حضرت مفتی ابوبکر جابر قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے یہ فکری و تربیتی ملفوظات محض چند جملوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اپنے اندر فکر و بصیرت، اصلاح و تربیت اور تجرباتِ زندگی کے ایک ایک مکمل بیان کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ ہر ملفوظ اپنے دامن میں ایک مستقل پیغام، ایک گہری حقیقت اور انسان کی اصلاح کے لیے ایک مکمل سبق لیے ہوئے ہے۔
1۔ باسی مطالعہ سے تازہ فتنوں کا مقابلہ نہیں ہوسکتا
باسی مطالعہ سے نئے اور تازہ فتنوں کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ بدلتے ہوئے حالات اور نت نئے فتنوں کے لیے تازہ مطالعہ، گہری فکر اور مسلسل علمی جستجو ضروری ہے۔
2۔ قلتِ مال کا غم ہے، قلتِ اعمال کا نہیں
ہمیں قلتِ مال کا غم تو سوار ہے، مگر قلتِ اعمال، قلتِ مطالعہ، قلتِ صفات اور قلتِ فکرِ آخرت کا کوئی غم نہیں..
3۔ وقت نہیں ملا یا اہمیت نہیں تھی؟
کسی نیک کام کے چھوٹ جانے پر یہ نہ کہیں کہ "وقت نہیں ملا"؛ بلکہ اپنے دل سے پوچھیں کہ کہیں حقیقت یہ تو نہیں کہ اس کام کی اہمیت ہی دل میں نہیں تھی؟
4۔ زندگی کا مقصد متعین کیجیے
زندگی کا ایک مقصد متعین کیجیے، لیکن اس سے پہلے اس مقصد کو دل میں اہمیت دیجیے۔ دل میں کسی کام کی حقیقی اہمیت پیدا ہوجائے تو اس کے لیے گنجائش بھی نکل آتی ہے، ورنہ گنجائش ہوتے ہوئے بھی راستے سکڑ جاتے ہیں۔
5۔ مخلوق سے تعلق بھی خدا کی رضا کے لیے ہو
6۔ قوم کی ایک بڑی کمزوری
یہ قوم مردہ پرست اور زندہ فراموش ہے؛ یعنی گزر جانے والوں کو یاد کرتی ہے، مگر جو زندہ ہیں، ان کی قدر و خدمت اور ان سے استفادہ کرنے میں غفلت برتتی ہے۔
7۔ ظلم سے تقویٰ نے روکا یا موقع نہ ملنے نے؟
ہمیں ظلم سے تقویٰ نے نہیں روکا، بلکہ بہت مرتبہ مواقع کے نہ ملنے نے روکا ہے۔ اصل تقویٰ یہ ہے کہ موقع موجود ہو، اختیار حاصل ہو، پھر بھی انسان اللہ کے خوف سے ظلم سے باز رہے۔
8۔ اولیاء اللہ کی فکر: حسنِ خاتمہ
اولیاء اللہ کو ہمیشہ حسنِ خاتمہ کی فکر سوار رہتی ہے۔
9۔ ہم لطیف کے بندے ہیں، لطف کے نہیں
ہم لطیف کے بندے ہیں، لطف کے نہیں۔ کارِ خیر میں لطف آئے یا نہ آئے، آسانی ہو یا دشواری، دل چاہے یا نہ چاہے؛ خیر کا کام خیر ہونے کی وجہ سے کیا جائے گا۔
10۔ وسائل کی کمی نہیں، عزائم کی پستی کا غم ہونا چاہیے
وسائل کی کمی کی فکر تو ہمیں ستاتی ہے، مگر عزائم کی پستی کا کوئی غم نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کتنے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ارادے کتنے بلند ہیں۔
11۔ عدمِ توجہ سب سے بڑی مصیبت ہے
عدمِ ترکیز (کام پر فوکس نہ کرنا) آج کی بڑی مصیبتوں میں سے ایک ہے۔ جو شخص اپنے مقصد اور کام پر توجہ مرکوز نہیں رکھتا، وہ اپنی صلاحیتوں کو منتشر کر دیتا ہے۔
12۔ شریعت کی سرحدوں کے مجاہد بن کر جینا
اگر شریعت کی سرحدوں کا مجاہد بن کر جینا اور مرنا ہماری زندگی کا لازمہ بن جائے تو پھر زندگی کا ہر قدم دین کی حفاظت، اس کی سربلندی اور اس کی پاسداری کے لیے اٹھے گا۔
13۔ نبی اور صحابی کے سوا سب کچھ بن سکتے ہو
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمہ اللہ کا ایک فکر انگیز جملہ ہے:
"تم نبی اور صحابی کے سوا سب کچھ بن سکتے ہو۔"
اللہ تعالیٰ کی عطا کے دروازے بند نہیں ہیں۔
﴿وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا﴾
یعنی: آپ کے رب کی عطا کبھی ممنوع اور محدود نہیں رہی۔
14۔ موافق حالات میں کسی نے دین کا کام نہیں کیا
آقا کریم ﷺ سے لے کر آج تک کسی نے موافق حالات میں دین کا کام نہیں کیا۔ دین کی خدمت ہمیشہ آزمائشوں، مشکلات اور ناموافق حالات کے درمیان ہوئی ہے۔ اسبابِ تعیش انسان کو سلا دیتے ہیں، جبکہ مشکلات اسے جگاتی ہیں۔
15۔ دین محفوظ ہو تو لوگوں کی قدر و ناقدری بے اثر ہے
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب ایک قول ہے کہ لوگوں کی قدر اور ناقدری کا کوئی اثر نہیں پڑتا، اگر دین محفوظ ہو۔ اصل کامیابی لوگوں کی نگاہ میں مقبول ہونا نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں دین کی حفاظت کے ساتھ سرخرو ہونا ہے۔
16۔ دل شکنی گوارا نہیں، دین شکنی بالکل نہیں
ہم کوشش کریں گے کہ دل شکنی بھی نہ ہو اور دین شکنی بھی نہ ہو؛ لیکن جہاں دین کی حفاظت کا معاملہ ہو اور دونوں میں سے ایک کا انتخاب ناگزیر ہوجائے تو دین شکنی کو ہرگز گوارا نہیں کیا جائے گا۔
17۔ قید اور مشکل حالات بھی کام سے نہیں روک سکتے
غزہ میں ایک قرآنِ مجید سے گیارہ لوگ حافظِ قرآن بن گئے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، عزمِ مصمم ہو تو انسان قید کے زمانے میں بھی کام کرسکتا ہے۔
18۔ خدا کی نصرت کی ایک صورت
خدا کی نصرت صرف ظاہری اسباب اور غیر معمولی واقعات کا نام نہیں؛ یہ بھی اللہ کی نصرت ہے کہ بندے کو اپنے مشن پر استقامت نصیب ہوجائے۔
19۔ بے نفسی پر خدا کی عنایت
حیدرآباد میں بارش کے موسم میں بارش نہیں ہو رہی تھی۔ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو لوگوں نے درخواست کی کہ حضرت! رحمتِ باراں کے لیے دعا فرما دیجیے۔ آپ نے فرمایا:
"جب یہ گنہگار یہاں سے روانہ ہوجائے گا تو بارش ہوگی۔"
اس واقعے سے بے نفسی اور اپنی ذات کو کچھ نہ سمجھنے کا سبق ملتا ہے؛ اور معلوم ہوتا ہے کہ بے نفسی پر خدا کی عنایت ہوتی ہے۔
20۔ دین کی مجلس میں طالب بن کر بیٹھیں
دین کی مجالس میں طالب بن کر بیٹھیں، ناقد بن کر نہیں..
21۔ نفسانی موانع، سرکاری موانع سے بڑے ہیں
دین کے کام میں سرکاری موانع اگرچہ رکاوٹ بنتے ہیں، مگر نفسانی موانع اس سے کہیں بڑے ہیں۔
22۔ اختیاری تربیت نہ ہو تو اضطراری تربیت آتی ہے
جب بندہ اختیاری تربیت نہیں کرتا تو باری تعالیٰ اسے اضطراری تربیت کے مراحل سے گزارتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شفقت ہے کہ وہ اپنے بندے کو مختلف حالات کے ذریعے سنوارتے اور تربیت فرماتے ہیں۔
23۔ دشمنوں کی سازشوں کے تذکرے ہماری زبانوں پر بہت ہیں، مگر افسوس کہ ہم ان کی جہدِ مسلسل، منصوبہ بندی اور محنت سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ صرف شکایت کافی نہیں؛ ہمیں اپنی محنت اور جدوجہد کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔
24۔ مقام ہمیشہ کام کی وجہ سے ملتا ہے
انسان کو ہمیشہ کام کی وجہ سے مقام دیا جاتا ہے۔ محض نسبت، دعویٰ یا خواہش انسان کو بلند نہیں کرتی؛ مسلسل محنت، اخلاص اور خدمت ہی مقام پیدا کرتی ہے۔
25۔ بڑوں کی شفقت، چھوٹوں کی اطاعت
معاشرے اور دینی جماعتوں میں توازن کے لیے ضروری ہے کہ بڑوں کی طرف سے شفقت ہو اور چھوٹوں کی طرف سے اطاعت...
26۔ خوبیوں پر نظر رکھنے والا پوری امت کو جوڑ دیتا ہے، جبکہ خامیوں پر نظر رکھنے والا اپنے خاندان سے بھی جڑ نہیں پاتا۔
27۔ دین کے ہر شعبے کا احترام ضروری ہے
دین کے ہر شعبے کا احترام ہونا چاہیے۔
تبلیغ سے ایمان بنتا ہے، مدرسہ سے جمتا ہے، خانقاہ سے سجتا ہے، اور سیاست سے ان سب شعبوں کو تحفظ ملتا ہے۔
28۔ ضرورت کی تکمیل سے زیادہ ذمہ داری کی فکر
ہمیں صرف اپنی ضرورت کی تکمیل کی فکر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل کی فکر زیادہ ہونی چاہیے..
29۔ رزق کو نہیں، رزاق کو یاد کرو*
اے انسان! جتنا تو رزق کو یاد کرتا ہے، اگر اتنا ہی رزاق کو یاد کرنے لگے تو خدا کا ولی بن جائے۔
بسیار خوری سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں، پھر بھی فاقے کا ڈر ستاتا ہے۔ افریقہ میں بھوک سے اتنی اموات نہیں ہوتی جتنی ہمارے یہاں بسیار خوری کی وجہ ہوتی ہیں..
30۔ جس کے لیے کام کررہا ہوں وہ بھوکا نہیں رکھے گا
جس اللہ کے لیے میں کام کررہا ہوں، وہ تو فراعنہ کو بھی کھلا رہا ہے، مجھے کیسے بھوکا رکھے گا؟
31۔ جہاں اندازے ختم ہوتے ہیں، وہاں سے خدا رزق دیتا ہے
جہاں سے انسان کے اندازے ختم ہوتے ہیں، وہاں سے خدا روزی دیتا ہے۔ اس لیے اسباب اختیار کرتے ہوئے بھی دل کا اعتماد اسباب پر نہیں، مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے۔
32۔ ضرورت کی حقیقت
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا قول ہے:
"ضرورت وہ ہے جس کے بغیر ضرر ہو۔"
33۔ اسراف بڑھا تو انفاق کم ہوگیا*
اسراف بڑھ گیا، اس لیے انفاق کم ہوگیا۔ جب انسان اپنی آسائشوں اور غیر ضروری اخراجات میں زیادہ خرچ کرنے لگتا ہے تو دوسروں پر خرچ کرنے، صدقہ کرنے اور اللہ کی راہ میں دینے کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔
34 خوش قسمت وہی ہے جو قسمت پر خوش ہو
35۔ قناعت کی حقیقت
قناعت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت ہر کسی کو نہیں ملتی۔
36۔ موجود کی ناقدری، مفقود کا غم*
ہماری بڑی کمزوری یہ ہے کہ موجود کی ناقدری اور مفقود کا غم لیے بیٹھے رہتے ہیں۔ جو ہمارے پاس ہے اس کی قدر نہیں کرتے، اور جو ہمارے پاس نہیں ہے اسی کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔
37۔ خدا سے اخلاص، بندوں سے اخلاق
زندگی کا ایک خوبصورت اصول یہ ہونا چاہیے کہ خدا سے اخلاص کا اور بندوں سے اخلاق کا تعلق ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں اخلاص ہو اور مخلوق کے ساتھ معاملات میں حسنِ اخلاق ہو۔
38۔ کام کرکے ڈرنے والے مقبول بندے اور کام کرکے نڈر ہونے والے مردود بندے ہوتے
39۔ دشمن پنپ نہیں سکتا ہماری اندرونی طاقت کے بغیر۔
40۔ احتیاج اور احتجاج کے جذبے کا فرق
احتیاج کے جذبے سے چلنے والا کام پر ٹک جاتا ہے، احتجاج کے جذبے سے چلنے والا کام پر ٹک نہیں پاتا۔
*41۔ فرش نہیں، عرش کی نگاہ*
ہمیشہ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ مجھے فرش پر نہیں، عرش پر کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟