حقیقت میں وقت کا ولی کون ....؟

حقیقت میں وقت کا ولی کون ....؟

سید ابولاعلی مودودیؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے ؟
سید مودودیؒ نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے  لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔

جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا  اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا، میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کر دئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو  لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار  آنے ہی بنتی ہے” ۔

آپ یقین کریں ہم سب ولی اللہ بننے اور اللہ کے ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مشکل ترین ریاضتوں ، مشقتوں اور مراقبوں سے گذرنا پڑےگا ۔ سار ی ساری رات نوافل میں گذارنی پڑےگی یا شاید گلے میں تسبیح ڈال کر میلے کچیلے کپڑے پہن کر اللہ ہو کی صدائیں لگانا پڑے گی تب ہم ولی اللہ کے درجے پر پہنچ جائیں گے ۔

آپ کمال ملاحظہ کریں ہماری آدھی سے زیادہ قوم بھی اسی کو ہی  ” پہنچا “  ہوا سمجھتی ہے جو ابنارمل حرکتیں کرتا نظر  آئیگا ۔
جو رومال میں سے کبوتر نکال دے یا عاشق کو آپ کے قدموں میں ڈال دے ۔ یا بیس سال سے نہایا نہ ہو ، جو فرائض کو ادا نہ کرتا ہو ، جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا نہ ہو

اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق ( اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا) کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔

اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں کیا فرق ہے ؟

انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگے

“بیٹا ! کسی ایک کے آگے اپنی انا کو مارنا عشق مجازی ہے اور ساری دنیا کے سامنے اپنی انا کو مار لینا عشق حقیقی ہے” ۔

جنید بغدادی اپنے وقت کے نامی گرامی شاہی پہلوان تھے ۔ انکو ایک دفعہ انتہائی کمزور ، نحیف اور لاغر شخص نے کشتی کا چیلنج کر دیا  ۔
میدان تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا ۔ بادشاہ اپنے پورے درباریوں کے ساتھ جنید بغدادی کا مقابلہ دیکھنے  آ چکا تھا ۔مقابلہ شروع ہونے سے پہلے وہ کمزور آدمی جنید بغدادی کے قریب آیا اور کہا دیکھو جنید ! کچھ دنوں بعد میری بیٹی کی شادی ہے میں انتہائی غریب اور مجبور انسان ہوں ۔
اگر تم ہار گئے تو بادشاہ مجھے انعام و اکرام سے نوازے گا ۔ لیکن اگر میں ہار گیا تو اپنی بیٹی کی شادی کا بندو بست کرنا میرے لیے مشکل ہو جائے گا ۔

مقابلہ ہوا اور جنید بغدادی ہار گئے ۔ بادشاہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا اس نے دوبارہ اور پھر تیسری بار مقابلہ کروایا اور تینوں دفعہ ہار جنید بغدادی کے حصے میں آئی ۔

بادشاہ نے سخت غصے میں حکم دیا جنید کو میدان سے باہر جانے والے دروازے پر بٹھا دیا جائے اور تمام تماشائیوں کو حکم دیا گیا کہ جو بھی جائے گا جنید پر تھوکتا ہوا جائے گا ۔

جنید بغدادی کی انا خاک میں مل گئی لیکن ان  کی " ولایت" کا فیصلہ قیامت تک کے لیے آسمانوں پر سنا دیا گیا ۔

" ولی" تو وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر دے ۔
جو کسی کو جینے کی امنگ دے دے ۔
چہرے پر خوشیاں بکھیر دے ۔
جب کبھی بحث کا موقع آئے تو اپنی دلیل  اور حجت روک کر سامنے والے کے دل کو ٹوٹنے سے بچا لے  اس سے بڑا  "ابدال" بھلا کون ہو گا ؟

رسول خداﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا :

”معاذؓ ! تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو بغیر حساب کتاب کے تمہیں جنت میں داخل کروا دے ؟”

معاذؓ نے عرض کی ضرور یا رسول اللہﷺ ۔
آپ نے فرمایا :”معاذ ! مشقت کا کام ہے کرو گے ؟”
ضرور کروں گا یارسول اللہﷺ ،معاذ نے جواب دیا ۔
آپﷺ نے پھر فرمایا :”معاذ مسلسل کرنے کا کام ہے کرو گے ؟”
معاذؓ نے جواب دیا کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ۔

آپ نے فرمایا:” اے معاذ ! اپنے دل کو ہر ایک کے لیے شیشے کی طرح صاف اور شفاف رکھنا بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو جاؤ گے” ۔

معروف کرخیؒ نے فرمایا جس کا ظاہر اس کے باطن سے اچھا ہے وہ " مکار" ہے
اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے اچھا ہے وہ اللہ کا " ولی" ہے ۔

ولایت شخصیت میں نہیں کردار میں نظر آتی ہے ۔

ابراہیم بن ادھمؒ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور چند دن رہنے کی اجازت مانگی آپ نے دے دی ۔ وہ کچھ دن ساتھ رہا اور انتہائی مایوس انداز میں واپس جانے لگا ۔

ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا کیا ہوا برخوردار ! کیوں آئے تھے اور واپس کیوں جا رہے ہو ؟

اس نے کہا حضرت آپ کا بڑا چرچا سنا تھا ۔ اس لیے آیا تھا کہ دیکھوں کہ آپ کے پاس کونسی کشف و کرامات ہیں ۔
اتنا بول کر وہ نوجوان خاموش ہوگیا ۔

ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا پھر کیا دیکھا ؟

کہنے لگا میں تو سخت مایوس ہو گیا ۔ میں نے تو کوئی کشف اور کرامت وقوع پذیر ہوتے نہیں دیکھی ۔
ابراھیم بن ادھمؒ نے پوچھا نوجوان ! یہ بتاؤ  اس دوران تم نے میرا کوئی عمل خلاف شریعت دیکھا ؟
یا کوئی کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ والہ و سلم کے فرمان کے خلاف دیکھا ہو ؟

اس نے فورا ًجواب دیا نہیں ایسا تو  واقعی کچھ نہیں دیکھا ۔
ابراھیم بن ادھمؒ مسکرائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے بیٹے ! میرے پاس اس سے بڑا کشف اور اس  سے بڑی کرامت کوئی اور نہیں ہے ۔

" جو شخص فرائض کی پابندی کرتا ہو ۔
کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو ۔
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرتا ہو ۔
آپ مان لیں کہ اس سے بڑا " ولی " کوئی نہیں ہو سکتا  ۔"

اللہ کے ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ " صاحب حال" ہوتا ہے ۔
" نہ ماضی پر افسوس کرتا ہے اور نہ مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔"
اپنے حال پر خوش اور شکر گزار رہتا ہے ۔

" جو اپنے سارے غموں کو ایک غم یعنی "آخرت" کا غم بنا کر دنیا کے غموں سے آزاد ہو جائے وہی "وقت کا ولی"  ہے ۔

ایک صحابیؓ نے پوچھا یارسول اللہﷺ" ایمان " کیا ہے ؟
آپ نے فرمایا صبر کرنا اور معاف کرنا ۔

آپ یقین کریں تہجد پڑھنا ، روزے رکھنا آسان ہے لیکن کسی کو معاف کرنا بہت مشکل ہے ۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کا حسن یہ ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ
اور ہمیشہ اچھی بات زبان سے نکالو ۔
جو صبر کرنا سیکھ لے ،
بھوکوں کو کھانا کھلائے ،
ہمیشہ اچھی بات اپنی زبان سے نکالے اور لوگوں کے لیے اپنے دل کو صاف کر لے اس سے بڑا  "ولی"  بھلا اور کون ہو سکتا ہے ؟

یاد رکھیں

جو لوگوں سے شکوہ نہیں کرتا جس کی زندگی میں اطمینان ہے وہی" ولی" ہے ۔

جس کے دل کی دنیا میں آج " جنت" ہے وہی وہاں " جنتی" ہے

اور جس کا دل ہر وقت شکوے ، شکایتوں ، حسد ، کینہ ، بغض ، لالچ اور ناشکری کی " آگ" سے سلگتا  ہے وہاں بھی اس کا ٹھکانہ " آگ" ہی ہے ۔

لہٰذا محترم بہنوں اور بھائیو

فرائض کی پابندی کیجیے ،
کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیجیے ،
حال پر خوش رہیے ،
لوگوں کی زندگیوں میں آسانیا ں پیدا کیجیے ،
اپنے دلوں کو صاف رکھیے

اور وقت کے " ولی" بن جائیے ۔

جزاک اللہ خیرا

اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا
اور خود بھی اللہ کے ولی بنئیے اور اس پوسٹ کو شئیر کرکے اپنے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں دوست احباب کو بھی اللہ کے ولی بننے کی دعوت دیجئے

تراویح کتنی رکعت هی

[5/11, 4:46 AM] M Shakeel Nig: الجواب وباللہ التوفیق

نبی اکرم اکے ارشادات کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نمازِ تراویح فرض نہیں؛ بلکہ سنت موٴکّدہ ہے۔ البتہ ۱۴۰۰ سال سے جاری عمل کے خلاف بعض حضرات ۲۰ رکعت نمازِ تراویح کو بدعت یا خلاف ِسنت قرار دینے میں ہر سال رمضان اور رمضان سے قبل اپنی صلاحیتوں کا بیشتر حصہ صرف کرتے ہیں، جس سے امت مسلمہ کے عام طبقہ میں انتشار پیدا ہوتا ہے؛ حالانکہ اگر کوئی شخص ۸ کی جگہ ۲۰ رکعت پڑھ رہا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی تو ہے؛ کیونکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ساری امت مسلمہ متفق ہے کہ رمضان کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے، نیز حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے امت مسلمہ جماعت کے ساتھ ۲۰ ہی رکعت تراویح پڑھتی آئی ہے، حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں آج تک کبھی بھی ۸ رکعت تراویح نہیں پڑھی گئیں۔
          اس موضوع سے متعلق احادیث کا جتنا بھی ذخیرہ موجود ہے، کسی بھی ایک صحیح ،معتبر ،اور غیرقابل نقد وجرح حدیث میں نبی اکرم اسے تراویح کی تعداد رکعت کا واضح ثبوت نہیں ملتا ہے، اگرچہ بعض احادیث میں جن کی سند میں یقینا کچھ ضعف موجود ہے ۲۰ رکعت کا ذکر ملتا ہے۔
          خلیفہٴ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں بیس رکعت تراویح اورتین رکعت وتر جماعت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام ہوا،جیساکہ محدثین،فقہاء ، موٴرخین اور علماء کرام نے تسلیم کیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم انے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم انے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروق  کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ۲ ص ۴۰۱، ج ۲۲ ص ۴۳۴)
          ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات ۵۷ یا ۵۸ ہجری میں ہوئی او ر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ۱۵ ہجری میں تراویح کی جماعت حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں باقاعدہ شروع فرمائی، اگر بیس رکعات تروایح کا عمل بدعت ہوتا تو ۴۲سال کے طویل عرصہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آٹھ رکعت والی حدیث کو بیس رکعت پڑھنے والوں کے خلاف پیش کرنا ثابت ہوتا؛ حالانکہ ایسا نہیں ہوا، بلکہ سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں ثاب
[5/11, 4:47 AM] M Shakeel Nig: جس میں ثابت کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے آج تک حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں کبھی بھی ۲۰ سے کم تراویح نہیں پڑھی گئیں۔
تراویح کے معنی:
          بخاری شریف کی مشہور ومعروف شرح لکھنے والے حافظ ابن حجر العسقلانی  نے تحریر کیا ہے کہ تراویح، ترویحہ کی جمع ہے اور ترویحہ کے معنی: ایک دفعہ آرام کرنا ہے، جیسے تسلیمہ کے معنی ایک دفعہ سلام پھیرنا۔ رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ عشاء کے بعد باجماعت نماز کو تراویح کہا جاتا ہے، کیونکہ صحابہٴ کرام کا اتفاق اس امر پر ہوگیا کہ ہر دوسلاموں (یعنی چار رکعت ) کے بعد کچھ دیر آرام فرماتے تھے ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب صلاة التراویح)
نماز تراویح کی فضیلت:
          * حضرت ابوہریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : جو شخص رمضان (کی راتوں) میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو ، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہرت اور دکھاوے کے لیے نہیں؛ بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عبادت کی جائے۔
[5/11, 4:47 AM] M Shakeel Nig: نماز تراویح کی تعدادِ رکعت:
           تراویح کی تعداد ِرکعت کے سلسلہ میں علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ تراویح پڑھنے کی اگرچہ بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے؛ لیکن فرض نہ ہونے کی وجہ سے تراویح کی تعدادِ رکعت میں یقینا گنجائش ہے۔ جمہور محدثین اورفقہاء کی رائے ہے کہ تراویح ۲۰رکعت پڑھنی چاہئیں۔ تراویح کی تعداد ِرکعت میں علماء کرام کے درمیان اختلاف کی اصل بنیاد یہ ہے کہ تراویح اور تہجد ایک نماز ہے یا دو الگ الگ نمازیں۔ جمہور محدثین،فقہائے کرام نے اِن دونوں نمازوں کو الگ الگ نماز قرار دیا ہے، اُن کے نقطہٴ نظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے۔ جس کے انہوں نے مختلف دلائل دیے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں :
          (۱) امام بخاری  نے اپنی مشہور کتاب (بخاری) میں نمازِ تہجد کا ذکر (کتاب التہجد) میں؛ جبکہ نماز تراویح کو (کتاب صلاة التراویح) میں ذکر کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ دونوں نمازیں الگ الگ ہیں، جیساکہ جمہور علماء اور ائمہٴ اربعہ نے فرمایا ہے، اگر دونوں ایک ہی نماز ہوتی تو امام بخاری  کو دو الگ الگ باب باندھنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوتی۔ حضرت عائشہ  والی حدیث کتاب التہجد میں ذکر فرماکر امام بخاری نے ثابت کردیا کہ اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے۔
          (۲) تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے، اور اِس حدیث میں ایسی نماز کا ذکر ہے جو رمضان کے علاوہ بھی پڑھی جاتی ہے۔
[5/11, 4:48 AM] M Shakeel Nig: (۳) اگر حضرت عائشہ  کے فرمان کا تعلق تراویح کی نماز سے ہے تو حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں جب باضابطہ جماعت کے ساتھ ۲۰ رکعت تراویح کا اہتمام ہوا تو کسی بھی صحابی نے اِس پر کوئی تنقید کیوں نہیں کی؟ (دنیا کی کسی کتاب میں ، کسی زبان میں بھی، کسی ایک صحابی کا حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں ۲۰رکعت تراویح کے شروع ہونے پر کوئی اعتراض مذکور نہیں ہے) اگر ایسی واضح حدیث تراویح کی تعداد کے متعلق ہوتی تو حضرت عمر فاروق  اور صحابہٴ کرام کو کیسے ہمت ہوتی کہ وہ ۸ رکعت تراویح کی جگہ ۲۰ رکعت تراویح شروع کردیتے۔ صحابہٴ کرام تو ایک ذرا سی چیز میں بھی آپ ا کی تعلیمات کی مخالفت برداشت نہیں کرتے تھے۔ اور نبی اکرم ا کی سنتوں پر عمل کرنے کا جذبہ یقینا صحابہٴ کرام میں ہم سے بہت زیادہ تھا؛ بلکہ ہم (یعنی آج کے مسلمان) صحابہ کی سنتو ں پر عمل کرنے کے جذبہ سے اپنا کوئی مقارنہ بھی نہیں کرسکتے۔ نیز نبی اکرم ا کا فرمان ہے : ہم خلفاء راشدین کی سنتوں کوبھی مضبوطی سے پکڑلیں۔ (ابن ماجہ)
          (۴) اگر اس حدیث کا تعلق واقعی تراویح کی نماز سے ہے (اور تہجد و تراویح ایک نماز ہے) تو رمضان کے آخری عشرہ میں نمازِ تراویح پڑھنے کے بعد تہجد کی نماز کیوں پڑھی جاتی ہے؟
          (۵) اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جیساکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص ۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲)
[5/11, 4:48 AM] M Shakeel Nig: علامہ شمس الدین کرمانی (شارح بخاری) تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کے بارے میں ہے اور حضرت ابوسلمہ  کا مذکورہ بالا سوال اور حضرت عائشہ  کا جواب تہجد کے متعلق تھا۔ (الکوکب الدراری شرح صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۵۵۔۱۵۶)
          حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی  فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ حضور اکرم ا گیارہ رکعت (وتر کے ساتھ) پڑھتے تھے وہ تہجد کی نماز تھی۔
          حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی  تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کی نماز پر محمول ہے جو رمضان اور غیر رمضان میں برابر تھی۔ (مجموعہ فتاوی عزیزی ص ۱۲۵)
نمازِ تراویح نبی اکرم ا کے زمانے میں:
          * حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ انے (رمضان کی) ایک رات مسجد میں نماز تراویح پڑھی۔ لوگوں نے آپ اکے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر دوسری رات کی نماز میں شرکاء زیادہ ہوگئے، تیسری یا چوتھی رات آپ ا نماز تراویح کے لیے مسجد میں تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں نے تمہارا شوق دیکھ لیا اور میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر رمضان میں فرض نہ کردی جائے۔ (مسلم ، الترغیب فی صلاة التراویح)․․․․․․اِن دو یا تین رات کی تراویح کی رکعت کے متعلق کوئی تعداد احادیثِ صحیحہ میں مذکور نہیں ہے۔
          * حضرت ابوہریرہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا قیام رمضان کی ترغیب تو دیتے تھے؛ لیکن وجوب کا حکم نہیں دیتے۔ آپ ا فرماتے کہ جوشخص رمضان کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھے اور وہ ایمان کے دوسرے تقاضوں کو بھی پورا کرے اور ثواب کی نیت سے یہ عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرمادیں گے۔ رسول اللہ ا کی وفات تک یہی عمل رہا، دورِ صدیقی اور ابتداء عہد فاروقی میں بھی یہی عمل رہا۔ (مسلم ۔ الترغیب فی صلاة التراویح)
[5/11, 4:49 AM] M Shakeel Nig: صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ا کی حیات میں ، حضرت ابوبکر صدیق کے دورِ خلافت اور حضرت عمر فاروق  کے ابتدائی دور خلافت میں نماز تراویح جماعت سے پڑھنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا، صرف ترغیب دی جاتی تھی؛ البتہ حضرت عمر فاروق  کے عہد خلافت میں یقینا تبدیلی ہوئی ہے، اس تبدیلی کی وضاحت مضمون میں محدثین اورفقہائے کرام کی تحریروں کی روشنی میں آرہی ہے۔
          * حضرت عائشہ  کی روایت (جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے) میں لفظ ِتراویح کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے؛ کیونکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان محدثین کے نزدیک یہ حدیث تہجد کی نماز سے متعلق ہے نہ کہ تراویح سے۔
          امام محمد بن نضر مروزی نے اپنے مشہور کتاب (قیام اللیل ، ص ۹۱ اور ۹۲) میں قیام رمضان کا باب باندھ کر بہت سی حدیثیں اور روایتیں نقل فرمائی ہیں؛ مگر مذکورہ بالا حدیث ِعائشہ نقل نہیں فرمائی؛ اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث تراویح کے متعلق ہے ہی نہیں۔
          علامہ ابن قیم نے اپنی مشہور ومعروف کتاب (زاد المعاد ص ۸۶) میں قیام اللیل (تہجد) کے بیان میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں اس روایت کے متعلق حافظ حدیث امام قرطبی  کا یہ قول بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ بہت سے اہل علم حضرات اس روایت کو مضطرب مانتے ہیں۔ (عینی شرح بخاری ج۷ ص
[5/11, 4:49 AM] M Shakeel Nig: نمازِ تراویح خلفاء راشدین کے زمانے میں:
          * حضرت ابو بکر صدیق  کے عہد میں کتنی تراویح پڑھی جاتی تھیں، احادیث صحیحہ میں صحابہٴ کرام کا کوئی واضح عمل مذکور نہیں ہے۔ گویا اس دور کا معمول حسب سابق رہا اور لوگ اپنے طور پر نماز تراویح پڑھتے رہے، غرضے کہ حضرت ابو بکر صدیق  کے عہدِ خلافت (یعنی دو رمضان) میں نماز تراویح باقاعدہ جماعت کے ساتھ ایک مرتبہ بھی ادا نہیں ہوئی ۔
          * حضرت عمر فاروق  نے جب اپنے عہد خلافت میں لوگوں کو دیکھا کہ تنہا تنہا تراویح کی نماز پڑھ رہے ہیں تو حضرت عمر فاروق  نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا، اور عشاء کے فرائض کے بعد وتروں سے پہلے باجماعت ۲۰ رکعت نماز تراویح میں قرآن کریم مکمل کرنے کا باضابطہ سلسلہ شروع کیا۔
          * حضرت عبد الرحمن قاری  فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر فاروق کے ہمراہ رمضان میں مسجد میں گیا تو دیکھا کہ لوگ مختلف گروپوں میں علیحدہ علیحدہ نماز تراویح پڑھ رہے ہیں، کوئی اکیلا پڑھ رہا ہے اور کسی کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں، اس پر حضرت عمر فاروق  نے فرمایا کہ واللہ! میرا خیال ہے کہ اگر ان سب کو ایک امام کی اقتداء میں جمع کردیا جائے تو بہت اچھا ہے اور سب کو حضرت ابی بن کعب  کی اقتداء میں جمع کردیا ۔ ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ پھر جب ہم دوسری رات نکلے اور دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز تراویح ادا کررہے ہیں تو حضرت عمر فاروق  نے فرمایا کہ یہ بڑا اچھا طریقہ ہے اور مزید فرمایا کہ ابھی تم رات کے جس آخری حصہ (تہجد) میں سوجاتے ہو ،وہ اس (تراویح) سے بھی بہتر ہے جس کو تم نماز میں کھڑے ہوکر گزارتے ہو۔ (موٴطا امام مالک ، باب ماجاء فی قیام رمضان)
          * حضرت یزید بن رومان  فرماتے ہیں کہ لوگ (صحابہٴ کرام) حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں ۲۳ رکعت (۲۰ تراویح اور۳وتر) ادا فرماتے تھے۔ (موٴطا امام مالک ، باب ماجاء فی قیام رمضان، ص ۹۸)
          * علامہ بیہقی نے کتاب المعرفہ میں نقل کیا ہے کہ حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے دور حکومت میں ہم ۲۰ رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ امام زیلعی  نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (نصب الرای ج ۲ ص ۱۵۴)
[5/11, 4:49 AM] M Shakeel Nig: حضرت ابی بن کعب  سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے انہیں حکم دیا کہ رمضان کی راتوں میں نماز پڑھائیں؛ چنانچہ فرمایا کہ لوگ سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور قراء ت اچھی طرح نہیں کرسکتے۔ اگر آپ رات کو انہیں (نماز میں) قرآن سنائیں تو بہت اچھا ہوگا۔ پس حضرت ابی بن کعب  نے انہیں ۲۰ رکعتیں پڑھائیں۔ (مسند احمد بن منیع بحوالہ اتحاف الخیرة المہرة للبوصیری علی المطالب العالیہ ج۲ ص ۴۲۴)
          * موطا امام مالک میں یزید بن خصیفہ کے طریق سے سائب بن یزید  کی روایت ہے کہ عہد فاروقی میں بیس رکعت تراویح تھیں۔ (فتح الباری لابن حجر ج ۴ ص ۳۲۱، نیل الاوطار للشوکانی ج۲ ص ۵۱۴)
          * حضرت محمد بن کعب القرظی  (جو جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر  کے دور میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔ ( قیام اللیل للمروزی ص ۱۵۷)
          * حضرت یحییٰ بن سعید  کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے۔ (مصنف بن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت حسن  سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب  کی امامت پر جمع فرمایا۔ وہ لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھاتے تھے۔ (ابو داوٴد ج۱ ص ۲۱۱، باب القنوت والوتر)
          * حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے دور میں تین رکعت (وتر) اور بیس رکعت (تراویح) پڑھی جاتی تھیں۔ (مصنف عبد الرزاق ج ۴ ص ۲۰۱، حدیث نمبر ۷۷۶۳)
          * حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں ہم ۲۰ رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے، اور قاری صاحب سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور لمبے قیام کی وجہ سے حضرت عثمان غنی  کے دور میں لاٹھیوں کا سہارا لیتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج۲ ص ۴۹۶)
[5/11, 4:50 AM] M Shakeel Nig: نماز ِ تراویح سے متعلق صحابہ وتابعین کا عمل:
          * حضرت اعمش  فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود  کا معمول بھی بیس رکعت تروایح اور تین رکعت وتر پڑھنے کا تھا۔ (قیام اللیل للمروزی ص ۱۵۷)
          * حضرت حسن بصری حضرت عبد العزیز بن رفیع  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب  رمضان میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت عطا بن ابی رباح  (جلیل القدر تابعی، تقریباً ۲۰۰ صحابہٴ کرام کی زیارت کی ہے) فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں (صحابہ ) کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھتے پایا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت ابراہیم نخعی  (جلیل القدر تابعی، کوفہ کے مشہور ومعروف مفتی) فرماتے ہیں کہ لوگ رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت پڑھتے تھے۔ (کتاب الآثار بروایت ابی یوسف ص ۴۱)
          * حضرت شیتر بن شکل  (نامور تابعی، حضرت علی  کے شاگرد) لوگوں کو رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
          * حضرت ابو البختری  (اہل کوفہ میں اپنا علمی مقام رکھتے تھے، حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت عمر  اور حضرت ابو سعید  کے شاگرد) ۔ آپ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت سوید بن غفلہ  (حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرہ صحابہ کی زیارت کی ہے)۔ آپ کے بارے میں ابو الخضیب فرماتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ  رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
          * حضرت ابن ابی ملیکہ  (جلیل القدر تابعی، تقریباً تیس صحابہٴ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے) آپ کے متعلق حضرت نافع بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی ملیکہ  ہمیں رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
ن
[5/11, 4:51 AM] M Shakeel Nig: نماز ِ تراویح سے متعلق اکابرین امت کے اقوال:
امام ابو حنیفہ : علامہ ابن رشد  لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ  کے ہاں قیام رمضان بیس رکعت ہے۔ (بدایہ المجتہد ج۱ ص ۲۱۴)
          امام فخر الدین قاضی خان  لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ  فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہر رات بیس یعنی پانچ ترویحہ وتر کے علاوہ پڑھنا سنت ہے۔ (فتاوی قاضی خان ج۱ ص۱۱۲)
          علامہ علاء الدین کاسانی حنفی  لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کا صحیح قول یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے حضرت ابی بن کعب  کی امامت میں صحابہٴ کرام کو تراویح پڑھانے پر جمع فرمایا تو انہوں نے بیس رکعت تراویح پڑھائی اور صحابہ کی طرف سے اجماع تھا۔ (بدائع الصنائع)
امام مالک: امام مالک  کے مشہور قول کے مطابق تراویح کی ۳۶ رکعت ہیں؛جبکہ ان کے ایک قول کے مطابق بیس رکعت سنت ہیں۔ علامہ ابن رشدقرطبی مالکی  فرماتے ہیں کہ امام مالک  نے ایک قول میں بیس رکعت تراویح کو پسند فرمایا ہے۔ (بدایہ المجتہد ج۱ ص ۲۱۴)
          مسجد حرام میں تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد ترویحہ کے طور پر مکہ کے لوگ ایک طواف کرلیا کرتے تھے، جس پر مدینہ منورہ والوں نے ہر ترویحہ پر چار چار رکعت نفل پڑھنی شروع کردیں تو اس طرح امام مالک کی ایک رائے میں ۳۶ رکعت (۲۰ رکعت تراویح اور ۱۶ رکعت نفل) ہوگئیں۔
امام شافعی : امام شافعی  فرماتے ہیں کہ مجھے بیس رکعت تراویح پسند ہیں، مکہ مکرمہ میں بیس رکعت ہی پڑھتے ہیں۔ (قیام اللیل ص ۱۵۹) ایک دوسرے مقام پر امام شافعی  فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھتے پایا ہے۔ (ترمذی ج ۱ ص ۱۶۶) علامہ نووی شافعی  لکھتے ہیں کہ تراویح کی رکعت کے متعلق ہمارا (شوافع) مسلک وتر کے علاوہ دس سلاموں کے ساتھ بیس رکعت کا ہے، اور بیس رکعت پانچ ترویحہ ہیں اور ایک ترویحہ چار رکعت کا دوسلاموں کے ساتھ، یہی امام ابوحنیفہ  اور ان کے اصحاب اور امام احمد بن حنبل  اور امام داوٴد ظاہری کا مسلک ہے اور قاضی عیاض  نے بیس رکعت تراویح کو جمہور علماء سے نقل کیا ہے۔ (المجموع)
امام احمد بن حنبل: فقہ حنبلی کے ممتاز ترجمان علامہ ابن قدامہ  لکھتے ہیں : امام ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل) کا پسندیدہ قول بیس رکعت کا ہے اور حضرت سفیان ثوری  بھی یہی کہتے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت عمر فاروق  نے صحابہٴ کرام کو حضرت ابی بن کعب  کی اقتداء میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت پڑھتے تھے، نیز حضرت امام احمد ابن حنبل  کا استدلال حضرت یزید وعلی کی روایات سے ہے۔ ابن قدامہ  کہتے ہیں کہ یہ بمنزلہ اجماع کے ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ جس چیز پر حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ عمل پیرا رہے ہوں ، وہی اتباع کے لائق ہے۔ (المغنی لابن قدامہ ج۲ ص۱۳۹، صلاة ا
[5/11, 7:15 AM] M Shakeel Nig: اہل حدیث کی خبیث عادت یہ ہوتی ہے کہ اپنے چاہت کی بات اٹھا لیتے ہے اور باقی چھوڑ دیتے آپ خود ملاحظہ فرمائیں کہ مولانا طارق جمیل کے بیان کو اس مولوی نے کیسے اپنے مطابق کانٹ کر پیش کیا اور بیان کا باقی حصہ چھوڑدیا
تو آپ  سے درخواست ہے کہ بیان کا باقی حصہ بھی اس لنک👇👇میں سماعت فرمائے آپ کا اعتراض انشاءاللہ دفع ہوجائے گا

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Label

Recent

Text Widget

Test

Contact Us

Name

Email *

Message *

Followers

Newsletter

We’ll keep you informed and updated

Recent Comments

Popular Posts

صراط نستقیم پر ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم