تاریخی لحاظ سے مسلم معاشروں میں علماء، قاضیوں، اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہیں اور مالی معاونت مختلف دورِ حکومت اور نظامِ مالیات کے لحاظ سے مختلف رہی ہے

تاریخی لحاظ سے مسلم معاشروں میں علماء، قاضیوں، اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہیں اور مالی معاونت مختلف دورِ حکومت اور نظامِ مالیات کے لحاظ سے مختلف رہی ہے۔ ابتدائی دورِ اسلام (خلافتِ راشدہ) سے لے کر عثمانی اور مغل دور تک اس کا کیا نظام رہا ہے، اس کا ایک مختصر جائزہ درج ذیل ہے:
۱. دورِ نبوی اور خلافتِ راشدہ
اس دور میں باقاعدہ تنخواہوں کا کوئی سرکاری نظام نہیں تھا کیونکہ زیادہ تر دینی خدمات (امامت، تدریس اور فتویٰ) رضا کارانہ طور پر انجام دی جاتی تھیں۔
حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دور میں بیت المال سے ان لوگوں کو مقررہ وظائف یا گزارہ الاؤنس (رزق) دیا جانے لگا جو ہم وقت دینی خدمات، قضا (فیصلے) یا بیت المال کے امور میں مصروف ہوتے تھے، تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی کفایت کر سکیں۔ حضرت عمرؓ کے دور میں قاضیوں اور معلمین کے لیے معین وظائف مقرر کیے گئے تھے۔
۲. دورِ بنی امیہ و عباسی
عباسی دور میں جب بیت المال کا نظام انتہائی منظم ہوا اور باقاعدہ علمی ادارے (جیسے دارالحکمت، مدارس اور جامعات) قائم ہوئے، تو علماء، محدثین، اساتذہ اور فقہاء کے لیے باقاعدہ ماہانہ تنخواہیں اور وظائف مقرر کیے گئے۔
اس دور میں بڑے بڑے علماء اور اساتذہ کو اتنی تنخواہ اور جاگیریں دی جاتی تھیں کہ وہ مالی طور پر مکمل خود کفیل ہوتے تھے تاکہ وہ اپنے تمام مالی خدشات سے آزاد ہو کر صرف تصنیف، تالیف اور درس و تدریس پر توجہ دے سکیں۔
۳. سلاطینِ دہلی اور مغل دور (ہندوستان)
برصغیر پاک و ہند میں اسلامی حکومتوں کے دوران علماء، مفتیانِ کرام اور ائمہ کی تنخواہوں کا ایک مستحکم نظام موجود تھا:
مددِ معاش اور اضرہ: سلاطینِ دہلی اور مغل بادشاہ (مثلاً شہنشاہ اکبر، اورنگزیب عالمگیر وغیرہ) علماء، صوفیاء اور مدارس کے لیے "مددِ معاش" (زرعی زمینیں یا نقد وظائف) کے نام پر مستقل مالی امداد اور تنخواہیں جاری کرتے تھے۔
سرکاری عہدے: بڑے علماء کو منصبِ قضا (چیف جسٹس یا جج)، شیخ الاسلام، یا دربار میں مفتی اور اتالیق کے عہدے دیے جاتے تھے جن کی تنخواہیں شاہی دربار کے امراء اور اعلیٰ افسران کے برابر یا ان سے مناسب نسبت رکھتی تھیں تاکہ معاشرے میں ان کا مقام اور وقار برقرار رہے۔
مغل دور کی مثالیں: مغل دور میں سرکاری مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ کے لیے نقد وظائف کے علاوہ پیداواری زمینیں وقف ہوتی تھیں جن کی آمدنی سے ان کے گھر کا خرچ چلتا تھا۔
۴. تنخواہ کا پیمانہ اور تنوع
علماء کی تنخواہ کوئی ایک فکسڈ یا یکساں رقم نہیں ہوتی تھی، بلکہ اس کا انحصار درج ذیل امور پر ہوتا تھا:
خدمت کی نوعیت: آیا وہ صرف پڑھانے والے مدرس ہیں، مفتی ہیں، قاضی ہیں یا جامع مسجد کے خطیب ہیں۔
علاقہ اور مہنگائی: دارالحکومت یا بڑے شہروں میں تنخواہیں زیادہ ہوتی تھیں جبکہ دیہاتی علاقوں یا چھوٹی مساجد کے ائمہ کا گزر بسر اکثر مقامی لوگوں کے عطیات، فطرہ، زکوٰة یا وقف زمینوں کی پیداوار پر ہوتا تھا۔
خلاصہ یہ کہ اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ علمِ دین پھیلانے والے علماء معاشی طور پر اتنے مستحکم ہوں کہ انہیں اپنی روزی روٹی کے لیے فکری بھٹکنا کا سامنا نہ کرنا پڑے، خواہ یہ انتظام بیت المال کے ذریعے ہو یا وقف کے نظام کے ذریعے۔

کم تنخواہ ہی میں ہماری اصلاح مضمر ھے

کم تنخواہ ہی میں ہماری اصلاح مضمر ھے

ابو عمار عفان قاسمی 

کچھ دنوں سے سوشل میڈیا اور مختلف مجالس میں مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کے موضوع پر مسلسل کچھ بیانات اور ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں۔ ان کلپس کو دیکھ کر دل کو بے حد تکلیف ہوئی کہ افسوس! اب وارثینِ انبیاء پر بھی مادیت کا یہ فتنہ سوار ہونے لگا ہے اور چٹائی کے نشین بھی دنیاوی ترازو میں تولے جانے لگے ہیں۔ اسی دلی اضطراب سے متاثر ہو کر یہ چند سطریں لکھنے کی جرات کر رہا ہوں؛ اگر کسی کو اس سے اختلاف ہو تو ضرور کیجیے، لیکن خدا کے لیے ایک لمحے کو سر گریبان میں ڈال کر توجہ دیجیے کہ ہم کیا ہیں اور کس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ ہمارے اکابر نے مدارسِ اسلامیہ میں دنیاوی علوم اور ڈگریوں کو داخل ہونے سے اسی لیے روکا تھا کہ ہمارا مزاج بوریہ نشینی کا مزاج ہے۔ ہمیں دنیاوی ڈگریاں اور آسائشیں نہیں چاہئیں، بلکہ فقرِ محمدی کا وہ نور چاہیے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ اسی استغنا کی تربیت کے لیے آج بھی ہمارے بڑے مدارس میں طلبہ کے کھانے کا نظم بالکل سادہ ہوتا ہے، جہاں پورے سال ایک ہی طرح کا دال دلیا یا سادہ کھانا کھلایا جاتا ہے تاکہ روح کے اندر درویشی پیدا ہو۔ افسوس کہ جس درویشی اور فقر کے سائے میں ہماری پرورش ہوئی، آج تنخواہوں کے بار بار مطالبے کر کے اسی بنیاد پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ فقہاء نے خادمِ دین کے لیے صرف ’بقدرِ کفاف‘ یعنی صرف اتنی ہی اجرت کی اجازت دی ہے جس سے سانس کا رشتہ برقرار رہے اور پردہ داری قائم رہے۔ جب ہمارے معصوم طلبہ سالہا سال وہی سادہ کھانا کھا کر، سخت چٹائیوں پر سو کر علمِ دین حاصل کر سکتے ہیں، تو ہم مسندِ تدریس پر بیٹھ کر اس قناعت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر سکتے؟
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
حقیقت تو یہ ہے کہ ضرورت کا رزق اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لیے اپنے ذمۂ کرم پر لے رکھا ہے، یہ جو تنخواہوں کا رونا رویا جا رہا ہے، یہ ضرورت کا نہیں بلکہ بے لگام خواہشات کا رونا ہے۔ جب انسان اپنے باطن کی طرف جھانکتا ہے تو شرمسار ہو جاتا ہے کہ ہمارے اعمال و افعال تو مدرسہ جیسی مقدس جگہ پر رہ کر بھی ایسے ہیں کہ ہم اللہ کی نعمتوں میں سے پانی کے ایک قطرے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اگر کسی کو عیش و عشرت کی زندگی اور بڑی بڑی تنخواہیں ہی چاہئیں، تو مدرسہ کے علاوہ دنیا میں کمانے کی بہت سی جگہیں ہیں، وہ وہاں جا کر اپنی قسمت آزمائیں۔ یہاں تو قدم رکھنے سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کتنا مشاہرہ ملے گا، اگر دل میں قناعت نہیں ہے اور دو وقت کی دال روٹی پر شکر گزاری کی توفیق نہیں ہوتی، تو کسی کمپنی کا رخ کیجیے، یہاں دین کی چٹائی پر بیٹھنے کے لیے کوئی مجبور نہیں ہے۔ خادمِ دین کا موازنہ دنیاوی مزدوروں سے کرنا ایک فکری مغالطہ ہے؛ مزدور تپتی دھوپ میں جسمانی مشقت کر کے دنیا کماتا ہے، جبکہ امام اور مدرس کا منصب ایک نورانی, روحانی اور نبوی فریضہ ہے۔ اس عظیم منصب کو دنیاوی اجرت کے ترازو میں تولنا اس کی توہین ہے۔
تجھ کو پایا ہے تو اب دنیا کی پروا کیوں کریں
ہم گدائے کوئے جاناں ہیں، تمنا کیوں کریں
تاریخِ اسلام کے صفحات اسلافِ صالحین کی فاقہ کشی، زہد اور مالِ دنیا سے شدید بے رغبتی کی گواہیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سخت ترین تنگی میں زندگی گزارتے تھے لیکن امراء کے وظائف کو ٹھکرا دیتے تھے اور فرماتے تھے: ’’كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَصْبِرُ عَلَى الفَاقَةِ وَالجُوعِ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا هِيَ أَيَّامٌ قَلِيلَةٌ وَتَأْتِي المَنِيَّةُ‘‘ (احمد بن حنبل فاقہ کشی اور بھوک پر صبر کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ تو بس چند دنوں کی زندگی ہے اور پھر موت آنے والی ہے)۔ اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ نے علمِ حدیث کی خدمت کے لیے اپنے گھر کی چھت کے شہتیر تک بیچ دیے، لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اسلاف کا یہ جذبہ اس عربی مقولے کا عکاس تھا کہ ’’الْعِلْمُ حَرْبٌ لِلْفَتَى الْمُتَعَالِي، كَسَيْلِ حَرْبٌ لِلْمَكَانِ الْعَالِي‘‘ (علم دنیا چاہنے والے جوان کا دشمن ہے، جیسے سیلاب اونچی جگہ کا دشمن ہوتا ہے)۔
ملکِ قناعت آسودگی کا ہے، مت کہو اس کو فقر و گدا
ہم تو شاہی کرتے ہیں اس میں، تم کو عبث یہ عار ہوا
مدارسِ اسلامیہ کا یہ معاشی نظام اور ان کا ایک ایک پیسہ امراء کے فالتو مال سے نہیں آتا، بلکہ یہ رقم ایک غریب بیوہ اور مزدور کے خون پسینے کی کمائی کا حصہ ہے جو وہ اپنے پیٹ کاٹ کر دین کی بقا کے لیے وقف کرتے ہیں۔ جب مدارس کا پیسہ اتنی محنت، عقیدت اور تڑپ سے آتا ہو، تو اس پیسے سے اپنی عیاشیوں اور بلند معیارِ زندگی کا مطالبہ کرنا باطنی دیوالیہ پن ہے۔ جب تک نفس کی اصلاح نہیں ہوگی اور اندر کا انسان قانع نہیں ہوگا، مال کی طلب کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ انسانی نفس کی حقیقت یہی ہے کہ اسے جتنا دیا جائے، وہ ’’هَلْ مِنْ مَزِيدٍ‘‘ (کیا کچھ اور بھی ہے؟) کی صدا لگاتا رہتا ہے۔ سہارنپور اور دیگر بڑے دینی مراکز کے اساتذہ کے احوال دیکھ لیجیے؛ تنخواہیں چاہے جتنی بھی بڑھ جائیں، شکوے اور شکایات کم نہیں ہوتیں۔ یہ رونا تنخواہ کے کم ہونے کا نہیں، بلکہ دل کے فقیر ہونے کا ہے۔ غلامیِ زر سے جو دل ہو گئے تاریک و بے نور، وہ کیا جانیں کہ کیا ہے ذائقہ فقر و قناعت کا!
اس مادیت کے ہجوم میں، خادمِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ایک بااصول اور زاہدانہ سانچے میں ڈھالے۔ باہر کے ہوٹلوں کے چٹخارے مٹا کر صرف اور صرف گھر کے بنے ہوئے سادہ کھانے پر اکتفا کیا جائے۔ جسم کو راحت پسندی کا عادی بنانے والے ائیر کنڈیشنر (AC) جیسے تعیشات سے کوسوں دور رہا جائے اور مسافرت کے وقت مہنگی اور اسپیشل گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ یا عام سواریوں پر سفر کیا جائے۔ معاشی تنگی کو دور کرنے کے لیے کسی دنیاوی تکبر کا شکار ہوئے بغیر سرکاری راشن کارڈ جیسی سہولیات کا فائدہ اٹھایا جائے اور بچوں کی تعلیم کے لیے مہنگے نجی اسکولوں کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے سرکاری اسکولوں میں بقدرِ ضرورت تعلیم دلائی جائے۔ روح کی بالیدگی کے لیے ہر مہینے ایامِ بیض کے روزوں کا اہتمام کیا جائے اور موبائل فون کا استعمال کم سے کم کیا جائے، جس کی رنگین اسکرینوں کو دیکھ دیکھ کر دلوں میں دنیا پرستی داخل ہوتی ہے۔
ایک خادمِ دین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو صاف لفظوں میں یہ بات سمجھا دے کہ: ’’میں تمہیں دنیا کے محلات، بنگلے اور ریشم و اطلس کے لباس نہیں دے سکتا، میرے پاس دینے کے لیے صرف میرا دل اور اخلاص ہے‘‘۔ گھر والوں کو داؤد طائی، حسن بصری, رابعہ بصریہ اور امام غزالی رحمہ اللہ کی پاکیزہ زندگیوں کے مطالعے کا خوگر بنایا جائے۔ اپنے لباس کو سمیٹ کر صرف دو یا drei جوڑی کپڑوں تک محدود کر دیا جائے، پاؤں کے لیے بازار کی سب سے سادہ چپل خریدی جائے اور قیمتی شیروانیاں اور واسکٹیں خریدنے کا فضول سلسلہ بالکل بند کر دیا جائے۔ دل کو ہر لمحہ آخرت کی طرف متوجہ رکھا جائے اور اپنے ہاتھ سے اپنا کام کرنے کو عیب نہ سمجھا جائے۔
خودی کو بیچ کر، اگر ملے خدائی بھی
سودا مہنگا ہے، فقر کے کارواں چلیے
یہ زندگی محض چند روزہ سفر اور ایک عارضی مسافر خانہ ہے۔ خادمِ دین کا اصل سرمایہ وہ نہیں جو اس کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے، بلکہ وہ ہے جو وہ فاقوں اور تنگیوں پر صبر کر کے اپنے رب کے پاس جمع کرواتا ہے۔ پیٹ کا بھرا ہونا انسان کو غافل بناتا ہے، جبکہ فقر دل کو نرم کرتا ہے اور راتوں کو اٹھ کر اللہ کے حضور گڑگڑانے کی توفیق دیتا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کی روح اسی فقرِ غیور میں پنہاں ہے جس کے سامنے بادشاہوں کے تاج بھی جھک جایا کرتے تھے۔ دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا تنخواہوں میں اضافے کے لیے واویلا کرنے کے بجائے، اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قناعت، زہد اور دو وقت کی دال روٹی کو غنیمت جان کر گلے لگانا ہی اس نبوی منصب کی اصل لاج ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ تنخواہ کی یہ کمی اور ان اصولوں پر گزری زندگی ہی دراصل نفس کی اصل اصلاح اور آخرت کی یاد دلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے ایک نظر دیکھا. 

مدرسہ انتظام کی باتیں

 مدرسہ انتظام کی باتیں

*قسط ㉘ — نیا استاد رکھنا آسان ہے... اسے ادارے کے نظام سے ہم آہنگ کرنا ضروری!*

فرض کیجیے کہ ایک مدرسے میں نئے استاد کی تقرری ہوئی۔ وہ پہلے دن مدرسے پہنچے، انہیں کلاس بتا دی گئی، کتابیں دے دی گئیں اور کہہ دیا گیا:
آپ کل سے پڑھانا شروع کردیں۔

استاد صاحب نے پڑھانا شروع کردیا، لیکن چند دن بعد مسائل سامنے آنے لگے۔

انہیں معلوم نہیں کہ مدرسے میں حاضری کا کیا طریقہ ہے، سبق کی روزانہ مقدار کتنی ہونی چاہیے، طلبہ کی غیر حاضری کی اطلاع کس کو دینی ہے، امتحانات کا طریقۂ کار کیا ہے اور کسی طالب علم کی تعلیمی کمزوری کی صورت میں کس سے رابطہ کرنا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب باتیں استاد کو خود ہی معلوم کرلینی چاہییں؟

📌 تقرری کے بعد بھی انتظامیہ کی ذمہ داری باقی رہتی ہے

اکثر اداروں میں نئے استاد کی تقرری کے وقت ان کی قابلیت، تجربے اور علمی استعداد کو تو دیکھا جاتا ہے، لیکن انہیں ادارے کے ماحول اور طریقۂ کار سے واقف کرانے کا باقاعدہ انتظام نہیں ہوتا۔

حالاں کہ ایک اچھا استاد بھی اس وقت زیادہ بہتر انداز میں کام کرسکتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ ادارے کی توقعات کیا ہیں اور یہاں کام کس طریقے سے انجام دیا جاتا ہے۔

📋 نئے استاد کے لیے ابتدائی رہنمائی کا انتظام کریں

نئے استاد کو کام شروع کرنے سے پہلے چند بنیادی باتیں ضرور سمجھائی جائیں:

1۔ تدریسی ذمہ داریاں:
کون سی کتاب پڑھانی ہے، نصاب کب تک مکمل کرنا ہے، روزانہ کتنا سبق پڑھانا ہے اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کا جائزہ کیسے لینا ہے؟

2۔ ادارے کے اصول:
حاضری، رخصت، اوقاتِ کار، اجلاس اور دیگر انتظامی امور کے متعلق واضح معلومات دی جائیں۔

3۔ رابطے کا طریقہ:
یہ بتایا جائے کہ کسی مسئلے، شکایت یا ضروری اطلاع کی صورت میں کس ذمہ دار سے رابطہ کرنا ہے۔

4۔ ابتدائی نگرانی اور تعاون:
پہلے چند ہفتوں میں کسی تجربہ کار استاد یا ناظم کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ نئے استاد کی رہنمائی کرے اور ان کی مشکلات معلوم کرے۔

ایک چھوٹی سی عملی مثال

ایک مدرسے نے فیصلہ کیا کہ ہر نئے استاد کو پہلے دن ایک مختصر رہنما کتابچہ دیا جائے گا، جس میں ادارے کے بنیادی اصول، تدریسی طریقۂ کار، ذمہ داران کے نام اور ضروری رابطے درج ہوں گے۔

اس کے علاوہ ایک ہفتے بعد ان سے ملاقات بھی کی جائے گی تاکہ معلوم ہوسکے کہ انہیں کام میں کوئی دشواری تو پیش نہیں آرہی۔

اس معمولی سے انتظام سے نئے استاد کو بھی سہولت ملے گی اور انتظامیہ کو بھی بار بار ایک ہی بات سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یاد رکھیے! کسی شخص کی تقرری کا مطلب صرف اسے ذمہ داری سونپ دینا نہیں، بلکہ اسے اس ذمہ داری کو اچھی طرح نبھانے کے قابل بنانا بھی ہے۔

سوچنے کی بات:

اگر کل آپ کے مدرسے میں کوئی نیا استاد یا ملازم آئے، تو کیا اسے پہلے ہی دن معلوم ہوجائے گا کہ اسے کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور ضرورت پڑنے پر کس سے رابطہ کرنا ہے.

مکتب کا نظام وقت کی اہم ضرورت


مکتب کا نظام وقت کی اہم ضرورت
 Maulana Khalid Saifullah Rahmani

موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور ان کی دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کیلئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے۔
بچوں کے لئے دینی مکاتیب کے نظام کو بدرجۂ اولیٰ اہمیت دینی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
قرآن مجید میں جن اولوالعزم پیغمبروں کا ذکر آیا ہے ، ان میں ایک اہم ترین شخصیت حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے ، جن کا مختلف عنوان کے تحت قرآن میں سولہ بار ذکر آیا ہے ۔ ان کے والد حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ، جن کا ایک نام اسرائیل بھی ہے ۔ بنی اسرائیل دراصل ان کی اولاد ہیں اور رسول اﷲ ﷺ کے علاوہ مصر اور عراق کے خطہ میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی خدا کے اولوالعزم پیغمبروں میں ہیں جن کو ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی رضا کے لئے قربان کیا تھا اورعید قرباں ان ہی کی یادگار کے طورپر منائی جاتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے دادا ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جنہوں نے تعمیر کعبہ کی تجدید فرمائی ، حج کے زیادہ تر افعال حضرت ابراہیم ؑ کی قربانیوں اور فرمانبرداریوں کی یاد کو تازہ کرنے کا باعث ہیں اور دنیا کے تین بڑے مذاہب یہودیت ، عیسائیت اور اسلام آپ علیہ السلام کی عظمت پر متفق ہیں ۔قرآن نے خاص طورپر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے توحید پر ایمان و ایقان کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں ابتلاؤں اور آزمائشوں میں پورا اُترنے کے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ آج جو مذاہب توحید کا اقرار کرتے ہیں ، وہ سبھی حضرت ابراہیم ؑ سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں ، حضرت یعقوب ؑ کے صاحبزادے حضرت یوسف علیہ السلام ہیں ، جن کے واقعہ پر قرآن مجید میں ایک مکمل سورہ ’’یوسف ‘‘ کے نام سے موجود ہے اور ان کی داستانِ زندگی کو اﷲ تعالیٰ نے احسن القصص کے نام سے ذکر فرمایا ہے ، گویا حضرت یعقوب علیہ السلام کا پورا خانوادہ نبیوں اور رسولوں کا خانوادہ ہے جس میں باپ ، چچا، دادا ، بیٹا ، سب اﷲ کے پیغمبر ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس خاندان میں کس قدر دین داری ، تقویٰ اور خشیت ِالٰہی رہی ہوگی اور گھر کے پورے ماحول پر کیسی اعلیٰ دینی فضاء سایہ فگن ہوگی۔ ایسے دین دار گھرانے کے افراد سے گناہ اور معصیت کا اندیشہ بھی لوگوں کو نہیں ہوتا ، چہ جائے کہ کفر و شرک کا خوف ان سے ہو ؛ لیکن جب حضرت یعقوبؑ کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے صاحبزادوں سے سوال کیا’’میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے ؟ صاحبزادوں نے جواب دیا : ہم آپ کے خدا ، آپ کے باپ دادا ابراہیمؑ ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے خدا یعنی ایک ہی خدا کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے ۔‘‘(بقرہ: ۱۳۳) 
اسی طرح سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو خود نبی تھے وصیت فرمائی :
’’بے شک اﷲ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے ؛ اس لئے اسلام ہی کی حالت میں تمہیں موت آنی چاہئے ۔‘‘(بقرہ: ۱۳۲)
غور کیجئے ! کہ انبیاء کرام اپنے بچوں کے سلسلہ میں اس بات کے فکر مند ہیں کہ وہ دین پر قائم رہیں اور ان کو دین پر قائم رہنے کی حالت میں موت آئے ، جب انبیاء کو اپنی اولاد کے بارے میں اتنی زیادہ فکر مندی تھی ، تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سلسلہ میں کتنا زیادہ فکر مند رہنے کی ضرورت ہے۔ آج ہماری نفسیات یہ ہے کہ ہم اپنی خاندانی روایات پر یقین کرکے اپنے بال بچوں کے بارے میں مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہمارے بچے اسی دین کے حامل رہیں گے ، جو ہمیں ہمارے ماں باپ کی طرف سے ملا ہے ۔
راقم الحروف کو متعدد مغربی ملکوں کے سفر کا موقع ملا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی ملکوں نے مذہب سے اپنا رشتہ پوری طرح توڑ لیا ہے اور اگر کوئی اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے تو وہ محض روایات کے طورپر ایک تہذیب کے نقطۂ نظر سے عیسائی ہے ، یعنی کچھ مذہبی رسوم ہیں ، جو بطورِ عقیدہ کے انجام نہیں دی جاتیں بلکہ اب وہ تہذیب اور روایت کا حصہ بن چکی ہیں ، لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ جو مسلمان وہاں آباد ہیں اور خاص کر گجراتی مسلمان ، کہ ہندوستان سے زیادہ تر وہی اس ملک میں پہنچے ہیں ان کی نئی نسل میں بھی دین داری کا رجحان بہت ہی قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں یوں محسوس ہوتا ہے کہ لباس عورتوں کے لئے ناقابل برداشت بوجھ ہے ، اور جہاں نوجوان لڑکے نت نئے فیشن کے پرستار ہیں ، وہاں بھی مسلمان خواتین کی اچھی خاصی تعداد برقع پوش ہے ، یا کم سے کم چہرہ کے علاوہ پورا جسم بشمول سر ،ڈھکا ہوا ہے، نوجوان لڑکے باریش ہیں اور ان کی اچھی خاصی تعداد مشرقی لباس اور اسلامی وضع قطع کی حامل ہے ۔اس کے اسباب یوں تو گھریلو ماحول اور طبعی سلامت رَوی ، دینی تحریکوں اور جماعتوں سے تعلق اور خاص کر حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی تحریک دعوت و تبلیغ کی محنت علماء اورمشائخ سے تعلق و ارتباط وغیرہ بھی ہے ؛ لیکن سب سے اہم کردار اس میں نظام مکاتب کا ہے۔ ریاست ِگجرات میں بہت زمانہ سے ایک نظام یہ ہے کہ گاؤں گاؤں میں مکاتب قائم ہیں ، جو طلبہ عصری درسگاہوں میں پڑھتے ہیں ان کے لئے ان مکاتب میں پڑھنا ضروری سمجھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ مکتب کے اوقات میں کھیلتا ہوا مل جائے تو محلہ کے لوگ بے تکلف بچہ کے سرپرست سے پوچھ بیٹھتے ہیں کہ یہ مکتب نہیں جارہا ہے ؟ اور سرپرست کو شرمسار اور معذرت خواہ ہونا پڑتا ہے۔ عام طورپر مکتب کی تعلیم سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں قاعدۂ بغدادی اورپارۂ عم جیسے تیسے پڑھادیا جائے اور چند کلمات اور دُعائیں یاد کروا دی جائیں ، بس یہ کافی ہے ، یقیناً کچھ نہ ہونے کے مقابلے میں ہونا بہتر ہے ؛ لیکن گجرات کے نظم مکاتب کی سطح اس سے بہت بلند ہے۔ یہاں عام طورپر میٹرک تک آٹھ دس سال مکتب کی تعلیم ہوتی ہے ، روزانہ ڈھائی گھنٹہ بچوں کا وقت لیا جاتا ہے۔، ایک معلم پندرہ ، بیس طلبہ کو پڑھاتا ہے۔ ناظرہ قرآن تجوید کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے، کچھ پارے حفظ کرائے جاتے ہیں ، پھر اس کے ساتھ ساتھ آیات و احادیث کے ترجمے ، ایمانیات ، مسائل و احکام ، سیرتِ نبویؐ وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر عربی زبان کی ابتدائی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں ۔گجرات کے مسلمان تاجر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ، وہ جہاں بھی گئے مکتب کا یہ نظام اپنے ساتھ لے گئے ، اس لئے ان کی نئی نسل پر دین داری کی جھلک نمایاں طورپر محسوس کی جاتی ہے ، چاہے وہ کتنے ہی مخالف ِاسلام ماحول میں ہوں ، وہ دوسرے مسلمانوں سے اپنے دینی ربط و تعلق کی بناء پر نمایاں محسوس ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں چونکہ ۱۶؍ سال کی عمر تک سرکاری نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ہر بچہ پر لازم ہے ، اس لئے اتنی عمر تک بچے پابندی سے مکتب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس طرح وہ نیم مولوی تو ہوہی جاتے ہیں اور بعض طلبہ تو قرآن مجید کا حفظ بھی مکمل کرلیتے ہیں ۔بعض اہل بصیرت کا گمان ہے کہ ایشیاء میں جو ملک سب سے پہلے مغربی تہذیب کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا اور جو تیزی سے مغرب کی پیروی کی طرف جارہا ہے ، وہ ہمارا ملک ہندوستان ہے اور مغربی ممالک کو چوںکہ افرادی وسائل کی ضرورت ہے اور ہندوستان کے نوجوان ذہانت ، صلاحیت ، محنت اور فنی مہارت کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کو قبول کرنے کا مزاج بھی رکھتے ہیں ، اسی لئے یہاں کے کارکنان ان کے لئے سب سے زیادہ قابل قبول ہیں ۔ان حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کے لئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے ، کہ زیادہ سے زیادہ مکاتب قائم ہوں۔ یہ مکاتب صرف رسمی انداز کے نہ ہوں ؛ بلکہ اس کا دس سالہ کورس ہو ، جس میں ناظرہ قرآن ، حفظ ، منتخب آیات و احادیث کے ترجمے ، عبادات و معاملات اور شخصی زندگی سے متعلق ضروری احکام ، نیز رسول اﷲ ﷺ اورانبیاء کرام کی سیرت اور تاریخ ہند جیسے اہم مضامین شامل نصاب ہوں اور ان کی باضابطہ تعلیم ہوا کرے ، اُردو زبان بھی اس نصاب کا ایک اہم جزو ہو اور ان طلبہ کو اچھی طرح اُردو لکھنا اور پڑھنا آجائے ؛ تاکہ وہ اپنے اسلاف کے علمی ورثہ سے جڑے رہیں۔ علماء کو ان کا علم ، مشائخ کو ان کی دینی نسبت اور دعوتی کام کرنے والوں کو ان کی دعوتی وابستگی انہیں اپنے بچوں کی طرف سے بے پروا نہ کردے اور یہ خیال نہ پیدا ہوجائے کہ ہماری یہ دینی وابستگی لازمی طورپر ہماری آنے والی نسلوں کو بھی دین سے مربوط رکھے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت یعقوب علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبروں کے اُسوہ کو یاد رکھیں کہ پورا خاندان نبوت کے نور سے منور ہے ، اس کے باوجود انہیں اپنی وفات کے وقت یہی فکر دامن گیر ہے کہ ہماری اولاد دین پر قائم رہے گی یا نہیں ؟ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے ؟ اور کیا ہم نے بھی کبھی اپنی اولاد سے وہی استفسار کیا ہے جو آپؑ نے کیا تھا کہ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ ؟

موجودہ دور میں علماء و مصلحین کے فتنے

علماء ومصلحین کے فتنے
(محدث العصرحضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رح کی ایک نادرتحریر)

سب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ علماء ومصلحین کی جماعتوں میں جو فتنے آج کل رونما ہو رہے ہیں، نہایت خطرناک ہیں ، تفصیل کے لئے موقع نہیں ہے؛ لیکن فہرست کے درجہ میں چند باتوں کو ذکر کرنا ناگزیر ہے۔
 *مصلحت اندیشی کا فتنہ* 
یہ فتنہ آج کل خوب برگ وبار لا رہا ہے ، کوئی دینی یا علمی خدمت کی جائے ، اس میں پیش نظر دنیاوی مصالح رہتے ہیں، اس فتنہ کی بنیاد نفاق ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سی دینی وعلمی خدمات برکت سے خالی ہیں۔
*ہردل عزیزی کا فتنہ* 
جو بات کہی جاتی ہے، اس میں یہ خیال رہتا ہے کہ کوئی بھی ناراض نہ ہو، سب خوش رہیں، اس فتنہ کی اساس حب جاہ ہے۔
 *اپنی رائے پر جمود واصرار* 
اپنی بات کو صحیح وصواب اور قطعی ویقینی سمجھنا، دوسروں کی بات کو درخور اعتناء اور لائق التفات نہ سمجھنا، بس یہ یقین کرنا کہ میرا موقف سو فیصد حق اور درست ہے اور دوسرے کی رائے سو فیصد غلط اور باطل، یہ اعجاب بالرائے کا فتنہ ہے اور آج کل سیاسی جماعتیں اس مرض کا شکار ہیں، کوئی جماعت دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتی، نہ حقِ دینی ہے کہ مخالف کی رائے کسی درجہ میں صحیح ہو، یا یہ کہ شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں جو ہم چاہتے ہیں، صرف تعبیر اور عنوان کا فرق یا "الاہم فالاہم" کی تعیین کا اختلاف ہو ۔
 *سوء ظن کا فتنہ* 
ہر شخص یا ہر جماعت کا خیال یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ہر فرد مخلص ہے اور ان کی نیت بخیر ہے اور باقی تمام جماعتیں جو ہماری جماعت سے اتفاق نہیں رکھتیں، وہ سب خود غرض ہیں، ان کی نیت صحیح نہیں؛ بلکہ اغراض پر مبنی ہیں، اس کا منشا بھی عجب وکبر ہے ۔
 *سوء فہم کا فتنہ* 
کوئی شخص کسی مخالف کی بات جب سن لیتا ہے ، تو فورًا اسے اپنا مخالف سمجھ کر اس سے نہ صرف نفرت کا اظہار کرتا ہے؛ بلکہ مکروہ انداز میں اس کی تردید فرض سمجھی جاتی ہے، مخالف کی ایک ایسی بات میں جس کے کئی احتمال اور مختلف توجہیات ہو سکتی ہیں، وہی توجیہ اختیار کریں گے جس میں اس کی تحقیر وتذلیل ہو، کیا درج ذیل آیت اور حدیث مبارکہ کی نصوص مرفوع العمل ہو چکی ہیں؟ (ان بعض الظن اثم) ، اسی طرح حدیث مبارکہ (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث) ۔بدگمانی سے بچا کرو ؛ کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے.
اور بڑے بڑے جھوٹ اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
 *بہتان طرازی کا فتنہ* 
مخالفین کی تذلیل وتحقیر کرنا، بلا سند ان کی طرف گھناؤنی باتیں منسوب کرنا، اگر کسی مخالف کی بات ذرا بھی کسی نے نقل کردی، بلا تحقیق اس پر یقین کر لینا اور مزے لے کر محافل ومجالس کی زینت بنانا، بالفرض اگر خود بہتان طرازی نہ بھی کریں، دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق صحیح سمجھنا، کیا یہ اس نص قرآنی کے خلاف نہیں؟ {ان جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا}۔اگر آئے تمہارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر، تو تحقیق کرلو.
 *جذبہ انتقام کا فتنہ* 
کسی شخص کو کسی شخص سے عداوت ونفرت یا بدگمانی ہو تو، وہ مجبورًا خاموش رہتا ہے؛ لیکن جب ذرا اقتدار مل جاتا ہے، طاقت آجاتی ہے، تو پھر خاموشی کا سوال پیدا نہیں ہوتا، گویا یہ خاموشی معافی اور درگزر کی وجہ سے نہیں تھی؛ بلکہ بے چارگی وناتوانی اور کمزوری کی وجہ سے تھی، جب طاقت آگئی، تو انتقام لینا شروع کیا، رحم وکرم اور عفو ودر گزر سب ختم ۔
 *حب شہرت کا فتنہ* 
کوئی دینی یا علمی یا سیاسی کام کیا جائے، آرزو یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ داد ملے اور تحسین وآفرین کے نعرے بلند ہوں، در حقیقت اخلاص کی کمی یا فقدان سے اور خود نمائی وریا کاری کی خواہش سے یہ جذبہ پیدا ہو گیا، در حقیقت یہ شرک خفی ہے، حق تعالی کے دربار میں کسی دینی یا علمی خدمت کے وزن اخلاص سے ہی بڑھتا ہے اور تمام اعمال میں قبول عند اللہ کا معیار ہے، اخبارات، جلسے، جلوس اور علماء کے بیرون ملکوں کے دورے زیادہ تر اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں ۔
 *خطبات وتقاریر کا فتنہ* 
یہ فتنہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ لن ترانیاں انتہائی درجہ میں ہوں، عملی کام صفر کے درجہ میں ہوں، قوالی کا شوق دامن گیر ہے، عمل وکردار سے زیادہ واسطہ نہیں.
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ، كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ} (الصف: ۲ ،۳)
اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے، بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے ہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو۔
خطیب اس انداز سے تقریر کرتا ہے کہ گویا تمام جہاں درد اس کے دل میں ہے؛ لیکن جب عملی زندگی سے نسبت کی جائے، تو درجہ صفر ہوتا ہے ۔
 *پروپیگنڈہ کا فتنہ* 
جو جماعتیں وجود میں آئی ہیں، خصوصًا سیاسی جماعتیں ان میں غلط پروپیگنڈہ اور واقعات کے خلاف جوڑ توڑ کی وبا پھیل گئی ہے جس میں نہ دین ہے اور نہ اخلاق ، نہ عقل ہے نہ انصاف ، نہ محض پورپ کی دین باختہ تہذیب کی نقالی ہے، اخبارات، اشتہارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن تمام اس کے مظاہر ہیں ۔
*تنظیم سازی کا فتنہ* 
چند اشخاص کسی بات پر متفق ہوگئے، یا کسی جماعت سے ذرا اختلاف رائے ہوگیا، ایک نئی جماعت کی تشکیل ہوگئی، طویل وعریض اغراض ومقاصد بتائے جاتے ہیں، پروپیگنڈہ کے لئے فورًا اخبار نکالا جاتا ہے، بیانات چھپتے ہیں کہ اسلام اور ملک بس ہماری جماعت کے دم قدم سے باقی رہ سکتا ہے ۔
نہایت دل کش عنوانات اور جاذب نظر الفاظ وکلمات سے قرار دادیں اور تجویزیں چھپنے لگتی ہیں، امت میں تفرقہ اور انتشار اور گروہ بندی کی آفت اسی راستے سے آئی ہے ۔
 *عصبیت وجاہلیت کا فتنہ* 
اپنی پارٹی کی ہر بات خواہ وہ کیسی ہی غلط ہو، اس کی حمایت وتائید کی جاتی ہے اور مخالف کی ہر بات پر تنقید در تنقید کرنا سب سے اہم فرض سمجھا جاتا ہے، مدعی اسلام جماعتوں کے اخبار ورسائل، تصویریں کارٹون، سینما کے اشتہار، سود اور قمار کے اشتہار اور گندے مضامین شائع کرتے ہیں؛ مگر چونکہ اپنی جماعت کے حامی ہیں، اس لئے جاہلی تعصب کی بنا پر ان سب کو بنظر استحسان دیکھا جاتا ہے، الغرض جو اپنا حامی ہو، وہ تمام بد کرداریوں کے باجود پکا مسلمان ہے اور جو اپنا مخالف ہو، اس کی نماز روزہ کا بھی مذاق اڑایا جاتا ہے ۔
*حب مال کا فتنہ*
حدیث میں تو آیا ہے کہ "حب الدنیا رأس کل خطیئۃ" یعنی دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے، حقیقت میں تمام فتنوں کا قدر مشترک حب جاہ یا حب مال ہے، بہت سے حضرات (ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ) کو دنیا کی جستجو اور محبت کے لئے دلیل بناتے ہیں؛ حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ ایک ہے دنیا سے تعلق اور ضروریات کا حصول، اس سے انکار نہیں، نیز ایک ہے طبعی محبت جو مال اور آسائش سے ہو، اس سے بھی انکار نہیں ۔
مقصد تو یہ ہے کہ حب دنیا یا حب مال کا اتنا غلبہ نہ ہو کہ شریعت محمدیہ اور دین اسلام کے تمام تقاضے ختم یا مغلوب ہوجائیں، اقتصاد واعتدال کی ضرورت ہے، عوام سے شکایت کیا کی جائے؟ آج کل عوام سے یہ فتنہ گزر کر خواص (علماء) کے قلوب میں بھی آرہا ہے ، الا ما شاء اللہ اس فتنے کی تفصیلات کے لئے ایک طویل مقالے کی ضرورت ہے، حق تعالی توفیق عطا فرمائے ، ہم ان مختصر اشاروں کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ایک دعا پر ختم کرتے ہیں ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الخَطْمِيِّ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ، اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ، اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِي فِيمَا تُحِبُّ. (ترمذی : ۳۴۹۱)

شیخ یوسف القرضاویؒ کی مشہور چھوٹی مگر بہت گہری کتاب

شیخ یوسف القرضاویؒ کی مشہور چھوٹی مگر بہت گہری کتاب
 جس کا نام ہے "أين الخلل؟" 
 72 صفحات کی یہ چھوٹی سی کتاب اسلامی تحریکوں کی ناکامی پر ایک خود احتسابی ہے۔
جہاں انہوں نے ناکامی کی پانچ بڑی قسم اقسام بتائیں ہیں
 

ان میں سے تیسری بیماری کا نام ہے 
 
"تربیت میں خلل"

وہ لکھتے ہیں: ہم نے تحریکیں کھڑی کر لیں، جماعتیں بنا لیں، نعرے ایجاد کر لیے، لیکن انسان نہیں بنائے۔

اور یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔

تربیت ہے کیا؟
تربیت صرف معلومات دینا نہیں ہے۔ تربیت انسان کے اندر کو بدلنا ہے۔ قرآن اسے "تزکیہ" کہتا ہے۔
"قد أفلح من زكاها وقد خاب من دساها"
ترجمہ: یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا، اور نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا۔
(سورۃ الشمس، آیات ۹–۱۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 13 سال مکہ میں کوئی حکومت قائم نہیں کی، صرف انسان بنائے۔ دارِ ارقم میں وہ تربیت گاہ تھی جہاں ابوبکر و عمر و بلال جیسے رجال بنے۔ پھر ان بنے ہوئے انسانوں نے دنیا بدل دی۔

ہم نے یہ ترتیب الٹ دی۔ ہم انسان بنائے بغیر ہی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔

قرضاویؒ کے مطابق آج تربیت میں تین بڑے خلل ہیں:

1- روحانی تربیت کا خلل:

ہماری مسجدیں آباد ہیں، مگر دل ویران ہیں۔ زبان پر اللہ اکبر ہے، دل میں خوفِ دنیا ہے۔

ہم نے قیام اللیل کو چھوڑ دیا، صبح کے اذکار کو چھوڑ دیا، تنہائی میں اللہ کے سامنے رونے کو چھوڑ دیا۔ ہماری دعوتی سرگرمیاں تو بہت ہیں، مگر اللہ سے تعلق کمزور ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہم تھوڑی سی آزمائش پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ جیل، فقر، یا شہرت آتے ہی ہمارا سارا اخلاص بہہ جاتا ہے، کیونکہ جڑیں گہری نہیں تھیں۔

2- فکری تربیت کا خلل:

ہم نے نوجوان کو سوچنا نہیں سکھایا، صرف نعرہ لگانا سکھایا۔

اسے دلیل نہیں دی، جذبات دیے۔ وہ سوال کرے تو ہم اسے بدتمیز کہہ کر خاموش کرا دیتے ہیں۔ اسی لیے آج کا نوجوان ایک شکوک و شبہات والی ویڈیو دیکھ کر دین سے بدظن ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کی فکری بنیادیں کچی ہیں۔

ہم اسے قرآن کے مقاصد، سنت کی حکمت، فقہ کا تنوع نہیں پڑھاتے۔ بس اپنی جماعت کا لٹریچر رٹا دیتے ہیں۔ ایسا ذہن جو صرف ایک زاویے سے سوچے، وہ کبھی امت کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔

3- اخلاقی اور سلوکی تربیت کا خلل:

یہ سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔

ہم اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، مگر آپس میں حسد، غیبت، بدگمانی، وعدہ خلافی اور تکبر میں ڈوبے ہیں۔ ایک ہی صف میں کھڑے دو بھائی ایک دوسرے کا عیب تلاش کر رہے ہیں۔

قرضاویؒ کہتے ہیں، اللہ نے فتح اخلاق والوں کو دی ہے، نعرے والوں کو نہیں۔ جب صحابہؓ نے کہا "إنا نحب الموت كما تحبون الحياة" تو یہ صرف بات نہیں تھی، یہ ان کا کردار تھا۔

آج ہم سچ میں خیانت کرتے ہیں، امانت میں کوتاہی کرتے ہیں، اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد کیوں نہیں کرتا؟

اس خلل کا نتیجہ کیا نکلا؟
نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری تحریکیں کارکنوں سے بھری ہیں، مگر مردوں سے خالی ہیں۔ شور بہت ہے، اثر کم ہے۔ ہم دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں، خود کو نہیں بدلنا چاہتے۔

علاج کیا ہے؟
علاج وہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا۔

1. خلوت کو جلوت پر مقدم کرو: دن بھر کی مصروفیات سے پہلے رات کا ایک حصہ اللہ کے لیے نکالو۔
2. علم کو عمل سے جوڑو: ہر ہفتے ایک آیت، ایک حدیث کو صرف پڑھو نہیں، اس پر جیو۔
3. چھوٹی جماعت میں تربیت لو: پانچ سات مخلص بھائیوں کی ایسی مجلس بناؤ جہاں تم ایک دوسرے کا محاسبہ کر سکو، نصیحت کر سکو۔

یاد رکھیں، خلل اسلام میں نہیں ہے۔ اسلام آج بھی ویسا ہی کامل ہے جیسا چودہ سو سال پہلے تھا۔ خلل ہم میں ہے۔

جب ہر شخص یہ کہنے کے بجائے کہ "امت میں خلل ہے" یہ کہے کہ "مجھ میں خلل ہے اور مجھے اپنی تربیت کرنی ہے" تو اسی دن سے امت کی تربیت شروع ہو جائے گی۔

ممتحن کیسا ہو

🌷 ممتحن کیسا ہو 🌷
👈 مکتب کا امتحان مکتب والوں سے کروائیں تو زیادہ مناسب ہے۔
👈 ممتحن طریقۂ امتحان سے واقف ہو۔
👈 ممتحن مخلص اور خیر خواہ ہو۔
👈 ممتحن امین ہو۔
👈 ممتحن مشفق ہو (بچوں سے پیار سے سوالات کرے / پیش آئے)۔
👈 نصاب و نظام کے دائرہ میں رہ کر سوالات کرے۔
👈 خارجی سوالات نہ کرے۔
👈 حسب و نسب کی رعایت نہ کرے اور نہ کسی سے مرعوب ہو۔
👈 کیفیت میں حق بات، حق نیت کے ساتھ اور حق طریقے سے لکھے۔
👈 مقصد پر نظر ہو، ذریعہ پر زیادہ نظر نہ ہو۔ جیسے: ایک بچہ صحتِ حروف اور قواعد کے ساتھ اور روانی کے ساتھ قرآن پڑھتا ہو تو مقصد حاصل ہو گیا ہے؛ اب مخرج، قواعد اور ہجے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ میں امتحان میں تین چیزیں دیکھتا ہوں:
👈 مقدارِ واقفیت، یعنی بچوں کو اپنے نصاب کے متعلق کتنی معلومات ہیں۔
👈 مقدارِ دل چسپی، یعنی بچوں نے امتحان میں کس قدر شوق ظاہر کیا۔
👈 مقدارِ ذہنی حیات، یعنی بچوں میں کتنی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔
بہر حال امتحان اصلاح کے لیے ہونا چاہیے نہ تعریف کے لیے۔
سوال: ایک بچے سے کم سے کم کتنے سوالات کرنے چاہییں؟
جواب: جب تک ممتحن کو اطمینان نہ ہو۔
سوال: امتحان اجتماعی ہے یا انفرادی؟
جواب: انفرادی ہے۔
سوال: ایک ساتھ کتنے بچوں کو بلانا چاہیے؟
جواب: ممتحن کی یکسوئی پر ہے، دو چار۔
سوال: مدرس کو ممتحن کے ساتھ بٹھانا چاہیے کہ نہیں؟
جواب: ممتحن کے ساتھ مدرس رہے تو بہتر ہے۔
غلطی ہو تو اصلاح فرمائیں
فقط
الطاف ہتھورنی

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم