کیا یہی اسلام ہے؟ایک بہن کے واپسی

کیا یہی اسلام ہے؟

کچھ دن پہلے کی بات ہے اور واقعہ یو پی  کے ضلع بجنور کی 1 بستی کا ہے

> صبح چلے گی تو شام تک پہنچے گی  
> کوشیں آخر کیسے انجام تک پہنچے گی  
> لبوں کی آزادی تو ہمارا بھی حق ہے  
> آواز اٹھے گی تبھی تو عوام تک پہنچے گی

ایک _بھگوا لو ٹریپ_ کے معاملے میں بجنور کے ہی ایک گاؤں جانا ہوا۔ ہمیں خبر ملی تھی کہ ایک لڑکی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ چلی گئی ہے۔ لیکن اس کے جانے کے 24 گھنٹے بعد ہی اسے ایک جگہ سے ڈھونڈ کر واپس لے آئے ہیں۔ 

مگر لڑکی ضد پر اڑی ہوئی تھی کہ اسے اسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ 
بہر حال ہم لڑکی کو سمجھانے اور معاملے کی گہرائی جاننے کی نیت سے، لڑکی کے والد سے اجازت لے کر ان کے گھر حاضر ہوئے۔

لڑکی کے والد دیکھنے میں بہت دیندار لگتے تھے۔ داڑھی، کرتا، جیب میں مسواک اور ہاتھ میں تسبیح تھی۔
باپ کے ساتھ میں بیٹھ کر باتیں کی
بات کو مختصر کر کے گھر والوں سے کہا: "لڑکی سے 5 منٹ تنہائی میں بات کرنی ہے"۔ 
اجازت ملی تو لڑکی سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ اس نے بھی ہم سے سوال جواب کیے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ بات کیسے شروع ہوئی تھی۔
پھر میں نے اس سے یہ شرط رکھی کہ میں اپ سے ایک مرتبہ بھی یہ نہیں کہوں گا اپ اس لڑکے کے ساتھ نہ جائیں اپ کی مرضی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بنا اس کو بولنے کا موقع دیے میں نے چند باتیں کی کہ اپ خود سمجھدار ہیں اور اگر اپ جانا چاہ رہی ہیں تو یقینا اپ کی کوئی مجبوری ہوگی جس کے ماں باپ عزت دار ہوں ان کی بیٹی بے حیا کیسے ہو سکتی ہے بے شرم کیسے ہو سکتی ہے اتنی نادان کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کے ساتھ چلی جائے اپ خود پڑھی لکھی ہیں اپ کو تو ایمان کی قیمت معلوم ہے اپ کو تو حضرت بلال کا واقعہ معلوم ہے اور بھی بہت ساری شخصیت کے بارے میں صحابہ کرام کے بارے میں اس کو بتایا اس کے جذبات کو ابھارا پھر وہ اپنے جذبات کو قابو نہ رکھ سکی اور اس نے تڑپ کر یہ سوال کیا

*"کیا یہی اسلام ہے؟"*

جی ہاں۔ اس لڑکی نے روتے ہوئے کہا: "بھائی جان سچ بتانا، کیا یہی اسلام ہے جس پر میرے گھر والے عمل کرتے ہیں؟"

میں نے پوچھا: "کیا ہوا؟"

اس نے بتایا:  
"میری والدہ نے 40 دن، 6 بار اللہ کے راستے میں لگائے ہیں۔ دو مرتبہ چار مہینے بھی لگائے ہیں میرے والد 16 سال سے تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کتنی مرتبہ وقت لگا چکے۔ دونوں تہجد کے پابند ہیں۔ لوگوں سے رویہ بہت اچھا ہے۔ لیکن گھر میں یہ ظالم ہیں۔

ہم صرف 2 بہنیں ہیں۔ بھائی 1 تھا اس کا انتقال ہو گیا۔  
ہماری عمر 26 اور 29 سال ہے۔ نکاح کا کوئی نام نہیں۔
ہمارے کچھ رشتہ داروں نے نکاح کے لیے  زیادہ کہا تو انہوں نے ان سے بولنا ہی چھوڑ دیا
گھر میں پیسے بھی نہیں، کام بھی نہیں کرتے۔ 2 عالموں کے رشتے خود آئے تھے، والد کے ساتھی نے بتایا تھا۔ لیکن صرف برادری الگ ہونے کی وجہ سے انکار کر دیا۔ کچھ جگہ یہ کہہ کر منع کر دیا کہ لڑکے کے پاس چھوٹا گھر ہے۔

اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ہمیں تنہا گھر میں چھوڑ کر دونوں اللہ کے راستے میں چلے جاتے ہیں۔ ہم نے کئی بار منع کیا کہ سامان کون لائے گا؟ لیکن والد کہتے ہیں: اللہ خود حفاظت کے لیے موجود ہے، فکر کی ضرورت نہیں۔

ایک بار دونوں تبلیغ میں چلے گئے۔ ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے۔ بینک میں پرابلم ہو گئی، پیسے نکل نہیں پائے۔ چونکہ ہم ان لائن پیمنٹ والد صاحب کے اکاؤنٹ سے کرتے تھے بینک والوں نے منع کر دیا کہ جس کا اکاؤنٹ ہے اس کا ہونا ضروری ہے اس لیے بینک سے بھی کچھ نہیں ہو پایا 
محلے سے مدد مانگی، کسی نے نہیں کی۔ یہ موبائل بھی گھر پر چھوڑ کر جاتے ہیں، بات نہیں کرتے کہ تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔

پھر میں نےاپنی دوست کو کال کی جو اس لڑکے کی بہن ہے۔ اس نے فوراً مدد کی۔ اپنے بھائی کے ساتھ گھر آئی اور کہا: کوئی پریشانی ہو تو بتانا۔ بس یہیں سے بات شروع ہوئی۔
وہ شام کے وقت میں گھر پہ ائے تھے اور اس روز زور کا طوفان ایا بارش ائی تو ہم نے ان کو گھر پر روک لیا رات کو ہماری کافی باتیں ہوئی ایک دوسرے کا نمبر بھی ہم نے لے لیا 
لڑکے کو موقع مل گیا مجھے اسلام کے خلاف کھڑا کرنے کا۔ ہم سے دن رات باتیں ہوئیں۔ ہم دونوں بہنیں اسلام چھوڑ چکی ہیں۔ میری بہن لڑکے کے ایک دوست سے بات کرتی ہے۔ ہمارا ارادہ ہندو رسم و رواج سے مندر میں شادی کرنے کا تھا۔

لیکن بھائی، آپ نے امید دلائی، جہنم سے ڈرایا۔ میرے ضمیر کو جگا دیا جو مر چکا تھا 
میں توبہ کرتی ہوں۔ اب کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاؤں گی جو اسلام اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہو۔"

یہ کہہ کر وہ بہن مجھ سے گلے لگ کر چیخ چیخ کر رونے لگی۔

*الحمدللہ* دونوں بہنوں نے توبہ کی، تجدید ایمان کیا اور 02/07/2026 کو والدین کے حق میں گواہی بھی دی۔

لیکن سوال ابھی بھی مجھے جھنجھوڑ رہا ہے: *کیا یہی اسلام ہے؟*

اسی لیے کہتا ہوں: علماء کی نگرانی میں تبلیغ کریں۔ 
ایسے گھر کے بارے میں کسی مفتی کا فتویٰ یہ نہیں ہوگا کہ "آپ تبلیغ میں جائیں"۔ 
بلکہ بیٹی کے ایمان و عزت کی حفاظت کرنا، حلال کمائی کر کے انہیں کھلانا، یہی بہت بڑا عمل ہے۔

اگر تبلیغ فرض ہے تو ایمان کی حفاظت کیا ہے؟ مال کی حفاظت کیا ہے؟ جان کی حفاظت کیا ہے؟  
بدبخت ہے وہ انسان جو تبلیغ نہیں کرتا، لیکن پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تبلیغ کیا ہے۔اج ہمارا معاملہ الگ ہو گیا مدرس کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ تبلیغ نہیں کرتا امام کو ہم سمجھتے ہیں وہ تبلیغ نہیں کرتا

وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہئیں

*وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔*

بہت ہو چکا مساجد کے در و دیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلا کے سنگِ مرمر پر، قمقموں، فانوس و جھومر پر، ایئر کنڈیشن اور ایئر کولرز پر، اور نفیس قالینوں پر خرچ۔

مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔
مگر کیسے۔۔۔؟
چند تجاویز پیش خدمت ہے۔

1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سینٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو۔

2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔

3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو۔

4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔

5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کے لیے عطیہ کرنے کی غرض سے مسجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔

6۔ آپس میں رشتے ناتے کرنے کے لیے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔

7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیے جانے کو ترجیح دی جائے۔

8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو۔

9۔ بڑی جامع مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو۔

10۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو جہاں اسلامی و عصری کتب مطالعے کے لیے دستیاب ہوں۔

قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں۔ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس کارِ خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں۔

ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے۔ ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں بھی موجود تھی۔

جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا، ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گئے اور بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

خدارا
اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدلیں۔

اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں بہترین انداز میں زندگی گزار سکیں۔
آمین

مار کے ساتھ حفظ کروانا

مار کے ساتھ حفظ کروانا کوئی تجربہ نہیں، بلکہ یہ اس وقت کا نتیجہ ہوتا ہے جب استاد خود محنت، طریقہ، رہنمائی اور نگرانی کے بغیر بچوں سے مکمل نتیجہ لینا چاہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب استاد توجہ دے تو بچے بغیر مار کے بھی پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔
مار کے بعد بچہ فریش نہیں ہوتا، وہ یا تو تکلیف میں ہوتا ہے یا غصے میں—اور ان دونوں حالتوں میں نہ کچھ یاد ہوتا ہے، نہ سمجھ آتی ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا تکلیف اور غصے میں انسان سیکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
جہاں ادب، احترام اور محبت ہو، وہیں یادداشت بنتی ہے۔
مار سے بچوں کے دل میں استاد کے لیے محبت نہیں، نفرت پیدا ہوتی ہے—اور نفرت اصلاح نہیں، بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔
سوچئے!
کسی بچے کو سب کے سامنے ذلیل کرنا، کان پکڑوانا، تھپڑ مارنا—
کیا اس سے اس کی عزت باقی رہتی ہے؟
نہیں، بلکہ وہ اندر سے سخت، ڈھیٹ اور بے حس ہو جاتا ہے۔
یہ فیصلہ کریں:
بچے کو خوف سے پڑھانا ہے یا شوق سے؟
خوف تو وہ روز کھا رہا ہے، اس کا فائدہ کہاں؟
ہم نے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جن پر مار کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
تو پھر سوال یہ ہے:
اثر جسم پر وار کا دیرپا ہوتا ہے یا دل و دماغ پر بات کا؟
ذرا خود سے پوچھیں:
اگر آپ کو مار پڑے تو آپ خوش ہوں گے یا تکلیف میں؟
اپنے طالبِ علمی کے دور میں جائیں—
مار وہاں پڑتی تھی جہاں نگرانی نہیں ہوتی تھی، اصلاح نہیں۔
ایک اور اہم بات:
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ بچے کن قربانیوں کے بعد مدرسے پہنچے ہیں؟
انہوں نے گھر، بہن بھائی، محلہ، گاؤں—سب کچھ قرآن کے لیے چھوڑا ہے۔
والدین نے کمائی کو چھوڑ کر قرآن کو ترجیح دی—
اور ہم ان کو مار کے ذریعے “انعام” دے رہے ہیں؟
آپ کہتے ہیں مار سے بچے پڑھتے ہیں—
لیکن سچ بتائیں:
اگر 10 بچے بھاگ گئے اور 5 رہ گئے،
تو جو 10 چلے گئے ان کا حساب کون دے گا؟
تجربہ یہ نہیں کہ آسان حل یعنی مار اپنا لیا جائے،
تجربہ یہ ہے کہ مسئلے کا درست، مؤثر اور رحمدل حل تلاش کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے اردگرد سے بکھر جاتے”
جب اللہ اپنے محبوب نبی ﷺ کو نرمی کی تعلیم دے رہا ہے،
تو ہم کس بنیاد پر سختی کو کامیابی سمجھیں؟
نبی کریم ﷺ نے محبت، شفقت اور حکمت سے تربیت فرمائی—
ہمیں بھی غور کرنا ہوگا۔
لہٰذا گزارش ہے:
مار کو ختم کریں، سختی چھوڑیں، توجہ، محبت اور حکمت اپنائیں—
اسی میں بچوں کی اصلاح ہے، اسی میں قرآن کی برکت ہے۔
اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

ماتحتوں سے کام لینے کا فن

🌷 ماتحتوں سے کام لینے کا فن🌷
ایک مرتبہ میرے محسن حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ کام کرنے کے دو طریقے ہیں ۔
👈 حاکمانہ طریقہ یعنی حکم والا انداز اور مزاج ۔
👈 حکیمانہ طریقہ یعنی حکمت والا انداز اور مزاج ۔ 
اگر حاکمانہ طریقے سے کام کرو گے تو اگر چہ کام جلدی ہوجائے لیکن آپ کا بنایا ہوا مدرس ٹوٹ جائے گا ۔
اور اگر حکیمانہ طریقے سے کام کرو گے تو اگر چہ کام میں دیر ہو جائے لیکن آپ کا بنایا ہوا مدرس جم جائے گا ۔
لہذا اپنے ماتحتوں کا خیال فرمائیں ۔ 

مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داریاں اور طریقۂ تعلیم میں ضروری تبدیلیاں

*مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داریاں اور طریقۂ تعلیم میں ضروری تبدیلیاں*
خطاب : حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم العالیہ 
پہلی بات:
دعاؤں کو صرف یاد کروانے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ بچوں کے دلوں میں یقین بھی بٹھایا جائے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی صحیح قدر و قیمت اور ان کی حقیقت کو واضح کیا جائے تاکہ بچے شعوری طور پر دین کو اپنائیں۔

دوسری بات:
تعلیم دیتے وقت ماحول کو ضرور پیشِ نظر رکھا جائے۔
جیسے مکی دور میں کفر کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنی سورتوں میں اس ماحول سے پیدا ہونے والے مفاسد کا رد کیا گیا، اسی طرح آج ہمیں بھی اپنے بچوں کو مثبت انداز میں اپنے ماحول سے آگاہ کرنا چاہیے۔
مثلاً "جی شری رام" جیسے نعروں کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور شان کو سمجھایا جائے اور عابد و معبود کے فرق کو واضح کیا جائے تاکہ توحید کا عقیدہ دلوں میں راسخ ہو جائے۔

ہمارا موجودہ ماحول ایسا ہے جس میں آنے والی نسلوں کے عقائد کو متاثر کرنے اور مشرکانہ افکار کو پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے، لہٰذا اسی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کو صحیح تعلیم دی جائے۔
اس مقصد کے لیے سلگتے مسائل کو سمجھانے کے لیے کیمپ یا اجتماعات کی شکل اختیار کی جائے، عقل و فطرت کی روشنی میں مفاسد کی خرابیاں بیان کی جائیں، اور مخاطب کی سطح کو مدنظر رکھا جائے۔

تیسری بات:
مکاتب میں جو چھوٹی سورتیں پڑھائی جاتی ہیں، ان کی صرف تلاوت نہ کروائی جائے بلکہ ان کا مفہوم بھی بچوں کو سمجھایا جائے۔
مثلاً سورۂ فاتحہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو واضح کیا جائے تاکہ بچے شعور کے ساتھ قرآن سے جڑیں۔

چوتھی بات (اہم):
بچوں کے اندر دین کی عظمت پیدا کی جائے۔
محض نقل سے بچہ عمل تو کر لیتا ہے، لیکن جب وہ عمل کی حقیقت کو جان لیتا ہے تو اس کے اندر اس عمل کی عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔
چونکہ یہ دور عقلیت کا ہے، اس لیے جدید تعلیم یافتہ بچوں کو اس انداز سے تعلیم دی جائے کہ وہ صرف ایمان کے درجے پر نہ رہیں بلکہ اطمینان کے درجے تک پہنچ جائیں۔
کیونکہ ایک کیفیت ایمان کی ہوتی ہے اور ایک اطمینان کی، اور اطمینان کا درجہ ایمان سے بلند ہوتا ہے۔

پانچویں بات:
اساتذہ بچوں پر سختی کرنے سے احتراز کریں۔
کسی حدیث میں یہ مذکور نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے تعلیم کی خاطر صحابہ کو مارا ہو، اور فقہاء کرام نے بھی اس کی اجازت نہیں دی ہے۔
(ایک تعزیر ہے اور دوسری تادیب؛ پہلی سزا کے لیے ہے اور دوسری تربیت کے لیے)

اس انداز سے پڑھایا جائے کہ بچوں میں تعلیم کی محبت پیدا ہو، نہ کہ مدرسہ جانے کا خوف۔

تعلیم کو دلچسپ بنایا جائے، مثلاً جو بچہ سبق اچھی طرح سنائے اسے انعام دیا جائے۔

بچوں کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے، جس کے ذریعے اساتذہ کو بھی انعامات دیے جائیں، جیسے امتیازی استاد کا اعزاز۔

استاد کو چاہیے کہ طالب علم کے ساتھ باپ جیسی محبت اور شفقت کا معاملہ کرے، جیسا کہ ہمارے اکابرین اور ائمہ کا اپنے شاگردوں کے ساتھ طرزِ عمل رہا ہے۔


چھٹی بات:
اساتذہ کو چاہیے کہ اپنی تنخواہ کا موازنہ کمرشل اداروں کے ملازمین سے نہ کریں، مثلاً یہ کہنا کہ فلاں چپراسی کی تنخواہ بھی مجھ سے زیادہ ہے، یہ اپنے مقام کو گھٹانا اور قلبی سکون کو ختم کرنا ہے۔
اگر یہ بے چینی زبان پر آ جائے تو امت میں استاد کی عظمت کم ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ انبیاء کا کام انبیاء کے مزاج کے موافق  کیا جائے تو اس کے فوائد و ثمرات کچھ اور ہی ہوتے ہیں.

(تنخواہ کے تعلق سے کچھ حل )

مدارس میں ایسا فنڈ قائم کیا جائے جو ہنگامی حالات میں اساتذہ کے لیے مددگار ثابت ہو۔

قناعت اختیار کی جائے، یعنی جو کچھ ملے اس پر اکتفا کیا جائے۔

دین کے معاملے میں اپنے سے بڑوں (اکابر و اساتذہ) کو دیکھا جائے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو۔


کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جن نعمتوں میں ہیں، وہ ہمارے اکابرین کو بھی حاصل نہیں تھیں۔

مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات


# 📜 خلاصۂ بیان: حضرت مولانا مفتی ابوبکر جابر صاحب قاسمی (دامت برکاتہم)
## 🌟 مدارس و مکاتب کے اساتذہ کے لیے انتہائی قیمتی، ضروری اور زریں ہدایات
### ۱. معلّم کا کردار اور نمونۂ عمل
 * **مثال بنو، مسئلہ نہ بنو:** بعض اساتذہ اپنی کارگزاری کی وجہ سے خود ایک 'مسئلہ' بن جاتے ہیں، جنہیں سنبھالنا پڑتا ہے اور جن کی وجہ سے ادارے پر حرف آتا ہے۔ ایسے نہ بنیں! بلکہ ایسے بنیں کہ لوگ اور طلبہ آپ کی زندگی کو بطور 'مثال' پیش کریں اور بچے مستقبل میں آپ جیسا بننے کی تمنا کریں۔
 * **ملازم نہیں، انقلابی بنو:** جو استاد محض ایک 'ملازم' بن کر زندگی گزارتا ہے، وہ کبھی معاشرے میں انقلاب نہیں لا سکتا۔ اپنے معاملات اللہ سے سیدھے کیجیے اور اخلاص کے ساتھ کام کیجیے۔
### ۲. طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت
 * **بچے معصوم ہیں، تشدد سے بچیں:** جو طلبہ آپ کے پاس زیرِ تعلیم ہیں، وہ بالکل بے گناہ اور معصوم ہیں۔ ایک استاد خود گناہوں میں ملوث ہو کر ان بے گناہ بچوں پر ہاتھ اٹھائے، یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔
 * **ماں جیسی تڑپ اور سزا کا انداز:** بچوں کو سزا دیتے وقت استاد کی کیفیت ایک شفیق ماں جیسی ہونی چاہیے۔ ماں بچے کو (اصلاح کے لیے) سزا تو دیتی ہے، لیکن تنہائی میں خود روتی ہے۔ استاد کے دل میں بھی بچوں کے لیے یہی درد ہونا چاہیے۔
 * **حلیہ سے متوحش نہ کریں:** مکتب کے چھوٹے بچوں کے دلوں میں داڑھی اور ٹوپی والے اسلامی حلیے سے وحشت، خوف یا دوری پیدا نہ ہونے دیں، بلکہ اپنے اخلاق سے انہیں قریب کریں۔
 * **کمزور بچوں کے لیے دعائیں:** جو بچے پڑھنے میں کمزور ہیں، تنہائی میں ان کا نام لے لے کر اللہ سے دعا کریں۔ یاد رکھیں، اس عمل میں بڑی طاقت ہے۔
### ۳. دعوت و تدریس کا مؤثر اسلوب
 * **سخت بات، میٹھا لہجہ:** سخت سے سخت بات بھی میٹھے اور نرم لہجے میں کہی جا سکتی ہے۔
> **ایک سبق آموز مثال:** ایک شخص شہد بیچتا تھا لیکن بدزبان تھا، اس کا شہد بھی نہ بکا۔ دوسرا شخص سرکہ بیچتا تھا مگر اس کی زبان شیریں تھی، اس کا سرکہ بھی بک گیا۔ لہذا طلبہ کے ساتھ ہمیشہ نرمی اختیار کریں۔
 * **رٹانے سے زیادہ سمجھانے پر زور:** آج کے دور میں تحفیظ (رٹانے) سے زیادہ تفہیم (سمجھانے) اور میمورائز (یادداشت) سے زیادہ موٹیویٹ (حوصلہ افزائی) کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو کلمہ، ایمانِ مفصل اور چہل حدیث صرف رٹائیں نہیں، بلکہ ان کا مفہوم بھی ذہن نشین کرائیں۔
 * **فرصت سے بچیں:** "فرصت میں فساد ہے"۔ اس لیے نہ خود فارغ بیٹھیں اور نہ ہی اپنے طلبہ کو بے کار رہنے دیں۔
### ۴. محنت کا معاوضہ اور فکرِ آخرت
 * **اپنی محنت کو تنخواہ میں نہ تولیں:** جو استاد اپنی دینی محنت کو چند روپوں کی تنخواہ کے ترازو میں تولتا ہے، وہ اپنی محنت کو خود ذلیل کر دیتا ہے۔ یہ دنیا ایک مرتبہ کہے گئے *'سبحان اللہ'* کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں رکھتی (کیونکہ اس کا اجر دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے)، تو پھر اتنی بڑی دینی خدمت کا بدلہ اس فانی دنیا سے کیوں چاہنا؟ اپنی محنت کا سودا آخرت کے لیے اللہ سے کیجیے۔
 * **دنیا میں بدلہ لینے کا خوف:** سورہ احقاف کی آیت * (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا)* کے تحت ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں نہ دے دیا جائے۔ ہمارے اکابر (جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور مفتی سعید احمد پالنپوریؒ) نے تو بیت المال اور دارالعلوم کی تنخواہیں تک واپس لوٹا دیں کہ کہیں آخرت کا اجر کم نہ ہو جائے۔ اللہ کا قانون ہے کہ جو اس کی رضا کے لیے دنیا چھوڑتا ہے، اللہ اسے بہترین عطا فرماتا ہے۔
 * **مسجد یا مدرسے سے نکلنے کی حقیقی وجہ:** یہ تصور ہمیشہ ذہن میں رہے کہ اگر مجھے کسی مسجد یا ادارے سے نکالا گیا ہے، تو وہ کسی صدر یا کمیٹی نے نہیں نکالا، بلکہ وہ میری تنہائی کے گناہوں اور بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔
### ۵. شکوے شکایت کے بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس
 * **تنخواہ کا غم یا صفات کی کمی؟** آج اساتذہ کو تنخواہ کی کمی کا غم تو ہے، لیکن اپنی صفات کی کمی کا کوئی احساس نہیں۔ ہمیں ضرورتوں کے غم سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا غم ہونا چاہیے۔ اگر ہم فضولیات سے بچ جائیں، تو اللہ تعالی ضروریات پوری کرنے کے اسباب غیب سے پیدا فرما دیں گے۔
 * **مال کی کمی کا بہانہ ناپسندیدہ ہے:** ہم اکثر مال کی کمی کا رونا روتے ہیں اور اس چکر میں زندگی کے اہم کام چھوڑ دیتے ہیں۔ غور کیجیے: کیا مال کی کمی مطالعہ کرنے، کسی شیخ و مصلح سے رابطہ رکھنے یا اپنی بیوی کو دین سکھانے میں مانع ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں! لہذا مال کی کمی کا بہانہ بنا کر اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں۔
 * **دینی ماحول بہت بڑی نعمت ہے:** یہ پڑھنے پڑھانے کا جو ماحول ملا ہے، اسے غنیمت سمجھیں۔ اس ماحول نے اختیاری نہ سہی، تو اضطراری (مجبوری) کے طور پر ہی ہمیں کتنے گناہوں سے بچا رکھا ہے! اگر مدارس نہ ہوں تو فقہ و فتاویٰ کا کام کون کرے گا؟ اگر جمعہ اور فجر کی امامت کا نظام نہ ہو، تو کتنے علماء و حفاظ کی فجر باجماعت ادا ہوگی؟ اس لیے اس بنے بنائے ماحول کی قدر کریں۔
 * **خدمتِ دین کی لائن کو کبھی نہ چھوڑیں:** تنخواہ کی کمی کی وجہ سے اس لائن کو ہرگز نہ چھوڑیں۔ دینی ماحول سے نکلنا بہت آسان ہے، لیکن دوبارہ اس سے جڑنا انتہائی مشکل ہے۔
### ۶. اکابر کا ادب اور معذوروں سے سبق
 * **بڑوں کے عیوب تلاش کرنے کا انجام:** آج کل ہم تنظیموں کے اختلافات اور بے کار کے جھگڑوں میں پڑ کر ان اکابر اور علماء کی برائیاں پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں جنہوں نے ۳۰ یا ۴۰ سال دین کی خدمت کی ہے۔ یاد رکھیں! جو شخص اپنے بڑوں کے عیوب کے پیچھے لگ گیا، اس کی بدبختی آگئی۔
 * **معذور بچوں کے اسکولوں سے عبرت:** نابیناؤں اور معذور بچوں کے اسکولوں کے اساتذہ ان کے کپڑے صاف کرتے ہیں، ان کی ہر بات سنتے ہیں اور ان کے ماحول میں ڈھل کر انہیں پڑھاتے ہیں۔ جب لوگ دنیاوی تعلیم کے لیے معذوروں اور دیہاتیوں پر اتنی محنت کر سکتے ہیں، تو ہم دین کی تعلیم کے لیے اچھے اور صحت مند بچوں پر محنت کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ کے پاس آنے والا ہر بچہ انتہائی قیمتی ہے۔
 * **مطالعہ کے لیے اہم کتاب:** محیی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحبؒ کی لکھی ہوئی کتاب **"چار امام"** کا مستقل مطالعہ رکھیں۔ اس سے دل میں ائمہ عظام کی وقعت بیٹھے گی اور آپ طلبہ کی صحیح رہنمائی کر سکیں گے۔
### ۷. موجودہ دور کے چیلنجز اور گھر کی فکر
 * **تعلیم و تربیت کا آغاز اپنے گھر سے کریں:** آپ کے مکتب کا سب سے پہلا شاگرد آپ کی اپنی بیوی اور بچے ہیں۔ مفتی سعید احمد پالنپوریؒ نے اپنے گھر ہی میں بیوی اور بچوں کو حافظ بنایا۔ وہ بچوں کی شادی کے بعد انہیں ایک سال اپنے ساتھ رکھتے، پھر سامنے کسی گھر میں منتقل کر کے فرماتے: "ہم مرے نہیں ہیں، سامنے رہو اور زندگی گزارنا سیکھو، کمی بیشی ہم پوری کریں گے"۔
 * **امت کے بچوں کے ایمان کا نازک ترین وقت:** مفتی سلمان بجنوری صاحب نے موجودہ حالات کے تناظر میں بڑی فکر انگیز بات کہی ہے کہ: *"زمانہ ایسا آچکا ہے کہ اسکول سے واپس آنے کے بعد بچوں کو دوبارہ کلمہ پڑھانا پڑے گا"*۔
> **شاہ ولی اللہؒ کا پیغام:** حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے وفات کے وقت اپنے چاروں بیٹوں کو بلا کر فرمایا تھا: "بچو! میں اس ملک کے مسلمانوں کا ایمان تمہارے پاس گروی رکھ کر جا رہا ہوں، قیامت کے دن اس کا سوال کروں گا"۔ آج پھر وہی حالات ہیں، اس لیے مکاتب کے اساتذہ کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔
 * **موبائل کی تباہ کاریاں اور اخلاقیات:** اس زمانے کے بچے جوانی سے پہلے ہی بوڑھے (صلاحیتوں سے محروم) ہو رہے ہیں، موبائل نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس لیے بچوں کے صرف سبق کی نہیں، بلکہ ان کے اخلاق کی بھی فکر کریں اور ان کی تنہائیوں کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں۔
🤲 **دعا:** اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان قیمتی نصائح پر خلوصِ دل کے ساتھ عمل کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینؐ۔

تعلیمی و تربیتی اداروں، بالخصوص مدارس میں سارا زور اساتذہ کی کارکردگی اور ان کی قربانیوں پر ہوتا ہے، جبکہ نظام چلانے والے 'ذمہ داران' خود کو محاسبے سے بالاتر سمجھ لیتے ہیں۔

یہ ایک بہت کڑوی حقیقت ہے کہ تعلیمی و تربیتی اداروں، بالخصوص مدارس میں سارا زور اساتذہ کی کارکردگی اور ان کی قربانیوں پر ہوتا ہے، جبکہ نظام چلانے والے 'ذمہ داران' خود کو محاسبے سے بالاتر سمجھ لیتے ہیں۔
ایک مدرسے کی ترقی کا راز صرف محنتی اساتذہ میں نہیں، بلکہ صالح اور بااخلاق ذمہ دار میں چھپا ہوتا ہے۔ یہاں ذمہ داران کے لیے کچھ اصلاحی اور فکر انگیز جملے درج ہیں:
 1. کرسی، اقتدار نہیں بلکہ 'امانت' ہے
 عہدہ آزمائش ہے۔ذمہ دار یہ یاد رکھیں کہ مدرسے کی کرسی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ اساتذہ آپ کے ملازم نہیں بلکہ دین کے کام میں آپ کے شریکِ سفر ہیں۔
 خادم بنیں، حاکم نہیں، حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا تھا کہ "میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں"۔ اگر ذمہ دار میں عاجزی نہیں تو وہ ادارہ مٹی کا ڈھیر ہے۔
2. احتساب کا رخ اپنی طرف بھی کریں
 وعظ سے پہلے عمل اساتذہ کو پابندیِ وقت کی نصیحت کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ کیا ذمہ دار خود وقت کا پابند ہے؟ زبان کے اثر کا تعلق عمل کی پختگی سے ہے۔
 جوابدہی کا خوف اساتذہ سے کارکردگی کی رپورٹ لینے والے یہ نہ بھولیں کہ ایک دن انہیں ربِ کائنات کو "حقوق العباد" کی رپورٹ دینی ہے، جہاں ہر اس استاد کا سوال ہوگا جس کی حق تلفی کی گئی۔
3. اساتذہ کی معاشی فکر سب سے بڑی نصیحت
 خالی پیٹ تقویٰ مشکل ہے ۔ اساتذہ کو قناعت اور صبر کی نصیحت کرنا آسان ہے، لیکن ان کے گھر کے چولہے کی فکر کرنا ذمہ دار کا اولین فریضہ ہے۔
 سفید پوشی کا بھرم استاد اپنی ضرورت کسی سے کہہ نہیں سکتا۔ ایک بہترین ذمہ دار وہ ہے جو استاد کے مانگنے سے پہلے اس کی ضرورت محسوس کرے اور اسے باوقار تنخواہ دے۔
4. اخلاقی رویہ اور نفسیات
 عزتِ نفس کا جنازہ نہ نکالیں ۔ اساتذہ کے سامنے رعب جھاڑنا یا طلبہ کے سامنے ان کی سرزنش کرنا ان کی شخصیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
 جاسوسی کا نظام ختم کریں مدرسے کو 'انٹیلی جنس ایجنسی' نہ بنائیں جہاں اساتذہ ایک دوسرے کے خلاف کان بھریں۔ ایک اچھا ذمہ دار اپنے اساتذہ پر اعتماد کرتا ہے، شک نہیں۔
5. انصاف اور شفافیت
 پسند ناپسند سے بالا تر کسی ایک استاد کو نوازنا اور دوسرے کو نظر انداز کرنا ادارے میں حسد اور بے برکتی پیدا کرتا ہے۔
 چاپلوسی کی حوصلہ شکنی جو ذمہ دار چاپلوسوں کو قریب رکھتا ہے، وہ مخلص اساتذہ کو خود سے دور کر دیتا ہے۔
ایک فکر انگیز بات:
جس ادارے کا ذمہ دار اساتذہ کے لیے سایہ بننے کے بجائے دھوپبن جائے، وہاں سے علم تو تقسیم ہو سکتا ہے، لیکن برکت اور نور رخصت ہو جاتا ہے۔

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم