مار کے ساتھ حفظ کروانا کوئی تجربہ نہیں، بلکہ یہ اس وقت کا نتیجہ ہوتا ہے جب استاد خود محنت، طریقہ، رہنمائی اور نگرانی کے بغیر بچوں سے مکمل نتیجہ لینا چاہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب استاد توجہ دے تو بچے بغیر مار کے بھی پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔
مار کے بعد بچہ فریش نہیں ہوتا، وہ یا تو تکلیف میں ہوتا ہے یا غصے میں—اور ان دونوں حالتوں میں نہ کچھ یاد ہوتا ہے، نہ سمجھ آتی ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا تکلیف اور غصے میں انسان سیکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
جہاں ادب، احترام اور محبت ہو، وہیں یادداشت بنتی ہے۔
مار سے بچوں کے دل میں استاد کے لیے محبت نہیں، نفرت پیدا ہوتی ہے—اور نفرت اصلاح نہیں، بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔
سوچئے!
کسی بچے کو سب کے سامنے ذلیل کرنا، کان پکڑوانا، تھپڑ مارنا—
کیا اس سے اس کی عزت باقی رہتی ہے؟
نہیں، بلکہ وہ اندر سے سخت، ڈھیٹ اور بے حس ہو جاتا ہے۔
یہ فیصلہ کریں:
بچے کو خوف سے پڑھانا ہے یا شوق سے؟
خوف تو وہ روز کھا رہا ہے، اس کا فائدہ کہاں؟
ہم نے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جن پر مار کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
تو پھر سوال یہ ہے:
اثر جسم پر وار کا دیرپا ہوتا ہے یا دل و دماغ پر بات کا؟
ذرا خود سے پوچھیں:
اگر آپ کو مار پڑے تو آپ خوش ہوں گے یا تکلیف میں؟
اپنے طالبِ علمی کے دور میں جائیں—
مار وہاں پڑتی تھی جہاں نگرانی نہیں ہوتی تھی، اصلاح نہیں۔
ایک اور اہم بات:
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ بچے کن قربانیوں کے بعد مدرسے پہنچے ہیں؟
انہوں نے گھر، بہن بھائی، محلہ، گاؤں—سب کچھ قرآن کے لیے چھوڑا ہے۔
والدین نے کمائی کو چھوڑ کر قرآن کو ترجیح دی—
اور ہم ان کو مار کے ذریعے “انعام” دے رہے ہیں؟
آپ کہتے ہیں مار سے بچے پڑھتے ہیں—
لیکن سچ بتائیں:
اگر 10 بچے بھاگ گئے اور 5 رہ گئے،
تو جو 10 چلے گئے ان کا حساب کون دے گا؟
تجربہ یہ نہیں کہ آسان حل یعنی مار اپنا لیا جائے،
تجربہ یہ ہے کہ مسئلے کا درست، مؤثر اور رحمدل حل تلاش کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے اردگرد سے بکھر جاتے”
جب اللہ اپنے محبوب نبی ﷺ کو نرمی کی تعلیم دے رہا ہے،
تو ہم کس بنیاد پر سختی کو کامیابی سمجھیں؟
نبی کریم ﷺ نے محبت، شفقت اور حکمت سے تربیت فرمائی—
ہمیں بھی غور کرنا ہوگا۔
لہٰذا گزارش ہے:
مار کو ختم کریں، سختی چھوڑیں، توجہ، محبت اور حکمت اپنائیں—
اسی میں بچوں کی اصلاح ہے، اسی میں قرآن کی برکت ہے۔
اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.
No comments:
Post a Comment