انمول موتی anmool mooti

مولانا ابوالحسن علی ندوی کا پیغا م 

انمول موتی anmool mooti



























https://urdumis.blogspot.in/ مزید پڑھنے کیلئے اس سائٹ پا جائیے

ایک سے زائد شادی اور ویدک دھرم


کثرت ازدواج اور ویدک دھرم

سوامی دیانند صاحب اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش سملاس چہارم نمبر ١٠٤ اور 'رگویدآدی بھاشیہ بھومکا' Rigvedadi Bhashya Bhoomika مضمون 'بیاہ کا بیان' میں لکھتے ہیں کہ مرد کو ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ اور ایک عورت کو ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ بیاہ کرنے کی ممانعت ہے- اس میں دلیل یہ ہے کہ وید کے منتروں میں خاوند اور بیوی کا لفظ واحد میں آیا ہے- یہی دلیل آج کل کے آریہ سماج پرچارک (مبلغ) بھی دے رہے ہیں- حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ دلیل انکی جانب سے آرہی ہے جو سنسکرت کے عالم ہونے کا دعوا کرتے ہیں- انہوں نے کثیر الازدواجی کی ممانعت وید سے صرف اس دلیل کی بنا پر کی ہے کہ چونکہ منتروں میں لفظ واحد آیا ہے- اس لئے صرف ایک ہی عورت کا حکم دیا گیا ہے-  حالانکہ مناسب یہ ہونا چاہئے تھا کہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل کثیرالازدواجی کبرائیوں اور ہر صورت میں ایک ہی نکاح کرنے کی خوبیوں پر وید سے دی ہوتی-
سوامی صاحب اگر خود اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کی پیروی کرتے تو انکو معلوم ہو جاتا کہ منتروں کے فعل میں تغیر اور تبدل ہو جایا کرتا ہے- اس کی ایک مثال سوامی جی نے خود 'رگویدآدی بھاشیہ بھومکا' میں دی ہے
کہ اس میں (کاٹتا ہے) واحد آیا ہے- دراصل (کاٹتے ہیں) جمع چاہئے تھا- کیونکہ اس کا فاعل (جو لوگ) جمع میں ہے- (بھومکا صفہ ٢٢١-٢٢٢ – مترجم نہال سنگھ ١٨٩٨)
یہیں تک بس نہیں- بلکہ وید منتروں میں تو تذکیر اور تانیث اور ضمیروں کے بدلنے کے بھی سوامی جی قائل ہیں- (بھومکا صفہ ٢٢٢) پھر صفہ ٢٢٨ پر مثال (١) میں سوامی جی نے حوالہ دیا ہے کہ "اس مثال میں اسم فاعل جمع کی علامت کی جگہ اسم فاعل واحد کی علامت آئی ہے"- جب وید کے قوائد یہاں تک ناقابل اعتبار ہیں، تو چند ایک منتروں میں اگر عورت اور مرد کے الفاظ واحد اس بنا پر آگیے کہ عورت سے مراد تمام جنس عورت اور مرد سے مراد تمام جنس مرد ہے، نہ کہ صرف ایک ہی شخص تو سوامی جی اور آریہ سماج کی یہ دلیل نہایت بودی معلوم ہوتی ہے- بہتر ہوتا کہ سوامی جی اپنے بزرگان سلف کے طرز عمل سے جو بڑے بڑے عالم ہو گزرے ہیں، ایسے منتروں کے معنی حل کرتے-


ذیل میں ہم چند ایک حوالے اس بارے میں دیکر سوامی جی کے معتقدین سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ عقل سلیم اور نقل صحیح کی بنیاد پر ان دعاوی کی تردید کریں- ورنہ زبانی لفاظی سے ہمارے مقابلہ پر انشا الله تعالیٰ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے-
سوامی دیانند صاحب کی کتب کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مسئلہ کثرت ازدواج کی بنیاد سب سے اول وید کی تعلیم پر ہے- چناچہ پرش سوکت یعنی یجروید ادھیاۓ ٣١ منتر ٢٢ مندرجہ رگویدآدی بھاشیہ بھومکا (اردو) صفہ 84 ، باب پیدائش عالم کا ترجمہ سوامی دیانند صاحب نے یوں کیا ہے-
 اے پرمیشور- شری اور لکشمی دو پیاری بیویوں کی مثال تیری خدمتگذار ہیں
اب بتایے کہ بقول آریہ صاحبان وید جیسی علیٰ درجہ کی کتاب میں ایسی لغو اور خلاف عقائد مسلمہ مثالیں نہایت نامناسب ہیں- اس حوالہ سے اس دعوے کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے کی کہ ویدوں میں خاوند اور بیوی کے الفاظ ہمیشہ واحد میں آے ہیں. جب تمثیل کی زبان میں بھی بیوی کا لفظ جمع کے صیغے میں آے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کی کثرت ازدواج ویدوں کی رو سے کوئی قبیح امر نہیں-رگوید کے متعدد منتروں سے یہ ثابت ہے کہ ایک مرد کی کئی بیویاں ہو سکتی ہیں- یہاں پر میں چند منتروں کو پیش کروں گا- رگوید منڈل ١، سوکت ٦٢، منتر ١١ میں ہے : "ہے اندر دیو- جیسے محبت کرنے والی بیویاں اپنے خاوند کو خوش کرتی ہیں، ویسے ہی آپ کے لئے کی گئی تعریفیں آپکو خوش کرتی ہیں-" رگوید منڈل 7، سوکت ١٨، منتر ٢ میں لکھا ہے- "ہے اندردیو- جس طرح رانیوں کے بیچ میں راجہ رہتا ہے، اسی طرح آپ اپنی تمام تابناکیوں کے ساتھ رہتے ہیں-" اسی منڈل کے سوکت ٢٦ اور منتر ٣ میں ہے- " اندردیو دشمنوں کے شہروں کو اپنے قبضے میں ویسے ہی کرتے ہیں جیسے خاوند اپنی بیویوں کو-" شتپتھ براہمن Shatapath Brahman جو یجروید کی مستند تفسیر ہے اور سوامی دیانند کے نزدیک بھی مستند ہے میں بھی کثیر الازدواجی کی حمایت کی گئی ہے- چناچہ اسی کتاب میں کانڈ ٩،ادھیاۓ 4،براہمن ١،کنڈکا ٦ (9/4/1/6) میں لکھا ہے "پہلے یگیہ میں ایک دیوتا کو نظر چڑھائی جاتی ہے اور پھر کئی دیویوں کو کیونکہ ایک مرد کی کئی بیویاں ہوتی ہیں-"

ویدوں میں تفصیل سے سورگ (جنّت) اور اس میں ملنے والی نعمتوں کا تصور ملتا ہے- اس تصوّر کی رو سے آئندہ عالم جنت میں انسان اپنے تمام اعضاء کے ساتھ داخل ہوگا جن میں اعضاء تناسل بھی شامل ہے- چناچہ اتھرووید کانڈ 4 سوکت 34 منتر 2 میں لکھا ہے- "ان کے عضو مخصوص کو جات ویدہ اگنی (اگنی دیوتا) نہیں جلاتا کیونکہ سورگ میں ان کے لئے بہت سی عورتوں کے جھنڈ ہونگے-" اس منتر سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک عورت تو کیا ویدک سورگ میں تو عورتوں کے جھنڈ کے جھنڈ ایک مرد کو ملیں گے- ایک مرد کا زیادہ عورتوں سے لطف صحبت اٹھانا ویدوں میں بار بار بیان کیا گیا ہے اور اس کو بڑا اونچے درجے کا لطف (آنند) کہا گیا ہے- ویدوں کے سورگ میں ایک مرد کو ایک سے زیادہ عورتیں ملنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کی کثرت ازدواج ویدوں کی رو سے کوئی قبیح امر نہیں- اتھرووید کے اس منتر میں عورتوں کے جھنڈ کے لئے سنسکرت لفظ 'استرینم' (सत्रैणम) استعمال ہوا ہے- پاننی (Panini) کے مشہور کتاب 'اشٹ ادھیایی' (Ashtadhyaayi) ادھیاۓ 4، پاد ١، سوتر 87 میں اس لفظ کے یہی معنی کئے گئے ہیں-
ان تمام منتروں میں مرد کے لئے صیغہ واحد اور عورتوں کے لئے جمع کا صیغہ لایا گے ہے- جس سے معلوم ہوتا ہے کی ویدوں کے نزدیک ایک مرد کو زیادہ عورتیں ملنا ایک اعلیٰ درجہ کی نعمت ہے- سوامی دیانند بھی خود اپنے یجروید بھاشیہ میں لکھتے ہیں کہ "اے انسانو- جیسے بیل گوؤں کا گابھن کرکے پشووں کو بڑھاتا ہے اسی طرح دنیادار عورتوں کو حاملہ کرکے ان کی نسل بڑھاویں-" (یجروید ادھیاۓ ٢٨ منتر ٣٢) یعنی جس طرح بیل بلا لحاظ تعداد گایوں کو حاملہ کرکے ان کی نسل کو بڑھاتا ہے، اسی طرح انسان کو بھی اولاد بڑھانے کی فکر کرنی چاہئے- بیل اور گایوں کی اس تمثیل سے یہ اجازت ملتی ہے کہ جیسے ایک بیل کئی گایوں کو حاملہ کرتا ہے ویسے ہی ایک مرد کو کئی بیویوں کے ذریعہ اولاد پیدا کرنی چاہئے-
منو سمرتی Manu Smriti ادھیاۓ 7، شلوک ٢٢١ میں لکھا ہے- "راجا کھانا کھا کر پتنیوں کے ساتھ محل میں بہار کرے"- منو سمرتی ادھیاۓ ٩، شلوک 149 میں لکھا ہے کی ایک برہمن جس کی چار (4) بیویاں ہوں تو انسے جنم لئے ہوئے بیٹوں میں جائداد کی تقسیم کیسے کریں- مہارشی منو کی خود دس (١٠) بیویاں تھیں- اسکا ذکر یجروید کی ایک اور شاکھا میتریانی 1/5/8 Maitrayani Samhita میں ہے-
ان سارے وید منتروں کی بنیاد پر بڑے بڑے ویدک بزرگوں نے جو عمل کرکے دکھایا اس کا نمونے دیکھئے- شتپتھ براہمن کا مصنف رشی یاگیہ ولکیہ (Yajnavalkya) دو پیاری بیویاں- میترئی (Maitreyi) اور کاتیانی (Katyayani) رکھتا تھا- چناچہ برہدارنیک اپنشد Brihadaranyak Upanishad 4/5/1 میں لکھا ہے -
अथ याज्ञवल्क्यस्य द्वे भार्ये बभूवतुर्मैत्रेयी कात्यायनी


Description: gopiDescription: gopiشری کرشن مہاراج کی آٹھ بیویاں سبھی ہندو تسلیم کرتے ہیں رکمنی – ستیہ بھاما – جمبوتی – کلندی – مترورندا – نگرجتی – بھدرا – لکشانا- اس کے علاوہ انکی ١٦١٠٠ بیویاں بھی تھیں جنکو انہونے نرکسرکی قید سے آزاد کیا تھا- اسکا ذکر مہابھارت انشاسن پرو Anushashan Parv میں ہے- آج کل کے آریہ سماجی پرچارک مہابھارت کے ان حوالوں کو بعد کی ملاوٹ کہ دیتے ہیں لیکن اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے- بعض آریہ سماجی کہتے ہیں کہ مہابھارت کا زمانہ اخلاقی زوال کا زمانہ تھا اور ویدک قوانین سے انحراف کیا گیا- حالانکہ انکے گرو سوامی دیانند نے نیوگ پرتھا کی دلیل اسی مہابھارت سے اخذ کی ہے- ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کی ویدک ہندو دھرم میں کثرت ازدواج کی کوئی ممانعت نہیں اور ویدک دھرم کے بڑے بڑے بزرگوں نے ٹھیک ویدک تعلیم کی بنا پر ہی کثیر الازدواجی کو اپنایا-اور یہ رشی حسب اعتقاد آریہ صاحبان ایشور کا سچا جاننے والا گذرا ہے- پھر اسپر رشی بھی تھا، جس کے معنے تمام علوم میں ماہر ہو کر دوسروں کو پڑھانے والے کے ہیں- اگر بقول آریہ صاحبان کثیر الازدواجی ازروّے ویدک تعلیم خلاف قانون قدرت تھی، تو ایسے بزرگ کا طرز عمل اسے رشی کے درجہ سے گرانے والا ثابت ہوتا ہے- ایسے بزرگ شخص عالم وید اور رشی کا بلا کسی خاص وجہ کے کثرت ازدواج کا پابند ہونا ظاہر کرتا ہے کی اس زمانہ میں کثرت ازدواج ازروّے وید جائز تھی-  کیونکہ یہ رشی ویدک عروج کے زمانہ میں ہو گزرے ہیں-
اس کے علاوہ شری رام کے والد راجہ دشرتھ کی تین بیویاں تھیں- کوشلیا – سمترا – کیکی
Description: gopiشری کرشن مہاراج کی آٹھ بیویاں سبھی ہندو تسلیم کرتے ہیں رکمنی – ستیہ بھاما – جمبوتی – کلندی – مترورندا – نگرجتی – بھدرا – لکشانا- اس کے علاوہ انکی ١٦١٠٠ بیویاں بھی تھیں جنکو انہونے نرکسرکی قید سے آزاد کیا تھا- اسکا ذکر مہابھارت انشاسن پرو Anushashan Parv میں ہے- آج کل کے آریہ سماجی پرچارک مہابھارت کے ان حوالوں کو بعد کی ملاوٹ کہ دیتے ہیں لیکن اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے- بعض آریہ سماجی کہتے ہیں کہ مہابھارت کا زمانہ اخلاقی زوال کا زمانہ تھا اور ویدک قوانین سے انحراف کیا گیا- حالانکہ انکے گرو سوامی دیانند نے نیوگ پرتھا کی دلیل اسی مہابھارت سے اخذ کی ہے- ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کی ویدک ہندو دھرم میں کثرت ازدواج کی کوئی ممانعت نہیں اور ویدک دھرم کے بڑے بڑے بزرگوں نے ٹھیک ویدک تعلیم کی بنا پر ہی کثیر الازدواجی کو اپنایا-


مذہب اور انسان


مذہب اور  انسان 
از:ابوصالح شیخ ادریس ندوؔی ولی اللٰھی ؔ
مذہب کے ساتھ انسان کے تعلقات کی  دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان مذہب کے مطابق ہوجائے،اپنے ہر فعل وعمل اور پنی ہر حرکت ونظر کو مذہب کے عینک سے دیکھے  اور دوسرا یہ کہ مذہب کو اپنے مطابق بنالے۔اور اپنے خواہشات کے مطابق مذہب کو پیش کرے ۔انبیاء کا زمانہ اس اعتبار سے بہترین ہوتاہے کہ وہ مذہب کو زمانے کی روش میں ڈھالنے کے بجائے لوگوں کو مذہب کے ساچے میں ڈھالتے ہیں اور اس اعتبار سے  آخری نبی ورسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اس اعتبار سے بھی بہترین زمانہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کی عظیم اکثریت مذہب کے مطابق ہوجاتی تھی۔ اس کی ایک وجہ مسلمانوں کے درمیان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی تھی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی ایمان اور عمل کا جو معیار پیدا کرتی تھی وہ کسی دوسری چیز سے ممکن ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہردور کے لیے ایک معیار ہے اور اسوہ قرار پایا ۔ لیکن ہمارے زمانے کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہمارے زمانے کا غالب رجحان مذہب کے مطابق ہونے کا نہیں، مذہب کو اپنے مطابق بنانے کا ہے۔ اس سلسلے میں عوام اور خواص کی کوئی تخصیص نہیں۔ اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا تھا:
                                خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں                ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
اقبال کے اس شعر کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسئلے کی سنگینی بہت بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کا انحراف معمولی انحراف ہوتا ہے۔ عوام کی آنکھوں پر پڑنے والے پردے دبیز نہیں ہوتے۔ لیکن ”فقیہانِ حرم“ کا انحراف ”مدلل“ ہوتا ہے۔ یعنی اہلِ علم مذہب کو اپنے مطابق بناتے ہیں تو اس کا پردہ چاک کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کی خرابی اُپنی حد تک محدود رہتی ہی، لیکن اہلِ علم کی خرابی کئی کئی نسلوں کو لے ڈوبتی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ مذہب کے مطابق بن جانے اور مذہب کو اپنے مطابق بنانے کے معاملات اور نفسیات میں کیا فرق ہے؟اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ مذہب کی کائنات  میں خدا مرکز کائنات ہے۔ اس کائنات میں خدا خالق ہی، مالک ہی، رازق ہی، پیدا کرنے والا ہی، مارنے والا ہی، جزا دینے والا ہی، سزا دینے والا ہی، اس کے ہونے سے ہر شے میں معنی ہیں۔ جن لوگوں کی کائنات فکری اور عملی اعتبار سے خدا مرکز کائنات ہوتی ہے وہ ساری زندگی خود کو مذہب کے مطابق بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ اس لیے کہ مذہب ان کے لیے زندگی کی واحد برتر حقیقت ہوتا ہے۔ اس کائنات میں انسان اور مذہب کا تعلق ذرے اورآفتاب کا ہوتا ہے۔ ذرہ جتنا آفتاب کی روشنی میں ہوتا ہے اتنا ہی منور ہوتا ہے۔ لیکن اب ہماری کائنات خدا مرکز کائنات نہیں۔ عقیدے کی سطح پر خدا آج بھی ہماری کائنات کے مرکز میں موجود ہے لیکن عمل کی سطح پر ہماری کائنات انا مرکز کائنات ہے۔ اس کائنات میں ہماری انا ہی سب کچھ ہے۔ اس تضاد کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری ”آرزو“ مکّے اور مدینے کی ہوتی ہے لیکن ہماری ”جستجو“ ہمیں واشنگٹن ، لندن ،دبئی اور قطر لیے جارہی ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا ہمارے لیے صرف ایک فکری حقیقت ہے، اور یہ فکر عمل پیدا نہیں کررہے۔ ہمارا عمل جس چیز سے پیدا ہورہا ہے وہ خدا نہیں ہماری ”انا کی استعماری قوت“ ہے۔ اس صورت حال میں ہم مذہب کو اپنے مطابق نہیں بنائیں گے تو اور کیا کریں گے؟انسان کا ایک ازلی و ابدی مسئلہ یہ ہے کہ وہ روحانی اور نفسیاتی سطح پر خود کو ناکافی، ادھورا، نامکمل یا Imperfect محسوس کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف مذہب اسے کافی بناسکتا ہے، صرف مذہب اس کے ادھورے پن کو رفع کرسکتا ہے، اور صرف مذہب اسے کامل یا Perfect بناسکتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مذہب انسان کے لیے سانس لینے کی طرح ناگزیر ہوجاتا ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ہمارا تصورِ زندگی اتنا اتھلا اور ہمارا شعور اتنا سطحی ہوگیا ہے کہ ہم روحانی اور نفسیاتی سطح پر اپنے آپ کو کامل یا Perfect کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ چنانچہ مذہب کے ساتھ شدید وابستگی کا بھی کوئی تقاضا ہمارے اندر نہیں ابھرتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم مذہب کی سطح پر جانے کے بجائے اسے اپنی سطح پر گھسیٹ لاتے ہیں۔ لیکن ہماری سطح کیا ہے؟ فی زمانہ انسانوں کی عظیم اکثریت اپنے آپ کو دو سطحوں پر کامل یا Perfect دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک معاشرتی سطح پر اور دوسرے معاشی سطح پر۔ یہاں معاشرتی سطح کی نشاندہی بھی غیر ضروری ہی، اس لیے کہ ہماری معاشرتی سطح بھی ہماری معاشی حیثیت سے متعین ہورہی ہے۔ اس سطح پر اکثر صورتوں میں مذہب کے ساتھ تعلق کے بجائے مذہب کے ساتھ بے تعلقی اہم ہوجاتی ہے۔ اس طرح مذہب خودبخود ہمارا حاکم بننے کے بجائے محکوم بن جاتا ہے۔اس معاملے کا ایک پہلو اقبال کے اس شعر میں موجود ہے جو آپ کالم کے آغاز میں ملاحظہ کرچکے ہیں، یعنی خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق اس شعر میں سب سے اہم لفظ ”توفیق“ ہے۔ لیکن توفیق کا مطلب کیا ہے؟ توفیق دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو فراہم کی جانے والی وہ روحانی مدد ہے جس کے ذریعے مذہب پر عمل آسان ہوجاتا ہے۔ ایک اور سطح پر توفیق کا مطلب الہام کے ذریعے معنی تک رسائی ہے۔ توفیق کی دو ہی صورتیں ہیں، یا تو انسان اللہ تعالیٰ سے خود توفیق طلب کرتا ہے، یا اللہ تعالیٰ عنایت و انعام کے طور پر انسان کو خود توفیق سے نواز دیتے ہیں۔ لیکن دونوں صورتوں میں توفیق کی ضرورت کا شدید تقاضا انسان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اس تناظر میں زیرِبحث مسئلے کا مفہوم یہ ہے کہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق عطا ہوتی ہے تو وہ خود کو مذہب کے مطابق بناتا ہے۔ اور الہام کی قوت سے قرآن و حدیث کو سمجھتا ہے۔ لیکن جب انسان توفیق سے محروم ہوجاتا ہے تو وہ مذہب کو اپنے مطابق بنانے لگتا ہے اور اس کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ عقل کی قوت سے سمجھنے کی غلطی کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ فقیہانِ حرم کی بے توفیقی کا مطلب اللہ تعالیٰ کی مددِ خاص سے محرومی اور الہام کی روایت سے کٹ کر رہ جانا ہے۔ یہ تجزیہ ہمارے عہد کا المیہ اور اس کی ایک علامت ہے۔
                                              قوت فکر وعمل     پہلے فنا ہوتی ہےپھر                    کسی قوم کےعظمت پہ زوال آتاہے


کیا رہبانیت انسانیت کی معراج ہے

·            
کیا رہبانیت اور جوگیت انسانیت کی معراج ہے؟
از :ابوصالح شیخ ادریس ندوی ولی اللٰھی

بہت سے مذاہب میں آرزؤوں اور تمناؤوں سے اپنے آپ کو خالی کر لینا انسانیت کی سب سے بڑی سعادت سمجھا جا تا تھا۔ مہاتما بدھ کی جانب یہ منسوب کیا گیا ہے کہ انسانی فطرت کو مدعاؤں سے خالی کر لینا، نہی نروانا کا سب سے بڑا مقدس نصب العین ہے یاپھر رہبانیت اور جوگیت جو انسانیت کی معراج سمجھی جاتی ہے اس کے معنی بھی اپنے کو دنیا سے بالکل علیحدہ کر لینا ہی ہے۔کلیسا کے باغیوں نے کلیسا پر الزام لگایا تھا اور یقینا یہ الزام بیجا نہ تھا کہ اس نے آدمی کو آدمی نہیں، پتھر فرض کر لیا تھا کہ آرزؤوں اور تمنا ؤوں سے دست برداری کی توقع پتھروں ہی سے کی جا سکتی ہے، ان ہی کے سینے ارمانوں اور خواہشوں سے خالی ہو سکتے ہیں۔

عیسائی مذہب میں انسانیت کی معراج یہ تھی کہ وہ فرشتہ ہو جائے یعنی اس مذہب میں لذائذ حیات اور انسان کے فطری احساسات کے تقاضوں کو غلط یا صحیح طریقے سے دبانے کی کوشش جاری تھی۔ سمجھا یہ جا تا تھاکہ بہیمی اور حیوانی کثافتوں کی چادر اس غریب فرشتہ کو اوپر سے لپٹ گئی ہے۔ اس چادر کو چاک کر کے اپنی ملکوتی کے چمکانے میں جو زیادہ کامیاب ہو گا ،وہی اپنی اصل حقیقت سے زیادہ قریب ہو تا چلا جائے گا۔مطلب یہ کہ وہی یورپ جس کا آسمان بھی آج معاش ہے اور زمین بھی اس کی معاش ہی ہے۔ آج جو مجسم معاشیات یا کہیے تو کہہ سکتے ہیں کہ صرف شکم ہی شکم بن کر رہ گیا ہے۔اس یو رپ کا حال اپنے ملکوتی عہد میں اس معاشیات کے متعلق یہ تھا۔جیساکہ اس ملک کے ایک معاشی مورخ نے لکھا ہے:

”معیشت ان کے (یعنی انہیں قدیم ملکوتی عیسائیوں) کے نزدیک کبھی فی نفسہ قابل توجہ نہ بنی۔ مقاصد معینہ (فرشتہ بننے کی مہم اور اس کے مقدمات) کے لئے ذریعہ کی حیثیت سے قدروں کے ہمہ گیر نظام میں اس معیشت غریب کی جگہ کہیں حاشیہ پر تھی۔“

انتہا یہ ہے کہ جدید معاشی دور کا آغاز جن بزرگوں کی اصلاحی آواز کی بدولت جیسا کہ اسی ملک کے لوگوں کا بیان ہے، ظہور پذیر ہوا ہے۔ میری مراد پروٹسٹنٹ فرقہ اور ان کی اصلاحی اقدامات سے ہے دوسرے نہیں۔ اسی صلاحی پیغام کے سرخیل اعظم یعنی جناب لوتھر تک کے مواعظ اور خطبات میں اس وقت تک اس قسم کے فقرے بے جھجک استعمال ہو تے تھے،مثلا لوتھر کا مشہور مقولہ ہے ۔ وہ کہا کرتا تھا

”دولت ان ہی ٹھیٹھ گدھوں کو (اللہ میاں) دیتے ہیں جنہیں وہ کچھ ارزانی نہیں فرماتے۔“

اورظاہر بھی یہی ہے کہ کلیسا کے مذہب سے لو تھر جتنا بھی بیزار ہو لیکن اس مذہب کا تو وہ بہر حال معتقد بلکہ سرگرم وکیل اور حامی تھا۔ جس کا نصب العین آدمی کو فرشتہ بنانا قرار دیا گیا تھا۔ ایسی صورت میں اگر دولتمندوں کو لو تھر صاحب گدھا یا ٹھیٹھ گدھے کے نام سے مو سوم کر تے تھے تو جس کا نصب العین ملک(فرشتہ) ہونا ہو، اس بلند نصب العین کو چھوڑ کر اپنی ساری توانائی دولت مند ہونے پر خرچ کر دی ہو اپنی اس حماقت کی وجہ سے اگر سمجھنے والے اس گدھا سمجھتے تھے تو غلط کیا سمجھتے تھے۔

لیکن خیر یہ تو پرانی بات ہے۔ صدیوں کی کشمکش کے بعد فرشتہ بنانے والے مذہب کے جوئے سے اس مسلک والوں نے اپنے آپ کو آزاد کر لینے میں جب کامیابی حاصل کی تو جیسا کہ ٹاؤنی نے لکھا ہے:

”مذہب نے انسانی طمع پر بہت سے قیود عائد کر رکھے تھے۔ سولہویں صدی کی تجارتی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے (مذہب)کے اقتدار کا مقابلہ کیا گیا اور سترہویں صدی کے اخیر تک مذہب آئندہ معاشیات پر حکمراں نہ رہ سکا۔ تاہم اس کے اقتدار کی دھجیاں باقی رہ گئیں.... لیکن اٹھارہویں صدی کے پر زور مقابلہ میں طلب و رسد کے قانون اور نفع و راحت کے نام پر معاشیات اور مذہب کے درمیان طلاق واقع ہو گئی۔“ (داستان دہقان ص۳۲۶)

یعنی کلیسا اور دنیا کے درمیان ان کے نزدیک تضاد تھایعنی ان کا خیال یہ تھا کہ مذہب محض ایک پرسنل اور شخصی مشغلہ کی حیثیت سے جینا چاہے تو جی سکتا ہے لیکن زندگی کے عمومی اور اجتماعی شعبوں میں اس کے دخل اندازیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کامطلب یہ تھا کہ انسان اپنی ذاتی مفاد کے حاصل کرنے میں خدائی اور اخلاقی پابندیوں سے بالکل آزاد ہے اور مذہبی حدود اس کے خواہشات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کا باعث نہیں بن سکتے۔ اس کانتیجہ یہ ہوا کہ سرمایہ داری کی آڑ میں طاقتوروں نے کمزوروں کا وہ جنازہ نکالا کہ سرمایہ داری کے حمایت کرنے والے بھی چیخ اٹھے ۔ان ہی ظلم و عدوان اور کمزوروں کے استیصال کو دیکھ کر آدم اسمتھ (AADAM SMATH) نے کہا: ”اپنے اپنے طور پر اپنے ذاتی مفاد کے حاصل کرنے میں گو ہر شخص آزاد ہونا چاہیے لیکن(اگر مذہب نہیں) تو قوانین عد ل و انصاف میں تو ردوبدل نہ کرنا چاہیے۔“

لیکن دولت کے حوالے سے لوگوں کی جنوں کی حدتک دیوانگی نے اور سرمایہ داری کے عفریت نے سود کی شکل میں عدل و انصاف کی وہ پامالی کی کہ دنیا کانپ اٹھی۔آدم اسمتھ کا وعظِ عدل و انصاف حرص وطمع اور ھل من مزید کے سیل رواں میں بہہ گیا۔ جیسا کہ ایک مشہور معاشی مورخ ٹاؤ نی نے لکھا ہی:                      

”اٹھارہویں صدی کے پر زور مقابلہ میں اس کی (یعنی آدم اسمتھ) کی تعلیم کا بنیادی اصول بھی فراموش کردیا گیا۔“

 انسان کو فرشتہ بنانا اور اس کو دنیا وی زندگی سے الگ کردینے کانتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ انسان مذہب سے بیزار ہوگئے اور پھر اس کے رد عمل کے طور پر جو معاشی فلسفہ پیش کیا وہ بھی کمزوروں اور مفلوک الحال لوگوں کے لئے ظلم وستم کا ایک پہاڑ بن کے کھڑا ہو گیا۔اس کے بر خلاف اسلام کا نقطئہ نظر بھی ملاحظہ فرمائیے جو اعتدال کی دعوت دیتا ہے۔

 اسلام نے مذہب اور دنیا کو الگ نہیں کیا اس سے بڑھ کر اسلام کا تو یہ دعویٰ ہے کہ اللہ نے کسی بھی مذہب میں اس کو فرض نہیں کیا جیسا کہ قرآن کی سورہ حدید کی آیت ۲۷ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :”رہبانیت جسے انہوں نے خود تراش لیا ہے نہیں فرض کیا ہے ہم نے اس کو ان پر۔“ اس کامطلب صاف ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے علم و عمل کا جو نظام بنی آدم کو مذہب اور دین،دھرم وغیرہ کے ناموں سے ملتا رہا ہے اس میں اس غیر فطری نظریہٴ حیات کا کبھی مطالبہ نہیں کیا گیا۔یقینا اس آیت سے صرف اسلام ہی کی براء ت رہبانیت سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ مذہب کی پوری تاریخ سے اس کی بے تعلقی کا اظہار کیا گیاہے۔قرآن کی اس آیت کی بنیاد پر ہر مسلمان اس بات کے ماننے اور یقین کر نے پر مجبور ہے کہ عیسائی مذہب ہو یا یہودی دین، ابراہیمی ملت ہو یا نوحی دعوت کسی کا رہبانیت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔

سورہ نساء آیت نمبر ۵ میں اللہ تعالیٰ حصول معاش کا یہ واضح دستور ارشاد فرماتا ہے:” مر دوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں۔“ یہ آیت حصول دنیا کے سا تھ ساتھ اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ عورت بھی جو کمائے وہ اس کا حصہ ہے۔لیکن ہاں یہ تمام کسب معاش ان شرعی حدود کے اندر ہوں جوقرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں مذکور ہیں۔ عزت و آبرو گنوا کر،عصمت و عفت کا دامن تا ر تار کرکے اور شمع محفل بن کر کسب معاش کی اجازت قرآن کیسے دے سکتا ہے۔       

لیکن دین ودنیا کی سیکولر تقسیم کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان اسلام کو نکاح و طلاق،وضو اور غسل، عبادات اور اخلاق تک محدود سمجھنے لگے ہیں ورنہ حقیقت جیسا کہ اوپر امذکور ہوا یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظریہٴ حیات ہے جو عبادات و تسبیحات،معاشرت و سیاست، تعلیم و ثقافت،اخلاق و اقدار،اجتماعیت و انفرادیت غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی دیتا ہے۔ اسلامی نظریہ کی اولین خصوصیت یہ ہے کہ دین و دنیا کی تقسیم کو ختم کر کے ان میں وحدت پیدا کر تا ہے۔ یہاں نہ ترک دنیا اور رہبانیت کی اجازت ہے نہ دنیا پرستی اور پرستش زر کی۔ اسلام دین و دنیا کی تقسیم کو غیرالٰہی نظریہ قرار دیتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسلام کا نقطئہ نظر اس معاملے میں دنیا کے تمام مذہبی اور فلسفیانہ نظاموں سے مختلف ہے۔یہاں معاشرت،تمدن، سیاست ،معیشت غرض دنیوی زندگی کے سارے شعبے کے ساتھ ساتھ روحانیت کا نور حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہاں روحانی ترقی کے لئے جنگلوں،پہاڑوں اور عزلت کے گوشوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہاں روحانی قدوروں کو معاشرے میں رہ کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہاں تو رشتہٴ ازدوج سے منسلک ہو کر بھی روحانی بلندیا ں حاصل کی جا سکتی ہیں۔   

ظلم کا انجام

ظلم کا انجام

سب سے زیادہ ڈرنے والی چیز جو ہے وہ ظلم ہے ،دنیا کے سارے مذاہب ،سارے کلچر،سای رفارمرس ،سارے صوفی سنت اس بات پر متفق ہیں کہ انسان سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے ؛او رہر مذہب کا انسان ،ہر شہر کا انسان ،ہر ملک کا انسان ،ہر برادری کا انسان ،ہر نسل کا انسان ،ہر طبقہ کا انسان ،ہر سوسائٹی کا انسان ،ہر قابلیت کا انسان ،ہر صلاحیت کا انسان ،مفید ہو یا غیر مفید ،وہ خداکی صنعت اور خدا کی رحمت کا مظہر ہے ،ہم اس کو  (Masterpiece)نہیں کہہ سکتے ورنہ اس سے بڑھ کر (Masterpiece)اور کیا ہو سکتاہے ؟تاریخ میں ایسی شہادتیں موجو د ہیں کہ  بعض اوقات کسی ایک مظلوم مرد کی آہ ،اور کسی ایک مصیبت زدہ خاتون کی کراہ سے پورے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے،جو بات سب سے زیادہ ملکوں کی خیرا خواہی ،سچی ہمدردی ،حقیقت پسندی ،انسانیت کے فرض کی ادائیگی بلکہ اس کے احساس کی ہے (خواہ اس ملک میں کتنی ترقیاں ہوں اور ا س ملک کی ادائیگی بلکہ اس ملک کی تاریخ خواہ کیسی ہی رہی  ہو اور اس میں کتنے وسائل وذخائر ہوں )یہ ہے کہ ظلم نہ ہونے پائے ،کسی کمزور آدمی کو روندانہ جائے ،کسی گھر کا چراغ بجھایا نہ جائے ،کسی بے زبا ن عورت پر ہاتھ اٹھایا نہ جائے ،اور کسی مظلوم کی بد دعا نہ لی جائےبلکہ اس ملک کا ہر شہتیر مظبوط اور خوبصورت ہو اور ہر فرد اس ملک کو اپنا ملک کہنےپر فخر کرتاہو !!‘‘

اقبال کا ہیغام

مغرب تہذیب اورمسلم ممالک
اقبال ؒ کا  پختہ عقیدہ ہےکہ مغربی تہذیب ممالک اسلامیہ کو ہر گز نجا ت نہیں دلاسکتی نہ ان کے مسائل کو حل کرسکتی ہے ،وہ کہتےہیں کہ ”جوتہذیب اپنی موت آپ مررہی ہے ،وہ دوسروں کو زندگی کب دے سکتی ہے“۔
                             نظر آتے نہیں  بے  پردہ حقائق  ان کو             آنکھ جن کی ہوئی محکومی وتقلید سے کور
زندہ کرسکتی ہے ایران وعرب کوکیوں کر             یہ فرنگی منیت کہ جوہے  خو د لب گور
مغرب نے ہمیشہ مشرقی ممالک کے احسان کا بدلہ احسان فراموشی اور کفران نعمت سے ،اور بھلائی مغرب نے ہمیشہ مشرقی ممالک کے احسان کا بدلہ احسان فراموشی اور کفران نعمت سے ،اور بھلائی کی جزا برائی سے دی ہے ،شام نے مغرب کو حضرت عیسیٰ کی شخصیت دی ،جن کاپیام عفت وعصمت اور غم خواری ورحمت ،برائی کے بدلے بھلائی ،ظلم کے مقابلے پر عفو تھا ،لیکن مغرب نے شام پراپنے قبضہ کے دوران خمروقمار ،بے پردگی اور آوارگی کے سواکوئی تحفہ نہیں دیا :
فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نےکیا           نبی رحمت وغم خواری وکم آزادی
                                    صلہ فرنگ سے آیاہے سوریا کے لئے         مے وقمار  وہجوم  زنانِ   بازاری !

پہلی عالمی جنگ

پہلی عالمی جنگ
از:ابوصالح شیخ..........
پہلی عالمی جنگ بیسویں صدی کا پہلا بڑا عالمی تنازعہ تھا۔ اس تنازعے کی ابتدا ھبزبرگ آرکڈیوک ٖفرانز فرڈنینڈ کے قتل سے ہوئی جو اگست 1914 میں شروع ہوا اور اگلی چار دہائیوں تک مختلف محاذوں پر جاری رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادی قوتوں۔۔برطانیہ، فرانس، سربیا اور روسی بادشاہت (بعد میں اٹلی، یونان، پرتگال، رومانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہو گئے)۔۔جرمنی اور آسٹریہ۔ہنگری پر مشتمل مرکزی قوتوں کے خلاف لڑیں جن کے ساتھ بعد میں سلطنت عثمانیہ کا مرکز ترکی اور بلغاریہ بھی شامل ہو گئے۔ جنگ کا ابتدائی جوش و جزبہ اس وقت ماند پڑ گیا جب لڑائی ایک انتہائی مہنگی اور خندقوں کی جنگ جیسی شکل اختیار کر گئی۔ مغربی محاذ پر خندقوں اور قلعہ بندیوں کا سلسلہ 475 میل تک پھیل گیا۔ مشرقی محاذ پر وسیع تر علاقے کی وجہ سے بڑے پیمانے کی خندقوں کی لڑائی ممکن نہ رہی لیکن تنازعے کی سطح مغربی محاذ کے برابر ہی تھی۔ شمالی اٹلی، بالکن علاقے اور سلطنت عثمانیہ کے ترکی میں بھی شدید لڑائی ہوئی۔ لڑائی سمندر کے علاوہ پہلی مرتبہ ہوا میں بھی لڑی گئی۔
پہلی عالمی جنگ جدید تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن لڑائی تھی۔ اس جنگ میں تقریباً ایک کروڑ فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ تعداد اس سے پہلے کے ایک سو برس میں ہونے والی لڑائیوں کی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس جنگ میں دو کروڑ دس لاکھ کے لگھ بھگ افراد زخمی بھی ہوئے۔ ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ مشین گن جیسے نئے ہتھیاروں کو متعارف کرانا اور گیس کے ذریعے کی گئی ہلاکتیں تھی۔ جنگ کے دوران یکم جولائی 1916 کو ایک دن کے اندر سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں جب سومے میں موجود برطانوی فوج کے 57 ھزار فوجی مارے گئے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان جرمنی اور روس کو اُٹھانا پڑا جب جرمنی کے 17 لاکھ 73 ھزار 7 سو اور روس کے 17 لاکھ فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ فرانس کو اپنی متحرک فوج کے 16 فیصد سے محروم ہونا پڑا۔ محققین کے اندازے کے مطابق اس جنگ میں براہ راست یا بالواسطہ طور ہلاک ہونے والے غیر فوجی افراد کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ ہے۔ اتنی بڑی ہلاکتوں کی وجہ سے "اسپینش فلو" پھیل گیا جو تاریخ کی سب سے موذی انفلوئنزا کی وباء ہے۔ لاکھوں کروڑوں افراد بے گھر ہو گئے یا اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے۔ جائیداد اور صنعتوں کا نقصان بہت خطیر تھا، خاص طور پر فرانس اور بیلجیم میں، جہاں لڑائی خاص طور پر شدید تھی۔
نومبر 11, 1918 کو صبح کے 11 بجے مغربی محاذ پر جنگ بند ہو گئی۔ اُس زمانے کے لوگ اس جنگ کو "جنگ عظیم" کے نام سے منصوب کرتے تھے۔ یہ بند ہو گئی لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی حلقوں میں آنے والی کئی دہائیوں تک جاری رہے۔


صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم صراطِ مستقیم

Powered by Blogger.

Label

Recent

Text Widget

Test

Contact Us

Name

Email *

Message *

Followers

Newsletter

We’ll keep you informed and updated

Recent Comments

Popular Posts

Welcome To SoraBook

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم