1. فراغت کو منزل نہیں، آغاز سمجھیں۔ ندوہ کا مقصد آپ کو مکمل عالم بنانا نہیں، بلکہ عالم بننے کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
2. ہر سال اپنی علمی کمزوریوں کا جائزہ لیں۔ یہ پہچانیں کہ کن علوم میں مضبوط ہیں اور کن میدانوں میں مزید محنت درکار ہے۔
3. عربی زبان کو روزانہ وقت دیں۔ کلاسیکی اور جدید عربی کتابوں کا مطالعہ، لغت سے استفادہ، نوٹ نویسی اور تحریر کی مشق معمول بنائیں۔
4. صرف معلومات جمع نہ کریں، علمی شخصیت تعمیر کریں۔ منصوبہ بند مطالعہ، تلخیص، نوٹ سازی اور تحریر کی عادت اختیار کریں۔
5. قدرتِ تعبیر و توضیح پیدا کریں۔ علم کو اس انداز میں پیش کرنا سیکھیں کہ مختلف طبقوں کے لوگ اسے سمجھ سکیں۔
6. اپنے زمانے کے انسان کو سمجھیں۔ جدید تعلیم یافتہ نوجوان کے سوالات، زبان اور ذہنی پس منظر سے واقف ہوں۔
7. معاصر علوم کا سنجیدہ مطالعہ کریں۔ مغربی فلسفہ، جدید فکری تاریخ، سماجی علوم، سیاست، اخلاقیات اور جدید تہذیبی مباحث سے واقفیت حاصل کریں، تاکہ سوالات کی اصل بنیاد سمجھ سکیں۔
8. مخالف یا مختلف فکر کو سمجھے بغیر اس پر گفتگو نہ کریں۔ پہلے اس کے دلائل اور پس منظر کو سمجھیں، پھر علمی انداز میں جواب دیں۔
9. جذبات کے بجائے نظم و ضبط اپنائیں۔ روزانہ کا مستقل علمی شیڈول بنائیں، کیونکہ مسلسل محنت ہی شخصیت کو پروان چڑھاتی ہے۔
10. اپنا موازنہ دوسروں سے نہیں، اپنے گزشتہ مقام سے کریں۔ ہر سال اپنے علم، فکر، اسلوب اور تحریر میں ترقی کو معیار بنائیں۔
11. ہمیشہ طالبِ علم رہیں۔ اپنی لاعلمی کا احساس برقرار رکھیں؛ یہی احساس مسلسل سیکھنے اور ترقی کا سبب بنتا ہے۔
تلخیص و ترتیب: نعمت اللہ
ماخوذ از تحریرِ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
No comments:
Post a Comment