مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟

بسم اللّه الرحمن الرحيم

مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟


از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

کبھی کبھی آدمی کسی ایسے سوال سے دوچار ہوجاتا ہے جس کا جواب اگر عقل سے دیا جائے تو بہت آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اسے بعض لوگوں کے ذہنی سانچوں میں رکھ کر دیکھا جائے تو وہ اتنا پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ آدمی کو اپنے عقل مند ہونے پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے ہی سوالوں میں ایک سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟
یہ سوال میں نے ایک دن میر صاحب کے سامنے رکھا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ شاید تاریخِ سائنس کے صفحات الٹیں گے، مسلمانوں کے علمی زوال کے اسباب بیان کریں گے، یورپ کی صنعتی ترقی اور مسلم دنیا کی پسماندگی کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے، یا کم از کم سائیکل کے موجد کا نام بتاکر میری علمی تشنگی دور کردیں گے۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ سائیکل کی ایجاد کا مسئلہ بالآخر بدعت کے مسئلے تک پہنچے گا، اور دو پہیوں والی یہ معمولی سی سواری ہمیں فقہی اصولوں کی ایسی شاہراہ پر لے جائے گی جہاں سائیکل تو کہیں پیچھے رہ جائے گی اور بدعت آگے آگے دوڑتی ہوئی نظر آئے گی۔
میں نے گفتگو کا آغاز اس خیال سے کیا کہ مسلمانوں نے بہت سی چیزیں ایجاد نہیں کیں اور ان کی عدمِ ایجاد کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں نے بینک ایجاد نہیں کیا۔ اس کی وجہ مجھے بہت صاف معلوم ہوتی ہے۔ بینک کا بنیادی تصور سودی سرمایہ داری سے وابستہ ہے، اور اسلام تو غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور عدل کا دین ہے۔ بینک اگر غریب کی ضرورت کو اپنے منافع کا ذریعہ بنادے تو یہ غریب کے خون کو چوسنے کی ایک مہذب، قانونی اور ٹائی باندھے ہوئے شکل ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے بینک ایجاد نہیں کیا۔
پھر مسلمانوں نے جدید قومی ریاست بھی ایجاد نہیں کی۔ یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ قومی ریاست نے دنیا کو نقشوں پر خانوں میں تقسیم کیا، سرحدوں کو مقدس بنایا، انسان کو انسان سے جدا کیا، اور کبھی کبھی ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابل لا کھڑا کیا۔ ظلم کے اس نظام کو مسلمان اپنی طرف سے ایجاد کیوں کرتے؟
اسی طرح مسلمانوں نے موبائل فون ایجاد نہیں کیا۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ موبائل فون میں اگرچہ بہت سے فوائد ہیں، لیکن اس کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں۔ آدمی اسے ہاتھ میں لیتا ہے تو معلوم نہیں رہتا کہ وہ فون استعمال کررہا ہے یا فون اسے استعمال کررہا ہے۔ ایک زمانے میں انسان اپنی جیب میں موبائل رکھتا تھا، اب موبائل انسان کو اپنی جیب میں رکھتا ہے۔ قرآن پڑھنے کے لیے موبائل کھولا جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد آدمی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے خود نہیں معلوم کہ وہ آیا کیوں تھا۔ سو مسلمانوں نے موبائل ایجاد نہ کیا تو شاید اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی۔
کار اور ہوائی جہاز بھی مسلمانوں کی ایجاد نہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے اچھی بات ہے۔ کار دھواں چھوڑتی ہے، ہوائی جہاز فضا میں کاربن چھوڑتا ہے، پٹرول جلتا ہے، ماحول خراب ہوتا ہے، اور انسان ہزاروں میل کا سفر صرف اس لیے کرتا ہے کہ دنیا کو اپنے پیروں کے نیچے اور چھوٹا دیکھ سکے۔ مسلمان اگر یہ چیزیں ایجاد نہ کرسکے تو کم از کم ماحولیات کے خلاف ایک جرم سے تو محفوظ رہے!
لیکن میرے ذہن میں ایک سوال مدت سے گردش کررہا تھا: مسلمانوں نے سائیکل کیوں نہیں ایجاد کی؟
یہ سوال اس لیے زیادہ دلچسپ ہے کہ سائیکل نہ بینک ہے، نہ موبائل فون، نہ قومی ریاست، نہ ہوائی جہاز۔ اس میں نہ سود ہے، نہ پٹرول، نہ دھواں، نہ کاربن کا وہ ہجوم جو آج کے ماحولیات کے ماہرین کو پریشان کرتا ہے۔ اس میں آدمی اپنے پاؤں سے توانائی پیدا کرتا ہے اور اپنے پاؤں سے ہی اسے حرکت دیتا ہے۔ رفتار بھی ہے، مگر ایسی نہیں کہ آدمی کو اپنے ہی شہر کے لوگوں سے ملنے کا وقت نہ ملے۔ اونٹ اور گدھے کے مقابلے میں خرچ بھی کم ہے، خوراک بھی کم چاہیے، اصطبل بھی نہیں چاہیے، اور راستے میں اگر تھک جائے تو خود ہی رک سکتا ہے۔
مزید یہ کہ سائیکل چلانا ورزش بھی ہے۔ آدمی ایک ہی وقت میں سفر بھی کرتا ہے اور ورزش بھی۔ یعنی ایک کام کے اندر دوسرا کام! اگر کفایت شعاری، صحت، ماحولیات اور نقل و حمل سب کو ایک چیز میں جمع کرنا ایجاد کا معیار ہے تو سائیکل اس امتحان میں بدرجۂ اتم کامیاب ہے۔
میں نے یہ اشکال میر صاحب کے سامنے پیش کیا۔ وہ کچھ دیر سوچتے رہے۔ مجھے امید ہوئی کہ اب کوئی بڑا علمی جواب سامنے آئے گا۔ آخرکار فرمایا: "تمہاری بات تو سولہ آنے درست ہے!"
میں نے دل میں کہا: الحمدللہ! سائیکل کی ایجاد کا دروازہ کھل گیا۔ پھر میں نے عرض کیا: "ضرورت ایجاد کی ماں ہے، اور سائیکل ہمیشہ سے انسانوں کی ضرورت رہی ہے۔"
لیکن بات یہاں ختم نہ ہوئی۔ مجھے خیال آیا کہ مسلمانوں نے طب میں اتنی تحقیق کی۔ ابن سینا نے بیماریوں، علاج اور انسانی جسم کے بارے میں اتنی تفصیل سے لکھا۔ دوسرے مسلمان اطبا نے صدیوں تک طب کی خدمت کی۔ اگر وہ سائیکل ایجاد کرلیتے تو شاید کتنی ہی بیماریاں پیدا نہ ہوتیں۔ آدمی روزانہ سائیکل چلاتا، جسمانی ورزش ہوتی، موٹاپا کم ہوتا، دل مضبوط ہوتا، اور شاید جدید انسان کو آج جم کی فیس ادا کرکے سائیکل چلانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
میر صاحب نے فوراً اس بات سے اختلاف کیا۔ فرمایا: "مجھے تمہاری آخری بات سے قطعاً اتفاق نہیں۔ صحت کے لیے سائیکل سب سے بہتر چیز نہیں۔ کشتی ہے، یا پھر کبڈی ہے۔"
میں نے کہا: "لیکن کشتی اور کبڈی تو سائیکل سے پہلے دنیا میں موجود تھیں۔ اگر مسلمانوں نے سائیکل ایجاد کرلی ہوتی تو کوئی نئی چیز تو ہوتی!"
انہوں نے فرمایا: "اسی لیے مسلمانوں پر کوئی الزام نہیں آتا۔"
میں کچھ دیر خاموش رہا۔ میں نے سوچا کہ شاید اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم ایجاد کو صرف اس وقت ایجاد سمجھتے ہیں جب اس میں کوئی ایسا عنصر نہ ہو جو پہلے سے موجود چیزوں میں پایا جاتا ہو۔
میں نے عرض کیا: "میر صاحب! سائیکل میں اصل چیز یہ ہے کہ وہ ٹرانسپورٹ ہے، ورزش ثانوی چیز ہے۔ آدمی سائیکل پر بیٹھ کر کہیں جاتا ہے۔ ورزش اس کا لازمی مقصد نہیں، ایک ضمنی فائدہ ہے۔"
میر صاحب مسکرائے اور فرمایا: "تمہاری اس بات کا جواب میرے پاس پوشیدہ ہے۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں نے سائیکل کیوں ایجاد نہیں کی۔"
میں فوراً سمجھ گیا کہ اب بات سائیکل سے آگے نکلنے والی ہے۔ میں نے پوچھا: "وہ کیسے؟" فرمایا: "تم نے یہ نہیں سنا کہ اگر کوئی شخص سلام کرے اور اسی وقت ’صلی اللہ علی محمد‘ بھی کہہ دے تو یہ بدعت ہے؟"
میں نے کہا: "بالکل، سنا ہے۔"
فرمایا: "تو یہی معاملہ ہے۔ دو اچھی چیزیں الگ الگ اچھی ہیں، مگر انہیں ملا دیا جائے تو بدعت ہوجاتی ہے۔"
میں نے کہا: "بالکل، دو الگ الگ اچھی چیزوں کو بلا دلیل اس طرح ملا دینا کہ اسے دین کا مستقل طریقہ سمجھا جائے، یہ بدعت ہوسکتی ہے۔"
میر صاحب نے فرمایا: "بس! یہی سائیکل کا مسئلہ ہے۔ اس میں دو اچھی چیزوں کو جمع کردیا گیا ہے: ٹرانسپورٹ اور ورزش۔"
میں نے سوچا کہ یہ کیا خوب اصول دریافت ہوا ہے! اگر دو مفید چیزوں کو جمع کردینا بدعت ہے تو انسانی تہذیب کی نصف سے زیادہ ایجادات تو اسی لمحے مشتبہ ہوجائیں گی۔
میں نے عرض کیا: "میر صاحب! پھر تو میلاد بھی بدعت ہونا چاہیے۔"
وہ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: "دیکھیے، عید ایک الگ چیز ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ولادت ایک الگ چیز۔ اگر دو الگ چیزوں کو جمع کرنا بدعت ہے تو میلاد میں بھی دو الگ چیزوں کو جمع کیا گیا: ایک طرف عید کا تصور، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا ذکر۔
پھر تو آپ کے اصول کے مطابق وہاں بھی وہی اشکال پیدا ہونا چاہیے جو سائیکل میں ہے۔"
میر صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس مجھے دیکھتے رہے۔ میں بھی خاموش رہا۔ چند لمحے ایسے گزرے جیسے سائیکل کے دونوں پہیے ایک ہی جگہ رک گئے ہوں۔
پھر میر صاحب اٹھے اور جاتے جاتے فرمایا: "لگتا ہے کسی مفتی کی صحبت نے تمہیں خراب کردیا ہے!"
میں نے سوچا، واقعی صحبت کا اثر بڑا عجیب ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں میں سائیکل کے موجد کو تلاش کررہا تھا، اور اب ایک فقہی اصول کے موجد کی تلاش میں ہوں۔
یہ واقعہ میرے لیے محض ایک مجلس کی بات نہیں، بلکہ ہمارے فکری مزاج کی ایک چھوٹی سی تصویر ہے۔ ہم اکثر سوال کا جواب تلاش کرنے کے بجائے ایسا اصول تلاش کرتے ہیں جس سے سوال ہی ختم ہوجائے۔ اگر کوئی پوچھے کہ فلاں چیز کیوں نہیں ہوئی تو ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس کے تاریخی، معاشرتی، اقتصادی اور علمی اسباب کیا تھے؛ ہم ایک ایسا فقہی یا نظریاتی خانہ بنا لیتے ہیں جس میں اسے رکھ کر اطمینان سے کہہ سکیں: "یہ اس لیے نہیں ہوا کہ اس میں فلاں خرابی تھی۔"
حالانکہ دنیا اس طرح نہیں چلتی۔ ایجادات کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ انسان جہاں ضرورت محسوس کرتا ہے، وہاں غور کرتا ہے، تجربہ کرتا ہے، ناکام ہوتا ہے، پھر کامیاب ہوتا ہے۔ کبھی ایک قوم بنیاد رکھتی ہے، دوسری اسے آگے بڑھاتی ہے، تیسری اس میں نئی صورت پیدا کرتی ہے۔ تہذیب ایک ایسی میراث ہے جس میں ہر نسل کچھ نہ کچھ اضافہ کرتی ہے اور کچھ نہ کچھ دوسروں سے حاصل کرتی ہے۔
اگر مسلمان بینک کے بعض نظاموں کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مالیاتی ادارہ قائم ہی نہیں کرسکتے۔ اگر قومی ریاست کے ظلم سے اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی تنظیم اور نظمِ اجتماعی کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ اگر موبائل فون کے نقصانات ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مواصلات کی ایجاد ہی مذموم ہوگئی۔ اور اگر کار ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ مسلمان ایجاد سے دست بردار ہوجائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کریں جو انسان اور ماحول دونوں کے لیے بہتر ہو۔
اور سائیکل؟ سائیکل تو اس پورے قضیے میں شاید سب سے بے قصور چیز ہے۔ نہ اس نے کسی سے سود لیا، نہ کسی غریب کا خون چوما، نہ آسمان میں دھواں چھوڑا، نہ کسی سرحد پر پاسپورٹ مانگا۔ وہ خاموشی سے دو پہیوں پر کھڑی رہی، انسان نے پاؤں مارے اور وہ چل پڑی۔
لیکن ہم نے اسے بھی نہ چھوڑا۔ اس لیے میں اب کبھی سائیکل دیکھتا ہوں تو صرف اس کے دو پہیے نہیں دیکھتا؛ مجھے اس میں دو نظریات بھی نظر آتے ہیں: ایک پہیہ نقل و حرکت کا، دوسرا ورزش کا۔ اور میں سوچتا ہوں کہ اگر انسانی عقل ہر دو اچھی چیزوں کو ملانے سے ڈرے تو شاید تہذیب کبھی آگے نہ بڑھے۔
آخر سائیکل نے کیا گناہ کیا تھا؟ اس نے صرف اتنا کیا تھا کہ انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسے صحت مند بھی رکھنا چاہا تھا۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی خطا تھی۔

افسوس کیا سے کیا ہو گیے

*افسوس کیا سے کیا ہو گیے*

ایک صاحب تین ہزار روپے کے جوتے پہنتے ہیں،

کتاب معلوم کی، ہم نے کہا کہ پانچ سو روپے...
بولے : اتنی مہنگی؟

یعنی جوتے تین ہزار کے مہنگے نہیں...

ہوٹلوں پر ایک ایک وقت میں صرف زبان کے ذائقے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کر دینا مہنگا نہیں....

ڈاکٹر کو ذرا سی دوا کے ہزاروں روپے سر جھکا کر دے دینا مہنگا نہیں!

لاکھوں روپے کا موبائل استعمال کرنا مہنگا نہیں!

لیکن امام کو پانچ سو روپے ماہانہ دینا مہنگا ہے.....
مدرسہ میں پڑھنے والے بچے کے استاد کو تین سو روپے ماہانہ دینا مہنگا ہے...
اور دل و دماغ کھولنے والی کتاب کو پانچ سو روپے میں خریدنا مہنگا ہے...

اب ایسی ذہنیت والی قوم کے سروں پر جوتے نہ پڑیں تو کیا پھول برسائیں جائیں!

منقول

اساتذه كى صحيح فكر کریں

*اساتذه كى صحيح فكر کریں!*
*👈ہم نے‌ جگہ جگہ مدرسے بنا لیے۔۔۔ عمارتیں بلند کر* *لیں۔۔۔ در و دیوار سنوار لیے۔۔۔ فرشوں پر نفیس ٹائلیں بچھا دیں۔۔۔ دفاتر آراستہ کر لیے۔۔۔ مگر ایک سوال ہے: ان سب عمارتوں کے اندر قوم کا مستقبل تعمیر کرنے والےاُستاذ کا کیا بنا؟*
👈ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں: "اُستاذ قوم کا معمار ہے!"
مگر کبھی یہ بھی سوچا کہ جس معمار کے اپنے گھر کی بنیاد معاشی پریشانی، کم تنخواہ، عدمِ تحفظ اور مسلسل فکروں پر کھڑی ہو، وہ دوسروں کے مستقبل کی عمارت آخر کب تک مضبوط رکھ سکے گا؟
*👈ہم نے اُستاذ سے اخلاص مانگا؛ اُس نے دیا۔*
*محنت مانگی؛ اُس نے کی۔*
*وقت مانگا؛ اُس نے اپنی راحت قربان کر دی۔*
بچوں کے اخلاق سنوارنے کو کہا؛ اُس نے اپنی توانائی لگا دی۔
👈نتائج بہتر لانے کو کہا؛ اُس نے اپنی نیند، سکون اور ذاتی زندگی تک داؤ پر لگا دی۔
👈مگر کبھی ہم نے یہ بھی پوچھا: "اُستاذ! تم خود کیسے ہو؟"
👈یہ سوال شاید ہمارے پورے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا سوال ہے۔

👈ہمیں اُستاذ کی کلاس میں موجودگی چاہیے، مگر اُس کی زندگی میں سکون نہیں۔
👈ہمیں اُس کے لبوں پر علم چاہیے، مگر اُس کے دل میں چھپی پریشانی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔
ہمیں اُس سے نسلوں کی تربیت چاہیے، مگر اُس کے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں۔
*👈یہ کیسا انصاف ہے؟*
*ہم چاہتے ہیں کہ اُستاذ بچوں کو اعتماد دے، جبکہ وہ خود معاشی عدمِ تحفظ میں مبتلا ہو۔*
👈ہم چاہتے ہیں کہ وہ بچوں کو امید سکھائے، جبکہ وہ اپنے گھر کے اخراجات کے سامنے بے بس ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ وہ بچوں کو بڑے خواب دکھائے، جبکہ اُس کے اپنے خواب مسلسل ضرورتوں کے نیچے دب رہے ہوں۔
*👈پھر ہم حیران ہوتے ہیں:*
*مدارس تو بڑھ رہے ہیں، مگر مدرسے سے لوگ دور کیوں ہو رہے ہیں؟*
👈اُساتذہ تو موجود ہیں، مگر اُن کے لہجے میں وہ پہلی سی حرارت اور تڑپ کیوں نہیں؟
👈شاید ہم نے اُستاذ کو تھکا دیا ہے!
اور یاد رکھیے:
تھکا ہوا اُستاذ صرف ایک تھکا ہوا انسان نہیں ہوتا؛ وہ ایک پوری نسل کی تربیت کو تھکا دیتا ہے۔
ٹوٹا ہوا اُستاذ صرف ایک فرد نہیں ہوتا؛ اُس کے ساتھ کئی نسلوں کے خواب زخمی ہوتے ہیں۔

👈ہم اکثر ادارے کی عمارت کا بجٹ بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے گھر کا بجٹ بھی بنائیے۔
*ہم مستقبل کے لیے منصوبے بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچیے۔*
*👈ہم عمارت کی چھت مضبوط کرتے ہیں؛ کبھی اُس اُستاذ کے سر پر موجود چھت کا حال بھی دیکھیے۔*
ہم نئے کمرے بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے دل میں بھی ایک ایسا گوشہ بنائیے جہاں وہ اپنی پریشانیوں سے چند لمحوں کے لیے آزاد ہو سکے۔
اُستاذ پر احسان نہ کیجیے؛ اُس کا حق ادا کیجیے۔
اُسے صرف تنخواہ نہ دیجیے؛ اُسے معاشی اطمینان دیجیے۔
اُسے صرف ملازم نہ سمجھیے؛ اُسے قوم کے امین کی حیثیت سے دیکھیے۔
اُس سے صرف نتائج نہ مانگیے؛ اُسے وہ ماحول بھی دیجیے جس میں اچھے نتائج پیدا ہو سکیں۔
👈کیونکہ حقیقت یہ ہے:
عمارتیں اینٹوں سے بنتی ہیں، ادارے نظام سے چلتے ہیں،
مگر قومیں اچھے اساتذہ سے بنتی ہیں۔
*👈یہ بھی یاد رکھیے:*
*ایک اُستاذ جب کمزور ہوتا ہے تو صرف اُس کی زندگی* *کمزور نہیں ہوتی؛ اُس کے اثرات اُس کلاس روم سے نکل کر نسلوں تک پہنچتے ہیں۔*
👈اُس کا ایک تھکا ہوا دن، کسی بچے کے ایک کمزور سبق کا سبب بن سکتا ہے۔
اُس کی مسلسل معاشی فکر، کسی بچے کی تربیت سے اُس توجہ کا ایک حصہ چھین سکتی ہے جس کا وہ مستحق تھا۔
اور اُس کی بے قدری،‌ اُس کے اندر موجود اُس جذبے کو خاموش کر سکتی ہے جسے کسی نصاب میں دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔

*👈اس لیے اگر واقعی مدارس بچانے ہیں، مکاتب سنوارنے ہیں، نسلیں بنانی ہیں اور امت کا مستقبل محفوظ کرنا ہے تو صرف عمارتوں پر سرمایہ کاری نہ کیجیے۔۔۔ اُستاذ پر بھی سرمایہ کاری کیجیے۔*

👈ورنہ ایک دن ہم اپنے ہی بنائے ہوئے شاندار مدرسوں کے درمیان کھڑے ہوں گے اور خود سے پوچھیں گے:
عمارتیں تو ہیں۔۔۔ مگر وہ روح کہاں گئی؟
مدرسے تو ہیں۔۔۔ مگر وہ تاثیر کہاں گئی؟
کتابیں تو ہیں۔۔۔ مگر وہ کردار کہاں گئے؟
اُساتذہ تو ہیں۔۔۔ مگر وہ جذبہ، وہ تازگی، وہ دردِ امت کہاں گیا؟
👈اور شاید جواب کہیں دور سے آئے:
"تم نے گلشن تو سجا دیے تھے، مگر مالی کے ہاتھ زخمی کر دیے تھے!"
تب شاید یہ شعر دل کے دروازے پر دستک دے:
*اب شہرِ آرزو میں وہ رعنائیاں کہاں؟*
*ہیں گُل کدے نڈھال، بڑی تیز دھوپ ہے!*

👈سو، اگر واقعی گلشن کو پھر سے مہکانا ہے تو صرف پھولوں کی فکر نہ کیجیے۔۔۔ مالی کو بھی سایہ دیجیے۔
اُسے اتنی عزت دیجیے کہ اُس کے اندر خدمت کا جذبہ زندہ رہے۔
کیونکہ آخر میں بات بہت سادہ ہے:

*👈اُستاذ مضبوط ہوگا تو ادارہ مضبوط ہوگا،*
*ادارہ مضبوط ہوگا تو نسل مضبوط ہوگی،*
*نسل مضبوط ہوگی تو معاشرہ مضبوط ہوگا،*
*اور معاشرہ مضبوط ہوگا تو امت کا مستقبل مضبوط ہوگا۔*
اُستاذ کو کمزور کرکے ہم مضبوط نسل کی تعمیر نہیں کر سکتے۔
اور شاید آج ہمیں مدرسوں کی دیواروں سے زیادہ اُستاذ کے دل کی دیواریں بچانے کی ضرورت ہے۔

اللهم وفقنا جميعا لما تحب وترضى اللهم احفظنا من كل بلاء الدنيا وعذاب الآخرة اللهم ارناالحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه اللهم آمین یا رب

معاشرے کا سب سے بھیانک اور منافقانہ رخ

معاشرے کا سب سے بھیانک اور منافقانہ رخ وہ ہے جہاں لوگ اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنی اولاد کی فکری و اخلاقی پستی سے آنکھیں بند کر کے منبر و محراب کے وارثوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ امامِ مسجد پر طعنہ زنی کرنے والے اکثر وہ بیمار ذہن ہوتے ہیں جن کے اپنے گھر اجڑ رہے ہوتے ہیں، لیکن ان کی دوربین نظریں صرف امام کی زندگی کا طواف کر رہی ہوتی ہیں
1. "اردو کی مثل مشہور ہے: "چراغ تلے اندھیرا"۔ ایسے لوگ جو خود اندھیرے میں ڈوبے ہوتے ہیں، ان کی اپنی اولاد دین سے دور، اخلاق سے عاری اور آوارگی کا نمونہ ہوتی ہے۔ ان کے اپنے گھر والے بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنی ہانڈی کا ابال دیکھنے کے بجائے مسجد کے مصلّے پر تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔میاں! دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے ذرا اپنے گھر کی چوکھٹ تو دیکھو، جہاں اخلاقیات دم توڑ چکی ہیں۔"
2. "اپنی لنگڑی گائے نظر نہیں آتی، دوسروں کا صندل بھی کھوٹا لگتا ہے"۔امام پر طعنہ زنی کرنے والے کی مثال اس اندھے کی سی ہے جو ہاتھ میں لالٹین لے کر دوسروں کو راستہ دکھانے نکلے، مگر خود اندھا ہو اس کا اپنا گھر آگ کی لپیٹ میں ہو اور وہ اپنی پھونک سے دوسروں کی آگ بھڑکانے میں لگا ہو جس انسان کو اپنی اولاد کی تربیت کی توفیق نہ ہو، جسے اپنے گھر والوں کو سیدھے راستے پر رکھنے کا ڈھنگ نہ ہو، اسے یہ حق کس نے دیا کہ وہ اس خطیب پر اعتراض کرے جو پورے مجمع کی اصلاح کا ضامن ہے؟قرآن حکیم نے ایسے ہی لوگوں کی نفسیات کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا:"أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ"(کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟)
3.جناب پہلے اپنے گھر کا کچرا صاف کرو حسد کا علاج کرو "تمہیں امام کے تقویٰ یا عمل سے تکلیف نہیں، تمہیں تکلیف اس عزت سے ہے جو اللہ نے اسے منبر اور خلافت پر دی ہے اور تمہیں وہ عزت تمہارے گھر میں بھی میسر نہیں" جناب اپنی حدود میں رہا کرو مسجد کا کوئ مسئلہ ہو تو مل بیٹھ کر سلجھایا کرو ہیں"جتنی گہری نظر تم اپنے امام کے اٹھنے بیٹھنے اور اس کے خطبات پر رکھتے ہو ، اگر اس کی آدھی نظر بھی اپنی اولاد اور خاندان پر رکھتے ، تو آج تمہارا گھرانہ اور خاندان معاشرے کے لیے عبرت کی مثال بنا ہوتا۔" ارے شیشہ دیکھ اور اپنے عیوب تلاش کر"دوسروں کے پگڑی اچھالنے والے یاد رکھ کہ جس کے اپنے گھر کے شیشے چٹخ رہے ہوں، وہ دوسروں کے محلوں پر پتھر نہیں پھینکا کرتا
4. اپنی ناکامیوں کو چھپاتا ہے بقول شاعر:بڑا شریف ہے، اپنے گناہ چھپاتا ہےمگر دوسروں کے عیب اچھالنے میں ماہر ہے! اپنا گھرانا گناہوں اور اخلاقی خرابیوں سے چھلنی کی طرح سوراخ سوراخ ہے،اور مصلّے پر بیٹھے پاکیزہ امام کے دامن پر داغ ڈھونڈ رہا ہے پہلے اپنے ستر سوراخوں کو تو رفو کر لیں، پھر منبر رسولؐ کے وارثوں کا احتساب کیجیے گا" یہ منافقین کی پرانی عادت ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کی آوارگی پر پردے ڈالتے ہیں اور امامِ مسجد کے جائز حقوق یا معمولی سی لغزش پر بھی طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیتے ہیں۔
5 میاں! تمہاری دور بین نظریں امام کی پگڑی پر تو جمی ہیں، لیکن کبھی تم نے اپنے گھر کے اس آئینے پر بھی نظر ڈالی ہے جو تمہاری خانگی ناکامیوں کا رونا رو رہا ہے؟اگر اتنی ہی تفتیش، اتنی ہی کڑی نگرانی اور اتنا ہی وقت تم نے اپنی اولاد اور گھرانے کے کریکٹر پر صرف کیا ہوتا، تو آج تمہاری نسلیں سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے بجائے معاشرے کا کوئی کارآمد حصہ ہوتیں"جو انسان اپنے گھر کا نظام نہیں چلا سکتا، جس کی بات اس کی اپنی اولاد اور بیوی اور گھر والے نہیں مانتے وہ مسجد کے اس جرنیل پر اثر اندازی کی کوشش کر رہا ہے جس کی ایک آواز پر سینکڑوں لوگ صفیں سیدھی کر لیتے ہیں۔ یہ تمہاری ذہنی پستی اور حسد کے سوا کچھ نہیں!"
انبیاء کے وارث پر
طعنہ و تشنیع کرنے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو چاند کی طرف منہ کر کے بھونکتا ہے۔ چاند کی چاندنی کم نہیں ہوتی، بلکہ بھونکنے والے کا اپنا حلق خشک ہو جاتا ہے۔
چمگادڑ سورج کو کوستی ہے سورج میں عیب نکالتی ہے مگر اپنی آنکھوں کا عیب اور قصور نظر نہیں آتا

علمی سفر کو تابناک بنانے کے لیے لائحۂ عمل!

علمی سفر کو تابناک بنانے کے لیے لائحۂ عمل!

1. فراغت کو منزل نہیں، آغاز سمجھیں۔ ندوہ کا مقصد آپ کو مکمل عالم بنانا نہیں، بلکہ عالم بننے کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔


2. ہر سال اپنی علمی کمزوریوں کا جائزہ لیں۔ یہ پہچانیں کہ کن علوم میں مضبوط ہیں اور کن میدانوں میں مزید محنت درکار ہے۔


3. عربی زبان کو روزانہ وقت دیں۔ کلاسیکی اور جدید عربی کتابوں کا مطالعہ، لغت سے استفادہ، نوٹ نویسی اور تحریر کی مشق معمول بنائیں۔


4. صرف معلومات جمع نہ کریں، علمی شخصیت تعمیر کریں۔ منصوبہ بند مطالعہ، تلخیص، نوٹ سازی اور تحریر کی عادت اختیار کریں۔


5. قدرتِ تعبیر و توضیح پیدا کریں۔ علم کو اس انداز میں پیش کرنا سیکھیں کہ مختلف طبقوں کے لوگ اسے سمجھ سکیں۔


6. اپنے زمانے کے انسان کو سمجھیں۔ جدید تعلیم یافتہ نوجوان کے سوالات، زبان اور ذہنی پس منظر سے واقف ہوں۔


7. معاصر علوم کا سنجیدہ مطالعہ کریں۔ مغربی فلسفہ، جدید فکری تاریخ، سماجی علوم، سیاست، اخلاقیات اور جدید تہذیبی مباحث سے واقفیت حاصل کریں، تاکہ سوالات کی اصل بنیاد سمجھ سکیں۔


8. مخالف یا مختلف فکر کو سمجھے بغیر اس پر گفتگو نہ کریں۔ پہلے اس کے دلائل اور پس منظر کو سمجھیں، پھر علمی انداز میں جواب دیں۔


9. جذبات کے بجائے نظم و ضبط اپنائیں۔ روزانہ کا مستقل علمی شیڈول بنائیں، کیونکہ مسلسل محنت ہی شخصیت کو پروان چڑھاتی ہے۔


10. اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں، اپنے گزشتہ مقام سے کریں۔ ہر سال اپنے علم، فکر، اسلوب اور تحریر میں ترقی کو معیار بنائیں۔


11. ہمیشہ طالبِ علم رہیں۔ اپنی لاعلمی کا احساس برقرار رکھیں؛ یہی احساس مسلسل سیکھنے اور ترقی کا سبب بنتا ہے۔


تلخیص و ترتیب: نعمت اللہ
ماخوذ از تحریرِ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

مدرس (معلم) کی چند غلطیاں

 مدرس (معلم) کی چند غلطیاں
(1)... درس و تدریس کو محض ایک ڈیوٹی یا نوکری سمجھتا ہے، اسے ایک مقدس فریضہ اور امانت نہیں جانتا۔
(2)... سبق کی تیاری کے بغیر جماعت میں چلا جاتا ہے اور طلبہ کے سامنے روایتی یا لکیر کی فقیری والی تدریس پر اکتفا کرتا ہے۔
(3)... طلبہ کی علمی اور عملی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے صرف نصاب ختم کرنے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے۔
(4)... اپنے منصب اور ذمہ داری کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ نہیں کرتا، نئے تدریسی اسالیب اور جدید طریقوں سے دور رہتا ہے۔
(5)... طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت کا معاملہ کرنے کے بجائے سختی، تحکّم اور بے جا رعب جمانے کو ترجیح دیتا ہے۔
(6)... کمزور اور کند ذہن طلبہ کی طرف خصوصی توجہ دینے کے بجائے صرف لائق بچوں پر اکتفا کرتا ہے۔
(7)... اپنے ذاتی مسائل، غصے یا گھریلو پریشانیوں کا غبار طلبہ پر اتارتا ہے۔
(8)... ساتھی اساتذہ اور انتظامیہ کے ساتھ تعمیری تعاون کے بجائے گروہ بندی، چغلی اور منفی سیاست میں الجھا رہتا ہے۔
(9)... امانت داری کا حق ادا نہیں کرتا؛ تدریسی اوقات میں سستی کرتا ہے یا بلاوجہ وقت ضائع کرتا ہے۔
(10)... اپنے اخلاق، کردار اور عملی زندگی سے طلبہ کے لیے بہترین نمونہ بننے میں ناکام رہتا ہے۔
(11)... غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے تاویلات پیش کرتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار انتظامیہ یا طلبہ کو ٹھہراتا ہے۔
(12)... طلبہ کی امانتوں (کاپیوں کی جانچ، نتائج وغیرہ) میں لاپرواہی اور تاخیر سے کام لیتا ہے۔
(13)... اپنے فرائض کی انجام دہی میں خلوصِ نیت کی کمی رکھتا ہے اور صلے یا تحائف کی توقع زیادہ رکھتا ہے۔
(14)... اپنی ذات کو حرفِ آخر سمجھتا ہے، طلبہ کے سوالات کو سننے کے بجائے انہیں دبا دیتا ہے اور اصلاح کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔
نوٹ: ایک بہترین مدرس صرف نصاب پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک مربی، رہنما اور معمارِ قوم ہوتا ہے۔ مدرسے کی اصل روح اچھے اساتذہ کے اخلاص، محنت اور بہترین تدریس سے وابستہ ہے۔

مہتمم کی چند غلطیاں

*✅مہتمم کی چند غلطیاں✅* 



(1)...اساتذہ سے قربانیاں تو مانگتاہے مگر ان کے حقوق ادا کرنے میں سستی کرتاہے۔

(2)...ادارے کو خاندان،برادری یا ذاتی اثر و رسوخ کا مرکز بنا لیتاہے۔

(3)...طلبہ کی تربیت سے زیادہ اپنی شخصیت اور اختیار کے تحفّظ کی فکر کرتاہے۔

(4)...ہر اختلاف رائے کو بغاوت اور ہر سوال کو بے ادبی سمجھتاہے۔

(5)...ادارہ آباد کرنے والے پُرانے اساتذہ کو وقت آنے پر بوجھ سمجھنے لگتاہے۔

(6)...تنخواہوں میں تاخیر کو معمول سمجھتاہے،مگر اپنے انتظامی اخراجات میں کمی نہیں کرتا۔

(7)...استاد کے ٹوٹے ہوئے دل کو معمولی چیز سمجھتاہے، حالانکہ اسی استاد کے کندھوں پر ادارے کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔

(8)...استاد کی عزت اور وقار کو ادارے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی مرضی کا تابع سمجھتاہے۔

(9)...ادارے کی ترقی کا کریڈٹ خود لیتاہے لیکن خرابیوں کا الزام اساتذہ پر ڈال دیتاہے۔

(10)...اساتذہ کی معاشی مشکلات کو "صبر" اور "اخلاص"کے وعظ سے حل کرنے کی کوشش کرتاہے۔

(11)...خوشامد کرنے والوں کو قریب اور مخلص مشورہ دینے والوں کو دور رکھتاہے۔

(12)...نئے آئیڈیاز اور اصلاحی تجاویز کو اپنی مخالفت سمجھتاہے۔

*(13)...اساتذہ کی برسوں کی خدمات کو ایک شکایت یا افواہ کے سامنے بھول جاتاہے۔*

(14)...چندے اور تعمیرات میں دلچسپی زیادہ،جبکہ تدریسی معیار میں دلچسپی کم رکھتاہے۔

*نوٹ: ایک مدرسہ صرف عمارتوں،چندوں اور قواعد سے نہیں چلتا۔ادارے کی کامیابی اچھی قیادت،احترام،جوابدہی اور سیکھنے کے ماحول سے ہوتی ہے*۔(منقول)

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم