مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات


# 📜 خلاصۂ بیان: حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر صاحب قاسمی (دامت برکاتہم)
## 🌟 مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات
### ۱. معلّم کا کردار اور نمونۂ عمل
 * **مثال بنو، مسئلہ نہ بنو:** بعض اساتذہ اپنی کارگزاری کی وجہ سے خود ایک 'مسئلہ' بن جاتے ہیں، جنہیں سنبھالنا پڑتا ہے اور جن کی وجہ سے ادارے پر حرف آتا ہے۔ ایسے نہ بنیں! بلکہ ایسے بنیں کہ لوگ اور طلبہ آپ کی زندگی کو بطور 'مثال' پیش کریں اور بچے مستقبل میں آپ جیسا بننے کی تمنا کریں۔
 * **ملازم نہیں، انقلابی بنو:** جو استاد محض ایک 'ملازم' بن کر زندگی گزارتا ہے، وہ کبھی معاشرے میں انقلاب نہیں لا سکتا۔ اپنے معاملات اللہ سے سیدھے کیجیے اور اخلاص کے ساتھ کام کیجیے۔
### ۲. طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت
 * **بچے معصوم ہیں، تشدد سے بچیں:** جو طلبہ آپ کے پاس زیرِ تعلیم ہیں، وہ بالکل بے گناہ اور معصوم ہیں۔ ایک استاد خود گناہوں میں ملوث ہو کر ان بے گناہ بچوں پر ہاتھ اٹھائے، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔
 * **ماں جیسی تڑپ اور سزا کا انداز:** بچوں کو سزا دیتے وقت استاد کی کیفیت ایک شفیق ماں جیسی ہونی چاہیے۔ ماں بچے کو (اصلاح کے لیے) سزا تو دیتی ہے، لیکن تنہائی میں خود روتی ہے۔ استاد کے دل میں بھی بچوں کے لیے یہی درد ہونا چاہیے۔
 * **حلیہ سے متوحش نہ کریں:** مکتب کے چھوٹے بچوں کے دلوں میں داڑھی اور ٹوپی والے اسلامی حلیے سے وحشت، خوف یا دوری پیدا نہ ہونے دیں، بلکہ اپنے اخلاق سے انہیں قریب کریں۔
 * **کمزور بچوں کے لیے دعائیں:** جو بچے پڑھنے میں کمزور ہیں، تنہائی میں ان کا نام لے لے کر اللہ سے دعا کریں۔ یاد رکھیں، اس عمل میں بڑی طاقت ہے۔
### ۳. دعوت و تدریس کا مؤثر اسلوب
 * **سخت بات، میٹھا لہجہ:** سخت سے سخت بات بھی میٹھے اور نرم لہجے میں کہی جا سکتی ہے۔
> **ایک سبق آموز مثال:** ایک شخص شہد بیچتا تھا لیکن بدزبان تھا، اس کا شہد بھی نہ بکا۔ دوسرا شخص سرکہ بیچتا تھا مگر اس کی زبان شیریں تھی، اس کا سرکہ بھی بک گیا۔ لہذا طلبہ کے ساتھ ہمیشہ نرمی اختیار کریں۔
 * **رٹانے سے زیادہ سمجھانے پر زور:** آج کے دور میں تحفیظ (رٹانے) سے زیادہ تفہیم (سمجھانے) اور میمورائز (یادداشت) سے زیادہ موٹیویٹ (حوصلہ افزائی) کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو کلمہ، ایمانِ مفصل اور چہل حدیث صرف رٹائیں نہیں، بلکہ ان کا مفہوم بھی ذہن نشین کرائیں۔
 * **فرصت سے بچیں:** "فرصت میں فساد ہے"۔ اس لیے نہ خود فارغ بیٹھیں اور نہ ہی اپنے طلبہ کو بے کار رہنے دیں۔
### ۴. محنت کا معاوضہ اور فکرِ آخرت
 * **اپنی محنت کو تنخواہ میں نہ تولیں:** جو استاد اپنی دینی محنت کو چند روپوں کی تنخواہ کے ترازو میں تولتا ہے، وہ اپنی محنت کو خود ذلیل کر دیتا ہے۔ یہ دنیا ایک مرتبہ کہے گئے *'سبحان اللہ'* کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں رکھتی (کیونکہ اس کا اجر دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے)، تو پھر اتنی بڑی دینی خدمت کا بدلہ اس فانی دنیا سے کیوں چاہنا؟ اپنی محنت کا سودا آخرت کے لیے اللہ سے کیجیے۔
 * **دنیا میں بدلہ لینے کا خوف:** سورہ احقاف کی آیت * (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا)* کے تحت ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں نہ دے دیا جائے۔ ہمارے اکابر (جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور مفتی سعید احمد پالنپوریؒ) نے تو بیت المال اور دارالعلوم کی تنخواہیں تک واپس لوٹا دیں کہ کہیں آخرت کا اجر کم نہ ہو جائے۔ اللہ کا قانون ہے کہ جو اس کی رضا کے لیے دنیا چھوڑتا ہے، اللہ اسے بہترین عطا فرماتا ہے۔
 * **مسجد یا مدرسے سے نکلنے کی حقیقی وجہ:** یہ تصور ہمیشہ ذہن میں رہے کہ اگر مجھے کسی مسجد یا ادارے سے نکالا گیا ہے، تو وہ کسی صدر یا کمیٹی نے نہیں نکالا، بلکہ وہ میری تنہائی کے گناہوں اور بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔
### ۵. شکوے شکایت کے بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس
 * **تنخواہ کا غم یا صفات کی کمی؟** آج اساتذہ کو تنخواہ کی کمی کا غم تو ہے، لیکن اپنی صفات کی کمی کا کوئی احساس نہیں۔ ہمیں ضرورتوں کے غم سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا غم ہونا چاہیے۔ اگر ہم فضولیات سے بچ جائیں، تو اللہ تعالی ضروریات پوری کرنے کے اسباب غیب سے پیدا فرما دیں گے۔
 * **مال کی کمی کا بہانہ ناپسندیدہ ہے:** ہم اکثر مال کی کمی کا رونا روتے ہیں اور اس چکر میں زندگی کے اہم کام چھوڑ دیتے ہیں۔ غور کیجیے: کیا مال کی کمی مطالعہ کرنے، کسی شیخ و مصلح سے رابطہ رکھنے یا اپنی بیوی کو دین سکھانے میں مانع ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں! لہذا مال کی کمی کا بہانہ بنا کر اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں۔
 * **دینی ماحول بہت بڑی نعمت ہے:** یہ پڑھنے پڑھانے کا جو ماحول ملا ہے، اسے غنیمت سمجھیں۔ اس ماحول نے اختیاری نہ سہی، تو اضطراری (مجبوری) کے طور پر ہی ہمیں کتنے گناہوں سے بچا رکھا ہے! اگر مدارس نہ ہوں تو فقہ و فتاویٰ کا کام کون کرے گا؟ اگر جمعہ اور فجر کی امامت کا نظام نہ ہو، تو کتنے علماء و حفاظ کی فجر باجماعت ادا ہوگی؟ اس لیے اس بنے بنائے ماحول کی قدر کریں۔
 * **خدمتِ دین کی لائن کو کبھی نہ چھوڑیں:** تنخواہ کی کمی کی وجہ سے اس لائن کو ہرگز نہ چھوڑیں۔ دینی ماحول سے نکلنا بہت آسان ہے، لیکن دوبارہ اس سے جڑنا انتہائی مشکل ہے۔
### ۶. اکابر کا ادب اور معذوروں سے سبق
 * **بڑوں کے عیوب تلاش کرنے کا انجام:** آج کل ہم تنظیموں کے اختلافات اور بے کار کے جھگڑوں میں پڑ کر ان اکابر اور علماء کی برائیاں پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں جنہوں نے ۳۰ یا ۴۰ سال دین کی خدمت کی ہے۔ یاد رکھیں! جو شخص اپنے بڑوں کے عیوب کے پیچھے لگ گیا، اس کی بدبختی آگئی۔
 * **معذور بچوں کے اسکولوں سے عبرت:** نابیناؤں اور معذور بچوں کے اسکولوں کے اساتذہ ان کے کپڑے صاف کرتے ہیں، ان کی ہر بات سنتے ہیں اور ان کے ماحول میں ڈھل کر انہیں پڑھاتے ہیں۔ جب لوگ دنیاوی تعلیم کے لیے معذوروں اور دیہاتیوں پر اتنی محنت کر سکتے ہیں، تو ہم دین کی تعلیم کے لیے اچھے اور صحت مند بچوں پر محنت کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ کے پاس آنے والا ہر بچہ انتہائی قیمتی ہے۔
 * **مطالعہ کے لیے اہم کتاب:** محیی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحبؒ کی لکھی ہوئی کتاب **"چار امام"** کا مستقل مطالعہ رکھیں۔ اس سے دل میں ائمہ عظام کی وقعت بیٹھے گی اور آپ طلبہ کی صحیح رہنمائی کر سکیں گے۔
### ۷. موجودہ دور کے چیلنجز اور گھر کی فکر
 * **تعلیم و تربیت کا آغاز اپنے گھر سے کریں:** آپ کے مکتب کا سب سے پہلا شاگرد آپ کی اپنی بیوی اور بچے ہیں۔ مفتی سعید احمد پالنپوریؒ نے اپنے گھر ہی میں بیوی اور بچوں کو حافظ بنایا۔ وہ بچوں کی شادی کے بعد انہیں ایک سال اپنے ساتھ رکھتے، پھر سامنے کسی گھر میں منتقل کر کے فرماتے: "ہم مرے نہیں ہیں، سامنے رہو اور زندگی گزارنا سیکھو، کمی بیشی ہم پوری کریں گے"۔
 * **امت کے بچوں کے ایمان کا نازک ترین وقت:** مفتی سلمان بجنوری صاحب نے موجودہ حالات کے تناظر میں بڑی فکر انگیز بات کہی ہے کہ: *"زمانہ ایسا آچکا ہے کہ اسکول سے واپس آنے کے بعد بچوں کو دوبارہ کلمہ پڑھانا پڑے گا"*۔
> **شاہ ولی اللہؒ کا پیغام:** حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے وفات کے وقت اپنے چاروں بیٹوں کو بلا کر فرمایا تھا: "بچو! میں اس ملک کے مسلمانوں کا ایمان تمہارے پاس گروی رکھ کر جا رہا ہوں، قیامت کے دن اس کا سوال کروں گا"۔ آج پھر وہی حالات ہیں، اس لیے مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔
 * **موبائل کی تباہ کاریاں اور اخلاقیات:** اس زمانے کے بچے جوانی سے پہلے ہی بوڑھے (صلاحیتوں سے محروم) ہو رہے ہیں، موبائل نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس لیے بچوں کے صرف سبق کی نہیں، بلکہ ان کے اخلاق کی بھی فکر کریں اور ان کی تنہائیوں کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں۔
🤲 **دعا:** اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان قیمتی نصائح پر خلوصِ دل کے ساتھ عمل کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینؐ۔

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم