یہ ایک بہت کڑوی حقیقت ہے کہ تعلیمی و تربیتی اداروں، بالخصوص مدارس میں سارا زور اساتذہ کی کارکردگی اور ان کی قربانیوں پر ہوتا ہے، جبکہ نظام چلانے والے 'ذمہ داران' خود کو محاسبے سے بالاتر سمجھ لیتے ہیں۔
ایک مدرسے کی ترقی کا راز صرف محنتی اساتذہ میں نہیں، بلکہ صالح اور بااخلاق ذمہ دار میں چھپا ہوتا ہے۔ یہاں ذمہ داران کے لیے کچھ اصلاحی اور فکر انگیز جملے درج ہیں:
1. کرسی، اقتدار نہیں بلکہ 'امانت' ہے
عہدہ آزمائش ہے۔ذمہ دار یہ یاد رکھیں کہ مدرسے کی کرسی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ اساتذہ آپ کے ملازم نہیں بلکہ دین کے کام میں آپ کے شریکِ سفر ہیں۔
خادم بنیں، حاکم نہیں، حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا تھا کہ "میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں"۔ اگر ذمہ دار میں عاجزی نہیں تو وہ ادارہ مٹی کا ڈھیر ہے۔
2. احتساب کا رخ اپنی طرف بھی کریں
وعظ سے پہلے عمل اساتذہ کو پابندیِ وقت کی نصیحت کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ کیا ذمہ دار خود وقت کا پابند ہے؟ زبان کے اثر کا تعلق عمل کی پختگی سے ہے۔
جوابدہی کا خوف اساتذہ سے کارکردگی کی رپورٹ لینے والے یہ نہ بھولیں کہ ایک دن انہیں ربِ کائنات کو "حقوق العباد" کی رپورٹ دینی ہے، جہاں ہر اس استاد کا سوال ہوگا جس کی حق تلفی کی گئی۔
3. اساتذہ کی معاشی فکر سب سے بڑی نصیحت
خالی پیٹ تقویٰ مشکل ہے ۔ اساتذہ کو قناعت اور صبر کی نصیحت کرنا آسان ہے، لیکن ان کے گھر کے چولہے کی فکر کرنا ذمہ دار کا اولین فریضہ ہے۔
سفید پوشی کا بھرم استاد اپنی ضرورت کسی سے کہہ نہیں سکتا۔ ایک بہترین ذمہ دار وہ ہے جو استاد کے مانگنے سے پہلے اس کی ضرورت محسوس کرے اور اسے باوقار تنخواہ دے۔
4. اخلاقی رویہ اور نفسیات
عزتِ نفس کا جنازہ نہ نکالیں ۔ اساتذہ کے سامنے رعب جھاڑنا یا طلبہ کے سامنے ان کی سرزنش کرنا ان کی شخصیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
جاسوسی کا نظام ختم کریں مدرسے کو 'انٹیلی جنس ایجنسی' نہ بنائیں جہاں اساتذہ ایک دوسرے کے خلاف کان بھریں۔ ایک اچھا ذمہ دار اپنے اساتذہ پر اعتماد کرتا ہے، شک نہیں۔
5. انصاف اور شفافیت
پسند ناپسند سے بالا تر کسی ایک استاد کو نوازنا اور دوسرے کو نظر انداز کرنا ادارے میں حسد اور بے برکتی پیدا کرتا ہے۔
چاپلوسی کی حوصلہ شکنی جو ذمہ دار چاپلوسوں کو قریب رکھتا ہے، وہ مخلص اساتذہ کو خود سے دور کر دیتا ہے۔
ایک فکر انگیز بات:
جس ادارے کا ذمہ دار اساتذہ کے لیے سایہ بننے کے بجائے دھوپبن جائے، وہاں سے علم تو تقسیم ہو سکتا ہے، لیکن برکت اور نور رخصت ہو جاتا ہے۔