صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی

، 
صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی، کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا✦ ✦ قبر کا راز ✦ ✦یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ شام کا ملک تہذیب و تمدن کی نئی منزلیں طے کر رہا تھا مگر دمشق کی پرانی بستیوں میں اب بھی وہی کہانیاں گونجا کرتی تھیں جو صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کے گرد گھومتی تھیں۔قلعہ دمشق کے قریب اموی مسجد کے صحن میں ایک چھوٹا سا مقبرہ تھا۔ پیلے پتھروں سے بنا ہوا، جس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی۔ اس مقبرے کے اندر کوئی تعمیراتی شاہکار نہیں تھا، نہ سنہری دروازے، نہ قیمتی پتھروں کی جڑاؤ کاری۔ بس ایک سادہ سی قبر، جس پر ہمیشہ تازہ پھول رکھے جاتے۔ اور قبر کے اوپر لکڑی کا ایک پرانا تختہ، جس پر نوشتہ تھا:"ہذا قبر السلطان الملک الناصر صلاح الدین"یہاں تک کہ اس قبر کے متولی بھی نہیں جانتے تھے کہ اس مٹی کے نیچے کون سی حقیقت چھپی ہے۔ مگر ۱۹۵۰ء کا وہ دن تھا جب تاریخ کے اوراق پلٹنے والے تھے۔شام کی حکومت نے قلعہ دمشق کی مرمت کا فیصلہ کیا۔ ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم دمشق پہنچی، جس میں فرانس، برطانیہ اور مصر کے نامور ماہرین شامل تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ مقبرہ صلاح الدین ایوبیؒ کا نہیں، بلکہ کسی اور شخص کا ہے۔ اصل قبر کہیں اور ہے۔"یہ محض ایک علامتی مقبرہ ہے،" فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے نے کہا۔ "صلاح الدین جیسی عظیم شخصیت کی تدفین اتنی سادگی سے ممکن نہیں۔"دمشق کی گلیاں اس بحث سے گرم تھیں۔ بوڑھے کہانی سنانے والے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر کہتے کہ "یہ فرنگی پھر مسلمانوں کی تاریخ مٹانے آئے ہیں۔" مگر سائنسی شہادتوں کے سامنے عقیدت بھی خاموش تھی۔آخرکار فیصلہ ہوا کہ مقبرہ کھولا جائے گا۔۲۵ نومبر ۱۹۵۰ء۔صبح کا وقت تھا۔ اموی مسجد کے صحن میں غیر معمولی رونق تھی۔ حکومتی اہلکار، ماہرین آثار، چند نامور صحافی اور وہاں موجود ہر شخص کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ مگر مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع نہیں ہو سکی تھی۔ ان کے دلوں میں دھڑکنے والی عقیدت اس منظر کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی ان کے سلطان کی قبر کو ہاتھ لگائے۔چنانچہ صرف چند افراد اس کارروائی کے گواہ بنے۔مقبرے کا دروازہ کھلا۔ اندرونی حصہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا صدیوں سے تھا—سادہ، بے تکلف، دنیا کی کسی بھی شان و شوکت سے عاری۔ فرش پر پرانے قالین بچھے تھے، دیواروں پر قرآنی آیات لکھی تھیں۔ اور بیچوں بیچ وہ قبر جس کے نیچے ایک عظیم سپاٹے کی ہڈیاں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ماہرین نے کام شروع کیا۔ پتھر ہٹائے گئے، مٹی ہٹائی گئی۔ قبر کی گہرائی میں ایک لکڑی کا صندوق ملا، جو مکمل طور پر گل سڑ چکا تھا۔ اس کے نیچے کفن میں لپٹی ہوئی ایک لاش تھی۔مگر جیسے ہی کفن کا ایک کونا ہٹایا گیا، وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں رک گئیں۔کفن میں لپٹی لاش بالکل تازہ تھی۔فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے اپنی عینکیں صاف کیں، پھر دوبارہ دیکھا۔ لاش پر گلنے سڑنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔ جلد ابھی تک برقرار تھی، چہرے کے نقوش واضح تھے، داڑھی کے بال موجود تھے۔"یہ ناممکن ہے!" ان کی آواز قبرستان کی خاموشی میں گونجی۔ایک مصری ماہر نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کفن کو مزید ہٹایا۔ لاش کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے—وہی طریقہ جس سے مسلمان میت کو دفناتے ہیں۔ انگلیوں کی پوروں پر مہندی کے نشان تھے، گویا ابھی کل ہی لگائی گئی ہو۔کمرے میں سناٹا تھا۔ کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔پھر دمشق کے ایک بزرگ عالم جو وہاں موجود تھے، آگے بڑھے۔ ان کی عمر تقریباً اسی برس تھی، داڑھی سفید، چہرے پر نور تھا۔ انہوں نے کفن کو مکمل طور پر ہٹانے سے منع کر دیا۔"بس کرو،" ان کی آواز میں عجیب سا وقار تھا۔ "اب تم دیکھ چکے۔ جو دیکھنا تھا۔"فرانسیسی ماہر نے احتجاج کیا۔ "لیکن ہمیں تحقیق کرنی ہے، کاربن ڈیٹنگ کرنی ہے، یہ ثابت کرنا ہے کہ...""کیا ثابت کرنا ہے؟" بزرگ عالم نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔ "تم اس شخص کے بارے میں کیا ثابت کرو گے جس نے خود کہا تھا کہ میری تجہیز و تکفین کے لیے بھی رقم نہیں ہو گی؟"کمرے میں ایک اور خاموشی چھا گئی۔پھر بزرگ عالم نے وہ کام کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔وہ سجدے میں گر گئے۔ان کے ماتھے نے اس فرش کو چھوا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے مٹی ہٹائی گئی تھی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ان کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی لفظ تھا: "اللہ... اللہ..."وہاں موجود ہر شخص—مسلمان اور غیر مسلم—دیکھتا رہ گیا۔ پھر ایک ایک کر کے سب کے گھٹنے زمین کو چھونے لگے۔ فرانسیسی ماہر ڈیوڈ نے بھی اپنا سر جھکا لیا۔ وہ سائنسدان تھا، مومن نہیں تھا، مگر اس منظر کی ہیبت اسے سجدے میں نہیں تو کم از کم خاموشی میں ضرور لے آئی۔کچھ دیر بعد بزرگ عالم اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ صلاح الدین ایوبیؒ کی وصیت تھی کہ ان کی قبر سادہ ہو، کوئی مزار نہ بنے، کوئی تعمیر نہ ہو۔ مگر وقت کے بادشاہوں نے عقیدت میں یہ مقبرہ بنا دیا۔ شاید اسی لیے اللہ نے اپنے نیک بندے کی حفاظت کا یہ طریقہ چنا۔کفن کو دوبارہ ٹھیک سے لپیٹا گیا، مٹی ڈالی گئی، پتھر رکھے گئے۔ مگر وہ دن تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف میں لکھا گیا۔وہاں موجود ایک صحافی نے بعد میں لکھا:"میں نے اپنی زندگی میں کئی عجائبات دیکھے، کئی دریافتوں کی روداد لکھی، مگر اس دن جو دیکھا، وہ کسی سائنس کی کتاب میں نہیں ملے گا۔ 600 سال گزرنے کے بعد بھی ایک لاش ویسی ہی تازہ تھی جیسے ابھی کل دفنائی گئی ہو۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس شخص کی عظمت کو نہیں مٹا سکتی جس نے زندگی بھر اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکایا، اور جس کی وفات پر اس کا رب خود اس کی حفاظت کا ذریعہ بنا۔"آج بھی دمشق میں جب کوئی بوڑھا صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا قصہ سناتا ہے تو وہ اس دن کا ذکر ضرور کرتا ہے جب قبر کھولی گئی۔ اور سننے والوں کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ جاتی ہے۔کیونکہ کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ثبوتوں سے نہیں، بصیرتوں سے دیکھی جاتی ہیں۔اور صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا وہ دن ایک ایسی ہی بصیرت تھی—جو صرف انہیں ملی جنہوں نے آنکھوں سے نہیں، دل سے دیکھا۔---خلاصہ: وہ شخص جس نے زندگی بھر دنیا کی شان و شوکت ٹھکرائی، اس کی وفات کے 600 سال بعد بھی اللہ نے اس کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا کہ دیکھنے والے سجدے میں گر پڑے۔ سچائی کا کفن کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ 

ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

✍️ مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی

تراویح سنانے کے خواہش مند بہت سے حفاظ پریشان ہیں کہ انھیں مساجد نہیں مل رہیں، ایسے حفاظ کی خدمت میں عرض ہے کہ صحیح احادیث کی روشنی میں تراویح کی گھروں میں ادائیگی میں زیادہ ثواب ہے اس لیے وہ مسجد نہ ملنے پر کبیدہ خاطر نہ ہوں، اپنے یا کسی اور کے گھ پر تراویح کا اہتمام کریں. ان شاء اللہ ثواب کچھ زیادہ ہی ملے گا.

گھر پر تراویح کا باجماعت اہتمام اور بھی کئی پہلوؤں سے مفید ہے، اس کے نتیجہ میں گھر میں بہت مبارک ماحول بنتا ہے، جس کی ترغیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیا کرتے تھے، پھر اس کی برکت سے خواتین کو بھی رمضان کی راتوں میں لمبی نمازیں پڑھنے کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے.
.............................................................................

گزشتہ برس رمضان سے پہلے یہ مختصر تحریر لکھی تو متعدد حضرات اہل علم نے اس پر استدراک کیا، اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ اپنے موقف کے دلائل بھی عرض کردیے جائیں، اس لیے ذیل کی تحریر لکھی گئی تھی جو پیش خدمت ہے:

متعدد صحیح احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت منقول ہے کہ فرض نمازوں کے علاوہ بقیہ تمام نمازیں گھروں میں پڑھی جائیں، کہ اس کا ثواب زیادہ ہے، تراویح کی اصل کے طور پر جو حدیث نقل کی جاتی ہے اس کی بھی ایک روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں، یعنی خاص تراویح کے سیاق میں:

"عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ؛ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ". (بخاری: 731)

غالبا یہی وجہ تھی کہ جب حضرت عمر نے مسجد میں باقاعدہ جماعت کا نظام قائم فرمایا تو اس سلسلہ کی موطأ کی مشہور روایت کے مطابق وہ خود اس جماعت میں شریک نہ تھے، الفاظ ملاحظہ ہوں:
"عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَانِي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ : نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ....." (موطأ: 301)

اور غالبا اسی وجہ سے حضرت ابی بن کعب جن کو حضرت عمر نے تراویح کا امام بنایا تھا وہ بھی آخری عشرہ میں یہ خدمت انجام نہ دیتے، اور آخری عشرہ میں نماز تراویح کھر پر ہی پڑھتے، سنن ابی داود کی روایت ملاحظہ ہو:

" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً،..... فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ : أَبَقَ أُبَيٌّ. (1429)

وضاحت: مساجد میں تراویح کا انتظام واہتمام یقینا عہد صحابہ سے چلا آرہا عمل ہے، اس لیے وہ ایک سنت ہے، اور اس کا جاری رہنا ضروری ولازمی ہے، یہاں جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے وہ صرف ان لوگوں کی بابت ہے جو گھروں میں یہ نماز بکمال اہتمام پڑھ سکتے ہوں، کہ ان کے لیے اس نماز کا گھروں می‌ پڑھنا کیا حکم رکھتا ہے؟

حبیب احمد مشہور الحدادؒاور آپ کی زیارت

حبیب احمد مشہور الحدادؒ اس وقت تک مدینہ منورہ میں داخل نہ ہوتے تھے جب تک خواب میں رسولِ اکرم ﷺ سے داخلے کی اجازت نہ پا لیتے، اور نہ ہی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے جب تک انہیں رخصت کی اجازت نہ ملتی۔ یہاں تک کہ ایک سال انہوں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا، جنہوں نے فرمایا:
“میرے پیارے بیٹے! ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب جب چاہو مدینہ میں داخل ہو اور جب چاہو باہر جا سکو۔”

یہ عظیم ہستی میرے سب سے بڑے رول ماڈلز میں سے ایک ہے۔ تین لاکھ سے زائد افراد نے حبیب احمد مشہور الحدادؒ کے اخلاق، تقویٰ اور مجالس کے ذریعے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے دنیا کے انتہائی دور دراز علاقوں میں اسلام کی دعوت پہنچائی۔ دعوتِ دین کے لیے انہوں نے سواحیلی زبان روانی کے ساتھ سیکھ لی۔

حبیب احمدؒ اپنے گھر کے باہر بیٹھتے، اور جب کوئی غیر مسلم وہاں سے گزرتا تو محبت سے اسے چائے کے لیے اندر بلا لیتے اور نہایت شفقت اور نرمی سے گفتگو کرتے۔ لوگ چائے کا کپ ختم بھی نہ کر پاتے تھے کہ وہ کہہ دیتے:
“لا إله إلا الله محمد رسول الله ﷺ”

وہ تہجد کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ حتیٰ کہ بیماری کے عالم میں بھی انہوں نے کسی پر دروازہ بند نہیں کیا۔ ان کا گھر ہفتے کے ساتوں دن ہر شخص کے لیے کھلا رہتا تھا۔

ان کی زندگی اس مبارک ذات ﷺ کی کامل جھلک تھی جن کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے اعلیٰ ترین درجات عطا فرمائے۔

🌷 نماز کا طریقہ 🌷

🌷 نماز کا طریقہ 🌷

ہمارے مکاتب کے نصاب میں ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ بچوں کو نماز سکھاءیں ۔
اس کے لیے 6 کام نہایت ضروری ہیں ۔
👈 سب سے پہلے وظائف نماز صحت کے ساتھ یاد کرائیں ۔
👈 مدرس صاحب خود نماز پڑھ کر دکھائیں
👈 ہفتہ میں ایک بار نماز کی عملی مشق کروائیں یعنی بچوں کی نماز سنیں ۔
👈 فضائل یعنی وعدہ اور وعید کے ذریعہ نماز کی ترغیب دیتے رہے ۔
👈 نماز کی ڈائری بنا کر نماز کی حاضری لیں اور کارگزاری لیں ۔ 
👈 بچوں کو نمازی بنانے کے لیے دعا کرتے رہیں ۔
فقط

امام مسجد(حضرت سعد بن ابی وقاص) کی بد دُعا کا اثر

امام مسجد کی بد دُعا کا اثر
ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو 
امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں
مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے
کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے
اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے
امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھیےجلیل القدر صحابی ہیں پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں 
اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں رسول اللّٰہ ﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں

ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی
تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان
جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا مستجاب الدّعوات تھے

رسول اللّٰہ ﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں خود رسول اللّٰہ ﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر بہت سی  فتوحات ہوئیں لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں

تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں 
کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے
وہ شخص جس نےنماز اللّٰہ کے نبی ﷺ سے سیکھی
اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض......

بالکل آج کل جیسے حالات کا منظر پیش کر رہا ہے آج کے آئمہ نے نماز اگرچہ براہ راست رسول اللّٰہ ﷺ سے نہیں سیکھی مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے اقوال سے سیکھی ہے ان علماء کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے
بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ کو بھیجتے ہیں جو ایک ایک مسجد میں جا کرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں
حیرت کی بات ہے

 کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ پہنچیں
لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے ایک ایک مسجد میں جا کر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا البتہ جب پوچھتے پوچھتے سلسلہ بنو عبس کی مسجد تک پہنچا تو صرف ایک شخص "اسامہ بن قتادۃ" نامی اٹھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کرتا ھے کہ آپ کی نماز ٹھیک نہیں.

یہ جہاد کے سلسلے میں کوتاھی کرتے ہیں اور فیصلے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیتے.
اعتراض کچھ بھی تھا لیکن یہاں انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ھے کہ شکایات کوفہ سے مدینہ بھیجی گئیں لیکن کوفہ کی کسی مسجد میں ایک شخص کے علاوہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ملتا یہ حقیقت تاریخ کا حصہ اور لائقِ اعتماد کتب میں موجود ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران صرف ایک ہی ایسا آدمی ملا جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اعتراض تھا

لیکن شکایات مدینہ بھجوائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا اندیشہ ہے اور پھر عمر فاروقؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر بھی دیا 

اس حقیقت کے پشِ نظر یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ
بعض اوقات صرف ایک دو افراد یا مقتدیوں کو امام سے شکایت ہوتی ہے لیکن ان کا پروپیگنڈہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ "یہ شخص اس منصب کے لائق نہیں"
میں اس مقام پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کو دل کے کانوں سے متوجہ ھونے کی دعوت دوں گا اس میں شک نہیں کہ مجھ جیسے ائمہ مساجد لائقِ تعریف نہیں
لیکن میرے بھائیو!

کبھی آپ کی مسجد کا امام بے قصور بھی ہوتا ھے
اور آپ کے اعتراضات بے جا بھی ھوتے ہیں
ایسی حالت میں اپنی "انا" کی تسکین کے بجائے اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ سے ڈریے اور ذہن میں رکھیے کہ:
جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نےمعترض کی ناحق باتیں سنی تھیں تو اپنے ہاتھ اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے دربار میں اُٹھا کر یہ دعا کی:

اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هٰذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهٗ وَأَطِلْ فَقْرَهٗ وَعَرِّضْهٗ بِالْفِتَنِ
اے اللّٰہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور نام ونمود کی خواہش میں اٹھا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر اس کی محتاجی میں اضافہ کر اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔
وقت گزر گیا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معزول بھی ہو گئے پروپیگنڈہ جیت گیا

لیکن سعد بن ابی وقاصؓ کی دُعا اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں محفوظ رہی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص انتہائی بڑھاپے کو پہنچا اس کی بھنویں آنکھوں پر گر چکی تھیں راستے میں کھڑے ہو کر بھیک مانگتا اور جب کوئی عورت سامنے سے گزرتی تو اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔
لوگ کہتے: اے بوڑھے! تمہیں عورتوں کو چھیڑتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟

جواب میں کہتا: میں کیا کروں؟ مجھ بڈھے کو سعد بن ابی وقاصؓ کی بد دعا لگ گئی ہے
(صحيح البخاري كتاب الأذان باب وجوب القراءة للإمام والمأموم : 755)

آج کے دور کا کوئی امام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسا تو نہیں لیکن کسی بھی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرتے وقت اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ کو بھول جانا انتہائی بد نصیبی کی علامت ہے

ہم اپنے پروپیگنڈہ میں جیت سکتے ہیں
لیکن اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان فیصلوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں مسجدوں کے نظام میں بہتری لانے کی توفیق بخشے اور مسجد کے امام، خطیب اور انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے حتٰی المقدور نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔

اتنے عظیم اعمال کے باوجود عمرؓ کانپ اٹھے — پھر ہمارے اعمال کا کیا بنے گا اور۔ذرا تو سوچیے

جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔

 تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

 حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں۔۔۔ ! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟

 یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا۔۔۔ ! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا۔۔ ! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں،

اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟
حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟

حضرت عمرؓ نے فرمایا۔۔ !
بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہذا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں۔۔؟

 کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔

 عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔

 حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔

حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،

اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن الیمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔

اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،

اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔

عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ
کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن الیمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پر ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟

ام المؤمنین نے جواب دیا۔۔۔ ! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔

اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی کا اتنا خوف۔۔۔
ہمارا کیا بنے گا؟ ہمیں ضرور اس بارے میں فکر کرنی چاہیے۔
دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
واللہ اعلم 

مستند حوالہ جات:

1. صحیح بخاری – کتاب الجنائز (حدیث: 1392 / بعض نسخوں میں 3700 کے قریب)
اس میں حضرت عمرؓ کے زخمی ہونے، دودھ زخم سے بہہ نکلنے، وصیت، اور ام المؤمنین عائشہؓ سے دفن کی اجازت لینے کا واقعہ تفصیل سے مذکور ہے۔

2. صحیح مسلم – کتاب فضائل الصحابہ (حدیث: 2402)
حضرت عمرؓ کے قاتلانہ حملے، ان کی وصیت، اور آخری لمحات سے متعلق روایات موجود ہیں۔

3. طبری – تاریخ الطبری (جلد 4، واقعہ شہادتِ عمرؓ)
اس میں حضرت عمرؓ کی شہادت، حذیفہ بن الیمانؓ کے ساتھ گفتگو، نفاق کے بارے میں سوال، اور روضۂ رسول ﷺ میں تدفین کی اجازت کا تاریخی بیان تفصیل سے نقل ہے۔

اپنی نسلوں کو یاد کروائیے، ان شاء اللہ ضرورت کے وقت کام آئیں گے

بابری مسجد کی مختصر تاریخ


بابری مسجد اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں واقع تھی۔
اس کی تعمیر 1528ء میں مغل فرمانروا ظہیرالدین محمد بابر کے حکم پر اس کے سالار میر باقی نے کروائی۔ صدیوں تک یہ مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی۔

برطانوی دور (1857ء کے بعد):
ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مسجد کے مقام سے متعلق تنازع پیدا ہوا۔ انگریز حکومت نے جھگڑوں سے بچنے کے لیے مسجد کے اندرونی حصے مسلمانوں اور بیرونی صحن ہندوؤں کے لیے مخصوص کر دیا اور باڑ لگا دی۔

1949ء:
مسجد کے اندر رات کے وقت رام کی مورتی رکھ دی گئی، جس کے بعد تنازع شدید ہو گیا۔ حکومت نے مسجد کو مقفل (تالا بند) کر دیا۔

1986ء:
عدالتی حکم پر تالے کھول دیے گئے، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔

6 دسمبر 1992ء:
ایک بڑے ہجوم نے بابری مسجد کو شہید کر دیا، جس کے بعد ملک بھر میں فسادات بھڑک اٹھے۔

عدالتی فیصلہ (2019ء):
سپریم کورٹ آف انڈیا نے متنازع زمین ہندو فریق کے حوالے کرنے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی کسی اور مقام پر 5 ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا۔
.............................................

*مندر کے حق میں دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھے گئے یہ دس نکات یاد رکھیے اور اپنی نسلوں کو یاد کروائیے، ان شاء اللہ ضرورت کے وقت کام آئیں گے۔*

(1) میر باقی نے 1528 میں مسجد بنوائی، فیصلہ میں مانا گیا۔

 (2) 1857 سے 1949 تک قبضہ اور استعمال رہا، پھر زمین دوسرے گروہ کی کیسے؟

(3) بابری مسجد میں آخری نماز 16 دسمبر 1949 کو پڑھی گئی، فیصلہ میں مانا گیا۔

 (4) 22-23 دسمبر 1949 کو مورتیاں رکھنا غیرقانونی تھا، یہ فیصلہ میں کہا گیا۔

(5) گنبد کے نیچے کی زمین رام کی جائے پیدائش ہے، یہ ثابت نہیں ہوا۔

 (6) زمین پر دعویٰ میعاد کے اندر ہے، جس پر اب فیصلہ نظرِ ثانی کے لائق۔ 

(7) 6 دسمبر 1992 کو مسجد گرایا جانا غیر قانونی تھا، فیصلہ میں مانا گیا۔

(8) ہندو سینکڑوں سال سے پوجا کرتے رہے ہیں، اس بنیاد پر پوری زمین کیسے؟

 (9) یہ کیوں زیرِ غور نہیں ہوا کہ مسجد کی زمین کا تبادلہ یا منتقلی نہیں ہوسکتی؟

 (10) فیصلہ میں مانا گیا کہ مندر کو توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی۔

اسی لیے کہا جاتا ہے:
“جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے،
تاریخ اسے مٹا دیتی ہے۔”

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم