ماتحتوں سے کام لینے کا فن

🌷 ماتحتوں سے کام لینے کا فن🌷
ایک مرتبہ میرے محسن حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ کام کرنے کے دو طریقے ہیں ۔
👈 حاکمانہ طریقہ یعنی حکم والا انداز اور مزاج ۔
👈 حکیمانہ طریقہ یعنی حکمت والا انداز اور مزاج ۔ 
اگر حاکمانہ طریقے سے کام کرو گے تو اگر چہ کام جلدی ہوجائے لیکن آپ کا بنایا ہوا مدرس ٹوٹ جائے گا ۔
اور اگر حکیمانہ طریقے سے کام کرو گے تو اگر چہ کام میں دیر ہو جائے لیکن آپ کا بنایا ہوا مدرس جم جائے گا ۔
لہذا اپنے ماتحتوں کا خیال فرمائیں ۔ 

مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داریاں اور طریقۂ تعلیم میں ضروری تبدیلیاں

*مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داریاں اور طریقۂ تعلیم میں ضروری تبدیلیاں*
خطاب : حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم العالیہ 
پہلی بات:
دعاؤں کو صرف یاد کروانے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ بچوں کے دلوں میں یقین بھی بٹھایا جائے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی صحیح قدر و قیمت اور ان کی حقیقت کو واضح کیا جائے تاکہ بچے شعوری طور پر دین کو اپنائیں۔

دوسری بات:
تعلیم دیتے وقت ماحول کو ضرور پیشِ نظر رکھا جائے۔
جیسے مکی دور میں کفر کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنی سورتوں میں اس ماحول سے پیدا ہونے والے مفاسد کا رد کیا گیا، اسی طرح آج ہمیں بھی اپنے بچوں کو مثبت انداز میں اپنے ماحول سے آگاہ کرنا چاہیے۔
مثلاً "جی شری رام" جیسے نعروں کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور شان کو سمجھایا جائے اور عابد و معبود کے فرق کو واضح کیا جائے تاکہ توحید کا عقیدہ دلوں میں راسخ ہو جائے۔

ہمارا موجودہ ماحول ایسا ہے جس میں آنے والی نسلوں کے عقائد کو متاثر کرنے اور مشرکانہ افکار کو پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے، لہٰذا اسی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کو صحیح تعلیم دی جائے۔
اس مقصد کے لیے سلگتے مسائل کو سمجھانے کے لیے کیمپ یا اجتماعات کی شکل اختیار کی جائے، عقل و فطرت کی روشنی میں مفاسد کی خرابیاں بیان کی جائیں، اور مخاطب کی سطح کو مدنظر رکھا جائے۔

تیسری بات:
مکاتب میں جو چھوٹی سورتیں پڑھائی جاتی ہیں، ان کی صرف تلاوت نہ کروائی جائے بلکہ ان کا مفہوم بھی بچوں کو سمجھایا جائے۔
مثلاً سورۂ فاتحہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو واضح کیا جائے تاکہ بچے شعور کے ساتھ قرآن سے جڑیں۔

چوتھی بات (اہم):
بچوں کے اندر دین کی عظمت پیدا کی جائے۔
محض نقل سے بچہ عمل تو کر لیتا ہے، لیکن جب وہ عمل کی حقیقت کو جان لیتا ہے تو اس کے اندر اس عمل کی عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔
چونکہ یہ دور عقلیت کا ہے، اس لیے جدید تعلیم یافتہ بچوں کو اس انداز سے تعلیم دی جائے کہ وہ صرف ایمان کے درجے پر نہ رہیں بلکہ اطمینان کے درجے تک پہنچ جائیں۔
کیونکہ ایک کیفیت ایمان کی ہوتی ہے اور ایک اطمینان کی، اور اطمینان کا درجہ ایمان سے بلند ہوتا ہے۔

پانچویں بات:
اساتذہ بچوں پر سختی کرنے سے احتراز کریں۔
کسی حدیث میں یہ مذکور نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے تعلیم کی خاطر صحابہ کو مارا ہو، اور فقہاء کرام نے بھی اس کی اجازت نہیں دی ہے۔
(ایک تعزیر ہے اور دوسری تادیب؛ پہلی سزا کے لیے ہے اور دوسری تربیت کے لیے)

اس انداز سے پڑھایا جائے کہ بچوں میں تعلیم کی محبت پیدا ہو، نہ کہ مدرسہ جانے کا خوف۔

تعلیم کو دلچسپ بنایا جائے، مثلاً جو بچہ سبق اچھی طرح سنائے اسے انعام دیا جائے۔

بچوں کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے، جس کے ذریعے اساتذہ کو بھی انعامات دیے جائیں، جیسے امتیازی استاد کا اعزاز۔

استاد کو چاہیے کہ طالب علم کے ساتھ باپ جیسی محبت اور شفقت کا معاملہ کرے، جیسا کہ ہمارے اکابرین اور ائمہ کا اپنے شاگردوں کے ساتھ طرزِ عمل رہا ہے۔


چھٹی بات:
اساتذہ کو چاہیے کہ اپنی تنخواہ کا موازنہ کمرشل اداروں کے ملازمین سے نہ کریں، مثلاً یہ کہنا کہ فلاں چپراسی کی تنخواہ بھی مجھ سے زیادہ ہے، یہ اپنے مقام کو گھٹانا اور قلبی سکون کو ختم کرنا ہے۔
اگر یہ بے چینی زبان پر آ جائے تو امت میں استاد کی عظمت کم ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ انبیاء کا کام انبیاء کے مزاج کے موافق  کیا جائے تو اس کے فوائد و ثمرات کچھ اور ہی ہوتے ہیں.

(تنخواہ کے تعلق سے کچھ حل )

مدارس میں ایسا فنڈ قائم کیا جائے جو ہنگامی حالات میں اساتذہ کے لیے مددگار ثابت ہو۔

قناعت اختیار کی جائے، یعنی جو کچھ ملے اس پر اکتفا کیا جائے۔

دین کے معاملے میں اپنے سے بڑوں (اکابر و اساتذہ) کو دیکھا جائے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو۔


کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جن نعمتوں میں ہیں، وہ ہمارے اکابرین کو بھی حاصل نہیں تھیں۔

مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات


# 📜 خلاصۂ بیان: حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر صاحب قاسمی (دامت برکاتہم)
## 🌟 مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات
### ۱. معلّم کا کردار اور نمونۂ عمل
 * **مثال بنو، مسئلہ نہ بنو:** بعض اساتذہ اپنی کارگزاری کی وجہ سے خود ایک 'مسئلہ' بن جاتے ہیں، جنہیں سنبھالنا پڑتا ہے اور جن کی وجہ سے ادارے پر حرف آتا ہے۔ ایسے نہ بنیں! بلکہ ایسے بنیں کہ لوگ اور طلبہ آپ کی زندگی کو بطور 'مثال' پیش کریں اور بچے مستقبل میں آپ جیسا بننے کی تمنا کریں۔
 * **ملازم نہیں، انقلابی بنو:** جو استاد محض ایک 'ملازم' بن کر زندگی گزارتا ہے، وہ کبھی معاشرے میں انقلاب نہیں لا سکتا۔ اپنے معاملات اللہ سے سیدھے کیجیے اور اخلاص کے ساتھ کام کیجیے۔
### ۲. طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت
 * **بچے معصوم ہیں، تشدد سے بچیں:** جو طلبہ آپ کے پاس زیرِ تعلیم ہیں، وہ بالکل بے گناہ اور معصوم ہیں۔ ایک استاد خود گناہوں میں ملوث ہو کر ان بے گناہ بچوں پر ہاتھ اٹھائے، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔
 * **ماں جیسی تڑپ اور سزا کا انداز:** بچوں کو سزا دیتے وقت استاد کی کیفیت ایک شفیق ماں جیسی ہونی چاہیے۔ ماں بچے کو (اصلاح کے لیے) سزا تو دیتی ہے، لیکن تنہائی میں خود روتی ہے۔ استاد کے دل میں بھی بچوں کے لیے یہی درد ہونا چاہیے۔
 * **حلیہ سے متوحش نہ کریں:** مکتب کے چھوٹے بچوں کے دلوں میں داڑھی اور ٹوپی والے اسلامی حلیے سے وحشت، خوف یا دوری پیدا نہ ہونے دیں، بلکہ اپنے اخلاق سے انہیں قریب کریں۔
 * **کمزور بچوں کے لیے دعائیں:** جو بچے پڑھنے میں کمزور ہیں، تنہائی میں ان کا نام لے لے کر اللہ سے دعا کریں۔ یاد رکھیں، اس عمل میں بڑی طاقت ہے۔
### ۳. دعوت و تدریس کا مؤثر اسلوب
 * **سخت بات، میٹھا لہجہ:** سخت سے سخت بات بھی میٹھے اور نرم لہجے میں کہی جا سکتی ہے۔
> **ایک سبق آموز مثال:** ایک شخص شہد بیچتا تھا لیکن بدزبان تھا، اس کا شہد بھی نہ بکا۔ دوسرا شخص سرکہ بیچتا تھا مگر اس کی زبان شیریں تھی، اس کا سرکہ بھی بک گیا۔ لہذا طلبہ کے ساتھ ہمیشہ نرمی اختیار کریں۔
 * **رٹانے سے زیادہ سمجھانے پر زور:** آج کے دور میں تحفیظ (رٹانے) سے زیادہ تفہیم (سمجھانے) اور میمورائز (یادداشت) سے زیادہ موٹیویٹ (حوصلہ افزائی) کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو کلمہ، ایمانِ مفصل اور چہل حدیث صرف رٹائیں نہیں، بلکہ ان کا مفہوم بھی ذہن نشین کرائیں۔
 * **فرصت سے بچیں:** "فرصت میں فساد ہے"۔ اس لیے نہ خود فارغ بیٹھیں اور نہ ہی اپنے طلبہ کو بے کار رہنے دیں۔
### ۴. محنت کا معاوضہ اور فکرِ آخرت
 * **اپنی محنت کو تنخواہ میں نہ تولیں:** جو استاد اپنی دینی محنت کو چند روپوں کی تنخواہ کے ترازو میں تولتا ہے، وہ اپنی محنت کو خود ذلیل کر دیتا ہے۔ یہ دنیا ایک مرتبہ کہے گئے *'سبحان اللہ'* کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں رکھتی (کیونکہ اس کا اجر دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے)، تو پھر اتنی بڑی دینی خدمت کا بدلہ اس فانی دنیا سے کیوں چاہنا؟ اپنی محنت کا سودا آخرت کے لیے اللہ سے کیجیے۔
 * **دنیا میں بدلہ لینے کا خوف:** سورہ احقاف کی آیت * (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا)* کے تحت ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں نہ دے دیا جائے۔ ہمارے اکابر (جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور مفتی سعید احمد پالنپوریؒ) نے تو بیت المال اور دارالعلوم کی تنخواہیں تک واپس لوٹا دیں کہ کہیں آخرت کا اجر کم نہ ہو جائے۔ اللہ کا قانون ہے کہ جو اس کی رضا کے لیے دنیا چھوڑتا ہے، اللہ اسے بہترین عطا فرماتا ہے۔
 * **مسجد یا مدرسے سے نکلنے کی حقیقی وجہ:** یہ تصور ہمیشہ ذہن میں رہے کہ اگر مجھے کسی مسجد یا ادارے سے نکالا گیا ہے، تو وہ کسی صدر یا کمیٹی نے نہیں نکالا، بلکہ وہ میری تنہائی کے گناہوں اور بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔
### ۵. شکوے شکایت کے بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس
 * **تنخواہ کا غم یا صفات کی کمی؟** آج اساتذہ کو تنخواہ کی کمی کا غم تو ہے، لیکن اپنی صفات کی کمی کا کوئی احساس نہیں۔ ہمیں ضرورتوں کے غم سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا غم ہونا چاہیے۔ اگر ہم فضولیات سے بچ جائیں، تو اللہ تعالی ضروریات پوری کرنے کے اسباب غیب سے پیدا فرما دیں گے۔
 * **مال کی کمی کا بہانہ ناپسندیدہ ہے:** ہم اکثر مال کی کمی کا رونا روتے ہیں اور اس چکر میں زندگی کے اہم کام چھوڑ دیتے ہیں۔ غور کیجیے: کیا مال کی کمی مطالعہ کرنے، کسی شیخ و مصلح سے رابطہ رکھنے یا اپنی بیوی کو دین سکھانے میں مانع ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں! لہذا مال کی کمی کا بہانہ بنا کر اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں۔
 * **دینی ماحول بہت بڑی نعمت ہے:** یہ پڑھنے پڑھانے کا جو ماحول ملا ہے، اسے غنیمت سمجھیں۔ اس ماحول نے اختیاری نہ سہی، تو اضطراری (مجبوری) کے طور پر ہی ہمیں کتنے گناہوں سے بچا رکھا ہے! اگر مدارس نہ ہوں تو فقہ و فتاویٰ کا کام کون کرے گا؟ اگر جمعہ اور فجر کی امامت کا نظام نہ ہو، تو کتنے علماء و حفاظ کی فجر باجماعت ادا ہوگی؟ اس لیے اس بنے بنائے ماحول کی قدر کریں۔
 * **خدمتِ دین کی لائن کو کبھی نہ چھوڑیں:** تنخواہ کی کمی کی وجہ سے اس لائن کو ہرگز نہ چھوڑیں۔ دینی ماحول سے نکلنا بہت آسان ہے، لیکن دوبارہ اس سے جڑنا انتہائی مشکل ہے۔
### ۶. اکابر کا ادب اور معذوروں سے سبق
 * **بڑوں کے عیوب تلاش کرنے کا انجام:** آج کل ہم تنظیموں کے اختلافات اور بے کار کے جھگڑوں میں پڑ کر ان اکابر اور علماء کی برائیاں پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں جنہوں نے ۳۰ یا ۴۰ سال دین کی خدمت کی ہے۔ یاد رکھیں! جو شخص اپنے بڑوں کے عیوب کے پیچھے لگ گیا، اس کی بدبختی آگئی۔
 * **معذور بچوں کے اسکولوں سے عبرت:** نابیناؤں اور معذور بچوں کے اسکولوں کے اساتذہ ان کے کپڑے صاف کرتے ہیں، ان کی ہر بات سنتے ہیں اور ان کے ماحول میں ڈھل کر انہیں پڑھاتے ہیں۔ جب لوگ دنیاوی تعلیم کے لیے معذوروں اور دیہاتیوں پر اتنی محنت کر سکتے ہیں، تو ہم دین کی تعلیم کے لیے اچھے اور صحت مند بچوں پر محنت کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ کے پاس آنے والا ہر بچہ انتہائی قیمتی ہے۔
 * **مطالعہ کے لیے اہم کتاب:** محیی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحبؒ کی لکھی ہوئی کتاب **"چار امام"** کا مستقل مطالعہ رکھیں۔ اس سے دل میں ائمہ عظام کی وقعت بیٹھے گی اور آپ طلبہ کی صحیح رہنمائی کر سکیں گے۔
### ۷. موجودہ دور کے چیلنجز اور گھر کی فکر
 * **تعلیم و تربیت کا آغاز اپنے گھر سے کریں:** آپ کے مکتب کا سب سے پہلا شاگرد آپ کی اپنی بیوی اور بچے ہیں۔ مفتی سعید احمد پالنپوریؒ نے اپنے گھر ہی میں بیوی اور بچوں کو حافظ بنایا۔ وہ بچوں کی شادی کے بعد انہیں ایک سال اپنے ساتھ رکھتے، پھر سامنے کسی گھر میں منتقل کر کے فرماتے: "ہم مرے نہیں ہیں، سامنے رہو اور زندگی گزارنا سیکھو، کمی بیشی ہم پوری کریں گے"۔
 * **امت کے بچوں کے ایمان کا نازک ترین وقت:** مفتی سلمان بجنوری صاحب نے موجودہ حالات کے تناظر میں بڑی فکر انگیز بات کہی ہے کہ: *"زمانہ ایسا آچکا ہے کہ اسکول سے واپس آنے کے بعد بچوں کو دوبارہ کلمہ پڑھانا پڑے گا"*۔
> **شاہ ولی اللہؒ کا پیغام:** حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے وفات کے وقت اپنے چاروں بیٹوں کو بلا کر فرمایا تھا: "بچو! میں اس ملک کے مسلمانوں کا ایمان تمہارے پاس گروی رکھ کر جا رہا ہوں، قیامت کے دن اس کا سوال کروں گا"۔ آج پھر وہی حالات ہیں، اس لیے مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔
 * **موبائل کی تباہ کاریاں اور اخلاقیات:** اس زمانے کے بچے جوانی سے پہلے ہی بوڑھے (صلاحیتوں سے محروم) ہو رہے ہیں، موبائل نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس لیے بچوں کے صرف سبق کی نہیں، بلکہ ان کے اخلاق کی بھی فکر کریں اور ان کی تنہائیوں کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں۔
🤲 **دعا:** اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان قیمتی نصائح پر خلوصِ دل کے ساتھ عمل کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینؐ۔

تعلیمی و تربیتی اداروں، بالخصوص مدارس میں سارا زور اساتذہ کی کارکردگی اور ان کی قربانیوں پر ہوتا ہے، جبکہ نظام چلانے والے 'ذمہ داران' خود کو محاسبے سے بالاتر سمجھ لیتے ہیں۔

یہ ایک بہت کڑوی حقیقت ہے کہ تعلیمی و تربیتی اداروں، بالخصوص مدارس میں سارا زور اساتذہ کی کارکردگی اور ان کی قربانیوں پر ہوتا ہے، جبکہ نظام چلانے والے 'ذمہ داران' خود کو محاسبے سے بالاتر سمجھ لیتے ہیں۔
ایک مدرسے کی ترقی کا راز صرف محنتی اساتذہ میں نہیں، بلکہ صالح اور بااخلاق ذمہ دار میں چھپا ہوتا ہے۔ یہاں ذمہ داران کے لیے کچھ اصلاحی اور فکر انگیز جملے درج ہیں:
 1. کرسی، اقتدار نہیں بلکہ 'امانت' ہے
 عہدہ آزمائش ہے۔ذمہ دار یہ یاد رکھیں کہ مدرسے کی کرسی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ اساتذہ آپ کے ملازم نہیں بلکہ دین کے کام میں آپ کے شریکِ سفر ہیں۔
 خادم بنیں، حاکم نہیں، حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا تھا کہ "میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں"۔ اگر ذمہ دار میں عاجزی نہیں تو وہ ادارہ مٹی کا ڈھیر ہے۔
2. احتساب کا رخ اپنی طرف بھی کریں
 وعظ سے پہلے عمل اساتذہ کو پابندیِ وقت کی نصیحت کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ کیا ذمہ دار خود وقت کا پابند ہے؟ زبان کے اثر کا تعلق عمل کی پختگی سے ہے۔
 جوابدہی کا خوف اساتذہ سے کارکردگی کی رپورٹ لینے والے یہ نہ بھولیں کہ ایک دن انہیں ربِ کائنات کو "حقوق العباد" کی رپورٹ دینی ہے، جہاں ہر اس استاد کا سوال ہوگا جس کی حق تلفی کی گئی۔
3. اساتذہ کی معاشی فکر سب سے بڑی نصیحت
 خالی پیٹ تقویٰ مشکل ہے ۔ اساتذہ کو قناعت اور صبر کی نصیحت کرنا آسان ہے، لیکن ان کے گھر کے چولہے کی فکر کرنا ذمہ دار کا اولین فریضہ ہے۔
 سفید پوشی کا بھرم استاد اپنی ضرورت کسی سے کہہ نہیں سکتا۔ ایک بہترین ذمہ دار وہ ہے جو استاد کے مانگنے سے پہلے اس کی ضرورت محسوس کرے اور اسے باوقار تنخواہ دے۔
4. اخلاقی رویہ اور نفسیات
 عزتِ نفس کا جنازہ نہ نکالیں ۔ اساتذہ کے سامنے رعب جھاڑنا یا طلبہ کے سامنے ان کی سرزنش کرنا ان کی شخصیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
 جاسوسی کا نظام ختم کریں مدرسے کو 'انٹیلی جنس ایجنسی' نہ بنائیں جہاں اساتذہ ایک دوسرے کے خلاف کان بھریں۔ ایک اچھا ذمہ دار اپنے اساتذہ پر اعتماد کرتا ہے، شک نہیں۔
5. انصاف اور شفافیت
 پسند ناپسند سے بالا تر کسی ایک استاد کو نوازنا اور دوسرے کو نظر انداز کرنا ادارے میں حسد اور بے برکتی پیدا کرتا ہے۔
 چاپلوسی کی حوصلہ شکنی جو ذمہ دار چاپلوسوں کو قریب رکھتا ہے، وہ مخلص اساتذہ کو خود سے دور کر دیتا ہے۔
ایک فکر انگیز بات:
جس ادارے کا ذمہ دار اساتذہ کے لیے سایہ بننے کے بجائے دھوپبن جائے، وہاں سے علم تو تقسیم ہو سکتا ہے، لیکن برکت اور نور رخصت ہو جاتا ہے۔

موجودہ حالات میں ایمان کی حفاظت اور آنے والی نسلوں کی تربیت کے لیے **سات اہم کاموں** پر زور دیا ہے، ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

مولانا بلال عبدالحئی حسنی ندوی نے موجودہ حالات میں ایمان کی حفاظت اور آنے والی نسلوں کی تربیت کے لیے **سات اہم کاموں** پر زور دیا ہے، ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

**1. مساجد میں مکاتب کا قیام:** 
مولانا کے مطابق یہ فرض ہے کہ ہر مسجد میں مکتب قائم کیا جائے جہاں بچوں کو بنیادی عقائد، نماز اور اللہ کے نبی ﷺ سے تعارف کرایا جائے،خاص طور پر آٹھ سال سے کم عمر کی بچیوں کو بھی مسجد کے مکتب میں بھیجنے کی تاکید کی گئی ہے۔

**2. اسلامی اسکولوں کا قیام:** 
موجودہ تعلیمی نظام کے خطرات (جیسے شرک اور الحاد) سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو اپنے ایسے اسکول بنانے چاہئیں جہاں 100 فیصد مسلمان بچے تعلیم حاصل کریں اور ان کا ایمان محفوظ رہے ۔

**3. خواتین اور طالبات کے لیے کونسلنگ سینٹرز:** 
بڑی بچیاں جو کالجوں میں پڑھتی ہیں یا ملازمت کرتی ہیں، ان کے لیے ہفتہ وار کونسلنگ سینٹرز بنانے کی ضرورت ہے ۔ وہاں معلمات انہیں دین سکھائیں اور ان کا اسلام پر اعتماد بحال کریں ۔

**4. مساجد میں درسِ قرآن اور خطابات کا نظام:** 
بڑوں اور نوجوانوں کی دینی تعلیم کے لیے مساجد میں باقاعدہ درسِ قرآن اور جمعہ کے خطابات کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں موجودہ دور کے فتنوں اور امراض کی نشاندہی کی جائے ۔

**5. چھوٹے بیت المال کا قیام:** 
غربت کی وجہ سے لوگ کبھی کبھی کفر تک پہنچ جاتے ہیں، اس لیے محلوں کی سطح پر بیت المال بنا کر مستحقین کی مالی مدد اور انہیں بلاسود قرض فراہم کرنے کا انتظام کرنا چاہیے تاکہ وہ شکاریوں کا شکار نہ بنیں۔

**6. پیامِ انسانیت کا کام:** 
غیر مسلموں (برادرانِ وطن) میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے انسانیت کی خدمت کرنا ، بھوکوں کو کھانا کھلانا، مریضوں کی عیادت اور انسانی ہمدردی کے کاموں کے ذریعے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا ضروری ہے ۔

**7. غفلت کا خاتمہ اور فکر مندی:** 
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو کر نہ بیٹھیں ،حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرح اپنی نسلوں کے ایمان کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہیں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر عملی کام شروع کریں

مولانا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم بیدار نہ ہوئے اور ان کاموں کو نہ کیا تو موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے ارتداد کے فتنے ہماری نسلوں کو نگل سکتے ہیں

صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی

، 
صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی، کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا✦ ✦ قبر کا راز ✦ ✦یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ شام کا ملک تہذیب و تمدن کی نئی منزلیں طے کر رہا تھا مگر دمشق کی پرانی بستیوں میں اب بھی وہی کہانیاں گونجا کرتی تھیں جو صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کے گرد گھومتی تھیں۔قلعہ دمشق کے قریب اموی مسجد کے صحن میں ایک چھوٹا سا مقبرہ تھا۔ پیلے پتھروں سے بنا ہوا، جس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی۔ اس مقبرے کے اندر کوئی تعمیراتی شاہکار نہیں تھا، نہ سنہری دروازے، نہ قیمتی پتھروں کی جڑاؤ کاری۔ بس ایک سادہ سی قبر، جس پر ہمیشہ تازہ پھول رکھے جاتے۔ اور قبر کے اوپر لکڑی کا ایک پرانا تختہ، جس پر نوشتہ تھا:"ہذا قبر السلطان الملک الناصر صلاح الدین"یہاں تک کہ اس قبر کے متولی بھی نہیں جانتے تھے کہ اس مٹی کے نیچے کون سی حقیقت چھپی ہے۔ مگر ۱۹۵۰ء کا وہ دن تھا جب تاریخ کے اوراق پلٹنے والے تھے۔شام کی حکومت نے قلعہ دمشق کی مرمت کا فیصلہ کیا۔ ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم دمشق پہنچی، جس میں فرانس، برطانیہ اور مصر کے نامور ماہرین شامل تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ مقبرہ صلاح الدین ایوبیؒ کا نہیں، بلکہ کسی اور شخص کا ہے۔ اصل قبر کہیں اور ہے۔"یہ محض ایک علامتی مقبرہ ہے،" فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے نے کہا۔ "صلاح الدین جیسی عظیم شخصیت کی تدفین اتنی سادگی سے ممکن نہیں۔"دمشق کی گلیاں اس بحث سے گرم تھیں۔ بوڑھے کہانی سنانے والے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر کہتے کہ "یہ فرنگی پھر مسلمانوں کی تاریخ مٹانے آئے ہیں۔" مگر سائنسی شہادتوں کے سامنے عقیدت بھی خاموش تھی۔آخرکار فیصلہ ہوا کہ مقبرہ کھولا جائے گا۔۲۵ نومبر ۱۹۵۰ء۔صبح کا وقت تھا۔ اموی مسجد کے صحن میں غیر معمولی رونق تھی۔ حکومتی اہلکار، ماہرین آثار، چند نامور صحافی اور وہاں موجود ہر شخص کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ مگر مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع نہیں ہو سکی تھی۔ ان کے دلوں میں دھڑکنے والی عقیدت اس منظر کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی ان کے سلطان کی قبر کو ہاتھ لگائے۔چنانچہ صرف چند افراد اس کارروائی کے گواہ بنے۔مقبرے کا دروازہ کھلا۔ اندرونی حصہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا صدیوں سے تھا—سادہ، بے تکلف، دنیا کی کسی بھی شان و شوکت سے عاری۔ فرش پر پرانے قالین بچھے تھے، دیواروں پر قرآنی آیات لکھی تھیں۔ اور بیچوں بیچ وہ قبر جس کے نیچے ایک عظیم سپاٹے کی ہڈیاں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ماہرین نے کام شروع کیا۔ پتھر ہٹائے گئے، مٹی ہٹائی گئی۔ قبر کی گہرائی میں ایک لکڑی کا صندوق ملا، جو مکمل طور پر گل سڑ چکا تھا۔ اس کے نیچے کفن میں لپٹی ہوئی ایک لاش تھی۔مگر جیسے ہی کفن کا ایک کونا ہٹایا گیا، وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں رک گئیں۔کفن میں لپٹی لاش بالکل تازہ تھی۔فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے اپنی عینکیں صاف کیں، پھر دوبارہ دیکھا۔ لاش پر گلنے سڑنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔ جلد ابھی تک برقرار تھی، چہرے کے نقوش واضح تھے، داڑھی کے بال موجود تھے۔"یہ ناممکن ہے!" ان کی آواز قبرستان کی خاموشی میں گونجی۔ایک مصری ماہر نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کفن کو مزید ہٹایا۔ لاش کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے—وہی طریقہ جس سے مسلمان میت کو دفناتے ہیں۔ انگلیوں کی پوروں پر مہندی کے نشان تھے، گویا ابھی کل ہی لگائی گئی ہو۔کمرے میں سناٹا تھا۔ کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔پھر دمشق کے ایک بزرگ عالم جو وہاں موجود تھے، آگے بڑھے۔ ان کی عمر تقریباً اسی برس تھی، داڑھی سفید، چہرے پر نور تھا۔ انہوں نے کفن کو مکمل طور پر ہٹانے سے منع کر دیا۔"بس کرو،" ان کی آواز میں عجیب سا وقار تھا۔ "اب تم دیکھ چکے۔ جو دیکھنا تھا۔"فرانسیسی ماہر نے احتجاج کیا۔ "لیکن ہمیں تحقیق کرنی ہے، کاربن ڈیٹنگ کرنی ہے، یہ ثابت کرنا ہے کہ...""کیا ثابت کرنا ہے؟" بزرگ عالم نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔ "تم اس شخص کے بارے میں کیا ثابت کرو گے جس نے خود کہا تھا کہ میری تجہیز و تکفین کے لیے بھی رقم نہیں ہو گی؟"کمرے میں ایک اور خاموشی چھا گئی۔پھر بزرگ عالم نے وہ کام کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔وہ سجدے میں گر گئے۔ان کے ماتھے نے اس فرش کو چھوا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے مٹی ہٹائی گئی تھی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ان کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی لفظ تھا: "اللہ... اللہ..."وہاں موجود ہر شخص—مسلمان اور غیر مسلم—دیکھتا رہ گیا۔ پھر ایک ایک کر کے سب کے گھٹنے زمین کو چھونے لگے۔ فرانسیسی ماہر ڈیوڈ نے بھی اپنا سر جھکا لیا۔ وہ سائنسدان تھا، مومن نہیں تھا، مگر اس منظر کی ہیبت اسے سجدے میں نہیں تو کم از کم خاموشی میں ضرور لے آئی۔کچھ دیر بعد بزرگ عالم اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ صلاح الدین ایوبیؒ کی وصیت تھی کہ ان کی قبر سادہ ہو، کوئی مزار نہ بنے، کوئی تعمیر نہ ہو۔ مگر وقت کے بادشاہوں نے عقیدت میں یہ مقبرہ بنا دیا۔ شاید اسی لیے اللہ نے اپنے نیک بندے کی حفاظت کا یہ طریقہ چنا۔کفن کو دوبارہ ٹھیک سے لپیٹا گیا، مٹی ڈالی گئی، پتھر رکھے گئے۔ مگر وہ دن تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف میں لکھا گیا۔وہاں موجود ایک صحافی نے بعد میں لکھا:"میں نے اپنی زندگی میں کئی عجائبات دیکھے، کئی دریافتوں کی روداد لکھی، مگر اس دن جو دیکھا، وہ کسی سائنس کی کتاب میں نہیں ملے گا۔ 600 سال گزرنے کے بعد بھی ایک لاش ویسی ہی تازہ تھی جیسے ابھی کل دفنائی گئی ہو۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس شخص کی عظمت کو نہیں مٹا سکتی جس نے زندگی بھر اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکایا، اور جس کی وفات پر اس کا رب خود اس کی حفاظت کا ذریعہ بنا۔"آج بھی دمشق میں جب کوئی بوڑھا صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا قصہ سناتا ہے تو وہ اس دن کا ذکر ضرور کرتا ہے جب قبر کھولی گئی۔ اور سننے والوں کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ جاتی ہے۔کیونکہ کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ثبوتوں سے نہیں، بصیرتوں سے دیکھی جاتی ہیں۔اور صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا وہ دن ایک ایسی ہی بصیرت تھی—جو صرف انہیں ملی جنہوں نے آنکھوں سے نہیں، دل سے دیکھا۔---خلاصہ: وہ شخص جس نے زندگی بھر دنیا کی شان و شوکت ٹھکرائی، اس کی وفات کے 600 سال بعد بھی اللہ نے اس کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا کہ دیکھنے والے سجدے میں گر پڑے۔ سچائی کا کفن کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ 

ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

✍️ مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی

تراویح سنانے کے خواہش مند بہت سے حفاظ پریشان ہیں کہ انھیں مساجد نہیں مل رہیں، ایسے حفاظ کی خدمت میں عرض ہے کہ صحیح احادیث کی روشنی میں تراویح کی گھروں میں ادائیگی میں زیادہ ثواب ہے اس لیے وہ مسجد نہ ملنے پر کبیدہ خاطر نہ ہوں، اپنے یا کسی اور کے گھ پر تراویح کا اہتمام کریں. ان شاء اللہ ثواب کچھ زیادہ ہی ملے گا.

گھر پر تراویح کا باجماعت اہتمام اور بھی کئی پہلوؤں سے مفید ہے، اس کے نتیجہ میں گھر میں بہت مبارک ماحول بنتا ہے، جس کی ترغیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیا کرتے تھے، پھر اس کی برکت سے خواتین کو بھی رمضان کی راتوں میں لمبی نمازیں پڑھنے کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے.
.............................................................................

گزشتہ برس رمضان سے پہلے یہ مختصر تحریر لکھی تو متعدد حضرات اہل علم نے اس پر استدراک کیا، اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ اپنے موقف کے دلائل بھی عرض کردیے جائیں، اس لیے ذیل کی تحریر لکھی گئی تھی جو پیش خدمت ہے:

متعدد صحیح احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت منقول ہے کہ فرض نمازوں کے علاوہ بقیہ تمام نمازیں گھروں میں پڑھی جائیں، کہ اس کا ثواب زیادہ ہے، تراویح کی اصل کے طور پر جو حدیث نقل کی جاتی ہے اس کی بھی ایک روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں، یعنی خاص تراویح کے سیاق میں:

"عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ؛ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ". (بخاری: 731)

غالبا یہی وجہ تھی کہ جب حضرت عمر نے مسجد میں باقاعدہ جماعت کا نظام قائم فرمایا تو اس سلسلہ کی موطأ کی مشہور روایت کے مطابق وہ خود اس جماعت میں شریک نہ تھے، الفاظ ملاحظہ ہوں:
"عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَانِي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ : نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ....." (موطأ: 301)

اور غالبا اسی وجہ سے حضرت ابی بن کعب جن کو حضرت عمر نے تراویح کا امام بنایا تھا وہ بھی آخری عشرہ میں یہ خدمت انجام نہ دیتے، اور آخری عشرہ میں نماز تراویح کھر پر ہی پڑھتے، سنن ابی داود کی روایت ملاحظہ ہو:

" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً،..... فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ : أَبَقَ أُبَيٌّ. (1429)

وضاحت: مساجد میں تراویح کا انتظام واہتمام یقینا عہد صحابہ سے چلا آرہا عمل ہے، اس لیے وہ ایک سنت ہے، اور اس کا جاری رہنا ضروری ولازمی ہے، یہاں جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے وہ صرف ان لوگوں کی بابت ہے جو گھروں میں یہ نماز بکمال اہتمام پڑھ سکتے ہوں، کہ ان کے لیے اس نماز کا گھروں می‌ پڑھنا کیا حکم رکھتا ہے؟

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم