Showing posts with label منتخب مضامین. Show all posts
Showing posts with label منتخب مضامین. Show all posts

پندرہ شعبان اور شب برات

*🎑پندرہ شعبان اور شب برأت🎑*
*(کچھ ضروری باتیں اور وضاحتیں)*

*از قلم: محمد زبیر ندوی*
مرکز البحث والافتاء ممبئی
رابطہ: 9029189288

شعبان المعظم کا مہینہ ان مہینوں میں سے ہے جن کی فضیلت و اہمیت مسلم ہے، اس مہینے میں خیر و برکت کے دروازے وا کر دیئے جاتے ہیں، برکتیں اتاری جاتی ہیں، بندوں کے اعمال بارگاہ خداوندی میں پیش کئے جاتے ہیں، دعائیں اور مناجاتیں خصوصی طور پر قبول ہوتی ہیں؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس مہینے میں نماز و روزہ اور نیک اعمال کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ شعبان کے مہینے میں کثرت سے روز رکھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے حضور اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں(ابن ماجہ و طبرانی)۔ اس لئے اس مہینے میں کار خیر اور عبادات بطورِ خاص روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے اور اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے خوب سے خوب اس ماہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چنانچہ اس مہینے میں شب برأت اور پندرہ شعبان کا روزہ عوام الناس میں خاصی دلچسپی کے باعث ہیں اور اس سلسلے میں کافی شد و مد پائی جاتی ہے؛ اس لئے ان سے متعلق چند ضروری وضاحتیں پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

پندرہ شعبان کی جو رات ہے اسی کو "شب برأت" کہا جاتا ہے، شب برأت کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں اللہ کے بندوں کو جہنم سے براءت اور خلاصی حاصل ہوتی ہے، چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: شعبان جب آدھا ہو جاتا ہے تو اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ پرور کے (ابنِ ماجہ) اس لئے اس رات میں بندے کو چاہئے کہ اپنے رب کی جانب متوجہ رہے اور اس کی خاص رحمت و مغفرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرے؛ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: شعبان کی پندرہویں رات آئے تو اللہ کے حضور نوافل پڑھا کرو (ابن ماجہ حدیث نمبر ١٣٨٨) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: چار راتوں میں اللہ تعالیٰ خیر کو خوب بڑھا دیتے ہیں؛ منجملہ ان میں شعبان کی پندرہویں رات بھی ہے (ابنِ ماجہ) اس لئے اس رات عبادت کا اہتمام کرنا چاہیے،

لیکن اس اہتمام کا طریقہ یہ ہے کہ تنہا تنہا یہ رات گزاری جائے نہ کہ جمگھٹا بنا کر اسے گزارا جائے، مشہور فقیہ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نے فتاویٰ شامی میں اسی طریقے پر اس رات کو گزارنے کی بات نقل کی ہے(رد المحتار علی الدر المختار جلد اول) لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ لوگ جوق در جوق مسجدوں میں جاتے ہیں اور دنیا کی باتیں کرتے ہیں اور کچھ عبادت باقی ادھر ادھر کی باتوں میں ساری رات کاٹ دیتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔

اسی طرح اس رات قبرستان جانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور وہاں بھی چراغاں اور نہ جانے کیا کیا کیا ہوتا ہے، اس سلسلے میں معلوم ہونا چاہیے کہ پوری حیات طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک بار پندرہ شعبان کی رات قبرستان جانا ثابت ہے اور وہ بھی بالکل چپکے سے؛ حتی کہ امی جان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بھی آپ نے نہ بتایا اور نہ انہیں جگایا؛ اس لئے اگر زندگی میں ایک دو بار شب برأت میں قبرستان چلا جائے تو بہتر ہے! مگر اسے ہر سال کا معمول بنا لینا اور شب برأت کے لوازمات میں شمار کرنا یقیناً غلط ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔

اس رات عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو سجاتے قمقمے لگاتے اور پٹاخے پھوڑتے ہیں؛ بلکہ شہروں میں تو لوگوں کے مکانوں میں لگے باہری بلب اور ٹیوب لائٹ وغیرہ کو بھی پھوڑ دیتے ہیں جس کی شریعت میں قطعاً گنجائش نہیں ہے، یہ ناکہ صرف گناہ کبیرہ ہے بلکہ ظلم اور بیجا اسراف بھی ہے۔ ایسی حرکتوں سے ثواب تو درکنار انسان گناہ کے انبار اپنے سر لادتا ہے۔

اس رات کرنے کے کاموں میں نفل نمازیں، تلاوت قرآن کریم، توبہ و استغفار، دعا و مناجات ہیں، ان کاموں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، اپنے اور بیگانے ہر ایک کے لئے خیر کو طلب کرنا چاہیے اور جہاں تک ہوسکے رو دھو کر اپنے مالک کو منا لینا چاہیے۔

اس سلسلے میں دوسرا مسئلہ پندرہ شعبان کے دن کا ہے کہ آج کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟؟ اس دن سب سے پہلے تو روزے کا مسئلہ ہے، ہمارے معاشرے کے دیندار طبقے میں عموما اس دن روزہ رکھنے کا رواج ہے، جسے اکثر عوام سنت اور پڑھے لکھے لوگ مستحب سمجھتے ہیں، جبکہ بعض حضرات ایسے بھی ہیں جو سرے سے اس دن کے روزے کے منکر ہیں اور اسے بدعت قرار دیتے ہیں؛ لیکن اس سلسلے میں معتدل بات یہ ہے کہ *پندرہ شعبان کا روزہ کم سے کم جائز اور زیادہ سے زیادہ مستحب ہے، اس روزے کو نہ ہی سنت و واجب کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی حرام و بدعت کہا جاسکتا ہے،* جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح شعبان کی دیگر تاریخوں میں روزہ رکھا جاسکتا ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت روزہ رکھنا ثابت ہے، اسی طرح پندرہ شعبان کو بھی روزہ رکھنا جائز ہے اور چونکہ پندرہ شعبان ان دنوں میں سے نہیں ہے جن میں روزہ رکھنا حرام ہے اس لئے اس دن روزہ رکھنے سے منع بھی نہیں کیا جا سکتا ہے، اور اس دن روزہ رکھنا زیادہ سے زیادہ مستحب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ابن ماجہ وغیرہ کتب احادیث میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس دن روزہ رکھا کرو، یہ روایت گو کہ ضعیف ہے مگر موضوع یا باطل نہیں ہے اور چونکہ اس کے مقابلے میں کوئی صحیح صریح روایت ممانعت کی موجود بھی نہیں ہے؛ اس لئے یہ روایت قابل عمل ہے؛ کیونکہ ضعیف روایت پر اس وقت عمل نہیں کیا جاتا ہے جب اس کے بالمقابل صحیح روایت موجود ہو اور ظاہر ہے کہ یہاں کوئی صحیح روایت نہیں ہے، اس لئے اس روایت سے پندرہ شعبان کو روزہ رکھنا ایک گونہ فضیلت کا باعث ہے اور اس فضیلت کو مستحب کا نام دیدیا گیا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کو سنت و واجب کا درجہ نہ دیا جائے اور نہ رکھنے والوں کو بری نظر سے نہ دیکھا جائے اور نہ ہی اس پر اصرار کیا جائے۔

البتہ اگر کوئی شخص اس روزے کو سنت بنانا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ایام بیض کے روزے کے طور پر یہ روزہ رکھے اور اس کے ساتھ میں تیرہ چودہ کو بھی روزہ رکھ لے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول ان تاریخوں میں روزہ رکھنے کا تھا۔

پندرہ شعبان کو ایک اہم رسم ہمارے معاشرے میں رواج پکڑ گئی ہے حلوہ پکانے کی، اس روز بہت سے حضرات حلوہ پکاتے ہیں اور کھاتے کھلاتے ہیں اور اسے پندرہ شعبان کا ایک جزء شمار کرتے ہیں اور نہ پکانے والوں کو برا خیال کرتے ہیں؛ حالانکہ یہ چیز سراسر غلط اور بے اصل ہے، اس کا تعلق نا ہی شعبان کی کسی فضیلت سے ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ، تابعین و ائمہ مجتہدین اور بزرگان دین سے ہے، یہ رسم حقیقتاً واجب الترک ہے، خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے صحیح راستہ پر قائم و دائم رکھے اور ایمان کے ساتھ دنیا سے اٹھائے۔ آمین۔

دور اندیشی

ہندوستانی مسلمانوں کو حکمت عملی بدلنی ہوگی 
ہندوستانی مسلمانوں کی حالت کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کبھی بھی مسلمانوں کو ہندوستان میں اتنی کسمپرسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنی کہ آج کل کررہے ہیں، حالات سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمان آج ہندوستان میں کس مقام پہ کھڑے ہیں، ہر شعبے میں ان کی تعداد گھٹ گئی ہے، پارلیامنٹ، پولیس، بیوروکریسی، ویسے تعداد تو پہلے بھی کبھی ان کی مجموعی آبادی کے اعتبار سے مناسب نہیں رہی ہے، لیکن پھر بھی 2014 الیکشن کے بعد مزید کمی آ گئی ہے، رہی سہی کسر بقیہ صوبوں میں بی.جے.پی کی حکومت آنے سے پوری ہوگئی ہے.
اگر اس وقت پورے ہندوستان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ چھوٹے عہدوں سے لے کر بڑے عہدوں تک ہر جگہ سنگھ کے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں، ہندوستان کے لئے اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات کیا ہوگی کہ ملک کے سب سے زیادہ معزز اور محترم تینوں اعلی عہدوں پہ بھی انہیں کے لوگ فائز ہیں، یہ سب کیسے ہوا، کیوں ہوا، اس کی پوری الگ داستان ہے، ہاں بنیادی بات صرف اتنی سی ہے کہ کل کی وہ تنظیم جس پہ کبھی پابندی عائد تھی اور جسے پبلک ملک مخالف تسلیم کیا کرتی تھی، وہی آج ملک کے سیاہ وسفید کی مالک اور سب سے بڑی نیشنلسٹ پارٹی ہے.
کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے پر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کا ماحول کافی زہر آلود ہوچکا ہے، یہاں کی فضاؤں میں نفرت گھل چکی ہے، برادران وطن کا آپس میں ایک دوسرے کے تئیں اعتماد اٹھ چکا ہے، اب تو لوگ ٹرینوں میں مرغے کا بھی گوشت لے جاتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں کہ کیا پتہ کب گائے کے گوشت کے نام پہ ان کے ساتھ حادثہ ہوجائے، جانچ کا کیا ہے، وہ تو بعد میں ہوتی ہی رہی گی.

اس طرح کی صورت حال میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ آ کھڑا ہوتا ہے کہ آخر مسلمان کیا کریں، کیا الگ سیاسی پارٹی بنالیں، یا پھر جو قومی اور ملکی سطح کی پہلے سے موجود پارٹیاں ہیں انہیں میں اپنا مستقبل ڈھونڈنے کی کوشش کریں، سوال کا جواب تو تھوڑا سا مشکل ہے، کیونکہ جتنے لوگ ہیں اتنے ہی ان کے آراء ہیں، اور ہر ایک کے پاس اپنے دلائل ہیں، لیکن جہاں تک میرا ماننا ہے وہ یہ ہے کہ اصل چیز پاور ہے، اور یہ پاور جب تک چھوٹے لیول سے لیکے بڑے لیول تک مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا، مسلمان اسی طرح لاچاری اور مجبوری کی زندگی گزارتے رہیں گے.
ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے پاور کا حصول سیاست کے ذریعہ قدرے مشکل ہے،  کیونکہ جیسے ہی مسلمان میدان میں آتے ہیں، نفرت کا بازار گرم ہوجاتا ہے، فرقہ وارانہ سیاست عروج پہ پہونچ جاتی ہے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مسلمانوں کو نہایت ہی خاموشی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ لانگ ٹرم پلاننگ کی جائے، اور اس پلاننگ کا بنیادی تھیم مسلم بچوں کو بیوروکریسی، پولیس، عدلیہ اور میڈیا میں پہونچانا ہو، اور یہ کام اس وقت تک کبھی نہیں ہوسکتا ہے جب تک مسلمانوں میں ذمہ داری کا شعور بیدار نہیں ہوگا، ذمہ داری کا احساس ہی انسان کو کچھ کرنے پہ آمادہ کرتا ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر شخص کو ذمہ دار قرار دیا ہے، اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں کل قیامت کے دن سوال کئے جانے کے بارے میں بھی بتلایا ہے، یقینی طور پہ ہندوستان میں اپنی شناخت کو نہ صرف تلاش کرنا بلکہ اس کی بقاء کے لئے جد وجہد کرنا بھی تمام مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری (Collective Responsibility) ہے.
یہ بات ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہندوستان میں اصل حکومت بیوروکریٹ ہی چلاتے ہیں، سیاسی چہرے تو صرف مہرے ہوتے ہیں جو وقت وقت پر بدلتے رہتے ہیں، آر.ایس.ایس نے بیوروکریسی پر اپنی پکڑ بنانے کے لئے بہت محنت کی ہے، ادارے اور انسٹیٹیوشنز قائم کئے، بہترین کوچنگ سینٹرز کی بنیاد رکھی، گراؤنڈ لیول پہ کام کیا، ہماری مسلم جمعتیوں یا تنظیموں کی طرح صرف ہوائی باتیں نہیں کیں، اور آج حالت یہ ہے کہ پولیس، بیوروکریسی اور عدلیہ غرضیکہ ہر جگہ انہیں کے افراد بیٹھے ہوئے ہیں، مسلمان کہتے ہی رہ گئے "ان الحکم الا للہ"، کہ صرف اللہ کا ہی حکم چلے گا، بقیہ اس کے سامنے کوئی بھی قانون کوئی بھی دستور نہیں مانا جائے گا، نتیجہ کے طور پہ مسلمانوں نے اپنے بچوں کو لاء (قانون) کی تعلیم دلائی ہی نہیں، یا جس نے تعلیم حاصل کی بھی، معاشرے نے اس سے بے اعتنائی برتی، یہی وجہ ہے کہ مسلمان سپریم کورٹ، ہائی کورٹس یا دیگر نچلی سطح کے کورٹس میں بطور جج بہت کم ہی دکھائی دیتے ہیں، مسلمانوں کے لئے اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہوگی کہ ان کے خود کے پرسنل لاء کا کیس ایک غیر مسلم لڑتا ہے، جس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ تیس کروڑ مسلمان مل کے ایک بہترین وکیل بھی پروڈیوس کرنے کے قابل نہیں ہیں، جو خود ان کے ہی بورڈ کا دفاع کرسکے.
بیوروکریسی، عدلیہ اور میڈیا جمہوریت کے اہم ستون ہیں، اور جب تک مسلمان ان تینوں ستونوں پہ اپنا قبضہ نہیں جمائیں گے، انہیں ہندوستان میں مضبوطی عطا نہیں ہوگی، اگر مسلمان ان تینوں اداروں پہ قابض ہوجائیں جو ایک طریقے سے پالیسی سازی کا کام انجام دیتے ہیں تو یقینا مستقبل بڑا خوشگوار ہوسکتا ہے، ورنہ نوشتئہ دیوار تو پھر کچھ اور ہی ہوگا.
ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کے پاس افراد نہیں ہیں، یا مسلمانوں کے بچے پڑھنے والے نہیں ہیں، مگر یہ ایک بہت ہی تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے جو پڑھنے والے بچے ہیں، یعنی جو محنت سے پڑھتے ہیں وہ زیادہ تر مڈل کلاس طبقے سے یا بالکل غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے ہیں، جن کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی ہے کہ وہ بہترین کوچنگ سینٹرز میں ایڈمیشن لے سکیں یا یو.پی.ایس.سی کی تیاری کے لئے کتابیں ہی خرید سکیں، اور پھر گھریلو اور معاشی ہریشانیاں اتنی ہوتی ہیں کہ وہ چاہ کر بھی تیاری نہیں کرپاتے ہیں، حالانکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، اور زکوة فاؤنڈیشن وغیرہ ایسے بچوں کے لئے کافی مددگار ہیں، مگر پھر بھی یہ ناکافی ہیں، مسلمانوں کو مزید اسی طرز پہ کام کرنے کی ضرورت ہے، زکوة فاؤنڈیشن مشعل راہ ہے، اسی طرز پہ دیگر قسم کے انسٹیٹیوشنز قائم کرنے اور زکوة کے پیسے کو ایک بہتر مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے، جو مسلم بچوں کو نہ صرف بیوروکریسی کے لئے تیاری کروائے، بلکہ جیوڈیشری، لاء، میڈیا اور دیگر چیزوں میں بھی اپنے افراد کے داخلے کے لئے کوشش کرے.
یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسلمان سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں، بالکل سیاست میں رہیں، بلکہ قومی دھارے سے جڑ کے بھی رہیں، کیونکہ پولیٹکس بھی ضروری ہے، مگر جس طرح ہر شخص کے لئے کچھ Priorities یعنی "اولویات" ہوتے ہیں، ویسے قوموں کے بھی ہوتے ہیں، جب تک ان Priorities کو ایک بہترین فارم میں آرگنائز نہیں کیا جائے گا، قومیں تنزلی کا شکار ہوتی رہیں گے.
ہندوستان میں مسلم قوم بھی تنزلی کا شکار ہے، اس صورتحال میں اس کے لئے لازمی اور ضروری امر ہے کہ وہ اپنے لئے ایک ایسی اسٹریٹجی تیار کرے جو اس کے لئے لانگ ٹرم میں مفید ثابت ہو، اور یہ اسٹریٹجی اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمان تعلیم کے ذریعہ ہندوستانی دھارے کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کریں، اور یہ کوشش اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ سیاست ایک بے ہنگم چیخ و پکار کے سوا کچھ نہیں، اس میں ہر پانچ سال پہ تقدیریں بدل جایا کرتی ہیں، جب کہ دیگر اداروں یا محکموں میں ایک مرتبہ داخل ہونے کے بعد پھر رٹائرمنٹ کے ذریعہ ہی نکلنا ممکن ہے، ہاں تبادلہ، ٹرانسفر یا کچھ دنوں کے لئے معطلی کی بات الگ ہے.
ایک آخری بات جو کہنی بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ تحفظ شریعت یا تحفظ ملک و ملت وغیرہ ناموں سے جو دھرنے اور پروٹسٹ آرگنائز کئے جاتے ہیں ان سے احتراز کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ یہ کہیں نہ کہیں سنگھ ہی کو فائدہ پہونچاتے ہیں، اس کے بالمقابل میرا ماننا یہ کہ ظالم کا مقابلہ سیکولر فریم ورک کے ذریعہ کیا جائے، میں جب رعنا ایوب، رویش کمار، تیستا سیتلواد، وغیرہ کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ عدم تشدد ہندوستانیوں کے خمیر میں شامل ہے، حکومتیں اپنی مفاد کے لئے کتنا ہی ظلم کیوں نہ کریں، سیاسی پارٹیاں اپنی سیاست کے لئے ملک کو کتنا ہی زہر آلود کیوں نہ بنا دیں، مگر ہمیشہ ہندوستان میں ایک قسم کی سول سوسائٹی موجود رہے گی جو ہم مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرتی رہے گی، اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان آوازوں کو دبنے نہ دیں، ان پر کمزوری کا غلبہ نہ ہونے دیں، بلکہ ان آوازیں میں اپنی آوازیں بھی شامل کریں، اور انصاف کی لڑائی مل کے لڑیں، کیونکہ جب بھی ہم تنہا اپنے حقوق کے لئے آگے آئیں گے تو میڈیا کا ایک سیکشن ایسا بھی ہوگا جو اسے کمیونلائز کرنے کی کوشش کرے گا، اس لئے بہتر ہے کہ ہم ہر لڑائی ان لوگوں کے ساتھ مل کے لڑیں جو ہماری حمایت میں آگے آتے ہیں، یہ لوگ انتہائی تاریک راتوں میں امیدوں کے چراغ ہیں، اور ان چراغوں کی حفاظت کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے

دیوبندیت کس کا نام ہے

تھوڑا دیوبندیت کو دیکھتے ہیں آخر یہ ہیں کون۔۔؟؟؟
‏‏1857 کی انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں علماء و مجاہدین کی قیادت کرنے والا اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ علماء کے مرشد کا لقب پانے والا حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ دیوبندی تھا“
برصغیر میں شرک و بدعت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں توحید و سنت کا علم لہرانے والا بانی دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتویؒ دیوبندی تھا“
 ‏انگریز کے اقتدار کے خلاف حضرت نانوتوی کی قیادت میں پہلی عسکری کاروائی کے دوران شہید ہونے والا پہلا مجاہد حافظ محمدضامنؒ دیوبندی تھا“
کفر و دجل اور عیسائیت کا سرخم کرنے والا فقہیہ امت رشید احمد گنگوہیؒ دیوبندی تھا“
انگریز کو کتے کی طرح دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کرنے والا اورتحریک ریشمی رومال کی قیادت و راہنمائی کرنے والا گلستان دیوبند کا پہلا پھول حضرت شیخ الہند محمود حسنؒ دیوبندی تھا“
وطن سے بہت دور جزیره مالٹا میں طویل مدت تک پس دیوار زنداں رہنے والے
شیخ الہندؒ حسین احمد مدنیؒ مولانا عزیز گلؒ و دیگر احبابؒ دیوبندی تھے“
عقائد و نظریات اسلامی کے مقابلے میں کفر و شرک کو مات دینے والا مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ دیوبندی تھا“
‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور کی دیوار کے سائے میں 18 سال احادیث شریف پڑھانے والا سیدنا حسین احمد مدنیؒ دیوبندی تھا“
امت کی صراط مستقیم پر رہنمائی کے لیے تصانیف کے انبار لگانے والا حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ دیوبندی تھا“
‏ختم نبوت کے منکر جھوٹےمدعی نبوت مرزا قادیانی کوذلیل و رسوا کرکے اس کے کفر کو طشت از بام کرنے والا
انور شاہ کاشمیریؒ دیوبندی تھا“
تحریک ختم نبوت میں لاہور کی سڑکوں پر  دس ہزار لوگوں کی قربانی دینے والوں کی قیادت کرنے والاعطا اللہ شاہ بخاریؒ دیوبندی تھا“
افغانستان کی سرزمین پر خلافتِ راشدہ کا نمونہ پیش کرنے والا ملا عمر مجاہد دیوبندی تھا“
اسلام کا پیغام دنیا میں کونے کونے تک پہچانے والی تبلیغی جماعت کا بانی مولانا الیاسؒ دیوبندی تھا“
فضائل اعمال لکھ کر عام مسلمانوں میں نیک اعمال کی رغبت پیدا کرنے والا شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلویؒ دیوبندی تھا“
قومی اسمبلی میں قادیانیت کے خلاف معرکتہ آراء مقدمہ لڑ کر سرخرو ہونے والا مفتی محمودؒ دیوبندی تھا“
غالی رافضیت کے کفر کو برسرِعام برہنہ کرنے والا حق نواز جھنگوی دیوبندی تھا

مقالہ نگاری کے اصول

پی ایچ ڈی مقالہ نگار سکالرز کی عمومی غلطیاں
بالعموم یہ باور کیا جاتا ہے کہ کوئی بات محض حوالہ جات سے لکھ دینا تحقیق ہے. اپنی تحقیق کو زیادہ وقیع بنانے کے لیے عام طور پر سکالرز ایک بات کو مختلف مراجع سے انہیں کے الفاظ میں بار بار لکھتے ہیں اور اسے تحقیق سمجھتے ہیں مثلاً ابن حجر لکھتے ہیں أمام ابن کثیر ابن تیمیہ کے شاگرد تھے
دوبارہ یہ بات صفدی کے الفاظ میں تیسری بار یہی بات ابن تغری بردی کے الفاظ میں اور چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں بار یہی بات ہر دفعہ مختلف حوالے سے پورے صفحہ ڈیڑھ پر یہی ایک بات دھرائی جاتی ہے اور الگ الگ کتابوں کے حوالے دے کر سمجھا جاتا ہے کہ تحقیق ہو گئی ہے.
یہ احمقانہ طریقہ ہے. درست طریقہ یہ ہے کہ یوں لکھیں
تمام مستند مآخذ اس امر پر متفق ہیں کہ ابن کثیر نے ابن تیمیہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا
اور نیچے حاشیہ میں مآخذ کا حوالہ دے دیں

خریداری کے بہترین اصول

سستی خریداری کیسے کریں..."
از شیخ ادریس ندوی
محترم ابا عائش  صاحب نے پوچھا
"مردوخواتین میں سے سستی خریداری کون کرتاہے"
گزارش ہے کہ
مردو خواتین میں سستی خریداری وہ کرتاہے جوعموما خریداری کرتارہتاہے یعنی جس کاتجربہ زیادہ ہو
سستی خریداری کرنےکی بنیادی شرط یہ ہے کہ آپ کوعام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں اور معیار کاکچھ نہ کچھ علم ضرور ہو
اگرآپ خریداری کرنانہیں جانتے توچندچیزوں کاخیال ضرور رکھیے جویقیناآپ کےلیے کسی نہ کسی درجے میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں

* کوشش کیجیے کہ خریداری ایسی دکان سے کریں جہاں "ایک دام(فکس پرائز)" ہو ایسی دکانوں پرعمومامنافع کی شرح بہت مناسب ہوتی ہے,

* کوئی بھی چیز خریدنےسے قبل دوتین دکانوں سے مطلوبہ چیز کی قیمت ضرور معلوم کرلیں اس سے آپ کی معلومات میں بھی اضافہ ہوگا,خریداری کاتجربہ بھی بڑھے گا اور مارکیٹ میں آپ کاتعارف بھی ہوجائے گا  اور قیمتوں کےبارے میں معلومات بھی بڑھیں گی,

* خریداری کےلیے بڑے مالز یابڑی بڑی اور ظاہری چمک دھمک والی دکانوں کی بجائے عام دکانوں کی ترجیح دیجیے بشرطیکہ ان کامعیاراچھاہو
بڑی دکانوں کےاخراجات بہت ہوتے ہیں اور شہرکا مالدارطبقہ ان کارخ کرتاہے جس وجہ سے ان کےمنافع کی شرح عام دکانوں سے زیادہ ہوتی ہے,

*جن دکانوں سے عموما خریداری کرتے ہیں ان دکانداروں کی نفسیات اور ڈیلنگ کےطریقہ کار سے واقفیت کی کوشش کیجیے اور معاملہ اسی کو مدنظر رکھ کر کریں،

* ہمیشہ اچھے معیار کوترجیح دیجیے
اس کی قیمت  کچھ زیادہ ضرور ہوتی ہے لیکن بار بار خریدنےسے جان چھوٹ جاتی ہے اور مالی اوسط سستی چیز کےبرابر پہنچ جاتی ہے,

* اگر آپ کسی واقف کارسے خریداری کرتے ہیں توایک مرتبہ بازار کی قیمتیں ضرور معلوم کریں ممکن ہے وہ آپ کےتعلق یاسادگی کاناجائزفائدہ اٹھارہاہو
قیمتیں معلوم کرنےکابہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سے چیزلیں کہ یہ گھرپسندکروالوں پھربازار میں دکھاکراس کاریٹ معلوم کرلیں دودھ کادودھ پانی کاپانی ہوجائےگا,

*اگرآپ شادی وغیرہ کی خریداری کرنےجارہےہیں تودکاندار کویہ کبھی مت کہیں کہ"شادی کاسامان لیناہےذرااچھےوالادکھانا" آپ کایہ ایک جملہ اس کی قیمت میں پچاس فیصد تک اضافہ کردےگا,

* خریداری کےلیے اچھامعیار رکھنےوالےچھوٹے دکانداروں کونسبتا ترجیح دیں ایک تووہ آپ کوچیزمناسب قیمت پردیں گے دوسراان کےساتھ آپ کاتعاون بھی ہوجائے گا یہ لوگ سرمایہ دارنہیں ضرورت مندہوتے ہیں اور ضرورت مندوں کامنافع حسب ضرورت ہوتاہے,

خریداری کےلیے ایسی جگہ کوترجیح دیں جہاں ایک چیز کی کئ کئ دکانیں ایک ساتھ ہوں
ایسی جگہوں پر ہمیشہ مقابلہ بازی کی فضاہوتی ہے اوردکاندار چاہ کربھی زیادہ منافع نہیں رکھ پاتا کیونکہ گاہک کےساتھ والی دکان پرچلےجانےکاڈرلاحق رہتاہے اور اکثراوقات چیز انتہائی کم منافع پرمل جاتی ہے،

*کوئی چیز پسندآجانےپر دکاندار کےسامنے اطمینان اور خوشی کااظہار کبھی مت کریں اس سے دکاندار کم منافع پرسمجھوتے کوتیارنہین ہوتا کیونکہ اسے معلوم ہوتاہےکہ گاہک کےمطمئن ہوجانےپرفروخت کےنوے فیصد چانس بڑھ جاتے ہیں اور گاہک کوغیرمطمئن دیکھ کردکاندار کم سےکم ریٹ لگاتاہے...!!

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم