مہتمم کی چند غلطیاں

*✅مہتمم کی چند غلطیاں✅* 



(1)...اساتذہ سے قربانیاں تو مانگتاہے مگر ان کے حقوق ادا کرنے میں سستی کرتاہے۔

(2)...ادارے کو خاندان،برادری یا ذاتی اثر و رسوخ کا مرکز بنا لیتاہے۔

(3)...طلبہ کی تربیت سے زیادہ اپنی شخصیت اور اختیار کے تحفّظ کی فکر کرتاہے۔

(4)...ہر اختلاف رائے کو بغاوت اور ہر سوال کو بے ادبی سمجھتاہے۔

(5)...ادارہ آباد کرنے والے پُرانے اساتذہ کو وقت آنے پر بوجھ سمجھنے لگتاہے۔

(6)...تنخواہوں میں تاخیر کو معمول سمجھتاہے،مگر اپنے انتظامی اخراجات میں کمی نہیں کرتا۔

(7)...استاد کے ٹوٹے ہوئے دل کو معمولی چیز سمجھتاہے، حالانکہ اسی استاد کے کندھوں پر ادارے کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔

(8)...استاد کی عزت اور وقار کو ادارے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی مرضی کا تابع سمجھتاہے۔

(9)...ادارے کی ترقی کا کریڈٹ خود لیتاہے لیکن خرابیوں کا الزام اساتذہ پر ڈال دیتاہے۔

(10)...اساتذہ کی معاشی مشکلات کو "صبر" اور "اخلاص"کے وعظ سے حل کرنے کی کوشش کرتاہے۔

(11)...خوشامد کرنے والوں کو قریب اور مخلص مشورہ دینے والوں کو دور رکھتاہے۔

(12)...نئے آئیڈیاز اور اصلاحی تجاویز کو اپنی مخالفت سمجھتاہے۔

*(13)...اساتذہ کی برسوں کی خدمات کو ایک شکایت یا افواہ کے سامنے بھول جاتاہے۔*

(14)...چندے اور تعمیرات میں دلچسپی زیادہ،جبکہ تدریسی معیار میں دلچسپی کم رکھتاہے۔

*نوٹ: ایک مدرسہ صرف عمارتوں،چندوں اور قواعد سے نہیں چلتا۔ادارے کی کامیابی اچھی قیادت،احترام،جوابدہی اور سیکھنے کے ماحول سے ہوتی ہے*۔(منقول)

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم