تنقید برداشت نہ کرنے کا بدترین مزاج*

*تنقید برداشت نہ کرنے کا بدترین مزاج*

فقیہ العصر، نمونۂ سلف حضرت مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی مدظلہ کا دردمندانہ اور فکر انگیز پیغام، مسلمان دانشوران، علما اور ذمہ داران غور فرمائیں _ :

امت کا یہ بگڑتا ہوا مزاج ہے کہ ایک تو برائیوں کو روکنا جن لوگوں کی ذمہ داری ہے ، وہ بدترین قسم کے نفاق اور چاپلوسی میں مبتلا ہیں ، اور اسلام دشمن حکمراں کو محدّث اور مُلہَم جیسے القاب سے نواز رہے ہیں ، جن کا استعمال رسول حق ترجمان نے سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں فرمایا تھا ، یہ کیسی جسارت ، بے شرمی اور چاپلوسی ہے ، یہ تو مسلمان حکمرانوں کا حال ہے ؛ لیکن افسوس کہ عمومی طور پر مسلمانوں میں تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے ، اور مسلمانوں کے تمام طبقات اس مرض کا شکار ہیں ، حلقۂ تصوف میں تو پتہ نہیں کہاں سے یہ بات زبان زد عام و خاص ہوگئی کہ پیر مغاں جو بھی کہہ دے مرید کو قبول کر لیناچاہئے :
بہ مئے سجادہ رنگیں کن گرت پیرمغاں گوید
حالاں کہ علماء حقانی اور مشائخ ربانی اپنے مقتدیٰ سے بھی اختلاف کرتے رہے ہیں ، سرخیل صوفیاء شیخ اکبر امین عربی پر مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ نے جو تنقیدیں کی ہیں اور ’’ فصوص الحکم‘‘ کے مضامین پر نقد کیا ہے ، وہ اہل علم پر مخفی نہیں ہے ۔
نیز صحابہؓ سے بڑھ کر راہ سلوک کا رہبر کون ہو سکتا ہے ، اور فقہاء مجتہدین سے بڑھ کر دین و شریعت کا رمز شناس کیا کوئی اور ہو سکتا ہے ؟ لیکن انہوں نے کبھی اپنے متبعین سے ایسی بے چون و چرا پیروی کا مطالبہ نہیں کیا ؛ مگر اب ملت کے ہر شعبہ میں یہی مزاج در آیا ہے ، چاہے مذہبی و ملی تنظیمیں ہوں ، مسلمانوں کی سیاسی جماعتیں ہوں ، تعلیمی و تربیتی ادارے ہوں ، یہاں تک کہ مساجد کے نظم و نسق کے ذمہ دار ہوں ، ہر جگہ یہی صورت حال ہے کہ ذمہ داروں کے اندر معمولی تنقید سننے کا بھی حوصلہ نہیں ہے ، حد یہ ہے کہ اب یہ مزاج ہماری دینی درسگاہوں میں بھی پہنچ گیا ہے کہ بہت سے اساتذہ کو اپنے طلبہ کا سوال کرنابرداشت نہیں ہوتا ، یہ کسی بھی قوم کے لئے بہت ہی بدبختانہ بات ہے ، اور اس کے علمی و فکری زوال کا پیش خیمہ ہے کہ لوگوں میں برائی کو برائی کہنے کا حوصلہ باقی نہ رہے ، وہ اہل اختیار کی خوشامد اور چاپلوسی کے عادی ہو جائیں ، نہ صرف یہ کہ غلطی پر خاموش رہیں ؛ بلکہ ارباب اختیار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے رات کو دن اور دن کو رات کہنے کو بھی تیار ہو جائیں ، اور دوسری طرف ارباب اختیار اپنے آپ کو تنقید سے بالا تر سمجھنے لگیں ، اورمشورہ لینا اور مشورہ سننا ان کو بارِ خاطر ہو ۔
یقیناََ سربراہ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ؛ لیکن اس کی بھی حدود ہیں ، سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : میری بات سنو ! اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے ، مجمع میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے ، کہنے لگے : خدا کی قسم ! نہ ہم آپ کی بات سنیں گے اور نہ مانیں گے ، یہ کوئی اور صحابی نہیں تھے ؛ بلکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی تھے ، حضرت عمرؓ کو ان جیسے صحابی کے احتجاج پر حیرت ہوئی اور انہوں نے حضرت سلمان فارسیؓ سے اس کا سبب دریافت فرمایا ، حضرت سلمانؓ نے کہا : اس لئے کہ آپ نے امتیاز سے کام لیا ہے ، آپ نے ہم لوگوں کو ایک ایک چادر دی ہے اور خود دو چادریں اوڑھ رکھی ہیں ، یہ چادریں بیت المال کی جانب سے تقسیم کی گئی تھیں ، حضرت عمرؓ نے فرمایا : کہاں ہیں عبداللہ بن عمرؓ ؟ حضرت عبداللہ اُٹھے ، آپ نے ان سے دریافت کیا : یہ دوسری چادر کس کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : میری ، پھر آپ نے مجمع کے سامنے وضاحت فرمائی کہ جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں ، میں دراز قامت آدمی ہوں ، میرے حصہ میں جو چادر پڑی تھی ، وہ چھوٹی پڑ گئی ، میرے بیٹے عبداللہ نے اپنے حصہ کی چادر بھی مجھے دے دی ، میں نے ان دونوں چادروں کو ملا لیا ہے ، حضرت سلمان فارسیؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے : اللہ تعالٰی کا شکر ہے امیر المؤمنین ! اب ہم آپ کی بات سنیں گے بھی اور اس پر عمل بھی کریں گے : فقل ، الآن نسمع ( اعلام الموقعین :۱؍۱۲۸ ) یہ ایک بہترین مثال ہے اس مزاج کی ، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی تربیت فرمائی تھی ، ایسا نہیں تھا کہ قوم کا سربراہ یہ سمجھتا کہ میں جو کچھ کہوں ، قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے بے چون و چرا تسلیم کر لے اوراس کو حق نہیں ہے کہ مجھ سے حساب لے ، نہ لوگوں کو اپنے سربراہ کو ٹوکنے اور روکنے میں تأمل ہوتا تھا ، خواہ وہ کتنا ہی مقدس ہو ، یہی مزاج فقہاء تک پہنچا ، جو نہایت فراخدلی کے ساتھ اور کسی ناگواری کے بغیر اختلاف رائے کو سنتے تھے ، اس پر غور کرتے تھے ، اس کو اہمیت دیتے تھے ، اور اگر ان کی بات معقول محسوس ہوتی تو بے تکلف اسے قبول کرتے تھے ، اور جس نے غلطی کی نشاندہی کی ہو ، اسے اپنا محسن سمجھتے تھے ۔
جہاں تعمیری تنقید کی جاتی ہو اور اسے قبول کیا جاتا ہو ، وہاں انسان کے اندر خود احتسابی پیدا ہوتی ہے ، اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع ملتا ہے ، اگر اس نے کوئی قدم غلط اٹھا لیا ہو تو وہ دبے پاؤں اس سے واپس ہو سکتا ہے ، محرومِ منزل ہونے سے خود کو بچا سکتا ہے ، رفقاء کے درمیان باہمی اعتماد قائم رہتا ہے ، دیر پا اتحاد پیدا ہوتاہے ، اور اگر افراد بدل بھی جائیں تو ادارے اور جمعیتہ باقی رہتی ہیں ؛ اس لئے ایسے واقعات سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اپنے دائرہ میں شفافیت اور کُھلا پن کاماحول پیدا کریں ، جبر و ظلم کے ذریعہ نہیں ؛ بلکہ محبت اور پاکیزگی کردار کے ذریعہ اپنے ماتحتوں کا دل جیتیں اور اپنے مقصد کو اپنی شخصیت سے زیادہ عزیز رکھیں ۔

(مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی)

*غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت کے حدود*

*غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت کے حدود*

*ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی*

           جس سماج میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہوں، ان کا آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کی مدد کرنا اور ان کی خوشی اور غم میں شریک ہونا، دینی نقطہ نظر سے پسندیدہ ہے _ مذاہب کا اختلاف اپنی جگہ _ ہر شخص تنہا بارگاہ الہی میں حاضر ہوگا اور اس سے اس کے عقائد و اعمال کی جواب دہی ہوگی _مسلمانوں کے لیے  سماج میں رہنے والے تمام انسانوں سے انسانی اور سماجی تعلقات رکھنا مطلوب ہے_ دوسری طرف ان سے یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ عقائد اور عبادات کے معاملے میں کسی طرح کی مداہنت یا مشابہت قبول نہ کریں اور ابہام اور اشتباہ سے حتّی الامکان بچنے کی کوشش کریں _
            اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت کے کیا حدود ہیں؟
         واضح رہے کہ تقریبات دو طرح کی ہوتی ہیں :
      (1) سماجی، غیر مذہبی، مثلاً شادی بیاہ، جشن ولادت، ملازمت ملنے کی خوشی میں پارٹی ، کسی دوکان کا افتتاح، کسی کی وفات، یا سماج کے افراد کے یکجا ہونے کا کوئی اور موقع_
        (2)خالص مذہبی، جن میں کسی مخصوص مذہب کے مراسم ادا کیے جاتے ہیں _
            درج بالا سوال کا اصولی طور پر جواب یہ ہے کہ  مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کی سماجی تقریبات میں شرکت جائز، جب کہ مذہبی تقریبات میں شرکت ناجائز ہے _
                 بعض تقریبات کو سماجی اور مذہبی کے خانوں میں الگ الگ کرنا ممکن نہیں، کہ بعض غیر مسلم اپنی سماجی تقریبات میں مذہبی مراسم بھی انجام دیتے ہیں اور مذہبی تقریبات کو سماجی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں _ ایسی تقریبات، جن پر مذہبی رنگ غالب ہو، ایک مسلمان کے لیے ان میں شرکت نہ کرنا اَولی ہے _ لیکن اگر مذہبی رنگ غالب نہ ہو تو وہ شریک ہو سکتا ہے، البتہ مراسمِ عبادت کی مخصوص مجلس سے دور رہے_
              تکثیری سماج میں رہنے والے مختلف مذاہب کے پیروکار فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مقصد سے اپنی تقریبات میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو مدعو کرنے لگے ہیں _ مسلمان عید ملن پارٹی میں، ہندو دیوالی، دسہرا کے فنکشن میں اور عیسائی کرسمس کی تقریب میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بلاتے ہیں _ یہ تقریبات اب خالص مذہبی نہیں رہ گئی ہیں، بلکہ ان میں مذہبی اور سماجی دونوں پہلو پائے جاتے ہیں _
           ایسی تقریبات میں اگر کوئی مسلمان خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبے سے، سماجی تعلقات بڑھانے کے ارادے سے، یا دعوتی مقصد سے شرکت کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، لیکن اسے اس موقع پر ان کاموں میں شریک ہونے سے بچنا چاہیے جن کا مذہبی رنگ ہو ، بلکہ اگر حسب موقع وہ اپنی علیحدگی کی وضاحت کرسکے تو اس سے دعوتی مقصد بھی پورا ہوگا_ مثلاًً اگر کرسمس کی تقریب میں اس سے کیک کاٹنے کو کہا جائے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہم خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیدائش کی خوشی میں کیک نہیں کاٹتے تو حضرت عیسٰی کی پیدائش پر بھی یہ سب کرنا مناسب نہیں سمجھتے _
        دوسروں کی تقریبات میں ہمیں اپنی شرائط پر شرکت کرنی چاہیے، نہ کہ ہم ان میں جاکر بغیر حدود کی رعایت کیے ہر وہ کام کرنے لگیں جو دوسرے ہم سے کروانا چاہتے ہیں _
       اس سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد کو ہمیں اپنے لیے مشعل راہ بنانا چاہیے :
       "حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے_ ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، جو شخص ان سے اپنا دامن بچا لے جائے، اس نے اپنے دین کو محفوظ کرلیا_"

*مسلمان لڑکیاں ارتداد کے دہانےپر*

*مسلمان لڑکیاں ارتداد کے دہانےپر*

✍🏻 تحریر: *مولانامحمدعمرین محفوظ رحمانی*
_(سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ٬مالیگاؤں)_

ملک کے مختلف علاقوں سے یہ روح فرسا خبریں مسلسل آ رہی ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کررہی ہیں، اور اپنا دین و ایمان اورضمیر وحیا بیچ کر اپنے خاندان اور اپنے سماج اور معاشرے پر بدنامی کا داغ لگارہی ہیں، اس طرح کے اکادکاواقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں، لیکن ادھر چند برسوں سے باضابطہ پلاننگ کے تحت مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنسایا جا رہاہے،اور آئے دن ان لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،جو بے حیائی کے راستے پر بڑھتے ہوئے ارتداد تک پہونچ رہی ہیں،گذشتہ سال مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک پروگرام میں مہاراشٹر کے مشہورشہر پونہ جانا ہواتو ایک صاحب ملنے کے لیے آئے انہوں نے بتایا کہ ان کی بھانجی کالج میں پڑھتی تھی، کالج کے قریب ایک دلت نوجوان کینٹین چلاتا تھا، اس کے دام محبت میں پھنس کر بھانجی نے کورٹ میرج کر لی، اور کئی مہینے اس کے ساتھ رہی پھر بہت سمجھانے بجھانے کے بعد واپس آئی،اور ہم نے اسے دوبارہ کلمہ پڑھوایا،ایما ن میں داخل کیا مگر اب بھی وہ اسی کے پاس جانے کی ضد کرتی ہے، روتی ہے اور ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دوبارہ اس کے پاس نہ چلی جائے۔ان صاحب کے چلے جانے کے بعد پونہ کے چند ذمہ دار احباب نے بتایا کہ ہمارے یہاں پچھلے ایک سال میں ( اکتوبر 2016ء سے اکتوبر 2017ء تک ) 44/مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کرچکی ہیں، ابھی چند دن پہلے خاص اسی مسئلے سے متعلق پونہ کے احباب ملنے کے لیے آئے تو انہوں نے بتایا کہ اگست میں11؍مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواستیں دائر ہوئی ہیں اور پچھلے مہینے (ستمبر) میں 12؍لڑکیوں نے درخواست دی ہے۔مہاراشٹرکے دوسرے اور شہروں سے بھی اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں چنانچہ بمبئی میں12،تھانے میں7، ناسک میں2، اور امراوتی میں2؍لڑکیوں نے شادی کی درخواست دی ہے،یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ صرف مہاراشٹر میں ہی ایسے واقعات نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں سے برابرخبریں موصول ہو رہی ہیں، اگست کے وسط میں بھوپال جاناہواتھا ،وہاں مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی برائے خواتین کی ذمہ دار بہنوں نے بتایا کہ بھوپال کی گنجان مسلم آبادی والے ایک علاقے میں اس طرح کے دسیوں واقعات ہو چکے ہیں، اور صرف غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی نہیں شادی شدہ عورتیں بھی اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کے ساتھ چلی گئی ہیں دہلی سے ملی اطلاعات کے مطابق جھونپڑ پٹی والے علاقے میں بسنے والی مسلمان لڑکیاں فرقہ پرست عناصر کی اس منصوبہ بند سازش کا’’لقمۂ تر‘‘بنی ہوئی ہیں، گذشتہ شعبان میں احمد آباد حاضری ہوئی تو وہاں کے علماء نے بتایا کہ ہمارے یہاں ہردوسرے تیسرے دن سوشل میڈیا پرخبر آتی ہے کہ فلاں مسلمان لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے یا فلاں لڑکی نے کورٹ میرج کی عرضی داخل کی ہے،بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان لوگوں نے یہاں تک بتایا کہ مسلمان لڑکیوں کو رجھانے ،قریب کرنے اور پھر ان کاجنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دیئے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائیل ،آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، ایکٹیوا بائک وغیرہ،باضابطہ ان کی ’’فنڈنگ‘‘کی جا رہی ہے اور ایک سونچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں اس کام پر لگایا گیا ہے، اوپر بھی یہ بات میں نے لکھی ہے اور اب دوبارہ وضاحت کے ساتھ لکھناچاہتاہوں کہ یہ اتفاقی واقعات نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے ایک سونچا سمجھا منصوبہ کام کر رہاہے،’’لو جہاد ‘‘نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے،البتہ یہ ’’شوشہ‘‘صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں ’’انتقامی جذبہ‘‘ ابھارا جائے اور خود مسلمانوں کو ’’لو جہاد‘‘میں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے ۔پہلے یہ بات ڈھکی چھپی رہی بھی ہو تو اب ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے۔ پچھلے سال چند ایسے ہی روح فرسا واقعات کی وجہ سے اس عاجز نے اس پورے مسئلے پر اپنے طور پر تحقیق کی ، اوراپنے بعض احباب کو بھی اس کام پر لگایا،اس کے جو نتائج سامنے آئے وہ حیران کن بھی تھے اور انتہائی تشویش ناک بھی! مناسب معلوم ہوتاہے کہ ترتیب سے ان باتوں کو لکھوں۔

(1)باضابطہ ایسے ہندو جوانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے، جن کاکام ہی محبت کے نام پر مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنا ہے۔یہ لو گ پہلے ہمدردی کے نام پرکسی مسلمان لڑکی سے قریب ہوتے ہیں،پھر محبت کا فریب دیتے ہیں ،اورشادی کا وعدہ کرتے ہیں، اور پھر جنسی استحصال کا مرحلہ شروع ہو جاتاہے اور جب وہ لڑکی عفت و عصمت کا گوہر لٹاچکتی ہے او ر اس لڑکے سے شادی کا اصرار کرتی ہے تو پھرکورٹ میں کورٹ میرج کی درخواست دی جاتی ہے۔ میرے علم کے مطابق ایک مہینے کے بعد اس درخواست پر عمل در آمد ہوتا ہے، یہ مدت اس لیے بھی رکھی گئی ہے کہ اگر گھر والوں یا کسی اور کو کوئی اعتراض ہو تو وہ کاروائی کر سکتا ہے(اس سلسلے میں جو دھاندلی کی جا رہی ہے اس کا تذکرہ کسی اور مضمون میں کروں گا انشاء اللہ)گھر والوں کو نوٹس جاری کرنا بھی لازمی اور ضروری ہے،جس کے ذریعے یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا لڑکا /لڑکی نے کورٹ میرج کی عرضی داخل کی ہے ، اب جب یہ درخواست داخل ہوتی ہے تو خود وہ شادی کی درخواست دینے والا نوجوان کسی ذریعہ سے اس درخواست( جس پر مسلمان لڑکی او ر غیر مسلم لڑکے کا فوٹو ہوتا ہے کہ یہ دونوں شادی کرنے جا رہے ہیں)کی تصویر لے کر کسی اور کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل کروا دیتا ہے۔جب مسلمانوں کوخبر ہوتی ہے تو وہ اس شادی کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ سماجی دباؤ بنایا جاتاہے، نتیجتاً شادی رک جاتی ہے، اب لڑکی کی نگاہ میں مجرم ہوتے ہیں اس کے ماں باپ، بھائی بہن اور اس کے سماج اورمذہب کے لوگ، اورخود اس غیر مسلم لڑکے کو ’’کلین چٹ ‘‘مل جاتی ہے اور وہ انتہائی ’’معصوم دیوتا‘‘کے روپ میں سامنے آتا ہے، لڑکی بدنام ہو گئی، خاندان پرننگ وعار کادھبہ لگ گیا، اور یہ لڑکی ہمیشہ کے لیے ’’ڈپریشن ‘‘ کاشکا ر ہو گئی اورایک باوقار اورپاکیزہ زندگی اور بہترین خاندانی نظام کی تشکیل اور قیام سے محروم ہو گئی، کہیں اس کانکاح بھی ہو جائے تو وہ اچھی زندگی نہیں گذار سکتی اور اگر نکاح نہ ہو تو پھر چوری چھپے اس لڑکے سے ملنے ،ناجائز تعلقات قائم کرنے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

(2)اس سے آگے کی شکل یہ ہے کہ محبت کے فریب میں پھنسا کر اور جذباتی طور پر اپنے آپ سے قریب کر کے ’’ترک مذہب‘‘پر آمادہ کیا جاتاہے او ر باضابطہ شادی کر کے چند مہینے یاسال بھر ساتھ میں رکھا جاتاہے، اس کے بعدآئے دن کے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں ، چونکہ اس شادی کی وجہ سے یہ لڑکی اپنے خاندان اپنے سماج سے بالکل کٹ چکی ہوتی ہے، ا س لیے اب واپسی کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے اسی ’’شوہر‘‘کے ساتھ رہنااس کی مجبوری ہے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر وہ شوہر اپنی اس بیوی سے جسم فروشی کرواتا ہے یا پھر طلاق دے کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیتاہے۔

(3)اس گھناونے کھیل کا سب سے بڑا اورکھلامیدان کالجس ہیں، جہاں کی مخلوط تعلیم نے اس کھیل کے لیے بہترین اور محفوظ اسٹیج فراہم کیا ہے، کتنے غیر مسلم لڑکے ہیں جن کو فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے اچھی اردو سکھانے اور بہترین اردوشاعری کی تعلیم دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔مسلمان لڑکی کو دام فریب میں پھنسانے کے لیے وہ اس ہنر کا بھی استعمال کرتے ہیں، اورکچی عمر کی جوان لڑکیاں بہت جلد اس ہتھکنڈے سے متاثر ہو کر ان کی آغوش میں چلی جاتی ہیں ، اور پھر یہی بے حیائی انہیں ارتداد کی شاہراہ تک پہونچا دیتی ہے ۔العیاذ باللّہ !کالج کے علاوہ ٹیوشن کلاسیس بھی اختلاط ،بے حیائی اور پھر دین و ایمان سے محرومی کاذریعہ بن رہی ہیں، پڑھنے والے طلبہ تو شکاری بنے ہی ہوئے ہیں، پڑھانے والے ٹیچرس اورپروفیسرس بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں، ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ کسی ٹیچر نے نوٹس دینے کے بہانے گھر بلایا اور پھر ورغلا کر یا زبردستی اس لڑکی کے ساتھ غلط حرکتیں کیں اور خفیہ طریقے سے اس کاویڈیو بنا لیا اور بعد میں وہی ویڈیو دکھا کر اس لڑکی کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیاگیا،جس کانتیجہ یہ نکلا کہ وہ لڑکی غیروں کے ہاتھوں میں ’’کھلونا‘‘بن گئی، مہاراشٹر کے پربھنی شہر کے بعض احباب نے یہ اطلاع دی کہ اس طرح کے ویڈیو با ضابطہ ٹیچرس نے ایک دوسرے کو بھیجے،اور اس پر اس طرح کے تفریحی جملے لکھے کہ’’ دیکھا میں نے کیسے بیوقوف بنایا،‘‘یا’’اس لڑکی کومیں نے کیسے خراب کیا؟ ‘‘ اس طرح کے ویڈیو کا یہ نتیجہ بھی سامنے آیا کہ لڑکی کانکاح ہونے کے بعد بھی گھر اجاڑ دینے کی دھمکی دے کرنکاح کے بعد بھی جنسی استحصال کیا گیا،اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ ’’لڑکی‘‘ہر قسم کے مطالبات پورے کرتی رہی۔

(4)جو مسلمان لڑکیاں دینی ذہن یاگھر کی تربیت کی وجہ سے کچھ محتاط ہوتی ہیں، ان کو قابو میں لانے کے لیے دوسری غیر مسلم لڑکیوں کا سہارا لیا جاتا ہے وہ لڑکیاں اس لڑکی سے دوستی کرتی ہیں اور پھر وہ اپنے بھائی یا دوست کی حیثیت سے غلط قسم کے لڑکوں سے ان کاتعارف کراتی ہیں، اور پھر بات بڑھتے بڑھتے بے حیائی ،یا ارتداد تک پہونچتی ہے۔

(5) موبائیل اور زیراکس کی دوکانوں کے ذریعے بھی مسلمان لڑکیوں کے نمبراوران کی تصویریں اوردوسری معلومات ان لڑکوں تک پہونچائی جارہی ہے،جو اس کام پر لگے ہوئے ہیں، ویسے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمان لڑکیوں تک پہنچنا آسان ہوگیا ہے،مسلمان بن کر بھی بعض غیر مسلم لڑکے مسلمان لڑکیوں سے فیس بک وغیرہ پر دوستی کرتے ہیں ، اور جب بات آگے بڑھ جاتی ہے اور ملاقاتیں شروع ہو جاتی ہیں او ر یہ راز کھلتا ہے کہ’’ محبوب ‘‘مسلمان نہیں ہے غیر مسلم ہے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

(6)مسلمان لڑکیوں کو ورغلانے اوردام فریب میں پھنسانے کے لیے روپئے پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، کئی علاقوں سے یہ خبر مل چکی ہے کہ بڑے قیمتی تحفے مسلمان لڑکیوں کو دیئے جاتے ہیں اوران کے ذریعے ان کے دل میں جگہ بنائی جاتی ہے، اسی طرح ہمدردی کاہتھیار بھی استعمال کیا جاتاہے،کسی ذریعہ سے اگر معلوم ہو گیا کہ یہ لڑکی پریشان ہے،یا اس کے گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں یا پھر یہ کہ اس کے گھر کے لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے ہیں تو فوراً’’بھیڑ کی کھال ‘‘اوڑھ کرکوئی بھیڑیا سامنے آ جاتاہے اور مصنوعی ہمدردی کاڈرامہ رچاتا ہے اور پریشانیوں اور مشکلات سے جوجھ رہی لڑکی اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کے قریب ہوتےجاتی ہے۔ یہاں تک کہ عفت و عصمت کا گوہر لٹا بیٹھتی ہے یا پھر فریب محبت میں گرفتار ہوکر دین وایمان تک سے محروم ہوجاتی ہے۔

یہ صورت حال ایسی سنگین ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ پانی سر سے نہیں چھت سے اونچا ہوتاجارہاہے ۔ ہم کب بیدار ہوں گے ؟ہم اپنی بہنوں ،بچیوں اور بیٹیوں کو بچانے کے لیے کب آگے آئیں گے؟ خواب غفلت کب تک ؟نظرانداز کرنے کامزاج کب تک ؟ جب حالات ایمرجنسی کے ہوں ، جب معاملات سنگین صورت حال اختیار کرلیں، جب دین و ایمان پر یلغار کی جائے، جب عفت وعصمت کے سودے چکائے جائیں،جب منظم منصوبے کے تحت مسلمان لڑکیوں کی زندگیاں تباہ وبرباد کی جائیں، اس وقت خاموشی جرم ہے، سنگین جرم!ایسے حالات میں کم اہم یا کم ضروری مسائل پر توجہ دینا زیادتی ہے، بد ترین زیادتی! یہ ایسا اہم مسئلہ ہے جسے مسجد کے محراب و منبر سے بیان کیا جائے ، جسے جلسوں اور مجلسوں کا موضوع بنایا جائے،جس کے پیش نظر خاندانی نظام کی اصلاح پر بھرپورتوجہ دی جائے،جس کی وجہ سے اپنے گھر کی بچیوں پر کڑی نظر رکھی جائے، خطرے کی تلوار سر پرلٹکتی ہوئی محسوس کر کے مخلوط تعلیم سے بچنے اور غیر مخلوط تعلیمی نظام کے قائم کرنے کی فکر کی جائے۔

        ارتداد کی بڑھتی پھیلتی لہرکوروکنے کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے۔

(1)اسلامی نظام کے مطابق مسلمان بچیوں کو پردے کا پابند بنایا جائے،ان میں حیاداری، عفت و عصمت کی حفاظت کاجذبہ ،اورعقیدۂ توحید و رسالت کی عظمت پیدا کی جائے۔روزانہ ہمارے گھروں میں آدھے گھنٹے ہی سہی کسی اچھی مستند اور ذہن و دل کو متاثر کردینے والی کتاب کی تعلیم کی جائے۔

(2)مخلوط نظام تعلیم سے اپنی بچیوں کو بچایا جائے، غیر مخلوط تعلیمی نظام کے قیام پر بھرپور توجہ دی جائے اور محفوظ ماحو ل میں معیاری تعلیم کاانتظام کیا جائے۔

(3)جو لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں، ان کی دینی تعلیم وتربیت اورذہن سازی کی بھرپور کوشش کی جائے ، ان کی عادات ، اطوار ، اخلاق پر پوری نظررکھی جائے، کردار سازی میں معاون بننے والا لٹریچر انہیں مطالعے کے لیے دیا جائے۔

(4)ٹیوشن کلاس کے نام پر اجنبی لڑکوں سے اختلاط کا موقع نہ دیا جائے، کسی ٹیچر یاساتھی طالب علم کے گھر پر کسی تعلیمی ضرورت کے نام سے بھی جانے کی اجازت نہ دی جائے، کالج لانے لے جانے کاخودانتظام کیا جائے۔

(5)اینڈرائڈ موبائیل اور بائک خرید کر نہ دی جائے، یہ دونوں چیزیں بے حیائی کے دروازے کھولنے والی اور عفت وعصمت کی تباہی کے دہانے تک پہونچانے والی ہیں ۔

(6)موبائیل ریچارج یا زیراکس کے لیے غیر مسلموں کی دوکان پرجانے کی اجازت نہ دی جائے، اسی طرح کالج کے اندر یا اس سے قریب غیرمسلموں کے کینٹین سے بچنے کی ہدایت دی جائے۔

(7) غیر مسلم لڑکیوں کی دوستی سے بھی روکا جائے کہ آئندہ یہ دوستی بھی کسی فتنہ کادروازہ بن سکتی ہے۔

(8) بچیوں کے مسائل اور ان کو پیش آنے والی پریشانیوں پر توجہ دی جائے، یاد رکھیں ! گھر میں توجہ کی کمی باہر کا راستہ دکھاتی ہے۔

(9)اگربچیاں کسی تعلیمی ضرورت سے انٹرنیٹ استعمال کررہی ہیں تو ان کی بھرپور نگرانی کی جائے ، اس لیے کہ بھٹکنے اور بہکنے کے اکثر دروازے انٹر نیٹ کے ذریعہ کھلتے ہیں۔

سانحہ کربلا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے موقف اور کردار سے متعلق بنیادی طور پر تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں: پہلا نقطہ نظر یہ ہے کہ سیدنا حسین کو دین کی اساسات کے مٹا دیے جانے جیسی صورت حال کا سامنا تھا جو ان سے، ایک دینی فریضے کے طور پر، جہاد کا تقاضا کر رہی تھی۔ انھوں نے، اور صرف انھوں نے، عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس دینی تقاضے پر لبیک کہا اور اپنی اور اپنے خانوادے کی قربانی پیش کر دی۔ باقی تمام امت، بشمول اکابر صحابہ، پست ہمتی، رخصت اور مصلحت وغیرہ کے تحت ان کا ساتھ نہ دے سکی اور یوں ایک عظیم کوتاہی کی مرتکب ہوئی۔یہ اصولاً اہل تشیع کا موقف ہے اور تعبیرات والفاظ کی کسی قدر احتیاط کے ساتھ ہمارے ہاں مولانا مودودی وغیرہ نے اسی کی ترجمانی کی ہے۔ 
 
(۱۴۹) کن فیکون کا ترجمہ: دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں کہیں ’’کن فکان‘‘ نہیں آیا ہے، جبکہ آٹھ مقامات پر کن فیکون کی تعبیر آئی ہے۔ یہ تعبیر ایک بار زمانہ ماضی کے سلسلے میں آئی ہے، ایک بار زمانہ مستقبل کے سلسلے میں اور باقی مقامات پر ہر زمانے پر محیط عام اصول بتانے کے لیے آئی ہے۔عام طور سے کن فیکون کا ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے:’’ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے‘‘ مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہ کن فیکون کا مناسب ترجمہ نہیں ہے، بلکہ دراصل ’’کن فکان‘‘کا ترجمہ ہے۔ کن فیکون کا ترجمہ ہوگا ’’ہوجا تو وہ ہونے لگتی ہے یا ہورہی ہوتی ہے‘‘۔ترجمے کے باب میں یہ ان کا خاص تفرد معلوم ہوتا ہے، کیونکہ راقم السطور کو کسی اور کا ترجمہ اس طرح کا نہیں ملا۔ 
 
مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ نیدرلینڈز پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر اور پارٹی فار فریڈم کے سربراہ گرٹ ولڈرز (Geert Wilders) کی طرف سے اس مجوزہ نمائش کی منسوخی کی اطلاع سے یہ وقتی مسئلہ تو ختم ہو گیا ہے جس پر اس کے خلاف احتجاجی مہم میں حصہ لینے والے تمام شخصیات، ادارے، حکومتیں اور جماعتیں مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مگر اصل مسئلہ ابھی باقی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بین الاقوامی سطح پر جرم قرار دلوانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے جو ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کے ماحول میں ہی ہوگی اور اس کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (آرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن) کو اساسی کردار ادا کرنا ہوگا۔
 
عمران خان صاحب کی نئی حکومت میں احمدی ماہرِاقتصادیات عاطف میاں کے اقتصادی مشاورتی کونسل کے مشیر مقرر کیے جانے اور پھر مسلم مذہبی حلقوں کی طرف سے اس پر ردِّعمل کے نتیجے میں مذکورہ عہدے سے ہٹائے جانے کے تناظر میں علمی حلقوں میں احمدی مسئلے کے حوالے سے ایک دفعہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔اس بحث سے جڑے اہم سوال یہ ہیں: 1۔ احمدیوں سے عام اقلیتوں سے مختلف رویہ اپنایا جانا چاہیے یا عام اقلیتوں جیسا؟ اسی سوال سے جڑا ایک اور سوال یہ ہے کہ اقلیت کی حیثیت سےاحمدیوں کو اہم اعلی عہدوں پر فائز کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ 2۔احمدی خود کو غیر مسلم اقلیت نہ مان کر آئین سےبغاوت کر رہے ہیں یا نہیں؟ 3۔ آئینی اعتبار سے کسی کے مذہب کا فیصلہ کیا بھی جا سکتا ہے یا نہیں؟ 4۔ کیا احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوا لینا کافی تھا یا ان کے حوالے سے مزید سخت آئینی اقدامات کی ضرورت ہے؟ 
 
حکومت کی طرف سے عاطف میاں قادیانی کے بطور مشیر تقرر کولے کر قادیانی مسئلے پر ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے بحث ہوئی جس میں مختلف فکری رجحانات کے احباب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس مختصر تحریر میں ان متعدد آراء کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں چار مواقف سامنے آئے ہیں اور چاروں سے الگ قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ (۱) سیکولر بیانیہ: مسلم و قادیانیت کی مساوات: لبرل سیکولر فکر چونکہ فرد کی آزادی کے عقیدے پر ایمان کی دعوت دیتی ہےجس کے مطابق حقوق کا ماخذ انسان خود ہے، لہذا اس فکر کے مطابق ریاست کو حق نہیں کہ وہ آزادی کے سواء کسی دوسرے عقیدے کی بنیاد پر یا اس کے فروغ کے لئے افراد کی زندگیوں میں تصرف کرے۔ اس فکر کے مطابق ہیومن رائیٹس وہ قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جو فرد کی جدوجہد آزادی (سرمایہ) کے فروغ کے لئے سب سے زیادہ مفید ہے۔ لہذا اس فکر کے حامل حضرات کے نزدیک کسی بھی ارادے، چاہے وہ ارادہ خدا کا ہو، فرد کا اور یا کسی گروہ کا (مثلا سو فیصد عوام کا) یہ حق نہیں کہ وہ ان حقوق کو معطل کرسکے۔ 
 
احمدیوں کی مذہبی وشرعی حیثیت کے ضمن میں ایک سوال اہل علم اور خاص طور اہل فقہ وافتاء کی توجہ متقاضی ہے، اور وہ یہ کہ احمدیوں کو ہم نے ایک آئینی فیصلے کے تحت غیر مسلم تو قرار دے دیا ہے، تاہم یہ معلوم ہے کہ ان کی حیثیت مسلمانوں ہی کے (اور ان سے نکلنے یا نکالے جانے والے) ایک مذہبی فرقے کی ہے۔ ہم ایک بنیادی عقیدے میں اختلاف کی بنیاد پر ان پر مسلمانوں کے احکام جاری نہیں کرتے، لیکن مذاہب کی تقسیم کے عام اصول کے تحت، کم سے کم غیر مسلموں کے نقطہ نظر سے وہ مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ شمار ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ گروہ بھی اسلام کے ساتھ اپنی نسبت اور پیغمبر اسلام کا امتی ہونے کے دعوے سے دستبردار نہیں ہوا، بلکہ اپنی نئی نبوت کو اسی کا تسلسل شمار کرتا ہے۔
 
جتنے بھی مسلم فرقے ہیں سب اپنا رشتہ قرآن و سنت سے جوڑتے ہیں اور سب کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کا عقیدہ و منہج قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ لیکن احقاق حق او ر ابطال باطل کی غرض سے اسلاف کے فراہم کردہ اصول و معیارپرایسے تمام فرقوں کے افکار و مفاہیم کا تجزیہ کرنا ایک دینی ذمے داری ہے اور علمی امانت داری بھی۔ جامعہ ازہر عالم اسلام کی وہ عظیم دانش گاہ ہے جس نے دین و ملت کی خدمت میں اپنی زندگی کے پورے ایک ہزار سال گزارے ہیں۔اس نے ہر زمانے میں باطل افکار وخیالات کو اسلاف کے عطا کردہ اصولوں پر پرکھ کر گمراہ فرقوں کو آئینہ دکھایاہے اور قرآن وسنت سے ان کے گہرے رشتوں کے دعوے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔اسی دانش کدے کے پروردہ شیخ اسامہ السید محمود ازہری (ولادت:۱۹۷۶ء) بھی ہیں، جن کا لائف ٹائم مشن ہی یہ ہے کہ ازہرکے علمی منہج کا احیا کیاجائے،اسلام کی صحیح، معتدل، متوازن اور پُرامن متوارث تفہیم کو عام کیاجائے اور ہر اس تفہیم کو مسترد کر دیاجائے جس میں دین اسلام کو ایک پُر تشدد، غیر معتدل اورناموس عقل و فطرت سے بر سر پیکار دین کے طور پر پیش کیاگیاہو۔
 
مدرسہ ڈسکورس کا یہ سمرانٹینسِو(intensive)اپنی نوعیت کا بڑاغیرمعمولی پروگرام تھا۔اس کا موضوع تھا: Theology and contingency: Morals, History and Imagination یعنی دینیات کودرپیش نئے مسائل :اخلاق،تاریخ اورتخییل کے حوالہ سے۔ اندراگاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے 9-40پر روانہ ہوکرہم ہندوستانی طلبہ تیس جون کی سہ پہرکواپنی قیام گاہ ڈھولی خیل رزارٹ پہنچ گئے ،پاکستانی طلبہ رات کوآئے جبکہ دوسری جگہوں سے طلبہ اورمنتظمین پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ سفرپر روانہ ہونے سے پہلے دماغ پر تھوڑاstress تھاجس کی وجہ سے رات بھرنیندنہیں آئی تھی،راستہ کی تکان الگ لہذاسہ پہرسے کمرے میں لیٹ کرسونے کی کوشش کی مگرنیندپھربھی نہیں آئی۔ رات کو۱۲بجے کے قریب دوپاکستانی ساتھی کمرے میں آگئے کچھ دیرتوان سے بات چیت ہوئی پھروہ سوگئے اورذراسی دیرمیں کمرہ ان کے خراٹوں سے گونجنے لگا۔
 
*: مدارس پرایک آنکھیں کھول دینےوالی تحریر :*

       *علامہ اقبال نےکہاتھا : ”ان مدارس کواپنی حالت پررہنےدو ، اگریہ مدارس اور اس کی ٹوٹی ہوئی چٹائیوں پربیٹھ کر پڑھنےوالےیہ درویش نہ رہے ، تو یادرکھناتمہارا وہی حال ہوگا جو میں اندلس اورغرناطہ میں مسلمانوں کادیکھ کرآیا ہوں“۔*
       *چند دن پہلےعیدالاضحی گزری ہے ، میں عید سےاگلےدن بائیک پرجارہاتھا کہ ایک مدرسہ کےسامنےسےمیراگزرہوا میں نےدیکھا کہ اس کےگیٹ پرچندچھوٹےچھوٹےمعصوم سےبچےکھڑےہیں ، ان کےچہرےنورانیت سےبھرپورتھے، میں ان کےپاس چلا گیا ، سلام کیا انہوں نےبہت احترام کےساتھ سلام کاجواب دیا،میں نےکہا بیٹا آپ کیا کرتےہویہاں؟ انہوں نےکہا بھائی ہم یہاں حفظ کرتےہیں ، میں نےکہا عید پر آپ گھر نہیں گئے؟ ان میں سےایک دو تو آنکھوں میں آنسوبھرکر اندرچلےگئےاور باقیوں نےرندی ھوئی آواز میں کہا ہمیں کوئی لینےنہیں آیا ہم بہت دورچترال سےآئےہیں بابا کہتےتھےکرایہ نہیں ہےتم وہیں رہو ، میرا دل بھی ایسےبوجھل سا ہو گیا ، میں نے کہا آپ کو آئےہوئےیہاں کتنا عرصہ بیت گیاہے؟ انہوں نےکہا ہم پچھلی عید پر بھی یہیں تھے ۔*
       *میں نےاپنی پاکٹ سےروپئےنکالےاوران کو سو سو روپیہ دینا چاہا ، پر آفرین ان کی تربیت پر کسی نےبھی ہاتھ بڑھا کرنہیں لیے ، بلکہ سب اندرچلےگئے ، میں بوجھل سی طبیعت کےساتھ آگےبڑھ گیاکہ یہ ہیں وہ مدارس کےطلباء جن کو لوگ حقارت کی نگاہ سےدیکھتےہیں ۔*
 *میں بھی انہی مدارس سےہوتا ہوا آیا ہوں اس جگہ پر۔ میں نے ان مدارس کےاندرکےمعاملات کو دیکھا ہے ، جب مدارس کےشیوخ مہینےکےآخری ایام میں بہت پریشان دکھتےتھےکہ اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگربل کیسےادا کیےجائیں؟ یار سوچو کون سا ایسا پرائیویٹ یاسرکاری ادارہ ہےجو اس قدرسکالرشپ دیتاہے؟ ملک کےطول و عرض میں سینکڑوں ایسےمدارس ہیں جن میں رہاشی طلباء کی تعداد ہزاروں تک جاتی ہےلیکن ان کےکھانےرہائش کتابیں میڈیسن مکمل اخراجات مدرسہ کےذمہ ہوتےہیں ، کیا ہےکوئی ایسی یونیورسٹی جس کا ہاسٹل اور میس فری ہو؟*
  *یہ دین کےادارےدین کےقلعہ ہیں ، انہیں اداروں سےاسلام علماء اوراسکالرپیدا ہوتےہیں جو اسلام کےخلاف ہونےوالےاعتراضات کا منہ توڑ جواب دیتےہیں ۔*
  *بات کہاں نکل گئی ... میں بات مدارس کےاندرپڑھنےوالےان درویشوں کی کررہا تھا ۔ جو دوردراز کےعلاقوں سےاپنےگھربار ماں باپ بہن بھائیوں کی محبت کو چھوڑ کرآتےہیں ، صرف اس لیےکہ ان کےماں باپ کی ایک بہت معصوم سی خواہش ہوتی ہےکہ چلو کیا ہوا اگر گھر کی دیواروں پرغربت اور افلاس ناچتا ہے؟ہمارےبچےحافظ قرآن بن جائیں !* *عالم دین بن جائیں ! روز قیامت عزت والا تاج تو ہمیں نصیب ہو جائےگا نا !*
 *مجھےیاد ہےکہ جب کبھی کسی عید وغیرہ کے موقعہ پرچھٹیاں ہوتیں تو سب اپنےاپنےگھروں کی راہ لیتے ، ان میں کچھ ایسےبھی ہوتےتھے جو خود جا نہیں سکتےتھےاور لینےوالےاس لیےنہیں آسکتےتھےکہ ان کےپاس آنےکےلیےکرایہ نہیں بن پاتا تھا ۔ اور پھر وہ اسی مدرسہ کےاندر ہی اپنی خوشیوں کی قربانی اپنےماں باپ کی معصوم خواہش پرقربان کیےاپنےساتھیوں کے ساتھ کھیل لیتے ۔*
 *ان مدارس کےطلباء کو کبھی حقیرنہ جانو! آپ نہیں جانتےان کےمقام کو ، یہ جب چلتےہیں ان کےقدموں کےنیچےاللہ کےفرشتےاپنےپروں کوبچھانا اپنےلیےباعثِ فخرمحسوس کرتےہیں ۔ سمندرکی مچھلیاں ، فضاؤں میں پرندے زمین کےاندرحشرات ان کی کامیابی کی دعا اللہ رب العزت سےمانگتےہیں ، عام طور پر لوگ یہ سمجھتےہیں کہ مدرسوں میں داخل وہی ہوتےہیں جو ہرطرف سےریجیکٹ کر دیےجائیں ، اگر ایسا بھی ہےتو بھی لوگوں کو ان مدارس کا شکرگزار ہونا چاہیے ، جنہوں نےایسےبچوں کو گلیوں میں آوارہ نہیں ہونےدیا بلکہ ان کو داخلہ دےکرقرآن وحدیث کی تعلیم دی۔ وہی بچہ صوم و صلوة  کا پابند، ماں باپ کا فرمان بردار اور ایک عالم دین بن کر لوگوں کےایمان کی فکر کرنےلگا۔*
  *ان مساجد و مدارس کےساتھ محبت کریں! دینی  تعلیم کےلیےاپنےبچوں کا رخ ان کی طرف کریں! اور ہر لحاظ سےان مدارس کےمعاون بن جائیں.....*

*پڑھ کر آگے بھی شئیر کریں......*
_________________
*فقط والسلام ________________*
#بھگوا_دہشتگردی_پر_منظم_پروگرام!!

بھارت میں بھگوا دہشتگردی پر بات کرنا اور برادران وطن کو اس سے آگاہ کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے،
*ناتھورام گوڈسے سے لیکر اسیمانند اور شمبھولال ریگر تک کی خطرناک ریشہ دوانیاں دراصل بھارت میں " ہندوراشٹر " کے عنوان سے " شودروں " کی تجدید ہے*
غیرملکی آریاؤں نے جب دیکھا کہ بھارت میں اب قدیم، قوانین منو من وعن نافذ نہیں ہوسکتے تو انہوں نے یہ نئی اصطلاح ایجاد کی ہے اور اس کے جال میں پھر سے بھارت کی مقامی آبادی کا استحصال ہورہاہے،
ہیمنت کرکرے کی سازشی موت کے پیچھے اور جسٹس برج گوپال لویا کے قتل میں یہی دہشتگردی کارفرما ہے
سسٹم میں دست اندازی کرکرکے اب یہ آرین پوری طرح اس پر قابض ہوچکےہیں اور نہایت چالاکی سے ان سسٹم کی آرام دہ کرسیوں پر براجمان ہوکر پورے ملک میں انارکی پھیلا رہےہیں
تاریخی لحاظ سے بھی اگر تطبیق دی جائے تو منظرنامے کے اختلاف کے ساتھ یہ بات واضح ہوجاتی ہیکہ آج بھی مقامی بھارتی آبادی اسی دہشتگردی کے سائے تلے نئے عنوانات اور نئے اصطلاحات کے جال میں مقید ہے
جب تک اس ملک کو، اس تاریخی دہشتگردانہ جال سے واقف نہیں کرایا جاتا، دنگوں اور فسادات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی ۔
یہ کام مستقل مزاجی سے مسلسل کرنے کا ہے اسے بہت پہلے شروع ہوجانا چاہیے تھا، لیکن دیر آید درست آید، بھارت کے نوجوان اسکالر اور آن لائن ٹاک شو، سرجیکل اسٹرائک کے بانی،رفیق محترم ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی نے اب اس کا عزم ظاہر کردیاہے، ان کا یہ ارادہ خوش آئند اور تاریخی ہے، ہم امید کرتےہیں کہ بہت جلد وہ اس سلسلے میں اقدامات کرینگے اور سنگھی دہشتگردوں کی ریشہ دوانیوں کو واشگاف کرینگے ۔
یہاں ضروری معلوم ہوتاہے کہ ملت کے اس اولوالعزم جوان کا کچھ تذکرہ ہوجائے،
یاسر بھائی دراصل اس خانوادے کے وارث ہیں جن کی تاریخ علم دین اور اشاعت اسلام کے لیے جدوجہد سے عبارت ہے، یاسر بھائی کے دادا، پردادا حضرت شیخ الاسلام ؒ کے شاگرد رہ چکے ہیں، اس علمی خانوادے کا یہ امتیاز ہیکہ، ان کے دادا، پردادا اور اب خود یاسر بھائی بھی علم حدیث معروف و مستند کتاب مسلم شریف کا درس دیتے آئے ہیں، ان کے دادا حضرت مولانا واجد حسینؒ کی پوری زندگی علم حدیث کی خدمت میں فنا رہی،وہ اپنی عمر کے آخری پڑاؤ تک بھارت کی عظیم علمی دانشگاه جامعہ ڈابھیل میں شیخ الحدیث رہے، ان سے اکتساب فیض کرنے والوں میں قابل فخر تلامذہ کی ایک بڑی جماعت ہے،

پھر ان کے والد ماجد اور ہم سب کے لیے نہایت محترم و مشفق حضرت مولانا ندیم الواجدی صاحب حفظہ الله نے بھی اپنی پوری زندگی کو نمونۂ سلف بنایا ہے،آپ کے ماموں جان حضرت مولانا شریف حسن دیوبندی صاحب ؒ دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث رہے ہیں،
مولانا ندیم الواجدی بھی اپنے آبا و اجداد کی طرح نہایت ذی استعداد اور علم و نظر کے شناور ہيں آپ نے دارالعلوم میں دورہء حدیث میں ٹاپ رینکنگ حاصل کی، آپ کا تقرر دارالعلوم دیوبند کیمپ اور اسی طرح مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں کے ذریعے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شعبۂ تحقیقات میں بھی ہوچکا تھا،
مولانا ندیم الواجدی عرصہ تک حیدرآباد میں تشنگان علوم کو سیراب کرتے رہے، پھر دارالعلوم دیوبند کی شورٰی نے صد سالہ کے موقع پر آپ کو تحقیقاتی خدمات کے ليے طلب کیا، صد سالہ کے بعد سرزمین دیوبند سے جدائیگی آپ پر شاق تھی لہٰذا مولانا مستقل دیوبند ہی میں رس بس گئے، آپ نے تجارت کے لیے بھی علمی شعبے کا انتخاب کیا اور ایک بھترین مکتبہ قائم کیا، صاف ستھری اور شفاف تجارت کے ساتھ آپ کی علمی خدمات بھی جاری رہیں، چنانچہ احیاء العلوم جیسی معرکة الآراء کتاب کا ترجمہ بھی آپ کے قلم سے معرض وجود میں آچکاہے، مولانا کی زیر ادارت ہر ماہ ترجمان دیوبند نامی رسالہ اپنی علمی و فکری آب و تاب کے ساتھ کئی سالوں تک جاری رہا ۔
مولانا نے سرزمین دیوبند پر لڑکیوں کے پہلے دینی ادارے کی بنیاد ڈالی اور، اپنی اہلیہ ‌، محترمہ عفت ندیم صاحبہ جو کہ اس ادارے کی روح ہیں، ان کے ساتھ ملکر شبانہ روز جدوجہد کی، اور اب وہ  مسلسل ترقی پذیر ہے، بنات اسلام یہاں سے اپنے پہلے مدرسے کے لیے شعور و آگہی کے پھول چنتی ہیں،
 *اہل علم و نظر مولانا ندیم الواجدی صاحب کی علمی و فکری گیرائی اور اعتدال کے شیدائی تو ہیں ہی ساتھ ہی تجارتی دنیا میں ان کی دیانت و شفافیت کی بنا پر ان کے تئیں " التاجر الصدوق الامین " کے شاہد عدل بھی ہیں، الله ایسے اسلامی، معتدل، اور فکری اعیان کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے ۔*
 یہ جملہء معترضہ اسلیے ہیکہ آج جبکہ خاندانی بیک گراؤنڈ کے نام پر نا اہلوں اور ناخلفوں نے جراثیم پھیلا رکھے ہیں، موروثی وبا نے اداروں کو کھوکھلا کردیاہے ایسے میں اسقدر شاندار اور جاندار تاریخ کے حامل اس خانوادے نے کبھی اپنا موروثی ڈنکا نہیں پیٹا نا ہی اس غرے کے چلتے کبھی بزعم خود نظر آیا، جبکہ صاف، ستھری وراثت تو اسلام میں بھی پسندیدہ ہے اور اہل ہونے پر استحقاق بھی شرعی ہے ۔
رفیق محترم یاسر ندیم الواجدی نہایت تدبیر و حکمت کے ساتھ اپنے ان قدآور پرکھوں کے نقش قدم پر ہیں، متعدد علمی کاوشوں، مستقل علمی، ملی و دینی سرگرمیوں کے ساتھ وہ عصری و دینی طبقے کے لیے زینے کا کام کررہےہیں، بجا طور پر ہمیں ان پر ناز ہے،
بھگوا دہشتگردی پر بات نا کرنے کے لیے اب تک جتنی بھی مصلحتوں اور حکمتوں کی دہائیاں پیٹی گئیں وہ سب غیر دانشمندانہ ثابت ہوچکی ہیں، لہذا مصلحتی طبقے کو اب اس کا استقبال کرنا چاہیے، اور آزاد مزاج تنقیدی درحقیقت تنقیصی طبقہ جسے آج تک علماء ہند کی مصلحتوں سے الرجی تھی اب انہیں چاہیے کہ اس اقدامی قدم کا استقبال کریں، میدان میں آئیں ۔
ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی نے سنگھی دہشتگردوں پر اقدامی وار کے لیے عزم کیا ہے، جبکہ آج تک ہم دفاع در دفاع کی پالیسیوں کے تحت مین اسٹریم سے دور رہے، ایسے میں، وسائل و وسیلوں کا رونا رونے کے بجائے میڈیا کے متعصب و گھناؤنے بازار میں موجود وسائل کو ہی بروئے کار لاتے ہوئے " آن لائن سرجیکل اسٹرائک " چینل کی شروعات ایک تاریخی کارنامہ ہے، ملت اسلامیہ ہندیہ کی اس جہت میں، اس نوع پر پہلی اور تاریخی پہل کا کامیاب سہرا، رفیق محترم، مخلصم ہمدم، یاسر ندیم الواجدی کے سر جاتاہے،
*یاسر بھائی کی کامیابی کا اہم راز میری نظر میں یہ ہیکہ وہ کبھی مخالفین اور معاندین سے متاثر نہیں ہوتے، معاصرانہ حاسدین اور متعصبین کو خاطر میں نہیں لاتے، ضمیر فروش اندرونی مکاروں کے جال میں نہیں آتے، بددیانت دین بیزاروں کو منہ نہیں لگاتے، ایسے اوچھے اور رذیل حملوں کو خموشی سے اوندھا کردیتے ہیں، تعمیری تنقید اور مخلصانہ مشاورت کو سر آنکھوں پر رکھتےہیں،ان کی نگہ بلند اور سخن عشق نواز رہتاہے، عہد شباب میں ایسا سلجھا پن دراصل مستقبل میں اقبال مندی کی نوید ہے، ماضی میں ہمارے متقدمین اور متاخرین اسلاف و اعیان اور جرنیلان اسلام کا عہد شباب ایویں نظر آتاہے ۔*

 مجھے قوی امید ہیکہ: رمضان کے ان مبارک، پاکیزہ اور مقبول لمحات میں، اس ملک کے سب سے اہم اور خطرناک ایشو پر اقدام کا عزم کارگر ہوگا، ڈھکے چھپے اور کھلے ہوئے، آر ایس ایس کا بھگوائی ٹولہ نامراد ہوگا ۔

*سمیع اللّٰہ خان*
ksamikhann@gmail.com

کیا کبھی آپ نے غور کیا  کہ کن کن مدات پر زکات  خرچ کی جانی چاہیے ؟
اشرف علی بستوی

اگرکوئی آپ سے یہ پوچھے کہ اس سال  آپ نے کتنے قرض داروں کی مالی مدد کی

ہے ، کتنے بے قصور قیدیوں کو چھڑانے میں اپنا مال خرچ کیا اور کتنے مسافروں کی امداد کی تو شاید یہ جواب آپ کے لیے مشکل ہو لیکن اگر کوئی یہ پوچھے کہ اس سال رمضان میں کتنے  مدارس کو اپنی زکات کی رقم  دی تو آپ  رشیدوں کا بنڈل سامنے کر دیں گے ۔

 آپکا جواب ہوگا کہ ہمارے پاس جو آیا ہم نے اسے دیا ، لیکن آپ کا یہ جواب شاید مکمل نہیں ہے ،اس سے آپ اپنی ذ مہ داریوں سے  بچ نہیں سکتے  ۔

 ذرا غو کیجیے جس معاشرے میں زکوت کا نظم ہو اس معاشرے کا  نوجوان   برسہا برس تک جیل میں پڑا رہے  اور اس درمیان اس کا گھر بار تباہ ہو جائے اس کے بچے غربت و افلاس کی وجہ سے تعلیم نہ حاصل کر سکیں ، آبائی جائیداد مقدمے کی نظر ہو جائے  ۔

 ایک مقروض والدین کی بچی بن بیاہی بیٹھی رہ جائے  یہ سب ہماری بے توجہی کی وجہ سے ہی تو ہے ، جبکہ ہم ہر سال کروڑوں کی رقم زکات کے طور پر نکالتے ہیں، اجتماعی نظم زکات کی باتیں بھی ہم خوب کرتے ہیں ، اپنی تقریروں اور تحریروں میں با رہا یہ دہراتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنے زکات کا نظم درست کر لیں تو مسلمانوں کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں ۔

کیا کبھی آپ نے غور کیا  کہ کن کن مدات پر زکات  خرچ کی جانی چاہیے ؟ نہیں نا !  آپ کی یہی تن آسانی اورسہل پسندی کی وجہ سے سیکڑوں لوگ کروڑوں کی زکات نکالنے کے باوجود محروم رہ جاتے ہیں ۔ براہ کرم اس بار اپنی فہرست میں قیدیوں ،قرض داروں اور مسافروں کا حصہ بھی شامل کر لیں ،  قرآن میں درج  زکات کے  دیگرسبھی  8 مدات پر خرچ کر نے کا منصوبہ بنائیں ۔

ہر سال کی طرح امسال بھی پہلی رمضان سے ہی زکات وصول کرنے والے حضرات ہاتھوں میں رشید اور مدرسے کی زیر تعمیرعمارت کی تصویر لیے آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہوں گے  ۔ زکات وصول کرنے والوں کی اکثریت مدارس و مکاتب کے وابستگان کی ہوتی ہے،  جو سلام و کلام سے فارغ ہوتے  ہی مدرسے  کی آمدو خرچ کا سالانہ گوشوارہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ،ان کی توجہ آپ کو یہ باور کرانے میں ہوتی ہے کہ مدرسہ ہذا  کا بجٹ مستقل خسارے میں ہے ، مدرسے کے فلاں سیکشن کی عمارت نامکمل ہے  آپ کی توجہ درکار ہے۔

اس بار جب وہ مدرسے کابجٹ پیش کریں تو آپ ان سے یہ  ضرور پوچھیں  کہ جن بچوں کی تعلیم اور کفالت آپ کا مدرسہ کر رہا ہے ان کی تعلیم اورکفالت پر کیا کرچ کیا جا رہا ہے ؟آپ کے یہاں تعلیم کا معیار کیا ہے؟ اساتذہ کی تربیت اور ان صلاحیت سازی کا کیا منصوبہ رکھتے ہیں ؟ یقینا وہ ان تمام سوالوں کے جواب سے سے گریز کریں گے ۔ ان میں کتنے جعلی رشید لیے پھر رہے ہونگے ان کی شناخت اور تصدیق کیسے کریں گے ؟

 آپ کو چاہیے کہ حتی الامکان اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی زکات مستحقین تک پہونچے اور ان پر خرچ ہو ، آپ کا یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جانا کہ ہم نے تو اپنی جانب سے ادا کردی اب وہ جانیں جنہوں نے وصول کیا ہے،  اس سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے  جعلی زکات وصول کرنے والوں کی  حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مستحقین محروم رہ جاتے ہیں ، یہ درست نہیں ہے ۔

قرآن کریم کے حکم کے مطابق 8 مصارف زکوت کے بتائے گئے ہیں ۔ فقیر ، مسکین، زکات کے انتظامى امور سنبھالنے والے، تالیف قلب، گردنوں کے چھڑانے کے لیے (بے قصور مسلمان قیدی)، قرض داروں کی مدد ،دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ، مسافر کی مدد۔

 آپ اپنی زکات متذکرہ بالا کن کن مصارف میں خرچ کرتے ہیں اس کا بھی جائزہ لیں اور زکات کی ادائیگی میں تمام مصارف کو سامنے رکھیں۔ آپ جس مقام پر رہتے ہیں اپنے آس پاس آپ کے رشتے دار و احباب کے سرکل میں بھی ایسے نادار ضرورت مند ضرور ہوں گے جو آپ کی زکات و صدقات کے زیادہ مستحق ہیں،اس بارذرا اپنی فہرست  میں ترمیم کر کے دیکھیں ، کافی لوگوں کا بھلا ہو جائے گا ۔

اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ صاحب حیثیت فرد جو ہر سال لاکھوں روپئے زکات  نکالتا ہے  وہی جب اپنی سوسائٹی میں کسی ضرورت مند رشتہ دار یا پڑوسی کو قرض دیتاہے  ، تو یہاں نیت غریب کی مدد نہیں ہوتی بلکہ ان کی نگاہ اس سودی کاروبار کرنے والے اس ساہوکار کی سی ہوتی ہے جو قرض کے بدلے  غریب کی کسی آراضی کو ہڑپنے  کی منصوبہ بندی کیے رہتا ہے۔  یہی نیت ایک  صاحب حیثیت مسلمان کی بھی ہوتی ہے تاکہ ایک دن قرض کی ادائیگی نہ کر پانے صورت میں وہ اسے اپنے نام کر لے ۔  ایسی  مدد جو کسی  کو بے گھر کر دے بھلا کس کام کی ۔

  یاد رکھیں ہر صاحب نصاب کو اپنی زکات کی ادائیگی کے وقت یہ بات اچھی طرح دھیان میں رکھنی چاہیے کہ کیا اس کی زکات ان مصارف میں خرچ ہو رہی ہے جس کا حکم قران میں دیا گیا ہے۔ ہمیں اور اپ کو یہ جائزہ لینا چاہیے ۔

 یہ 8 مصارف  ہیں

1 فقیر
2 مسکین
3 عاملین زکات (زکات کے انتظامى امور سنبھالنے والے
4 تالیف قلب
5 گردنوں کے چھڑانے کے لیے (بے قصور مسلمان قیدی
6 قرض داروں کی مدد
7 دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ
8 مسافر
*شوگر کے مریضوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری*

شوگر کی بیماری سے آج کل بہت سارے لوگ بالخصوص ضعیف خواتین و حضرات زیادہ دوچار ہوجاتے ہیں۔
تبوک ،سعودی عرب کورٹ کے سپریم قاضی (جج)    شیخ صالح محمد حفظہ اللہ نے ایک صحیح تجربہ کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے شوگر کی بیماری کے علاج کے لیے ایک کامیاب نسخہ دریافت کر لیا ہے۔

شیخ محترم ایک طویل تجربے اور محنت و کوشش کے بعد اس بیماری کا اتنا بہترین نسخہ کھوج نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں
🌹 *اجزاء*🌹

📌گیہوں کا آٹا 100 گرام
📌 گوند 100 گرام
📌جو 100 گرام
📌کلونجی 100 گرام

*تیار کرنے کا طریقہ*
مذکورہ بالا چیزوں کو پانچ 5 کپ پانی میں ڈالیں۔ پھر اس کو کم از کم دس 10 منٹ تک پکائیں۔ جوش دینے کے بعد چولہا بند کر دیں اور اس کو اتنی دیر تک چھوڑے رکھیں یہاں تک کہ وہ از خود ٹھنڈا ہو جائے۔ پھر اس آمیزے کو چھان لیں تاکہ چھلکے وغیرہ علیحدہ ہو جائیں۔ بچ جانے والے پانی کو شیشے کے برتن میں محفوظ کر لیں۔

🍶 *استعمال کرنے کا طریقہ*
٭  مریض صبح ناشتے سے پہلے نہار منہ مسلسل سات 7 دن تک چائے یا قہوہ کی چھوٹی پیالی کے بمقدار اس جوشاندے کو نوش کرے۔
٭   سات7 دن کے بعد مسلسل ایک  ہفتہ تک ایک دن پیئے اور ایک دن ناغہ کرے۔
٭   ایک ہفتہ گزرنے کے بعد دوا کا استعمال بالکل بند کر دے اور بلا روک ٹوک جو دل چاہے غذا استعمال کرے۔
باذن اللہ  اسے کچھ نقصان نہ ہوگا۔

*نوٹ :*
شیخ کی یہ گزارش ہے کہ اس نسخہ کو عام کیا جائے تاکہ اس کا فائدہ عام ہو سکے۔

*معافی مانگنے کے اصول وضوابط*
〰〰〰🌺〰〰〰

آج کے دن مسلمانوں میں معافی تلافی کا سلسلہ جاری و ساری ہے اس کے لئے میسج کا استعمال بہت زیادہ ہورہا ہے.

اس میں کوئی شک نہیں کہ معافی طلب کرنا اور معاف کرنا بہت اچھا طریقہ ہے مگر اس کے کچھ لوازمات و آداب ہیں:-

⚫(1) *معافی طلب کرتے ہوئے معافی مانگنے کی سچی نیت ہو*

⚫(2) *طبیعت میں حق تلفی و حقوق العباد کو تلف کرنے سے ندامت حقیقی ہو*

⚫(3) *جس سے معافی مانگی گئی اس کا پتہ بھی ہو.میسج میں معافی مانگتے ہوئے بعض دفعہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ میسج کس کو جارہا ہے*

⚫(4) *پھر شرعا معافی اسی وقت تصور کی جائے گی جب دوسرے کی طرف سے رپلائی بھی آئے کہ میں نے معاف کردیا.اگر رپلائی نہیں آیا تو معافی نہ ہوگی*.

⚫(5) *یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کسی کا کوئی نقصان کیا جس کا ہرجانہ شریعت لازمی کرتی ہو تو اس کی ادائیگی یا اس کی معافی بھی لازم ہے*

⚫ (6) *پھر جس نے حق العبد تلف کیا تو بندے سے معافی کے ساتھ ساتھ اللہ عزوجل سے بھی معافی مانگنا لازم و ضروری ہے۔*

⚫(7) *شب برات کے موقعہ پر چونکہ معافی تلافی کے میسج ہول سیل کی صورت میں آتے ہیں.*

 *میری رائے کے مطابق* 

  معافی تلافی کا میسج اسے ہی کیا جائے جس کے بارے آپ کو لگے کہ میں نے اس کے جان ،مال ،عزت کو نقصان پہنچایا.

پوری کنیٹکٹ لسٹ کو میسج کرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ میسج پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں اور *جس پر معافی مانگنا ضروری تھا اس کا میسج بھی پڑھنے سے رہ جاتا ہے یوں وہ معافی کا تمغہ ملنے سے محروم ہوجاتا ہے*...

*🔵طلحہ عزیر پاکیزہ اورنگ آبادی🔵*


⚫🔴⚫🔴⚫🔴⚫

کیا انسا ن کو مذہب کی ضرورت ہے ؟
از: ابو صالح شیخ ادریس ندوی
ہم اگر  اپنے ارد گرددیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ ہم خود اپنے تمام افعال پر قادر نہیں ہیں ۔بلکہ چند ضابطے  ایسے ہیں جن کے ماننے پر ہم مجبور ہیں ،ایسے ضابطے  ہی قانون کہلاتے ہیں ۔دنیا میں ہم مختلف قسم کے قانون دیکھتے ہیں  ،مگر وہ تمام دو قسم کے ہو تے ہیں   :اول وہ قانون  جو قدرتی ہیں ،دوم وہ جو وضعی ہیں۔قسم اول  میں ایسے قانون  ہیں جس میں انسان  کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا ۔مثلا آگ ہر چیز کو جلاتی ہے ۔پانی ہمیشہ  پستی نیچے کی جانب بہتاہے ،درخت اسی وقت تک سرسبزہ  رہتےہیں جب تک ان کو ان کی غذایعنی کھا د پانی ہوا دھوپ وغیرہ  ملتی  رہے ۔ستارے اور سیارے ہمیشہ اپنے مقررہ دور پورے کرتے ہیں ،یہ ایسے قانون  ہیں جس میں انسان تبد یلی نہیں کرسکتا ،دسرے  قانون وضعی :یہ ایسے قانون  ہیں جو کہ خود انسان کے بنا ئے ہو ئے ہیں ،اس وجہ سے اس میں ہر وقت  تبدیلی ممکن ہے اور ہو تی بھی رہتی ہیں ۔مگر سوال یہ ہو تا ہے کہ قانون  کی ضروت ہی کیاتھی ؟اگر سر سری طور پر دیکھا  جائے تو قانون ترقی اور آزادی میں رکاوٹ معلو م ہوتے ہیں ،مگر غور سے دیکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ نظام عالم کا دورومدار انہیں قانون   پر ہے ۔فرض کروکہ آج نظام ششمسی کے سیارے آفتاب کی کشش سے آزاد ہو جائیں تو نتیجہ کیا ہو گاکہ اجرام فلکی کا کہیں پتہ بھی نہ ہوگا ۔یایوں سمجھوکہ ایک بڑے ملک میں کوئی زبردست گورنمنٹ نہ ہو ،ہر شخص آزادہو ،کسی کے افعال کا کسی کو تعرض کا حق نہ ہو تو یقینا اس ملک کی حا لت وحشی سے وحشی ملک سے بھی بد تر ہو جائے گی،وہاں ہر کوئی اپنی من مانی زندگی بسر کرےگا ،اور پھر وہاں خون ریزی قتل وغارت گری ،اور ہر طرح کا شروفساد عام ہوجا ئے گا ،اور پھر وہاں نام تو انسانوں کے ہوں گے لیکن حقیقتا وہاں جا نوروں کا بسیرا ہو گا ،بہر حال صاف ظاہر ہے کہ امن وامان ،حفاظت مال ،کسب معاش کے لئے یہ لازمی ہے کہ سو سائٹی کا ہر فرد واحد چند قانون  کی پابندی کو اپنا  فرض سمجھے ۔کیوں اس میں اس کی جان ومال ، بہن بیوی،اور ماں بیٹی کی حفاطت ہے ،اور مذہب بھی کسی پابندی وتشدد،اور جکڑ بندی کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ مذہب بھی دراصل نام ہے چند قانون  کا جن پر عمل کرنے سے گویا اپناہی فائدہ ہے،اسی لئے پر عمل کرنا ہر ایک کے لئےضروری ہے ،اور اگر ہم اس پر عمل نہ کریں تو خود ہم کو نقصان پہونچے گا ۔اور مذہب ہم کوتو راستبازی کی تعلیم دیتاہے ۔ماچھے اخلا ق سے پیش آنا ،غریبوں اور مظلوموں کی مدد کرنا ،کمزوروں کا سہارابننا غمزدوں کے درد کا درماں بننا ،محبت کےساتھ آپس میں شیر وشکر بن کر رہنا ،اور ہرایک کا بھلا چاہنا،ان سب باتوں کی ہی تو مذہب تعلیم دیتاہے ،تو اس میں پریشانی کیا ہے ۔؟
اب دو ایک مذہب کا تاریخی مطالعہ کرکے دیکھتے ہیں کہ ان کی وجہ سے لوگوں کیا فائدہ ہوا ۔
پانچ سو قبل مسیح ہند  کے میدانوں میں ایک اایسی قوم بسی ہو ئی ملتی ہے جو تہذیب وتمدن کے نام سے ناآشنا ہے ۔وہ بھوت پلید کے پر ستش کو  واجب قرار دیتی ہے،اخلا قی اعتبار سے بھی اس کی بہت پست حالت ہے ،اس میں دوسروں کے مقابلہ میں برتری کا خیال مطلق نہیں پا یا جاتاہے ۔دفعتہ ایک مصلح پیداہوتا ہے یہ اپنے عیش وآسائش کو ترک کردیتاہے بیو ی بچوں خو خیر آباد کہہ دیتاہے ،سلطنت پر لا ت مارتاہے ،سا ت برس تک جو گی بن کر تلاش نجات میں گھومتاہے ،اور گوتم بدھ کے نام سے ایک سیدھے سادھے مذہب تعلیم  کرتاہے اور ایک وقت آتاہے کہ اس مذہبی تعلیم کی وجہ سے وہ قو م جو غیر مہذب تھی مہذب بن جا تی ہے ،اوراولا تواس کو معمولی حیثیت کے لوگ قبول کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ بڑے بڑے مہا راجہ بھی  یہی مذہب  اختیار کرلیتے ہیں ۔او رآج بھی تقریباڈھائی ہزار برس کے بعد بدھ مت کے ماننے والے دنیا میں ایک بڑی تعداد میں موجودہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ بدھ  مت نے لو گوں کو رسم ورواج ،طریق معاشرت میں ایک بڑی تبد یلی پید اکردی تھی اور اس کے متبعین  کا اخلاقی معیا ر بہت بلند کردیا تھا۔
(ابھی اس کا پھر کیا حال ہے ہم اس وقت کی بات نہیں کرہےہیں )
اس سے بھی قریب تر زمانہ کی مثا ل لو ۔توظہور اسلام سے پہلے عرب کی حالت دیکھو ۔ان لوگوں میں دنیا کے تمام عیوب موجو د تھے ،دختر کشی ،شراب بخور ی ،اور بہت سی بیماریاں تھی جن کو چھوڑنا ان کے لئے بہت مشکل تھا ،اسی  عالم میں ایک مہتاب طلوع ہوتاہے ۔تعلیم وتلقین کا معجزہ نما اثر دیکھو ۔جہالت کا بادل دھوا ں بن کر اڑجاتاہے ،مذہب ہی کی برکت تھی کے وحشی عرب ایک طرف ایرانیوں کی عظیم الشان سلطنت کو فتح کرلیتےہیں ،اور دوسری طرف یورپ کو ایک مدت تک تہذیب وتمدن کا سبق دیتے ہیں، انہوں  نے صرف ممالک ہی کو نہیں فتح کیا بلکہ دلوں کو بھی فتح کیا اور علو م وفنون کو ترقی دی ۔اور عربوں کی ترقی کی خاص وجہ یہ تھی کہ اسلام  کے بعد ان  کی قوتوں کا ستعمال ٹھیک موقعوں پر کیاجانے لگا ،بہادری ان میں پہلے سے تھی لیکن اب اس کا استعمال غیر ممالک میں کئے جانے والے ظلم کے خلاف استعمال  کیا جانے لگا ،دماغی قوت ان میں پہلے سے ہی موجود تھی لیکن اس کا استعمال اب علوم وفنون میں استعمال ہونے لگا   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرض دنیاکے کسی بھی مذہب کو لو اور اسے تاریخی روشنی میں دیکھو تو معلوم ہو گا کہ ہر مذہب نے اپنی اپنی حیثیت سے انسانی تہذیب وتمدن کو ترقی دی ہے اور اپنی تعلیم کا ایک ایسا نظام اخلاق چھوڑا ہے جس پر اس کے ماننے والے عمل کرتے رہے ہیں ۔ی(یہ الگ بات  ہے کہ اس کے ماننے والوں نے بعد میں  اس میں بہت سی خرابیوں کو داخل کردیا ،کچھ نے تو کم فہمی یا لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کیا ،او رکچھ نے اپنے پیٹ پوجا کے لئے کیا )اور جس طرح قانون وضعی میں یہ بات پائی جا تی ہے کہ د وممالک کے قوانیں میں  ایک دوسرے سے مشاہبت ہو تی ہے اسی طرح مذہب عالم کے احکاما ت  میں بھی بہت کچھ ایک دوسرے سے مشابہ ہو تے ہیں مگر یہ بات ہر چھوٹے حکم پر صادرق  نہیں آسکتی ۔لیکن مجموعی طور پر مذیب کی ترقی میں جتنا کام مذہب نےکیاہے اتناکسی نے نہیں کیاہے
دنیا کے تمام مذاہب کا پیغام :۔
اب ہم اور ایک دوسرے اندازسے سمجھنے کی کو شش کرتے ہیں کیا انسان کوواقعی کسی  مذہب کی ضرورت ہے ؟
جب سے دنیا بنی ہے یا کم سے کم جب سے اس دھرتی پر انسانوں  کا رہنا شروع ہواہے ،تب سے ہر آدمی کا دل دو  طرف کھینچتاہے :کبھی خود غرضیاور برائی کی طرف توکبھی دوسروں کی بھلائی کی طرف ،کبھی سوارتھ کی طرف تو کبھی پروپکا ر کی طرف ۔برائی اور بھلائی ،بدی اور نیکی ،پاپ اور پن ،گناہ اور ثواب ان دونوں راستوں کے ہی الگ الگ نام ہیں ۔کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کے دل پر یہ دونوں کبھی کبھی اپنا اثر نہ ڈالتے ہو ں ۔یہ دونوں اپنی اپنی طرف آدمی کے دل کو برابر کھنچتے رہتے ہیں ؛اور یہی کھینچا تانی اندر کی کشمکش دنیا کی سب سے بڑی جنگ یا دنیا کا سب سے بڑا سنگرا م ہے ۔اس سنگرام میں خود غرضی یا سوارتھ ،بدی یا برائی کو اپنے اندر سے نہ مٹا سکنا سب سے بڑی ہار ہو تی ہے ۔اسی طرح دوسروں کی بھلائی یعنی پروپکا ر یا نیکی کو اپنی زندگی میں جگہ دیناسب سے بڑی  جیت ہے ،اور جگہ نہ دے سکنا ہر آدمی کی اور تما م انسانی دنیا کی بھلائی ہے ۔اس میں ساری دنیا کی ترقی اور سکھ اور چین کے راستے کھلتےہیں ۔اور یہ ہا ر اس لئے سب سے بڑی ہا ر مانی جاتی ہے کیوں کہ اس میں آدمی کو زیادہ سے زیادہ مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں اوریہی انسانی دنیا کے بڑے بڑے دکھوں کا اور بربادی کا اصلی سبب ہے ۔
اس  جیت میں دنیا کی بھلائی اور اس ہا ر میں دنیا کے دکھوں  اور بربادی کی جڑ اس لئے ہے کہ اگر ہم آدمی کی زندگی پر گہری نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دیتاہے کہ دنیا کے آدمی سب ایک دوسرے سے ایسے ہی بندھے اور جکڑے ہو ئے ہیں جیسے ہمارے بدن کے الگ الگ حصےہاتھ پیر آنکھ اور کا  ن ایک دوسرے سے۔اس طرح دنیا کی تما م چیزیں اور خاص طور سے آدمیوں کے سارے گروہ آپس میں ایک دوسرے سے ایسے اٹوٹ اور گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ، ان کا اصلی فائدہ اور نقصان الگ ا  لگ نہیں کیا جاسکتا۔ہم سب مل کر ایک کنبے یا کٹمب کی طرح ہیں ،جس کی بنیا دیں میل محبت ،ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور ایک دوسرے کی سیوا پر قائم ہیں او رجس کو سب سے بڑا نقصان ایک دوسرے سے نفرت کرنے اور لڑنے سے پہنچتاہےاور جتنا  آدمی اس سچائی کو جان لیتاہے اتناہی وہ اس جیت میں کا میاب ہو تا ہے ،او راس کے بعد اس کے اندر سے اپنے اور پرائے کا بھید کم ہو جاتاہے یا یو کہئے اس کے اپنے پن اور پرائے پن کا خیال گھٹتا اور سکڑ جاتاہے ،اور اس کے دل میں ایک  کرکے اپنے گاؤں ،اپنے شہر ،اپنے دیس اور بڑھتے بڑھتے ساری دھرتی کے آدمیوں کے ساتھ اپنا پن بیٹھنے اور جمنے لگتاہے ۔اسے دوسروں کے بھلے میں اپنی بھلائی اور دوسروں کی بربادی میں اپنی بربادی ،دوسروں کے سکھ میں اپنا سکھ اور دوسروں کے دکھ میں اپنا دکھ دکھائی دینے لگتاہے۔دنیا کے سب دیسوں میں سب آدمیوں کے اس بات کو سمجھ لینے پر ہی دنیا بھر کی سچی شانتی ،سچے امن ،اور سچے سکھ کا دارومدارہے ۔
لیکن مصیبت یہ ہے کہ آدمی کے اندر اس سمجھ کے پیدا ہونے میں بہت دیر لگتی ہے ،خاص کر قوموں اور ملکوں میں اس کا خیال پید اہو نا بہت ہی مشکل ہو تاہے ، اس لئے یہ کھچاتانی مٹ نہیں پا تی اور اس کے جاری رہنے سے دنیا کو بڑے بڑے نقصان پہونچتے رہتےہیں ۔بے چینی بے امنی اور بربادی بڑھ جا تی ہے ،گروہ بندی، کٹ بندی بڑھتی ہے ،اور اتنا ہی سماج کے آتما کے ٹکڑے ٹکڑے ہو نے لگتے ہیں ،جھگڑے بڑھتے ہیں دکھ ،غریبی ،اور بربادی پھیلتی ہے ۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتاہے کہ باہر کے سب لڑائی جھگڑے آدمی کی اس نا سمجھی کا ہی نتیجہ اور اندر کی اس  کھینچا تانی کی ہی  پرچھائیں  ہوتے ہیں ۔اس ناسمجھی کی طرف لو گوں کا دھیان دلانے اور انہیں اس کھینچا تانی کے دور کرنےاورآپس میں مل جھل کر محبت سے رہنے کا صحیح  راستہ  بتانے کا کا م مذہب( دھرم) کرتے ہیں  ۔اس لئے تو علامہ اقبال ؒنے کہاتھا ۔
مذہب نہیں سکھا تا آپس میں بیر رکھنا                                        ہندی ہے ہم وطن ہے  ساراجہاں ہمارا
الغرض اس كے علاوه مذہب کے انسانی زندگی میں اور بہت سے فوا ئد ہیں ان تما م فوائد ،باریکیوں اور نزاکتوں ایک دو تین صفحا ت کے مضمون میں سمیٹنا ناممکن ہے۔۔۔۔۔





صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Label

Recent

Text Widget

Test

Contact Us

Name

Email *

Message *

Followers

Newsletter

We’ll keep you informed and updated

Recent Comments

Popular Posts

صراط نستقیم پر ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم