہیں؟
👈شاید ہم نے اُستاذ کو تھکا دیا ہے!
اور یاد رکھیے:
تھکا ہوا اُستاذ صرف ایک تھکا ہوا انسان نہیں ہوتا؛ وہ ایک پوری نسل کی تربیت کو تھکا دیتا ہے۔
ٹوٹا ہوا اُستاذ صرف ایک فرد نہیں ہوتا؛ اُس کے ساتھ کئی نسلوں کے خواب زخمی ہوتے ہیں۔

👈ہم اکثر ادارے کی عمارت کا بجٹ بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے گھر کا بجٹ بھی بنائیے۔
*ہم مستقبل کے لیے منصوبے بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچیے۔*
*👈ہم عمارت کی چھت مضبوط کرتے ہیں؛ کبھی اُس اُستاذ کے سر پر موجود چھت کا حال بھی دیکھیے۔*
ہم نئے کمرے بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے دل میں بھی ایک ایسا گوشہ بنائیے جہاں وہ اپنی پریشانیوں سے چند لمحوں کے لیے آزاد ہو سکے۔
اُستاذ پر احسان نہ کیجیے؛ اُس کا حق ادا کیجیے۔
اُسے صرف تنخواہ نہ دیجیے؛ اُسے معاشی اطمینان دیجیے۔
اُسے صرف ملازم نہ سمجھیے؛ اُسے قوم کے امین کی حیثیت سے دیکھیے۔
اُس سے صرف نتائج نہ مانگیے؛ اُسے وہ ماحول بھی دیجیے جس میں اچھے نتائج پیدا ہو سکیں۔
👈کیونکہ حقیقت یہ ہے:
عمارتیں اینٹوں سے بنتی ہیں، ادارے نظام سے چلتے ہیں،
مگر قومیں اچھے اساتذہ سے بنتی ہیں۔
*👈یہ بھی یاد رکھیے:*
*ایک اُستاذ جب کمزور ہوتا ہے تو صرف اُس کی زندگی* *کمزور نہیں ہوتی؛ اُس کے اثرات اُس کلاس روم سے نکل کر نسلوں تک پہنچتے ہیں۔*
👈اُس کا ایک تھکا ہوا دن، کسی بچے کے ایک کمزور سبق کا سبب بن سکتا ہے۔
اُس کی مسلسل معاشی فکر، کسی بچے کی تربیت سے اُس توجہ کا ایک حصہ چھین سکتی ہے جس کا وہ مستحق تھا۔
اور اُس کی بے قدری،‌ اُس کے اندر موجود اُس جذبے کو خاموش کر سکتی ہے جسے کسی نصاب میں دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔

*👈اس لیے اگر واقعی مدارس بچانے ہیں، مکاتب سنوارنے ہیں، نسلیں بنانی ہیں اور امت کا مستقبل محفوظ کرنا ہے تو صرف عمارتوں پر سرمایہ کاری نہ کیجیے۔۔۔ اُستاذ پر بھی سرمایہ کاری کیجیے۔*

👈ورنہ ایک دن ہم اپنے ہی بنائے ہوئے شاندار مدرسوں کے درمیان کھڑے ہوں گے اور خود سے پوچھیں گے:
عمارتیں تو ہیں۔۔۔ مگر وہ روح کہاں گئی؟
مدرسے تو ہیں۔۔۔ مگر وہ تاثیر کہاں گئی؟
کتابیں تو ہیں۔۔۔ مگر وہ کردار کہاں گئے؟
اُساتذہ تو ہیں۔۔۔ مگر وہ جذبہ، وہ تازگی، وہ دردِ امت کہاں گیا؟
👈اور شاید جواب کہیں دور سے آئے:
"تم نے گلشن تو سجا دیے تھے، مگر مالی کے ہاتھ زخمی کر دیے تھے!"
تب شاید یہ شعر دل کے دروازے پر دستک دے:
*اب شہرِ آرزو میں وہ رعنائیاں کہاں؟*
*ہیں گُل کدے نڈھال، بڑی تیز دھوپ ہے!*

👈سو، اگر واقعی گلشن کو پھر سے مہکانا ہے تو صرف پھولوں کی فکر نہ کیجیے۔۔۔ مالی کو بھی سایہ دیجیے۔
اُسے اتنی عزت دیجیے کہ اُس کے اندر خدمت کا جذبہ زندہ رہے۔
کیونکہ آخر میں بات بہت سادہ ہے:

*👈اُستاذ مضبوط ہوگا تو ادارہ مضبوط ہوگا،*
*ادارہ مضبوط ہوگا تو نسل مضبوط ہوگی،*
*نسل مضبوط ہوگی تو معاشرہ مضبوط ہوگا،*
*اور معاشرہ مضبوط ہوگا تو امت کا مستقبل مضبوط ہوگا۔*
اُستاذ کو کمزور کرکے ہم مضبوط نسل کی تعمیر نہیں کر سکتے۔
اور شاید آج ہمیں مدرسوں کی دیواروں سے زیادہ اُستاذ کے دل کی دیواریں بچانے کی ضرورت ہے۔

اللهم وفقنا جميعا لما تحب وترضى اللهم احفظنا من كل بلاء الدنيا وعذاب الآخرة اللهم ارناالحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه اللهم آمین یا رب

معاشرے کا سب سے بھیانک اور منافقانہ رخ

معاشرے کا سب سے بھیانک اور منافقانہ رخ وہ ہے جہاں لوگ اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنی اولاد کی فکری و اخلاقی پستی سے آنکھیں بند کر کے منبر و محراب کے وارثوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ امامِ مسجد پر طعنہ زنی کرنے والے اکثر وہ بیمار ذہن ہوتے ہیں جن کے اپنے گھر اجڑ رہے ہوتے ہیں، لیکن ان کی دوربین نظریں صرف امام کی زندگی کا طواف کر رہی ہوتی ہیں
1. "اردو کی مثل مشہور ہے: "چراغ تلے اندھیرا"۔ ایسے لوگ جو خود اندھیرے میں ڈوبے ہوتے ہیں، ان کی اپنی اولاد دین سے دور، اخلاق سے عاری اور آوارگی کا نمونہ ہوتی ہے۔ ان کے اپنے گھر والے بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنی ہانڈی کا ابال دیکھنے کے بجائے مسجد کے مصلّے پر تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔میاں! دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے ذرا اپنے گھر کی چوکھٹ تو دیکھو، جہاں اخلاقیات دم توڑ چکی ہیں۔"
2. "اپنی لنگڑی گائے نظر نہیں آتی، دوسروں کا صندل بھی کھوٹا لگتا ہے"۔امام پر طعنہ زنی کرنے والے کی مثال اس اندھے کی سی ہے جو ہاتھ میں لالٹین لے کر دوسروں کو راستہ دکھانے نکلے، مگر خود اندھا ہو اس کا اپنا گھر آگ کی لپیٹ میں ہو اور وہ اپنی پھونک سے دوسروں کی آگ بھڑکانے میں لگا ہو جس انسان کو اپنی اولاد کی تربیت کی توفیق نہ ہو، جسے اپنے گھر والوں کو سیدھے راستے پر رکھنے کا ڈھنگ نہ ہو، اسے یہ حق کس نے دیا کہ وہ اس خطیب پر اعتراض کرے جو پورے مجمع کی اصلاح کا ضامن ہے؟قرآن حکیم نے ایسے ہی لوگوں کی نفسیات کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا:"أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ"(کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟)
3.جناب پہلے اپنے گھر کا کچرا صاف کرو حسد کا علاج کرو "تمہیں امام کے تقویٰ یا عمل سے تکلیف نہیں، تمہیں تکلیف اس عزت سے ہے جو اللہ نے اسے منبر اور خلافت پر دی ہے اور تمہیں وہ عزت تمہارے گھر میں بھی میسر نہیں" جناب اپنی حدود میں رہا کرو مسجد کا کوئ مسئلہ ہو تو مل بیٹھ کر سلجھایا کرو ہیں"جتنی گہری نظر تم اپنے امام کے اٹھنے بیٹھنے اور اس کے خطبات پر رکھتے ہو ، اگر اس کی آدھی نظر بھی اپنی اولاد اور خاندان پر رکھتے ، تو آج تمہارا گھرانہ اور خاندان معاشرے کے لیے عبرت کی مثال بنا ہوتا۔" ارے شیشہ دیکھ اور اپنے عیوب تلاش کر"دوسروں کے پگڑی اچھالنے والے یاد رکھ کہ جس کے اپنے گھر کے شیشے چٹخ رہے ہوں، وہ دوسروں کے محلوں پر پتھر نہیں پھینکا کرتا
4. اپنی ناکامیوں کو چھپاتا ہے بقول شاعر:بڑا شریف ہے، اپنے گناہ چھپاتا ہےمگر دوسروں کے عیب اچھالنے میں ماہر ہے! اپنا گھرانا گناہوں اور اخلاقی خرابیوں سے چھلنی کی طرح سوراخ سوراخ ہے،اور مصلّے پر بیٹھے پاکیزہ امام کے دامن پر داغ ڈھونڈ رہا ہے پہلے اپنے ستر سوراخوں کو تو رفو کر لیں، پھر منبر رسولؐ کے وارثوں کا احتساب کیجیے گا" یہ منافقین کی پرانی عادت ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کی آوارگی پر پردے ڈالتے ہیں اور امامِ مسجد کے جائز حقوق یا معمولی سی لغزش پر بھی طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیتے ہیں۔
5 میاں! تمہاری دور بین نظریں امام کی پگڑی پر تو جمی ہیں، لیکن کبھی تم نے اپنے گھر کے اس آئینے پر بھی نظر ڈالی ہے جو تمہاری خانگی ناکامیوں کا رونا رو رہا ہے؟اگر اتنی ہی تفتیش، اتنی ہی کڑی نگرانی اور اتنا ہی وقت تم نے اپنی اولاد اور گھرانے کے کریکٹر پر صرف کیا ہوتا، تو آج تمہاری نسلیں سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے بجائے معاشرے کا کوئی کارآمد حصہ ہوتیں"جو انسان اپنے گھر کا نظام نہیں چلا سکتا، جس کی بات اس کی اپنی اولاد اور بیوی اور گھر والے نہیں مانتے وہ مسجد کے اس جرنیل پر اثر اندازی کی کوشش کر رہا ہے جس کی ایک آواز پر سینکڑوں لوگ صفیں سیدھی کر لیتے ہیں۔ یہ تمہاری ذہنی پستی اور حسد کے سوا کچھ نہیں!"
انبیاء کے وارث پر
طعنہ و تشنیع کرنے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو چاند کی طرف منہ کر کے بھونکتا ہے۔ چاند کی چاندنی کم نہیں ہوتی، بلکہ بھونکنے والے کا اپنا حلق خشک ہو جاتا ہے۔
چمگادڑ سورج کو کوستی ہے سورج میں عیب نکالتی ہے مگر اپنی آنکھوں کا عیب اور قصور نظر نہیں آتا

علمی سفر کو تابناک بنانے کے لیے لائحۂ عمل!

علمی سفر کو تابناک بنانے کے لیے لائحۂ عمل!

1. فراغت کو منزل نہیں، آغاز سمجھیں۔ ندوہ کا مقصد آپ کو مکمل عالم بنانا نہیں، بلکہ عالم بننے کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔


2. ہر سال اپنی علمی کمزوریوں کا جائزہ لیں۔ یہ پہچانیں کہ کن علوم میں مضبوط ہیں اور کن میدانوں میں مزید محنت درکار ہے۔


3. عربی زبان کو روزانہ وقت دیں۔ کلاسیکی اور جدید عربی کتابوں کا مطالعہ، لغت سے استفادہ، نوٹ نویسی اور تحریر کی مشق معمول بنائیں۔


4. صرف معلومات جمع نہ کریں، علمی شخصیت تعمیر کریں۔ منصوبہ بند مطالعہ، تلخیص، نوٹ سازی اور تحریر کی عادت اختیار کریں۔


5. قدرتِ تعبیر و توضیح پیدا کریں۔ علم کو اس انداز میں پیش کرنا سیکھیں کہ مختلف طبقوں کے لوگ اسے سمجھ سکیں۔


6. اپنے زمانے کے انسان کو سمجھیں۔ جدید تعلیم یافتہ نوجوان کے سوالات، زبان اور ذہنی پس منظر سے واقف ہوں۔


7. معاصر علوم کا سنجیدہ مطالعہ کریں۔ مغربی فلسفہ، جدید فکری تاریخ، سماجی علوم، سیاست، اخلاقیات اور جدید تہذیبی مباحث سے واقفیت حاصل کریں، تاکہ سوالات کی اصل بنیاد سمجھ سکیں۔


8. مخالف یا مختلف فکر کو سمجھے بغیر اس پر گفتگو نہ کریں۔ پہلے اس کے دلائل اور پس منظر کو سمجھیں، پھر علمی انداز میں جواب دیں۔


9. جذبات کے بجائے نظم و ضبط اپنائیں۔ روزانہ کا مستقل علمی شیڈول بنائیں، کیونکہ مسلسل محنت ہی شخصیت کو پروان چڑھاتی ہے۔


10. اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں، اپنے گزشتہ مقام سے کریں۔ ہر سال اپنے علم، فکر، اسلوب اور تحریر میں ترقی کو معیار بنائیں۔


11. ہمیشہ طالبِ علم رہیں۔ اپنی لاعلمی کا احساس برقرار رکھیں؛ یہی احساس مسلسل سیکھنے اور ترقی کا سبب بنتا ہے۔


تلخیص و ترتیب: نعمت اللہ
ماخوذ از تحریرِ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

مدرس (معلم) کی چند غلطیاں

 مدرس (معلم) کی چند غلطیاں
(1)... درس و تدریس کو محض ایک ڈیوٹی یا نوکری سمجھتا ہے، اسے ایک مقدس فریضہ اور امانت نہیں جانتا۔
(2)... سبق کی تیاری کے بغیر جماعت میں چلا جاتا ہے اور طلبہ کے سامنے روایتی یا لکیر کی فقیری والی تدریس پر اکتفا کرتا ہے۔
(3)... طلبہ کی علمی اور عملی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے صرف نصاب ختم کرنے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے۔
(4)... اپنے منصب اور ذمہ داری کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ نہیں کرتا، نئے تدریسی اسالیب اور جدید طریقوں سے دور رہتا ہے۔
(5)... طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت کا معاملہ کرنے کے بجائے سختی، تحکّم اور بے جا رعب جمانے کو ترجیح دیتا ہے۔
(6)... کمزور اور کند ذہن طلبہ کی طرف خصوصی توجہ دینے کے بجائے صرف لائق بچوں پر اکتفا کرتا ہے۔
(7)... اپنے ذاتی مسائل، غصے یا گھریلو پریشانیوں کا غبار طلبہ پر اتارتا ہے۔
(8)... ساتھی اساتذہ اور انتظامیہ کے ساتھ تعمیری تعاون کے بجائے گروہ بندی، چغلی اور منفی سیاست میں الجھا رہتا ہے۔
(9)... امانت داری کا حق ادا نہیں کرتا؛ تدریسی اوقات میں سستی کرتا ہے یا بلاوجہ وقت ضائع کرتا ہے۔
(10)... اپنے اخلاق، کردار اور عملی زندگی سے طلبہ کے لیے بہترین نمونہ بننے میں ناکام رہتا ہے۔
(11)... غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے تاویلات پیش کرتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار انتظامیہ یا طلبہ کو ٹھہراتا ہے۔
(12)... طلبہ کی امانتوں (کاپیوں کی جانچ، نتائج وغیرہ) میں لاپرواہی اور تاخیر سے کام لیتا ہے۔
(13)... اپنے فرائض کی انجام دہی میں خلوصِ نیت کی کمی رکھتا ہے اور صلے یا تحائف کی توقع زیادہ رکھتا ہے۔
(14)... اپنی ذات کو حرفِ آخر سمجھتا ہے، طلبہ کے سوالات کو سننے کے بجائے انہیں دبا دیتا ہے اور اصلاح کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔
نوٹ: ایک بہترین مدرس صرف نصاب پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک مربی، رہنما اور معمارِ قوم ہوتا ہے۔ مدرسے کی اصل روح اچھے اساتذہ کے اخلاص، محنت اور بہترین تدریس سے وابستہ ہے۔

مہتمم کی چند غلطیاں

*✅مہتمم کی چند غلطیاں✅* 



(1)...اساتذہ سے قربانیاں تو مانگتاہے مگر ان کے حقوق ادا کرنے میں سستی کرتاہے۔

(2)...ادارے کو خاندان،برادری یا ذاتی اثر و رسوخ کا مرکز بنا لیتاہے۔

(3)...طلبہ کی تربیت سے زیادہ اپنی شخصیت اور اختیار کے تحفّظ کی فکر کرتاہے۔

(4)...ہر اختلاف رائے کو بغاوت اور ہر سوال کو بے ادبی سمجھتاہے۔

(5)...ادارہ آباد کرنے والے پُرانے اساتذہ کو وقت آنے پر بوجھ سمجھنے لگتاہے۔

(6)...تنخواہوں میں تاخیر کو معمول سمجھتاہے،مگر اپنے انتظامی اخراجات میں کمی نہیں کرتا۔

(7)...استاد کے ٹوٹے ہوئے دل کو معمولی چیز سمجھتاہے، حالانکہ اسی استاد کے کندھوں پر ادارے کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔

(8)...استاد کی عزت اور وقار کو ادارے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی مرضی کا تابع سمجھتاہے۔

(9)...ادارے کی ترقی کا کریڈٹ خود لیتاہے لیکن خرابیوں کا الزام اساتذہ پر ڈال دیتاہے۔

(10)...اساتذہ کی معاشی مشکلات کو "صبر" اور "اخلاص"کے وعظ سے حل کرنے کی کوشش کرتاہے۔

(11)...خوشامد کرنے والوں کو قریب اور مخلص مشورہ دینے والوں کو دور رکھتاہے۔

(12)...نئے آئیڈیاز اور اصلاحی تجاویز کو اپنی مخالفت سمجھتاہے۔

*(13)...اساتذہ کی برسوں کی خدمات کو ایک شکایت یا افواہ کے سامنے بھول جاتاہے۔*

(14)...چندے اور تعمیرات میں دلچسپی زیادہ،جبکہ تدریسی معیار میں دلچسپی کم رکھتاہے۔

*نوٹ: ایک مدرسہ صرف عمارتوں،چندوں اور قواعد سے نہیں چلتا۔ادارے کی کامیابی اچھی قیادت،احترام،جوابدہی اور سیکھنے کے ماحول سے ہوتی ہے*۔(منقول)

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

جنگ آزادی میں مدرسوں اور علماء کرام کی قربانیاں

جنگ آزادی میں مدرسوں اور علماء کرام کی قربانیاں:

 از: مولانا شوکت علی قاسمی بستوی استاذ تفسیر و ادب دارالعلوم دیوبند‏
 
مدارس اسلامیہ ہند نے جہالت و ناخواندگی کے قلع قمع، علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت اسلامیہ کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی ان مدرسوں کی خدمات بڑی روشن ہیں، بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے اور ابنائے وطن کو عروسِ حریت سے ہم کنار کرانے میں، مدارس اسلامیہ اور ان کے قائدین کی قربانیاں آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہیں، وہ مدارس اسلامیہ کے جان باز علماء کرام ہی تو تھے جنھوں نے ملک میں آزادی کا صور اس وقت پھونکا جب عام طور پر دیگر لوگ خواب غفلت میں مست، آزادی کی ضرورت و اہمیت سے نابلد اور احساسِ غلامی سے بھی عاری تھے۔

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ ۱۵/ اگست کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کے مبارک و مسعود موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مالٹا اور کالا پانی میں ہر طرح کی اذیتیں جھیلیں اور جان نثاری و سرفروشی کی ایسی مثال قائم کیں جن کی نظیر نہیں ملتی اور ملک کا چپہ چپہ ان کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے
پتہ پتہ بو ٹا بو ٹا حا ل ہما ر ا جا نے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

ملک کا ایک طبقہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ دینی و اسلامی مدارس، قومی دھارے سے بالکل الگ تھلگ، ملکی و قومی مفادات سے بے پروا ہوکرصرف دینی تعلیم کی اشاعت میں لگے رہتے ہیں، مدراس کے فضلا گرد و پیش کے حالات سے بے خبر اور ملکی و قومی خدمت کے شعور واحساس سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ لیکن مدارس اسلامیہ کا شاندار ماضی، اس مفروضہ کو قطعاً غلط اور بے بنیاد قرار دیتا ہے، اور تاریخ ہند کی پیشانی پر ثبت، مدارس اسلامیہ کی ملکی و قومی خدمات اور کارناموں کے نقوش پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کے علماء کرام و فضلاء عظام نے ہمیشہ ملکی مفادات کی پاسبانی اور اپنے خون پسینہ سے چمنستان ہند کی آب یاری کی ہے اور ملک کی آزادی کی تاریخ ان قربانیوں سے لالہ زار ہے، چنانچہ ان ہزاروں علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا خصوصاً حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی، مولانا شاہ اسحاق دہلوی، مولانا عبدالحئی بڈھانوی، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا نذیر حسین دہلوی، مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی عنایت احمد کاکوری،مولانا فرید الدین شہید دہلوی، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، امام حریت مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، قاضی عنایت احمد تھانوی، قاضی عبدالرحیم تھانوی، حافظ ضامن شہید، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رضی اللہ بدایونی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، امام انقلاب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری،مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا شوکت علی رام پوری، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا ڈاکٹر برکت اللہ بھوپالی، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا کفایت اللہ دہلوی، مولانا سیف الرحمن کابلی، مولانا وحید احمد فیض آبادی، مولانا محمد میاں انصاری، مولانا عزیر گل پشاوری، مولانا حکیم نصرت حسین فتح پوری، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا ابوالمحاسن سجاد پٹنوی، مولانا احمد سعید دہلوی، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دہلوی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولانا نورالدین بہاری وغیرہ آسمان حریت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جنھوں نے محکومی کی شب دیجور کو تار تار کیا اور ملک کے چپے چپے کو انوار حریت کی ضوفشانی سے معمور کردیا۔
یہ ہند میں سرمایہٴ ملت کے نگہباں

اللہ نے بر وقت کیا ان کو خبردار

مذکورہ مجاہدین وعلماء کرام سب مدارس اسلامیہ ہی کے فضلا و فیض یافتہ تھے ایک دو حضرات ایسے ہیں جو باضابطہ کسی مدرسے کے فارغ نہ تھے لیکن علماء کرام کے باضابطہ صحبت یافتہ ضرور تھے، ان میں وہ علماء کرام بھی ہیں جنھوں نے جدوجہد آزادی کا آغاز کیا اور حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب اور پھر سید احمد شہید کی زیر قیادت کام کرتے رہے اور ان کے بعد بھی جدوجہد جاری رکھی، وہ علماء کرام ہی ہیں جنھوں نے ۱۸۵۷/ کی جنگ آزادی میں بنفس نفیس شرکت فرمائی پھر وہ علماء کرام ہیں جو زعیم حریت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اور امام الہند مولانا ابوالکلام کی زیر قیادت جنگ آزادی میں شریک رہے۔ ان حضرات کی قربانیوں کی ایک جھلک پیش کرنے کے لئے ہمیں سلسلہ وار واقعات پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔

سولہویں صدی عیسوی کے ختم ہوتے ہوتے انگلستانی سوداگر ہندوستان پہنچ چکے تھے ۱۶۰۱/ میں ملکہ ایلزبیتھ کی اجازت سے ایک سو تاجروں نے تیس ہزار پونڈ کی خطیر رقم لگاکر ایک تجارتی ادارہ ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company) کے نام سے قائم کیا، مغربی بنگال کو کمپنی نے اپنا مرکز بنایا اور ڈیڑھ سو سال تک اپنی تمام تر توجہ صرف تجارت پر مرکوز رکھی لیکن جب حضرت اورنگ زیب عالمگیر، اور معظم شاہ کے بعد مغلیہ حکومت کی بنیادیں کمزور پڑگئیں اور ملک میں انارکی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا مکھوٹا اتار پھینکا اور نظام حکومت میں مداخلت شروع کردی۔ ۱۷۵۷/ میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں کی فوجیں کھلم کھلا میدان میں آگئیں اور ننگ ملت ننگ دین اور ننگ وطن میر جعفر کی غداری کے سبب نواب سراج الدولہ کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا اور پورے بنگال پر ا نگریز قابض ہوگئے، پھر ۱۷۶۴/ میں انگریزوں کے خلاف نواب شجاع الدولہ کو بکسر میں شکست ہوئی اور بہار و بنگال انگریز کی دیوانی میں چلے گئے۔ ۱۷۹۲/ میں بطل حریت سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے میسور پر قبضہ کرلیا۔ ۱۸۴۹ میں پنجاب بھی کمپنی کے قبضہ میں آگیا اسی طرح سندھ آسام، برما، اودھ، روہیل کھنڈ، جنوبی دوآبہ، علی گڈھ، شمالی دوآبہ، مدراس وپانڈی چری وغیرہ انگریزوں کے زیر تسلط آگئے اور پھر وہ وقت بھی آپہنچا جب دہلی پر بھی کمپنی کی حکومت قائم ہوگئی اور مغل بادشاہ کا صرف نام رہ گیا، ان علاقوں پر انگریزوں نے فتح حاصل کرنے کے لیے کیا کیا تدبیریں کیں مسز اینی بیسنٹ کی زبانی سنئے:
”کمپنی والوں کی جنگ سپاہیوں کی جنگ نہ تھی بلکہ تاجروں کی جنگ تھی، ہندوستان کو انگلستان نے اپنی تلوار سے فتح نہ کیا بلکہ خود ہندوستانیوں کی تلوار سے اور رشوت و سازش، نفاق، اور حد درجہ کی دورخی پالیسی پہ عمل کرکے ایک جماعت کو دوسری جماعت سے لڑاکر اس نے یہ ملک حاصل کیا۔ (ہندوستان کی کوشش آزادی کے لئے ص:۵۶)

ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پھیلتے ہوئے جال اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو سب سے پہلے اگر کسی نے محسوس کیا تو وہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی کی عبقری شخصیت تھی آپ نے پوری دوراندیشی کے ساتھ اصلاح کے اصول بیان کئے طریقہٴ کار کی نشاندہی فرمائی اور باشندگان وطن کے بنیادی حقوق پامال کرنے والے نظام حکومت کو درہم برہم کردینے کی تلقین کی اور اس کے لیے طاقت کے استعمال پر بھی زور دیا، ان کے متعین کردہ نقشہ راہ کے مطابق ان کے فرزنداکبر حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا منظم آغاز کیا، انگریزوں کے خلاف تاریخ ساز فتویٰ صادر فرمایا اور ملک کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا جو انگریز کے خلاف اعلان جہاد کے مترادف تھا یہ فتویٰ جنگل کی آگ کی طرح ملک کے کونے کونے میں پہنچ گیا، ۱۸۱۸/ میں عوام کی ذہن سازی کے لئے مولانا سید احمد شہید، مولانا اسماعیل دہلوی، اور مولانا عبدالحئی بڈھانوی کی مشاورت میں ایک جماعت تشکیل دی گئی جس نے ملک کے اطراف میں پہنچ کر دینی اور سیاسی بیداری پیدا کی، پھر انگریزوں سے جہاد کے لئے ۱۸۲۰/ میں مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی کی قیادت میں مجاہدین کو روانہ کیاگیا، انھوں نے جنگی خصوصیات کی بنا پر جہاد کا مرکز صوبہ سرحد کو بنایا، مقصد انگریزوں سے جہاد تھا لیکن پنجاب کے راجہ انگریزوں کے وفادار تھے، اس جہاد کے مخالف تھے اور اس کو ناکام کرنے کی تدبیریں کررہے تھے اس لئے پہلے حضرت سید احمد شہید نے ان کو پیغام بھیجا کہ ”تم ہمارا ساتھ دو، دشمنوں (انگریزوں) کے خلاف جنگ کرکے ہم ملک تمہارے حوالے کردیں گے، ہم ملک ومال کے طالب نہیں“ لیکن راجہ نے انگریز کی وفاداری ترک نہ کی تو اس سے بھی جہاد کیاگیا ۱۸۳۱/ میں بالاکوٹ کے میدان میں حضرت مولانا رائے بریلوی نے جام شہادت نوش کیا، مگر ان کے متوسلین نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ملک کے مختلف اطراف میں انگریز کے خلاف گوریلا جنگ جاری رکھی۔ ۱۸۵۷/ کی جنگ کے لیے سید صاحب کے متوسلین ومجاہدین نے فضا ہموار کرنے اور افراد تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
/ کی جنگ آزادی میں علماء کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا، یہ علماء کرام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت سید احمد شہید رحمہم اللہ کی سلسلة الذہب (طلائی زنجیر) کی سنہری کڑی تھے۔ اس جنگ کے لیے علماء کرام نے عوام کو جہاد کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے طول و عرض میں وعظ و تقریر کا بازار گرم کردیا اور جہاد پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا نیز ایک متفقہ فتویٰ جاری کرکے انگریزوں سے جہاد کو فرض عین قرار دیا۔ اس فتویٰ نے جلتے پر تیل کا کام کیا اور پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی، اکابر علماء دیوبند نے شاملی کے میدان میں جہاد میں خود شرکت کی۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حافظ ضامن شہید نے حضرت سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی، پھر تیاری شروع کردی گئی، حضرت حاجی صاحب کو امام مقرر کیاگیا مولانا منیر نانوتوی کو فوج کے دائیں بازو کا اور حافظ ضامن تھانوی کو بائیں بازو کا افسر مقرر کیاگیا مجاہدین نے پہلا حملہ شیرعلی کی سڑک پر انگریزی فوج پر کیا اور مال و اسباب لوٹ لیا، دوسرا حملہ ۱۴/ ستمبر ۱۸۵۷/ کو شاملی پر کیا، اور فتح حاصل کی، جب خبر آئی کہ توب خانہ سہارنپور سے شاملی کو بھیجا گیا ہے تو حضرت حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی کو چالیس پچاس مجاہدین کے ساتھ مقرر کیا، سڑک باغ کے کنارے سے گزرتی تھی، مجاہدین اس باغ میں چھپے تھے جب پلٹن وہاں سے گذری تو مجاہدین نے ایک ساتھ فائر کردیا پلٹن گھبراگئی اور توپ خانہ چھوڑ کر بھاگ گئی اسی معرکہ میں حافظ ضامن صاحب تھانوی شہید ہوئے سید حسن عسکری صاحب کو سہارنپور لاکر انگریزوں نے گولی ماردی مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی مظفرنگر جیل میں ڈال دئیے گئے اور مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے انڈرگراؤنڈ چلے گئے۔
۱۸۵۷/ کی جنگ آزادی مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہول ناک مظالم کے پہاڑ توڑڈالے گئے۔ ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء، انگریزوں کی مشق ستم کا نشانہ بنے، اس لئے کہ انھوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور علماء کرام نے ان کے خلاف فتویٰ دے کر جہاد کا اعلان عام کردیا تھا، چنانچہ ۱۸۵۷/ سے چودہ برس پہلے ہی گورنر جنرل ہند نے یہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان بنیادی طور پر ہمارے مخالف ہیں اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزار علماء کرام تھے، انگریز علماء کے اتنے دشمن تھے کہ ڈاڑھی اور لمبے کرتے والوں کو دیکھتے ہی پھانسیاں دے دیتے تھے، ایڈورڈ ٹامسن نے شہادت دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی (ریشمی رومال ص:۴۵) پوری دہلی کو مقتل میں تبدیل کردیاگیا تھا مرزا غالب کی زبان میں۔

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے

گھر نمونہ بنا ہے زند ا ں کا

شہر دلی کا ذَ رّہ ذ رّہٴ خا ک

تشنہٴ خوں ہے ہر مسلمان کا

دہلی، کلکتہ، لاہور، بمبئی، پٹنہ، انبالہ، الہ آباد، لکھنوٴ، سہارنپور، شاملی اور ملک کے چپے چپے میں مسلمان اور دیگر مظلوم ہندوستانیوں کی لاشیں نظر آرہی تھیں علماء کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا پھر نذر آتش کردیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پر خنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلادیا جاتا تھا۔ (دیکھئے ایسٹ انڈیا کمپنی اور باغی علماء)

اس جنگ میں ناکامی کی بنیادی وجہ افراد ووسائل کی قلت اور تنظیم کی کمی تھی اس لئے اکابر دیوبند نے غور و خوض کے بعد، دیوبند میں ۱۸۶۶/ میں دار العلوم دیوبند قائم کیا، اس کا مقصد جہاں تعلیم وتعلم تھا وہیں ملک کی آزادی کے لئے افراد و رجال کار کی تیاری بھی تھی جو قوم اور ملک کی قیادت کرسکیں کاروان آزادی کو کامیابی کے ساتھ منزل تک پہنچاسکیں چنانچہ دارالعلوم کے پہلے طالب علم جو فراغت کے بعد دارالعلوم میں استاذ اور صدرالمدرسین کے منصب جلیل پر فائز ہوئے انھوں نے ایک موقع پر فرمایا:

”حضرت الاستاذ (حضرت نانوتوی) نے اس مدرسے کو کیا درس تدریس، تعلیم وتعلّم کیلئے قائم کیاتھا؟ مدرسہ میرے سامنے قائم ہوا جہاں تک میں جانتا ہوں ۱۸۵۷/ کے ہنگامہ کی ناکامی کے بعد یہ ارادہ قائم کیاگیا تاکہ کوئی ایسا مرکز قائم کیا جائے جس کے زیر اثر لوگوں کو تیار کیا جائے تاکہ ۱۸۵۷/ کی تلافی کی جاسکے“ (رسالہ دارالعلوم شمارہ جمادی الثانی ۱۳۷۲ھ)
معلوم ہوا کہ ملک کی خدمت اور اس کی آزادی سے ہم کنار کرنے کا جذبہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے، اسی طرح جو مدارس دارالعلوم کے نہج پر بعد میں قائم کئے گئے ان کے قیام کے مقاصد میں بھی ایک اہم مقصد یہ رہا ہے کہ ایسے رجال کار اور افراد تیار کئے جائیں جو ملک کی تعمیر و ترقی میں موٴثر رول ادا کرسکیں، پھر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے وسیع پیمانے پر جدوجہد کیلئے اکابر دارالعلوم دیوبند نے جمعیة علماء ہند قائم کی جو دارالعلوم کا سیاسی بازو تھی، اکابر جمعیة نے عوام میں بیداری کی لہر پیدا کرنے اور آزادی کے لیے فضا سازگار بنانے میں اہم رول ادا کیا جمعیة نے کانگریس سے بھی پہلے ”کوئٹ انڈیا“ ”ہندوستان چھوڑو“ کا مطالبہ اپنی تجویز کے ذریعہ کیا، مولانا ابوالکلام آزاد نے جمعیة اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے، اور مولانا محمد علی جوہر اور مولانا حسرت موہانی وغیرہ نے آزادی کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔

یہاں امام انقلاب حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی نے اپنے رفقاء کار کے ساتھ مل کر جو آزادی کی تحریک برپا کی تھی، اس پر روشنی ڈالنا مناسب ہوگا یہ تحریک ریشمی رومال کے نام سے مشہور ہوئی ۱۸۵۷/ کی جنگ کی ناکامی کے بعد ملک کی آزادی کے لئے یہ ہمہ گیر تحریک شروع کی گئی تھی، پہلے حضرت شیخ الہند نے فضلاء دیوبند کی ایک تنظیم ثمرة التربیہ قائم کی پھر جمعیة الانصار قائم کی اور اس کے تحت فضلاء کو مربوط کیا اور ان کو منظم اور ٹرینڈ کیا گیا، فضلاء میں کابل اور سرحد کے فضلاء بھی تھے، حضرت سید احمد شہید کی تحریک کے اثرات وہاں باقی تھے حضرت شیخ الہند نے اسی علاقہ کو اپنی تحریک کا مرکز بنایا، پروگرام یہ تھا کہ اس علاقے کو جوش جہاد سے معمور کردیا جائے اور حکومت افغانستان کو آمادہ کیا جائے کہ وہ مجاہدین آزادی ہند کا تعاون کرے اور ٹرکی حکومت سے رابطہ کرکے اسے تیار کیا جائے کہ وہ ہندوستان میں برطانوی حکومت پر حملہ کردے۔ اور اندرون ملک بغاوت و انقلاب کی آگ بھڑکادی جائے اور اندرونی اور بیرونی یورش سے مجبور ہوکر برطانیہ ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ اس کے لئے حضرت شیخ الہند نے اندرون ملک دہلی، لاہور، پانی پت، دین پور، امروت، کراچی، اتمان زئی، ڈھاکہ وغیرہ کو مرکز بنایا، مشن کی کامیابی کے لئے برما،چین، فرانس اور امریکہ وفود روانہ کئے اور ان کی حمایت حاصل کی۔ مولانا عبید اللہ سندھی کو آپ نے کابل میں رہ کر خدمات انجام دینے کا حکم دیا اور خود حجاز مقدس تشریف لے گئے تاکہ وہاں خلافت عثمانیہ کے ذمہ داروں سے مل کر ذہن سازی کی جائے اور ترکی کو برطانوی حکومت کے خلاف حملہ کیلئے راغب کیا جائے چنانچہ حضرت نے گورنر غالب پاشا سے ملاقات کی اس نے مکمل تعاون کیا اور وزیر جنگ ترکی، انور پاشا سے بھی مدینہ منورہ میں حضرت شیخ الہند کی ملاقات ہوئی اور وزیر جنگ ترکی نے اپنے ہرتعاون کا یقین دلایا۔ اس تحریک میں مولانا سندھی نے ایک ریشمی رومال پر ایک خفیہ خط بنوایا تھا اس لئے اس کا نام ریشمی رومال تحریک پڑگیا۔ اس تحریک کے ارکان و معاونین میں حضرت شیخ الہند کے علاوہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، موانا عبید اللہ سندھی، حاجی ترنگ زئی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبدالرحیم رائے پوری، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا صادق کراچوی، خان عبدالغفار خاں سرحدی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا حسرت موہانی، موانا محمد علی جوہر، مولانا عزیر گل، مولانا برکت اللہ بھوپالی، اور غیرمسلم ارکان تحریک میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ، ڈاکٹر متھرا سنگھ، اے پی پی اچاریہ وغیرہ شامل تھے ۔ تحریک کا راز فاش ہوجانے اور حضرت شیخ الہند کے گرفتار ہوجانے کے باعث تحریک کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہوتے رہ گئی لیکن تحریک سے ہندومسلم اتحاد کے ساتھ آزادی کی لڑائی لڑنے کی مضبوط بنیاد قائم ہوگئی۔ حضرت شیخ الہند کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے گاندھی جی کا خلافت کمیٹی اور جمعیة علماء ہند کے پلیٹ فارم اور فنڈ سے پورے ملک کا دورہ کرایا اور ایک ساتھ مل کر جنگ آزادی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیاگیا۔

اس موقع پر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو سلام عقیدت پیش کرنا بھی ضرری ہے، انھوں نے ساری زندگی حضرت شیخ الہند کے نقش قدم پر چل کر ملک کی آزادی اور تعمیر و ترقی میں صرف کردی اور جمعیة اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے جو کارنامے انجام دئیے وہ آب زر سے لکھے جائیں گے، ۱۹۲۰/ میں جمعیة علماء ہند کے اجلاس عام میں یہ طے کیاگیا کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ موالات و نصرت کے تمام تعلقات اور معاملات حرام ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ (۱) حظابات اور اعزازی عہدے چھوڑدئیے جائیں (۲) کونسلوں کی ممبری ترک کردی جائے (۳) دشمنان دین انگریز کو تجارتی نفع نہ پہنچایا جائے (۴) اسکولوں اور کالجوں میں سرکاری امداد قبول نہ کی جائے (۵) دشمنان دین کی فوج میں ملازمت کو حرام سمجھا جائے (۶) سرکاری عدالتوں میں مقدمات نہ لے جائے جائیں ۱۹۲۱/ جولائی میں کراچی میں تحریک خلافت کے اجلاس میں بھی حضرت مدنی نے مذکورہ تجاویز کا اعلان فرمایا جس کی تائید مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو وغیرہ نے کی، جس کے نتیجہ میں حضرت مدنی وغیرہ کو گرفتار کرلیاگیا ۲۶/ ستمبر ۱۹۲۱/ کو کراچی عدالت میں حضرت مدنی نے پوری بے باکی اور شجاعت کے ساتھ طویل بیان دیا، اور مذکورہ امور کو دہرایا اور فرمایا کہ برطانوی حکومت کی فوج میں ملازمت حرام ہے اگر گورنمنٹ ہماری مذہبی آزادی سلب کرنے پر تیار ہے تو مسلمان اپنی جان تک قربان کردینے کو تیار ہوں گے او رمیں پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان قربان کروں گا اس بیان کے بعد رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر نے حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے قدم چوم لئے (چراغ محمد ص ۱۱۵)

جمعیة کے پلیٹ فارم سے اور جن اکابر علماء نے آزادی اور پھر ملک کی تعمیر و ترقی میں روشن خدمات انجام دیں ان میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا سجاد بہاری، مولانا سید سلیمان ندوی، علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی، شاہ معین الدین اجمیری، مولانا عبدالحق مدنی، مولانا سید محمد میاں دیوبندی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا فخرالدین احمد مراد آبادی، مولانا احمد سعید دہلوی، وغیرہ کے نام شامل ہیں۔#

اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچے یزداں تک

ہیں عام ہمارے افسانے دیوار چمن سے زنداں تک

ملک کی آزادی کے حوالے سے قربانیاں پیش کرنے والے مدارس اسلامیہ کے اکابر علمائے کرام کی خدمات کی ایک جھلک پیش کی گئی اور ”لذیذ بود حکایت دراز تر گفتیم“ کے تحت ذرا دراز نفسی کے ساتھ پیش کی گئی، حقیقت یہ ہے کہ علمائے کرام نے جہاد آزادی کے چمن کو اپنے خون جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا ہے۔
جنگ آزادی میں مدرسوں اور علماء کرام کی قربانیاں 

 از: مولانا شوکت علی قاسمی بستوی استاذ تفسیر و ادب دارالعلوم دیوبند‏
 

مدارس اسلامیہ ہند نے جہالت و ناخواندگی کے قلع قمع، علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت اسلامیہ کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی ان مدرسوں کی خدمات بڑی روشن ہیں، بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے اور ابنائے وطن کو عروسِ حریت سے ہم کنار کرانے میں، مدارس اسلامیہ اور ان کے قائدین کی قربانیاں آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہیں، وہ مدارس اسلامیہ کے جان باز علماء کرام ہی تو تھے جنھوں نے ملک میں آزادی کا صور اس وقت پھونکا جب عام طور پر دیگر لوگ خواب غفلت میں مست، آزادی کی ضرورت و اہمیت سے نابلد اور احساسِ غلامی سے بھی عاری تھے۔

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ ۱۵/ اگست کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کے مبارک و مسعود موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مالٹا اور کالا پانی میں ہر طرح کی اذیتیں جھیلیں اور جان نثاری و سرفروشی کی ایسی مثال قائم کیں جن کی نظیر نہیں ملتی اور ملک کا چپہ چپہ ان کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے
پتہ پتہ بو ٹا بو ٹا حا ل ہما ر ا جا نے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

ملک کا ایک طبقہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ دینی و اسلامی مدارس، قومی دھارے سے بالکل الگ تھلگ، ملکی و قومی مفادات سے بے پروا ہوکرصرف دینی تعلیم کی اشاعت میں لگے رہتے ہیں، مدراس کے فضلا گرد و پیش کے حالات سے بے خبر اور ملکی و قومی خدمت کے شعور واحساس سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ لیکن مدارس اسلامیہ کا شاندار ماضی، اس مفروضہ کو قطعاً غلط اور بے بنیاد قرار دیتا ہے، اور تاریخ ہند کی پیشانی پر ثبت، مدارس اسلامیہ کی ملکی و قومی خدمات اور کارناموں کے نقوش پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کے علماء کرام و فضلاء عظام نے ہمیشہ ملکی مفادات کی پاسبانی اور اپنے خون پسینہ سے چمنستان ہند کی آب یاری کی ہے اور ملک کی آزادی کی تاریخ ان قربانیوں سے لالہ زار ہے، چنانچہ ان ہزاروں علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا خصوصاً حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی، مولانا شاہ اسحاق دہلوی، مولانا عبدالحئی بڈھانوی، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا نذیر حسین دہلوی، مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی عنایت احمد کاکوری،مولانا فرید الدین شہید دہلوی، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، امام حریت مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، قاضی عنایت احمد تھانوی، قاضی عبدالرحیم تھانوی، حافظ ضامن شہید، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رضی اللہ بدایونی، ام

مولانا ابوالحسن علی ندوی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے خطبے سے اقتباس:

مولانا ابوالحسن علی ندوی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے خطبے سے اقتباس:
”اگر مجھ سے کوئی کسی ملک کی تعریف کرے اور بتائے کہ وہ بڑی فوجی طاقت کا مالک ہے، اس کی معاشیات بڑی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، دنیا کی بڑی طاقتوں سے اس کے بڑے اچھے تعلقات ہیں اور ان کی نظر میں اس کا بڑا احترام ہے، تو مجھے یہ سن کر اطمینان نہیں ہوگا۔ میں کہوں گا کہ مجھے یہ بتائیے کہ وہاں کے اسکولوں اور کالجوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے طلبہ تک، نئی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں کس درجے کا احساسِ ذمہ داری پایا جاتا ہے؟ ان میں ضبطِ نفس کی کتنی طاقت ہے؟ ان میں اپنے تاثرات کو حدِ اعتدال میں رکھنے کی کتنی صلاحیت اور قانون کے احترام کی کتنی عادت ہے؟ اگر وہ صاحب کہیں گے کہ اس کی طرف سے تو میں اطمینان نہیں دلا سکتا، تو میں کہوں گا کہ پھر مجھے اس ملک کے حال و مستقبل کے بارے میں کوئی اطمینان نہیں ہے۔“
(بانگ ِدرا، لکھنؤ، مئی، جون، جولائی، ۲۰۰۰ء، سے ماخوذ)

آزادی کا جشن یا احتسابِ آزادی؟

   آزادی کا جشن یا احتسابِ آزادی؟

         ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

علی الصبح ہمارے عزیز، جناب مولانا اقبال کندہ صاحب کے ایک مختصر مگر نہایت مؤثر اقتباس پر نظر پڑی۔ چند الفاظ پر مشتمل یہ اقتباس اپنے اندر ایک گہری فکر اور معنی کی ایک وسیع دنیا سموئے ہوئے تھا۔ خیال آیا کہ کیوں نہ اسی مختصر مگر بامعنی خیال کو بنیاد بنا کر بات کو کچھ آگے بڑھایا جائے؛ اس کے مضمرات پر غور کیا جائے اور چند الفاظ میں سمٹے ہوئے اس سوال کو ایک وسیع تر فکری اور قومی تناظر میں دیکھا جائے۔

آزادی کے جشن کا ایک پہلو یقیناً خوشی، مسرت اور تشکر ہے، مگر اس کا ایک دوسرا، زیادہ سنجیدہ اور ذمّہ دارانہ پہلو احتساب بھی ہے۔ قومیں صرف پرچم لہرا کر، ترانے گا کر اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کے قصّے دہرا کر زندہ نہیں رہتیں؛ قومیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنے ماضی کو شعور کے ساتھ پڑھتی ہیں، اپنے حال کو دیانت داری سے پرکھتی ہیں اور اپنے مستقبل کے لیے اجتماعی کردار اور سمت کا تعین کرتی ہیں۔ اس لیے اگر یومِ آزادی کے کسی اجتماع میں مجھے چند کلمات کہنے کا موقع ملے تو میں محض یہ نہیں کہوں گا کہ "ہمارے باپ دادا نے بڑی قربانیاں دی تھیں"۔ میں اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی ضرور اٹھاؤں گا کہ جن لوگوں کی قربانیوں کا ہم آج جشن مناتے ہیں، کیا ہم نے ان کے تصورِ خدمت، عدل، امانت، ذمّہ داری اور رعیت نوازی کو بھی زندہ رکھا ہے؟

اگر آزادی ہمیں صرف جشن منانے کا موقع دیتی ہے تو یہ اس کے مفہوم کا ایک محدود حصّہ ہے؛ لیکن اگر یہی آزادی ہمیں اپنے اجتماعی سفر کا جائزہ لینے، اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنے اور اپنے مستقبل کی اصلاح کا عزم کرنے پر آمادہ کرتی ہے تو یہی اس کا حقیقی شعور ہے۔ یومِ آزادی کا خطاب بھی اسی وسیع قومی شعور کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ یہ ملک کسی ایک مذہبی گروہ کی جاگیر نہیں؛ اس کی گلیاں، اس کے دریا، اس کی مٹی، اس کی تاریخ اور اس کا مستقبل تمام شہریوں کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اس لیے ہمارے غیر مسلم برادرانِ وطن سے بھی یہی بات کہی جانی چاہیے کہ ہم اپنے ماضی اور اپنے اسلاف کی تاریخ اس لیے نہیں پڑھتے کہ کسی دوسرے مذہب یا برادری کو کمتر ثابت کریں، بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ تاریخ کے تجربات سے اچھی حکمرانی، عدل، رواداری، انسانی وقار اور اجتماعی ذمّہ داری کے اصول تلاش کیے جا سکیں۔

برصغیر کی تاریخ میں مختلف ادوار اور مختلف حکمرانوں کے تجربات موجود ہیں۔ اشوک کے عہد میں بھی ایک کثیر مذہبی معاشرے کے نظم و نسق اور مختلف مذہبی طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کے اصولوں کا اظہار ملتا ہے۔ اسی طرح برصغیر کی اسلامی سیاسی روایت میں بھی عدل، رعایا کی حفاظت، اقلیتوں کے حقوق، امانتِ حکومت اور حکمران کی جواب دہی جیسے تصورات پر مسلسل گفتگو ملتی رہی ہے۔ تاریخ کا اصل سبق یہی ہے کہ اقتدار کی قدر محض اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ اقتدار کس مذہبی یا سیاسی شناخت رکھنے والے شخص کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ وہ اقتدار انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اور عدل کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کرتا ہے۔

اس لیے آج کا بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "ہندو کی حکومت یا مسلمان کی حکومت؟" اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ: کیا حکومت عادل ہے؟ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ کیا شہری کی جان، مال اور عزّت محفوظ ہے؟ کیا کمزور کو طاقتور کے مقابلے میں انصاف مل سکتا ہے؟ کیا ریاست مذہب، ذات، زبان، طبقے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر شہری کو پہلے انسان اور پھر برابر کا شہری سمجھتی ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب "ہاں" میں ہے تو یہ حقیقی ریاستی کامیابی ہے؛ اور اگر جواب "نہیں" میں ہے تو محض جشن، نعرے، پرچم اور تقریریں اس خلا کو پُر نہیں کرسکتیں۔ آزادی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ انسان کو خوف سے آزادی، ناانصافی سے نجات، قانون کے سامنے برابری اور باوقار زندگی کا حق کس حد تک فراہم کرتی ہے۔

یہیں سے یومِ آزادی کا جشن ایک نئے سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے: ہم نے آزادی حاصل تو کرلی، مگر آزادی کے مقصد کو کس حد تک حاصل کیا؟ اور اب ہمیں اسی اصل سوال کی طرف متوجہ ہونا ہوگا۔ یومِ آزادی پر جب ہم اپنے اسلاف اور ان کے ادوارِ حکومت کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں صرف فتوحات، قلعے، بادشاہ اور جنگیں یاد نہیں کرنی چاہئیں؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ حکومت کا مقصد کیا سمجھا جاتا تھا، اقتدار کی ذمّہ داری کیا تھی، رعایا کے حقوق کیا تھے، اور عدل و انصاف کو ریاستی زندگی میں کس مقام پر رکھا جاتا تھا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جشنِ آزادی، احتسابِ آزادی میں بدلتا ہے—اور تاریخ محض ماضی کا قصّہ نہیں رہتی بلکہ ہمارے حال کے لیے آئینہ اور مستقبل کے لیے رہنما بن جاتی ہے۔

برصغیر کی قدیم سیاسی روایت میں بادشاہ سے رعایا کی نگہداشت کی توقع موجود تھی۔ اشوک کے کتبوں میں ریاستی ذمّہ داری کا ایک قابلِ ذکر تصور ملتا ہے۔ اس کے فرامین میں انسانوں اور جانوروں کے لیے طبی علاج، دواؤں اور جڑی بوٹیوں کا انتظام، سڑکوں کے کنارے درخت اور کنویں، مسافروں کے لیے سہولتیں اور عوامی بہبود کا ذکر ملتا ہے۔ نئی دہلی کے نیشنل میوزیم میں محفوظ اشوک کے فرامین کے خلاصے میں بھی رعایا کی بہبود کو حکمران کی ذمّہ داری اور انسان و حیوان دونوں کے لیے طبی انتظامات کا ذکر موجود ہے۔ یہاں تک کہ قدیم ریاستی انتظام کے بعض شواہد میں قحط کے زمانے میں غلہ تقسیم کرنے اور متاثرین کی مدد کرنے کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک اہم اخلاقی سبق ہے: ریاست کا وجود صرف ٹیکس لینے اور حکم جاری کرنے کے لیے نہیں؛ ریاست کا جواز عوام کی جان، مال، عزّت، انصاف اور بنیادی ضروریات کے تحفّظ میں ہے۔

مسلم عہد کے حکمرانوں کو بھی جذبات کے بجائے تاریخ سے پڑھنا ہوگا، مسلم عہد کے بارے میں بھی یہی اصول اختیار ہونا چاہیے۔ ہمیں نہ تو ہر مسلمان بادشاہ کو مثالی اور فرشتہ بنا کر پیش کرنا چاہیے، نہ ہر حکمران کو ظالم ثابت کرنے کے لیے تاریخ کو مسخ کرنا چاہیے۔ مثلاً اکبر کے دور میں ٹوڈرمل کے نظامِ محصولات نے زمین کی پیمائش، پیداوار اور قیمتوں کی بنیاد پر محصول بندی کو منظم کیا۔ بعض اوقات ریاستی محصول اوسط پیداوار کے تقریباً ایک تہائی کے برابر مقرر کیا گیا، جب کہ فصل کی تباہی جیسے حالات میں رعایت کی گنجائش بھی رکھی گئی۔ یہ ایک پیچیدہ مالیاتی نظام تھا؛ اسے نہ آج کے انکم ٹیکس کے برابر سمجھا جا سکتا ہے، نہ موجودہ ریاستی بجٹ کے ساتھ براہِ راست عددی مقابلہ ممکن ہے۔ لیکن اصولی سوال وہی رہتا ہے، ریاست عوام سے جو کچھ لیتی ہے، کیا وہ عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے واپس بھی کرتی ہے؟ یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔

قدیم ریاست میں محصول کبھی زمین سے لیا جاتا تھا، کبھی تجارت سے، کبھی پیداوار سے اور کبھی دیگر ذرائع سے۔ آج کا جدید ریاستی نظام براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، کسٹمز، کارپوریٹ ٹیکس، انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور متعدد دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کرتا ہے۔ لیکن ریاستی مالیات کا اصل اخلاقی اصول تبدیل نہیں ہونا چاہیے: ٹیکس ریاست کا مالِ غنیمت نہیں، عوام کی امانت ہے۔ آج حکومت کے پاس ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونے والی رقم کے علاؤہ قرض، غیر ٹیکس آمدنی اور دیگر ذرائع بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً مرکزی حکومت کے 2024ء-25ء کے حسابات میں ٹیکس آمدنی، غیر ٹیکس آمدنی اور دیگر وصولیوں کے ساتھ ریاستوں کو ٹیکسوں میں ان کا حصّہ منتقل کیا گیا۔ دسمبر 2024ء تک مرکزی حکومت نے ₹9.01؍ لاکھ کروڑ ریاستی حکومتوں کو ٹیکسوں کے حصے کے طور پر منتقل کیے تھے۔

اس لیے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ: حکومت نے کتنا ٹیکس لیا؟ بلکہ سوال یہ بھی ہونا چاہیے: اس ٹیکس کے بدلے عوام کو کیا ملا؟ اس سے کتنے سرکاری ہسپتال بہتر ہوئے؟ کتنے سرکاری اسکول مضبوط ہوئے؟ کتنے دیہات کو صاف پانی ملا؟ کتنی سڑکیں تعمیر ہوئیں؟ کتنے غریب خاندان بیماری کی وجہ سے تباہ ہونے سے بچے؟ کتنے کسانوں کو بحران میں سہارا ملا؟ کتنے بے گھر افراد کو تحفّظ ملا؟ کتنی عدالتیں عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی ہوئیں؟ کتنے نوجوانوں کو باعزّت روزگار ملا؟ اور سب سے بڑھ کر: کیا عام شہری خود کو ریاست کا برابر کا مالک سمجھتا ہے یا محض ایک عدد؟ یہی اصل احتساب ہے۔

اسلامی سیاسی فکر میں بیت المال کا تصور محض حکمران کی ذاتی تجوری کا تصور نہیں تھا۔ اس کا بنیادی اخلاقی مفہوم یہ تھا کہ عوامی وسائل کو امانت سمجھا جائے۔ حکمران کا محل عوامی فلاح سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ حاکم کا پروٹوکول شہری کی عزّت سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ سرکاری اخراجات حکمرانوں کی آسائش کے لیے ہوں اور عوام بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں تو ریاست کا اخلاقی توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہی اصول دنیا کی دوسری قدیم ریاستی روایتوں میں بھی مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے۔ اشوک کے فرامین میں حکمران اپنی ذمّہ داری کو رعایا کی خوشی اور بہبود سے جوڑتا ہے؛ سڑکوں، کنوؤں، درختوں، طبی سہولتوں اور کمزور طبقات کے لیے انتظامات اسی تصور کی مثالیں ہیں۔ ہمیں اس سے یہ سبق لینا چاہیے کہ ریاست کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کے عوام کی حالت سے ناپی جاتی ہے۔

یہ بھی انصاف نہیں ہوگا کہ آج کے ہندوستان کی تمام کامیابیوں کو نظر انداز کرکے صرف ناکامیوں کی تصویر پیش کی جائے۔ آج ملک نے طب، خلائی تحقیق، انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، صنعت اور مواصلات میں بڑی ترقی کی ہے۔ صحت کے میدان میں بھی کئی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں؛ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بھارت نے 2024ء میں ٹریکوما کو عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کی منزل حاصل کی اور بعض متعدی بیماریوں کے خاتمے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ یہ کامیابیاں قوم کی مشترکہ محنت ہیں؛ انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔

لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ سوال ختم ہوگئے۔ اگر جدید ہسپتال موجود ہیں مگر غریب مریض علاج کے اخراجات سے خوف زدہ ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر عدالتیں موجود ہیں مگر انصاف تک رسائی وقت اور دولت سے مشروط محسوس ہوتی ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر قانون موجود ہے مگر کمزور شہری خود کو طاقتور کے مقابلے میں بے بس محسوس کرتا ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر انتخابات ہوتے ہیں مگر شہری کو پانچ سال بعد ووٹ کے علاؤہ مسلسل شرکت، احتساب اور باعزّت سماجی وجود کا احساس نہیں ہوتا، تو سوال باقی ہے۔ اور اگر ریاست کی کامیابی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی، ایکسپریس وے، عمارتیں اور عالمی رینکنگ بن جائے، مگر ایک غریب انسان کی عزّتِ نفس، ایک کسان کی بے بسی، ایک مزدور کی اجرت اور ایک مریض کی مجبوری ہماری گفتگو سے غائب ہو جائے تو ہمیں اپنی ترقی کے تصور پر بھی نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

ہم آزادی کو اکثر 15؍ اگست 1947ء تک محدود کر دیتے ہیں۔ مگر آزادی کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے: بھوک سے آزادی۔ جہالت سے آزادی۔ بیماری کے خوف سے آزادی۔ ظلم سے آزادی۔ ناانصافی سے آزادی۔ رشوت سے آزادی۔ ذات پات کی تحقیر سے آزادی۔ مذہبی تعصب سے آزادی۔ خوف سے آزادی۔ اور اس احساس سے آزادی کہ قانون صرف طاقتور کے لیے ہے۔ جس ملک کا غریب شہری ہسپتال کے دروازے پر اپنی جیب دیکھ کر علاج کا فیصلہ کرے، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ جس مزدور کو اپنے حق کی اجرت کے لیے برسوں بھٹکنا پڑے، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ جس کسان کو اپنی پیداوار کے باوجود معاشی بے یقینی لاحق ہو، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ اور جس شہری کو یہ خوف ہو کہ اس کی شناخت، زبان، مذہب، ذات یا سیاسی رائے اس کے شہری حقوق پر اثر انداز ہوسکتی ہے، وہاں بھی آزادی کا ایک باب ابھی مکمل نہیں ہوا۔

ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں—یہ حقیقت ہے۔ کسی نے جیل کاٹی، کسی نے جان دی، کسی نے گھر چھوڑا، کسی نے ہجرت کی، کسی نے اپنا کاروبار گنوایا، کسی نے خاندان سے جدائی برداشت کی۔ لیکن ان قربانیوں کا سب سے بڑا احترام یہ نہیں کہ ہم ہر سال انہیں چند جذباتی جملوں میں دہرا دیں۔ ان قربانیوں کا حقیقی احترام یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بنائیں جس میں ان قربانیوں کا مقصد زندہ رہے۔ اگر آزادی کا مقصد انصاف تھا تو انصاف پیدا کریں۔ اگر آزادی کا مقصد انسانی وقار تھا تو انسان کی عزّت کریں۔ اگر آزادی کا مقصد استحصال سے نجات تھا تو معاشی استحصال کم کریں۔ اگر آزادی کا مقصد خود اختیاری تھا تو شہری کو بااختیار بنائیں۔ اگر آزادی کا مقصد بہتر مستقبل تھا تو بچّوں کو بہتر تعلیم، مریض کو بہتر علاج، کسان کو تحفّظ، مزدور کو عزّت اور نوجوان کو باوقار روزگار دیں۔ ورنہ ہم اپنے اسلاف کی قبروں پر پھول تو چڑھاتے رہیں گے، مگر ان کے خوابوں کی قبر پر بھی روز نئی مٹی ڈالتے رہیں گے۔

آج ہمیں اپنے آپ سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے "ہم نے آزادی کیسے حاصل کی؟"۔ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے: "ہم نے آزادی کو کیا بنا دیا؟"۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے: "ریاست شہری کے لیے ہے یا شہری ریاست کے لیے؟"۔ "خزانہ حکمرانوں کی آسائش ہے یا عوام کی امانت؟"۔ "ہسپتال عمارت ہے یا شفا کا مرکز؟"۔ "عدالت عمارت ہے یا انصاف کی امید؟"۔ "پارلیمان صرف قانون بنانے کی جگہ ہے یا عوام کی آواز کا امین؟"۔ "ٹیکس محض وصولی ہے یا ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا معاہدہ؟"

اور سب سے بڑھ کر کیا ہمارا سب سے کمزور شہری بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ملک میرا ہے، یہ قانون میرا محافظ ہے، یہ ریاست میری خادمہ ہے، اور میری عزّت اس ملک میں اتنی ہی محترم ہے جتنی کسی طاقتور شخص کی؟"۔ اگر اس سوال کا جواب ہم پوری دیانت سے "ہاں" میں دے سکیں تو سمجھئے آزادی کا جشن حقیقی معنوں میں کامیاب ہے۔ ورنہ ہمیں جشن کے ساتھ محاسبہ بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف ماضی پر فخر کرکے عظیم نہیں بنتیں؛ وہ ماضی کی اچھی روایات کو حال کی ضرورتوں سے جوڑ کر مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ اور شاید یومِ آزادی کا سب سے خوب صورت پیغام یہی ہے آزادی ہمیں صرف یہ حق نہیں دیتی کہ ہم اپنے پرچم پر فخر کریں؛ آزادی ہمیں یہ ذمّہ داری بھی دیتی ہے کہ اس پرچم کے سائے میں رہنے والے ہر انسان کی عزّت، جان، مال، صحت اور انصاف کی حفاظت کریں۔

یہی اسلاف کی حقیقی میراث ہے۔
یہی ریاست کی اصل ذمّہ داری ہے۔
اور یہی آزادی کا اصل امتحان بھی۔

کیا واقعی علماء قیادت کے اہل نہیں؟

کیا واقعی علماء قیادت کے اہل نہیں؟
ایک بے لاگ جائزہ
شعیب رضا فاطمی 
ملک کے معروف عالم و دانشور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے حالیہ مضمون جو معارف میں شائع ہواہے میں ہندوستانی علماء کرام اور نظامِ مدارس کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں، وہ یقیناً چونکا دینے والے ہیں۔ ان کی تحریر کا سب سے اہم اور متنازعہ نکتہ یہ ہے کہ ملت کے عام مسلمان علماء کو اپنا قائد اور رہنما تو مانتے ہیں، لیکن موجودہ علماء قیادت کے اہل نہیں ہیں کیونکہ وہ ملک اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، سیاسی و سماجی نظام، میڈیا کی زبان اور جدید تقاضوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ یہ بات بہت سوں کو ناگوار گزر سکتی ہے، لیکن اس پر جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کوئی نئی بات کہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلم دانشوروں، مصلحین اور خود متعدد علماء کی جانب سے مدارس کے نصاب، طریقۂ تعلیم اور قیادت کے بحران پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلے کو نسبتاً دوٹوک اور بے پردہ انداز میں بیان کر دیا ہے۔
لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پورے ہندوستان کے علماء کرام کے بارے میں یہ عمومی فیصلہ دینا درست ہے کہ وہ قیادت کے اہل نہیں ہیں؟ کیا یہ حقیقت کے مطابق ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
اگر ہندوستان کے علماء واقعی قیادت کے اہل نہ ہوتے تو آزادی کی تحریک میں مولانا محمود حسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے رفقاء کا کردار تاریخ میں اس قدر روشن نہ ہوتا۔ اگر علماء قیادت سے ناواقف ہوتے تو بابری مسجد سے لے کر شہریت ترمیمی قانون (CAA) تک متعدد مواقع پر مسلم عوام کی اجتماعی رہنمائی ممکن نہ ہو پاتی۔ اگر علماء مکمل طور پر حالاتِ حاضرہ سے بے خبر ہوتے تو ملک بھر میں چلنے والے ہزاروں تعلیمی، رفاہی اور سماجی ادارے ان کی سرپرستی میں کامیابی سے کام نہ کر رہے ہوتے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ علماء نااہل ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے تقاضے ان روایتی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکے ہیں جن کے ذریعے گزشتہ صدی میں قیادت کی جاتی تھی۔
آج قیادت صرف فقہ، حدیث اور تفسیر جاننے کا نام نہیں رہی۔ آج قیادت کے لیے آئینِ ہند کی سمجھ، میڈیا کے مزاج کا ادراک، بین الاقوامی سیاست کا شعور، معاشیات، قانون، ٹیکنالوجی اور ابلاغ عامہ کی مہارت بھی ضروری ہے۔ دنیا بدل چکی ہے لیکن مسلم معاشرے کے بہت سے ادارے اس تبدیلی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکے۔ یہی وہ خلا ہے جس کی طرف ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اشارہ کر رہے ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستانی مسلمان گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ان کے خلاف سیاسی بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں، میڈیا ٹرائل ہوتے ہیں، قانونی اور آئینی مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن اکثر مواقع پر مسلم سماج کے پاس ایسے ترجمان کم نظر آتے ہیں جو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اپنی بات رکھ سکیں۔ اس کا نقصان پوری ملت کو اٹھانا پڑتا ہے۔
تاہم اس ناکامی کی تمام ذمہ داری صرف علماء پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ آخر جدید تعلیم یافتہ مسلم طبقہ کہاں ہے؟ کتنے مسلم بیوروکریٹس، وکلا، صحافی، پروفیسرز اور کارپوریٹ ماہرین اپنی قوم کے اجتماعی مسائل میں سنجیدگی سے حصہ لیتے ہیں؟ اگر علماء سے قیادت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو جدید تعلیم یافتہ طبقے کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔
اصل بحران قیادت کا نہیں بلکہ قیادت کی یک رخی ساخت کا ہے۔ ایک ایسا سماج جو صرف علماء پر انحصار کرے گا، وہ بھی ادھورا رہے گا اور ایک ایسا سماج جو علماء کو مکمل طور پر نظرانداز کر دے گا، وہ بھی اپنی روحانی اور تہذیبی بنیادوں سے محروم ہو جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی اور عصری علوم کے حامل افراد مل کر ایک مشترکہ قیادت تشکیل دیں۔
مدارس کے نظام میں اصلاح کی بحث بھی نئی نہیں ہے۔ خود اکابر علماء نے مختلف ادوار میں نصاب میں تبدیلیوں اور عصری مضامین کی شمولیت کی حمایت کی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ہونی چاہیے یا نہیں ،سوال یہ ہے کہ تبدیلی کی نوعیت کیا ہو اور اس کا مقصد کیا ہو۔ اگر مدارس اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے زبان، ابلاغ، قانون، سماجیات، سیاسیات اور ٹیکنالوجی کی بنیادی تعلیم شامل کریں تو یقیناً اس سے فارغین کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر اصلاح کے نام پر مدارس کو اپنی روح اور مقصد سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ بھی نقصان دہ ہوگا۔
مسلمانوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا المیہ تعلیمی پسماندگی، معاشی کمزوری، سیاسی بے وزنی اور فکری انتشار ہے۔ ان مسائل کا حل نہ صرف مدارس کے پاس ہے اور نہ صرف یونیورسٹیوں کے پاس۔ یہ ایک اجتماعی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے جس میں علماء، دانشور، ماہرینِ تعلیم، صنعت کار، صحافی اور نوجوان سب شریک ہوں۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی تحریر سے جزوی طور پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے بعض عمومی نتائج کو مبالغہ آمیز بھی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے اٹھائے ہوئے بنیادی سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو قومیں خود احتسابی سے بھاگتی ہیں، وہ تاریخ کے دھارے سے بھی باہر ہو جاتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم علماء کے دفاع یا مخالفت میں صف بندی کریں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں مسلم قیادت کیسی ہونی چاہیے۔ ایسی قیادت جو دین سے بھی واقف ہو اور دنیا سے بھی، جو مسجد کے منبر پر بھی مؤثر ہو اور پارلیمنٹ کے ایوان میں بھی، جو عربی اور اردو بھی جانتی ہو اور انگریزی و ہندی میں بھی اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہو، جو مذہبی شناخت کی محافظ بھی ہو اور قومی مسائل کی فہم بھی رکھتی ہو۔
اگر ہم یہ توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید ہماری تقدیر واقعی بدل سکتی ہے۔ اور اگر ہم صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے تو پھر ہماری کمزوریاں ہمارے مخالفین سے زیادہ ہمارا اپنا نقصان کرتی رہیں گی۔

علماء کرام کا فرض منصبی ہے وہ گمراہ کرنے والوں کی گمراہی و بدعت سے مسلمانوں کو آگاہ کریں

علماء کرام کا فرض منصبی ہے وہ گمراہ کرنے والوں کی گمراہی و بدعت سے مسلمانوں کو آگاہ کریں.

حضرت ابوتمیم جیشانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو آپ ﷺ کے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے ،‘‘جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ ﷺ تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ گمراہ کرنے والے رہنماؤں سے .‘‘

عن أبي تميم الجيشاني ، قال : سمعت أبا ذر يقول : كنت مخاصر النبي صلى الله عليه وسلم يوما إلى منزله، فسمعته يقول : " غير الدجال أخوف على أمتي من الدجال " فلما خشيت أن يدخل، قلت: يا رسول الله، أي شيء أخوف على أمتك من الدجال؟ قال : " الأئمة المضلين ".
【 مسند أحمد : جـ ٣٥ ، صـ ٢٢٣ ، رقم الحدیث : ٢١٢٩٧ ، ط : مؤسسة الرسالة 】
 *" اصلاحی اقتباسات "

کیا یہی اسلام ہے؟ایک بہن کے واپسی

کیا یہی اسلام ہے؟

کچھ دن پہلے کی بات ہے اور واقعہ یو پی  کے ضلع بجنور کی 1 بستی کا ہے

> صبح چلے گی تو شام تک پہنچے گی  
> کوشیں آخر کیسے انجام تک پہنچے گی  
> لبوں کی آزادی تو ہمارا بھی حق ہے  
> آواز اٹھے گی تبھی تو عوام تک پہنچے گی

ایک _بھگوا لو ٹریپ_ کے معاملے میں بجنور کے ہی ایک گاؤں جانا ہوا۔ ہمیں خبر ملی تھی کہ ایک لڑکی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ چلی گئی ہے۔ لیکن اس کے جانے کے 24 گھنٹے بعد ہی اسے ایک جگہ سے ڈھونڈ کر واپس لے آئے ہیں۔ 

مگر لڑکی ضد پر اڑی ہوئی تھی کہ اسے اسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ 
بہر حال ہم لڑکی کو سمجھانے اور معاملے کی گہرائی جاننے کی نیت سے، لڑکی کے والد سے اجازت لے کر ان کے گھر حاضر ہوئے۔

لڑکی کے والد دیکھنے میں بہت دیندار لگتے تھے۔ داڑھی، کرتا، جیب میں مسواک اور ہاتھ میں تسبیح تھی۔
باپ کے ساتھ میں بیٹھ کر باتیں کی
بات کو مختصر کر کے گھر والوں سے کہا: "لڑکی سے 5 منٹ تنہائی میں بات کرنی ہے"۔ 
اجازت ملی تو لڑکی سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ اس نے بھی ہم سے سوال جواب کیے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ بات کیسے شروع ہوئی تھی۔
پھر میں نے اس سے یہ شرط رکھی کہ میں اپ سے ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہوں گا اپ اس لڑکے کے ساتھ نہ جائیں اپ کی مرضی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بنا اس کو بولنے کا موقع دیے میں نے چند باتیں کی کہ اپ خود سمجھدار ہیں اور اگر اپ جانا چاہ رہی ہیں تو یقینا اپ کی کوئی مجبوری ہوگی جس کے ماں باپ عزت دار ہوں ان کی بیٹی بے حیا کیسے ہو سکتی ہے بے شرم کیسے ہو سکتی ہے اتنی نادان کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کے ساتھ چلی جائے اپ خود پڑھی لکھی ہیں اپ کو تو ایمان کی قیمت معلوم ہے اپ کو تو حضرت بلال کا واقعہ معلوم ہے اور بھی بہت ساری شخصیت کے بارے میں صحابہ کرام کے بارے میں اس کو بتایا اس کے جذبات کو ابھارا پھر وہ اپنے جذبات کو قابو نہ رکھ سکی اور اس نے تڑپ کر یہ سوال کیا

*"کیا یہی اسلام ہے؟"*

جی ہاں۔ اس لڑکی نے روتے ہوئے کہا: "بھائی جان سچ بتانا، کیا یہی اسلام ہے جس پر میرے گھر والے عمل کرتے ہیں؟"

میں نے پوچھا: "کیا ہوا؟"

اس نے بتایا:  
"میری والدہ نے 40 دن، 6 بار اللہ کے راستے میں لگائے ہیں۔ دو مرتبہ چار مہینے بھی لگائے ہیں میرے والد 16 سال سے تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کتنی مرتبہ وقت لگا چکے۔ دونوں تہجد کے پابند ہیں۔ لوگوں سے رویہ بہت اچھا ہے۔ لیکن گھر میں یہ ظالم ہیں۔

ہم صرف 2 بہنیں ہیں۔ بھائی 1 تھا اس کا انتقال ہو گیا۔  
ہماری عمر 26 اور 29 سال ہے۔ نکاح کا کوئی نام نہیں۔
ہمارے کچھ رشتہ داروں نے نکاح کے لیے  زیادہ کہا تو انہوں نے ان سے بولنا ہی چھوڑ دیا
گھر میں پیسے بھی نہیں، کام بھی نہیں کرتے۔ 2 عالموں کے رشتے خود آئے تھے، والد کے ساتھی نے بتایا تھا۔ لیکن صرف برادری الگ ہونے کی وجہ سے انکار کر دیا۔ کچھ جگہ یہ کہہ کر منع کر دیا کہ لڑکے کے پاس چھوٹا گھر ہے۔

اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ہمیں تنہا گھر میں چھوڑ کر دونوں اللہ کے راستے میں چلے جاتے ہیں۔ ہم نے کئی بار منع کیا کہ سامان کون لائے گا؟ لیکن والد کہتے ہیں: اللہ خود حفاظت کے لیے موجود ہے، فکر کی ضرورت نہیں۔

ایک بار دونوں تبلیغ میں چلے گئے۔ ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے۔ بینک میں پرابلم ہو گئی، پیسے نکل نہیں پائے۔ چونکہ ہم ان لائن پیمنٹ والد صاحب کے اکاؤنٹ سے کرتے تھے بینک والوں نے منع کر دیا کہ جس کا اکاؤنٹ ہے اس کا ہونا ضروری ہے اس لیے بینک سے بھی کچھ نہیں ہو پایا 
محلے سے مدد مانگی، کسی نے نہیں کی۔ یہ موبائل بھی گھر پر چھوڑ کر جاتے ہیں، بات نہیں کرتے کہ تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔

پھر میں نےاپنی دوست کو کال کی جو اس لڑکے کی بہن ہے۔ اس نے فوراً مدد کی۔ اپنے بھائی کے ساتھ گھر آئی اور کہا: کوئی پریشانی ہو تو بتانا۔ بس یہیں سے بات شروع ہوئی۔
وہ شام کے وقت میں گھر پہ ائے تھے اور اس روز زور کا طوفان ایا بارش ائی تو ہم نے ان کو گھر پر روک لیا رات کو ہماری کافی باتیں ہوئی ایک دوسرے کا نمبر بھی ہم نے لے لیا 
لڑکے کو موقع مل گیا مجھے اسلام کے خلاف کھڑا کرنے کا۔ ہم سے دن رات باتیں ہوئیں۔ ہم دونوں بہنیں اسلام چھوڑ چکی ہیں۔ میری بہن لڑکے کے ایک دوست سے بات کرتی ہے۔ ہمارا ارادہ ہندو رسم و رواج سے مندر میں شادی کرنے کا تھا۔

لیکن بھائی، آپ نے امید دلائی، جہنم سے ڈرایا۔ میرے ضمیر کو جگا دیا جو مر چکا تھا 
میں توبہ کرتی ہوں۔ اب کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاؤں گی جو اسلام اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہو۔"

یہ کہہ کر وہ بہن مجھ سے گلے لگ کر چیخ چیخ کر رونے لگی۔

*الحمدللہ* دونوں بہنوں نے توبہ کی، تجدید ایمان کیا اور 02/07/2026 کو والدین کے حق میں گواہی بھی دی۔

لیکن سوال ابھی بھی مجھے جھنجھوڑ رہا ہے: *کیا یہی اسلام ہے؟*

اسی لیے کہتا ہوں: علماء کی نگرانی میں تبلیغ کریں۔ 
ایسے گھر کے بارے میں کسی مفتی کا فتویٰ یہ نہیں ہوگا کہ "آپ تبلیغ میں جائیں"۔ 
بلکہ بیٹی کے ایمان و عزت کی حفاظت کرنا، حلال کمائی کر کے انہیں کھلانا، یہی بہت بڑا عمل ہے۔

اگر تبلیغ فرض ہے تو ایمان کی حفاظت کیا ہے؟ مال کی حفاظت کیا ہے؟ جان کی حفاظت کیا ہے؟  
بدبخت ہے وہ انسان جو تبلیغ نہیں کرتا، لیکن پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تبلیغ کیا ہے۔اج ہمارا معاملہ الگ ہو گیا مدرس کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ تبلیغ نہیں کرتا امام کو ہم سمجھتے ہیں وہ تبلیغ نہیں کرتا

وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہئیں

*وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔*

بہت ہو چکا مساجد کے در و دیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلا کے سنگِ مرمر پر، قمقموں، فانوس و جھومر پر، ایئر کنڈیشن اور ایئر کولرز پر، اور نفیس قالینوں پر خرچ۔

مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔
مگر کیسے۔۔۔؟
چند تجاویز پیش خدمت ہے۔

1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سینٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو۔

2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔

3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو۔

4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔

5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کے لیے عطیہ کرنے کی غرض سے مسجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔

6۔ آپس میں رشتے ناتے کرنے کے لیے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔

7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیے جانے کو ترجیح دی جائے۔

8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو۔

9۔ بڑی جامع مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو۔

10۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو جہاں اسلامی و عصری کتب مطالعے کے لیے دستیاب ہوں۔

قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں۔ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس کارِ خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں۔

ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے۔ ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں بھی موجود تھی۔

جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا، ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گئے اور بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

خدارا
اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدلیں۔

اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں بہترین انداز میں زندگی گزار سکیں۔
آمین

مار کے ساتھ حفظ کروانا

مار کے ساتھ حفظ کروانا کوئی تجربہ نہیں، بلکہ یہ اس وقت کا نتیجہ ہوتا ہے جب استاد خود محنت، طریقہ، رہنمائی اور نگرانی کے بغیر بچوں سے مکمل نتیجہ لینا چاہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب استاد توجہ دے تو بچے بغیر مار کے بھی پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔
مار کے بعد بچہ فریش نہیں ہوتا، وہ یا تو تکلیف میں ہوتا ہے یا غصے میں—اور ان دونوں حالتوں میں نہ کچھ یاد ہوتا ہے، نہ سمجھ آتی ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا تکلیف اور غصے میں انسان سیکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
جہاں ادب، احترام اور محبت ہو، وہیں یادداشت بنتی ہے۔
مار سے بچوں کے دل میں استاد کے لیے محبت نہیں، نفرت پیدا ہوتی ہے—اور نفرت اصلاح نہیں، بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔
سوچئے!
کسی بچے کو سب کے سامنے ذلیل کرنا، کان پکڑوانا، تھپڑ مارنا—
کیا اس سے اس کی عزت باقی رہتی ہے؟
نہیں، بلکہ وہ اندر سے سخت، ڈھیٹ اور بے حس ہو جاتا ہے۔
یہ فیصلہ کریں:
بچے کو خوف سے پڑھانا ہے یا شوق سے؟
خوف تو وہ روز کھا رہا ہے، اس کا فائدہ کہاں؟
ہم نے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جن پر مار کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
تو پھر سوال یہ ہے:
اثر جسم پر وار کا دیرپا ہوتا ہے یا دل و دماغ پر بات کا؟
ذرا خود سے پوچھیں:
اگر آپ کو مار پڑے تو آپ خوش ہوں گے یا تکلیف میں؟
اپنے طالبِ علمی کے دور میں جائیں—
مار وہاں پڑتی تھی جہاں نگرانی نہیں ہوتی تھی، اصلاح نہیں۔
ایک اور اہم بات:
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ بچے کن قربانیوں کے بعد مدرسے پہنچے ہیں؟
انہوں نے گھر، بہن بھائی، محلہ، گاؤں—سب کچھ قرآن کے لیے چھوڑا ہے۔
والدین نے کمائی کو چھوڑ کر قرآن کو ترجیح دی—
اور ہم ان کو مار کے ذریعے “انعام” دے رہے ہیں؟
آپ کہتے ہیں مار سے بچے پڑھتے ہیں—
لیکن سچ بتائیں:
اگر 10 بچے بھاگ گئے اور 5 رہ گئے،
تو جو 10 چلے گئے ان کا حساب کون دے گا؟
تجربہ یہ نہیں کہ آسان حل یعنی مار اپنا لیا جائے،
تجربہ یہ ہے کہ مسئلے کا درست، مؤثر اور رحمدل حل تلاش کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے اردگرد سے بکھر جاتے”
جب اللہ اپنے محبوب نبی ﷺ کو نرمی کی تعلیم دے رہا ہے،
تو ہم کس بنیاد پر سختی کو کامیابی سمجھیں؟
نبی کریم ﷺ نے محبت، شفقت اور حکمت سے تربیت فرمائی—
ہمیں بھی غور کرنا ہوگا۔
لہٰذا گزارش ہے:
مار کو ختم کریں، سختی چھوڑیں، توجہ، محبت اور حکمت اپنائیں—
اسی میں بچوں کی اصلاح ہے، اسی میں قرآن کی برکت ہے۔
اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

ماتحتوں سے کام لینے کا فن

🌷 ماتحتوں سے کام لینے کا فن🌷
ایک مرتبہ میرے محسن حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ کام کرنے کے دو طریقے ہیں ۔
👈 حاکمانہ طریقہ یعنی حکم والا انداز اور مزاج ۔
👈 حکیمانہ طریقہ یعنی حکمت والا انداز اور مزاج ۔ 
اگر حاکمانہ طریقے سے کام کرو گے تو اگر چہ کام جلدی ہوجائے لیکن آپ کا بنایا ہوا مدرس ٹوٹ جائے گا ۔
اور اگر حکیمانہ طریقے سے کام کرو گے تو اگر چہ کام میں دیر ہو جائے لیکن آپ کا بنایا ہوا مدرس جم جائے گا ۔
لہذا اپنے ماتحتوں کا خیال فرمائیں ۔ 

مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داریاں اور طریقۂ تعلیم میں ضروری تبدیلیاں

*مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داریاں اور طریقۂ تعلیم میں ضروری تبدیلیاں*
خطاب : حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم العالیہ 
پہلی بات:
دعاؤں کو صرف یاد کروانے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ بچوں کے دلوں میں یقین بھی بٹھایا جائے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی صحیح قدر و قیمت اور ان کی حقیقت کو واضح کیا جائے تاکہ بچے شعوری طور پر دین کو اپنائیں۔

دوسری بات:
تعلیم دیتے وقت ماحول کو ضرور پیشِ نظر رکھا جائے۔
جیسے مکی دور میں کفر کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنی سورتوں میں اس ماحول سے پیدا ہونے والے مفاسد کا رد کیا گیا، اسی طرح آج ہمیں بھی اپنے بچوں کو مثبت انداز میں اپنے ماحول سے آگاہ کرنا چاہیے۔
مثلاً "جی شری رام" جیسے نعروں کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور شان کو سمجھایا جائے اور عابد و معبود کے فرق کو واضح کیا جائے تاکہ توحید کا عقیدہ دلوں میں راسخ ہو جائے۔

ہمارا موجودہ ماحول ایسا ہے جس میں آنے والی نسلوں کے عقائد کو متاثر کرنے اور مشرکانہ افکار کو پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے، لہٰذا اسی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کو صحیح تعلیم دی جائے۔
اس مقصد کے لیے سلگتے مسائل کو سمجھانے کے لیے کیمپ یا اجتماعات کی شکل اختیار کی جائے، عقل و فطرت کی روشنی میں مفاسد کی خرابیاں بیان کی جائیں، اور مخاطب کی سطح کو مدنظر رکھا جائے۔

تیسری بات:
مکاتب میں جو چھوٹی سورتیں پڑھائی جاتی ہیں، ان کی صرف تلاوت نہ کروائی جائے بلکہ ان کا مفہوم بھی بچوں کو سمجھایا جائے۔
مثلاً سورۂ فاتحہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو واضح کیا جائے تاکہ بچے شعور کے ساتھ قرآن سے جڑیں۔

چوتھی بات (اہم):
بچوں کے اندر دین کی عظمت پیدا کی جائے۔
محض نقل سے بچہ عمل تو کر لیتا ہے، لیکن جب وہ عمل کی حقیقت کو جان لیتا ہے تو اس کے اندر اس عمل کی عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔
چونکہ یہ دور عقلیت کا ہے، اس لیے جدید تعلیم یافتہ بچوں کو اس انداز سے تعلیم دی جائے کہ وہ صرف ایمان کے درجے پر نہ رہیں بلکہ اطمینان کے درجے تک پہنچ جائیں۔
کیونکہ ایک کیفیت ایمان کی ہوتی ہے اور ایک اطمینان کی، اور اطمینان کا درجہ ایمان سے بلند ہوتا ہے۔

پانچویں بات:
اساتذہ بچوں پر سختی کرنے سے احتراز کریں۔
کسی حدیث میں یہ مذکور نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے تعلیم کی خاطر صحابہ کو مارا ہو، اور فقہاء کرام نے بھی اس کی اجازت نہیں دی ہے۔
(ایک تعزیر ہے اور دوسری تادیب؛ پہلی سزا کے لیے ہے اور دوسری تربیت کے لیے)

اس انداز سے پڑھایا جائے کہ بچوں میں تعلیم کی محبت پیدا ہو، نہ کہ مدرسہ جانے کا خوف۔

تعلیم کو دلچسپ بنایا جائے، مثلاً جو بچہ سبق اچھی طرح سنائے اسے انعام دیا جائے۔

بچوں کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے، جس کے ذریعے اساتذہ کو بھی انعامات دیے جائیں، جیسے امتیازی استاد کا اعزاز۔

استاد کو چاہیے کہ طالب علم کے ساتھ باپ جیسی محبت اور شفقت کا معاملہ کرے، جیسا کہ ہمارے اکابرین اور ائمہ کا اپنے شاگردوں کے ساتھ طرزِ عمل رہا ہے۔


چھٹی بات:
اساتذہ کو چاہیے کہ اپنی تنخواہ کا موازنہ کمرشل اداروں کے ملازمین سے نہ کریں، مثلاً یہ کہنا کہ فلاں چپراسی کی تنخواہ بھی مجھ سے زیادہ ہے، یہ اپنے مقام کو گھٹانا اور قلبی سکون کو ختم کرنا ہے۔
اگر یہ بے چینی زبان پر آ جائے تو امت میں استاد کی عظمت کم ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ انبیاء کا کام انبیاء کے مزاج کے موافق  کیا جائے تو اس کے فوائد و ثمرات کچھ اور ہی ہوتے ہیں.

(تنخواہ کے تعلق سے کچھ حل )

مدارس میں ایسا فنڈ قائم کیا جائے جو ہنگامی حالات میں اساتذہ کے لیے مددگار ثابت ہو۔

قناعت اختیار کی جائے، یعنی جو کچھ ملے اس پر اکتفا کیا جائے۔

دین کے معاملے میں اپنے سے بڑوں (اکابر و اساتذہ) کو دیکھا جائے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو۔


کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جن نعمتوں میں ہیں، وہ ہمارے اکابرین کو بھی حاصل نہیں تھیں۔

مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات


# 📜 خلاصۂ بیان: حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر صاحب قاسمی (دامت برکاتہم)
## 🌟 مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات
### ۱. معلّم کا کردار اور نمونۂ عمل
 * **مثال بنو، مسئلہ نہ بنو:** بعض اساتذہ اپنی کارگزاری کی وجہ سے خود ایک 'مسئلہ' بن جاتے ہیں، جنہیں سنبھالنا پڑتا ہے اور جن کی وجہ سے ادارے پر حرف آتا ہے۔ ایسے نہ بنیں! بلکہ ایسے بنیں کہ لوگ اور طلبہ آپ کی زندگی کو بطور 'مثال' پیش کریں اور بچے مستقبل میں آپ جیسا بننے کی تمنا کریں۔
 * **ملازم نہیں، انقلابی بنو:** جو استاد محض ایک 'ملازم' بن کر زندگی گزارتا ہے، وہ کبھی معاشرے میں انقلاب نہیں لا سکتا۔ اپنے معاملات اللہ سے سیدھے کیجیے اور اخلاص کے ساتھ کام کیجیے۔
### ۲. طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت
 * **بچے معصوم ہیں، تشدد سے بچیں:** جو طلبہ آپ کے پاس زیرِ تعلیم ہیں، وہ بالکل بے گناہ اور معصوم ہیں۔ ایک استاد خود گناہوں میں ملوث ہو کر ان بے گناہ بچوں پر ہاتھ اٹھائے، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔
 * **ماں جیسی تڑپ اور سزا کا انداز:** بچوں کو سزا دیتے وقت استاد کی کیفیت ایک شفیق ماں جیسی ہونی چاہیے۔ ماں بچے کو (اصلاح کے لیے) سزا تو دیتی ہے، لیکن تنہائی میں خود روتی ہے۔ استاد کے دل میں بھی بچوں کے لیے یہی درد ہونا چاہیے۔
 * **حلیہ سے متوحش نہ کریں:** مکتب کے چھوٹے بچوں کے دلوں میں داڑھی اور ٹوپی والے اسلامی حلیے سے وحشت، خوف یا دوری پیدا نہ ہونے دیں، بلکہ اپنے اخلاق سے انہیں قریب کریں۔
 * **کمزور بچوں کے لیے دعائیں:** جو بچے پڑھنے میں کمزور ہیں، تنہائی میں ان کا نام لے لے کر اللہ سے دعا کریں۔ یاد رکھیں، اس عمل میں بڑی طاقت ہے۔
### ۳. دعوت و تدریس کا مؤثر اسلوب
 * **سخت بات، میٹھا لہجہ:** سخت سے سخت بات بھی میٹھے اور نرم لہجے میں کہی جا سکتی ہے۔
> **ایک سبق آموز مثال:** ایک شخص شہد بیچتا تھا لیکن بدزبان تھا، اس کا شہد بھی نہ بکا۔ دوسرا شخص سرکہ بیچتا تھا مگر اس کی زبان شیریں تھی، اس کا سرکہ بھی بک گیا۔ لہذا طلبہ کے ساتھ ہمیشہ نرمی اختیار کریں۔
> 
 * **رٹانے سے زیادہ سمجھانے پر زور:** آج کے دور میں تحفیظ (رٹانے) سے زیادہ تفہیم (سمجھانے) اور میمورائز (یادداشت) سے زیادہ موٹیویٹ (حوصلہ افزائی) کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو کلمہ، ایمانِ مفصل اور چہل حدیث صرف رٹائیں نہیں، بلکہ ان کا مفہوم بھی ذہن نشین کرائیں۔
 * **فرصت سے بچیں:** "فرصت میں فساد ہے"۔ اس لیے نہ خود فارغ بیٹھیں اور نہ ہی اپنے طلبہ کو بے کار رہنے دیں۔
### ۴. محنت کا معاوضہ اور فکرِ آخرت
 * **اپنی محنت کو تنخواہ میں نہ تولیں:** جو استاد اپنی دینی محنت کو چند روپوں کی تنخواہ کے ترازو میں تولتا ہے، وہ اپنی محنت کو خود ذلیل کر دیتا ہے۔ یہ دنیا ایک مرتبہ کہے گئے *'سبحان اللہ'* کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں رکھتی (کیونکہ اس کا اجر دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے)، تو پھر اتنی بڑی دینی خدمت کا بدلہ اس فانی دنیا سے کیوں چاہنا؟ اپنی محنت کا سودا آخرت کے لیے اللہ سے کیجیے۔
 * **دنیا میں بدلہ لینے کا خوف:** سورہ احقاف کی آیت * (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا)* کے تحت ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں نہ دے دیا جائے۔ ہمارے اکابر (جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور مفتی سعید احمد پالنپوریؒ) نے تو بیت المال اور دارالعلوم کی تنخواہیں تک واپس لوٹا دیں کہ کہیں آخرت کا اجر کم نہ ہو جائے۔ اللہ کا قانون ہے کہ جو اس کی رضا کے لیے دنیا چھوڑتا ہے، اللہ اسے بہترین عطا فرماتا ہے۔
 * **مسجد یا مدرسے سے نکلنے کی حقیقی وجہ:** یہ تصور ہمیشہ ذہن میں رہے کہ اگر مجھے کسی مسجد یا ادارے سے نکالا گیا ہے، تو وہ کسی صدر یا کمیٹی نے نہیں نکالا، بلکہ وہ میری تنہائی کے گناہوں اور بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔
### ۵. شکوے شکایت کے بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس
 * **تنخواہ کا غم یا صفات کی کمی؟** آج اساتذہ کو تنخواہ کی کمی کا غم تو ہے، لیکن اپنی صفات کی کمی کا کوئی احساس نہیں۔ ہمیں ضرورتوں کے غم سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا غم ہونا چاہیے۔ اگر ہم فضولیات سے بچ جائیں، تو اللہ تعالی ضروریات پوری کرنے کے اسباب غیب سے پیدا فرما دیں گے۔
 * **مال کی کمی کا بہانہ ناپسندیدہ ہے:** ہم اکثر مال کی کمی کا رونا روتے ہیں اور اس چکر میں زندگی کے اہم کام چھوڑ دیتے ہیں۔ غور کیجیے: کیا مال کی کمی مطالعہ کرنے، کسی شیخ و مصلح سے رابطہ رکھنے یا اپنی بیوی کو دین سکھانے میں مانع ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں! لہذا مال کی کمی کا بہانہ بنا کر اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں۔
 * **دینی ماحول بہت بڑی نعمت ہے:** یہ پڑھنے پڑھانے کا جو ماحول ملا ہے، اسے غنیمت سمجھیں۔ اس ماحول نے اختیاری نہ سہی، تو اضطراری (مجبوری) کے طور پر ہی ہمیں کتنے گناہوں سے بچا رکھا ہے! اگر مدارس نہ ہوں تو فقہ و فتاویٰ کا کام کون کرے گا؟ اگر جمعہ اور فجر کی امامت کا نظام نہ ہو، تو کتنے علماء و حفاظ کی فجر باجماعت ادا ہوگی؟ اس لیے اس بنے بنائے ماحول کی قدر کریں۔
 * **خدمتِ دین کی لائن کو کبھی نہ چھوڑیں:** تنخواہ کی کمی کی وجہ سے اس لائن کو ہرگز نہ چھوڑیں۔ دینی ماحول سے نکلنا بہت آسان ہے، لیکن دوبارہ اس سے جڑنا انتہائی مشکل ہے۔
### ۶. اکابر کا ادب اور معذوروں سے سبق
 * **بڑوں کے عیوب تلاش کرنے کا انجام:** آج کل ہم تنظیموں کے اختلافات اور بے کار کے جھگڑوں میں پڑ کر ان اکابر اور علماء کی برائیاں پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں جنہوں نے ۳۰ یا ۴۰ سال دین کی خدمت کی ہے۔ یاد رکھیں! جو شخص اپنے بڑوں کے عیوب کے پیچھے لگ گیا، اس کی بدبختی آگئی۔
 * **معذور بچوں کے اسکولوں سے عبرت:** نابیناؤں اور معذور بچوں کے اسکولوں کے اساتذہ ان کے کپڑے صاف کرتے ہیں، ان کی ہر بات سنتے ہیں اور ان کے ماحول میں ڈھل کر انہیں پڑھاتے ہیں۔ جب لوگ دنیاوی تعلیم کے لیے معذوروں اور دیہاتیوں پر اتنی محنت کر سکتے ہیں، تو ہم دین کی تعلیم کے لیے اچھے اور صحت مند بچوں پر محنت کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ کے پاس آنے والا ہر بچہ انتہائی قیمتی ہے۔
 * **مطالعہ کے لیے اہم کتاب:** محیی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحبؒ کی لکھی ہوئی کتاب **"چار امام"** کا مستقل مطالعہ رکھیں۔ اس سے دل میں ائمہ عظام کی وقعت بیٹھے گی اور آپ طلبہ کی صحیح رہنمائی کر سکیں گے۔
### ۷. موجودہ دور کے چیلنجز اور گھر کی فکر
 * **تعلیم و تربیت کا آغاز اپنے گھر سے کریں:** آپ کے مکتب کا سب سے پہلا شاگرد آپ کی اپنی بیوی اور بچے ہیں۔ مفتی سعید احمد پالنپوریؒ نے اپنے گھر ہی میں بیوی اور بچوں کو حافظ بنایا۔ وہ بچوں کی شادی کے بعد انہیں ایک سال اپنے ساتھ رکھتے، پھر سامنے کسی گھر میں منتقل کر کے فرماتے: "ہم مرے نہیں ہیں، سامنے رہو اور زندگی گزارنا سیکھو، کمی بیشی ہم پوری کریں گے"۔
 * **امت کے بچوں کے ایمان کا نازک ترین وقت:** مفتی سلمان بجنوری صاحب نے موجودہ حالات کے تناظر میں بڑی فکر انگیز بات کہی ہے کہ: *"زمانہ ایسا آچکا ہے کہ اسکول سے واپس آنے کے بعد بچوں کو دوبارہ کلمہ پڑھانا پڑے گا"*۔
> **شاہ ولی اللہؒ کا پیغام:** حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے وفات کے وقت اپنے چاروں بیٹوں کو بلا کر فرمایا تھا: "بچو! میں اس ملک کے مسلمانوں کا ایمان تمہارے پاس گروی رکھ کر جا رہا ہوں، قیامت کے دن اس کا سوال کروں گا"۔ آج پھر وہی حالات ہیں، اس لیے مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔
> 
 * **موبائل کی تباہ کاریاں اور اخلاقیات:** اس زمانے کے بچے جوانی سے پہلے ہی بوڑھے (صلاحیتوں سے محروم) ہو رہے ہیں، موبائل نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس لیے بچوں کے صرف سبق کی نہیں، بلکہ ان کے اخلاق کی بھی فکر کریں اور ان کی تنہائیوں کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں۔
🤲 **دعا:** اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان قیمتی نصائح پر خلوصِ دل کے ساتھ عمل کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینؐ۔

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم