موجودہ حالات میں ایمان کی حفاظت اور آنے والی نسلوں کی تربیت کے لیے **سات اہم کاموں** پر زور دیا ہے، ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

مولانا بلال عبدالحئی حسنی ندوی نے موجودہ حالات میں ایمان کی حفاظت اور آنے والی نسلوں کی تربیت کے لیے **سات اہم کاموں** پر زور دیا ہے، ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

**1. مساجد میں مکاتب کا قیام:** 
مولانا کے مطابق یہ فرض ہے کہ ہر مسجد میں مکتب قائم کیا جائے جہاں بچوں کو بنیادی عقائد، نماز اور اللہ کے نبی ﷺ سے تعارف کرایا جائے،خاص طور پر آٹھ سال سے کم عمر کی بچیوں کو بھی مسجد کے مکتب میں بھیجنے کی تاکید کی گئی ہے۔

**2. اسلامی اسکولوں کا قیام:** 
موجودہ تعلیمی نظام کے خطرات (جیسے شرک اور الحاد) سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو اپنے ایسے اسکول بنانے چاہئیں جہاں 100 فیصد مسلمان بچے تعلیم حاصل کریں اور ان کا ایمان محفوظ رہے ۔

**3. خواتین اور طالبات کے لیے کونسلنگ سینٹرز:** 
بڑی بچیاں جو کالجوں میں پڑھتی ہیں یا ملازمت کرتی ہیں، ان کے لیے ہفتہ وار کونسلنگ سینٹرز بنانے کی ضرورت ہے ۔ وہاں معلمات انہیں دین سکھائیں اور ان کا اسلام پر اعتماد بحال کریں ۔

**4. مساجد میں درسِ قرآن اور خطابات کا نظام:** 
بڑوں اور نوجوانوں کی دینی تعلیم کے لیے مساجد میں باقاعدہ درسِ قرآن اور جمعہ کے خطابات کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں موجودہ دور کے فتنوں اور امراض کی نشاندہی کی جائے ۔

**5. چھوٹے بیت المال کا قیام:** 
غربت کی وجہ سے لوگ کبھی کبھی کفر تک پہنچ جاتے ہیں، اس لیے محلوں کی سطح پر بیت المال بنا کر مستحقین کی مالی مدد اور انہیں بلاسود قرض فراہم کرنے کا انتظام کرنا چاہیے تاکہ وہ شکاریوں کا شکار نہ بنیں۔

**6. پیامِ انسانیت کا کام:** 
غیر مسلموں (برادرانِ وطن) میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے انسانیت کی خدمت کرنا ، بھوکوں کو کھانا کھلانا، مریضوں کی عیادت اور انسانی ہمدردی کے کاموں کے ذریعے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا ضروری ہے ۔

**7. غفلت کا خاتمہ اور فکر مندی:** 
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو کر نہ بیٹھیں ،حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرح اپنی نسلوں کے ایمان کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہیں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر عملی کام شروع کریں

مولانا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم بیدار نہ ہوئے اور ان کاموں کو نہ کیا تو موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے ارتداد کے فتنے ہماری نسلوں کو نگل سکتے ہیں

صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی

، 
صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی، کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا✦ ✦ قبر کا راز ✦ ✦یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ شام کا ملک تہذیب و تمدن کی نئی منزلیں طے کر رہا تھا مگر دمشق کی پرانی بستیوں میں اب بھی وہی کہانیاں گونجا کرتی تھیں جو صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کے گرد گھومتی تھیں۔قلعہ دمشق کے قریب اموی مسجد کے صحن میں ایک چھوٹا سا مقبرہ تھا۔ پیلے پتھروں سے بنا ہوا، جس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی۔ اس مقبرے کے اندر کوئی تعمیراتی شاہکار نہیں تھا، نہ سنہری دروازے، نہ قیمتی پتھروں کی جڑاؤ کاری۔ بس ایک سادہ سی قبر، جس پر ہمیشہ تازہ پھول رکھے جاتے۔ اور قبر کے اوپر لکڑی کا ایک پرانا تختہ، جس پر نوشتہ تھا:"ہذا قبر السلطان الملک الناصر صلاح الدین"یہاں تک کہ اس قبر کے متولی بھی نہیں جانتے تھے کہ اس مٹی کے نیچے کون سی حقیقت چھپی ہے۔ مگر ۱۹۵۰ء کا وہ دن تھا جب تاریخ کے اوراق پلٹنے والے تھے۔شام کی حکومت نے قلعہ دمشق کی مرمت کا فیصلہ کیا۔ ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم دمشق پہنچی، جس میں فرانس، برطانیہ اور مصر کے نامور ماہرین شامل تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ مقبرہ صلاح الدین ایوبیؒ کا نہیں، بلکہ کسی اور شخص کا ہے۔ اصل قبر کہیں اور ہے۔"یہ محض ایک علامتی مقبرہ ہے،" فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے نے کہا۔ "صلاح الدین جیسی عظیم شخصیت کی تدفین اتنی سادگی سے ممکن نہیں۔"دمشق کی گلیاں اس بحث سے گرم تھیں۔ بوڑھے کہانی سنانے والے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر کہتے کہ "یہ فرنگی پھر مسلمانوں کی تاریخ مٹانے آئے ہیں۔" مگر سائنسی شہادتوں کے سامنے عقیدت بھی خاموش تھی۔آخرکار فیصلہ ہوا کہ مقبرہ کھولا جائے گا۔۲۵ نومبر ۱۹۵۰ء۔صبح کا وقت تھا۔ اموی مسجد کے صحن میں غیر معمولی رونق تھی۔ حکومتی اہلکار، ماہرین آثار، چند نامور صحافی اور وہاں موجود ہر شخص کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ مگر مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع نہیں ہو سکی تھی۔ ان کے دلوں میں دھڑکنے والی عقیدت اس منظر کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی ان کے سلطان کی قبر کو ہاتھ لگائے۔چنانچہ صرف چند افراد اس کارروائی کے گواہ بنے۔مقبرے کا دروازہ کھلا۔ اندرونی حصہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا صدیوں سے تھا—سادہ، بے تکلف، دنیا کی کسی بھی شان و شوکت سے عاری۔ فرش پر پرانے قالین بچھے تھے، دیواروں پر قرآنی آیات لکھی تھیں۔ اور بیچوں بیچ وہ قبر جس کے نیچے ایک عظیم سپاٹے کی ہڈیاں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ماہرین نے کام شروع کیا۔ پتھر ہٹائے گئے، مٹی ہٹائی گئی۔ قبر کی گہرائی میں ایک لکڑی کا صندوق ملا، جو مکمل طور پر گل سڑ چکا تھا۔ اس کے نیچے کفن میں لپٹی ہوئی ایک لاش تھی۔مگر جیسے ہی کفن کا ایک کونا ہٹایا گیا، وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں رک گئیں۔کفن میں لپٹی لاش بالکل تازہ تھی۔فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے اپنی عینکیں صاف کیں، پھر دوبارہ دیکھا۔ لاش پر گلنے سڑنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔ جلد ابھی تک برقرار تھی، چہرے کے نقوش واضح تھے، داڑھی کے بال موجود تھے۔"یہ ناممکن ہے!" ان کی آواز قبرستان کی خاموشی میں گونجی۔ایک مصری ماہر نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کفن کو مزید ہٹایا۔ لاش کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے—وہی طریقہ جس سے مسلمان میت کو دفناتے ہیں۔ انگلیوں کی پوروں پر مہندی کے نشان تھے، گویا ابھی کل ہی لگائی گئی ہو۔کمرے میں سناٹا تھا۔ کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔پھر دمشق کے ایک بزرگ عالم جو وہاں موجود تھے، آگے بڑھے۔ ان کی عمر تقریباً اسی برس تھی، داڑھی سفید، چہرے پر نور تھا۔ انہوں نے کفن کو مکمل طور پر ہٹانے سے منع کر دیا۔"بس کرو،" ان کی آواز میں عجیب سا وقار تھا۔ "اب تم دیکھ چکے۔ جو دیکھنا تھا۔"فرانسیسی ماہر نے احتجاج کیا۔ "لیکن ہمیں تحقیق کرنی ہے، کاربن ڈیٹنگ کرنی ہے، یہ ثابت کرنا ہے کہ...""کیا ثابت کرنا ہے؟" بزرگ عالم نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔ "تم اس شخص کے بارے میں کیا ثابت کرو گے جس نے خود کہا تھا کہ میری تجہیز و تکفین کے لیے بھی رقم نہیں ہو گی؟"کمرے میں ایک اور خاموشی چھا گئی۔پھر بزرگ عالم نے وہ کام کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔وہ سجدے میں گر گئے۔ان کے ماتھے نے اس فرش کو چھوا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے مٹی ہٹائی گئی تھی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ان کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی لفظ تھا: "اللہ... اللہ..."وہاں موجود ہر شخص—مسلمان اور غیر مسلم—دیکھتا رہ گیا۔ پھر ایک ایک کر کے سب کے گھٹنے زمین کو چھونے لگے۔ فرانسیسی ماہر ڈیوڈ نے بھی اپنا سر جھکا لیا۔ وہ سائنسدان تھا، مومن نہیں تھا، مگر اس منظر کی ہیبت اسے سجدے میں نہیں تو کم از کم خاموشی میں ضرور لے آئی۔کچھ دیر بعد بزرگ عالم اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ صلاح الدین ایوبیؒ کی وصیت تھی کہ ان کی قبر سادہ ہو، کوئی مزار نہ بنے، کوئی تعمیر نہ ہو۔ مگر وقت کے بادشاہوں نے عقیدت میں یہ مقبرہ بنا دیا۔ شاید اسی لیے اللہ نے اپنے نیک بندے کی حفاظت کا یہ طریقہ چنا۔کفن کو دوبارہ ٹھیک سے لپیٹا گیا، مٹی ڈالی گئی، پتھر رکھے گئے۔ مگر وہ دن تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف میں لکھا گیا۔وہاں موجود ایک صحافی نے بعد میں لکھا:"میں نے اپنی زندگی میں کئی عجائبات دیکھے، کئی دریافتوں کی روداد لکھی، مگر اس دن جو دیکھا، وہ کسی سائنس کی کتاب میں نہیں ملے گا۔ 600 سال گزرنے کے بعد بھی ایک لاش ویسی ہی تازہ تھی جیسے ابھی کل دفنائی گئی ہو۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس شخص کی عظمت کو نہیں مٹا سکتی جس نے زندگی بھر اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکایا، اور جس کی وفات پر اس کا رب خود اس کی حفاظت کا ذریعہ بنا۔"آج بھی دمشق میں جب کوئی بوڑھا صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا قصہ سناتا ہے تو وہ اس دن کا ذکر ضرور کرتا ہے جب قبر کھولی گئی۔ اور سننے والوں کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ جاتی ہے۔کیونکہ کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ثبوتوں سے نہیں، بصیرتوں سے دیکھی جاتی ہیں۔اور صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا وہ دن ایک ایسی ہی بصیرت تھی—جو صرف انہیں ملی جنہوں نے آنکھوں سے نہیں، دل سے دیکھا۔---خلاصہ: وہ شخص جس نے زندگی بھر دنیا کی شان و شوکت ٹھکرائی، اس کی وفات کے 600 سال بعد بھی اللہ نے اس کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا کہ دیکھنے والے سجدے میں گر پڑے۔ سچائی کا کفن کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ 

ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

✍️ مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی

تراویح سنانے کے خواہش مند بہت سے حفاظ پریشان ہیں کہ انھیں مساجد نہیں مل رہیں، ایسے حفاظ کی خدمت میں عرض ہے کہ صحیح احادیث کی روشنی میں تراویح کی گھروں میں ادائیگی میں زیادہ ثواب ہے اس لیے وہ مسجد نہ ملنے پر کبیدہ خاطر نہ ہوں، اپنے یا کسی اور کے گھ پر تراویح کا اہتمام کریں. ان شاء اللہ ثواب کچھ زیادہ ہی ملے گا.

گھر پر تراویح کا باجماعت اہتمام اور بھی کئی پہلوؤں سے مفید ہے، اس کے نتیجہ میں گھر میں بہت مبارک ماحول بنتا ہے، جس کی ترغیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیا کرتے تھے، پھر اس کی برکت سے خواتین کو بھی رمضان کی راتوں میں لمبی نمازیں پڑھنے کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے.
.............................................................................

گزشتہ برس رمضان سے پہلے یہ مختصر تحریر لکھی تو متعدد حضرات اہل علم نے اس پر استدراک کیا، اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ اپنے موقف کے دلائل بھی عرض کردیے جائیں، اس لیے ذیل کی تحریر لکھی گئی تھی جو پیش خدمت ہے:

متعدد صحیح احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت منقول ہے کہ فرض نمازوں کے علاوہ بقیہ تمام نمازیں گھروں میں پڑھی جائیں، کہ اس کا ثواب زیادہ ہے، تراویح کی اصل کے طور پر جو حدیث نقل کی جاتی ہے اس کی بھی ایک روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں، یعنی خاص تراویح کے سیاق میں:

"عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ؛ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ". (بخاری: 731)

غالبا یہی وجہ تھی کہ جب حضرت عمر نے مسجد میں باقاعدہ جماعت کا نظام قائم فرمایا تو اس سلسلہ کی موطأ کی مشہور روایت کے مطابق وہ خود اس جماعت میں شریک نہ تھے، الفاظ ملاحظہ ہوں:
"عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَانِي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ : نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ....." (موطأ: 301)

اور غالبا اسی وجہ سے حضرت ابی بن کعب جن کو حضرت عمر نے تراویح کا امام بنایا تھا وہ بھی آخری عشرہ میں یہ خدمت انجام نہ دیتے، اور آخری عشرہ میں نماز تراویح کھر پر ہی پڑھتے، سنن ابی داود کی روایت ملاحظہ ہو:

" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً،..... فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ : أَبَقَ أُبَيٌّ. (1429)

وضاحت: مساجد میں تراویح کا انتظام واہتمام یقینا عہد صحابہ سے چلا آرہا عمل ہے، اس لیے وہ ایک سنت ہے، اور اس کا جاری رہنا ضروری ولازمی ہے، یہاں جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے وہ صرف ان لوگوں کی بابت ہے جو گھروں میں یہ نماز بکمال اہتمام پڑھ سکتے ہوں، کہ ان کے لیے اس نماز کا گھروں می‌ پڑھنا کیا حکم رکھتا ہے؟

حبیب احمد مشہور الحدادؒاور آپ کی زیارت

حبیب احمد مشہور الحدادؒ اس وقت تک مدینہ منورہ میں داخل نہ ہوتے تھے جب تک خواب میں رسولِ اکرم ﷺ سے داخلے کی اجازت نہ پا لیتے، اور نہ ہی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے جب تک انہیں رخصت کی اجازت نہ ملتی۔ یہاں تک کہ ایک سال انہوں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا، جنہوں نے فرمایا:
“میرے پیارے بیٹے! ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب جب چاہو مدینہ میں داخل ہو اور جب چاہو باہر جا سکو۔”

یہ عظیم ہستی میرے سب سے بڑے رول ماڈلز میں سے ایک ہے۔ تین لاکھ سے زائد افراد نے حبیب احمد مشہور الحدادؒ کے اخلاق، تقویٰ اور مجالس کے ذریعے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے دنیا کے انتہائی دور دراز علاقوں میں اسلام کی دعوت پہنچائی۔ دعوتِ دین کے لیے انہوں نے سواحیلی زبان روانی کے ساتھ سیکھ لی۔

حبیب احمدؒ اپنے گھر کے باہر بیٹھتے، اور جب کوئی غیر مسلم وہاں سے گزرتا تو محبت سے اسے چائے کے لیے اندر بلا لیتے اور نہایت شفقت اور نرمی سے گفتگو کرتے۔ لوگ چائے کا کپ ختم بھی نہ کر پاتے تھے کہ وہ کہہ دیتے:
“لا إله إلا الله محمد رسول الله ﷺ”

وہ تہجد کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ حتیٰ کہ بیماری کے عالم میں بھی انہوں نے کسی پر دروازہ بند نہیں کیا۔ ان کا گھر ہفتے کے ساتوں دن ہر شخص کے لیے کھلا رہتا تھا۔

ان کی زندگی اس مبارک ذات ﷺ کی کامل جھلک تھی جن کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے اعلیٰ ترین درجات عطا فرمائے۔

🌷 نماز کا طریقہ 🌷

🌷 نماز کا طریقہ 🌷

ہمارے مکاتب کے نصاب میں ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ بچوں کو نماز سکھاءیں ۔
اس کے لیے 6 کام نہایت ضروری ہیں ۔
👈 سب سے پہلے وظائف نماز صحت کے ساتھ یاد کرائیں ۔
👈 مدرس صاحب خود نماز پڑھ کر دکھائیں
👈 ہفتہ میں ایک بار نماز کی عملی مشق کروائیں یعنی بچوں کی نماز سنیں ۔
👈 فضائل یعنی وعدہ اور وعید کے ذریعہ نماز کی ترغیب دیتے رہے ۔
👈 نماز کی ڈائری بنا کر نماز کی حاضری لیں اور کارگزاری لیں ۔ 
👈 بچوں کو نمازی بنانے کے لیے دعا کرتے رہیں ۔
فقط

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم