معاشرے کا سب سے بھیانک اور منافقانہ رخ

معاشرے کا سب سے بھیانک اور منافقانہ رخ وہ ہے جہاں لوگ اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنی اولاد کی فکری و اخلاقی پستی سے آنکھیں بند کر کے منبر و محراب کے وارثوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ امامِ مسجد پر طعنہ زنی کرنے والے اکثر وہ بیمار ذہن ہوتے ہیں جن کے اپنے گھر اجڑ رہے ہوتے ہیں، لیکن ان کی دوربین نظریں صرف امام کی زندگی کا طواف کر رہی ہوتی ہیں
1. "اردو کی مثل مشہور ہے: "چراغ تلے اندھیرا"۔ ایسے لوگ جو خود اندھیرے میں ڈوبے ہوتے ہیں، ان کی اپنی اولاد دین سے دور، اخلاق سے عاری اور آوارگی کا نمونہ ہوتی ہے۔ ان کے اپنے گھر والے بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنی ہانڈی کا ابال دیکھنے کے بجائے مسجد کے مصلّے پر تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔میاں! دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے ذرا اپنے گھر کی چوکھٹ تو دیکھو، جہاں اخلاقیات دم توڑ چکی ہیں۔"
2. "اپنی لنگڑی گائے نظر نہیں آتی، دوسروں کا صندل بھی کھوٹا لگتا ہے"۔امام پر طعنہ زنی کرنے والے کی مثال اس اندھے کی سی ہے جو ہاتھ میں لالٹین لے کر دوسروں کو راستہ دکھانے نکلے، مگر خود اندھا ہو اس کا اپنا گھر آگ کی لپیٹ میں ہو اور وہ اپنی پھونک سے دوسروں کی آگ بھڑکانے میں لگا ہو جس انسان کو اپنی اولاد کی تربیت کی توفیق نہ ہو، جسے اپنے گھر والوں کو سیدھے راستے پر رکھنے کا ڈھنگ نہ ہو، اسے یہ حق کس نے دیا کہ وہ اس خطیب پر اعتراض کرے جو پورے مجمع کی اصلاح کا ضامن ہے؟قرآن حکیم نے ایسے ہی لوگوں کی نفسیات کو بے نقاب کرتے ہوئے فرمایا:"أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ"(کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟)
3.جناب پہلے اپنے گھر کا کچرا صاف کرو حسد کا علاج کرو "تمہیں امام کے تقویٰ یا عمل سے تکلیف نہیں، تمہیں تکلیف اس عزت سے ہے جو اللہ نے اسے منبر اور خلافت پر دی ہے اور تمہیں وہ عزت تمہارے گھر میں بھی میسر نہیں" جناب اپنی حدود میں رہا کرو مسجد کا کوئ مسئلہ ہو تو مل بیٹھ کر سلجھایا کرو ہیں"جتنی گہری نظر تم اپنے امام کے اٹھنے بیٹھنے اور اس کے خطبات پر رکھتے ہو ، اگر اس کی آدھی نظر بھی اپنی اولاد اور خاندان پر رکھتے ، تو آج تمہارا گھرانہ اور خاندان معاشرے کے لیے عبرت کی مثال بنا ہوتا۔" ارے شیشہ دیکھ اور اپنے عیوب تلاش کر"دوسروں کے پگڑی اچھالنے والے یاد رکھ کہ جس کے اپنے گھر کے شیشے چٹخ رہے ہوں، وہ دوسروں کے محلوں پر پتھر نہیں پھینکا کرتا
4. اپنی ناکامیوں کو چھپاتا ہے بقول شاعر:بڑا شریف ہے، اپنے گناہ چھپاتا ہےمگر دوسروں کے عیب اچھالنے میں ماہر ہے! اپنا گھرانا گناہوں اور اخلاقی خرابیوں سے چھلنی کی طرح سوراخ سوراخ ہے،اور مصلّے پر بیٹھے پاکیزہ امام کے دامن پر داغ ڈھونڈ رہا ہے پہلے اپنے ستر سوراخوں کو تو رفو کر لیں، پھر منبر رسولؐ کے وارثوں کا احتساب کیجیے گا" یہ منافقین کی پرانی عادت ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کی آوارگی پر پردے ڈالتے ہیں اور امامِ مسجد کے جائز حقوق یا معمولی سی لغزش پر بھی طوفان بد تمیزی کھڑا کر دیتے ہیں۔
5 میاں! تمہاری دور بین نظریں امام کی پگڑی پر تو جمی ہیں، لیکن کبھی تم نے اپنے گھر کے اس آئینے پر بھی نظر ڈالی ہے جو تمہاری خانگی ناکامیوں کا رونا رو رہا ہے؟اگر اتنی ہی تفتیش، اتنی ہی کڑی نگرانی اور اتنا ہی وقت تم نے اپنی اولاد اور گھرانے کے کریکٹر پر صرف کیا ہوتا، تو آج تمہاری نسلیں سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے بجائے معاشرے کا کوئی کارآمد حصہ ہوتیں"جو انسان اپنے گھر کا نظام نہیں چلا سکتا، جس کی بات اس کی اپنی اولاد اور بیوی اور گھر والے نہیں مانتے وہ مسجد کے اس جرنیل پر اثر اندازی کی کوشش کر رہا ہے جس کی ایک آواز پر سینکڑوں لوگ صفیں سیدھی کر لیتے ہیں۔ یہ تمہاری ذہنی پستی اور حسد کے سوا کچھ نہیں!"
انبیاء کے وارث پر
طعنہ و تشنیع کرنے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو چاند کی طرف منہ کر کے بھونکتا ہے۔ چاند کی چاندنی کم نہیں ہوتی، بلکہ بھونکنے والے کا اپنا حلق خشک ہو جاتا ہے۔
چمگادڑ سورج کو کوستی ہے سورج میں عیب نکالتی ہے مگر اپنی آنکھوں کا عیب اور قصور نظر نہیں آتا

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم