مکتب کا نظام وقت کی اہم ضرورت


مکتب کا نظام وقت کی اہم ضرورت
 Maulana Khalid Saifullah Rahmani

موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور ان کی دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کیلئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے۔
بچوں کے لئے دینی مکاتیب کے نظام کو بدرجۂ اولیٰ اہمیت دینی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
قرآن مجید میں جن اولوالعزم پیغمبروں کا ذکر آیا ہے ، ان میں ایک اہم ترین شخصیت حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے ، جن کا مختلف عنوان کے تحت قرآن میں سولہ بار ذکر آیا ہے ۔ ان کے والد حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ، جن کا ایک نام اسرائیل بھی ہے ۔ بنی اسرائیل دراصل ان کی اولاد ہیں اور رسول اﷲ ﷺ کے علاوہ مصر اور عراق کے خطہ میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی خدا کے اولوالعزم پیغمبروں میں ہیں جن کو ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی رضا کے لئے قربان کیا تھا اورعید قرباں ان ہی کی یادگار کے طورپر منائی جاتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے دادا ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جنہوں نے تعمیر کعبہ کی تجدید فرمائی ، حج کے زیادہ تر افعال حضرت ابراہیم ؑ کی قربانیوں اور فرمانبرداریوں کی یاد کو تازہ کرنے کا باعث ہیں اور دنیا کے تین بڑے مذاہب یہودیت ، عیسائیت اور اسلام آپ علیہ السلام کی عظمت پر متفق ہیں ۔قرآن نے خاص طورپر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے توحید پر ایمان و ایقان کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں ابتلاؤں اور آزمائشوں میں پورا اُترنے کے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ آج جو مذاہب توحید کا اقرار کرتے ہیں ، وہ سبھی حضرت ابراہیم ؑ سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں ، حضرت یعقوب ؑ کے صاحبزادے حضرت یوسف علیہ السلام ہیں ، جن کے واقعہ پر قرآن مجید میں ایک مکمل سورہ ’’یوسف ‘‘ کے نام سے موجود ہے اور ان کی داستانِ زندگی کو اﷲ تعالیٰ نے احسن القصص کے نام سے ذکر فرمایا ہے ، گویا حضرت یعقوب علیہ السلام کا پورا خانوادہ نبیوں اور رسولوں کا خانوادہ ہے جس میں باپ ، چچا، دادا ، بیٹا ، سب اﷲ کے پیغمبر ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس خاندان میں کس قدر دین داری ، تقویٰ اور خشیت ِالٰہی رہی ہوگی اور گھر کے پورے ماحول پر کیسی اعلیٰ دینی فضاء سایہ فگن ہوگی۔ ایسے دین دار گھرانے کے افراد سے گناہ اور معصیت کا اندیشہ بھی لوگوں کو نہیں ہوتا ، چہ جائے کہ کفر و شرک کا خوف ان سے ہو ؛ لیکن جب حضرت یعقوبؑ کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے صاحبزادوں سے سوال کیا’’میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے ؟ صاحبزادوں نے جواب دیا : ہم آپ کے خدا ، آپ کے باپ دادا ابراہیمؑ ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے خدا یعنی ایک ہی خدا کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے ۔‘‘(بقرہ: ۱۳۳) 
اسی طرح سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو خود نبی تھے وصیت فرمائی :
’’بے شک اﷲ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے ؛ اس لئے اسلام ہی کی حالت میں تمہیں موت آنی چاہئے ۔‘‘(بقرہ: ۱۳۲)
غور کیجئے ! کہ انبیاء کرام اپنے بچوں کے سلسلہ میں اس بات کے فکر مند ہیں کہ وہ دین پر قائم رہیں اور ان کو دین پر قائم رہنے کی حالت میں موت آئے ، جب انبیاء کو اپنی اولاد کے بارے میں اتنی زیادہ فکر مندی تھی ، تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سلسلہ میں کتنا زیادہ فکر مند رہنے کی ضرورت ہے۔ آج ہماری نفسیات یہ ہے کہ ہم اپنی خاندانی روایات پر یقین کرکے اپنے بال بچوں کے بارے میں مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہمارے بچے اسی دین کے حامل رہیں گے ، جو ہمیں ہمارے ماں باپ کی طرف سے ملا ہے ۔
راقم الحروف کو متعدد مغربی ملکوں کے سفر کا موقع ملا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی ملکوں نے مذہب سے اپنا رشتہ پوری طرح توڑ لیا ہے اور اگر کوئی اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے تو وہ محض روایات کے طورپر ایک تہذیب کے نقطۂ نظر سے عیسائی ہے ، یعنی کچھ مذہبی رسوم ہیں ، جو بطورِ عقیدہ کے انجام نہیں دی جاتیں بلکہ اب وہ تہذیب اور روایت کا حصہ بن چکی ہیں ، لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ جو مسلمان وہاں آباد ہیں اور خاص کر گجراتی مسلمان ، کہ ہندوستان سے زیادہ تر وہی اس ملک میں پہنچے ہیں ان کی نئی نسل میں بھی دین داری کا رجحان بہت ہی قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں یوں محسوس ہوتا ہے کہ لباس عورتوں کے لئے ناقابل برداشت بوجھ ہے ، اور جہاں نوجوان لڑکے نت نئے فیشن کے پرستار ہیں ، وہاں بھی مسلمان خواتین کی اچھی خاصی تعداد برقع پوش ہے ، یا کم سے کم چہرہ کے علاوہ پورا جسم بشمول سر ،ڈھکا ہوا ہے، نوجوان لڑکے باریش ہیں اور ان کی اچھی خاصی تعداد مشرقی لباس اور اسلامی وضع قطع کی حامل ہے ۔اس کے اسباب یوں تو گھریلو ماحول اور طبعی سلامت رَوی ، دینی تحریکوں اور جماعتوں سے تعلق اور خاص کر حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی تحریک دعوت و تبلیغ کی محنت علماء اورمشائخ سے تعلق و ارتباط وغیرہ بھی ہے ؛ لیکن سب سے اہم کردار اس میں نظام مکاتب کا ہے۔ ریاست ِگجرات میں بہت زمانہ سے ایک نظام یہ ہے کہ گاؤں گاؤں میں مکاتب قائم ہیں ، جو طلبہ عصری درسگاہوں میں پڑھتے ہیں ان کے لئے ان مکاتب میں پڑھنا ضروری سمجھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ مکتب کے اوقات میں کھیلتا ہوا مل جائے تو محلہ کے لوگ بے تکلف بچہ کے سرپرست سے پوچھ بیٹھتے ہیں کہ یہ مکتب نہیں جارہا ہے ؟ اور سرپرست کو شرمسار اور معذرت خواہ ہونا پڑتا ہے۔ عام طورپر مکتب کی تعلیم سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں قاعدۂ بغدادی اورپارۂ عم جیسے تیسے پڑھادیا جائے اور چند کلمات اور دُعائیں یاد کروا دی جائیں ، بس یہ کافی ہے ، یقیناً کچھ نہ ہونے کے مقابلے میں ہونا بہتر ہے ؛ لیکن گجرات کے نظم مکاتب کی سطح اس سے بہت بلند ہے۔ یہاں عام طورپر میٹرک تک آٹھ دس سال مکتب کی تعلیم ہوتی ہے ، روزانہ ڈھائی گھنٹہ بچوں کا وقت لیا جاتا ہے۔، ایک معلم پندرہ ، بیس طلبہ کو پڑھاتا ہے۔ ناظرہ قرآن تجوید کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے، کچھ پارے حفظ کرائے جاتے ہیں ، پھر اس کے ساتھ ساتھ آیات و احادیث کے ترجمے ، ایمانیات ، مسائل و احکام ، سیرتِ نبویؐ وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر عربی زبان کی ابتدائی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں ۔گجرات کے مسلمان تاجر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ، وہ جہاں بھی گئے مکتب کا یہ نظام اپنے ساتھ لے گئے ، اس لئے ان کی نئی نسل پر دین داری کی جھلک نمایاں طورپر محسوس کی جاتی ہے ، چاہے وہ کتنے ہی مخالف ِاسلام ماحول میں ہوں ، وہ دوسرے مسلمانوں سے اپنے دینی ربط و تعلق کی بناء پر نمایاں محسوس ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں چونکہ ۱۶؍ سال کی عمر تک سرکاری نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ہر بچہ پر لازم ہے ، اس لئے اتنی عمر تک بچے پابندی سے مکتب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس طرح وہ نیم مولوی تو ہوہی جاتے ہیں اور بعض طلبہ تو قرآن مجید کا حفظ بھی مکمل کرلیتے ہیں ۔بعض اہل بصیرت کا گمان ہے کہ ایشیاء میں جو ملک سب سے پہلے مغربی تہذیب کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا اور جو تیزی سے مغرب کی پیروی کی طرف جارہا ہے ، وہ ہمارا ملک ہندوستان ہے اور مغربی ممالک کو چوںکہ افرادی وسائل کی ضرورت ہے اور ہندوستان کے نوجوان ذہانت ، صلاحیت ، محنت اور فنی مہارت کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کو قبول کرنے کا مزاج بھی رکھتے ہیں ، اسی لئے یہاں کے کارکنان ان کے لئے سب سے زیادہ قابل قبول ہیں ۔ان حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کے لئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے ، کہ زیادہ سے زیادہ مکاتب قائم ہوں۔ یہ مکاتب صرف رسمی انداز کے نہ ہوں ؛ بلکہ اس کا دس سالہ کورس ہو ، جس میں ناظرہ قرآن ، حفظ ، منتخب آیات و احادیث کے ترجمے ، عبادات و معاملات اور شخصی زندگی سے متعلق ضروری احکام ، نیز رسول اﷲ ﷺ اورانبیاء کرام کی سیرت اور تاریخ ہند جیسے اہم مضامین شامل نصاب ہوں اور ان کی باضابطہ تعلیم ہوا کرے ، اُردو زبان بھی اس نصاب کا ایک اہم جزو ہو اور ان طلبہ کو اچھی طرح اُردو لکھنا اور پڑھنا آجائے ؛ تاکہ وہ اپنے اسلاف کے علمی ورثہ سے جڑے رہیں۔ علماء کو ان کا علم ، مشائخ کو ان کی دینی نسبت اور دعوتی کام کرنے والوں کو ان کی دعوتی وابستگی انہیں اپنے بچوں کی طرف سے بے پروا نہ کردے اور یہ خیال نہ پیدا ہوجائے کہ ہماری یہ دینی وابستگی لازمی طورپر ہماری آنے والی نسلوں کو بھی دین سے مربوط رکھے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت یعقوب علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبروں کے اُسوہ کو یاد رکھیں کہ پورا خاندان نبوت کے نور سے منور ہے ، اس کے باوجود انہیں اپنی وفات کے وقت یہی فکر دامن گیر ہے کہ ہماری اولاد دین پر قائم رہے گی یا نہیں ؟ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے ؟ اور کیا ہم نے بھی کبھی اپنی اولاد سے وہی استفسار کیا ہے جو آپؑ نے کیا تھا کہ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ ؟

موجودہ دور میں علماء و مصلحین کے فتنے

علماء ومصلحین کے فتنے
(محدث العصرحضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رح کی ایک نادرتحریر)

سب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ علماء ومصلحین کی جماعتوں میں جو فتنے آج کل رونما ہو رہے ہیں، نہایت خطرناک ہیں ، تفصیل کے لئے موقع نہیں ہے؛ لیکن فہرست کے درجہ میں چند باتوں کو ذکر کرنا ناگزیر ہے۔
 *مصلحت اندیشی کا فتنہ* 
یہ فتنہ آج کل خوب برگ وبار لا رہا ہے ، کوئی دینی یا علمی خدمت کی جائے ، اس میں پیش نظر دنیاوی مصالح رہتے ہیں، اس فتنہ کی بنیاد نفاق ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سی دینی وعلمی خدمات برکت سے خالی ہیں۔
*ہردل عزیزی کا فتنہ* 
جو بات کہی جاتی ہے، اس میں یہ خیال رہتا ہے کہ کوئی بھی ناراض نہ ہو، سب خوش رہیں، اس فتنہ کی اساس حب جاہ ہے۔
 *اپنی رائے پر جمود واصرار* 
اپنی بات کو صحیح وصواب اور قطعی ویقینی سمجھنا، دوسروں کی بات کو درخور اعتناء اور لائق التفات نہ سمجھنا، بس یہ یقین کرنا کہ میرا موقف سو فیصد حق اور درست ہے اور دوسرے کی رائے سو فیصد غلط اور باطل، یہ اعجاب بالرائے کا فتنہ ہے اور آج کل سیاسی جماعتیں اس مرض کا شکار ہیں، کوئی جماعت دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتی، نہ حقِ دینی ہے کہ مخالف کی رائے کسی درجہ میں صحیح ہو، یا یہ کہ شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں جو ہم چاہتے ہیں، صرف تعبیر اور عنوان کا فرق یا "الاہم فالاہم" کی تعیین کا اختلاف ہو ۔
 *سوء ظن کا فتنہ* 
ہر شخص یا ہر جماعت کا خیال یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ہر فرد مخلص ہے اور ان کی نیت بخیر ہے اور باقی تمام جماعتیں جو ہماری جماعت سے اتفاق نہیں رکھتیں، وہ سب خود غرض ہیں، ان کی نیت صحیح نہیں؛ بلکہ اغراض پر مبنی ہیں، اس کا منشا بھی عجب وکبر ہے ۔
 *سوء فہم کا فتنہ* 
کوئی شخص کسی مخالف کی بات جب سن لیتا ہے ، تو فورًا اسے اپنا مخالف سمجھ کر اس سے نہ صرف نفرت کا اظہار کرتا ہے؛ بلکہ مکروہ انداز میں اس کی تردید فرض سمجھی جاتی ہے، مخالف کی ایک ایسی بات میں جس کے کئی احتمال اور مختلف توجہیات ہو سکتی ہیں، وہی توجیہ اختیار کریں گے جس میں اس کی تحقیر وتذلیل ہو، کیا درج ذیل آیت اور حدیث مبارکہ کی نصوص مرفوع العمل ہو چکی ہیں؟ (ان بعض الظن اثم) ، اسی طرح حدیث مبارکہ (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث) ۔بدگمانی سے بچا کرو ؛ کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے.
اور بڑے بڑے جھوٹ اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
 *بہتان طرازی کا فتنہ* 
مخالفین کی تذلیل وتحقیر کرنا، بلا سند ان کی طرف گھناؤنی باتیں منسوب کرنا، اگر کسی مخالف کی بات ذرا بھی کسی نے نقل کردی، بلا تحقیق اس پر یقین کر لینا اور مزے لے کر محافل ومجالس کی زینت بنانا، بالفرض اگر خود بہتان طرازی نہ بھی کریں، دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق صحیح سمجھنا، کیا یہ اس نص قرآنی کے خلاف نہیں؟ {ان جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا}۔اگر آئے تمہارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر، تو تحقیق کرلو.
 *جذبہ انتقام کا فتنہ* 
کسی شخص کو کسی شخص سے عداوت ونفرت یا بدگمانی ہو تو، وہ مجبورًا خاموش رہتا ہے؛ لیکن جب ذرا اقتدار مل جاتا ہے، طاقت آجاتی ہے، تو پھر خاموشی کا سوال پیدا نہیں ہوتا، گویا یہ خاموشی معافی اور درگزر کی وجہ سے نہیں تھی؛ بلکہ بے چارگی وناتوانی اور کمزوری کی وجہ سے تھی، جب طاقت آگئی، تو انتقام لینا شروع کیا، رحم وکرم اور عفو ودر گزر سب ختم ۔
 *حب شہرت کا فتنہ* 
کوئی دینی یا علمی یا سیاسی کام کیا جائے، آرزو یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ داد ملے اور تحسین وآفرین کے نعرے بلند ہوں، در حقیقت اخلاص کی کمی یا فقدان سے اور خود نمائی وریا کاری کی خواہش سے یہ جذبہ پیدا ہو گیا، در حقیقت یہ شرک خفی ہے، حق تعالی کے دربار میں کسی دینی یا علمی خدمت کے وزن اخلاص سے ہی بڑھتا ہے اور تمام اعمال میں قبول عند اللہ کا معیار ہے، اخبارات، جلسے، جلوس اور علماء کے بیرون ملکوں کے دورے زیادہ تر اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں ۔
 *خطبات وتقاریر کا فتنہ* 
یہ فتنہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ لن ترانیاں انتہائی درجہ میں ہوں، عملی کام صفر کے درجہ میں ہوں، قوالی کا شوق دامن گیر ہے، عمل وکردار سے زیادہ واسطہ نہیں.
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ، كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ} (الصف: ۲ ،۳)
اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے، بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے ہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو۔
خطیب اس انداز سے تقریر کرتا ہے کہ گویا تمام جہاں درد اس کے دل میں ہے؛ لیکن جب عملی زندگی سے نسبت کی جائے، تو درجہ صفر ہوتا ہے ۔
 *پروپیگنڈہ کا فتنہ* 
جو جماعتیں وجود میں آئی ہیں، خصوصًا سیاسی جماعتیں ان میں غلط پروپیگنڈہ اور واقعات کے خلاف جوڑ توڑ کی وبا پھیل گئی ہے جس میں نہ دین ہے اور نہ اخلاق ، نہ عقل ہے نہ انصاف ، نہ محض پورپ کی دین باختہ تہذیب کی نقالی ہے، اخبارات، اشتہارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن تمام اس کے مظاہر ہیں ۔
*تنظیم سازی کا فتنہ* 
چند اشخاص کسی بات پر متفق ہوگئے، یا کسی جماعت سے ذرا اختلاف رائے ہوگیا، ایک نئی جماعت کی تشکیل ہوگئی، طویل وعریض اغراض ومقاصد بتائے جاتے ہیں، پروپیگنڈہ کے لئے فورًا اخبار نکالا جاتا ہے، بیانات چھپتے ہیں کہ اسلام اور ملک بس ہماری جماعت کے دم قدم سے باقی رہ سکتا ہے ۔
نہایت دل کش عنوانات اور جاذب نظر الفاظ وکلمات سے قرار دادیں اور تجویزیں چھپنے لگتی ہیں، امت میں تفرقہ اور انتشار اور گروہ بندی کی آفت اسی راستے سے آئی ہے ۔
 *عصبیت وجاہلیت کا فتنہ* 
اپنی پارٹی کی ہر بات خواہ وہ کیسی ہی غلط ہو، اس کی حمایت وتائید کی جاتی ہے اور مخالف کی ہر بات پر تنقید در تنقید کرنا سب سے اہم فرض سمجھا جاتا ہے، مدعی اسلام جماعتوں کے اخبار ورسائل، تصویریں کارٹون، سینما کے اشتہار، سود اور قمار کے اشتہار اور گندے مضامین شائع کرتے ہیں؛ مگر چونکہ اپنی جماعت کے حامی ہیں، اس لئے جاہلی تعصب کی بنا پر ان سب کو بنظر استحسان دیکھا جاتا ہے، الغرض جو اپنا حامی ہو، وہ تمام بد کرداریوں کے باجود پکا مسلمان ہے اور جو اپنا مخالف ہو، اس کی نماز روزہ کا بھی مذاق اڑایا جاتا ہے ۔
*حب مال کا فتنہ*
حدیث میں تو آیا ہے کہ "حب الدنیا رأس کل خطیئۃ" یعنی دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے، حقیقت میں تمام فتنوں کا قدر مشترک حب جاہ یا حب مال ہے، بہت سے حضرات (ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ) کو دنیا کی جستجو اور محبت کے لئے دلیل بناتے ہیں؛ حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ ایک ہے دنیا سے تعلق اور ضروریات کا حصول، اس سے انکار نہیں، نیز ایک ہے طبعی محبت جو مال اور آسائش سے ہو، اس سے بھی انکار نہیں ۔
مقصد تو یہ ہے کہ حب دنیا یا حب مال کا اتنا غلبہ نہ ہو کہ شریعت محمدیہ اور دین اسلام کے تمام تقاضے ختم یا مغلوب ہوجائیں، اقتصاد واعتدال کی ضرورت ہے، عوام سے شکایت کیا کی جائے؟ آج کل عوام سے یہ فتنہ گزر کر خواص (علماء) کے قلوب میں بھی آرہا ہے ، الا ما شاء اللہ اس فتنے کی تفصیلات کے لئے ایک طویل مقالے کی ضرورت ہے، حق تعالی توفیق عطا فرمائے ، ہم ان مختصر اشاروں کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ایک دعا پر ختم کرتے ہیں ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الخَطْمِيِّ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ، اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ، اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِي فِيمَا تُحِبُّ. (ترمذی : ۳۴۹۱)

شیخ یوسف القرضاویؒ کی مشہور چھوٹی مگر بہت گہری کتاب

شیخ یوسف القرضاویؒ کی مشہور چھوٹی مگر بہت گہری کتاب
 جس کا نام ہے "أين الخلل؟" 
 72 صفحات کی یہ چھوٹی سی کتاب اسلامی تحریکوں کی ناکامی پر ایک خود احتسابی ہے۔
جہاں انہوں نے ناکامی کی پانچ بڑی قسم اقسام بتائیں ہیں
 

ان میں سے تیسری بیماری کا نام ہے 
 
"تربیت میں خلل"

وہ لکھتے ہیں: ہم نے تحریکیں کھڑی کر لیں، جماعتیں بنا لیں، نعرے ایجاد کر لیے، لیکن انسان نہیں بنائے۔

اور یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔

تربیت ہے کیا؟
تربیت صرف معلومات دینا نہیں ہے۔ تربیت انسان کے اندر کو بدلنا ہے۔ قرآن اسے "تزکیہ" کہتا ہے۔
"قد أفلح من زكاها وقد خاب من دساها"
ترجمہ: یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا، اور نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا۔
(سورۃ الشمس، آیات ۹–۱۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 13 سال مکہ میں کوئی حکومت قائم نہیں کی، صرف انسان بنائے۔ دارِ ارقم میں وہ تربیت گاہ تھی جہاں ابوبکر و عمر و بلال جیسے رجال بنے۔ پھر ان بنے ہوئے انسانوں نے دنیا بدل دی۔

ہم نے یہ ترتیب الٹ دی۔ ہم انسان بنائے بغیر ہی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔

قرضاویؒ کے مطابق آج تربیت میں تین بڑے خلل ہیں:

1- روحانی تربیت کا خلل:

ہماری مسجدیں آباد ہیں، مگر دل ویران ہیں۔ زبان پر اللہ اکبر ہے، دل میں خوفِ دنیا ہے۔

ہم نے قیام اللیل کو چھوڑ دیا، صبح کے اذکار کو چھوڑ دیا، تنہائی میں اللہ کے سامنے رونے کو چھوڑ دیا۔ ہماری دعوتی سرگرمیاں تو بہت ہیں، مگر اللہ سے تعلق کمزور ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہم تھوڑی سی آزمائش پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ جیل، فقر، یا شہرت آتے ہی ہمارا سارا اخلاص بہہ جاتا ہے، کیونکہ جڑیں گہری نہیں تھیں۔

2- فکری تربیت کا خلل:

ہم نے نوجوان کو سوچنا نہیں سکھایا، صرف نعرہ لگانا سکھایا۔

اسے دلیل نہیں دی، جذبات دیے۔ وہ سوال کرے تو ہم اسے بدتمیز کہہ کر خاموش کرا دیتے ہیں۔ اسی لیے آج کا نوجوان ایک شکوک و شبہات والی ویڈیو دیکھ کر دین سے بدظن ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کی فکری بنیادیں کچی ہیں۔

ہم اسے قرآن کے مقاصد، سنت کی حکمت، فقہ کا تنوع نہیں پڑھاتے۔ بس اپنی جماعت کا لٹریچر رٹا دیتے ہیں۔ ایسا ذہن جو صرف ایک زاویے سے سوچے، وہ کبھی امت کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔

3- اخلاقی اور سلوکی تربیت کا خلل:

یہ سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔

ہم اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، مگر آپس میں حسد، غیبت، بدگمانی، وعدہ خلافی اور تکبر میں ڈوبے ہیں۔ ایک ہی صف میں کھڑے دو بھائی ایک دوسرے کا عیب تلاش کر رہے ہیں۔

قرضاویؒ کہتے ہیں، اللہ نے فتح اخلاق والوں کو دی ہے، نعرے والوں کو نہیں۔ جب صحابہؓ نے کہا "إنا نحب الموت كما تحبون الحياة" تو یہ صرف بات نہیں تھی، یہ ان کا کردار تھا۔

آج ہم سچ میں خیانت کرتے ہیں، امانت میں کوتاہی کرتے ہیں، اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد کیوں نہیں کرتا؟

اس خلل کا نتیجہ کیا نکلا؟
نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری تحریکیں کارکنوں سے بھری ہیں، مگر مردوں سے خالی ہیں۔ شور بہت ہے، اثر کم ہے۔ ہم دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں، خود کو نہیں بدلنا چاہتے۔

علاج کیا ہے؟
علاج وہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا۔

1. خلوت کو جلوت پر مقدم کرو: دن بھر کی مصروفیات سے پہلے رات کا ایک حصہ اللہ کے لیے نکالو۔
2. علم کو عمل سے جوڑو: ہر ہفتے ایک آیت، ایک حدیث کو صرف پڑھو نہیں، اس پر جیو۔
3. چھوٹی جماعت میں تربیت لو: پانچ سات مخلص بھائیوں کی ایسی مجلس بناؤ جہاں تم ایک دوسرے کا محاسبہ کر سکو، نصیحت کر سکو۔

یاد رکھیں، خلل اسلام میں نہیں ہے۔ اسلام آج بھی ویسا ہی کامل ہے جیسا چودہ سو سال پہلے تھا۔ خلل ہم میں ہے۔

جب ہر شخص یہ کہنے کے بجائے کہ "امت میں خلل ہے" یہ کہے کہ "مجھ میں خلل ہے اور مجھے اپنی تربیت کرنی ہے" تو اسی دن سے امت کی تربیت شروع ہو جائے گی۔

ممتحن کیسا ہو

🌷 ممتحن کیسا ہو 🌷
👈 مکتب کا امتحان مکتب والوں سے کروائیں تو زیادہ مناسب ہے۔
👈 ممتحن طریقۂ امتحان سے واقف ہو۔
👈 ممتحن مخلص اور خیر خواہ ہو۔
👈 ممتحن امین ہو۔
👈 ممتحن مشفق ہو (بچوں سے پیار سے سوالات کرے / پیش آئے)۔
👈 نصاب و نظام کے دائرہ میں رہ کر سوالات کرے۔
👈 خارجی سوالات نہ کرے۔
👈 حسب و نسب کی رعایت نہ کرے اور نہ کسی سے مرعوب ہو۔
👈 کیفیت میں حق بات، حق نیت کے ساتھ اور حق طریقے سے لکھے۔
👈 مقصد پر نظر ہو، ذریعہ پر زیادہ نظر نہ ہو۔ جیسے: ایک بچہ صحتِ حروف اور قواعد کے ساتھ اور روانی کے ساتھ قرآن پڑھتا ہو تو مقصد حاصل ہو گیا ہے؛ اب مخرج، قواعد اور ہجے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ میں امتحان میں تین چیزیں دیکھتا ہوں:
👈 مقدارِ واقفیت، یعنی بچوں کو اپنے نصاب کے متعلق کتنی معلومات ہیں۔
👈 مقدارِ دل چسپی، یعنی بچوں نے امتحان میں کس قدر شوق ظاہر کیا۔
👈 مقدارِ ذہنی حیات، یعنی بچوں میں کتنی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔
بہر حال امتحان اصلاح کے لیے ہونا چاہیے نہ تعریف کے لیے۔
سوال: ایک بچے سے کم سے کم کتنے سوالات کرنے چاہییں؟
جواب: جب تک ممتحن کو اطمینان نہ ہو۔
سوال: امتحان اجتماعی ہے یا انفرادی؟
جواب: انفرادی ہے۔
سوال: ایک ساتھ کتنے بچوں کو بلانا چاہیے؟
جواب: ممتحن کی یکسوئی پر ہے، دو چار۔
سوال: مدرس کو ممتحن کے ساتھ بٹھانا چاہیے کہ نہیں؟
جواب: ممتحن کے ساتھ مدرس رہے تو بہتر ہے۔
غلطی ہو تو اصلاح فرمائیں
فقط
الطاف ہتھورنی

لاتور میں منعقد تربیتُ الفضلاء کے پروگرام میںحضرت مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے یہ فکری و تربیتی ملفوظات محض چند جملوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اپنے اندر فکر و بصیرت، اصلاح و تربیت اور تجرباتِ زندگی کے ایک ایک مکمل بیان کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ ہر ملفوظ اپنے دامن میں ایک مستقل پیغام، ایک گہری حقیقت اور انسان کی اصلاح کے لیے ایک مکمل سبق لیے ہوئے ہے۔

لاتور میں منعقد تربیتُ الفضلاء کے پروگرام میں
حضرت مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے یہ فکری و تربیتی ملفوظات محض چند جملوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اپنے اندر فکر و بصیرت، اصلاح و تربیت اور تجرباتِ زندگی کے ایک ایک مکمل بیان کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ ہر ملفوظ اپنے دامن میں ایک مستقل پیغام، ایک گہری حقیقت اور انسان کی اصلاح کے لیے ایک مکمل سبق لیے ہوئے ہے۔

1۔ باسی مطالعہ سے تازہ فتنوں کا مقابلہ نہیں ہوسکتا
باسی مطالعہ سے نئے اور تازہ فتنوں کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ بدلتے ہوئے حالات اور نت نئے فتنوں کے لیے تازہ مطالعہ، گہری فکر اور مسلسل علمی جستجو ضروری ہے۔

2۔ قلتِ مال کا غم ہے، قلتِ اعمال کا نہیں
ہمیں قلتِ مال کا غم تو سوار ہے، مگر قلتِ اعمال، قلتِ مطالعہ، قلتِ صفات اور قلتِ فکرِ آخرت کا کوئی غم نہیں..

3۔ وقت نہیں ملا یا اہمیت نہیں تھی؟
کسی نیک کام کے چھوٹ جانے پر یہ نہ کہیں کہ "وقت نہیں ملا"؛ بلکہ اپنے دل سے پوچھیں کہ کہیں حقیقت یہ تو نہیں کہ اس کام کی اہمیت ہی دل میں نہیں تھی؟

4۔ زندگی کا مقصد متعین کیجیے
زندگی کا ایک مقصد متعین کیجیے، لیکن اس سے پہلے اس مقصد کو دل میں اہمیت دیجیے۔ دل میں کسی کام کی حقیقی اہمیت پیدا ہوجائے تو اس کے لیے گنجائش بھی نکل آتی ہے، ورنہ گنجائش ہوتے ہوئے بھی راستے سکڑ جاتے ہیں۔

5۔ مخلوق سے تعلق بھی خدا کی رضا کے لیے ہو


6۔ قوم کی ایک بڑی کمزوری
یہ قوم مردہ پرست اور زندہ فراموش ہے؛ یعنی گزر جانے والوں کو یاد کرتی ہے، مگر جو زندہ ہیں، ان کی قدر و خدمت اور ان سے استفادہ کرنے میں غفلت برتتی ہے۔

7۔ ظلم سے تقویٰ نے روکا یا موقع نہ ملنے نے؟
ہمیں ظلم سے تقویٰ نے نہیں روکا، بلکہ بہت مرتبہ مواقع کے نہ ملنے نے روکا ہے۔ اصل تقویٰ یہ ہے کہ موقع موجود ہو، اختیار حاصل ہو، پھر بھی انسان اللہ کے خوف سے ظلم سے باز رہے۔

8۔ اولیاء اللہ کی فکر: حسنِ خاتمہ
اولیاء اللہ کو ہمیشہ حسنِ خاتمہ کی فکر سوار رہتی ہے۔ 

9۔ ہم لطیف کے بندے ہیں، لطف کے نہیں
ہم لطیف کے بندے ہیں، لطف کے نہیں۔ کارِ خیر میں لطف آئے یا نہ آئے، آسانی ہو یا دشواری، دل چاہے یا نہ چاہے؛ خیر کا کام خیر ہونے کی وجہ سے کیا جائے گا۔

10۔ وسائل کی کمی نہیں، عزائم کی پستی کا غم ہونا چاہیے

وسائل کی کمی کی فکر تو ہمیں ستاتی ہے، مگر عزائم کی پستی کا کوئی غم نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کتنے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ارادے کتنے بلند ہیں۔

11۔ عدمِ توجہ سب سے بڑی مصیبت ہے
عدمِ ترکیز (کام پر فوکس نہ کرنا) آج کی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے۔ جو شخص اپنے مقصد اور کام پر توجہ مرکوز نہیں رکھتا، وہ اپنی صلاحیتوں کو منتشر کر دیتا ہے۔

12۔ شریعت کی سرحدوں کے مجاہد بن کر جینا

اگر شریعت کی سرحدوں کا مجاہد بن کر جینا اور مرنا ہماری زندگی کا لازمہ بن جائے تو پھر زندگی کا ہر قدم دین کی حفاظت، اس کی سربلندی اور اس کی پاسداری کے لیے اٹھے گا۔

13۔ نبی اور صحابی کے سوا سب کچھ بن سکتے ہو

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کا ایک فکر انگیز جملہ ہے:
"تم نبی اور صحابی کے سوا سب کچھ بن سکتے ہو۔"
اللہ تعالیٰ کی عطا کے دروازے بند نہیں ہیں۔
﴿وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا﴾
یعنی: آپ کے رب کی عطا کبھی ممنوع اور محدود نہیں رہی۔

14۔ موافق حالات میں کسی نے دین کا کام نہیں کیا

آقا کریم ﷺ سے لے کر آج تک کسی نے موافق حالات میں دین کا کام نہیں کیا۔ دین کی خدمت ہمیشہ آزمائشوں، مشکلات اور ناموافق حالات کے درمیان ہوئی ہے۔ اسبابِ تعیش انسان کو سلا دیتے ہیں، جبکہ مشکلات اسے جگاتی ہیں۔

15۔ دین محفوظ ہو تو لوگوں کی قدر و ناقدری بے اثر ہے
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب ایک قول ہے کہ لوگوں کی قدر اور ناقدری کا کوئی اثر نہیں پڑتا، اگر دین محفوظ ہو۔ اصل کامیابی لوگوں کی نگاہ میں مقبول ہونا نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں دین کی حفاظت کے ساتھ سرخرو ہونا ہے۔

16۔ دل شکنی گوارا نہیں، دین شکنی بالکل نہیں

ہم کوشش کریں گے کہ دل شکنی بھی نہ ہو اور دین شکنی بھی نہ ہو؛ لیکن جہاں دین کی حفاظت کا معاملہ ہو اور دونوں میں سے ایک کا انتخاب ناگزیر ہوجائے تو دین شکنی کو ہرگز گوارا نہیں کیا جائے گا۔

17۔ قید اور مشکل حالات بھی کام سے نہیں روک سکتے
غزہ میں ایک قرآنِ مجید سے گیارہ لوگ حافظِ قرآن بن گئے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، عزمِ مصمم ہو تو انسان قید کے زمانے میں بھی کام کرسکتا ہے۔

18۔ خدا کی نصرت کی ایک صورت
خدا کی نصرت صرف ظاہری اسباب اور غیر معمولی واقعات کا نام نہیں؛ یہ بھی اللہ کی نصرت ہے کہ بندے کو اپنے مشن پر استقامت نصیب ہوجائے۔

19۔ بے نفسی پر خدا کی عنایت
حیدرآباد میں بارش کے موسم میں بارش نہیں ہو رہی تھی۔ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو لوگوں نے درخواست کی کہ حضرت! رحمتِ باراں کے لیے دعا فرما دیجیے۔ آپ نے فرمایا:
"جب یہ گنہگار یہاں سے روانہ ہوجائے گا تو بارش ہوگی۔"
اس واقعے سے بے نفسی اور اپنی ذات کو کچھ نہ سمجھنے کا سبق ملتا ہے؛ اور معلوم ہوتا ہے کہ بے نفسی پر خدا کی عنایت ہوتی ہے۔

20۔ دین کی مجلس میں طالب بن کر بیٹھیں
دین کی مجالس میں طالب بن کر بیٹھیں، ناقد بن کر نہیں.. 

21۔ نفسانی موانع، سرکاری موانع سے بڑے ہیں

دین کے کام میں سرکاری موانع اگرچہ رکاوٹ بنتے ہیں، مگر نفسانی موانع اس سے کہیں بڑے ہیں۔ 

22۔ اختیاری تربیت نہ ہو تو اضطراری تربیت آتی ہے

جب بندہ اختیاری تربیت نہیں کرتا تو باری تعالیٰ اسے اضطراری تربیت کے مراحل سے گزارتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شفقت ہے کہ وہ اپنے بندے کو مختلف حالات کے ذریعے سنوارتے اور تربیت فرماتے ہیں۔

23۔ دشمنوں کی سازشوں کے تذکرے ہماری زبانوں پر بہت ہیں، مگر افسوس کہ ہم ان کی جہدِ مسلسل، منصوبہ بندی اور محنت سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ صرف شکایت کافی نہیں؛ ہمیں اپنی محنت اور جدوجہد کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔

24۔ مقام ہمیشہ کام کی وجہ سے ملتا ہے
انسان کو ہمیشہ کام کی وجہ سے مقام دیا جاتا ہے۔ محض نسبت، دعویٰ یا خواہش انسان کو بلند نہیں کرتی؛ مسلسل محنت، اخلاص اور خدمت ہی مقام پیدا کرتی ہے۔

25۔ بڑوں کی شفقت، چھوٹوں کی اطاعت
معاشرے اور دینی جماعتوں میں توازن کے لیے ضروری ہے کہ بڑوں کی طرف سے شفقت ہو اور چھوٹوں کی طرف سے اطاعت... 

26۔ خوبیوں پر نظر رکھنے والا پوری امت کو جوڑ دیتا ہے، جبکہ خامیوں پر نظر رکھنے والا اپنے خاندان سے بھی جڑ نہیں پاتا۔  

27۔ دین کے ہر شعبے کا احترام ضروری ہے
دین کے ہر شعبے کا احترام ہونا چاہیے۔
تبلیغ سے ایمان بنتا ہے، مدرسہ سے جمتا ہے، خانقاہ سے سجتا ہے، اور سیاست سے ان سب شعبوں کو تحفظ ملتا ہے۔


28۔ ضرورت کی تکمیل سے زیادہ ذمہ داری کی فکر
ہمیں صرف اپنی ضرورت کی تکمیل کی فکر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل کی فکر زیادہ ہونی چاہیے.. 

29۔ رزق کو نہیں، رزاق کو یاد کرو*
اے انسان! جتنا تو رزق کو یاد کرتا ہے، اگر اتنا ہی رزاق کو یاد کرنے لگے تو خدا کا ولی بن جائے۔
بسیار خوری سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں، پھر بھی فاقے کا ڈر ستاتا ہے۔ افریقہ میں بھوک سے اتنی اموات نہیں ہوتی جتنی ہمارے یہاں بسیار خوری کی وجہ ہوتی ہیں.. 

30۔ جس کے لیے کام کررہا ہوں وہ بھوکا نہیں رکھے گا
جس اللہ کے لیے میں کام کررہا ہوں، وہ تو فراعنہ کو بھی کھلا رہا ہے، مجھے کیسے بھوکا رکھے گا؟


31۔ جہاں اندازے ختم ہوتے ہیں، وہاں سے خدا رزق دیتا ہے
جہاں سے انسان کے اندازے ختم ہوتے ہیں، وہاں سے خدا روزی دیتا ہے۔ اس لیے اسباب اختیار کرتے ہوئے بھی دل کا اعتماد اسباب پر نہیں، مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے۔

32۔ ضرورت کی حقیقت
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا قول ہے:
"ضرورت وہ ہے جس کے بغیر ضرر ہو۔"


33۔ اسراف بڑھا تو انفاق کم ہوگیا*
اسراف بڑھ گیا، اس لیے انفاق کم ہوگیا۔ جب انسان اپنی آسائشوں اور غیر ضروری اخراجات میں زیادہ خرچ کرنے لگتا ہے تو دوسروں پر خرچ کرنے، صدقہ کرنے اور اللہ کی راہ میں دینے کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔

34 خوش قسمت وہی ہے جو قسمت پر خوش ہو

35۔ قناعت کی حقیقت
قناعت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت ہر کسی کو نہیں ملتی۔ 

36۔ موجود کی ناقدری، مفقود کا غم*
ہماری بڑی کمزوری یہ ہے کہ موجود کی ناقدری اور مفقود کا غم لیے بیٹھے رہتے ہیں۔ جو ہمارے پاس ہے اس کی قدر نہیں کرتے، اور جو ہمارے پاس نہیں ہے اسی کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔

37۔ خدا سے اخلاص، بندوں سے اخلاق
زندگی کا ایک خوبصورت اصول یہ ہونا چاہیے کہ خدا سے اخلاص کا اور بندوں سے اخلاق کا تعلق ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں اخلاص ہو اور مخلوق کے ساتھ معاملات میں حسنِ اخلاق ہو۔

38۔ کام کرکے ڈرنے والے مقبول بندے اور کام کرکے نڈر ہونے والے مردود بندے ہوتے

39۔ دشمن پنپ نہیں سکتا ہماری اندرونی طاقت کے بغیر۔

40۔ احتیاج اور احتجاج کے جذبے کا فرق
احتیاج کے جذبے سے چلنے والا کام پر ٹک جاتا ہے، احتجاج کے جذبے سے چلنے والا کام پر ٹک نہیں پاتا۔ 

*41۔ فرش نہیں، عرش کی نگاہ*
ہمیشہ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ مجھے فرش پر نہیں، عرش پر کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟

آہ ایک اور محراب کا چراغ بجھ گیا. خدارا رحم کریں۔

*آہ ایک اور محراب کا چراغ بجھ گیا!*
 *زیپٹو ڈلیوَری کے دوران دو منزلہ عمارت سے گرکر ایک حافظِ قرآن کی درد ناک موت* 

کل تک جو شخص مسجد کے محراب میں کھڑا ہوکر لوگوں کو اللّٰہ کا کلام سناتا تھا، آج وہی شخص اپنے اہلِ خانہ کو بے سہارا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔

*قاری محمد ساجد خان قاسمی، ساکن سہرسہ، بہار،* گزشتہ 13، 14 برس سے ضلع ٹمکور کے تُرْویکیرے میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بچوں کی تعلیم کی خاطر بنگلور منتقل ہوئے اور آر۔ٹی نگر بنگلور کی اعلیٰ مسجد میں نائب امام کی ذمہ داری سنبھالی، مگر یکم اگست 2026 کو استعفیٰ دے دیا۔

اپنے دو صفحات پر مشتمل استعفیٰ نامے میں انہوں نے بعض ذمہ داران کی جانب سے مسلسل ذہنی اذیت اور تکلیف کا ذکر بھی کیا تھا۔

ایک اہلیہ، دو معصوم بچے (6 سالہ لڑکا اور 3 سالہ لڑکی) اور ایک ضعیف والد کی کفالت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے قاری صاحب نے *زیپٹو میں ڈلیوَری* کا کام شروع کیا۔

*مگر شاید کسی کو خبر نہ تھی کہ جو ہاتھ کبھی قرآن تھامتے تھے، وہی ہاتھ ایک دن ڈلیوری کا سامان اٹھائے موت کے دروازے تک پہنچ جائیں گے۔*

آرٹی نگر کے ایک اپارٹمنٹ میں ڈلیوری کے دوران لفٹ کے لیے بنائی گئی کھلی جگہ سے وہ نیچے جاگرے اور شدید زخمی ہوگئے۔ ایک دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آج صبح ان کی روح پرواز کرگئی۔

آہ۔۔۔۔۔آج ایک امام چلا گیا…
ایک باپ چلا گیا…
ایک شوہر چلا گیا…
ایک بیٹا چلا گیا…
اور اپنے پیچھے ایک اہلیہ، دو بچے (6 سالہ لڑکا اور 3 سالہ لڑکی) اور ایک بوڑھے باپ کو چھوڑ گیا۔

*یہ صرف ایک حادثہ نہیں، ہم سب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔*

 *اِس موقع پر مساجد کے ذمہ داران سے درد مندانہ اپیل کرتی ہے کہ ائمہ و مؤذنین بھی انسان ہیں؛ انہیں عزت، سکون اور حسنِ سلوک کی ضرورت ہے۔ اگر مسجد کی خدمت کرنے والوں کو ہی ذہنی اذیت دی جاتی رہی، تو ایک ایک کرکے باصلاحیت علماء اور حفاظ محرابوں سے دور ہوتے جائیں گے، اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔* 

 *علاقے کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ مکان مالک کے خلاف کیس درج کرائے تاکہ مرحوم کو معاوضہ مل سکے، کیوں کہ جس جگہ سے قاری صاحب گرے تھے، وہ لفٹ کی کُھلی جگہ تھی اور کوئی دیوار یا آڑ، نہیں رکھے تھے، اگر ہم کھڑے ہوں گے تو حافظ صاحب کے اہل خانہ کے لیے کچھ مدد ہوجائے گی* 

اللّٰہ تعالی قاری محمد ساجد خان صاحب قاسمی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

بندہ جب عمل میں کوتاہی کرتاہے تو وہ پچاس پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتاہے

‏بندہ جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے تو اللہ اس کو فکر میں مبتلا کردیتا ہے، اہل و عیال کی فکر میں، بیوی بچوں کی تکلیف میں، معیشت کے اندر منافع کی کمی میں، اولاد کے نافرمان بن جانے میں، بیوی کے ساتھ باہم نفرت ہوجانے میں، وہ جدھر بھی جاتا ہے ٹھوکر کھاتا ہے۔

(شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ)

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم