بسم اللّه الرحمن الرحيم
مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟
از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
کبھی کبھی آدمی کسی ایسے سوال سے دوچار ہوجاتا ہے جس کا جواب اگر عقل سے دیا جائے تو بہت آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اسے بعض لوگوں کے ذہنی سانچوں میں رکھ کر دیکھا جائے تو وہ اتنا پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ آدمی کو اپنے عقل مند ہونے پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے ہی سوالوں میں ایک سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟
یہ سوال میں نے ایک دن میر صاحب کے سامنے رکھا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ شاید تاریخِ سائنس کے صفحات الٹیں گے، مسلمانوں کے علمی زوال کے اسباب بیان کریں گے، یورپ کی صنعتی ترقی اور مسلم دنیا کی پسماندگی کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے، یا کم از کم سائیکل کے موجد کا نام بتاکر میری علمی تشنگی دور کردیں گے۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ سائیکل کی ایجاد کا مسئلہ بالآخر بدعت کے مسئلے تک پہنچے گا، اور دو پہیوں والی یہ معمولی سی سواری ہمیں فقہی اصولوں کی ایسی شاہراہ پر لے جائے گی جہاں سائیکل تو کہیں پیچھے رہ جائے گی اور بدعت آگے آگے دوڑتی ہوئی نظر آئے گی۔
میں نے گفتگو کا آغاز اس خیال سے کیا کہ مسلمانوں نے بہت سی چیزیں ایجاد نہیں کیں اور ان کی عدمِ ایجاد کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں نے بینک ایجاد نہیں کیا۔ اس کی وجہ مجھے بہت صاف معلوم ہوتی ہے۔ بینک کا بنیادی تصور سودی سرمایہ داری سے وابستہ ہے، اور اسلام تو غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور عدل کا دین ہے۔ بینک اگر غریب کی ضرورت کو اپنے منافع کا ذریعہ بنادے تو یہ غریب کے خون کو چوسنے کی ایک مہذب، قانونی اور ٹائی باندھے ہوئے شکل ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے بینک ایجاد نہیں کیا۔
پھر مسلمانوں نے جدید قومی ریاست بھی ایجاد نہیں کی۔ یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ قومی ریاست نے دنیا کو نقشوں پر خانوں میں تقسیم کیا، سرحدوں کو مقدس بنایا، انسان کو انسان سے جدا کیا، اور کبھی کبھی ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابل لا کھڑا کیا۔ ظلم کے اس نظام کو مسلمان اپنی طرف سے ایجاد کیوں کرتے؟
اسی طرح مسلمانوں نے موبائل فون ایجاد نہیں کیا۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ موبائل فون میں اگرچہ بہت سے فوائد ہیں، لیکن اس کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں۔ آدمی اسے ہاتھ میں لیتا ہے تو معلوم نہیں رہتا کہ وہ فون استعمال کررہا ہے یا فون اسے استعمال کررہا ہے۔ ایک زمانے میں انسان اپنی جیب میں موبائل رکھتا تھا، اب موبائل انسان کو اپنی جیب میں رکھتا ہے۔ قرآن پڑھنے کے لیے موبائل کھولا جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد آدمی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے خود نہیں معلوم کہ وہ آیا کیوں تھا۔ سو مسلمانوں نے موبائل ایجاد نہ کیا تو شاید اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی۔
کار اور ہوائی جہاز بھی مسلمانوں کی ایجاد نہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے اچھی بات ہے۔ کار دھواں چھوڑتی ہے، ہوائی جہاز فضا میں کاربن چھوڑتا ہے، پٹرول جلتا ہے، ماحول خراب ہوتا ہے، اور انسان ہزاروں میل کا سفر صرف اس لیے کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے پیروں کے نیچے اور چھوٹا دیکھ سکے۔ مسلمان اگر یہ چیزیں ایجاد نہ کرسکے تو کم از کم ماحولیات کے خلاف ایک جرم سے تو محفوظ رہے!
لیکن میرے ذہن میں ایک سوال مدت سے گردش کررہا تھا: مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟
یہ سوال اس لیے زیادہ دلچسپ ہے کہ سائیکل نہ بینک ہے، نہ موبائل فون، نہ قومی ریاست، نہ ہوائی جہاز۔ اس میں نہ سود ہے، نہ پٹرول، نہ دھواں، نہ کاربن کا وہ ہجوم جو آج کے ماحولیات کے ماہرین کو پریشان کرتا ہے۔ اس میں آدمی اپنے پاؤں سے توانائی پیدا کرتا ہے اور اپنے پاؤں سے ہی اسے حرکت دیتا ہے۔ رفتار بھی ہے، مگر ایسی نہیں کہ آدمی کو اپنے ہی شہر کے لوگوں سے ملنے کا وقت نہ ملے۔ اونٹ اور گدھے کے مقابلے میں خرچ بھی کم ہے، خوراک بھی کم چاہیے، اصطبل بھی نہیں چاہیے، اور راستے میں اگر تھک جائے تو خود ہی رک سکتا ہے۔
مزید یہ کہ سائیکل چلانا ورزش بھی ہے۔ آدمی ایک ہی وقت میں سفر بھی کرتا ہے اور ورزش بھی۔ یعنی ایک کام کے اندر دوسرا کام! اگر کفایت شعاری، صحت، ماحولیات اور نقل و حمل سب کو ایک چیز میں جمع کرنا ایجاد کا معیار ہے تو سائیکل اس امتحان میں بدرجۂ اتم کامیاب ہے۔
میں نے یہ اشکال میر صاحب کے سامنے پیش کیا۔ وہ کچھ دیر سوچتے رہے۔ مجھے امید ہوئی کہ اب کوئی بڑا علمی جواب سامنے آئے گا۔ آخرکار فرمایا: "تمہاری بات تو سولہ آنے درست ہے!"
میں نے دل میں کہا: الحمدللہ! سائیکل کی ایجاد کا دروازہ کھل گیا۔ پھر میں نے عرض کیا: "ضرورت ایجاد کی ماں ہے، اور سائیکل ہمیشہ سے انسانوں کی ضرورت رہی ہے۔"
لیکن بات یہاں ختم نہ ہوئی۔ مجھے خیال آیا کہ مسلمانوں نے طب میں اتنی تحقیق کی۔ ابن سینا نے بیماریوں، علاج اور انسانی جسم کے بارے میں اتنی تفصیل سے لکھا۔ دوسرے مسلمان اطبا نے صدیوں تک طب کی خدمت کی۔ اگر وہ سائیکل ایجاد کرلیتے تو شاید کتنی ہی بیماریاں پیدا نہ ہوتیں۔ آدمی روزانہ سائیکل چلاتا، جسمانی ورزش ہوتی، موٹاپا کم ہوتا، دل مضبوط ہوتا، اور شاید جدید انسان کو آج جم کی فیس ادا کرکے سائیکل چلانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
میر صاحب نے فوراً اس بات سے اختلاف کیا۔ فرمایا: "مجھے تمہاری آخری بات سے قطعاً اتفاق نہیں۔ صحت کے لیے سائیکل سب سے بہتر چیز نہیں۔ کشتی ہے، یا پھر کبڈی ہے۔"
میں نے کہا: "لیکن کشتی اور کبڈی تو سائیکل سے پہلے دنیا میں موجود تھیں۔ اگر مسلمانوں نے سائیکل ایجاد کرلی ہوتی تو کوئی نئی چیز تو ہوتی!"
انہوں نے فرمایا: "اسی لیے مسلمانوں پر کوئی الزام نہیں آتا۔"
میں کچھ دیر خاموش رہا۔ میں نے سوچا کہ شاید اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم ایجاد کو صرف اس وقت ایجاد سمجھتے ہیں جب اس میں کوئی ایسا عنصر نہ ہو جو پہلے سے موجود چیزوں میں پایا جاتا ہو۔
میں نے عرض کیا: "میر صاحب! سائیکل میں اصل چیز یہ ہے کہ وہ ٹرانسپورٹ ہے، ورزش ثانوی چیز ہے۔ آدمی سائیکل پر بیٹھ کر کہیں جاتا ہے۔ ورزش اس کا لازمی مقصد نہیں، ایک ضمنی فائدہ ہے۔"
میر صاحب مسکرائے اور فرمایا: "تمہاری اس بات کا جواب میرے پاس پوشیدہ ہے۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں نے سائیکل کیوں ایجاد نہیں کی۔"
میں فوراً سمجھ گیا کہ اب بات سائیکل سے آگے نکلنے والی ہے۔ میں نے پوچھا: "وہ کیسے؟" فرمایا: "تم نے یہ نہیں سنا کہ اگر کوئی شخص سلام کرے اور اسی وقت ’صلی اللہ علی محمد‘ بھی کہہ دے تو یہ بدعت ہے؟"
میں نے کہا: "بالکل، سنا ہے۔"
فرمایا: "تو یہی معاملہ ہے۔ دو اچھی چیزیں الگ الگ اچھی ہیں، مگر انہیں ملا دیا جائے تو بدعت ہوجاتی ہے۔"
میں نے کہا: "بالکل، دو الگ الگ اچھی چیزوں کو بلا دلیل اس طرح ملا دینا کہ اسے دین کا مستقل طریقہ سمجھا جائے، یہ بدعت ہوسکتی ہے۔"
میر صاحب نے فرمایا: "بس! یہی سائیکل کا مسئلہ ہے۔ اس میں دو اچھی چیزوں کو جمع کردیا گیا ہے: ٹرانسپورٹ اور ورزش۔"
میں نے سوچا کہ یہ کیا خوب اصول دریافت ہوا ہے! اگر دو مفید چیزوں کو جمع کردینا بدعت ہے تو انسانی تہذیب کی نصف سے زیادہ ایجادات تو اسی لمحے مشتبہ ہوجائیں گی۔
میں نے عرض کیا: "میر صاحب! پھر تو میلاد بھی بدعت ہونا چاہیے۔"
وہ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: "دیکھیے، عید ایک الگ چیز ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ولادت ایک الگ چیز۔ اگر دو الگ چیزوں کو جمع کرنا بدعت ہے تو میلاد میں بھی دو الگ چیزوں کو جمع کیا گیا: ایک طرف عید کا تصور، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا ذکر۔
پھر تو آپ کے اصول کے مطابق وہاں بھی وہی اشکال پیدا ہونا چاہیے جو سائیکل میں ہے۔"
میر صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس مجھے دیکھتے رہے۔ میں بھی خاموش رہا۔ چند لمحے ایسے گزرے جیسے سائیکل کے دونوں پہیے ایک ہی جگہ رک گئے ہوں۔
پھر میر صاحب اٹھے اور جاتے جاتے فرمایا: "لگتا ہے کسی مفتی کی صحبت نے تمہیں خراب کردیا ہے!"
میں نے سوچا، واقعی صحبت کا اثر بڑا عجیب ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں میں سائیکل کے موجد کو تلاش کررہا تھا، اور اب ایک فقہی اصول کے موجد کی تلاش میں ہوں۔
یہ واقعہ میرے لیے محض ایک مجلس کی بات نہیں، بلکہ ہمارے فکری مزاج کی ایک چھوٹی سی تصویر ہے۔ ہم اکثر سوال کا جواب تلاش کرنے کے بجائے ایسا اصول تلاش کرتے ہیں جس سے سوال ہی ختم ہوجائے۔ اگر کوئی پوچھے کہ فلاں چیز کیوں نہیں ہوئی تو ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس کے تاریخی، معاشرتی، اقتصادی اور علمی اسباب کیا تھے؛ ہم ایک ایسا فقہی یا نظریاتی خانہ بنا لیتے ہیں جس میں اسے رکھ کر اطمینان سے کہہ سکیں: "یہ اس لیے نہیں ہوا کہ اس میں فلاں خرابی تھی۔"
حالانکہ دنیا اس طرح نہیں چلتی۔ ایجادات کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ انسان جہاں ضرورت محسوس کرتا ہے، وہاں غور کرتا ہے، تجربہ کرتا ہے، ناکام ہوتا ہے، پھر کامیاب ہوتا ہے۔ کبھی ایک قوم بنیاد رکھتی ہے، دوسری اسے آگے بڑھاتی ہے، تیسری اس میں نئی صورت پیدا کرتی ہے۔ تہذیب ایک ایسی میراث ہے جس میں ہر نسل کچھ نہ کچھ اضافہ کرتی ہے اور کچھ نہ کچھ دوسروں سے حاصل کرتی ہے۔
اگر مسلمان بینک کے بعض نظاموں کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مالیاتی ادارہ قائم ہی نہیں کرسکتے۔ اگر قومی ریاست کے ظلم سے اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی تنظیم اور نظمِ اجتماعی کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ اگر موبائل فون کے نقصانات ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مواصلات کی ایجاد ہی مذموم ہوگئی۔ اور اگر کار ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ مسلمان ایجاد سے دست بردار ہوجائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کریں جو انسان اور ماحول دونوں کے لیے بہتر ہو۔
اور سائیکل؟ سائیکل تو اس پورے قضیے میں شاید سب سے بے قصور چیز ہے۔ نہ اس نے کسی سے سود لیا، نہ کسی غریب کا خون چوما، نہ آسمان میں دھواں چھوڑا، نہ کسی سرحد پر پاسپورٹ مانگا۔ وہ خاموشی سے دو پہیوں پر کھڑی رہی، انسان نے پاؤں مارے اور وہ چل پڑی۔
لیکن ہم نے اسے بھی نہ چھوڑا۔ اس لیے میں اب کبھی سائیکل دیکھتا ہوں تو صرف اس کے دو پہیے نہیں دیکھتا؛ مجھے اس میں دو نظریات بھی نظر آتے ہیں: ایک پہیہ نقل و حرکت کا، دوسرا ورزش کا۔ اور میں سوچتا ہوں کہ اگر انسانی عقل ہر دو اچھی چیزوں کو ملانے سے ڈرے تو شاید تہذیب کبھی آگے نہ بڑھے۔
آخر سائیکل نے کیا گناہ کیا تھا؟ اس نے صرف اتنا کیا تھا کہ انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسے صحت مند بھی رکھنا چاہا تھا۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی خطا تھی۔