Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu 031-Purple Bubble Wrap :-

سود کی خباثت کے اثرات

ایک مظلومانہ پکا رسنوعزیزساہوکارو!
ابو صالح شیخ ادریس  ندوی
لوگو:سنو  اگر تمہا رے سینے میں دل ہیں تو سنو، اگر انسانیت کےواسطے کچھ ہمدردی اور خیر خواہی ہو  توسنو ،تمہیں دولت کی جھنکار ،سیم وزر کے انبار اور مال ومتاع کی محبت  نے کیوں بہرا، اندھااورحواس باختہ  کردیا ہے ،یہ  سسکتی اور بلکتی ہوئی انسانیت کی مظلومانہ پکار ہے ،جس  کی زندگی سمندری بھنور میں ہچکولے کھارہی ہے ،کیا تم انسانیت کی پکار بھی نہیں سنوگے وہی انسانیت جس  سے یہ کائنات روشن اور منور ہے ،اور یہ چمن قائم ہے اگر انسانیت کی روح اس کائنات سے نکل جائے تو یہ کائنا ت درندوں کا زو(Zoo)اور ویران کھنڈر بن جائے،کیاآپ جانتے ہیں؟ ستر سالہ بوڑھا ،جس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ ،اور جس کی بینائی میں دھندلاہٹ ہے،تپتی ہوئی دوپہر شعلہ برساتی ہوئی دھوپ میں ٹھیلہ دھکیلتے ہوئےپسینہ سے شرابور ، گلی گلی کیوں گھومتاہے ؟اس لئے کہ سود کی رقم اداکرکے، اپنی بیوی ،بیٹی کی عزت کو سر بازار نیلام ہونے سے بچایا جاسکے، آج کے ساہوکار اور مالدار بھی کیسے ظالم ہیں، کہ انسانیت کی ہمدردی، اورخیرخواہی کو بالائے طاق رکھ کر،مال کی لالچ میں  سود پر قرض دیتے ہیں، اوراس مہلک بیماری نے نہ جانے کتنی پاکدامن ماؤں کو ہوسناک نظروں کا شکار، اور بڑےلوگوں کے گھر میں جھاڑو مارنے پر مجبور کردیااورنہ جانے کتنے ضعیف العمر باپوں سے دن کا سکون اور رات کی نیند چھین لی، اورنہ جانےکتنی ہی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں سودی قرض کی ادائیگی میں مالداروں کے ہاتھ تارتار ہوگئے ،اور کتنے ہی حسین تندرست نوجوان  سودی قرض اداکرتے کرتے بڑھاپے کی دہلیز تک جا پہونچے، اور کتنے ہی انسانوں نے  کسماتے ،اور تڑپتے ہوئے ،خون پسینہ ایک کرنےکےباوجود سود ادانہ ہونے کی بنا پر کسی ریل کے نیچے اپنی بوٹیوںکو بکھیر دیا یا اپنےآپ کوکسی رسی  کےپھندےپر لٹکا دیا ،یاکسی جلتے ہوئے شعلہ میں کود پڑے،اور زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اپنی زندگی عزیز ہی تھی تو  قرض کے ادائیگی کیلئے چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ کھسوٹ ،قتل وغارت گری جیسے خطرناک امراض میں مبتلا تو ہو ہی گیا، جس کی وجہ سے پورا انسانی معاشرہ سکون واطمینان کی سانس لینے سے محروم ہوتاچلاگیا،  اور آج بھی یہ سب کچھ ہورہاہےا،ور ہوتاہی رہے گا، اوران سب کا سبب چند ساہوکاروں(مالداروں) کی نادانی، شقاوت قلبی، اور ہمدردی کافقدان بنا، ائے کا ش اب تو ہو کوئی جو سسکتی انسانیت پر ہمدردی کرکے ان نادانوں کو اس سے روکے اور منع کرے یاخود یہ نادان ہوش وہواس اور غوروفکر سے کام لیں ، یہ اس مظلو م انسانیت کی ایک پکا رہی نہیں بلکہ اس کی جان کے بقا کاسوال ہے، ہوسِ زر میں ڈوبے ہوئے ان ساہوکاروں کے نام اور مالداروں کی طرف جو محبت و انسانیت ،حیا ،و وفا ،سیرت و صور ت ،اوراخلاقی اقدار، غرض ہرخیرپر مال ودولت کو ترجیح دیتے ہیں، جن کی حریصانہ فرمائشوں اور شیطانی مطالبات نے لاکھوں بہنوں اور بیٹیو ں کو گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور کردیا ہے،اور کئی انسان کو خودکشی کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتاردیاہے ، ان کے مطالبات صرف قرض خواہوں تک ہی محدود  نہیں رہتے بلکہ ان کےمرنے کے بعد ان کی  اولادوں تک یہ سلسلہ جاری رہتاہے جو اس بوجھ کو پورا نہ کرنے کی صورت میں ظلم وتشددکا نشانہ بنتی ہیں یا زندہ لاش بن جاتی ہیں یا اس مصیبت سے نجات پانے کیلئےخود کشی کرلیتی ہے ۔ سودکےانہیں خطرناک ،انسانیت سوزنتائج کیوجہ سے انسانوں کے شفیق پروردگارنےاس سےمنع کیااورسخت سےسخت وعیدیں اورڈانٹ سنائی ،تاکہانسانیت اس کھائی میں نہ جاپڑے،لیکن افسوس ۔جس کا اندیشہ تھا وہی ہوگیا ،جہاں ڈرتھاوہی شام ہوگئی ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ کو اس کی سنگینی کااحساس دلایاجائے۔


مذہب اور انسان


مذہب اور  انسان 
از:ابوصالح شیخ ادریس ندوؔی ولی اللٰھی ؔ
مذہب کے ساتھ انسان کے تعلقات کی  دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان مذہب کے مطابق ہوجائے،اپنے ہر فعل وعمل اور پنی ہر حرکت ونظر کو مذہب کے عینک سے دیکھے  اور دوسرا یہ کہ مذہب کو اپنے مطابق بنالے۔اور اپنے خواہشات کے مطابق مذہب کو پیش کرے ۔انبیاء کا زمانہ اس اعتبار سے بہترین ہوتاہے کہ وہ مذہب کو زمانے کی روش میں ڈھالنے کے بجائے لوگوں کو مذہب کے ساچے میں ڈھالتے ہیں اور اس اعتبار سے  آخری نبی ورسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اس اعتبار سے بھی بہترین زمانہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کی عظیم اکثریت مذہب کے مطابق ہوجاتی تھی۔ اس کی ایک وجہ مسلمانوں کے درمیان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی تھی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی ایمان اور عمل کا جو معیار پیدا کرتی تھی وہ کسی دوسری چیز سے ممکن ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہردور کے لیے ایک معیار ہے اور اسوہ قرار پایا ۔ لیکن ہمارے زمانے کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہمارے زمانے کا غالب رجحان مذہب کے مطابق ہونے کا نہیں، مذہب کو اپنے مطابق بنانے کا ہے۔ اس سلسلے میں عوام اور خواص کی کوئی تخصیص نہیں۔ اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا تھا:
                                خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں                ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
اقبال کے اس شعر کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسئلے کی سنگینی بہت بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کا انحراف معمولی انحراف ہوتا ہے۔ عوام کی آنکھوں پر پڑنے والے پردے دبیز نہیں ہوتے۔ لیکن ”فقیہانِ حرم“ کا انحراف ”مدلل“ ہوتا ہے۔ یعنی اہلِ علم مذہب کو اپنے مطابق بناتے ہیں تو اس کا پردہ چاک کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کی خرابی اُپنی حد تک محدود رہتی ہی، لیکن اہلِ علم کی خرابی کئی کئی نسلوں کو لے ڈوبتی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ مذہب کے مطابق بن جانے اور مذہب کو اپنے مطابق بنانے کے معاملات اور نفسیات میں کیا فرق ہے؟اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ مذہب کی کائنات  میں خدا مرکز کائنات ہے۔ اس کائنات میں خدا خالق ہی، مالک ہی، رازق ہی، پیدا کرنے والا ہی، مارنے والا ہی، جزا دینے والا ہی، سزا دینے والا ہی، اس کے ہونے سے ہر شے میں معنی ہیں۔ جن لوگوں کی کائنات فکری اور عملی اعتبار سے خدا مرکز کائنات ہوتی ہے وہ ساری زندگی خود کو مذہب کے مطابق بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ اس لیے کہ مذہب ان کے لیے زندگی کی واحد برتر حقیقت ہوتا ہے۔ اس کائنات میں انسان اور مذہب کا تعلق ذرے اورآفتاب کا ہوتا ہے۔ ذرہ جتنا آفتاب کی روشنی میں ہوتا ہے اتنا ہی منور ہوتا ہے۔ لیکن اب ہماری کائنات خدا مرکز کائنات نہیں۔ عقیدے کی سطح پر خدا آج بھی ہماری کائنات کے مرکز میں موجود ہے لیکن عمل کی سطح پر ہماری کائنات انا مرکز کائنات ہے۔ اس کائنات میں ہماری انا ہی سب کچھ ہے۔ اس تضاد کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری ”آرزو“ مکّے اور مدینے کی ہوتی ہے لیکن ہماری ”جستجو“ ہمیں واشنگٹن ، لندن ،دبئی اور قطر لیے جارہی ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا ہمارے لیے صرف ایک فکری حقیقت ہے، اور یہ فکر عمل پیدا نہیں کررہے۔ ہمارا عمل جس چیز سے پیدا ہورہا ہے وہ خدا نہیں ہماری ”انا کی استعماری قوت“ ہے۔ اس صورت حال میں ہم مذہب کو اپنے مطابق نہیں بنائیں گے تو اور کیا کریں گے؟انسان کا ایک ازلی و ابدی مسئلہ یہ ہے کہ وہ روحانی اور نفسیاتی سطح پر خود کو ناکافی، ادھورا، نامکمل یا Imperfect محسوس کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف مذہب اسے کافی بناسکتا ہے، صرف مذہب اس کے ادھورے پن کو رفع کرسکتا ہے، اور صرف مذہب اسے کامل یا Perfect بناسکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مذہب انسان کے لیے سانس لینے کی طرح ناگزیر ہوجاتا ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ہمارا تصورِ زندگی اتنا اتھلا اور ہمارا شعور اتنا سطحی ہوگیا ہے کہ ہم روحانی اور نفسیاتی سطح پر اپنے آپ کو کامل یا Perfect کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ چنانچہ مذہب کے ساتھ شدید وابستگی کا بھی کوئی تقاضا ہمارے اندر نہیں ابھرتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم مذہب کی سطح پر جانے کے بجائے اسے اپنی سطح پر گھسیٹ لاتے ہیں۔ لیکن ہماری سطح کیا ہے؟ فی زمانہ انسانوں کی عظیم اکثریت اپنے آپ کو دو سطحوں پر کامل یا Perfect دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک معاشرتی سطح پر اور دوسرے معاشی سطح پر۔ یہاں معاشرتی سطح کی نشاندہی بھی غیر ضروری ہی، اس لیے کہ ہماری معاشرتی سطح بھی ہماری معاشی حیثیت سے متعین ہورہی ہے۔ اس سطح پر اکثر صورتوں میں مذہب کے ساتھ تعلق کے بجائے مذہب کے ساتھ بے تعلقی اہم ہوجاتی ہے۔ اس طرح مذہب خودبخود ہمارا حاکم بننے کے بجائے محکوم بن جاتا ہے۔اس معاملے کا ایک پہلو اقبال کے اس شعر میں موجود ہے جو آپ کالم کے آغاز میں ملاحظہ کرچکے ہیں، یعنی خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق اس شعر میں سب سے اہم لفظ ”توفیق“ ہے۔ لیکن توفیق کا مطلب کیا ہے؟ توفیق دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو فراہم کی جانے والی وہ روحانی مدد ہے جس کے ذریعے مذہب پر عمل آسان ہوجاتا ہے۔ ایک اور سطح پر توفیق کا مطلب الہام کے ذریعے معنی تک رسائی ہے۔ توفیق کی دو ہی صورتیں ہیں، یا تو انسان اللہ تعالیٰ سے خود توفیق طلب کرتا ہے، یا اللہ تعالیٰ عنایت و انعام کے طور پر انسان کو خود توفیق سے نواز دیتے ہیں۔ لیکن دونوں صورتوں میں توفیق کی ضرورت کا شدید تقاضا انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اس تناظر میں زیرِبحث مسئلے کا مفہوم یہ ہے کہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق عطا ہوتی ہے تو وہ خود کو مذہب کے مطابق بناتا ہے۔ اور الہام کی قوت سے قرآن و حدیث کو سمجھتا ہے۔ لیکن جب انسان توفیق سے محروم ہوجاتا ہے تو وہ مذہب کو اپنے مطابق بنانے لگتا ہے اور اس کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ عقل کی قوت سے سمجھنے کی غلطی کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ فقیہانِ حرم کی بے توفیقی کا مطلب اللہ تعالیٰ کی مددِ خاص سے محرومی اور الہام کی روایت سے کٹ کر رہ جانا ہے۔ یہ تجزیہ ہمارے عہد کا المیہ اور اس کی ایک علامت ہے۔
                                              قوت فکر وعمل     پہلے فنا ہوتی ہےپھر                    کسی قوم کےعظمت پہ زوال آتاہے


کیا رہبانیت انسانیت کی معراج ہے

·            
کیا رہبانیت اور جوگیت انسانیت کی معراج ہے؟
از :ابوصالح شیخ ادریس ندوی ولی اللٰھی

بہت سے مذاہب میں آرزؤوں اور تمناؤوں سے اپنے آپ کو خالی کر لینا انسانیت کی سب سے بڑی سعادت سمجھا جا تا تھا۔ مہاتما بدھ کی جانب یہ منسوب کیا گیا ہے کہ انسانی فطرت کو مدعاؤں سے خالی کر لینا، نہی نروانا کا سب سے بڑا مقدس نصب العین ہے یاپھر رہبانیت اور جوگیت جو انسانیت کی معراج سمجھی جاتی ہے اس کے معنی بھی اپنے کو دنیا سے بالکل علیحدہ کر لینا ہی ہے۔کلیسا کے باغیوں نے کلیسا پر الزام لگایا تھا اور یقینا یہ الزام بیجا نہ تھا کہ اس نے آدمی کو آدمی نہیں، پتھر فرض کر لیا تھا کہ آرزؤوں اور تمنا ؤوں سے دست برداری کی توقع پتھروں ہی سے کی جا سکتی ہے، ان ہی کے سینے ارمانوں اور خواہشوں سے خالی ہو سکتے ہیں۔

عیسائی مذہب میں انسانیت کی معراج یہ تھی کہ وہ فرشتہ ہو جائے یعنی اس مذہب میں لذائذ حیات اور انسان کے فطری احساسات کے تقاضوں کو غلط یا صحیح طریقے سے دبانے کی کوشش جاری تھی۔ سمجھا یہ جا تا تھاکہ بہیمی اور حیوانی کثافتوں کی چادر اس غریب فرشتہ کو اوپر سے لپٹ گئی ہے۔ اس چادر کو چاک کر کے اپنی ملکوتی کے چمکانے میں جو زیادہ کامیاب ہو گا ،وہی اپنی اصل حقیقت سے زیادہ قریب ہو تا چلا جائے گا۔مطلب یہ کہ وہی یورپ جس کا آسمان بھی آج معاش ہے اور زمین بھی اس کی معاش ہی ہے۔ آج جو مجسم معاشیات یا کہیے تو کہہ سکتے ہیں کہ صرف شکم ہی شکم بن کر رہ گیا ہے۔اس یو رپ کا حال اپنے ملکوتی عہد میں اس معاشیات کے متعلق یہ تھا۔جیساکہ اس ملک کے ایک معاشی مورخ نے لکھا ہے:

”معیشت ان کے (یعنی انہیں قدیم ملکوتی عیسائیوں) کے نزدیک کبھی فی نفسہ قابل توجہ نہ بنی۔ مقاصد معینہ (فرشتہ بننے کی مہم اور اس کے مقدمات) کے لئے ذریعہ کی حیثیت سے قدروں کے ہمہ گیر نظام میں اس معیشت غریب کی جگہ کہیں حاشیہ پر تھی۔“

انتہا یہ ہے کہ جدید معاشی دور کا آغاز جن بزرگوں کی اصلاحی آواز کی بدولت جیسا کہ اسی ملک کے لوگوں کا بیان ہے، ظہور پذیر ہوا ہے۔ میری مراد پروٹسٹنٹ فرقہ اور ان کی اصلاحی اقدامات سے ہے دوسرے نہیں۔ اسی صلاحی پیغام کے سرخیل اعظم یعنی جناب لوتھر تک کے مواعظ اور خطبات میں اس وقت تک اس قسم کے فقرے بے جھجک استعمال ہو تے تھے،مثلا لوتھر کا مشہور مقولہ ہے ۔ وہ کہا کرتا تھا

”دولت ان ہی ٹھیٹھ گدھوں کو (اللہ میاں) دیتے ہیں جنہیں وہ کچھ ارزانی نہیں فرماتے۔“

اورظاہر بھی یہی ہے کہ کلیسا کے مذہب سے لو تھر جتنا بھی بیزار ہو لیکن اس مذہب کا تو وہ بہر حال معتقد بلکہ سرگرم وکیل اور حامی تھا۔ جس کا نصب العین آدمی کو فرشتہ بنانا قرار دیا گیا تھا۔ ایسی صورت میں اگر دولتمندوں کو لو تھر صاحب گدھا یا ٹھیٹھ گدھے کے نام سے مو سوم کر تے تھے تو جس کا نصب العین ملک(فرشتہ) ہونا ہو، اس بلند نصب العین کو چھوڑ کر اپنی ساری توانائی دولت مند ہونے پر خرچ کر دی ہو اپنی اس حماقت کی وجہ سے اگر سمجھنے والے اس گدھا سمجھتے تھے تو غلط کیا سمجھتے تھے۔

لیکن خیر یہ تو پرانی بات ہے۔ صدیوں کی کشمکش کے بعد فرشتہ بنانے والے مذہب کے جوئے سے اس مسلک والوں نے اپنے آپ کو آزاد کر لینے میں جب کامیابی حاصل کی تو جیسا کہ ٹاؤنی نے لکھا ہے:

”مذہب نے انسانی طمع پر بہت سے قیود عائد کر رکھے تھے۔ سولہویں صدی کی تجارتی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے (مذہب)کے اقتدار کا مقابلہ کیا گیا اور سترہویں صدی کے اخیر تک مذہب آئندہ معاشیات پر حکمراں نہ رہ سکا۔ تاہم اس کے اقتدار کی دھجیاں باقی رہ گئیں.... لیکن اٹھارہویں صدی کے پر زور مقابلہ میں طلب و رسد کے قانون اور نفع و راحت کے نام پر معاشیات اور مذہب کے درمیان طلاق واقع ہو گئی۔“ (داستان دہقان ص۳۲۶)

یعنی کلیسا اور دنیا کے درمیان ان کے نزدیک تضاد تھایعنی ان کا خیال یہ تھا کہ مذہب محض ایک پرسنل اور شخصی مشغلہ کی حیثیت سے جینا چاہے تو جی سکتا ہے لیکن زندگی کے عمومی اور اجتماعی شعبوں میں اس کے دخل اندازیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کامطلب یہ تھا کہ انسان اپنی ذاتی مفاد کے حاصل کرنے میں خدائی اور اخلاقی پابندیوں سے بالکل آزاد ہے اور مذہبی حدود اس کے خواہشات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کا باعث نہیں بن سکتے۔ اس کانتیجہ یہ ہوا کہ سرمایہ داری کی آڑ میں طاقتوروں نے کمزوروں کا وہ جنازہ نکالا کہ سرمایہ داری کے حمایت کرنے والے بھی چیخ اٹھے ۔ان ہی ظلم و عدوان اور کمزوروں کے استیصال کو دیکھ کر آدم اسمتھ (AADAM SMATH) نے کہا: ”اپنے اپنے طور پر اپنے ذاتی مفاد کے حاصل کرنے میں گو ہر شخص آزاد ہونا چاہیے لیکن(اگر مذہب نہیں) تو قوانین عد ل و انصاف میں تو ردوبدل نہ کرنا چاہیے۔“

لیکن دولت کے حوالے سے لوگوں کی جنوں کی حدتک دیوانگی نے اور سرمایہ داری کے عفریت نے سود کی شکل میں عدل و انصاف کی وہ پامالی کی کہ دنیا کانپ اٹھی۔آدم اسمتھ کا وعظِ عدل و انصاف حرص وطمع اور ھل من مزید کے سیل رواں میں بہہ گیا۔ جیسا کہ ایک مشہور معاشی مورخ ٹاؤ نی نے لکھا ہی:                      

”اٹھارہویں صدی کے پر زور مقابلہ میں اس کی (یعنی آدم اسمتھ) کی تعلیم کا بنیادی اصول بھی فراموش کردیا گیا۔“

 انسان کو فرشتہ بنانا اور اس کو دنیا وی زندگی سے الگ کردینے کانتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ انسان مذہب سے بیزار ہوگئے اور پھر اس کے رد عمل کے طور پر جو معاشی فلسفہ پیش کیا وہ بھی کمزوروں اور مفلوک الحال لوگوں کے لئے ظلم وستم کا ایک پہاڑ بن کے کھڑا ہو گیا۔اس کے بر خلاف اسلام کا نقطئہ نظر بھی ملاحظہ فرمائیے جو اعتدال کی دعوت دیتا ہے۔

 اسلام نے مذہب اور دنیا کو الگ نہیں کیا اس سے بڑھ کر اسلام کا تو یہ دعویٰ ہے کہ اللہ نے کسی بھی مذہب میں اس کو فرض نہیں کیا جیسا کہ قرآن کی سورہ حدید کی آیت ۲۷ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :”رہبانیت جسے انہوں نے خود تراش لیا ہے نہیں فرض کیا ہے ہم نے اس کو ان پر۔“ اس کامطلب صاف ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے علم و عمل کا جو نظام بنی آدم کو مذہب اور دین،دھرم وغیرہ کے ناموں سے ملتا رہا ہے اس میں اس غیر فطری نظریہٴ حیات کا کبھی مطالبہ نہیں کیا گیا۔یقینا اس آیت سے صرف اسلام ہی کی براء ت رہبانیت سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ مذہب کی پوری تاریخ سے اس کی بے تعلقی کا اظہار کیا گیاہے۔قرآن کی اس آیت کی بنیاد پر ہر مسلمان اس بات کے ماننے اور یقین کر نے پر مجبور ہے کہ عیسائی مذہب ہو یا یہودی دین، ابراہیمی ملت ہو یا نوحی دعوت کسی کا رہبانیت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔

سورہ نساء آیت نمبر ۵ میں اللہ تعالیٰ حصول معاش کا یہ واضح دستور ارشاد فرماتا ہے:” مر دوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں۔“ یہ آیت حصول دنیا کے سا تھ ساتھ اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ عورت بھی جو کمائے وہ اس کا حصہ ہے۔لیکن ہاں یہ تمام کسب معاش ان شرعی حدود کے اندر ہوں جوقرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں مذکور ہیں۔ عزت و آبرو گنوا کر،عصمت و عفت کا دامن تا ر تار کرکے اور شمع محفل بن کر کسب معاش کی اجازت قرآن کیسے دے سکتا ہے۔       

لیکن دین ودنیا کی سیکولر تقسیم کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان اسلام کو نکاح و طلاق،وضو اور غسل، عبادات اور اخلاق تک محدود سمجھنے لگے ہیں ورنہ حقیقت جیسا کہ اوپر امذکور ہوا یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظریہٴ حیات ہے جو عبادات و تسبیحات،معاشرت و سیاست، تعلیم و ثقافت،اخلاق و اقدار،اجتماعیت و انفرادیت غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی دیتا ہے۔ اسلامی نظریہ کی اولین خصوصیت یہ ہے کہ دین و دنیا کی تقسیم کو ختم کر کے ان میں وحدت پیدا کر تا ہے۔ یہاں نہ ترک دنیا اور رہبانیت کی اجازت ہے نہ دنیا پرستی اور پرستش زر کی۔ اسلام دین و دنیا کی تقسیم کو غیرالٰہی نظریہ قرار دیتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسلام کا نقطئہ نظر اس معاملے میں دنیا کے تمام مذہبی اور فلسفیانہ نظاموں سے مختلف ہے۔یہاں معاشرت،تمدن، سیاست ،معیشت غرض دنیوی زندگی کے سارے شعبے کے ساتھ ساتھ روحانیت کا نور حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہاں روحانی ترقی کے لئے جنگلوں،پہاڑوں اور عزلت کے گوشوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہاں روحانی قدوروں کو معاشرے میں رہ کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہاں تو رشتہٴ ازدوج سے منسلک ہو کر بھی روحانی بلندیا ں حاصل کی جا سکتی ہیں۔   

ظلم کا انجام

ظلم کا انجام

سب سے زیادہ ڈرنے والی چیز جو ہے وہ ظلم ہے ،دنیا کے سارے مذاہب ،سارے کلچر،سای رفارمرس ،سارے صوفی سنت اس بات پر متفق ہیں کہ انسان سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے ؛او رہر مذہب کا انسان ،ہر شہر کا انسان ،ہر ملک کا انسان ،ہر برادری کا انسان ،ہر نسل کا انسان ،ہر طبقہ کا انسان ،ہر سوسائٹی کا انسان ،ہر قابلیت کا انسان ،ہر صلاحیت کا انسان ،مفید ہو یا غیر مفید ،وہ خداکی صنعت اور خدا کی رحمت کا مظہر ہے ،ہم اس کو  (Masterpiece)نہیں کہہ سکتے ورنہ اس سے بڑھ کر (Masterpiece)اور کیا ہو سکتاہے ؟تاریخ میں ایسی شہادتیں موجو د ہیں کہ  بعض اوقات کسی ایک مظلوم مرد کی آہ ،اور کسی ایک مصیبت زدہ خاتون کی کراہ سے پورے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے،جو بات سب سے زیادہ ملکوں کی خیرا خواہی ،سچی ہمدردی ،حقیقت پسندی ،انسانیت کے فرض کی ادائیگی بلکہ اس کے احساس کی ہے (خواہ اس ملک میں کتنی ترقیاں ہوں اور ا س ملک کی ادائیگی بلکہ اس ملک کی تاریخ خواہ کیسی ہی رہی  ہو اور اس میں کتنے وسائل وذخائر ہوں )یہ ہے کہ ظلم نہ ہونے پائے ،کسی کمزور آدمی کو روندانہ جائے ،کسی گھر کا چراغ بجھایا نہ جائے ،کسی بے زبا ن عورت پر ہاتھ اٹھایا نہ جائے ،اور کسی مظلوم کی بد دعا نہ لی جائےبلکہ اس ملک کا ہر شہتیر مظبوط اور خوبصورت ہو اور ہر فرد اس ملک کو اپنا ملک کہنےپر فخر کرتاہو !!‘‘

اقبال کا ہیغام

مغرب تہذیب اورمسلم ممالک
اقبال ؒ کا  پختہ عقیدہ ہےکہ مغربی تہذیب ممالک اسلامیہ کو ہر گز نجا ت نہیں دلاسکتی نہ ان کے مسائل کو حل کرسکتی ہے ،وہ کہتےہیں کہ ”جوتہذیب اپنی موت آپ مررہی ہے ،وہ دوسروں کو زندگی کب دے سکتی ہے“۔
                             نظر آتے نہیں  بے  پردہ حقائق  ان کو             آنکھ جن کی ہوئی محکومی وتقلید سے کور
زندہ کرسکتی ہے ایران وعرب کوکیوں کر             یہ فرنگی منیت کہ جوہے  خو د لب گور
مغرب نے ہمیشہ مشرقی ممالک کے احسان کا بدلہ احسان فراموشی اور کفران نعمت سے ،اور بھلائی مغرب نے ہمیشہ مشرقی ممالک کے احسان کا بدلہ احسان فراموشی اور کفران نعمت سے ،اور بھلائی کی جزا برائی سے دی ہے ،شام نے مغرب کو حضرت عیسیٰ کی شخصیت دی ،جن کاپیام عفت وعصمت اور غم خواری ورحمت ،برائی کے بدلے بھلائی ،ظلم کے مقابلے پر عفو تھا ،لیکن مغرب نے شام پراپنے قبضہ کے دوران خمروقمار ،بے پردگی اور آوارگی کے سواکوئی تحفہ نہیں دیا :
فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نےکیا           نبی رحمت وغم خواری وکم آزادی
                                    صلہ فرنگ سے آیاہے سوریا کے لئے         مے وقمار  وہجوم  زنانِ   بازاری !

پہلی عالمی جنگ

پہلی عالمی جنگ
از:ابوصالح شیخ..........
پہلی عالمی جنگ بیسویں صدی کا پہلا بڑا عالمی تنازعہ تھا۔ اس تنازعے کی ابتدا ھبزبرگ آرکڈیوک ٖفرانز فرڈنینڈ کے قتل سے ہوئی جو اگست 1914 میں شروع ہوا اور اگلی چار دہائیوں تک مختلف محاذوں پر جاری رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادی قوتوں۔۔برطانیہ، فرانس، سربیا اور روسی بادشاہت (بعد میں اٹلی، یونان، پرتگال، رومانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہو گئے)۔۔جرمنی اور آسٹریہ۔ہنگری پر مشتمل مرکزی قوتوں کے خلاف لڑیں جن کے ساتھ بعد میں سلطنت عثمانیہ کا مرکز ترکی اور بلغاریہ بھی شامل ہو گئے۔ جنگ کا ابتدائی جوش و جزبہ اس وقت ماند پڑ گیا جب لڑائی ایک انتہائی مہنگی اور خندقوں کی جنگ جیسی شکل اختیار کر گئی۔ مغربی محاذ پر خندقوں اور قلعہ بندیوں کا سلسلہ 475 میل تک پھیل گیا۔ مشرقی محاذ پر وسیع تر علاقے کی وجہ سے بڑے پیمانے کی خندقوں کی لڑائی ممکن نہ رہی لیکن تنازعے کی سطح مغربی محاذ کے برابر ہی تھی۔ شمالی اٹلی، بالکن علاقے اور سلطنت عثمانیہ کے ترکی میں بھی شدید لڑائی ہوئی۔ لڑائی سمندر کے علاوہ پہلی مرتبہ ہوا میں بھی لڑی گئی۔
پہلی عالمی جنگ جدید تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن لڑائی تھی۔ اس جنگ میں تقریباً ایک کروڑ فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ تعداد اس سے پہلے کے ایک سو برس میں ہونے والی لڑائیوں کی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس جنگ میں دو کروڑ دس لاکھ کے لگھ بھگ افراد زخمی بھی ہوئے۔ ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ مشین گن جیسے نئے ہتھیاروں کو متعارف کرانا اور گیس کے ذریعے کی گئی ہلاکتیں تھی۔ جنگ کے دوران یکم جولائی 1916 کو ایک دن کے اندر سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں جب سومے میں موجود برطانوی فوج کے 57 ھزار فوجی مارے گئے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان جرمنی اور روس کو اُٹھانا پڑا جب جرمنی کے 17 لاکھ 73 ھزار 7 سو اور روس کے 17 لاکھ فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ فرانس کو اپنی متحرک فوج کے 16 فیصد سے محروم ہونا پڑا۔ محققین کے اندازے کے مطابق اس جنگ میں براہ راست یا بالواسطہ طور ہلاک ہونے والے غیر فوجی افراد کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ ہے۔ اتنی بڑی ہلاکتوں کی وجہ سے "اسپینش فلو" پھیل گیا جو تاریخ کی سب سے موذی انفلوئنزا کی وباء ہے۔ لاکھوں کروڑوں افراد بے گھر ہو گئے یا اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے۔ جائیداد اور صنعتوں کا نقصان بہت خطیر تھا، خاص طور پر فرانس اور بیلجیم میں، جہاں لڑائی خاص طور پر شدید تھی۔
نومبر 11, 1918 کو صبح کے 11 بجے مغربی محاذ پر جنگ بند ہو گئی۔ اُس زمانے کے لوگ اس جنگ کو "جنگ عظیم" کے نام سے منصوب کرتے تھے۔ یہ بند ہو گئی لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی حلقوں میں آنے والی کئی دہائیوں تک جاری رہے۔


سچائی کا راستہ(مذہب و عقل)

   سچائی کا راستہ(مذہب  و عقل)
ابوصالح شیخ ادریس ندوی
ٹھوس حقیقتوں کا مجموعہ جن کی سچائی پر عقل نے گواہی دی۔ جو دنیا کی تمدنی اصلاح کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے، وہی سچا مذہب ہے۔
یوں تو دعویدار بہت ہیں جنگ میں بالو چمک کر اکثر پیاسوں کو پانی کا دھوکا دیتی ہے مگر سانچ کو آنچ کیا۔ کھوٹا کھرا چلن میں کھل ہی جاتا ہے۔
بے شک سچے مذہب میں معاشرت کے اصول، تمدن کے قاعدے، نیکی کی ہدایت، بدی سے ممانعت ہے اور جبروتی قوت بھی ساتھ ہے۔ جزا، سزا، قہر، غضب، رحم و عطا ثابت حقیقتیں ہیں جن کی اہمیت کے سامنے عقل سرنگوں ہے۔
سچا مذہب عقل والوں کو آواز دیتا ہے اور جو باتیں عقل سے ماننے کی ہیں ان میں عقل سے کام لینے کی ہدایت کرتا ہے تاکہ سرکش انسان جذبات کی پیروی نہ کرے اور کمزور اور کاہل عقلیں اپنے باپ دادا کے طورطریقہ، ماحول کے تقاضے ہم چشموں کے بہلانے پھسلانے سے متاثر ہو کر سیدھے راستے سے نہ ہٹیں ”حقیقت“ کسی کے ذہن کی پیداوار نہیں ہوتی، اس لئے سچا مذہب کسی کی جودت طبع کا نتیجہ نہیں۔ بے شک اس تک پہنچنا اور پہنچ کر اس پر برقرار رہنا انسان کی عقلی بلندی کی دلیل ہے۔
جھوٹے مذہب، ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو دنیا کو بربادی کی طرف لے جانے والے، معاشرت کے تباہ کرنے والے، تمدن کے جھوٹے دعویدار، تہذیب کے بدترین دشمن۔ بدی کے محرک اور فتنہ انگیزی کے باعث ہوں۔ لیکن سچا مذہب وہی ہے جو عالم میں امن و سکون کا علمبردار، معاشرت کا بہتر رہبر، تمدن کا سچا مشیر، تہذیب کا اچھا معلم، طبیعت کی خودروی، بدی کی روک تھام، ممنوعات سے باز رکھنے کو زبردست اتالیق ہے۔ فتنہ انگیزی سے بچنے بچانے کو نگہبان، امن و امان کا محافظ، جرائم کا سدراہ، فطرت کی بہترین اصلاح ہے۔
انسان کی فطرت میں دونوں پہلو ہیں۔ حیوانیت و جہالت اور عقل و معرفت، مذہب کا کام ہے دوسرے پہلو کو قوت پہنچا کر پہلے کو مغلوب بنانا اور اس کے استعمال میں توازن اور اعتدال قائم کرتا۔ فطرت کے جوش اور جذبات کو فطرت کی دی ہوئی عقل سے دباتا اور انسان کو روکتا تھامتا رہتا ہے۔ جذبات کے گھٹاٹوپ میں قوت امتیاز کا چراغ دکھاتا۔ اور اچھا برا راستہ بتاتا ہے خطرے اور کجروی سے باز رکھتا ہے۔
طبیعت انسانی ایک سادہ کاغذ ہے۔ جیسا نقش بناؤ ویسا ابھرے، جوانی کی اودھم، خواہشوں کی شورش، نفس کی غداری، جس کو بدی کہا جاتا ہے اس کی صلاحیت بھی فطری ہے اور شرم، حیا و نیکی اور پارسائی، تعلیم کی قبولیت اور ادب آموزی کی قدرت بھی فطری ہے۔ بے شک پہلی طاقت کے محرکات چونکہ مادی ہوتے ہیں، انسان کے آس پاس، آمنے سامنے موجود رہتے ہیں اس لئے اکثر ان کی طرف میلان جلدی ہو جاتا ہے۔ پھر بھی جن کی عقل کامل اور شعور طاقتور ہوتا ہے۔ وہ ان تمام محرکات کے خلاف نیکی کی طرف خود سے مائل ہوتے ہیں۔ دوسرے لوگ جن کی عقل کمزور اور کاہل ہے وہ نیکی کی جانب مائل کرائے جاتے ہیں اس نیک توفیق کی عقل انجام بین پر صد ہزار آفریں۔ جس نے مذہب کی باتوں کو سمجھا اور دوسروں کو بتلایا اور حیوانوں کو انسان بنایا۔ مذہب نہ ہو تو حیوانیت پھر سے عود کر آئے۔ شہوانی خواہشوں کا غلبہ ہو۔ انسان حرص و ہوس کی وجہ سے اعتدال قائم نہیں رکھ سکتا اس لئے مذہب کا دباؤ اس کے لئے بہترین طریق ہے۔
فطرت نے درد دکھ کی بے چینیاں، بے بسی کا عالم، سکرات کا منظر، نزع کی سختیاں، موت کا سماں آنکھ سے دکھا دیا، مذہب نے مستقبل کے خطرہ، آخرت کی دہشت، بازپرس کے خوف، بدلے کے اندیشے پر عقل کو توجہ دلائی۔
عقل نے غور کیا، سمجھا اور صحیح مانا اور نگاہ دوربیں سے ان نتائج کو معلوم کر لیا۔
اصلاح کے لئے لامذہب بھی کہتے ہیں کہ یہ بہترین طریقہ ہے اور بے شمار اصلاح پسندوں نے انجام سوچ کر یہ رویہ اچھا سمجھا ہے۔ تو کبھی مذہب کی ان تنبیہوں کو صرف ”دھمکی“ بتا کر اور ان نتیجوں کو ”نامعلوم“ کہہ کر ان کی وقعت نہ گھٹائیں۔ نہیں تو ایک طرف حقیقت کا انکار ہو گا دوسری طرف اصلاح کے مقصد کو ٹھیس لگے گی جس کی ضرورت کا ان کو بھی اقرار ہے۔
عقل

سوچنے سمجھنے والی، دیکھی باتوں پر غور کرکے ان دیکھی باتوں پر حکم لگانے والی بڑے بڑے کلیے بنانے والی اور ان کلیوں پر نتیجے مرتب کرنے والی قوت کا نام عقل ہے۔
انسا ن کے علاوہ تمام حیوانوں میں صرف حواس ہیں اور وہ حواس کے احاطہ میں اچھا برا، نفع نقصان پہچان لیتے ہیں۔ مگر یہ قوت جس کا نام ”عقل“ ہے انسان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی کی وجہ سے آدمی کو ذوق جستجو پیدا ہوتا ہے اور اس جستجو سے پھر اس کی عقل اور بڑھتی ہے۔ وہ اسی عقل کے برکات سے معلومات کا ذخیرہ فراہم کرتا رہتا ہے۔ موجودہ لوگوں سے تبادلہ خیال، پچھلی کتابوں سے سبق لے کر ہزاروں برس کی گزشتہ آوازوں میں اپنی صدا بڑھا کر آئندہ صدیوں تک پہنچانے کا حریص ہے، اس کی عقل کبھی محدود یا مکمل نہیں ہو سکتی وہ اپنی عقل کا قصور مان کر آگے بڑھ رہا ہے۔
یہ ذوق ترقی انسان کے علاوہ کسی دوسرے میں نا پید ہے۔ انسان کے سوا دوسرا مخلوق لاکھوں برس طے کرے تب بھی انسان نہیں بن سکتا۔
انسان اصل نسل میں سب سے الگ اور خود ہی اپنی مثال ہے۔ بے شک تہذیب و تمدن میں اس کی حالتیں بدلتی رہیں لامعلوم صدیوں کو طے کرکے موجودہ تہذیب و تمدن کی منزل تک پہنچا۔ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے ہر طرح ترقی کی۔
اس نے بہت سے قدم ناسمجھی کے بھی اٹھائے جن سے آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹا۔ واللہ علم آگے بڑھ کے کہاں پہنچے۔
اس کا عقلی کمال اس میں ہے کہ وہ اپنے معلومات کی کوتاہی کا احساس قائم رکھے۔ اسی لئے اکثر باتوں میں خود عقل حکم لگانے سے انکار کرتی ہے اور انہیں اپنے دسترس کے حدود سے بالاتر قرار دیتی ہے۔
بہت باتوں کو خود عقل سماع کے حوالہ کرتی ہے ان میں اپنا کام بس اتنا سمجھتی ہے کہ امکان کی جانچ کرے، محال نہ ہونے کا اطمینان کر لے۔ اس کے بعد صحت اور عدم صحت مخبر کے درجہ اور اعتبار سے وابستہ ہے۔
واہمہ مشاہدہ کی گود کا پلا، اس کے گرد چکر لگاتا ہے۔ اس نے بہت باتوں کو جن کی مثال آنکھ سے نہیں دیکھی غیرممکن کہہ دیا۔
اسی کے ماتحت انبیاء کے معجزات کا انکار کیا مگر عقل جو مادیت کے پردے اٹھا کر کائنات کے شکنجے توڑ کر حقیقتوں کا پتہ لگانے میں مشتاق ہے۔ اس نے وقوع اور امکان میں فرق رکھا، محال عادی اور محال عقلی کے درجے قرار دیئے اور غیرمعمولی مظاہرات کو جو عام نظام اور دستور کے خلاف ہوں ممکن بتایا اسی سے معجزات انبیاء کی تصدیق کی۔
آج ہزاروں صناعوں کی کارستانیوں نے اس کو ثابت کر دیا۔ موجودہ زمانہ کی ہزاروں شکلیں، لاکھوں اوزار، بے شمار ہتھیار، لاانتہا مشینیں، ہزار ہاملیں ایسے ایسے منظر دکھاتی ہیں جنہیں سو دو سو برس پہلے بھی کسی سے کہتے تو وہ دیوانہ بناتا اور سب باتوں کو غیرممکن ٹھہراتا۔ آج وہ سب باتیں ممکن نہیں بلکہ واقع نظر آتی ہیں۔
ان کارستانیوں نے معجزات انبیاء کا خاکہ کیا اڑایا، بلکہ ان کو ثابت کر دکھایا۔ جو بات آج علم کی تدریجی اور طبیعی ترقی کے بعد دنیا میں ظاہر ہوئی آج معجزہ نہیں ہے۔ لیکن یہی موجودہ انکشافات کے پہلے، عام اسباب کے مہیا کئے بغیر صرف خداوندی رہنمائی سے ظاہر ہوئی تو معجزہ ٹھہری۔
ٹاکی سینما میں عقل کا تماشا ہو یا انجنوں اور موٹروں کی تیزرفتاری، ہوائی جہاز ہو یا ٹیلی فون، وائرلس، ریڈیو، اور لاؤڈاسپیکر سب نے کائنات کی پوشیدہ طاقتوں کا راز کھولا، راز بھی وہ جو لاکھوں برس تک عام انسانوں سے پوشیدہ رہا۔ پھر انسان کو کیا حق ہے کہ و ہ کسی چیز کو صرف اپنے حدود مشاہدہ سے باہر ہونے کی وجہ سے غیرممکن بتا دے۔
مگر یہ انسان کی سخن پروری ہے کہ وہ ان حقیقتوں کو دیکھ کر بھی انبیاء کے معجزات کو افسانہ کہتا ہے۔
عقل ایک واحد طاقت ہے جس کے ماتحت بہت سی قوتیں ہیں۔ ان میں سے ہر قوت ایک احساس ہے اور عقل کا نتیجہ علم ہے۔ انسان کا دماغ مخزن ہے۔ قوت عاقلہ اور پانچوں حواس اس میں معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔ یہی سرمایہ انسان کی کائنات زندگی ہے۔
طبائع انسانی جذبات کے ماتحت جدت پر مائل ہیں۔ ہواؤ ہوس کی شوخیاں نچلا بیٹھنا پسند نہیں کرتیں۔
کبھی حجری زمانہ تھا، بتوں کی خدائی تھی۔ اب شمسی عہد ہے، عالم کا نظام، اجسام میں کشش، مہر کی ضیا سے قائم ہے، پہلے آسمان گردش میں تھا، زمین ساکت تھی۔ اب آسمان ہوا ہو گیا۔ زمین کو چکر ہے، ابھی تک جسم فنا ہو جاتا تھا روح باقی رہتی تھی۔ اب کہا جاتا ہے کہ جسم کے آگے روح کا وجود ہی نہیں۔ یہ انسان کے ناقص خیالات ہیں جن میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ مگر عقل بردبار، ثابت قدم اور مستقل مزاج ہے۔ وہ جن باتوں کو ایک دفعہ یقین کے ساتھ طے کر چکی۔ ہمیشہ انہیں یقینی سمجھتی ہے کوئی سنے یا نہ سنے مانے یا نہ مانے وہ اپنی کہے جاتی ہے۔
مذہب کے خلاف توہمات ہمیشہ سے صف بستہ تھے۔ آج بھی پرے جمائے ہیں۔ جذبات انسانی اس کی گرفت سے نکلنے کو پھڑپھڑائے اور اب بھی پھڑپھڑاتے ہیں مگر عقل اور فطرت کی مدد سے اس کا شکنجہ ہمیشہ مضبوط رہا اور اب بھی مضبوط ہے۔ خدا کی سنت یعنی فطرت کی رفتار کو تبدیلی نہیں ہوتی۔ زمانہ کی تاثیر، ماحول کا اثر، صورتیں۔ شکلیں، ڈیل ڈول، وضع قطع، ذہنیت میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔
صدیوں میں ملکوں کا جغرافیہ، قوموں کی تاریخ، برسوں میں مقامی فضا طبیعتوں کا رنگ۔ مہینوں میں فصلوں کا تداخل، ہفتوں میں چاند کا بدر و ہلال، گھنٹوں میں مہر کا عروج و زوال۔ منٹوں میں سطح آب پر یا لب جو حبابوں کا بگڑنا۔ دم بھر میں سانس کا الٹ پھیر، آنا جانا۔ حیات سے ممات سب کچھ ہوا کرے۔ مگر عقل کی ثابت حقیقتیں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتیں۔
اسلام انہی حقیقتوں کی حمایت کا بیڑا اٹھائے ہے۔ اسے میں توہمات کے سیلاب سے مقابلہ۔ جذبات سے بیر، دنیا جہان کے خیالات سے لڑائی ٹھانی ہے مگر ہے تو نیک صلاح۔
اگر خاموش بنشنیم گناہ است
انسان کی بھیڑیا دھان خلقت نے ایک وقت میں حیوانات کے ساتھ ساز کیا اور ذی اقتدار انسانوں کو خدا ماننے میں تامل نہیں کیا۔ پھر خدا کو انسان کے قالب میں مانا بلکہ ان سے بھی پست ہو کر درختوں کی پوجا کی۔ اور پہاڑوں کو معبود بنا لیا۔ اب جب کہ وہ ترقی کا مدعی ہے تو مادہ کے ذروں کو سب کچھ سمجھتا اور کائنات کی پوشیدہ قوتوں کی پرستش کر رہا ہے۔ خیر اس کی نگاہ حاضر مجسموں سے پوشیدہ طاقتوں کی طرف مڑی تو!
امید ہے کہ اگر عقل صلاح کار کا مشورہ قبول کرے تو غیب پر ایمان لے آئے اور مافوق الطبیعت خدا کی ہستی کا اقرار کر لے، وہ خدا جو آسمان اور زمین سب کا مالک ہے کسی جگہ میں محدود نہیں۔ بے شک خلق کی ہدایت کے لئے زمین پر اپنے پیغام بر بھیجتا اور ان کی زبانی بہترین تعلیمات پہنچاتا ہے اور خصوصی دلائل اور نشانیوں کے ذریعہ ان کی تصدیق کرتا ہے۔ ان دلائل کا نام معجزات ہے۔ مستقبل کے اخبار ان کے ماتحت ہیں۔ فطرت و عقل دونوں ان کے ہم آہنگ ہیں۔ ملاحظہ ہو۔



اقبال کی نظم

اقبا ل کا شکوہ نظم کے پیرائے میں 
اس نظم میں اقبال نے سرکا ر دوعالم ﷺ کی روح سے استغاثہ ہے کہ
1)اے تاجدار مدینہ !آپ کی قوم کا شیرازہ بالکل بکھر چکاہے اس لئے دنیا میں کوئی قو م اس کی عزت نہیں کرتی ۔اب آپ ﷺ ہی فرمائیں کہ آٌ قاکے یہ نالا ئق غلام کہاں جائیں ۔
2)مسلما نوں مں سر فروشی کا وہ ذوق بالکل باقی نہیں رہا ۔لھذا میں اب کس قوم کو اپنی شناخت کی حفاظ او ر وقت کے تقاضہ کے مطابق جدوجہد کرنے کی تعلیم دوں ۔مسلمان نہ میری تعلیم سنتے ہی نہ سمجھتے ہیں
3)یہ سچ ہے کہ اس وقت بالکل بے سروسامانی کی حالت میں ہیں ،نہ ان کے پاس دولت ہے نہ تجارت ہے نہ علم ہے اور نہ ان کے پا س کسی قسم کی مادی طاقت ہے نہ روحانی قوت ہے ۔یہ بالکل صحیح ہے لیکن بہر حال وہ آپ ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں آخر وہ کس ملک میں چلے جائیں ۔
4)اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس نا فرمان اور نالائق قوم پر نگاہ کرم فرمائیں اور اس کی دستگیری فرمائیں یہ قوم لاکھ بری سہی لیکن آپ کی نام لیوا ہے اور اللہ کے کلام پر عامل  نہ سہی اس کی نگہبان تو ہے آخر دنیا سے نیست ونابو د توہونہیں سکتی کیونکہ آٌپ کا پیغا م ازلی اور ابدی ہے پس ا للہ ان پر نگاہ کرم فرمائیے اور دنیا میں ان کی با عزت زندگی کاکوئی  انتظا م فرمائیے1میں نے حتی المقدوراس نظم کے مفہوم کوسلیس اندازمیں بیان کردیا ہے لیکن اگر ناظرین اس سوزوگداز سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں جو اس نظم میں ہے توپھراس کو اقبال ہی کے لفظوں میں پڑھیں۔جوسوزوگدازاس مصرع میں ہے ۔
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے   وہ میرے لفظوں سے ہر گز پید انہیں ہو سکتا ۔                                                             

ہندوستان کے تاریخی مقامات


ہندوستان کے تاریخی مقامات اور ہم
کسی بھی ملک کی تاریخ، تہذیب و تمدن اور ثقافت کا اندازہ اس ملک میں موجود تاریخی عمارتوں اور مقامات سے ہی نہیں بلکہ اس ملک کے حکمرانوں کے ذوق و تعمیر و فن اور عوام کے مزاج سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو اس کے تحفظ کیلئے اپنی ساری توانائیاں صرف کردیتے ہیں۔ بلاشبہ ہندوستان میں ایسے مقامات، عمارتوں اور یادگاروں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن یہاں المیہ یہ ہے کہ قوم نے اس کی اتنی قدر نہیں کی جتنی کی جانی چاہئے۔ ان یادگاروں کے تحفظ اور ان کی صیانت سے قوم کی عدم دلچسپی ہی کہئے کہ وہ خود ان کی عظمت سے واقف ہی نہیں ہے دوسری طرف بیرونی سیاح ان کی عظمت دیکھنے کھینچے کھینچے چلے آتے ہیں۔ کیوں کہ اب لوگوں کا مزاج "گھر کی مرغ دال برابر" والا بن چکا ہے۔ 

تاج محل ساری دنیا میں تو ہندوستان کی علامت سمجھاجاتا ہے لیکن ملک کے10فیصد لوگوں نے ہی اسکو دیکھا ہوگا ایسا ہی حال ہر ریاست اور شہر میں پائی جانے والی عمارتوں اور یادگاروں کا ہے۔ حیدرآباد کے چارمینار کی بات ہو یا پھر گولکنڈہ کا قلعہ یا پھر سالار جنگ میوزیم کی ان کو دیکھنے والے بیرون ریاست اور بیرونی ملکوں کے سیاحوں کی تعدادزیادہ ملے گی۔ 1951ء میں قائم سالارجنگ میوزیم کا شمار یوں تو ملک کے 6قومی اہمیت کے حامل میوزیم میں ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ ساری دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد میوزیم ہے جوایک ایسے شخص نواب یوسف علی خاں (سالارجنگ سوم) کے اعلیٰ و عمدہ ذوق اور شوق کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے اپنی 60 سالہ مختصر زندگی کا بڑا حصہ صرف نوادرات اور بیش بہا قیمتی اشیاء جمع کرنے میں صرف کردیا جو ان کی زندگی کے بعد قوم اور ملک کا اثاثہ بن گئیں۔ 
موسیٰ ندی کے جنوبی کنارے دارالشفاء میں 10ایکڑ اراضی پرواقع سالارجنگ میوزیم میں تین علیحدہ وسیع وعریض بلا میں موجود 43000 نادرو نایاب اشیاء کی مالیت کا تخمینہ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہاں بعض ایسے شہہ پارے بھی ہیں جن کی قیمت کے تصور سے ہوش ہی اڑجائیں گے۔ 29؍ستمبر 1952ء میں اس میوزیم کے معائنہ کے بعد اس وقت کے مرکزی وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی جو رائے تحریرکی وہ خود اس میوزیم کی اہمیت کا اندازہ لگانے کیلئے کافی ہوگی۔ 
مولاناآزاد لکھتے ہیں کہ "مجھے سالارجنگ میوزیم کے معائنے سے خوشی حاصل ہوئی۔ ایک شخصی ذوق نے اتنا سامان بہم پہنچادیا کہ جو حکومتوں کی کوشش سے بھی فراہم نہیں ہوا کرتا۔ مزید خوشی دراصل اس بات سے ہوئی کہ یہاں چیزوں کی تقسیم و تربیت نہایت قابلیت سے قائم کی گئی ہے اور اس کیلئے اسٹاف کی حسن کارکردگی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ 
یہ شاید اس وقت کی بات ہوگی جب سالار جنگ میوزیم نواب یوسف علی خان کے مسکن دیوان دیوڑھی میں واقع تھا اور اس کا افتتاح 1951ء میں اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا تھا اور اس کا حسن انتظام سالارجنگ اسٹیٹ کے کمیٹی کے پاس تھا۔ 1958ء میں یہ پھر وزارت ثقافت کا حصہ رہا 1961ء میں قانون سازی کے ذریعہ قومی اہمیت کا حامل قراردیاگیا اور پھر اس کے نظم و نسق اور انتظام کو ایک بااختیار ادارہ کے حوالے کیاگیا جس کے سربراہ گورنر ہیں۔ 1968ء میں اس میوزیم کو دیوان دیوڑھی سے موجودہ عمارت میںمنتقل کیاگیااورتقریباً40 سال بعد پھر اس کی تزئین نو کے ذریعہ موجودہ شکل و صورت گری سے آراستہ کیاگیا۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ میوزیم 50 برسوں میں تین ادوار سے گزرا لیکن خاص بات یہ ہے اس سارے عمل کے دوران نہ تو ترتیب بدلی نہ ہی اس کی تقسیم لیکن اب مشرقی بلاک میں اسلامک آرٹ گیلری کی تعمیر کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے اور بہت ممکن ہو آئندہ ماہ رمضان تک یہ پائے تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ اس منصوبہ پر لگ بھگ 6کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوں گے۔

مدارس کی اہمیت وضرورت

عصر ِ حاضر میں مدارس کی ضرورت و اہمیت
ابوصالح شیخ ادریس ندویؔ
۱۸۵۷ ء کی ناکا می اور انگریزوں کے  بر سرِ اقتدار آجانے کے بعد ہندوستانی عوام خصوصا مسلمان شدید احساس ِ کمتری کا شکار ہو گئے تھے ،مسلمانوں کی جاہ سطوت ،طاقت وحکومت کا شیرازہ مکمل طور پر بکھر گیا تھا ،قدیم تہذیب نے کروٹ بد ل کر نئے اقدار کی چادر اوڑ ھ لی تھی اسلا م کی تعلیمات کو نیست ونابود کرنے کی منافقانہ سیاست ہونے لگی ، ایسے سازگار اور پر خطر حالات میں وہ تمام مدارس عربیہ جو انگریزی سامراج میں قائم ہو چکے تھے ملتِ اسلامیہ کے لیے گراں قدر خدمات انجا م دیتے رہے ،اس وقت کے علماءاور طلبہ نے اپنی پوری طاقت اور پورا زور صرف کر کے ایک مضبوط حکومت کی طرح انگریزوں کے مقابلے کے لیے  بر سرِ پیکار ہوئے ، کبھی عیسائیت کی مذموم سازشوں سے  نبرد آزما ہوئے ،کبھی آریا سماج کا تعاقب کرکے شدھی سنگٹھن تحریک کی طاقت کو پاش پاش کردیا ، بلکہ تعلیم کتاب و سنت اور دعوت دین وشریعت نے بارہویں صدی ہجری میں جس سرزمیں دہلی کو اپنا مرکز بنا یا تھا ، سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد انتشار و خلفشار سے دو چار ہو گیا تھا ، مسلم معاشرہ نت نئے مسائل سےنبرد آزما تھا ، کبھی ان کو مرتد بنانے کی کوشش کی گئی اور کبھی جدت اور تعلیم کے نام پر مسلمانوں کو مذہب بیزاری کی راہ پر ڈھکیلنے کی کوشش کی جاتی ۔
            یہ انہیں مدارس اور درس گاہوں سے فارغ التحصیل علماء اور اکابر تھے جن کی بے مثال قربا نیوں نے مسلمانوں کو حوصلہ دیا ۔ ان کا شجرۂ نسب اصحاب صفہ سے ملتا ہے ، سب سے پہلا مدرسہ  قرطبہ اور غرناطہ میں نہیں ۔۔ قیروان اور قاہرہ میں نہیں ۔۔ دہلی اور بنارس میں نہیں ۔۔ فرنگی محل اور علی گڑھ میں نہیں ۔۔ دیو بنداور سہارن پور میں نہیں ، بلکہ سب سے پہلے مدرسہ کی بنیاد مسجد ِنبوی  میں رکھی گئی ۔
            مدرسہ کیا ہے ؟ مدرسہ سب سے بڑہ کار گاہ ہے ۔ جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے ، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار کیے جاتے ہیں ، مدرسہ عالم ِ اسلام کا پاور ہاؤس ہے جہاں سے اسلامی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے ، مدرسہ وہ کارخانہ ہے جہاں قلب ونگاہ اور ذہن و دماغ  ڈھلتے ہیں مدرسہ و مقام ہے جہاں سے پوری کائنات کا احتساب ہوتا ہے اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے ، جہاں کافر مان پورے عالم پر نافذہوتا ہے ، اس کا ایک سرا نبوت ِ محمدی سے جڑا ہوا ہے تو دوسرااس زندگی سے ، وہ نبوت ِ محمدی کے چشمۂ حیواں سے پانی لیتاہے اور زندگی کے ان کشت زارو ں کو سیراب کرتا ہے ، اگر وہ اپنا کام کرنا چھوڑ دے کے کھیت سوکھ جائیں اور انسانیت مرجھانے لگے  نہ نبوت کا دریا بے آب ہونے والا ہےنہ انسانیت کی زندگی کو سکون مل سکتا ہے ، نہ نبوتِ محمدی کے چشمۂ فیض سے بخل و  انکار ہے نہ انسانیت کے کاسۂ گدائی کی طرف سے استغنا ء کا اظہار ، ادھر سے انما انا قاسم واللہ یعطی کی صدائے مکرر ہے تو ادھر ھل من مزید کی فغانِ مسلسل ۔
            اسی مدرسہ کی تربیت کی تاثیر اور اس کے بانی کافیض ۔۔۔کبھی صدیق کی تصدیق ِحق  میں نمایاں ہوا ، اورکبھی فاروق کی تیغِ فرقان میں جلوہ گر ، عثمان کی حیا اور علی کی قضا میں ظاہر ہوا تو کبھی طارق بن زیاد کی  شجاعت ، محمد بن قاسم کی بسالت اور موسی بن نصیر کے عزم وہمت میں ، اور کبھی امام ابو حنیفہ او ر امام شافعی کے ذکاوت میں ابھرا ، کبھی امام احمد بن حنبل کی  صلابت میں آشکارہ ہوا ،کبھی  امام غزالی اورعبد القادر جیلانی کی روحانیت بن کر بیماردلوں کے لیے شفا کا سامان بنا ،کبھی محمد فاتح کی شمشیر کبھی محمود ٖٖغزنوی کی مہم جوئی بنا کبھی حضرت نظام الدین اولیا کی رقت ثابت ہوا ، کبھی ابن ِجوزی کی تاثیر میں نمایاں ہوا کبھی ابنِ تیمیہ کے تبحرِ علمی میں ، کبھی شیر شاہ سوری کے حسن ِ تدبر کی شکل میں سامنے آیا اور کبھی اورنگ زیب عالم گیر کے آہنی عزم اور مجدد الفِ ثانی کے آثار ِ قلم و قدم میں ظاہر ہوا ، کبھی محمد بن عبدالوہابکی تحریک بن کر ابھرا اور کبھی شاہ ولی اللہ کی حکمت بن کر ، کبھی ان کے بعد آنے والے بے شمار مصلحین علماءِ ربانیین کی گراں قدر خدمات بن کر۔
            غرض یہ کہ ہر دور ہر زمانے میں بدلتے ہوئے حالات کے سامنے سینہ سپرہونے میں اور نئے نئے فتنوں اور سازشوں کوجان جان کر ان کا مقابلہ کرنے میں ، بہکے ہوئے قدموں کو راہ پر لانے اور ڈگمگاتے قدموں کو جمانے میں اور عالمِ اسلام ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کی ڈوبتی اور ہچکو لے کھاتی کشتی کو ساحل تک پہنچانے میں جو انقلابی کردار ان علماءمدارس نے پیش کیا تاریخِ عالم ایسی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔
            ذرا ان اولوالعزم علماء کی  تاریخ اٹھاکر دیکھو     جنہوں نے اس رضائے الہی  کےجذبہ سے سرشار ہو کر کیا کچھ برداشت کیا وہ بھو کے اور پیاسے  بھی رہے انھوں نے طعنے اور گا لیاں بھی سنیں انھیں جیل کی کالی کو ٹھریوں میں جانا پڑاانھو ں نے پیٹھ پرکوڑوں کی ضربیں سہی  انھوں نے حکمرا نوں کی ناراضگی اور مخالفت بھی مول لی
تیسری صدی  کے اوائل میں جب فتنہ اعتزال اور تعمق فی الدین نے سر اٹھا یا تھا اور صرف ایک ہی نہیں بلکہ تین عظیم الشان فرمارواوں نے یعنی مامون ، معتصم ،اور واثق باللہ کی شمشیر استبداد وقہر حکومت نے اس فتنہ کا ساتھ دیا حتی کہ علی بن مدینی نے فرمایا کہ فتنہ ارتداد اور منع زکات کے بعد یہ دوسرا فتنہ عظیم تھا جو اسلام کو پیش آیا اس وقت دین خالص کا بقا اورقیام ایک عظیم الشان قربانی کا طلبگار تھا امام احمد بن حنبل کو یہ شرف حاصل ہوا ان کو قید کیا گیا چارچار بوجھل بیڑیاں پاوں میں ڈالی گئیںاسی عالم میں بغداد سے  طرطوس  لے چلے ساتھ ہی یہ حکم دیا گیا کہ بلاکسی کی مدد کے خود ہی اونٹ پر سوار ہوں اور خود ہی اونٹ سے اتریںبیڑیوں کی وجہ سے ہل نہ سکتے تھےاٹھتے پھر گرتے تھے وین رمضانالمبارک کے عشرہ اخیر میںجس کی اطاعت اللہ کو تمام دنوں کی اطاعت  سے زیادہ محبوب ہےبھو کے پیاسے جلتی دھوپ میں بٹھائے گئے اور اس پیٹھ  پر جو علوم و معارف نبوت کی حامل تھی لگاتار کوڑے اس طرح مارے گئے کہ ہر جلاد دوضربیں پوری طاقت سے لگا کر پیچھے ہٹ جاتا  اور تازہ جلاد ان کی جگہ لے لیتے  حافظ ابن جوزی لکھتے ہیں عین حالت صوم میںکہ صرف پانی  کے گھونٹ پر رو زہ رکھ لیا تھا تازہ دم جلادوں نے پوری طاقت سے کو ڑے مارےیہاں تک کہ تمام پیٹھ زحموںسے چور ہوگئی اور  تمام جسم خون سے رنگین ہو گیا
پھر ذرا متحدہ ہندوستان کی تاریخ  پر نظر ڈالیں یہا ں بھی ایک وقت ایسا آیا کہ اسلام کا چراغ ٹمٹماتامحسوس ہورہاتھا دین اکبری ایجاد ہو رہا تھاخنزیااور کتے  کی پاکی کا حکم دیا گیا سود شراب اور جوا سمجھا گیا کلمہ توحید کی جگہ  لا الہ  الا اللہ اکبر خلیفہاللہ پڑھاجاتاتھا باد شاہ کو سجدہ کیا جا تا  اس پر آشوب دور میں جو قلندر میدا ن میں اترا اور جس نے  اسلام کی تجدید کا فریضہ انجا م دیا آپ یقین کریں وہ کسی انگریزی یونیور سیٹی کا فرو فیسر نہ تھا وہ کوئی خدا بیزار سائنسداں نہ تھا وہ کوئی مادہ پرست انجینئر اور اباحت پسند مسلم اسکا لر  نہ تھا بلکہ وہ مدرسہ کی خستہ چٹائیوں پر بیٹھ کر کتاب و سنت  کا علم حاصل کر نے والا ایک خدا شناس  مولوی تھا 
یہ مختصر  سا تعارف ہے ورنہ تم مالٹا کے در و دیوار سے پو چھو شیخ الہند کون تھا  کراچی اور انڈیا کی جیلوں سے پو چھو سید حسین احمد مدنی کون تھا جزیرہ انڈوما ن کے کالے پانی سے پو چھو جعفرتھانیسری کون تھا بالاکوٹ کے سنگریزوں سے پوچھو سید احمد شہید اور اسماعیل شہید کون تھا میانوالی اورسکھر کی جیلوں پو چھو سید عطاءاللہ بخاری کون تھا یہ سب کے سب انہیں مدارس کے پڑھے ہوئے تھے ، کیا یہ  ڈوب مرنے کی بات نہیں کہ جن مدارس کی قربانیوں سے ہمیں دین ملا، قرآن ملا ، سنت ملی اور مسجدیں آباد ہوئیں آج انہیں مدارس کو ہم تنقید کا نشانہ بنا تے ہیں
مدارس  قیام خلافت کا نام ہے ،مدارس انبیاء کی وراثت کا نام ہے،مدارس صحابہ کی نیابت کا نام ہے ، مدارس تحفظ دین کی ربانی تدبیر کا نام ہے مدارس صداقت و حقانیت کی ترویج کا نام ہے مدارس ناموس رسالت اور عدالت صحابہ کی صیا نت کا نام ہے مدارس سعید بن جبیر کی عزیمت اور ابو حنیفہ کی فقاہت کا نام ہے ، مدارس  امام شافعی کی ذہانت  وفطانت کا امام مالک کی حق گوئی اور بے با کی کا اور امام احمد کی استقامت کا نام ہے مدارس  مجدد الف ثانی جہد مسلسل اور شاہ ولی اللہ کی فہم و بصیرت کانام ہے مدارس قاسم نانوتوی کے علم و دانش شیخ الہند کی جہد و کا وش الیاس دہلوی  کی فکرو کوشش ،یوسف  کادھلوی کے دردوسوزش عبیداللہ سندھی کی تڑپ حسین احمد مدنی کی غیرت و شجاعت اور ابو الکلام آزاد کی پر جوش خطابت کا نام ہے 

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم صراطِ مستقیم

Label

Recent

Text Widget

Test

Category List

Contact Us

Name

Email *

Message *

Followers

Category List

Newsletter

We’ll keep you informed and updated

Category List

categories

Recent Comments

Popular Posts

Welcome To SoraBook

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم