علمی سفر کو تابناک بنانے کے لیے لائحۂ عمل!

علمی سفر کو تابناک بنانے کے لیے لائحۂ عمل!

1. فراغت کو منزل نہیں، آغاز سمجھیں۔ ندوہ کا مقصد آپ کو مکمل عالم بنانا نہیں، بلکہ عالم بننے کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔


2. ہر سال اپنی علمی کمزوریوں کا جائزہ لیں۔ یہ پہچانیں کہ کن علوم میں مضبوط ہیں اور کن میدانوں میں مزید محنت درکار ہے۔


3. عربی زبان کو روزانہ وقت دیں۔ کلاسیکی اور جدید عربی کتابوں کا مطالعہ، لغت سے استفادہ، نوٹ نویسی اور تحریر کی مشق معمول بنائیں۔


4. صرف معلومات جمع نہ کریں، علمی شخصیت تعمیر کریں۔ منصوبہ بند مطالعہ، تلخیص، نوٹ سازی اور تحریر کی عادت اختیار کریں۔


5. قدرتِ تعبیر و توضیح پیدا کریں۔ علم کو اس انداز میں پیش کرنا سیکھیں کہ مختلف طبقوں کے لوگ اسے سمجھ سکیں۔


6. اپنے زمانے کے انسان کو سمجھیں۔ جدید تعلیم یافتہ نوجوان کے سوالات، زبان اور ذہنی پس منظر سے واقف ہوں۔


7. معاصر علوم کا سنجیدہ مطالعہ کریں۔ مغربی فلسفہ، جدید فکری تاریخ، سماجی علوم، سیاست، اخلاقیات اور جدید تہذیبی مباحث سے واقفیت حاصل کریں، تاکہ سوالات کی اصل بنیاد سمجھ سکیں۔


8. مخالف یا مختلف فکر کو سمجھے بغیر اس پر گفتگو نہ کریں۔ پہلے اس کے دلائل اور پس منظر کو سمجھیں، پھر علمی انداز میں جواب دیں۔


9. جذبات کے بجائے نظم و ضبط اپنائیں۔ روزانہ کا مستقل علمی شیڈول بنائیں، کیونکہ مسلسل محنت ہی شخصیت کو پروان چڑھاتی ہے۔


10. اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں، اپنے گزشتہ مقام سے کریں۔ ہر سال اپنے علم، فکر، اسلوب اور تحریر میں ترقی کو معیار بنائیں۔


11. ہمیشہ طالبِ علم رہیں۔ اپنی لاعلمی کا احساس برقرار رکھیں؛ یہی احساس مسلسل سیکھنے اور ترقی کا سبب بنتا ہے۔


تلخیص و ترتیب: نعمت اللہ
ماخوذ از تحریرِ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

مدرس (معلم) کی چند غلطیاں

 مدرس (معلم) کی چند غلطیاں
(1)... درس و تدریس کو محض ایک ڈیوٹی یا نوکری سمجھتا ہے، اسے ایک مقدس فریضہ اور امانت نہیں جانتا۔
(2)... سبق کی تیاری کے بغیر جماعت میں چلا جاتا ہے اور طلبہ کے سامنے روایتی یا لکیر کی فقیری والی تدریس پر اکتفا کرتا ہے۔
(3)... طلبہ کی علمی اور عملی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے صرف نصاب ختم کرنے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے۔
(4)... اپنے منصب اور ذمہ داری کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ نہیں کرتا، نئے تدریسی اسالیب اور جدید طریقوں سے دور رہتا ہے۔
(5)... طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت کا معاملہ کرنے کے بجائے سختی، تحکّم اور بے جا رعب جمانے کو ترجیح دیتا ہے۔
(6)... کمزور اور کند ذہن طلبہ کی طرف خصوصی توجہ دینے کے بجائے صرف لائق بچوں پر اکتفا کرتا ہے۔
(7)... اپنے ذاتی مسائل، غصے یا گھریلو پریشانیوں کا غبار طلبہ پر اتارتا ہے۔
(8)... ساتھی اساتذہ اور انتظامیہ کے ساتھ تعمیری تعاون کے بجائے گروہ بندی، چغلی اور منفی سیاست میں الجھا رہتا ہے۔
(9)... امانت داری کا حق ادا نہیں کرتا؛ تدریسی اوقات میں سستی کرتا ہے یا بلاوجہ وقت ضائع کرتا ہے۔
(10)... اپنے اخلاق، کردار اور عملی زندگی سے طلبہ کے لیے بہترین نمونہ بننے میں ناکام رہتا ہے۔
(11)... غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے تاویلات پیش کرتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار انتظامیہ یا طلبہ کو ٹھہراتا ہے۔
(12)... طلبہ کی امانتوں (کاپیوں کی جانچ، نتائج وغیرہ) میں لاپرواہی اور تاخیر سے کام لیتا ہے۔
(13)... اپنے فرائض کی انجام دہی میں خلوصِ نیت کی کمی رکھتا ہے اور صلے یا تحائف کی توقع زیادہ رکھتا ہے۔
(14)... اپنی ذات کو حرفِ آخر سمجھتا ہے، طلبہ کے سوالات کو سننے کے بجائے انہیں دبا دیتا ہے اور اصلاح کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔
نوٹ: ایک بہترین مدرس صرف نصاب پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک مربی، رہنما اور معمارِ قوم ہوتا ہے۔ مدرسے کی اصل روح اچھے اساتذہ کے اخلاص، محنت اور بہترین تدریس سے وابستہ ہے۔

مہتمم کی چند غلطیاں

*✅مہتمم کی چند غلطیاں✅* 



(1)...اساتذہ سے قربانیاں تو مانگتاہے مگر ان کے حقوق ادا کرنے میں سستی کرتاہے۔

(2)...ادارے کو خاندان،برادری یا ذاتی اثر و رسوخ کا مرکز بنا لیتاہے۔

(3)...طلبہ کی تربیت سے زیادہ اپنی شخصیت اور اختیار کے تحفّظ کی فکر کرتاہے۔

(4)...ہر اختلاف رائے کو بغاوت اور ہر سوال کو بے ادبی سمجھتاہے۔

(5)...ادارہ آباد کرنے والے پُرانے اساتذہ کو وقت آنے پر بوجھ سمجھنے لگتاہے۔

(6)...تنخواہوں میں تاخیر کو معمول سمجھتاہے،مگر اپنے انتظامی اخراجات میں کمی نہیں کرتا۔

(7)...استاد کے ٹوٹے ہوئے دل کو معمولی چیز سمجھتاہے، حالانکہ اسی استاد کے کندھوں پر ادارے کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔

(8)...استاد کی عزت اور وقار کو ادارے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی مرضی کا تابع سمجھتاہے۔

(9)...ادارے کی ترقی کا کریڈٹ خود لیتاہے لیکن خرابیوں کا الزام اساتذہ پر ڈال دیتاہے۔

(10)...اساتذہ کی معاشی مشکلات کو "صبر" اور "اخلاص"کے وعظ سے حل کرنے کی کوشش کرتاہے۔

(11)...خوشامد کرنے والوں کو قریب اور مخلص مشورہ دینے والوں کو دور رکھتاہے۔

(12)...نئے آئیڈیاز اور اصلاحی تجاویز کو اپنی مخالفت سمجھتاہے۔

*(13)...اساتذہ کی برسوں کی خدمات کو ایک شکایت یا افواہ کے سامنے بھول جاتاہے۔*

(14)...چندے اور تعمیرات میں دلچسپی زیادہ،جبکہ تدریسی معیار میں دلچسپی کم رکھتاہے۔

*نوٹ: ایک مدرسہ صرف عمارتوں،چندوں اور قواعد سے نہیں چلتا۔ادارے کی کامیابی اچھی قیادت،احترام،جوابدہی اور سیکھنے کے ماحول سے ہوتی ہے*۔(منقول)

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

جنگ آزادی میں مدرسوں اور علماء کرام کی قربانیاں

جنگ آزادی میں مدرسوں اور علماء کرام کی قربانیاں:

 از: مولانا شوکت علی قاسمی بستوی استاذ تفسیر و ادب دارالعلوم دیوبند‏
 
مدارس اسلامیہ ہند نے جہالت و ناخواندگی کے قلع قمع، علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت اسلامیہ کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی ان مدرسوں کی خدمات بڑی روشن ہیں، بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے اور ابنائے وطن کو عروسِ حریت سے ہم کنار کرانے میں، مدارس اسلامیہ اور ان کے قائدین کی قربانیاں آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہیں، وہ مدارس اسلامیہ کے جان باز علماء کرام ہی تو تھے جنھوں نے ملک میں آزادی کا صور اس وقت پھونکا جب عام طور پر دیگر لوگ خواب غفلت میں مست، آزادی کی ضرورت و اہمیت سے نابلد اور احساسِ غلامی سے بھی عاری تھے۔

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ ۱۵/ اگست کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کے مبارک و مسعود موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مالٹا اور کالا پانی میں ہر طرح کی اذیتیں جھیلیں اور جان نثاری و سرفروشی کی ایسی مثال قائم کیں جن کی نظیر نہیں ملتی اور ملک کا چپہ چپہ ان کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے
پتہ پتہ بو ٹا بو ٹا حا ل ہما ر ا جا نے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

ملک کا ایک طبقہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ دینی و اسلامی مدارس، قومی دھارے سے بالکل الگ تھلگ، ملکی و قومی مفادات سے بے پروا ہوکرصرف دینی تعلیم کی اشاعت میں لگے رہتے ہیں، مدراس کے فضلا گرد و پیش کے حالات سے بے خبر اور ملکی و قومی خدمت کے شعور واحساس سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ لیکن مدارس اسلامیہ کا شاندار ماضی، اس مفروضہ کو قطعاً غلط اور بے بنیاد قرار دیتا ہے، اور تاریخ ہند کی پیشانی پر ثبت، مدارس اسلامیہ کی ملکی و قومی خدمات اور کارناموں کے نقوش پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کے علماء کرام و فضلاء عظام نے ہمیشہ ملکی مفادات کی پاسبانی اور اپنے خون پسینہ سے چمنستان ہند کی آب یاری کی ہے اور ملک کی آزادی کی تاریخ ان قربانیوں سے لالہ زار ہے، چنانچہ ان ہزاروں علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا خصوصاً حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی، مولانا شاہ اسحاق دہلوی، مولانا عبدالحئی بڈھانوی، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا نذیر حسین دہلوی، مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی عنایت احمد کاکوری،مولانا فرید الدین شہید دہلوی، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، امام حریت مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، قاضی عنایت احمد تھانوی، قاضی عبدالرحیم تھانوی، حافظ ضامن شہید، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رضی اللہ بدایونی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، امام انقلاب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری،مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا شوکت علی رام پوری، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا ڈاکٹر برکت اللہ بھوپالی، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا کفایت اللہ دہلوی، مولانا سیف الرحمن کابلی، مولانا وحید احمد فیض آبادی، مولانا محمد میاں انصاری، مولانا عزیر گل پشاوری، مولانا حکیم نصرت حسین فتح پوری، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا ابوالمحاسن سجاد پٹنوی، مولانا احمد سعید دہلوی، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دہلوی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولانا نورالدین بہاری وغیرہ آسمان حریت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جنھوں نے محکومی کی شب دیجور کو تار تار کیا اور ملک کے چپے چپے کو انوار حریت کی ضوفشانی سے معمور کردیا۔
یہ ہند میں سرمایہٴ ملت کے نگہباں

اللہ نے بر وقت کیا ان کو خبردار

مذکورہ مجاہدین وعلماء کرام سب مدارس اسلامیہ ہی کے فضلا و فیض یافتہ تھے ایک دو حضرات ایسے ہیں جو باضابطہ کسی مدرسے کے فارغ نہ تھے لیکن علماء کرام کے باضابطہ صحبت یافتہ ضرور تھے، ان میں وہ علماء کرام بھی ہیں جنھوں نے جدوجہد آزادی کا آغاز کیا اور حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب اور پھر سید احمد شہید کی زیر قیادت کام کرتے رہے اور ان کے بعد بھی جدوجہد جاری رکھی، وہ علماء کرام ہی ہیں جنھوں نے ۱۸۵۷/ کی جنگ آزادی میں بنفس نفیس شرکت فرمائی پھر وہ علماء کرام ہیں جو زعیم حریت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اور امام الہند مولانا ابوالکلام کی زیر قیادت جنگ آزادی میں شریک رہے۔ ان حضرات کی قربانیوں کی ایک جھلک پیش کرنے کے لئے ہمیں سلسلہ وار واقعات پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔

سولہویں صدی عیسوی کے ختم ہوتے ہوتے انگلستانی سوداگر ہندوستان پہنچ چکے تھے ۱۶۰۱/ میں ملکہ ایلزبیتھ کی اجازت سے ایک سو تاجروں نے تیس ہزار پونڈ کی خطیر رقم لگاکر ایک تجارتی ادارہ ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company) کے نام سے قائم کیا، مغربی بنگال کو کمپنی نے اپنا مرکز بنایا اور ڈیڑھ سو سال تک اپنی تمام تر توجہ صرف تجارت پر مرکوز رکھی لیکن جب حضرت اورنگ زیب عالمگیر، اور معظم شاہ کے بعد مغلیہ حکومت کی بنیادیں کمزور پڑگئیں اور ملک میں انارکی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا مکھوٹا اتار پھینکا اور نظام حکومت میں مداخلت شروع کردی۔ ۱۷۵۷/ میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں کی فوجیں کھلم کھلا میدان میں آگئیں اور ننگ ملت ننگ دین اور ننگ وطن میر جعفر کی غداری کے سبب نواب سراج الدولہ کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا اور پورے بنگال پر ا نگریز قابض ہوگئے، پھر ۱۷۶۴/ میں انگریزوں کے خلاف نواب شجاع الدولہ کو بکسر میں شکست ہوئی اور بہار و بنگال انگریز کی دیوانی میں چلے گئے۔ ۱۷۹۲/ میں بطل حریت سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے میسور پر قبضہ کرلیا۔ ۱۸۴۹ میں پنجاب بھی کمپنی کے قبضہ میں آگیا اسی طرح سندھ آسام، برما، اودھ، روہیل کھنڈ، جنوبی دوآبہ، علی گڈھ، شمالی دوآبہ، مدراس وپانڈی چری وغیرہ انگریزوں کے زیر تسلط آگئے اور پھر وہ وقت بھی آپہنچا جب دہلی پر بھی کمپنی کی حکومت قائم ہوگئی اور مغل بادشاہ کا صرف نام رہ گیا، ان علاقوں پر انگریزوں نے فتح حاصل کرنے کے لیے کیا کیا تدبیریں کیں مسز اینی بیسنٹ کی زبانی سنئے:
”کمپنی والوں کی جنگ سپاہیوں کی جنگ نہ تھی بلکہ تاجروں کی جنگ تھی، ہندوستان کو انگلستان نے اپنی تلوار سے فتح نہ کیا بلکہ خود ہندوستانیوں کی تلوار سے اور رشوت و سازش، نفاق، اور حد درجہ کی دورخی پالیسی پہ عمل کرکے ایک جماعت کو دوسری جماعت سے لڑاکر اس نے یہ ملک حاصل کیا۔ (ہندوستان کی کوشش آزادی کے لئے ص:۵۶)

ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پھیلتے ہوئے جال اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو سب سے پہلے اگر کسی نے محسوس کیا تو وہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی کی عبقری شخصیت تھی آپ نے پوری دوراندیشی کے ساتھ اصلاح کے اصول بیان کئے طریقہٴ کار کی نشاندہی فرمائی اور باشندگان وطن کے بنیادی حقوق پامال کرنے والے نظام حکومت کو درہم برہم کردینے کی تلقین کی اور اس کے لیے طاقت کے استعمال پر بھی زور دیا، ان کے متعین کردہ نقشہ راہ کے مطابق ان کے فرزنداکبر حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا منظم آغاز کیا، انگریزوں کے خلاف تاریخ ساز فتویٰ صادر فرمایا اور ملک کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا جو انگریز کے خلاف اعلان جہاد کے مترادف تھا یہ فتویٰ جنگل کی آگ کی طرح ملک کے کونے کونے میں پہنچ گیا، ۱۸۱۸/ میں عوام کی ذہن سازی کے لئے مولانا سید احمد شہید، مولانا اسماعیل دہلوی، اور مولانا عبدالحئی بڈھانوی کی مشاورت میں ایک جماعت تشکیل دی گئی جس نے ملک کے اطراف میں پہنچ کر دینی اور سیاسی بیداری پیدا کی، پھر انگریزوں سے جہاد کے لئے ۱۸۲۰/ میں مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی کی قیادت میں مجاہدین کو روانہ کیاگیا، انھوں نے جنگی خصوصیات کی بنا پر جہاد کا مرکز صوبہ سرحد کو بنایا، مقصد انگریزوں سے جہاد تھا لیکن پنجاب کے راجہ انگریزوں کے وفادار تھے، اس جہاد کے مخالف تھے اور اس کو ناکام کرنے کی تدبیریں کررہے تھے اس لئے پہلے حضرت سید احمد شہید نے ان کو پیغام بھیجا کہ ”تم ہمارا ساتھ دو، دشمنوں (انگریزوں) کے خلاف جنگ کرکے ہم ملک تمہارے حوالے کردیں گے، ہم ملک ومال کے طالب نہیں“ لیکن راجہ نے انگریز کی وفاداری ترک نہ کی تو اس سے بھی جہاد کیاگیا ۱۸۳۱/ میں بالاکوٹ کے میدان میں حضرت مولانا رائے بریلوی نے جام شہادت نوش کیا، مگر ان کے متوسلین نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ملک کے مختلف اطراف میں انگریز کے خلاف گوریلا جنگ جاری رکھی۔ ۱۸۵۷/ کی جنگ کے لیے سید صاحب کے متوسلین ومجاہدین نے فضا ہموار کرنے اور افراد تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
/ کی جنگ آزادی میں علماء کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا، یہ علماء کرام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت سید احمد شہید رحمہم اللہ کی سلسلة الذہب (طلائی زنجیر) کی سنہری کڑی تھے۔ اس جنگ کے لیے علماء کرام نے عوام کو جہاد کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے طول و عرض میں وعظ و تقریر کا بازار گرم کردیا اور جہاد پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا نیز ایک متفقہ فتویٰ جاری کرکے انگریزوں سے جہاد کو فرض عین قرار دیا۔ اس فتویٰ نے جلتے پر تیل کا کام کیا اور پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی، اکابر علماء دیوبند نے شاملی کے میدان میں جہاد میں خود شرکت کی۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حافظ ضامن شہید نے حضرت سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی، پھر تیاری شروع کردی گئی، حضرت حاجی صاحب کو امام مقرر کیاگیا مولانا منیر نانوتوی کو فوج کے دائیں بازو کا اور حافظ ضامن تھانوی کو بائیں بازو کا افسر مقرر کیاگیا مجاہدین نے پہلا حملہ شیرعلی کی سڑک پر انگریزی فوج پر کیا اور مال و اسباب لوٹ لیا، دوسرا حملہ ۱۴/ ستمبر ۱۸۵۷/ کو شاملی پر کیا، اور فتح حاصل کی، جب خبر آئی کہ توب خانہ سہارنپور سے شاملی کو بھیجا گیا ہے تو حضرت حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی کو چالیس پچاس مجاہدین کے ساتھ مقرر کیا، سڑک باغ کے کنارے سے گزرتی تھی، مجاہدین اس باغ میں چھپے تھے جب پلٹن وہاں سے گذری تو مجاہدین نے ایک ساتھ فائر کردیا پلٹن گھبراگئی اور توپ خانہ چھوڑ کر بھاگ گئی اسی معرکہ میں حافظ ضامن صاحب تھانوی شہید ہوئے سید حسن عسکری صاحب کو سہارنپور لاکر انگریزوں نے گولی ماردی مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی مظفرنگر جیل میں ڈال دئیے گئے اور مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے انڈرگراؤنڈ چلے گئے۔
۱۸۵۷/ کی جنگ آزادی مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہول ناک مظالم کے پہاڑ توڑڈالے گئے۔ ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء، انگریزوں کی مشق ستم کا نشانہ بنے، اس لئے کہ انھوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور علماء کرام نے ان کے خلاف فتویٰ دے کر جہاد کا اعلان عام کردیا تھا، چنانچہ ۱۸۵۷/ سے چودہ برس پہلے ہی گورنر جنرل ہند نے یہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان بنیادی طور پر ہمارے مخالف ہیں اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزار علماء کرام تھے، انگریز علماء کے اتنے دشمن تھے کہ ڈاڑھی اور لمبے کرتے والوں کو دیکھتے ہی پھانسیاں دے دیتے تھے، ایڈورڈ ٹامسن نے شہادت دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی (ریشمی رومال ص:۴۵) پوری دہلی کو مقتل میں تبدیل کردیاگیا تھا مرزا غالب کی زبان میں۔

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے

گھر نمونہ بنا ہے زند ا ں کا

شہر دلی کا ذَ رّہ ذ رّہٴ خا ک

تشنہٴ خوں ہے ہر مسلمان کا

دہلی، کلکتہ، لاہور، بمبئی، پٹنہ، انبالہ، الہ آباد، لکھنوٴ، سہارنپور، شاملی اور ملک کے چپے چپے میں مسلمان اور دیگر مظلوم ہندوستانیوں کی لاشیں نظر آرہی تھیں علماء کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا پھر نذر آتش کردیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پر خنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلادیا جاتا تھا۔ (دیکھئے ایسٹ انڈیا کمپنی اور باغی علماء)

اس جنگ میں ناکامی کی بنیادی وجہ افراد ووسائل کی قلت اور تنظیم کی کمی تھی اس لئے اکابر دیوبند نے غور و خوض کے بعد، دیوبند میں ۱۸۶۶/ میں دار العلوم دیوبند قائم کیا، اس کا مقصد جہاں تعلیم وتعلم تھا وہیں ملک کی آزادی کے لئے افراد و رجال کار کی تیاری بھی تھی جو قوم اور ملک کی قیادت کرسکیں کاروان آزادی کو کامیابی کے ساتھ منزل تک پہنچاسکیں چنانچہ دارالعلوم کے پہلے طالب علم جو فراغت کے بعد دارالعلوم میں استاذ اور صدرالمدرسین کے منصب جلیل پر فائز ہوئے انھوں نے ایک موقع پر فرمایا:

”حضرت الاستاذ (حضرت نانوتوی) نے اس مدرسے کو کیا درس تدریس، تعلیم وتعلّم کیلئے قائم کیاتھا؟ مدرسہ میرے سامنے قائم ہوا جہاں تک میں جانتا ہوں ۱۸۵۷/ کے ہنگامہ کی ناکامی کے بعد یہ ارادہ قائم کیاگیا تاکہ کوئی ایسا مرکز قائم کیا جائے جس کے زیر اثر لوگوں کو تیار کیا جائے تاکہ ۱۸۵۷/ کی تلافی کی جاسکے“ (رسالہ دارالعلوم شمارہ جمادی الثانی ۱۳۷۲ھ)
معلوم ہوا کہ ملک کی خدمت اور اس کی آزادی سے ہم کنار کرنے کا جذبہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے، اسی طرح جو مدارس دارالعلوم کے نہج پر بعد میں قائم کئے گئے ان کے قیام کے مقاصد میں بھی ایک اہم مقصد یہ رہا ہے کہ ایسے رجال کار اور افراد تیار کئے جائیں جو ملک کی تعمیر و ترقی میں موٴثر رول ادا کرسکیں، پھر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے وسیع پیمانے پر جدوجہد کیلئے اکابر دارالعلوم دیوبند نے جمعیة علماء ہند قائم کی جو دارالعلوم کا سیاسی بازو تھی، اکابر جمعیة نے عوام میں بیداری کی لہر پیدا کرنے اور آزادی کے لیے فضا سازگار بنانے میں اہم رول ادا کیا جمعیة نے کانگریس سے بھی پہلے ”کوئٹ انڈیا“ ”ہندوستان چھوڑو“ کا مطالبہ اپنی تجویز کے ذریعہ کیا، مولانا ابوالکلام آزاد نے جمعیة اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے، اور مولانا محمد علی جوہر اور مولانا حسرت موہانی وغیرہ نے آزادی کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔

یہاں امام انقلاب حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی نے اپنے رفقاء کار کے ساتھ مل کر جو آزادی کی تحریک برپا کی تھی، اس پر روشنی ڈالنا مناسب ہوگا یہ تحریک ریشمی رومال کے نام سے مشہور ہوئی ۱۸۵۷/ کی جنگ کی ناکامی کے بعد ملک کی آزادی کے لئے یہ ہمہ گیر تحریک شروع کی گئی تھی، پہلے حضرت شیخ الہند نے فضلاء دیوبند کی ایک تنظیم ثمرة التربیہ قائم کی پھر جمعیة الانصار قائم کی اور اس کے تحت فضلاء کو مربوط کیا اور ان کو منظم اور ٹرینڈ کیا گیا، فضلاء میں کابل اور سرحد کے فضلاء بھی تھے، حضرت سید احمد شہید کی تحریک کے اثرات وہاں باقی تھے حضرت شیخ الہند نے اسی علاقہ کو اپنی تحریک کا مرکز بنایا، پروگرام یہ تھا کہ اس علاقے کو جوش جہاد سے معمور کردیا جائے اور حکومت افغانستان کو آمادہ کیا جائے کہ وہ مجاہدین آزادی ہند کا تعاون کرے اور ٹرکی حکومت سے رابطہ کرکے اسے تیار کیا جائے کہ وہ ہندوستان میں برطانوی حکومت پر حملہ کردے۔ اور اندرون ملک بغاوت و انقلاب کی آگ بھڑکادی جائے اور اندرونی اور بیرونی یورش سے مجبور ہوکر برطانیہ ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ اس کے لئے حضرت شیخ الہند نے اندرون ملک دہلی، لاہور، پانی پت، دین پور، امروت، کراچی، اتمان زئی، ڈھاکہ وغیرہ کو مرکز بنایا، مشن کی کامیابی کے لئے برما،چین، فرانس اور امریکہ وفود روانہ کئے اور ان کی حمایت حاصل کی۔ مولانا عبید اللہ سندھی کو آپ نے کابل میں رہ کر خدمات انجام دینے کا حکم دیا اور خود حجاز مقدس تشریف لے گئے تاکہ وہاں خلافت عثمانیہ کے ذمہ داروں سے مل کر ذہن سازی کی جائے اور ترکی کو برطانوی حکومت کے خلاف حملہ کیلئے راغب کیا جائے چنانچہ حضرت نے گورنر غالب پاشا سے ملاقات کی اس نے مکمل تعاون کیا اور وزیر جنگ ترکی، انور پاشا سے بھی مدینہ منورہ میں حضرت شیخ الہند کی ملاقات ہوئی اور وزیر جنگ ترکی نے اپنے ہرتعاون کا یقین دلایا۔ اس تحریک میں مولانا سندھی نے ایک ریشمی رومال پر ایک خفیہ خط بنوایا تھا اس لئے اس کا نام ریشمی رومال تحریک پڑگیا۔ اس تحریک کے ارکان و معاونین میں حضرت شیخ الہند کے علاوہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، موانا عبید اللہ سندھی، حاجی ترنگ زئی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبدالرحیم رائے پوری، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا صادق کراچوی، خان عبدالغفار خاں سرحدی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا حسرت موہانی، موانا محمد علی جوہر، مولانا عزیر گل، مولانا برکت اللہ بھوپالی، اور غیرمسلم ارکان تحریک میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ، ڈاکٹر متھرا سنگھ، اے پی پی اچاریہ وغیرہ شامل تھے ۔ تحریک کا راز فاش ہوجانے اور حضرت شیخ الہند کے گرفتار ہوجانے کے باعث تحریک کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہوتے رہ گئی لیکن تحریک سے ہندومسلم اتحاد کے ساتھ آزادی کی لڑائی لڑنے کی مضبوط بنیاد قائم ہوگئی۔ حضرت شیخ الہند کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے گاندھی جی کا خلافت کمیٹی اور جمعیة علماء ہند کے پلیٹ فارم اور فنڈ سے پورے ملک کا دورہ کرایا اور ایک ساتھ مل کر جنگ آزادی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیاگیا۔

اس موقع پر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کو سلام عقیدت پیش کرنا بھی ضرری ہے، انھوں نے ساری زندگی حضرت شیخ الہند کے نقش قدم پر چل کر ملک کی آزادی اور تعمیر و ترقی میں صرف کردی اور جمعیة اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے جو کارنامے انجام دئیے وہ آب زر سے لکھے جائیں گے، ۱۹۲۰/ میں جمعیة علماء ہند کے اجلاس عام میں یہ طے کیاگیا کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ موالات و نصرت کے تمام تعلقات اور معاملات حرام ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ (۱) حظابات اور اعزازی عہدے چھوڑدئیے جائیں (۲) کونسلوں کی ممبری ترک کردی جائے (۳) دشمنان دین انگریز کو تجارتی نفع نہ پہنچایا جائے (۴) اسکولوں اور کالجوں میں سرکاری امداد قبول نہ کی جائے (۵) دشمنان دین کی فوج میں ملازمت کو حرام سمجھا جائے (۶) سرکاری عدالتوں میں مقدمات نہ لے جائے جائیں ۱۹۲۱/ جولائی میں کراچی میں تحریک خلافت کے اجلاس میں بھی حضرت مدنی نے مذکورہ تجاویز کا اعلان فرمایا جس کی تائید مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو وغیرہ نے کی، جس کے نتیجہ میں حضرت مدنی وغیرہ کو گرفتار کرلیاگیا ۲۶/ ستمبر ۱۹۲۱/ کو کراچی عدالت میں حضرت مدنی نے پوری بے باکی اور شجاعت کے ساتھ طویل بیان دیا، اور مذکورہ امور کو دہرایا اور فرمایا کہ برطانوی حکومت کی فوج میں ملازمت حرام ہے اگر گورنمنٹ ہماری مذہبی آزادی سلب کرنے پر تیار ہے تو مسلمان اپنی جان تک قربان کردینے کو تیار ہوں گے او رمیں پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان قربان کروں گا اس بیان کے بعد رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر نے حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے قدم چوم لئے (چراغ محمد ص ۱۱۵)

جمعیة کے پلیٹ فارم سے اور جن اکابر علماء نے آزادی اور پھر ملک کی تعمیر و ترقی میں روشن خدمات انجام دیں ان میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا سجاد بہاری، مولانا سید سلیمان ندوی، علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی، شاہ معین الدین اجمیری، مولانا عبدالحق مدنی، مولانا سید محمد میاں دیوبندی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا فخرالدین احمد مراد آبادی، مولانا احمد سعید دہلوی، وغیرہ کے نام شامل ہیں۔#

اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچے یزداں تک

ہیں عام ہمارے افسانے دیوار چمن سے زنداں تک

ملک کی آزادی کے حوالے سے قربانیاں پیش کرنے والے مدارس اسلامیہ کے اکابر علمائے کرام کی خدمات کی ایک جھلک پیش کی گئی اور ”لذیذ بود حکایت دراز تر گفتیم“ کے تحت ذرا دراز نفسی کے ساتھ پیش کی گئی، حقیقت یہ ہے کہ علمائے کرام نے جہاد آزادی کے چمن کو اپنے خون جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا ہے۔
جنگ آزادی میں مدرسوں اور علماء کرام کی قربانیاں 

 از: مولانا شوکت علی قاسمی بستوی استاذ تفسیر و ادب دارالعلوم دیوبند‏
 

مدارس اسلامیہ ہند نے جہالت و ناخواندگی کے قلع قمع، علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت اسلامیہ کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا ہے؛ بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی ان مدرسوں کی خدمات بڑی روشن ہیں، بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے اور ابنائے وطن کو عروسِ حریت سے ہم کنار کرانے میں، مدارس اسلامیہ اور ان کے قائدین کی قربانیاں آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہیں، وہ مدارس اسلامیہ کے جان باز علماء کرام ہی تو تھے جنھوں نے ملک میں آزادی کا صور اس وقت پھونکا جب عام طور پر دیگر لوگ خواب غفلت میں مست، آزادی کی ضرورت و اہمیت سے نابلد اور احساسِ غلامی سے بھی عاری تھے۔

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ ۱۵/ اگست کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کے مبارک و مسعود موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مالٹا اور کالا پانی میں ہر طرح کی اذیتیں جھیلیں اور جان نثاری و سرفروشی کی ایسی مثال قائم کیں جن کی نظیر نہیں ملتی اور ملک کا چپہ چپہ ان کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے
پتہ پتہ بو ٹا بو ٹا حا ل ہما ر ا جا نے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

ملک کا ایک طبقہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ دینی و اسلامی مدارس، قومی دھارے سے بالکل الگ تھلگ، ملکی و قومی مفادات سے بے پروا ہوکرصرف دینی تعلیم کی اشاعت میں لگے رہتے ہیں، مدراس کے فضلا گرد و پیش کے حالات سے بے خبر اور ملکی و قومی خدمت کے شعور واحساس سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ لیکن مدارس اسلامیہ کا شاندار ماضی، اس مفروضہ کو قطعاً غلط اور بے بنیاد قرار دیتا ہے، اور تاریخ ہند کی پیشانی پر ثبت، مدارس اسلامیہ کی ملکی و قومی خدمات اور کارناموں کے نقوش پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کے علماء کرام و فضلاء عظام نے ہمیشہ ملکی مفادات کی پاسبانی اور اپنے خون پسینہ سے چمنستان ہند کی آب یاری کی ہے اور ملک کی آزادی کی تاریخ ان قربانیوں سے لالہ زار ہے، چنانچہ ان ہزاروں علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا خصوصاً حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی، مولانا شاہ اسحاق دہلوی، مولانا عبدالحئی بڈھانوی، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا نذیر حسین دہلوی، مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی عنایت احمد کاکوری،مولانا فرید الدین شہید دہلوی، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، امام حریت مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، قاضی عنایت احمد تھانوی، قاضی عبدالرحیم تھانوی، حافظ ضامن شہید، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رضی اللہ بدایونی، ام

مولانا ابوالحسن علی ندوی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے خطبے سے اقتباس:

مولانا ابوالحسن علی ندوی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے خطبے سے اقتباس:
”اگر مجھ سے کوئی کسی ملک کی تعریف کرے اور بتائے کہ وہ بڑی فوجی طاقت کا مالک ہے، اس کی معاشیات بڑی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، دنیا کی بڑی طاقتوں سے اس کے بڑے اچھے تعلقات ہیں اور ان کی نظر میں اس کا بڑا احترام ہے، تو مجھے یہ سن کر اطمینان نہیں ہوگا۔ میں کہوں گا کہ مجھے یہ بتائیے کہ وہاں کے اسکولوں اور کالجوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے طلبہ تک، نئی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں کس درجے کا احساسِ ذمہ داری پایا جاتا ہے؟ ان میں ضبطِ نفس کی کتنی طاقت ہے؟ ان میں اپنے تاثرات کو حدِ اعتدال میں رکھنے کی کتنی صلاحیت اور قانون کے احترام کی کتنی عادت ہے؟ اگر وہ صاحب کہیں گے کہ اس کی طرف سے تو میں اطمینان نہیں دلا سکتا، تو میں کہوں گا کہ پھر مجھے اس ملک کے حال و مستقبل کے بارے میں کوئی اطمینان نہیں ہے۔“
(بانگ ِدرا، لکھنؤ، مئی، جون، جولائی، ۲۰۰۰ء، سے ماخوذ)

آزادی کا جشن یا احتسابِ آزادی؟

   آزادی کا جشن یا احتسابِ آزادی؟

         ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

علی الصبح ہمارے عزیز، جناب مولانا اقبال کندہ صاحب کے ایک مختصر مگر نہایت مؤثر اقتباس پر نظر پڑی۔ چند الفاظ پر مشتمل یہ اقتباس اپنے اندر ایک گہری فکر اور معنی کی ایک وسیع دنیا سموئے ہوئے تھا۔ خیال آیا کہ کیوں نہ اسی مختصر مگر بامعنی خیال کو بنیاد بنا کر بات کو کچھ آگے بڑھایا جائے؛ اس کے مضمرات پر غور کیا جائے اور چند الفاظ میں سمٹے ہوئے اس سوال کو ایک وسیع تر فکری اور قومی تناظر میں دیکھا جائے۔

آزادی کے جشن کا ایک پہلو یقیناً خوشی، مسرت اور تشکر ہے، مگر اس کا ایک دوسرا، زیادہ سنجیدہ اور ذمّہ دارانہ پہلو احتساب بھی ہے۔ قومیں صرف پرچم لہرا کر، ترانے گا کر اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کے قصّے دہرا کر زندہ نہیں رہتیں؛ قومیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنے ماضی کو شعور کے ساتھ پڑھتی ہیں، اپنے حال کو دیانت داری سے پرکھتی ہیں اور اپنے مستقبل کے لیے اجتماعی کردار اور سمت کا تعین کرتی ہیں۔ اس لیے اگر یومِ آزادی کے کسی اجتماع میں مجھے چند کلمات کہنے کا موقع ملے تو میں محض یہ نہیں کہوں گا کہ "ہمارے باپ دادا نے بڑی قربانیاں دی تھیں"۔ میں اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی ضرور اٹھاؤں گا کہ جن لوگوں کی قربانیوں کا ہم آج جشن مناتے ہیں، کیا ہم نے ان کے تصورِ خدمت، عدل، امانت، ذمّہ داری اور رعیت نوازی کو بھی زندہ رکھا ہے؟

اگر آزادی ہمیں صرف جشن منانے کا موقع دیتی ہے تو یہ اس کے مفہوم کا ایک محدود حصّہ ہے؛ لیکن اگر یہی آزادی ہمیں اپنے اجتماعی سفر کا جائزہ لینے، اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنے اور اپنے مستقبل کی اصلاح کا عزم کرنے پر آمادہ کرتی ہے تو یہی اس کا حقیقی شعور ہے۔ یومِ آزادی کا خطاب بھی اسی وسیع قومی شعور کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ یہ ملک کسی ایک مذہبی گروہ کی جاگیر نہیں؛ اس کی گلیاں، اس کے دریا، اس کی مٹی، اس کی تاریخ اور اس کا مستقبل تمام شہریوں کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اس لیے ہمارے غیر مسلم برادرانِ وطن سے بھی یہی بات کہی جانی چاہیے کہ ہم اپنے ماضی اور اپنے اسلاف کی تاریخ اس لیے نہیں پڑھتے کہ کسی دوسرے مذہب یا برادری کو کمتر ثابت کریں، بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ تاریخ کے تجربات سے اچھی حکمرانی، عدل، رواداری، انسانی وقار اور اجتماعی ذمّہ داری کے اصول تلاش کیے جا سکیں۔

برصغیر کی تاریخ میں مختلف ادوار اور مختلف حکمرانوں کے تجربات موجود ہیں۔ اشوک کے عہد میں بھی ایک کثیر مذہبی معاشرے کے نظم و نسق اور مختلف مذہبی طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کے اصولوں کا اظہار ملتا ہے۔ اسی طرح برصغیر کی اسلامی سیاسی روایت میں بھی عدل، رعایا کی حفاظت، اقلیتوں کے حقوق، امانتِ حکومت اور حکمران کی جواب دہی جیسے تصورات پر مسلسل گفتگو ملتی رہی ہے۔ تاریخ کا اصل سبق یہی ہے کہ اقتدار کی قدر محض اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ اقتدار کس مذہبی یا سیاسی شناخت رکھنے والے شخص کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ وہ اقتدار انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اور عدل کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کرتا ہے۔

اس لیے آج کا بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "ہندو کی حکومت یا مسلمان کی حکومت؟" اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ: کیا حکومت عادل ہے؟ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ کیا شہری کی جان، مال اور عزّت محفوظ ہے؟ کیا کمزور کو طاقتور کے مقابلے میں انصاف مل سکتا ہے؟ کیا ریاست مذہب، ذات، زبان، طبقے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر شہری کو پہلے انسان اور پھر برابر کا شہری سمجھتی ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب "ہاں" میں ہے تو یہ حقیقی ریاستی کامیابی ہے؛ اور اگر جواب "نہیں" میں ہے تو محض جشن، نعرے، پرچم اور تقریریں اس خلا کو پُر نہیں کرسکتیں۔ آزادی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ انسان کو خوف سے آزادی، ناانصافی سے نجات، قانون کے سامنے برابری اور باوقار زندگی کا حق کس حد تک فراہم کرتی ہے۔

یہیں سے یومِ آزادی کا جشن ایک نئے سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے: ہم نے آزادی حاصل تو کرلی، مگر آزادی کے مقصد کو کس حد تک حاصل کیا؟ اور اب ہمیں اسی اصل سوال کی طرف متوجہ ہونا ہوگا۔ یومِ آزادی پر جب ہم اپنے اسلاف اور ان کے ادوارِ حکومت کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں صرف فتوحات، قلعے، بادشاہ اور جنگیں یاد نہیں کرنی چاہئیں؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ حکومت کا مقصد کیا سمجھا جاتا تھا، اقتدار کی ذمّہ داری کیا تھی، رعایا کے حقوق کیا تھے، اور عدل و انصاف کو ریاستی زندگی میں کس مقام پر رکھا جاتا تھا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جشنِ آزادی، احتسابِ آزادی میں بدلتا ہے—اور تاریخ محض ماضی کا قصّہ نہیں رہتی بلکہ ہمارے حال کے لیے آئینہ اور مستقبل کے لیے رہنما بن جاتی ہے۔

برصغیر کی قدیم سیاسی روایت میں بادشاہ سے رعایا کی نگہداشت کی توقع موجود تھی۔ اشوک کے کتبوں میں ریاستی ذمّہ داری کا ایک قابلِ ذکر تصور ملتا ہے۔ اس کے فرامین میں انسانوں اور جانوروں کے لیے طبی علاج، دواؤں اور جڑی بوٹیوں کا انتظام، سڑکوں کے کنارے درخت اور کنویں، مسافروں کے لیے سہولتیں اور عوامی بہبود کا ذکر ملتا ہے۔ نئی دہلی کے نیشنل میوزیم میں محفوظ اشوک کے فرامین کے خلاصے میں بھی رعایا کی بہبود کو حکمران کی ذمّہ داری اور انسان و حیوان دونوں کے لیے طبی انتظامات کا ذکر موجود ہے۔ یہاں تک کہ قدیم ریاستی انتظام کے بعض شواہد میں قحط کے زمانے میں غلہ تقسیم کرنے اور متاثرین کی مدد کرنے کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک اہم اخلاقی سبق ہے: ریاست کا وجود صرف ٹیکس لینے اور حکم جاری کرنے کے لیے نہیں؛ ریاست کا جواز عوام کی جان، مال، عزّت، انصاف اور بنیادی ضروریات کے تحفّظ میں ہے۔

مسلم عہد کے حکمرانوں کو بھی جذبات کے بجائے تاریخ سے پڑھنا ہوگا، مسلم عہد کے بارے میں بھی یہی اصول اختیار ہونا چاہیے۔ ہمیں نہ تو ہر مسلمان بادشاہ کو مثالی اور فرشتہ بنا کر پیش کرنا چاہیے، نہ ہر حکمران کو ظالم ثابت کرنے کے لیے تاریخ کو مسخ کرنا چاہیے۔ مثلاً اکبر کے دور میں ٹوڈرمل کے نظامِ محصولات نے زمین کی پیمائش، پیداوار اور قیمتوں کی بنیاد پر محصول بندی کو منظم کیا۔ بعض اوقات ریاستی محصول اوسط پیداوار کے تقریباً ایک تہائی کے برابر مقرر کیا گیا، جب کہ فصل کی تباہی جیسے حالات میں رعایت کی گنجائش بھی رکھی گئی۔ یہ ایک پیچیدہ مالیاتی نظام تھا؛ اسے نہ آج کے انکم ٹیکس کے برابر سمجھا جا سکتا ہے، نہ موجودہ ریاستی بجٹ کے ساتھ براہِ راست عددی مقابلہ ممکن ہے۔ لیکن اصولی سوال وہی رہتا ہے، ریاست عوام سے جو کچھ لیتی ہے، کیا وہ عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے واپس بھی کرتی ہے؟ یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔

قدیم ریاست میں محصول کبھی زمین سے لیا جاتا تھا، کبھی تجارت سے، کبھی پیداوار سے اور کبھی دیگر ذرائع سے۔ آج کا جدید ریاستی نظام براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، کسٹمز، کارپوریٹ ٹیکس، انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور متعدد دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کرتا ہے۔ لیکن ریاستی مالیات کا اصل اخلاقی اصول تبدیل نہیں ہونا چاہیے: ٹیکس ریاست کا مالِ غنیمت نہیں، عوام کی امانت ہے۔ آج حکومت کے پاس ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونے والی رقم کے علاؤہ قرض، غیر ٹیکس آمدنی اور دیگر ذرائع بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً مرکزی حکومت کے 2024ء-25ء کے حسابات میں ٹیکس آمدنی، غیر ٹیکس آمدنی اور دیگر وصولیوں کے ساتھ ریاستوں کو ٹیکسوں میں ان کا حصّہ منتقل کیا گیا۔ دسمبر 2024ء تک مرکزی حکومت نے ₹9.01؍ لاکھ کروڑ ریاستی حکومتوں کو ٹیکسوں کے حصے کے طور پر منتقل کیے تھے۔

اس لیے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ: حکومت نے کتنا ٹیکس لیا؟ بلکہ سوال یہ بھی ہونا چاہیے: اس ٹیکس کے بدلے عوام کو کیا ملا؟ اس سے کتنے سرکاری ہسپتال بہتر ہوئے؟ کتنے سرکاری اسکول مضبوط ہوئے؟ کتنے دیہات کو صاف پانی ملا؟ کتنی سڑکیں تعمیر ہوئیں؟ کتنے غریب خاندان بیماری کی وجہ سے تباہ ہونے سے بچے؟ کتنے کسانوں کو بحران میں سہارا ملا؟ کتنے بے گھر افراد کو تحفّظ ملا؟ کتنی عدالتیں عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی ہوئیں؟ کتنے نوجوانوں کو باعزّت روزگار ملا؟ اور سب سے بڑھ کر: کیا عام شہری خود کو ریاست کا برابر کا مالک سمجھتا ہے یا محض ایک عدد؟ یہی اصل احتساب ہے۔

اسلامی سیاسی فکر میں بیت المال کا تصور محض حکمران کی ذاتی تجوری کا تصور نہیں تھا۔ اس کا بنیادی اخلاقی مفہوم یہ تھا کہ عوامی وسائل کو امانت سمجھا جائے۔ حکمران کا محل عوامی فلاح سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ حاکم کا پروٹوکول شہری کی عزّت سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ سرکاری اخراجات حکمرانوں کی آسائش کے لیے ہوں اور عوام بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں تو ریاست کا اخلاقی توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہی اصول دنیا کی دوسری قدیم ریاستی روایتوں میں بھی مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے۔ اشوک کے فرامین میں حکمران اپنی ذمّہ داری کو رعایا کی خوشی اور بہبود سے جوڑتا ہے؛ سڑکوں، کنوؤں، درختوں، طبی سہولتوں اور کمزور طبقات کے لیے انتظامات اسی تصور کی مثالیں ہیں۔ ہمیں اس سے یہ سبق لینا چاہیے کہ ریاست کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کے عوام کی حالت سے ناپی جاتی ہے۔

یہ بھی انصاف نہیں ہوگا کہ آج کے ہندوستان کی تمام کامیابیوں کو نظر انداز کرکے صرف ناکامیوں کی تصویر پیش کی جائے۔ آج ملک نے طب، خلائی تحقیق، انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، صنعت اور مواصلات میں بڑی ترقی کی ہے۔ صحت کے میدان میں بھی کئی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں؛ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بھارت نے 2024ء میں ٹریکوما کو عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر ختم کرنے کی منزل حاصل کی اور بعض متعدی بیماریوں کے خاتمے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ یہ کامیابیاں قوم کی مشترکہ محنت ہیں؛ انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔

لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ سوال ختم ہوگئے۔ اگر جدید ہسپتال موجود ہیں مگر غریب مریض علاج کے اخراجات سے خوف زدہ ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر عدالتیں موجود ہیں مگر انصاف تک رسائی وقت اور دولت سے مشروط محسوس ہوتی ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر قانون موجود ہے مگر کمزور شہری خود کو طاقتور کے مقابلے میں بے بس محسوس کرتا ہے، تو سوال باقی ہے۔ اگر انتخابات ہوتے ہیں مگر شہری کو پانچ سال بعد ووٹ کے علاؤہ مسلسل شرکت، احتساب اور باعزّت سماجی وجود کا احساس نہیں ہوتا، تو سوال باقی ہے۔ اور اگر ریاست کی کامیابی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی، ایکسپریس وے، عمارتیں اور عالمی رینکنگ بن جائے، مگر ایک غریب انسان کی عزّتِ نفس، ایک کسان کی بے بسی، ایک مزدور کی اجرت اور ایک مریض کی مجبوری ہماری گفتگو سے غائب ہو جائے تو ہمیں اپنی ترقی کے تصور پر بھی نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

ہم آزادی کو اکثر 15؍ اگست 1947ء تک محدود کر دیتے ہیں۔ مگر آزادی کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے: بھوک سے آزادی۔ جہالت سے آزادی۔ بیماری کے خوف سے آزادی۔ ظلم سے آزادی۔ ناانصافی سے آزادی۔ رشوت سے آزادی۔ ذات پات کی تحقیر سے آزادی۔ مذہبی تعصب سے آزادی۔ خوف سے آزادی۔ اور اس احساس سے آزادی کہ قانون صرف طاقتور کے لیے ہے۔ جس ملک کا غریب شہری ہسپتال کے دروازے پر اپنی جیب دیکھ کر علاج کا فیصلہ کرے، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ جس مزدور کو اپنے حق کی اجرت کے لیے برسوں بھٹکنا پڑے، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ جس کسان کو اپنی پیداوار کے باوجود معاشی بے یقینی لاحق ہو، وہاں آزادی کا ایک باب ابھی تشنہ ہے۔ اور جس شہری کو یہ خوف ہو کہ اس کی شناخت، زبان، مذہب، ذات یا سیاسی رائے اس کے شہری حقوق پر اثر انداز ہوسکتی ہے، وہاں بھی آزادی کا ایک باب ابھی مکمل نہیں ہوا۔

ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں—یہ حقیقت ہے۔ کسی نے جیل کاٹی، کسی نے جان دی، کسی نے گھر چھوڑا، کسی نے ہجرت کی، کسی نے اپنا کاروبار گنوایا، کسی نے خاندان سے جدائی برداشت کی۔ لیکن ان قربانیوں کا سب سے بڑا احترام یہ نہیں کہ ہم ہر سال انہیں چند جذباتی جملوں میں دہرا دیں۔ ان قربانیوں کا حقیقی احترام یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بنائیں جس میں ان قربانیوں کا مقصد زندہ رہے۔ اگر آزادی کا مقصد انصاف تھا تو انصاف پیدا کریں۔ اگر آزادی کا مقصد انسانی وقار تھا تو انسان کی عزّت کریں۔ اگر آزادی کا مقصد استحصال سے نجات تھا تو معاشی استحصال کم کریں۔ اگر آزادی کا مقصد خود اختیاری تھا تو شہری کو بااختیار بنائیں۔ اگر آزادی کا مقصد بہتر مستقبل تھا تو بچّوں کو بہتر تعلیم، مریض کو بہتر علاج، کسان کو تحفّظ، مزدور کو عزّت اور نوجوان کو باوقار روزگار دیں۔ ورنہ ہم اپنے اسلاف کی قبروں پر پھول تو چڑھاتے رہیں گے، مگر ان کے خوابوں کی قبر پر بھی روز نئی مٹی ڈالتے رہیں گے۔

آج ہمیں اپنے آپ سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے "ہم نے آزادی کیسے حاصل کی؟"۔ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے: "ہم نے آزادی کو کیا بنا دیا؟"۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے: "ریاست شہری کے لیے ہے یا شہری ریاست کے لیے؟"۔ "خزانہ حکمرانوں کی آسائش ہے یا عوام کی امانت؟"۔ "ہسپتال عمارت ہے یا شفا کا مرکز؟"۔ "عدالت عمارت ہے یا انصاف کی امید؟"۔ "پارلیمان صرف قانون بنانے کی جگہ ہے یا عوام کی آواز کا امین؟"۔ "ٹیکس محض وصولی ہے یا ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا معاہدہ؟"

اور سب سے بڑھ کر کیا ہمارا سب سے کمزور شہری بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ملک میرا ہے، یہ قانون میرا محافظ ہے، یہ ریاست میری خادمہ ہے، اور میری عزّت اس ملک میں اتنی ہی محترم ہے جتنی کسی طاقتور شخص کی؟"۔ اگر اس سوال کا جواب ہم پوری دیانت سے "ہاں" میں دے سکیں تو سمجھئے آزادی کا جشن حقیقی معنوں میں کامیاب ہے۔ ورنہ ہمیں جشن کے ساتھ محاسبہ بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف ماضی پر فخر کرکے عظیم نہیں بنتیں؛ وہ ماضی کی اچھی روایات کو حال کی ضرورتوں سے جوڑ کر مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ اور شاید یومِ آزادی کا سب سے خوب صورت پیغام یہی ہے آزادی ہمیں صرف یہ حق نہیں دیتی کہ ہم اپنے پرچم پر فخر کریں؛ آزادی ہمیں یہ ذمّہ داری بھی دیتی ہے کہ اس پرچم کے سائے میں رہنے والے ہر انسان کی عزّت، جان، مال، صحت اور انصاف کی حفاظت کریں۔

یہی اسلاف کی حقیقی میراث ہے۔
یہی ریاست کی اصل ذمّہ داری ہے۔
اور یہی آزادی کا اصل امتحان بھی۔

کیا واقعی علماء قیادت کے اہل نہیں؟

کیا واقعی علماء قیادت کے اہل نہیں؟
ایک بے لاگ جائزہ
شعیب رضا فاطمی 
ملک کے معروف عالم و دانشور ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اپنے حالیہ مضمون جو معارف میں شائع ہواہے میں ہندوستانی علماء کرام اور نظامِ مدارس کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں، وہ یقیناً چونکا دینے والے ہیں۔ ان کی تحریر کا سب سے اہم اور متنازعہ نکتہ یہ ہے کہ ملت کے عام مسلمان علماء کو اپنا قائد اور رہنما تو مانتے ہیں، لیکن موجودہ علماء قیادت کے اہل نہیں ہیں کیونکہ وہ ملک اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، سیاسی و سماجی نظام، میڈیا کی زبان اور جدید تقاضوں سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ یہ بات بہت سوں کو ناگوار گزر سکتی ہے، لیکن اس پر جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کوئی نئی بات کہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلم دانشوروں، مصلحین اور خود متعدد علماء کی جانب سے مدارس کے نصاب، طریقۂ تعلیم اور قیادت کے بحران پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلے کو نسبتاً دوٹوک اور بے پردہ انداز میں بیان کر دیا ہے۔
لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پورے ہندوستان کے علماء کرام کے بارے میں یہ عمومی فیصلہ دینا درست ہے کہ وہ قیادت کے اہل نہیں ہیں؟ کیا یہ حقیقت کے مطابق ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
اگر ہندوستان کے علماء واقعی قیادت کے اہل نہ ہوتے تو آزادی کی تحریک میں مولانا محمود حسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کے رفقاء کا کردار تاریخ میں اس قدر روشن نہ ہوتا۔ اگر علماء قیادت سے ناواقف ہوتے تو بابری مسجد سے لے کر شہریت ترمیمی قانون (CAA) تک متعدد مواقع پر مسلم عوام کی اجتماعی رہنمائی ممکن نہ ہو پاتی۔ اگر علماء مکمل طور پر حالاتِ حاضرہ سے بے خبر ہوتے تو ملک بھر میں چلنے والے ہزاروں تعلیمی، رفاہی اور سماجی ادارے ان کی سرپرستی میں کامیابی سے کام نہ کر رہے ہوتے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ علماء نااہل ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے تقاضے ان روایتی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکے ہیں جن کے ذریعے گزشتہ صدی میں قیادت کی جاتی تھی۔
آج قیادت صرف فقہ، حدیث اور تفسیر جاننے کا نام نہیں رہی۔ آج قیادت کے لیے آئینِ ہند کی سمجھ، میڈیا کے مزاج کا ادراک، بین الاقوامی سیاست کا شعور، معاشیات، قانون، ٹیکنالوجی اور ابلاغ عامہ کی مہارت بھی ضروری ہے۔ دنیا بدل چکی ہے لیکن مسلم معاشرے کے بہت سے ادارے اس تبدیلی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکے۔ یہی وہ خلا ہے جس کی طرف ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اشارہ کر رہے ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستانی مسلمان گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ ان کے خلاف سیاسی بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں، میڈیا ٹرائل ہوتے ہیں، قانونی اور آئینی مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن اکثر مواقع پر مسلم سماج کے پاس ایسے ترجمان کم نظر آتے ہیں جو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اپنی بات رکھ سکیں۔ اس کا نقصان پوری ملت کو اٹھانا پڑتا ہے۔
تاہم اس ناکامی کی تمام ذمہ داری صرف علماء پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ آخر جدید تعلیم یافتہ مسلم طبقہ کہاں ہے؟ کتنے مسلم بیوروکریٹس، وکلا، صحافی، پروفیسرز اور کارپوریٹ ماہرین اپنی قوم کے اجتماعی مسائل میں سنجیدگی سے حصہ لیتے ہیں؟ اگر علماء سے قیادت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو جدید تعلیم یافتہ طبقے کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔
اصل بحران قیادت کا نہیں بلکہ قیادت کی یک رخی ساخت کا ہے۔ ایک ایسا سماج جو صرف علماء پر انحصار کرے گا، وہ بھی ادھورا رہے گا اور ایک ایسا سماج جو علماء کو مکمل طور پر نظرانداز کر دے گا، وہ بھی اپنی روحانی اور تہذیبی بنیادوں سے محروم ہو جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی اور عصری علوم کے حامل افراد مل کر ایک مشترکہ قیادت تشکیل دیں۔
مدارس کے نظام میں اصلاح کی بحث بھی نئی نہیں ہے۔ خود اکابر علماء نے مختلف ادوار میں نصاب میں تبدیلیوں اور عصری مضامین کی شمولیت کی حمایت کی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ہونی چاہیے یا نہیں ،سوال یہ ہے کہ تبدیلی کی نوعیت کیا ہو اور اس کا مقصد کیا ہو۔ اگر مدارس اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے زبان، ابلاغ، قانون، سماجیات، سیاسیات اور ٹیکنالوجی کی بنیادی تعلیم شامل کریں تو یقیناً اس سے فارغین کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر اصلاح کے نام پر مدارس کو اپنی روح اور مقصد سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ بھی نقصان دہ ہوگا۔
مسلمانوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا المیہ تعلیمی پسماندگی، معاشی کمزوری، سیاسی بے وزنی اور فکری انتشار ہے۔ ان مسائل کا حل نہ صرف مدارس کے پاس ہے اور نہ صرف یونیورسٹیوں کے پاس۔ یہ ایک اجتماعی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے جس میں علماء، دانشور، ماہرینِ تعلیم، صنعت کار، صحافی اور نوجوان سب شریک ہوں۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی تحریر سے جزوی طور پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے بعض عمومی نتائج کو مبالغہ آمیز بھی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے اٹھائے ہوئے بنیادی سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو قومیں خود احتسابی سے بھاگتی ہیں، وہ تاریخ کے دھارے سے بھی باہر ہو جاتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم علماء کے دفاع یا مخالفت میں صف بندی کریں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں مسلم قیادت کیسی ہونی چاہیے۔ ایسی قیادت جو دین سے بھی واقف ہو اور دنیا سے بھی، جو مسجد کے منبر پر بھی مؤثر ہو اور پارلیمنٹ کے ایوان میں بھی، جو عربی اور اردو بھی جانتی ہو اور انگریزی و ہندی میں بھی اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہو، جو مذہبی شناخت کی محافظ بھی ہو اور قومی مسائل کی فہم بھی رکھتی ہو۔
اگر ہم یہ توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو شاید ہماری تقدیر واقعی بدل سکتی ہے۔ اور اگر ہم صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے تو پھر ہماری کمزوریاں ہمارے مخالفین سے زیادہ ہمارا اپنا نقصان کرتی رہیں گی۔

علماء کرام کا فرض منصبی ہے وہ گمراہ کرنے والوں کی گمراہی و بدعت سے مسلمانوں کو آگاہ کریں

علماء کرام کا فرض منصبی ہے وہ گمراہ کرنے والوں کی گمراہی و بدعت سے مسلمانوں کو آگاہ کریں.

حضرت ابوتمیم جیشانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو آپ ﷺ کے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے ،‘‘جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ ﷺ تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ گمراہ کرنے والے رہنماؤں سے .‘‘

عن أبي تميم الجيشاني ، قال : سمعت أبا ذر يقول : كنت مخاصر النبي صلى الله عليه وسلم يوما إلى منزله، فسمعته يقول : " غير الدجال أخوف على أمتي من الدجال " فلما خشيت أن يدخل، قلت: يا رسول الله، أي شيء أخوف على أمتك من الدجال؟ قال : " الأئمة المضلين ".
【 مسند أحمد : جـ ٣٥ ، صـ ٢٢٣ ، رقم الحدیث : ٢١٢٩٧ ، ط : مؤسسة الرسالة 】
 *" اصلاحی اقتباسات "

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم