مدرس (معلم) کی چند غلطیاں

 مدرس (معلم) کی چند غلطیاں
(1)... درس و تدریس کو محض ایک ڈیوٹی یا نوکری سمجھتا ہے، اسے ایک مقدس فریضہ اور امانت نہیں جانتا۔
(2)... سبق کی تیاری کے بغیر جماعت میں چلا جاتا ہے اور طلبہ کے سامنے روایتی یا لکیر کی فقیری والی تدریس پر اکتفا کرتا ہے۔
(3)... طلبہ کی علمی اور عملی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے صرف نصاب ختم کرنے کی دوڑ میں لگا رہتا ہے۔
(4)... اپنے منصب اور ذمہ داری کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ نہیں کرتا، نئے تدریسی اسالیب اور جدید طریقوں سے دور رہتا ہے۔
(5)... طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت کا معاملہ کرنے کے بجائے سختی، تحکّم اور بے جا رعب جمانے کو ترجیح دیتا ہے۔
(6)... کمزور اور کند ذہن طلبہ کی طرف خصوصی توجہ دینے کے بجائے صرف لائق بچوں پر اکتفا کرتا ہے۔
(7)... اپنے ذاتی مسائل، غصے یا گھریلو پریشانیوں کا غبار طلبہ پر اتارتا ہے۔
(8)... ساتھی اساتذہ اور انتظامیہ کے ساتھ تعمیری تعاون کے بجائے گروہ بندی، چغلی اور منفی سیاست میں الجھا رہتا ہے۔
(9)... امانت داری کا حق ادا نہیں کرتا؛ تدریسی اوقات میں سستی کرتا ہے یا بلاوجہ وقت ضائع کرتا ہے۔
(10)... اپنے اخلاق، کردار اور عملی زندگی سے طلبہ کے لیے بہترین نمونہ بننے میں ناکام رہتا ہے۔
(11)... غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے تاویلات پیش کرتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار انتظامیہ یا طلبہ کو ٹھہراتا ہے۔
(12)... طلبہ کی امانتوں (کاپیوں کی جانچ، نتائج وغیرہ) میں لاپرواہی اور تاخیر سے کام لیتا ہے۔
(13)... اپنے فرائض کی انجام دہی میں خلوصِ نیت کی کمی رکھتا ہے اور صلے یا تحائف کی توقع زیادہ رکھتا ہے۔
(14)... اپنی ذات کو حرفِ آخر سمجھتا ہے، طلبہ کے سوالات کو سننے کے بجائے انہیں دبا دیتا ہے اور اصلاح کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔
نوٹ: ایک بہترین مدرس صرف نصاب پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک مربی، رہنما اور معمارِ قوم ہوتا ہے۔ مدرسے کی اصل روح اچھے اساتذہ کے اخلاص، محنت اور بہترین تدریس سے وابستہ ہے۔

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم