“میرے پیارے بیٹے! ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب جب چاہو مدینہ میں داخل ہو اور جب چاہو باہر جا سکو۔”
یہ عظیم ہستی میرے سب سے بڑے رول ماڈلز میں سے ایک ہے۔ تین لاکھ سے زائد افراد نے حبیب احمد مشہور الحدادؒ کے اخلاق، تقویٰ اور مجالس کے ذریعے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے دنیا کے انتہائی دور دراز علاقوں میں اسلام کی دعوت پہنچائی۔ دعوتِ دین کے لیے انہوں نے سواحیلی زبان روانی کے ساتھ سیکھ لی۔
حبیب احمدؒ اپنے گھر کے باہر بیٹھتے، اور جب کوئی غیر مسلم وہاں سے گزرتا تو محبت سے اسے چائے کے لیے اندر بلا لیتے اور نہایت شفقت اور نرمی سے گفتگو کرتے۔ لوگ چائے کا کپ ختم بھی نہ کر پاتے تھے کہ وہ کہہ دیتے:
“لا إله إلا الله محمد رسول الله ﷺ”
وہ تہجد کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ حتیٰ کہ بیماری کے عالم میں بھی انہوں نے کسی پر دروازہ بند نہیں کیا۔ ان کا گھر ہفتے کے ساتوں دن ہر شخص کے لیے کھلا رہتا تھا۔
ان کی زندگی اس مبارک ذات ﷺ کی کامل جھلک تھی جن کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے اعلیٰ ترین درجات عطا فرمائے۔
No comments:
Post a Comment