اساتذه كى صحيح فكر کریں

*اساتذه كى صحيح فكر کریں!*
*👈ہم نے‌ جگہ جگہ مدرسے بنا لیے۔۔۔ عمارتیں بلند کر* *لیں۔۔۔ در و دیوار سنوار لیے۔۔۔ فرشوں پر نفیس ٹائلیں بچھا دیں۔۔۔ دفاتر آراستہ کر لیے۔۔۔ مگر ایک سوال ہے: ان سب عمارتوں کے اندر قوم کا مستقبل تعمیر کرنے والےاُستاذ کا کیا بنا؟*
👈ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں: "اُستاذ قوم کا معمار ہے!"
مگر کبھی یہ بھی سوچا کہ جس معمار کے اپنے گھر کی بنیاد معاشی پریشانی، کم تنخواہ، عدمِ تحفظ اور مسلسل فکروں پر کھڑی ہو، وہ دوسروں کے مستقبل کی عمارت آخر کب تک مضبوط رکھ سکے گا؟
*👈ہم نے اُستاذ سے اخلاص مانگا؛ اُس نے دیا۔*
*محنت مانگی؛ اُس نے کی۔*
*وقت مانگا؛ اُس نے اپنی راحت قربان کر دی۔*
بچوں کے اخلاق سنوارنے کو کہا؛ اُس نے اپنی توانائی لگا دی۔
👈نتائج بہتر لانے کو کہا؛ اُس نے اپنی نیند، سکون اور ذاتی زندگی تک داؤ پر لگا دی۔
👈مگر کبھی ہم نے یہ بھی پوچھا: "اُستاذ! تم خود کیسے ہو؟"
👈یہ سوال شاید ہمارے پورے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا سوال ہے۔

👈ہمیں اُستاذ کی کلاس میں موجودگی چاہیے، مگر اُس کی زندگی میں سکون نہیں۔
👈ہمیں اُس کے لبوں پر علم چاہیے، مگر اُس کے دل میں چھپی پریشانی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔
ہمیں اُس سے نسلوں کی تربیت چاہیے، مگر اُس کے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں۔
*👈یہ کیسا انصاف ہے؟*
*ہم چاہتے ہیں کہ اُستاذ بچوں کو اعتماد دے، جبکہ وہ خود معاشی عدمِ تحفظ میں مبتلا ہو۔*
👈ہم چاہتے ہیں کہ وہ بچوں کو امید سکھائے، جبکہ وہ اپنے گھر کے اخراجات کے سامنے بے بس ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ وہ بچوں کو بڑے خواب دکھائے، جبکہ اُس کے اپنے خواب مسلسل ضرورتوں کے نیچے دب رہے ہوں۔
*👈پھر ہم حیران ہوتے ہیں:*
*مدارس تو بڑھ رہے ہیں، مگر مدرسے سے لوگ دور کیوں ہو رہے ہیں؟*
👈اُساتذہ تو موجود ہیں، مگر اُن کے لہجے میں وہ پہلی سی حرارت اور تڑپ کیوں نہیں؟
👈شاید ہم نے اُستاذ کو تھکا دیا ہے!
اور یاد رکھیے:
تھکا ہوا اُستاذ صرف ایک تھکا ہوا انسان نہیں ہوتا؛ وہ ایک پوری نسل کی تربیت کو تھکا دیتا ہے۔
ٹوٹا ہوا اُستاذ صرف ایک فرد نہیں ہوتا؛ اُس کے ساتھ کئی نسلوں کے خواب زخمی ہوتے ہیں۔

👈ہم اکثر ادارے کی عمارت کا بجٹ بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے گھر کا بجٹ بھی بنائیے۔
*ہم مستقبل کے لیے منصوبے بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچیے۔*
*👈ہم عمارت کی چھت مضبوط کرتے ہیں؛ کبھی اُس اُستاذ کے سر پر موجود چھت کا حال بھی دیکھیے۔*
ہم نئے کمرے بناتے ہیں؛ کبھی اُستاذ کے دل میں بھی ایک ایسا گوشہ بنائیے جہاں وہ اپنی پریشانیوں سے چند لمحوں کے لیے آزاد ہو سکے۔
اُستاذ پر احسان نہ کیجیے؛ اُس کا حق ادا کیجیے۔
اُسے صرف تنخواہ نہ دیجیے؛ اُسے معاشی اطمینان دیجیے۔
اُسے صرف ملازم نہ سمجھیے؛ اُسے قوم کے امین کی حیثیت سے دیکھیے۔
اُس سے صرف نتائج نہ مانگیے؛ اُسے وہ ماحول بھی دیجیے جس میں اچھے نتائج پیدا ہو سکیں۔
👈کیونکہ حقیقت یہ ہے:
عمارتیں اینٹوں سے بنتی ہیں، ادارے نظام سے چلتے ہیں،
مگر قومیں اچھے اساتذہ سے بنتی ہیں۔
*👈یہ بھی یاد رکھیے:*
*ایک اُستاذ جب کمزور ہوتا ہے تو صرف اُس کی زندگی* *کمزور نہیں ہوتی؛ اُس کے اثرات اُس کلاس روم سے نکل کر نسلوں تک پہنچتے ہیں۔*
👈اُس کا ایک تھکا ہوا دن، کسی بچے کے ایک کمزور سبق کا سبب بن سکتا ہے۔
اُس کی مسلسل معاشی فکر، کسی بچے کی تربیت سے اُس توجہ کا ایک حصہ چھین سکتی ہے جس کا وہ مستحق تھا۔
اور اُس کی بے قدری،‌ اُس کے اندر موجود اُس جذبے کو خاموش کر سکتی ہے جسے کسی نصاب میں دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔

*👈اس لیے اگر واقعی مدارس بچانے ہیں، مکاتب سنوارنے ہیں، نسلیں بنانی ہیں اور امت کا مستقبل محفوظ کرنا ہے تو صرف عمارتوں پر سرمایہ کاری نہ کیجیے۔۔۔ اُستاذ پر بھی سرمایہ کاری کیجیے۔*

👈ورنہ ایک دن ہم اپنے ہی بنائے ہوئے شاندار مدرسوں کے درمیان کھڑے ہوں گے اور خود سے پوچھیں گے:
عمارتیں تو ہیں۔۔۔ مگر وہ روح کہاں گئی؟
مدرسے تو ہیں۔۔۔ مگر وہ تاثیر کہاں گئی؟
کتابیں تو ہیں۔۔۔ مگر وہ کردار کہاں گئے؟
اُساتذہ تو ہیں۔۔۔ مگر وہ جذبہ، وہ تازگی، وہ دردِ امت کہاں گیا؟
👈اور شاید جواب کہیں دور سے آئے:
"تم نے گلشن تو سجا دیے تھے، مگر مالی کے ہاتھ زخمی کر دیے تھے!"
تب شاید یہ شعر دل کے دروازے پر دستک دے:
*اب شہرِ آرزو میں وہ رعنائیاں کہاں؟*
*ہیں گُل کدے نڈھال، بڑی تیز دھوپ ہے!*

👈سو، اگر واقعی گلشن کو پھر سے مہکانا ہے تو صرف پھولوں کی فکر نہ کیجیے۔۔۔ مالی کو بھی سایہ دیجیے۔
اُسے اتنی عزت دیجیے کہ اُس کے اندر خدمت کا جذبہ زندہ رہے۔
کیونکہ آخر میں بات بہت سادہ ہے:

*👈اُستاذ مضبوط ہوگا تو ادارہ مضبوط ہوگا،*
*ادارہ مضبوط ہوگا تو نسل مضبوط ہوگی،*
*نسل مضبوط ہوگی تو معاشرہ مضبوط ہوگا،*
*اور معاشرہ مضبوط ہوگا تو امت کا مستقبل مضبوط ہوگا۔*
اُستاذ کو کمزور کرکے ہم مضبوط نسل کی تعمیر نہیں کر سکتے۔
اور شاید آج ہمیں مدرسوں کی دیواروں سے زیادہ اُستاذ کے دل کی دیواریں بچانے کی ضرورت ہے۔

اللهم وفقنا جميعا لما تحب وترضى اللهم احفظنا من كل بلاء الدنيا وعذاب الآخرة اللهم ارناالحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه اللهم آمین یا رب

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم