Dec
Sunday,
29,

*قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلاء

قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلاء

*ایک شاگرد سے ملاقات*

گزشتہ دنوں ممبئی میں اپنے ایک شاگرد سے ملاقات ہوئی، یہ مولوی فرقان تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور مرکزالمعارف ممبئی سے سند یافتہ- یہ دارالعلوم عزیزیہ میرا روڈ میں میرے پاس متعدد کتابیں پڑھ چکے تھے، میں کبھی کبھی "گلزارِ دبستاں "کا جملہ "ملاّ فرقان خود را خراب کرد "ان پر چسپاں کرتا، تو مسکراتے اور مزہ لیتے- سکڑا ہوا چہرہ، چھوارے سا بدن، داڑھی کے عنوان سے چند بال ٹھوڑی سے لٹکے ہوے- پہلے کی طرح اب بھی چھوئی موئی ہی تھے، مجھے دیکھ کر کھل اٹھے، آؤ بھگت اور سلام و نیاز- ایک عرصے کے بعد انہیں دیکھا تو میری خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا، علیک سلیک کے بعد حال احوال کا تبادلہ ہوا تو پتہ چلا کہ ممبئی کی کسی ایمبیسی میں مترجم کا کام کر رہے ہیں- میں نے تنخواہ معلوم کی تو انہوں نے بتایا: تیس ہزار روپے - مجھے بڑی مسرت ہوئی، اکہرے جسم اور بے گوشت چہرے کے باوجود اطمینان کی چمک ان کی پیشانی پر نمایاں تھی- میں نے پوچھا کہ بیٹے! تم تو اچھی صلاحیت کے مالک تھے، کتب فہمی تمہاری مثالی تھی، حاضر باشی میں بھی اساتذہ میں تمہارے چرچے تھے، اتنی اچھی استعداد اور خدمت ایمبیسی میں؟

*وحشت ہے مجھے قلتِ تنخواہ سے یارو!*

کہنے لگا: مدارسِ اسلامیہ میں ہمارے لیے گنجائش ہی کہاں ہیں؟ خدمات زیادہ، مگر تنخواہ اس قدر کم کہ ہم جیسے غریبوں کا گزر بسر ہی ممکن نہیں- مجھے سمجھ سے پرے ہے کہ مدارس والے تنخواہیں کیوں نہیں بڑھاتے؟ ابھی تک وہی فرسودہ فکر اور وہی پٹا پٹایا نظام - اب تو ہر چیز بدل گئی، مدارس کا زاویۂ فکر بھی تبدیل ہونا چاہیے-

*مساجد بھی مدارس کے شانہ بشانہ*

اربابِ مدارس کی دیکھا دیکھی مساجد نے بھی اپنا قبلہ اب تک درست نہیں کیا، وہی پرانی روش اور وہی کج ادائیاں- تنخواہیں بے حد قلیل، ائمہ کا اکرام ندارد- آزار، جھڑکیاں اور قید و بند ان کا مقدر- مسجدیں بڑی خوب صورت، تاج محل کو ٹکر دیتی ہوئی، حسن و دل کشی میں لازوال، مگر ائمہ کی یافت وہی مختصر، اونٹ کے منہ میں زیرے جیسی- بے چارے ائمہ اپنی علمیت بھی ضائع کریں، تقریریں بھی ٹرسٹیوں کے مطابق ہوں، زندانی کیفیت میں شب وروز بھی گزاریں، معاشی بہتری کے لیے دوسری راہیں بھی مسدود، بایں ہمہ تنخواہ کا وہ معیار کہ:

آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

کی مصداق- بھلا بتائیے، ایسے میں امامت کی ہمت کون کرے اور جرأتِ رندانہ کہاں سے لاے؟ 

*مدارس مجاھدہ گاہ ہیں، معیشت گاہ نہیں*

میں اپنے عزیز کی اس تقریر پر دنگ تھا، میں نے کہا: بیٹے! تم تو جانتے ہی ہو کہ دنیا کو مؤمن کا "قیدخانہ "کہا گیا ہے، بعض احادیث میں اس پر "مسافر خانے "کا بھی اطلاق ہوا ہے، قید خانہ ہو یا مسافر خانہ، دل لگانے کی جگہ نہ یہ ہے، نہ وہ- امتِ مسلمہ "امتِ مجاھدہ "بھی ہے، مدارسِ اسلامیہ اور مساجد اساتذہ اور ائمہ کو یہی مجاھدے سکھاتے ہیں، قلیل تنخواہوں کے پیچھے ان کا یہی نقطۂ نظر کار فرما ہے، عہدِ نبوی سے لے کر قریب کے ماضئ مرحوم تک کے اکابر محض اشاعتِ اسلام کے لیے دینی اداروں سے وابستہ رہے، دنیا ان کے پیچھے ناک رگڑتی ہوئی آئی، مگر انہوں نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، لہذا قلتِ تنخواہ کا عذر "عذرِ لنگ "سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا-

*مجاھدے کی نوعیتیں بدل گئیں تو تنخواہوں کی نوعیتیں تبدیل کیوں نہ ہوں؟*

کہنے لگا: اب تو سب کچھ بدل چکا، ماضی کی زمین اور کل کا آسمان اپنا وجود کھو بیٹھا ہے، تبدیلی کی لہر نے جن جہانوں کو زیر و زبر کیا ہے، مدارس بھی اس سے اچھوتے نہیں رہے، مثلاً دیکھیے! پچھے ادوار میں طلبہ کی پٹائی کا بڑا ماحول تھا، اساتذہ ہر وقت عصا بدست اور "کف در فضا " رہتے، تنبیہ کے لیے دست و عصا کا استعمال ایک عام سی بات تھی، والدین کا ذہن بھی یہی تھا کہ تہدید و ضربت طلبہ کی استعداد کو جگاتی اور فنکاری کو ابھارتی ہے، اسی لیے داخلے کے وقت بچوں کے ذمے دار کہتے کہ ہڈی ہماری ہے اور کھال آپ کی- لیکن اب مار دھاڑ بالکل بند ہے، طلبہ جسمانی آزار سے مکمل محفوظ ہیں، اساتذہ کو سخت تاکید ہے کہ حرب و ضرب نہیں چلے گی، گوشِ شنوا نہ رکھنے والے مدرّسین کو فوراً سے پیش تر "باب الخروج "تک دکھا دیا جاتا ہے- دوسری مثال بھی لے لیجیے! پچھلے زمانے میں طلبہ کی صلاحیت سازی کے لیے مختلف علوم و فنون کی اہم کتابیں پڑھائی جاتی تھیں، اب وہ کتابیں "طاقِ نسیاں "کی یادگار بن چکی ہیں، ان کتابوں کے اخراج کی وجہ یہی بیان کی گئی کہ طلبہ کی برق طبعی پہلے جیسی نہیں رہی، یہ کمزور ہو گئے ہیں، اساتذہ بھی عدمِ مہارت کے سبب ان کتابوں کی تدریس کی اہلیت کھو بیٹھے - آج صدرا اور شمس بازغہ کا نام کتنوں کو معلوم ہے؟ اگر معلوم بھی ہو تو ان کی فنی وابستگی کون بتا سکتا ہے؟ جب اتنی تبدیلیاں نصابِ تعلیم وغیرہ میں واقع ہو گئیں اور اساتذہ و طلبہ کو مجاھدے سے بچا لیا گیا تو تنخواہ بے چاری نے کیا قصور کیا ہے کہ یہ "بَونی " بڑھتی ہی نہیں، اس کا نصاب آسانیاں پیدا کرنے سے آج بھی قاصر ہے، اب بھی چار ہزار، پانچ ہزار اور چھ ہزار روپے کو "معقول تنخواہ "نام زد کیا جا رہا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟

*جدید باصلاحیت فضلا اسی لیے بھاگ رہے ہیں*

سلسلۂ کلام میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنخواہ کے تئیں مدارس اور مساجد کے قدامت پسندانہ رجحان نے نوجوان فضلا کو پریشان کر رکھا ہے، کم زور اور متوسط استعداد کے حاملین نانِ شعیر پر ہی قناعت کر لیتے ہیں، کیوں کہ ان کا دائرۂ فکر و عمل آگے بڑھنے نہیں دیتا، وہ اپنی بے مائیگی، گھریلو پریشانی، تنگ دست پس منظر اور ناگفتہ بہ افلاس کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، ان کے پاس قناعت پسندی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کہ باصلاحیت فضلا ان مقامات کی خدمت سے گریزاں رہتے ہیں اور کثیرالمشاہرہ ادارے کی طرف رجوع ان کا ہدف ہوتا ہے- باتوں کا سلسلہ یہیں تک چلا تھا کہ ہمارے راستے جدا ہوگئے، سلامِ وداع کے بعد وہ اپنی منزل کی جانب، میں اپنے مستقر کی طرف-

*فضلاے مدارس حکومتی اداروں کی پناہ میں*

 اپنی منزل کی طرف میں جوں جوں بڑھ رہا تھا، عزیز مکرم کے خیالات ذہن میں گردش کر رہے تھے، دیر تک میں اسی سوچ میں غرق رہا کہ ممتاز صلاحیتیں اگر اسی طرح مدارس اور مساجد سے بھاگتی رہیں اور امت کی قیادت مفقودالاستعداد علما کے حصے میں آنے لگی تو اس قوم کا کیا ہوگا؟

دیکھا یہ گیا ہے کہ ممتاز ترین فضلاے ندوہ بالعموم خلیجی ممالک میں سرکاری محمکوں کے کلرک ہوتے ہیں، ان کی یافت زوردار اور مرفہ الحالی اپنے جوبن پر ہوتی ہے، اقتصاد کی یہ کیفیت ان کے لیے کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو، لیکن مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحب اس رجحان سے نالاں رہتے اور فرماتے کہ ندوہ نے تعلیمی سلسلہ حکومتی اداروں کو کلرک دینے کے لیے جاری نہیں کیا تھا، اس کا مقصد دنیا بھر میں اسلام کی اشاعت ہے، فضلا کی موجودہ صورتِ حال میرے لیے مایوس کن ہے- یہ بات حضرت علی ندوی کی فضلاے ندوہ سے متعلق ہے، مگر اس باب میں وہ بھی تنہا نہیں رہے، تازہ ترین حقائق یہ ہیں کہ فضلاے دارالعلوم بھی حکومتی اداروں سے مربوط رہنے میں اپنی سلامتی باور کرتے ہیں، فراغت پاتے ہی ذی استعداد فضلا کا رخ یونیورسٹیوں کی جانب ہو جاتا ہے، قال اللہ اور قال الرسول کے زمزموں سے دارالحدیثوں کو معمور کر دینے والے طلبہ علوم عصریہ کی طرف ایسے لپکتے ہیں گویا ان کے دامن زر و گوہر سے ہنوز خالی ہوں-

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عصری دانش گاہیں خوبیوں سمیت اپنے ساتھ بڑی خرابیاں بھی لاتی ہیں، ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر تازہ کر لیجیے:

گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ

چناں چہ مشاھدہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں داخلہ ہوتے ہی سب سے پہلا حملہ ان کے حلیہ پر ہی ہوتا ہے، مشرقیت ختم ہو جاتی ہے اور مغربیت ان کے انگ انگ سے مترشح - ستم بالاے ستم یہ کہ علماے اسلام اور ان کے مراکز ان کی نگاہوں میں نہیں جچتے ، خوش عیشی اور تن آسانی انہیں اسلام بیزار بنا دیتی ہے- یہ دینی علوم کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے؟ 

*بورڈ کے مدارس میں علما کی بھیڑ*

 سرکار سے ناوابستہ دینی اداروں میں تنخواہوں کی خرگوش روی کا ایک مذموم اثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بورڈ کے مدارس پر فضلاے مدارس دیوانہ وار گرنے لگے ہیں، قرض لے لے کر اور بھاری بھرکم رشوت دے دے کر یہ لوگ ان سے مربوط ہو رہے ہیں، جاہل اور غیرمستند فضلا اپنی مثالی رشوت کے بل پر بڑے بڑے عہدوں پر بھی براجمان ہیں، اساتذۂ حکومت کا خیال ہے کہ یہاں کی تدریس سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے،  ہر طرح منفعت بخش ، اخراج کا خوف دل میں نہیں رہتا، تنخواہ معقول ترین اور دل خواہ ہوتی ہے، اس کے بڑھنے کی رفتار بھی برق آسا- یہاں بلا وجہ کی محکومی بھی نہیں، حریفوں کا دباؤ بھی نہیں، اور آزادی کی آزادی بھی ہے- 

*عزل تو مکروہ ہے*

بورڈ کے ایک مدرس سے میری ملاقات ہوئی، کہنے لگے: مولانا! آپ حضرات مدرسہ بورڈ کو نگاہِ حقارت سے دیکھتے ہیں اور ہماری کمائی کو مکروہ گردانتے ہیں، ایسا کیوں؟ میں نے کہا کہ بورڈ کے مدارس میں تعلیم صفر ہوتی ہے اور آمدنی محنت سے زائد، کہنے لگے کہ ایک لطیفہ یاد آیا، اجازت ہو تو سناؤں! میں نے کہا: جی ضرور، کہنے لگے کہ ایک شخص زنا میں ملوث ہوا، نتیجتاً عورت حاملہ ہوگئی، لوگوں نے زانی کا پتہ پوچھا تو ناچاروناچار عورت کو بتانا پڑا، زانی پکڑا گیا اور اسے سزا ملی، کسی دوست نے اس سے پوچھا کہ نفس کی شرارت سے اگر تو نے زنا کر ہی لیا تو "عزل "سے کام لے لیتا تا کہ عورت کو علوق ہی نہ ہو اور تو بچ جاتا! کہنے لگا کہ عزل کیسے کرتا؟ عزل تو مکروہ ہے- ٹھیک یہی حال ہمارے بعض علما کا ہے، الٹی سیدھی رسیدیں چھپا کر چندہ کرتے ہیں، فرضی مدارس کے عنوان سے مال کی فراہمی ہوتی ہے، دین کے نام پر اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں، اساتذہ کی ضروریات کا خیال بالکل نہیں رکھتے مگر جب ان سے کہا جاے کہ مدرسہ بورڈ سے منسلک ہو جائیے! تو بے تکلف کہتے ہیں کہ بورڈ کی تنخواہ مکروہ ہے- ایں چہ بوالعجبی ست؟

*لہذا مدارس والے بھی تنخواہ کا معیار بلند کریں*

کوئی مانے یا نہ مانے، وقت بہت کچھ بدل چکا، مادیت ہر جگہ اپنے پاؤں پسار چکی ہے، گرانی در گرانی سے حالات دگرگوں ہیں - وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس اور مساجد والے بھی اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہوں کا معیار بلند ترین کریں - پچھلے دور میں اخراجات کم تھے،اس لیے چل جاتا تھا، اب بڑھ گئے ہیں، ہر استاذ اور امام اپنے بچوں کو عصری علوم دلانا چاہتے ہیں، عصری علوم کی گرانی کون نہیں جانتا، داخلے کی فیس اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ ہوش اڑ جائیں، پھر کتابوں کی خرید، ان کے ماسوا دیگر اخراجات- سالانہ حساب لگائیے تو ابتدائی جماعتوں میں ہی ایک بچے پر ساٹھ ہزار خرچ ہو جاتے ہیں، اگر علما و ائمہ کی تنخواہیں وہی چھ ہزار ہوں اور ساٹھ ہزار بچے کی پڑھائی میں چلے گئے تو گھر کے دیگر اخراجات کی سبیل کیا ہوگی؟ اس پہلو پر کون غور کرے گا؟ لہذا مدارس اور مساجد پر لازم ہے کہ اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہیں بڑھائیں، الحمدللہ ہمارے دیوبند میں تنخواہیں معقول ہیں، دارالعلوم دیوبند سمیت تقریباً تمام ہی بڑے ادارے اپنے اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، مگر بیشتر ملک کے دیگر مدارس میں تنخواہ کے تئیں پرانی روایتیں اب بھی برقرار ہیں، وہاں اب بھی وہی چار، پانچ اور چھ ہزار کو بیس ہزار کا مساوی سمجھا جاتا ہے اور برکت برکت کی رٹ لگا کر اساتذہ کی دل شکنی کی جاتی ہے، کام خوب لیتے ہیں اور تنخواہ وہی گئی گزری اور پژمردہ- آج کے ماحول میں تنخواہ کی شروعات پندرہ ہزار سے ہونی چاہیے، پھر درجہ بدرجہ مزید اور مزیدتر - اس سے نیچے کی تنخواہ کو تنخواہ کہنا علم دین کی توہین ہے- مشہور محدث سفیان ثوری فرماتے ہیں: اگر علما کے پاس دولت نہ ہو تو دنیا دار لوگ علما کو رومال بنالیتے ہیں، جسے استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے-

*مدارس کا نظام اللہ چلاتا ہے*

جو شے زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ زیادہ بڑھتی ہے، تنخواہیں بڑھائیں گے تو مدرسے کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تنخواہ کس بنیاد پر بڑھائی جاے، ادارے کا سالانہ بجٹ اس کی اجازت نہیں دیتا، ان کی فکر کا قبلہ درست نہیں ہے- قوم دینے کو تیار ہے، آپ تنخواہیں بڑھائیے،پھر دیکھیے: خوش دل اساتذہ اپنی خدمات کس طرح پیش کرتے ہیں! دارالعلوم کے رابطۂ مدارس اجلاس میں بار بار اس موضوع کو اساتذۂ دارالعلوم نے اٹھایا، مگر اس موضوع پر سنجیدہ نظر شاید ڈالنا نہیں چاہتے- اللہ جانے کیوں؟

"مفتی" کون ؟؟

"مفتی" کون ؟؟

استاد محترم حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ پاکستان میں مفتی کورس کا کوئی تصور ہی نہیں تھا،جب ہم دونوں بھائیوں نے درس نظامی مکمل کیا تو ہمارے والد صاحب نے فقہ میں مہارت حاصل کرنے اور فتوی دینے کے لئے ہمیں ایک نصاب بنا کر پڑھایا اور اس کے بعد دوسری شرط یہ رکھی کہ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد آپ نے بیس تیس سال کسی ماہر مفتی کے نگرانی میں مشق کرنا ہے اس تربیت کے بعد بڑے مشورہ کریں گے اگر ان کو تسلی ہوئی تو آپ کو "مفتی" لقب مل سکتا ہے ورنہ نہیں۔
آج بھی دارالعلوم کراچی میں کئی سفید ریش علماء کو مفتی لکھنے کی اجازت تاحال نہیں مل سکی۔

گویا نصاب کے ساتھ "مفتی" بننے کے لئے دو چیزیں لازم تھیں:
 (1) کم ازکم بیس سال تربیت و تمرین، 
(2) بڑوں کا اعتماد۔

استاد جی نے شکوہ کیا ہے کہ آج کل تو تخصص کے کلاس میں داخلہ لیتے ہی بعض طالب علم اپنے نام کے ساتھ "مفتی" لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔یہی بے احتیاطی ہے کہ ہر جگہ مفتی ملتا ہے۔
فرماتے ہیں کہ حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ دار العلوم دیوبند میں جب کو سائل مسئلہ پوچھنے آتا تو ہر مفتی یہ کہہ کر اس کو دوسرے کے پاس بھجتے کہ میں چھوٹا ہوں اس عالم سے پوچھیئے وہ مجھ سے بڑا ہے، آج کل ہر کوئی خود کو بڑا کہتا ہے۔
۔۔۔۔۔

 اصل میں المیہ یہ ہے کہ صرف یک سالہ و دو سالہ نصاب رہ گیا، تربیت کی شرط کو حذف کر دیا گیا اور بلا کسی امتحان و اطمینان کے، ہر کوئی خود کو ہی مفتی لکھنا شروع کر دیتا ہے۔بلکہ بعض تو اس شوق میں خود کو مفتی لکھتے ہیں کہ مفتی سے انسان بڑا سمجھا جاتاہے ۔

ہم نے بڑوں سے سنا ہے کہ مفتی اللہ تعالی کا خلیفہ ہوتا ہے اس کے مہر سے عام آدمی کے لئے کوئی چیز حرام بھی بن جاتا ہے اور حلال بھی۔

یاد رکھئے!
اہلیت کے بغیر جب کوئی کسی منصب و عہدہ کو سنبھالتا ہے تو اداروں کے ادارے بلکہ معاشرے برباد ہو جاتے ہیں۔
مفتی کوئی عہدہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، حتی المقدور خود کو بلا ضرورت اس ذمہ داری سے بچانا چاہئے ...
Dec
Tuesday,
24,

برتھ سرٹیفکیٹ کیوں ضروری

*کیا زیادہ تر مسلمان بھائی اسکول کے سرٹیفکیٹ پر درج تاریخ پیدائش کو پیدائش کے ثبوت کے طور پر سمجھتے ہیں؟*

اہم خبر 

جن شہریوں کی پیدائش کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے، وہ صرف 27 اپریل 2026 تک رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ مدت کسی بھی صورت میں نہیں بڑھائی جائے گی۔

اس کے علاوہ، پورے ملک میں یکم اکتوبر 2023 سے پیدائش و وفات کی رجسٹریشن (ترمیمی) قانون 2023 نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیدائش کا سرٹیفکیٹ اب مختلف سرکاری کاموں کے لیے ثبوت کے طور پر استعمال ہوگا۔

مسلمان بھائیوں کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ شہری ہونے کا سب سے مضبوط ثبوت پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اسکول کے سرٹیفکیٹ پر درج تاریخ کو ہی پیدائش کی تاریخ سمجھ لیتے ہیں، جو غلط ہے۔

🔹 پیدائش کی رجسٹریشن میں نام شامل کرنے کی آخری تاریخ پہلے 14 مئی 2020 تھی، جسے اب بڑھا کر 27 اپریل 2026 کر دیا گیا ہے۔

پیدائش کے سرٹیفکیٹ میں نام شامل کرنے کے لیے شہریوں کو درخواست کے ساتھ درج ذیل میں سے کسی دو ثبوت جمع کرانے ہوں گے:

اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ

تعلیمی سرٹیفکیٹ (دسویں یا بارہویں جماعت)

پاسپورٹ

پین کارڈ

آدھار کارڈ


🔹 1969 سے پہلے یا اس کے بعد جن شہریوں کی پیدائش کی رجسٹریشن صرف نام کے بغیر ہوئی ہے، وہ دوبارہ یہ موقع حاصل کر سکتے ہیں۔

🔹 جن کے انتقال ہو چکے ہیں اور ان کی وفات یا پیدائش کا اندراج نہیں ہوا، ان کے اہل خانہ یہ اندراج کروائیں۔

🔹 اب پیدائش کی رجسٹریشن عدالتی طریقہ کار کے بجائے تحصیل آفس کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔

مسلمان بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ مستقبل میں یہ ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

🔹 اسکول، کالج میں داخلہ، نوکری، اہم سرکاری کام، یا بیرون ملک سفر کے لیے پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

🔹 حکومت نے ایک بار پھر ان لوگوں کو موقع فراہم کیا ہے جو اپنے یا اپنے بچوں کی پیدائش کا اندراج کروانے سے محروم رہ گئے تھے۔

🔹 1969 سے پہلے کے پیدائش کے اندراجات، جن میں نام شامل نہیں ہیں، ان کے لیے بھی درخواست دی جا سکتی ہے۔

🔹 حکومت کے صحت عامہ کے ڈائریکٹر نے تمام مقامی انتظامیہ کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں۔

🔹 15 سال سے زیادہ پرانے پیدائش کے اندراج میں بھی اب نام شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ سہولت صرف 27 اپریل 2026 تک دستیاب ہوگی۔

🔹 اب پیدائش و وفات کا سرٹیفکیٹ آدھار کارڈ کی طرح ایک مستند شناختی دستاویز کے طور پر استعمال ہوگا۔

*مسلمان بھائیوں کو یہ بات ضرور سمجھانی چاہیے تاکہ وہ اس معاملے میں غفلت نہ برتیں۔
Dec
Sunday,
22,

شکیل ابن حنیف کا مکمل تعارف

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد:-
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
امید ہے کہ گروپ میں موجود تمام احباب بخیر وعافیت ہونگے 
انشاءاللہ 
آپ حضرات کا بہت بہت شکریہ کہ آپ حضرات نے ناچیز کو 
معلون کذاب مدعئ مہدویت ومسیحیت شکیل ابن حنیف خان لعنۃ اللہ علیہ ۔
کے تئیں اظہار خیال کا موقع فراہم کیا 
شکیل ابن حنیف مردود
کے متعلق کیا لکھوں اور کیسے لکھوں میرے پاس الفاظ نہیں ہے 
مگر سوء اتفاق میرا تعلق بھی موضع عثمان پور ،پوسٹ رتن پورہ وایا لہیریا سرائے ضلع دربھنگہ بہار سے ہے 
اور یہ میرا دینی وایمانی فریضہ بھی ہے لھذا 
اس سلسلے میں جو میری  معلومات ہے آپ حضرات کے ساتھ شیر کروں گا تاکہ قوم و ملت کے دین و ایمان کا تحفظ ہو سکے اور امت مسلمہ کو اس عظیم فتنے سے بچایا جاسکے
حدیث مبارکہ میں ہے
بلغواعنی ولوایۃ 
پہنچا دو میری جانب سے اگرچہ ایک ہی بات ہو ۔
سن 2005میں میری پہلی ملاقات شکیل ابن حنیف خان سے ہوئ ہمارے آبائ گاؤں عثمان پور المعروف (عثماں رتن پورہ) میں ہوئ
جب وہ بہت لمبے عرصے بعد گاؤں آیا تھا 
درمیانہ قد سانولا رنگ پیشانی پر سجدے کا نشان آنکھوں میں سرمہ چہرے پرلمبی گھنی داڑھی گیروا رنگ کا  لمبا کرتا خوشبو سے معطر چھوٹا پاجامہ ہاتھوں میں تسبیح گویا دیکھنے والوں کو ایک بار دھوکہ جائے کہ کوئ بہت بڑا اللہ والا ہے
جب میں نے دیکھا تو مجھے بھی لگا کہ کو نیک آدمی ہے بہرحال سلام کلام ہوا
تعارف ہوا ایک دوسرے کا تو معلوم ہوا کہ گاؤں ہی آدمی ہے مجھے بےحد مسرت اس وقت ہوئ جب اس نے گاؤں کی مسجد میں  دعوت وتبلیغ کا کام شروع کیا
میں بھی کئ مجلس میں شریک ہوا ہمارے محلے کے اکثر نوجوان اس کے ساتھ ہوگئےہمارے گاؤں میں دو مساجد ہیں دونوں میں اس نے تبلیغ کا کام 
کیا خوب محنت کی یہاں تک کہ عصر بعد گشت ہونے لگی چائے ناشتے اہتمام شکیل کی طرف سے کیا جانے لگا ایک انقلاب برپا کردیا اس نے دونوں محلے میں خاص طور پر نوجوانوں میں دین کے تئیں بہت بیداری پیداکردی میں گاہے بگاہے اس سے ملنے لگا یہ سوچ کر کہ بدعت کے گہوارے میں حق کی شمع کو روشن کررہا تھا یہ بڑی خوش آئند بات تھی 
المختصر 
کہ آہستہ آہستہ  پس پردہ اپنے مشن پر کام کرنے لگا
نتیجتاً نوجوان اس سے کترانے لگے ان نوجوانوں میں میرے منجھلے بھائی جناب ایڈوکیٹ ظفر اقبال (جگنو) بھی تھے 
پہلی بار انہوں نے ہی مجھے بتایا کہ شکیل خود کو مہدی علیہ السّلام اور عیسیٰ علیہ السّلام کہتا ہے 
جب یہ بات میں نے سنی تو محلے کے ایک نوجوان دوست محمد قتیل کے ساتھ اس خبر کی تصدیق کے لئے براہِ راست شکیل سے ملاقات کے لئے اس کے گھر گیا سلام وکلام کے بعد اس آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے اپنی بات رکھی کہ میں نے سنا ہے کہ آپ خود حضرت مہدی علیہ الرضوان اور عیسیٰ علیہ السّلام کہتے ہیں ؟کیا یہ سچ ہے ؟
تو اسکے جواب میں اس نے کہا کہ 
((اگر کوئ شخص کسی چیز کا دعویٰ کرے تو اس سے دلیل مانگنی چاہئے اگر دلیل دے دے تو سچا ہے ورنہ چھوٹا ہے))
تو اسطرح کہ گول مول جواب سے میں سمجھ کیا کہ واقعی یہ شخص اسطرح کا دعویٰ کرتاہے 
میرا دوست قتیل جو زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہے اس نے سوال کیا کہ اگر آپ مہدی علیہ السّلام ہیں تو کوئ کرامت دکھائیں تو اس کے جواب میں اس نے کہا کہ
((ایسا کسی حدیث میں لکھا ہے کیا کہ حضرت مہدی لوگوں کو کرامت دکھائیں گے))
میں نے اس کے بعد اس سے کوئ بات نہیں کی کیونکہ میں اسکی چالاکی اور عیاری کو سمجھ گیا تھا اس کے بعد میں وہاں سے آگیا
دوبارہ اس سلسلے میں کبھی کوئ بات میری اس سے نہیں ہوئ صرف ایک تھلوارا اسٹیشن سے آتے ہوئے راستے میں ملاقات ہوئی تو اس نے مجھ کہا کہ آپ حیدرآباد دکن میں رہتے ہیں وہاں ہمارے لوگ بہت سے ہیں
میں سمجھا دوست احباب ہوںگے بعد میں معلوم ہوا کہ اسکے متبعین ہیں وہاں ۔یہی میری آخری ملاقات تھی
اور بس 
وقت گذرتا گیا اور یہ ساری باتیں رفتہ رفتہ ذہن نکلتی چلی گئیں 
اور پھر ملک کے مختلف شہروں سے یہ اطلاعات موصول ہونے لگی کہ شکیل ابن حنیف خان لعنۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں پر ہزاروں نوجوان بیعت ہوکر مرتد ہوگئے آج دہلی کے لکشمی نگر علاقے میں تو کل اورنگ آباد میں بھوپال میں تو کبھی ممبئی کے اسی طرح حیدرآباد پٹنہ دربھنگہ، بیگوسرائے ،موتیہاری وغیرہ
میں لاکھوں نوجوان اس کے چنگل میں پھنس کر دائرہ اسلام سے خارج ہورہے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے 
ادھر گاؤں میں بھی چند نوجوانوں کے متعلق کچھ باتیں میرے علم میں آئ ایسی صورتحال میں میں نے علاقائی چند نوجوان علمائے کرام کے ساتھ مشاورت کرکے اور گاؤں اور علاقہ میں چل رہی اس ارتداد کی آندھی کو روکنے کے لئے 
مدرسہ سراج العلوم عثمان پور کی بنیاد 23-جولائ -2015ء
کو انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں رکھی گئ ۔
فللہ الحمد 
اور آج بھی ادارہ مختصر وسائل کے باوجود اپنے مشن پر گامزن ہے 
مطبخ میں پندرہ بچے ہیں جو اپنی علمی تشنگی بجھارہے ہیں
مقامی طلبہ وطالبات 35سے 40کے درمیان ہیں۔
ساتھ ہی ادارہ ردفتنئہ شکیلیت پر  حتی المقدور کام کررہا ہے اس سلسلے میں راقم الحروف نے ازہرہند دارالعلوم دیوبند کےمہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب دامت برکاتہم کو مفصل ایک خط بھیج کر گاؤں کی صورتحال سے واقف کرایا اور حضرت مدعو کیا الحمد للہ حضرت نے بر وقت نوٹس لیا اور جوابی خط ارسال فرمایا 
اور کہا کہ اس سلسلے میں حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری زیادہ مناسب رہیں گے لھذا حضرت کی ایما پر مولانا شاہ عالم گورکھپوری صاحب نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند تشریف لائے اور ایک اجلاس عام میں بعنوان تحفظ ختم نبوت ورد فتنئہ شکیلیت جامع خطاب فرمایا اسی جلسہ میں مدرسہ ھذا کے تین بچوں نے حفظ قرآن کریم کی تکمیل کی اور انکی دستاربندی بھی کی گئ جس کے گواہ جناب انجنیر ذیشان بھائی جن کا تعلق پٹنہ سے ہیں دہلی  میں مقیم ہیں اور رد شکیلیت پر جن کی گرانقدر خدمات ہے اللہ تعالٰی قبول فرمائے جو اس گروپ میں الحمد للہ موجود ہیں ‌۔
گاؤں کے اکثر لوگ ناخواندہ ہیں اور عقائد صحیحہ سے دور یعنی کٹر سنی بریلوی ہیں۔
لھذا میری باتوں کو اگرچہ کتنی صحیح کیوں نہ ہو 
بالکل سننا پسند نہیں کرتے ہیں 
لھذا جلسے میں گاؤں کے بہت کم لوگ شریک ہوئے البتہ علاقہ کے ہزاروں لوگوں نے جلسے میں شرکت کی اور وہاں کتابیں پمفلٹس وغیرہ تقسیم کی گئ جس سے علاقے میں اس سلسلے میں بیداری پیدا ہوئ
اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے 
شکیل ابن حنیف خان کا گھرانہ گاؤں میں ایک شریف اور تعلیم یافتہ گھرانہ تسلیم کیا جاتاہے
اس نے عصری تعلیم شفیع مسلم ہائی اسکول دربھنگہ دسویں تک کی اور سی ایم سائنس کالج دربھنگہ میں آئ ایس سی داخلہ لیا دوران تعلیم تبلیغی جماعتوں میں وقت لگانے لگا اور بالآخر فائنل امتحان میں نہ شریک ہونے کی وجہ سے والد حنیف خان مرحوم نے ناراض ہوکر گھر سے نکال دیا تب سے وہ دہلی میں رہنے لگا شکیل ایک انتہائی ذہین اور چرب زبان شخص ہے انگلش زبان بہت اچھی بولتاہے اور جماعتوں میں وقت لگا لگا کر اردو میں بھی اچھی گفتگو کرنے لگا جو عموماً سماعت میں سکھایا بھی جاتاہے لوگوں کو تشکیل کرنا ذہن سازی کرنا نبض کو پکڑنا یہ سب اس نے تبلیغ سے ہی سیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ اس فتنے کے شکار زیادہ تر جماعتوں میں نکلنے والے بھولے بھالے نوجوان زیادہ ہیں
امیر جماعت مرکز نظام الدین میں حضرت جی مولانا انعام الحسن کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ کے زمانے سے تبلیغ سے وابستہ رہا ہے اور حضرت محبوبِ نظر بھی دین کا مطالعہ بھی اسی زمانے میں اردو کتابوں سے کیا ہے یہ نہ تو عالم ہے نہ حافظ اور نہ ہی عصری تعلیم میں کوئ اعلی ڈگری حاصل کیا سوائے میٹرک کے اور کچھ نہیں بہت شاطر ہے 
بہرحال 6بھائ ہے بڑا بھائی حافظ سہیل خان گاؤں سے لاپتہ ہے ایک لمبے عرصے سے
دوسرا شکیل خان 
ایک ماں سے 
دوسری ماں سے جو کہ شکیل خالہ ہیں سے چار بھائی 
ایڈوکیٹ شاداب خان عرف جمیل خان وکیل عدالت عظمیٰ دہلی۔
نسیم خان 
ارشاد خان 
وسیم خان 
یہ چاروں ایڈوکیٹ ہے تیس ہزاری کورٹ دہلی میں پریکٹس کرتاہے اور خوب مال کمارہاہے
جب کہ حنیف خان کا 2007 میں انتقال ہوا بہت غربت میں زندگی بسر کی مرحوم نے 
انکے تین بھائی ابھی حیات ہیں
نور محمد خاں
عثمان خاں
وغیرہ 
شکیل کے چاروں بھائی اس کو مہدی مسیح مانتے ہیں ایک  بہن کی شادی گاؤں میں ہے اعجاز خان سے جو  آٹو ڈرائیور ہے غالباً یہ بھی شکیل کا مرید ہے ڈاڑھی رکھے ہوا ہے چند سالوں سے اور اسکی اہلیہ یعنی شکیل کی بہن حافظہ ہے
عثمان خاں جو شکیل کے چچا ہیں انکے دو لڑکے ہیں قاری امام حسن ٹیچر امام عیدین ہےگاؤں 
مولانا حافظ امام حسین مصباحی مدرس اور امام ہے
مگر ان لوگوں نے کبھی شکیل یا انکے بھائیوں کی کبھی مخالفت نہیں کی بلکہ دونوں مساجد کے ائمہ نے مسجد میں شکیل کے رد میں بیان کیا تو الٹا ان لوگوں کو دھمکی دی ان لوگوں نے کہ آئندہ شکیل کے بارے میں کچھ بھی بیان نہیں کرنا ہے 
شکیل کے والد حنیف خان اس سے بہت ناراض تھے اسی ناراضگی میں انتقال بھی کر گئے ملعون نہ جنازے میں آیا نہ اسکے بعد پرسے میں آیا 2005کے بعد عثمان پور میں کسی نے نہیں دیکھا
سنا ہے اورنگ آباد مہاراشٹر میں مہدی کالونی بنا لیا ہے وہیں رہتاہے اپنے مریدوں کے ساتھ عیسائی مشنریوں کی طرف سے بہت پیسہ مل رہا ہے اس کو ہی شکیلیت کوئ نہیں چیز نہیں ہے بلکہ قادیانیت کا نیا چہرہ ہے سب کچھ اسی انداز سے کررہا ہے مثلاً 
قادیانی بھی کہتا تھا کہ مہدی مسیح موعود ایک ہی شخص ہے اور اسکا بھی یہی کہنا ہے
اور دلیل کیا دیتا ہے 
لا مھدی الا عیسیٰ ابن ماجہ 
کوئ مہدی نہیں سوائے عیسیٰ کے
مگر اسکا ترجمہ اصل یہ ہے کہ
کسی کے ذریعے ہدایت یافتہ نہیں ہوں گے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے اخیر زمانے میں 
اس حدیث میں مھدی کا جو لفظ ہے اس سے مراد حضرت مہدی نہیں کیونکہ مھدی لقب ہے نہ کہ نام حضرت مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد ہے انکے والد کا عبداللہ ہے وہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوگی بنو فاطمہ حسنی سید ہوں گے 
تو اس لفظ مہدی کا ترجمہ کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے 
اسی محمد نام کے بارے میں کہتا ہے میرا نام محمد شکیل ہے جبکہ ایسا نہیں ہے میں اسکا میٹرک کا ایڈمٹ کارڈ دیکھا ہے چچا نور محمد خاں کی تحریر دیکھی ہے دونوں صرف شکیل خاں لکھا محمد بالکل نہیں 
اسی طرح باپ کے نام کے بارے میں اسکا کہنا ہے کہ حقیقی باپ مراد نہیں بلکہ مزاجی ہے دلیل اسطرح دیتاہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو اپنا باپ کہا ہے اور اسی کو اللہ تعالٰی قرآن کریم میں ابراہیم حنیف کہا ہے قل بل ملت ابراھیم حنیفا
اور میرے والد کا نام بھی حنیف ہے لھذا میں ہی وہ شخص جن کی آمد پیشنگوئی کی حدیث میں کی گئی ہے 
اور مدینہ سے مراد مدینہ منورہ نہیں بلکہ کوئ بھی شہر مدینہ کہتے ہی شہر کو ہیں حدیث میں ہے انا مدینۃ العلم وعلی بابھا
میں علم کا شہر ہوں اور اس کا دروازہ علی ہے
اس لئے مدینہ منورہ اس مراد نہیں لیا جاۓ گا بلکہ دربھنگہ شہر مراد ہے
حضرت عیسی اور حضرت مہدی دو الگ الگ شخصیات نہیں ہے بلکہ ایک ہی شخصیت کے دو الگ الگ نام ہیں اور حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے بلکہ انزل ینزل کے معنی اترنے کے اس مراد آسمان سے اترنا نہیں بلکہ ٹرین سے اترنا ہے جیسے حضرت جی شکیل ابن حنیف خان ٹرین سے دہلی اسٹیشن پر اترے 
اس طرح کی بے سروپا تاویلات سے کام لیتا ہے اور لوگوں کو بے وقوف بناتا ہے 
اللہ تعالٰی امت مسلمہ کو اس فتنے سے محفوظ رکھے آمین 

والسلام 

خاکپائے درویشاں 
محمد اظہر القاسمی بانی ومہتمم مدرسہ سراج العلوم عثمان پور رتن پورہ دربھنگہ بہار انڈیا 
26اکتوبر2024
بروز ہفتہ
Nov
Tuesday,
26,

. *مکاتب/ مدارس کے سامنے ایک نیا چیلنج*

.
 *مکاتب/ مدارس کے سامنے ایک نیا چیلنج* 

حکومت کی ایک اسکیم کے تحت اب سارے رجسٹرڈ اسکول/ مدرسوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبا کو حکومت کی ایک ویب سائٹ پر درج کریں جس میں نام وغیرہ بنیادی تفصیل کے علاوہ ایمیل اور موبائل نمبر بھی دینا ہوگا پھر ہر ایک طالب علم کے لیے ایک (PEN) Personal Education Number جاری ہوگا، یہ نمبر مارکشیٹ اور ٹی سی پر درج ہوگا، ابتدائی سے اعلی تعلیم تک طالب علم کے لیے یہ ریفرنس نمبر ہوگا اس کے بغیر کوئی بھی مارکشیٹ یا ڈگری بے معنی ہوگی۔ 

ابھی ابتدائی مرحلہ ہے اس لیے کچھ چھوٹ ہے، ایک دو سال میں اس نمبر کے حاصل کیے بغیر طلبا کی پڑھائی بے معنی ہوجائے گی، اور یہ نمبر صرف حکومت کے یہاں رجسٹرڈ مدارس اور اسکول کے طلبا کو مل سکتا ہے، اور جو بچے کسی ایسے مدرسے یا اسکول میں پڑھتے ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ اپنے طلبا کو پین نمبر نہیں دے پائیں گے۔

گاؤں گاؤں میں پائے جانے والے بیشتر مکاتب یا درسگاہیں رجسٹرڈ نہیں ہیں، یو پی میں فی الحال مدارس کو رجسٹریشن بھی نہی مل رہا ہے، ان مکاتب و درسگاہوں کے سامنے یہ بڑا چیلینج ہے، ذمہ داران کو جلد از جلد اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے ورنہ بچے مستقبل میں پڑھ کر بھی ان پڑھوں میں شمار کیے جائیں گے، پاسپورٹ وغیرہ بہت سے سرکاری دستاویزات بنانا مشکل ہوگا، اعلی تعلیم میں داخلے لینا نا ممکن ہوجائے گا۔ 

کسی بھی اسکول یا مدرسہ کا رجسٹریشن کرانے کے لیے رجسٹرڈ ٹرسٹ/ سوسائٹی ہونا ضروری ہے اس کے بعد ادارہ کے نام مطلوبہ رقبہ کی زمین یا ادارے کے نام پر 25 سال کے لیے زمین لیز پر ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد باقی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ مکاتب کے سامنے یہ بھی ایک چیلنج ہوگا کہ ان کے پاس زمینیں تو ہیں لیکن نہ ادارہ کے نام پر ہیں اور نہ ان کے نام لیز پر ہے، اور شاید وہ لوگ بھی نہیں ہوں گے جنھوں نے ادارے کو زمینیں وقف کی ہوں گی۔

بہت سے کام ہیں جو کسی طرح مینیج ہوجاتے ہیں،ادارہ کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ کسی طرح سب سے پہلے زمین ادارہ کے نام کرالیں یا لیز بنوا لیں، سوسائٹی رجسٹرڈ کرلیں پھر رجسٹریشن کی کارروائی شروع کردیں۔ ہر ضلع میں بیسیک شکچھا کے ڈپارٹمنٹ ہیں جہاں سے پرائمری کے رجسٹریشن ہوتے ہیں کوشش کرکے کم از کم پرائمری تک رجسٹریشن کرا لیں۔ 

جو مکاتب کوشش کے بعد کسی وجہ سے رجسٹریشن نہیں کراسکتے وہ دوسرے رجسٹرڈ مکاتب کی مدد سے اپنے بچوں کے لیے پین نمبر لینے کی کوشش کریں اور رجسٹریشن کرانے کے لیے کوشاں رہیں۔

جتنی معلومات مل سکی ہیں قلم بند کردیا ہے، کسی کے پاس مزید کچھ ہو تو براۓ مہربانی شیئر کریں۔ 

رجسٹریشن کی کارروائی کے سلسلے میں کچھ معلومات اکٹھا کی ہیں مزید معلومات حاصل کررہا ہوں مکمل معلوما ت ملنے پر شیئر کروں گا ان شاءاللہ۔

أبو معاذ 
علاء الدین پٹی
Nov
Sunday,
24,

پہلے قائد کا انتخاب کیجیےاور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌


 

جس میں قائدانہ صلاحیت صفات دکھے اُس کو قائد مانیے ،جب قائد مان لیے تو 
قائد کوئی بھی ہو جب تک اس پر اعتماد نہیں کیا جائیگا ،اُس کا ساتھ نہیں دیا جائیگا ،فتح اور شکست دونوں حالتوں میں اُس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی تو اُمت کو کبھی بھی مخلص قائد نہیں ملے گا ،اس کی غلطیوں پر اس كو متوجہ کیجیے ،لیکن اُس کو موقع دیجئے ، ہو سکتا ہے اُس کی کچھ حکمتِ عملی ہوں ،
قائد چنگیز خان سے ہاتھ ملا رہا ہوں تو اس کو رائے دے دوں یہ چنگیزخان ہے یہ تو ہمارا دشمن ہے پھر بھی قائد ہاتھ ملانا چاہتا ہے اُس کوکچھ دیر کے لیے  یہ سمجھ کر موقع دینا چاہیے کہ ہمارا قائد  چھوٹے دشمن سے بڑے دشمن کو ختم کرنا چاہ رہا ہے ،
سیرت میں اور تاریخ میں یہ سب باتیں مل جائے گی ۔

 *مگر پہلے تو ہم کسی کو قائد مانتے نہیں ہیں ،*بیرسٹر اسد اویسی صاحب* کو دیکھ لیجئے ،بیرسٹر ہے ،خاندانی سیاست دان ہے ،خاندانی امیر ہے ،قوم کا درد ہے ،قوم کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ ہے ،اُن کی تقریروں میں مسمانوں کا جم غفیر آتا ہے ،نعرہ تکبیر لگاتا ہے ،ایسا جوش ہوتا ہے جیسے اسد صاحب آزادی کی لڑائی کا اعلان کردے گے تو سب میدان میں کود جائیں گے ،مگر اسد صاحب اتنی پرجوش عوام سے ایک بٹن دبانے کی درخواست کرتے ہیں ، اپنے امیدوار کو جتانے کی ایپل کرتے ہیں تو چند سو اور چند ہزار کے علاوہ اُن کو ووٹ دینا تو دور کی بات اُن کو ہی قوم کا غدار سمجھتی ہیں ،اُن کو بی جی پی کی بی ٹیم کہتی ہے ،

جہاں بی جی پی چن کر آئی غلطی سے وہاں اویسی صاحب چلے گئے تو بی جی پی کی جیت کا پورا سہرا اویسی صاحب کو مسلمان دیتے ہیں ۔

اب اِس اسمبلی الیکشن میں نیا چہرہ سامنے آیا *حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ* یہ چہرہ تو امت کے ہر مسئلہ کے وقت سامنے آتے رہا ہے جب اچھے اچھے سیاست داں اور سماج سیوا کی زبانیں بند تھی اُس وقت بھی امت کی صحیح رہبری ڈنکے کی چوٹ پر کرنے والا یہی چہرہ تھا ،سب پسند بھی کرتے تھے ،حاسدین خاموش تماشائی بنے رہتے تھے ،
مگر اس الیکشن میں اللہ کا کرنا ایسا ہوا کی مولانا کی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوئی تو سب کو دل کھول کر بولنے کا موقع مل گیا ،
 عوام کی سوچ تو ایسی ہے جیتو تو سکندر ہارو تو بندر

اگر اس الیکشن میں مولانا سامنے نہ آتے تو بھی رزلٹ تقریباً یہیں آنا تھا مگر اُس وقت اویسی صاحب پر اپنی ہار کا ٹھیکرا پھوڑتے تھے ۔۔

میرا کہنا یہ ہے اویسی صاحب ہو یا مولانا ہو ،جو بھی میدان میں ہیں ، جس کی محنت برسوں سے قوم کے لئے جاری ہے ،ایسے قائد کو موقع دیں ۔

 *جیسا ہم نے سیکولر پارٹیوں پر ستر سال بھروسہ کرکے ووٹ دیا* ،اُن سے امیدیں رکھی ،صرف دس سال اپنے قائدین پر اعتماد کرکے ان کو موقع دو ،
ہار جیت تو میدان کی جان ہے ،اور غلطیاں بھی کھلاڑیوں کے میدان کا حصہ ہے ،میدانی غلطیاں اس سے نہیں ہوگی جو صرف میرے جیسا واٹس اپ فیس بک پر لکھتا ہوں یا بولتا ہوں ،میدانی لوگوں سے میدانی غلطیاں ہوتی ہیں ،مگر غلطیوں کو درست کرکے یہی لوگ میدان فتح کرتے ہیں ۔

 *حماس* کے ایک فیصلے سے کتنے فلسطینیوں نے شہادت کا جام پیا ،ایسی درد ناک واقعات سامنے آئے جو ہماری آنکھوں نے کبھی دیکھا نہ ھوگا اور کانوں نے کبھی سنا نہ ہوگا ،مگر ایک فلسطینی بتا نہیں سکتے جو اپنی قیادت کے شکوے کر رہی ہوں ،ان کو گالیاں دینا برا بھلا کہنا تو دور کی بات ہے ،آج بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں ،آج حماس کھڑا ہے اپنوں کے حوصلوں کی وجہ سے کھڑا ہے ،

آج کوئی قیادت اُبھرتی ہے تو ہم اُس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اگر جیت گیا تو پیٹ تھتھپانے اور کریڈٹ لینے چلے جاتے ہیں ،
اور ہار گیا تو اس کو بد نام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ،اور اُس کی حوصلہ شکنی اتنی کرتے کے اُس نے قیادت بھول ہی جانا ۔۔
اِس لیے ہم کو قائد کم اور لٹیرے زیادہ مل رہے ہیں ،اور دشمنوں سے ساز باز کرنے والے لوگ ہی اکثر ہم پر مسلط ہے ۔۔
اچھے انسان سے غلطی نہیں بھی ہوئی تو میڈیا اُس کو اٹھاتا ہے ،میڈیا ہماری اچھی اور مخلص قیادت کو کبھی اچھا نہیں بولے گا وہ بکا ہوا ہے ۔
اور ہمارے قلم کار بھی جن کے فجر کا پتا نہیں امت کے صحیح حالات کا پتہ نہیں صرف اتنا ہی معلوم جتنا میڈیا اور سوشل میڈیا سے پاخانہ ملتا ہے ،وہ بھی ہماری قیادت کی غلطیوں کو اچھالنے لگ جاتے ہیں ۔
 *اپنے قائد کی غلطیوں کو سر عام مت لاؤ ،* جاکر ان سے ملو ،اُن کو متوجہ کرو ،یہ غلطی ہوئی اور یہ حل ہے ۔
کیوں کہ جنگل کے جس جانور کو زخمی کردیا جاتا تو جنگل کے درندے اُس کو پھاڑ کھاتے ہیں ۔۔


ہم سب اپنی غلطیوں کو دیکھو کہ موجودہ حالات میں ہم نے کیا محنت کی ،اور کس کا ساتھ دیا ،اور کس لیے دیا ،اور ہم اُمت کی فلاح بہبودی کے لئے کیا قربانی دے رہے ہیں ،اپنی مقامی لوگوں سے ہم کتنا دبے ہوئے ہیں ،کتنا حق کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

دوسروں پر اُنگلی اٹھانا آسان مگر اپنی غلطیوں پر نگاہ رکھنا بڑا مشکل کام ہے ۔۔

 *معاف کرنا آج ہمارے واٹساپی فیسبوکی* قلم کار ،اور گفتار کے غازیوں نے اچھے لوگوں پر جو کیچڑ اچھالا وہ تاریخ میں شاید ہی کہیں ملے ۔۔میدانی لوگ اُتار چڑھاؤ کو سمجھتے ہیں ۔صبر سے کام لیتے ہیں ،صحیح اسباب اور نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔
باقی کامیابی ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔
ہمارا کام قرآن و حدیث اور سیرت کی روشنی میں کام کرنا ہے ۔محنت کرنا ہے ،اور اچھے نتیجہ کے لئے اللہ سے دعا کرنا ہے ۔۔


معافی کی درخواست 

نعیم ندوی دھاڑ

حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب کی سیاسی اپیل کا ایک مثبت تجزیہ


                    *عاطر اقبال قاسمی*
aatirbastavi@gmail.com 
             *پہلا منظر نامہ*
محترم قارئین ، میرا سوال آپ سبھی سے ہے ، کیا سیاست مولویوں کے لیے نہیں ہے، ایک عالم دین سے بہتر کون سیاست داں ہو سکتا ہے جبکہ یہ اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں جن سے بڑا ، اور جن سے بہتر سیاست داں اس کائنات میں آج تک پیدا نہیں ہوا ۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ جب سے مہاراشٹر کے رزلٹ آۓ ہیں تبھی سے ایک طوفان نصیحتوں کا چلا آرہا ہے وہ لوگ بھی تجزیے پیش کر رہے ہیں جن کا مہاراشٹرا کی سیاست سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔بھئ ٹھیک ہے ہو سکتا ہے مولانا کی ٹیم سے زمینی طور پر چوک ہوئ ہو لیکن ہم کو سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی شرعی حکم نہیں لاگو کیا گیا تھا بلکہ مولانا اور ان کی ٹیم کی ایک اپیل اور راۓ تھی جس کو ماننا ہے مانے نہ ماننا ہے نہ مانے ۔ 
*دوسرا منظر نامہ مولانا کی اپیل اور میڈیا کا رد عمل*
بھائی میڈیا تو مسلمانوں کے ہر فعل کو جہادی نظریہ سے دیکھتا ہے ، لو جہاد ، زیادہ بچہ پیدا کرنے کا جہاد ، مدرسہ جہاد ، مسجد جہاد 
تو اب کیا کریں گے ، کیا ہم کاروبار بند کردیں کہ میڈیا اسے جہاد بتا رہا ہے ، کیا ہم اپنے مسجد مدرسے بند کر دیں کیونکہ میڈیا اسے جہادی پناہ گاہ بتا رہا ہے ، بھئ یہ تو ان کا کام ہے ،ان کو تو یہ مشن دیا گیا ہے کہ آپ اسلاموفوبیا کی اشاعت کرو اور بچے بچے کے دل میں اسلام کے خلاف زہر بھردو ۔ بھائی اگر ہم میڈیا کے ڈیبیٹ اور سرخیوں کی ڈر سے فیصلے لینے لگے تو ہمیں اپنے مساجد ، مکاتب ، مدارس و خانقاہیں اور کاروبار کو مقفل کرنا پڑیگا ۔
*تیسرا منظر نامہ سیاسی فہم کی کمی اور نتائج* 
بھائی مولانا کو اللہ نے بصیرت سے نوازا ہے ۔ آپ صرف مہاراشٹرا پر سیاسی نظر رکھ رہے ہیں مولانا اس وقت پوری دنیا کے سیاسی خد و خال پر اپنی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اگرچہ یہ پہلی مرتبہ ہیکہ مولانا نعمانی صاحب نے اس طرح سے منظم طریقہ سے لائحہ عمل تیار کرکے کسی خاص مقصد کے تحت سیکولر پارٹیوں کی حمایت کی ہے ۔ بہر کیف مولانا موصوف کی پوری زندگی سیاست کے میدان میں سیاستدانوں کے درمیان ہی گذری ہے ۔ تو میں سمجھتا ہوں مولانا کے اس لائحہ عمل نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کام نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی وجود زندہ کرنے کا کام کیا ہے ، آج تک تمام سیکولر پارٹیوں کو مسلمانوں کے ووٹ چاہیے ہوتے لیکن مسلمانوں کے لیے بات کرنے سے ہر کوئی کتراتا اس مرتبہ مولانا نے اپنے مطالبات رکھ کر ان کی حمایت کی ، جس سے سیاست میں مسلمانوں کا ایک وزن پیدا ہوا ۔ اور اس کے نتائج انشاءاللہ ثم انشاءاللہ آنے والے انتخابات میں ظاہر ہونگے ۔ اب آنے والے انتخابات میں یہ سیکولر پارٹیاں جس طرح آدیواسیوں سے لیکر مراٹھیوں تک کی حمایت کے لیے ان کی بات سنتے ،مطالبات سنتے اور پورا کرنے کا وعدہ کرکے ان سے اپنے لیے حمایت حاصل کرتے تھے ، اسی طرح اب یہ مسلمانوں کے رہنماؤں سے حمایت کے مذاکرات ضرور کریں گے ، 
اسی طرح اس امت کے بکھرے شیرازوں کو سمیٹنے کا کام مولانا موصوف نے کیا ہے ، اگر یہ حکمت عملی مسلمانوں کے ہر مکتبئہ فکر کے ذمہ داروں نے اختیار کیا تو ، میں قسم کھا کر کہوں تو حانث نہ ہوں گا کہ ہم مسلمان اپنی سیاسی شناخت واپس پا جائیں گے ، انشاءاللہ ثم انشاءاللہ ۔
*چوتھا منظر نامہ تبصرہ نگار کا کہنا کہ مولانا کی اپیل سے ملت کو پہونچنے والے نقصانات* 
بھائی اس پورے انتخابی نظام میں صرف مولانا موصوف نے ہی اکیلے حمایت دی ہے کیا ۔ بھئی جس طرح مہاراشٹر کی دیگر تنظیموں نے اپنی حمایت دی ، اپنی جانب سے اپیل کی اسی طرح مولانا نے بھی اپیل کی۔ اس میں گٹھ بندھن مہا وکاس اگھاڑی یا امتیاز جلیل صاحب کے ہار کے ذمہ دار مولانا کیسے ہو سکتے ہیں ، آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ مہاراشٹر اور اسی طرح پورے ہندوستان میں لگ بھگ ہر جگہ گانگریس و گٹھ بندھن اندرون خانہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ ان کی آپسی رسہ کشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ تو اب اس کے ذمہ دار مولانا کیونکر ہوۓ ۔
اور رہی بات امتیاز جلیل صاحب کی ، تو ان کی ہار ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوئی نہ کہ مولانا کے اعلان کی وجہ سے ، 
آپ پورا سیناریو سمجھو اورنگ آباد سے مہا وکاس اگھاڑی کا ایک امیدوار نامزد کیا جاتا ہے لیکن وہ نومینیشن کے آخری دن یہ اپیل کرکے اپنا نام واپس لیتا ہے کہ بھلے ہی بی جے پی و مہا یوتی جیت جاۓ امتیاز جلیل نہیں جیتنا چاہے، اور اسی طرح دوسری جانب جان بوجھ کر ایسی بساط بچھائی جاتی ہیکہ کہہ پورے اورنگ آباد ایسٹ میں بحیثیت آزاد امیدوار 13 لوگوں کو کھڑا کیا جاتا ہے ، اب آپ سوچو بڑی سیدھی بات ہے جو امیدوار کھڑا ہوا اس کو اسکے گھر والوں کا ووٹ ملنا طے ہے اگر آپ ایک آدمی کا 100/200 ووٹ پکڑو تو بھی 2897 ووٹ گۓ ،اور امتیاز جلیل صاحب صرف لگ بھگ2161 ووٹوں سے ہارے ہیں , تو ازراہ کرم امتیاز جلیل صاحب کی ہار کا سہرا مولانا نعمانی صاحب کو پہنانا سراسر احمقانہ و بچکانہ پن ہے ، جلیل صاحب کی ہار ان کی اپنی غلطی سے ہوئی ، اگر موصوف کم از کم اپنے مقابل آزاد امیدواروں کو بھی اپنا نام واپس لینے کے لیے قائل کرلیتے تو بھی آج کا منظر نامہ کچھ اور ہوتا ۔ ہاں مولانا نعمانی صاحب نے عبد الغفار ( سماج وادی ) کی حمایت کی ہے اسمیں کوئی شک نہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عبد الغفار صاحب کا وجود اس لڑائی میں دیگر لوگوں کی بنسبت زیادہ تھا ۔ امتیاز جلیل صاحب کو چاہۓ تھا کہ وہ ان لوگوں کو بیٹھانے کی کوشش کرتے جن کے بارے میں پہلے دن سے یہ سمجھ میں ہی آرہا تھا کہ یہ سارے امیدوار نہیں بلکہ ایک سیاسی جال ہے جس میں امتیاز صاحب پھنس گۓ یہ معاملہ اور صاف اس وقت ہوا جب الیکشن کمیشن نے امتیاز جلیل صاحب کی جیت کا اعلان کیا پھر بی جے پی والے نے ری کاؤنٹنگ کی اپیل کی کیونکہ اس سے پتہ تھا کہ اس نے جو رائتہ پھیلایا ہے معاملہ اس کے برعکس ہو ہی نہیں سکتا چنانچہ ریکاؤنٹنگ ہوئی ، اور امتیاز جلیل صاحب ہار گئے😥
*آگے کا راستہ*
یہ وقت خود احتسابی کا ہے علماء اور دینی رہنماؤں کو اپنے شریعت اپنے دین اپنے ایمان اور امت مسلمہ کے کی تحفظات کے لیے اور شدت کے ساتھ سیاسی میدان میں انا چاہیے اور ایک بہترین لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ۔ یہ پہلی مرتبہ تھا اور اس کا رزلٹ بہتر رہا ،اگر ائندہ بھی اسی طرح مسلمانوں کے قائدین وہ امت کے اعلی رہنما اپنا سیاسی کردار ادا کریں گے تو انشاءاللہ العظیم منظر نامہ تبدیل ہونے میں کوئی شک نہیں۔
*نتیجہ*
حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب نے یہ جو پہل کی ہے یہ مسلمانوں کے لیے خوش ائند ہے اگر مسلمانوں نے اس طرح لائحہ عمل تیار کر لیا
تو انشاءاللہ العزیز مسلمانوں کے حقوق کی تحفظات کے لیے مسلمانوں کو محتاجگی کا احساس نہیں ہوگا۔ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ حضرت مولانا نعمانی دامت برکاتہم پر کہ حضرت والا اس پیرانہ سالی میں بھی اپنے جان مال اور تمام تنظیموں کو امت مسلمہ کو جگانے کے لیے داؤ پر لگا دیا۔ یہ بات کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں ہے کہ ، اب مولانا کے ساتھ کیا سلوک اختیار کیا جائے گا ای ڈی ، سی بی ائی ، انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ، جی ایس ٹی ڈیپارٹمنٹ ، اللہم حفظنا منہ ایسی کئی تنظیموں کو حضرت مولانا کے اداروں کے پیچھے لگا دیا جائے گا , اور مسلمانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے گی ۔حضرت مولانا موصوف نےجس بہادری کا کام کیا ہے وہ ان مصلحت کا لبادہ اوڑھے ہوئے مولویوں کے منہ پر طمانچہ ہے ، جو مصلحت کے نام پر حضرت مولانا نعمانی صاحب اور دیگر مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ مسلمانوں کا کام سیاست کرنا نہیں ہے، ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ سیاست مسلمانوں کی وراثت ہے ، نبی کریم علیہم الصلوۃ والسلام نے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو سیاست کی ہے اس سے بہتر کوئی سیاست اس کائنات میں کرنے والا پیدا نہیں ہوا ۔ آپ اپنے لبادے کو اتاریں اور مصلحت کے نام پر امت مسلمہ کو ڈرانا بند کریں اب امت مسلمہ ڈرنے والی نہیں ہے حضرت مولانا نعمانی صاحب نے جو کام کیا ہے انشاءاللہ العزیز آنے والے وقت میں اس پر اور شدت سے عمل کیا جائے گا علماء سے اپیل ہے کہ اب وقت ہے علماء اپنا سیاسی کردار ادا کریں جس طرح وقت پڑنے پر ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے فضلا نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔
حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب نے ایک سیاسی حکمت عملی تیار کی تھی جس کے نتائج اعلی سے اعلی ترین ہو سکتے تھے اگر مہاوکاس اگھاڑی ، ونچت بہوجن سماج پارٹی میں آپسی انتشار نہ ہوتا ۔ مولانا نے بحیثیت انسان غلطی کی ہے ، ان لوگوں پہ بھروسہ کر کے جو اس بھروسے کے لائق نہیں تھے بہر حال انشاءاللہ العزیز ، ہم پر امید ہیں کہ حضرت والا اسی طرح اپنی سرپرستی فرماتے رہیں گے اور امت کے بہتر مستقبل کے لیے اپنے تجربات کی روشنی میں ایک منظم لا ئحہ عمل تیار کریں گے ۔
                      عاطر اقبال قاسمی 
aatirbastavi@gmail.com
Nov
Sunday,
10,

*اصل ... *اور* ... *اصول *



     امام ابن تیمیہ کے زمانے میں تاتاری فوجی شراب پی رہے تھے تو اس پر امام کے شاگردوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ انہیں منکر سے روکتے کیوں نہیں؟ اس موقع پر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ "انہیں ان کے حال میں مست رہنے دو" اگر میں انہیں روکوں گا تو وہ قتل و غارت گری کریں گے -حالانکہ اصول تو یہی ہے کہ منکر سے روکا جائے لیکن اس معاملے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اصول کی بجائے اصل پر استدلال کیا ہے - 
  
   عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جب کفار نے کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا تو وہ اسی حالت میں رسول اللہ صلعم کے پاس پہنچے اور اپنا ماجرا کہہ سنایا، اس پر رسول اللہ صلعم نے پوچھا، دل کا کیا حال ہے؟ کہنے لگے، ایمان پر مطمئن ہے - اس وقت رسول اللہ صلعم نےحضرت عمار رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے رخصت عطا کر دی کہ وہ اگر دوبارہ ایسا کریں تو پھر یہی کلمات دہرا دینا -

     قرآن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخصوص صورتحال کے پیش نظر حرام و حلال کے سلسلے میں بھی اصول کی بجائے اصل کا اعتبار کر کے رعایت دی ہے - 

     اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ مخصوص حالات میں اصول کی بجائے اصل کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے اندر لچک اور گنجائش کا پہلو رکھتا ہے - 

     اصول کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ "اصول سے کوئی سمجھوتہ نہیں" بلکہ بعض حالات میں اصول کی عظمت کو تسلیم کرنے کے باوجود عملی دشواریوں کے پیش نظر اصل سے ڈیل کرنا ہی وقت اور حالات کا تقاضا ہوتا ہے - 

     جماعت اسلامی کے نزدیک حکومت کے سلسلے میں "حاکمیت الہ" کا اصول اپنی جگہ مسلم ہے لیکن موجودہ سیاسی پس منظر میں اس کا اطلاق ابھی چونکہ ممکن نہیں ہے لہذا اصل کے اعتبار سے رائج سیاسی نظام کے تحت وہی لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اس وقت ہمارے لئے موزوں اور قابل عمل ہو سکتا ہے - 

     اقامت دین کے سفر میں میثاق مدینہ، صلح حدیبیہ، جیسے مراحل بھی آتے ہیں جنہیں عبور کرتے ہوئے آگے بڑھنا پڑتا ہے لہذا موجودہ سیاسی نظام کی بعض خرابیوں سے بچتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اسے مصلحتاً گوارا کرنا بلکہ اسے ممکنہ حد تک اپنے کاذ کے لئے استعمال کرنا ہی عملی رویہ ہے - 

     ویسے اس معاملے میں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ علمائے دیوبند اور دیگر مکاتب فکر کے نزدیک موجودہ جمہوری نظام میں ووٹ کی با ضابطہ شرعی حیثیت ہے اور وہ اسےقرآنی دلائل سے ثابت کرکے ایک گواہی، سفارش، وکالت، اور امانت کے طور پر پیش بھی کرتے ہیں نیز اس کے صحیح استعمال کو جائز اور نیکی قرار دیتے ہیں جبکہ اس کے غلط استعمال کو ناجائز اور بازپرس کا سبب مانتے ہیں - 

     اس وقت جو لوگ بھی انتخابات لڑ رہے ہیں ان کے بارے میں یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ وہ اہل امانت ہیں لیکن اگر ہم لوگ اس محاذ پر ڈٹے رہیں تو قوی امید ہے کہ اقدار پر مبنی سیاست کے لئے ڈسکورس کھڑا کر سکیں - 

     موجودہ انتخابات میں ہمارا اصل ہدف فسطائی طاقتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنا ہے - اور ظالم کو *بلیٹ* سے روکیں یا *بیلیٹ* سے بہرحال یہ نیکی ہے -
Nov
Saturday,
9,

یہ انبیائی مشن کے وارثین، مسجد اقصی کے متولی

یہ انبیائی مشن کے وارثین


 انہیں مٹایا نہیں جاسکتا ،یہ حوصلے سے نہیں جیتے بلکہ حوصلہ ان سے بھیک مانگتا ہے ،یہ امید کے پہاڑ نہیں بلکہ امید انکی پناہ میں ہے ،ہاں یہ وہ لوگ جنہیں عزم واستقلال جھک کر سلام کرتا ہے ، یہ صدق و وفا کے پیکر ہیں یہ ایمان و یقین کے نگہبان ہے دنیا نے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا انہوں نے *دنیا کو زندگی کا سبق دیا ،جینے کا ہنر دیا ، صبر واستقامت کا درس دیا ، ایمان و یقین کا پیغام دیا*
 
ایک طرف لاشیں ہیں ، تڑپتے زخمی ہیں ، آسمان سے بموں کی بارش ہے ، بارودی دھویں کی بدبو ہے ، اپنے بچھڑ گیے ،ماں باپ چلے گیے ،بھائ بہن نہیں رہے ، گھر نہیں ، کھانہ نہیں ، پانی نہیں، علاج نہیں ، ظالم نے اسپتال کو مسمار کردیا ،اسکولوں کو تباہ کردیا ،مدرسوں کو مٹادیا ، ملبے کے ڈھیر ہیں سنسان اور ویران آبادیاں ۔۔۔
*لیکن جو بچ گیے انکے اندر خوف نہیں ، ڈر نہیں ،مایوسی نہیں ، آہ بکا نہیں ، رونا دھونا نہیں ، شکوہ شکایت نہیں ، انکے سامنے ایک مشن ہے یہ وہی مشن ہے جو انبیاء کا مشن تھا ، انکے سامنے جینے کا ایک مقصد ہے*
 اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے سب کچھ قربان کرنا کوئی ان سے سیکھے ، یہ حرم ثالث کے متولی ہیں یہ ارض مقدس کے رکھوالے ہیں یہ مسجد اقصی کے مصلی ہیں ، نسلوں کو کیسے تیار کیا جاتا ہے کوئی ان سے سیکھے ،
سب کچھ ختم ہونے بعد بھی انہیں فکر ہے اپنی نسل کی تربیت کی اور بے سروسامانی میں مدرسہ قائم کرتے ہیں ان بچوں کی مسکراہٹ دیکھ کر کوئی کہ سکتا ہے کہ انکا سب کچھ چھین لیا گیا انکے گھر اجاڑ دیے گیے ہیں ؟ 
*جسموں کو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن فکر کو نہیں ،حوصلے اور ہمت کو نہیں جزبہ ایمانی کو نہیں ، ارض مقدس سے عشق ومحبت کو نہیں ہاں ہاں بالکل بھی نہیں* 
دشمن حیران ہے یہ کس مٹی کے لوگ ہیں کیا یہ اسی دنیا کے لوگ ہیں ؟  
*دشمن اپنی تمام تر طاقت و قوت کے ساتھ ہار گیا اور یہ تمام تر بے سروسامانی کے باوجود جیت گیے* 
وہ دن دور نہیں جب دشمن وہاں سے بھاگے گا انشاءاللہ 

*الا ان نصراللہ قریب* 

*یہ خان یونس کیمپ غزہ میں ایک نئے مدرسے کے افتتاح کی ویڈیو ہے جس میں تقریباًً 1200 بچے ہیں*  

عبد العلام ندوی 
جامعہ نگر دہلی
Oct
Sunday,
20,

بچوں کی آپس کی لڑائی اور ناراضگی ختم کروانے کے لیے 10 سادہ طریقے

بچوں کی آپس کی لڑائی اور ناراضگی ختم کروانے کے لیے 10 سادہ طریقے 

ماہرین نفسیات کے مُطابق چھوٹے بہن بھائیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا اُن کی دماغی نشوونما پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے مگر اس لڑائی جھگڑے کے ساتھ اُنہیں یہ بھی سیکھنا ضروری ہے کہ آپس کے معاملات اگر بگڑ جائیں تو اُنہیں ٹھیک کیسے کرنا چاہیے اور سمجھوتا کیسے کرنا چاہیے۔

بچوں کے ایک دُوسرے کے ساتھ معاملات اگر بگڑ جائیں اور اُنہیں ان معاملات کو ٹھیک کرنے کا پتہ نہ چلے تو لڑائی لمبی ہوجاتی ہے اور بچے جب جوان ہوجاتے ہیں تو معاملات سلجھانے کی سمجھ نہ ہونے کے باعث جب وہ اپنے بہن بھائیوں سے خفا ہوتے ہیں تو کئی کئی برس ایک دوسرے کا چہرہ نہیں دیکھتے اور آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں والدین کے لیے چند ایسی سادی تراکیب شامل کی جارہی ہیں جس سے وہ بچوں کی آپس کی لڑائی کو ختم کروا سکتے ہیں اور اُن میں سمجھوتا کرنے اور معاملات کو از خود درست کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔

 *نمبر 1 بچوں کو کہانیوں کے نتائج بتائیں:* 
ان کہانیوں کے علاوہ بچوں کو نبی ﷺ کی فتح مکہ کی کہانی بھی سُنائیں اور بتائیں کے کیسے ہمارے نبی ﷺ نے مکہ فتح کرنے کے بعد سب کو معاف کر دیا تھا اور کیوں وہ کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیتے تھے۔

 *نمبر 2 جرمانہ بکس اور جاب بکس:* 
بچوں کے لیے ایک ڈبہ مختص کریں اور اُنہیں بتائیں کے اگر اُنہوں نے آپس میں لڑائی کی تو ایک دن کا جیب خرچ جرمانے کے طور پر ادا کرنا پڑے گا اور اگر بچوں کو جیب خرچ نہیں ملتا تو ایک ڈبے میں کاغذوں پر مختلف کام لکھ کر ڈبہ بھر دیں اور اگر وہ آپس میں جھگڑا کریں تو اُنہیں ڈبے سے ایک پرچی نکالنے کا کہیں اور گھر کا جو بھی کام اُس پرچی پر لکھا ہو اُن سے کروائیں اس طریقے سے اُن کی لڑنے کی عادت ڈانٹ ڈپٹ کے بغیر ختم ہو سکتی ہے۔

 *نمبر 3 بچوں سے خط لکھوائیں:* 

اگر بچے آپس میں جھگڑ رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دُوسرے کی شکایت لیکر آرہے ہیں تو دونوں کو ایک ایک خالی پیپر دیکر اپنے اپنے جذبات اور احساسات لکھنے کا کہیں۔ اور اگر وہ چھوٹے ہیں تو ان کو کہیں کہ وہ اپنے جذبات کو آپ کے سامنے بلند آواز میں بیان کریں۔ اس عمل سے بچوں کو محسوسات کا خود بھی پتہ چلے گا اور وہ بات کو بڑھا چڑھا کر کرنے کے عمل سے بچیں گے اور اگر لکھنا پسند نہیں کرتے تو وہ کوشش کریں گے کے لڑائی سے بچیں تاکہ اُنہیں لکھنے کی کوفت گوارہ نہ کرنی پڑے۔

 *نمبر 4 بچوں کو علیحدہ علیحدہ وقت دیں:* 
بچوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ وقت گُزارنا اور اُن کی دلچسپیوں میں شامل ہونا، دُوسرے بچوں میں تھوڑا حسد پیدا کر سکتا ہے مگر اگر سب کو برابر برابر وقت مل رہا ہے تو اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ اس سے بچوں کو پتہ چلتا ہے کہ اُن کی بڑی اہمیت ہے اور اُن کے والدین اُن پر توجہ دیتے ہیں اور اُن سے باخبر رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ لڑائی جھگڑے سے بچنے کی کوشش کریں گے تاکہ اُن کو علیحدگی میں جواب دہ نہ ہونا پڑے۔

اس عمل سے بچوں کے درمیان آپس میں ایک اچھا فاصلہ بھی قائم ہوگا جو اُن کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے لیکن والدین ہمیشہ کوشش کریں کے مساوات قائم رہے۔

 *نمبر 5 کسی ایک بچے کا* *بلاوجہ دفاع نہ کریں* :
جب آپ کسی ایک بچے کا دفاع کرتے ہیں اور دوسرے کو ڈانٹ پلاتے ہیں تو اُس ڈانٹ کھانے والے کے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اُسے کم پسند کیا جاتا ہے۔ لہذا بچوں کو اُن کے آپس کے مسئلے خُود سلجھانے دیں اور اُنہیں بتائیں کے ایک دُوسرے کی ضروریات کو کیسے پُورا کرتے ہیں۔

 *نمبر 6 بچوں کے پزل:* 
بچوں کے لیے ایسے پزل کھلونے یا لیگو وغیرہ خریدیں جسے وہ مل کر کر حل کر سکیں اور بچوں کو ایسے کھیل کھیلنے کے لیے دیں جسے وہ مل کر کھیل سکیں۔ اس سے اُن میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی قوت پیداہوگی۔

 *نمبر 7 بچوں کو اکھٹے باہر لے کر جائیں:* 
بچوں کو پارک وغیرہ میں لے کر جائیں اور اُن کو جسمانی مشقت والے کھیل آپس میں کھلوائیں جیسے فُٹ بال، کرکٹ، وغیرہ اس سے جہاں اُن کے اندر موجود انرجی پازیٹیو کاموں میں خرچ ہوگی وہاں وہ تھکاؤٹ کے بعد لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں گے۔

 *نمبر 8 سیر و سیاحت:* 
بچوں کے ساتھ سیر و سیاحت بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے جب اکھٹے کسی مقام کی سیر کے لیے جاتے ہیں تو اُنہیں ایک دوسرے کے زیادہ قریب آنے کا موقع ملتا ہے۔

 *نمبر 9 بچوں کی تعریف* :
والدین کا بچوں کے اچھے کام کی تعریف کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور دوسرے بچوں میں بھی رغبت پیدا ہوتی ہے کہ وہ کُچھ اچھا کریں تاکہ اُن کی بھی تعریف ہو۔*نمبر 10 بچوں میں سوچنے کی قوت:* 
deep thinking
بچوں کو اُن کے کاموں پر غور کراوئیں اور اُنہیں خود سے سوچنے دیں کے کوئی کام ٹھیک ہے یا غلط، ایسا کرنے سے بچوں کو مختلف چیزوں اور معاملات کا پتہ چلے گا کے اُسے ٹھیک طرح کیسے سرانجام دینا ہے اور غلطی سے کیسے بچنا ہے۔

بچوں کی تربیت اور والدین

بچوں کی تربیت اور والدین

آج کل کے جدید دور میں بچوں کی تربیت ایک اہم مسئلہ ہے۔ والدین اس بارے میں مختلف کورسز بھی کرتے نظر آرہے ہیں اور جہاں ممکن ہو آگاہی بھی حاصل کرتے ہیں کہ بچوں کی تربیت کیسے کی جائے یا کن باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیت کی جائے۔ 

ماہر نفسیات ہونے کے ناطے میں سمجھتی ہوں کہ مسئلہ یہ نہیں کہ بچوں کو کیا سکھائیں۔۔ 
_مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ کیا سکھیں_
فطری طریقہ کار سے گزرتے ہوئے بچوں کہ تربیت کے اہداف حاصل کریں۔ 
والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے میں حق الیقین پیدا کریں اور یہ تبھی ممکن ہے جب والدین بھی حکم ربی کے پابند ہونگے۔ 
پیدا ہونے سے سات سال کی عمر تک بچے کا  Habbit pattern بن جاتا ہے۔ اس دوران جو بھی بچے سے کرنے کے لیے کہیں، کوشش کریں کہ خود کو بھی ان باتوں کا پابند رکھیں۔  کیونکہ بچے دیکھ کر زیادہ سکھتے ہیں۔ ان میں modeling یعنی نقل کرتے ہوئے سکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
Oct
Tuesday,
15,

شیطانی ہتھکنڈے اورمشاغل

*شیطانی مشاغل* 

علامہ بدرالدین بن شبلی اپنی مشہو رکتاب"آکام المرجان فی احکام الجا ن"میں نقل کرتے ہیں کہ شیطان لعین کے انسان کو نقصان پہنچانے کے ۶ درجات ہیں: 
(۱) پہلے مرحلہ میں وہ انسانکوکفر وشرک میں ملوث کرنے پرمحنت کر تا ہے،اگراس میں اُسے کامیابی مل جائے تو پھراس آدمی پراُسے مزید کسی محنت کی ضرورت باقی نہیں رہتی،کیوں کہ کفروشرک سے بڑھکر کوئی نقصان کی بات نہیں ہے۔ 
(۲) اگر آدمی (بفضل خداوندی) کفر وشرک پرراضی نہ ہو،تودوسرے مر حلہ میں شیطان لعین اُسے بدعات میں مبتلا کر دیتا ہے۔
حضرت سفیان ثوری رح فرماتے ہیں کہ شیطان کوفسق وفجوراور معصیت کے مقابلہ میں بدعت زیادہ پسند ہے؛ اس لئے کہ دیگر گناہوں سے تو آدمی کو توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے،مگربدعتی کوتوبہ کی تو فیق نہیں ہوتی(اسلئے کہ وہ بدعت کوثواب سمجھ کرانجام دیتا ہے توا س سے توبہ کاخیال بھی نہیں آتا)۔
(۳)اگرآدمی بدعت سے بھی محفوظ رہے توتیسرے مرحلہ میں اسے شیطا ن فسق وفجوراور بڑے بڑے گناہوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے ( مثلابدکاری قتل،جھوٹ یا تکبر، حسد وغیره)۔
(۴)اگرآدمی بڑے گناہوں سے بھی بچ جائے توشیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم ازکم آدمی کوصغیرہ گناہوں کا ہی عادی بنادے؛ کیوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ کبھی اتنی مقدارمیں جمع ہوجاتے ہیں کہ وہ انھیں کی وجہ سے مستحق سزا بن جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” تم لوگ حقیر سمجھے جانے والے گناہوں سے بچتے رہو؛ اس لئے کہ اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی جنگل میں پڑاؤڈا لیں اورہرآدمی ایک ایک لکڑی ایند ھن لائے ؛ تا آں کہ ان کے ذریعہ بڑا الاؤجلاکرکھاناپکایااورکھایاجائے ، تو یہی حال چھوٹے گناہوں کا ہے کہ وہ جمع ہوتے ہوتے بڑی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں(رواہ احمد،التر غیب والترہیب مکمل رقم : ۳۷۶۰ بیت الافکار )
(۵) اورجب شیطان کامذکورہ کا موں میں سے کسی مرحلہ میں بھی بس نہیں چلتاتواس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ایسے مباح کاموں میں لگادے جن میں کسی ثو ابکی امید نہیں ہوتی۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس وقت میں انسان نیکیاں کرکے عظیم ثوابکامستحق بن سکتا ہے، وہ وقت بلا کسی نفع کے گذر کر ضائع ہو جاتا ہے۔
(۶) اگر آدمی مذکورہ بالا ہر مرحلہ پر شیطان کے دام فریب میں آنے سے بچ جائے ،تو آخری مرحلہ میں شیطان انسان کو افضل اور زیادہ نفع بخش کام سے ہٹاکرمعمولی اور کم نفع بخش کام میں لگانے کی کو شش کرتا ہے؛ تاکہ جہاں تک ہو سکے انسان کو فضیلت کے ثواب سے محر وم کرسکے(آکام المرجان فی احکام الجان ۱۲۶ - ۱۲۷)
معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو نقصا ن پہنچانے کا کوئی موقع بھی ضائع کرنانہیں چاہتا، افسوس ہے کہ ایسے بدترین دشمن سے آج ہم غافل ہی نہیں ؛ بلکہ اس کے پکے دوست بنے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے دین دار بھی کسی نہ کسی مرحلہ پر شیطان کے فریب میں مبتلا نظر آتے ہیں، اور انھیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہمارے دشمن نے ہمارے ساتھ دشمنی کے کیا گل کھلا رکھے ہیں۔(رحمن کے خاص بندے/ ص:۳۶۰-۳۶۱)
Oct
Monday,
14,

ھارون الرشید نے بہلول کو ھدایت کی

ھارون الرشید نے بہلول کو ھدایت کی 
 کہ بازار جائیں اور قصائیوں کے ترازو اور جن پتھروں سے وہ گوشت تولتے ھیں وہ چیک کریں اور جن کے تول والا پتھر کم نکلے انھیں گرفتار کرکے دربار میں حاضر کریں 
بہلول بازار جاتے ہیں پہلے قصائی کا تول والا پتھر چیک کرتے ہیں تو وہ کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے چل رھے ھیں..؟
قصائی کہتا ہے کہ بہت برے دن ھیں دل کرتا ہے کہ یہ گوشت کاٹنے والی چھری بدن میں گھسا دوں اور ابدی ننید سوجاوں 
بہلول آگے دوسرے قصائی کے تول والے پتھر کو چیک کرتے ہیں وہ بھی کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حالات ہیں گھر کے وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ نے پیدا ھی نہ کیا ھوتا بہت ذلالت کی زندگی گزار رھا ھوں بہلول اگے بڑھے 
تیسرے قصائی کے پاس پہنچے تول والا پتھر چیک کیا تو بلکل درست پایا قصائی سے پوچھا کہ زندگی کیسے گزر رھی ھے.... ؟
قصائی نے کہا کہ اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ھے بہت خوش ھوں اللہ تعالٰی نے بڑا کرم کیا ھے اولاد نیک ھے زندگی بہت اچھی گزر رھی ھے
بہلول واپس آتے ہیں سلطان ھارون الرشید پوچھتے ہیں کہ کیا پراگرس ھے... ؟
بہلول کہتے ہیں کہ کئی قصائیوں کے تول والے پتھر کم نکلے ھیں.
سلطان نے غصے سے کہا کہ پھر انھیں گرفتار کرکے لائے کیوں نہیں بہلول نے کہا اللہ تعالٰی انھیں خود سزا دے رھا تھا ان پر دنیا تنگ کردی تھی تو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی 
آج ھمارے بھی کچھ یہی حالات ھیں 
ھم نے بھی دنیا کو اپنایا ہے اسی کی فکر ھے، حرام حلال اور آخرت کی فکر ھی نہیں 
اس کو شیئر کردیں کیا پتہ اپ کے اک شیئر کی وجہ سے کتنے لوگ سدھر.

جو نیوٹرل رہتے ہیں وہ معاشرے کے منافق ہوتے ہیں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک 22 منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کے دوران ایک بچہ سوچ رہا تھا کہ وہ آگ بجھانے میں کس طرح مدد کر سکتا ہے، اسی دوران اسے آگ بجھانے والے کینوس کے پائپ میں ایک سوراخ نظر آیا جہاں سے پانی لیک ہو رہا تھا، اس نے تھیلی اٹھائی اور لیکیج بند کرکے خود اگلے دو گھنٹے تک اس کے اوپر بیٹھا رہا تاکہ آگ بجھانے والے عملے کو تھوڑا سا زیادہ پانی مل سکے۔تاریخ میں ہمیشہ اس بچے کا نام آگ لگانے والوں میں نہیں بلکہ بجھانے والوں میں لکھا جائے گا۔ اسی کو موقف کہتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ برا وہ شخص ہے جو ہر اچھا برا کام ہوتا ہوا دیکھے اور یہ کہے کہ وہ نیوٹرل ہے چاہے وہ مذہب ہو یا سیاست یا زندگی کا کوئی اورشعبہ اپنی بساط کے مطابق اپنا موقف ضرور رکھیں۔
جو نیوٹرل رہتے ہیں وہ معاشرے کے منافق ہوتے ہیں
انہیں معاشرے سے سب کچھ چاہیئے ہوتا ہے لیکن بہتر معاشرے کے لئے خود سے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوتے انہیں صرف اپنا مفاد عزیزہوتا ہے۔

*اصاغر کا اپنے اکابر سے اختلاف کا جواز

*اصاغر کا اپنے اکابر سے اختلاف کا جواز*
حضرت حکیم الامت تھانوی کا چند سیاسی مسائل میں اپنے استاذ سے اختلاف تھا ، تو ان پر اس اختلاف کی وجہ سے لوگ اعتراض کرنے لگے ، اس کے جواب میں حضرت حکیم الامت تھانوی نے فرمایا : زمانہ تحریک میں عام طور سے مجھ پر اعتراض ہوا کہ حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ سے اختلاف کیا ۔ میں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے امام ابو یوسف رح اور امام محمد رح نے اختلاف کیا اس کا کیا جواب ہے ، دوسرے میں نے مولانا سے اختلاف کیا خلاف تو نہیں کیا ، خدا نخواستہ میں نے کوئی بے ادبی تو نہیں کی اور نہ مولانا پر بحمد اللہ اس اختلاف سے ذرہ برابر گرانی ہوئی ، اس لئے کہ حضرت اختلاف کی حقیقت سے باخبر تھے ، اوراختلاف تو میں نے بعض بعض مسائل میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے کیا ہے جو حضرت مولانا کے بھی شیخ تھے

 (پاکستان کی پاک سیاست بمقابلہ منافقت ، مرتب مولا نا تنویرالحق ، ص ۳۱ ، مکتبه احتشامیہ جیکب لائن کراچی ، ط ۲۰۰۹ ء ۱) 

بچوں کی نفسیات سمجھ کر اگر ان کو ٹریٹ کیا جائے تو ہر بچہ اس معاشرے کا قابل فرد بن سکتا

کلاس میں اسکول کے ایک نئے استاد داخل ہوتے ہیں تھوڑا سا تعارف لے دے کر بچوں کا ٹیسٹ لینے کے لیے ایک سوال کرتے ہیں. اور اشارہ اس بچے کی طرف کر دیتے ہیں جو کلاس کا سب سے نا لائق بچہ ہوتا ہے. استاد کا اشارہ دیکھ کر کلاس کے دوسرے بچے ہنسنے لگتے ہیں. کہ استاد جی نے جواب دینے کے لیے اٹھایا بھی تو کس بچے کو .....
لیکن استاد تو پھر استاد ہی ہوتا ہے.
ان کو سمجھ آ گئی کہ یہ کلاس کا سب سے نالائق بچہ ہو گا
اسی لیے سب بچے ہنس رہے ہیں. استاد نے بچے کو بیٹھنے کے لیے کہا اور درس دینے میں مصروف ہو گئے.
چھٹی کے وقت استاد نے اس نالائق بچے کو اپنے پاس بلا لیا
اور جب سب بچے چلے گئے تو استاد نے اس بچے کو ایک سوال دیا اور اس کا جواب بھی لکھ کر دیا. اور کہا کہ اسے یاد کر لو اور کل جب میں کلاس میں سوال کروں گا. تو یہ جواب تم نے مجھے کلاس میں دینا ہے.
بچے نے وہ سوال اور جواب یاد کر لیا.
دوسرے دن جب استاد کلاس میں آئے تو انھوں نے وہی سوال جو اس نالائق بچے کو دیا تھا. ساری کلاس سے پوچھا
سوال تھوڑا مشکل تھا. تو سب بچے خاموش ہو گئے لیکن وہی نالائق بچہ جس کو استاد نے سوال یاد کرنے کا کہا تھا اس نے اپنا ہاتھ بلند کیا کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں. سب بچے جو کل ہنس رہے تھے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھنے لگے. استاد نے اس بچے کو کہا ہاں جواب دو. بچے نے فر فر اس سوال کا جواب سنا دیا..
استاد نے شاباش دی اور اسے بیٹھنے کو کہا.
اب اس نالائق بچے میں خوشی کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی پیدا ہونا شروع ہو چکی تھی.
استاد روزانہ اس بچے کے ساتھ یہی عمل دھراتے رہے .
اور پھر آخر وہ دن بھی آیا جب وہ نالائق بچہ اپنی کلاس کا سب سے لائق اور پر اعتماد بچہ بن چکا تھا....
 سبق.. 
 بچوں کی نفسیات سمجھ کر اگر ان کو ٹریٹ کیا جائے تو ہر بچہ اس معاشرے کا قابل فرد بن سکتا ہے💝

فیضان مجدد : نیک گمانی اور بدگمانی میں اعتدال

*فیضان مجدد : نیک گمانی اور بدگمانی میں اعتدال ص ۶۷۴*
فرمایا کہ شیخ سعدی کے دو شعر اس معاملہ میں متضاد ہیں ایک گلستان میں ہے ‏
ہر کہ جامہ پارسا بینی !!
پارسا دان و نیک مرد انگار
دوسرا بوستان میں ہے 
نگہ دارد آن شوخ در کیسہ دُر
 کہ داند ہمہ خلق را کیسہ بُر 
گلستان کے شعر سے سب کے بارے میں نیک گمانی کی اور بوستان کے شعر سے بدگمانی کی تلقین معلوم ہوتی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ اعتقاد کے اعتبار سے تو گلستان کے شعر پر عمل چاہیے کہ جس کا ظاہر اچھا دیکھے اس کے ساتھ نیک گمان رکھے مگر معاملات میں بوستان کے شعر پر عمل کرے کہ اپنے راز اور خاص چیزیں، ہر شخص کے سامنے نہ کھولے۔ اس میں احتیاط کرے۔
 ( مجالس حکیم الامت ص ۲۸۰،۲۷۹) 
بلاوجہ کسی کی طرف سے بدگمانی کے ناجائز ہونے سے تو یہ لازم نہیں آتا کہ دنیا بھر کو سچا ہی سمجھتا رہے بلکہ اگر کسی کی کوئی بات دل قبول نہ کرے اور اس کے قول کے سچا ہونے میں کسی وجہ سے شبہ پیدا ہو جائے تو وہاں پر گناہ سے بچنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس قائل کو یقینا جھوٹا نہ سمجھے۔ لیکن احتمال پیدا ہو جائے جس سے معاملہ احتیاط کا کرے۔ (انفاس عیسی حصہ دوم ص ۶۶۳)

*گناہ ہو جانے پر حد سے زیادہ مغموم ہونا از حد مضر ہے*
 ہر مسلمان کو گناہ نا گوار اور مکروہ معلوم ہوتا ہے اور اس اثر کا مقصود یہ ہے کہ اس گناہ کو چھوڑ دیں لیکن بعض مرتبہ جب اس میں افراط ہوتا ہے اور زیادہ گرانی ہوتی ہے تو شیطان یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ اے شخص تو تو مردود ہو گیا اور اب تیری کوئی اطاعت قبول نہیں یہ سمجھنا خود خلاف شریعت اور بہت برا خیال ہے۔
 (الجناح ص ۱۶۰ تا ۱۶۲) 
ایسے وقت تو خوب توبہ کر کے اعمال صالحہ میں مصروف رہے۔

عروج سے زوال کے تین اسباب

عروج سے زوال کے تین اسباب 
عبداللہ 1907 میں سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پیدا ہوا، یہ بچپن سے ہی حساس اور بلا کا ذہین تھا-

جوانی تک پہنچتے اس کی صلاحیتوں کے جوہر کھلنے لگے، اس نے علمی دنیا میں بھونچال لایا -

1927 میں جامعہ ازہر مصر میں اس نے داخلہ لیا اور بیس سال کے اس طالب علم نے ازہر کے فلاسفرز اور اسکالرز کی ناک میں دم کرکے رکھا، انہوں نے ازہر کے نامور سکالر یوسف دجوی کی کتاب کے رد میں “البروق النجدية " کتاب لکھ کر تہلکہ مچا دیا،کتاب عرب دنیا میں پھیل گئی ازہر یونیورسٹی نے ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا،انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا -

ان کی دوسری کتاب “صراع الإسلام و الوثنية"  اسلام اور نیشنل ازم کا ٹکراو اس کتاب نے تو دھوم ہی مچا دیا -

کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ عرب دنیا میں انہیں ابن تیمیہ ثانی سے پکارا جانے لگا، مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ انکی مدح میں امام کعبہ نے خانہ کعبہ میں قصیدہ پڑھا -

علمی حلقوں میں کہا جانے لگا کہ عبداللہ نے یہ کتاب لکھ کر جنت کا مہر ادا کیا ہے -

 عبداللہ القصیمی اسلام کے دفاع میں شہرہ آفاق کتابیں لکھ کر اپنا لوہا منوا چکے تھے،پوری عرب دنیا میں ان کا طوطی بول رہا تھا کہ 

اچانک ان کا دماغ گھوم گیا،یہ 90 ڈگری الٹ ٹریک پہ چڑھ گئے،یہ دائرہ اسلام سے نکل گئے،یہ ملحد بن گئے -

جو شخص زندگی بھر اسلام کی وکالت اور دفاع کرتا رہا تھا اب وہ اپنی صلاحیتوں کو اسلام کے خلاف استعمال کرنے لگ گیا،انہوں نے نماز ،روزہ اور دیگر فرائض کو ٹائم کا ضیاع قرار دیتے کتاب لکھ ڈالی ۔
“هذي هي الاغلال "
انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہنے میں نمازوں کے اوقات سبب ہیں،عبادات کو انہوں نے گلے میں پڑی زنجیروں سے تشبیہ دی خدا کے وجود کا انکار کر دیا -

یہ اسی الحاد میں بدبختی کی زندگی مرا -

بدبختی بتا کر نہیں آتی جس کیلئے حرم میں دعا ہوتی تھی اس کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا -

عبداللہ القصیمی کے متعلق میں نے پہلی کتاب مسجد نبوی شریف کی لائبریری میں پڑھی تھی،تب میں نے وہ وجوہات جاننے کی کوشش کی جن کے باعث یہ شخص گمراہ ہوگیا،اہل علم نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے -

کسی نے لکھا بیروت میں ایک عیسائی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوا تھا اسکی وجہ سے دماغ خراب ہوگیا -

لیکن سب سے معقول وجوہات قصیمی کے ایک دوست نے لکھی ہیں،ان کے مطابق تین بنیادی وجوہات تھیں جس کے باعث یہ ٹریک سے ہٹ گیا -

پہلی وجہ کبر و غرور یہ اپنے علمی مقام کے آگے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے،ان کے اندر میں میں بہت تھی -

دوسری وجہ کثرت بحث و مباحثہ یہ بحث بہت کرتے تھے،یہ ہر چیز کو بحث کے میزان پر رکھتے شک کے ترازوں میں تولتے یہاں تک کہ یہ اپنے وجود پر بھی سوالات اٹھاتے تھے -

تیسری وجہ مخالف فکر کی کتب کا حد سے زیادہ غیر ضروری مطالعہ -

آپ کتنے بھی بڑے فلسفی ،سقراط ،بقراط اور ارسطو کیوں نہ ہوں مت بھولیں کہ دماغ خراب ہونے میں وقت نہیں لگتا ،چنانچہ ان محرکات سے خود کو دور رکھیں جو گمراہی کی طرف لیکر جاتے ہیں -
اور ہر پل اللہ تعالی سے استقامت کی دعا مانگیں،انسان بہت کمزور ہے،اللہ کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہے -
منقول

فضلاء ضائع کیوں ہو جاتے ہیں؟

فضلاء ضائع کیوں ہو جاتے ہیں؟

 استاذ الاساتذہ حضرتِ اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: اس میں قصور کچھ اربابِ مدارس (مہتممین) کا ہے۔۔۔۔۔ مدارس والے مدرسین کو اتنا دیتے ہی نہیں کہ وہ زندگی بھر دلجمعی کے ساتھ کام کرسکیں ، گارا بنانے والے مزدور کو بھی یومیہ سوا سوروپے ملتے ہیں یعنی ماہانہ اس کی چار ہزار کی آمدنی ہوتی ہے اور مدرس کو دو ڈھائی ہزار روپے ملتے ہیں۔ جس نے پندرہ سال محنت کی ہے اور اپنی زندگی کا قیمتی وقت خرچ کیا ہے وہ گارا بنانے والے مزدور کے ہم تول بھی نہیں تو کیا مزدور کے خرچ کے بقدر بھی مولوی کے گھر کا خرچ نہیں ہوگا؟ مگر اہل مدارس سمجھتے نہیں ، بلکہ وہ یہ عذرِ لنگ پیش کرتے ہیں کہ مدرسہ میں گنجائش نہیں ، سوال یہ ہے کہ پھر بلڈنگیں کہاں سے بن رہی ہیں؟ اور مہتم بکارِ مدرسہ کیسے گھوم رہا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ آدمی چاہے ہی نہ تو باتیں ہزار ہیں۔ غرض جب تک کارکنان کو بقدرِ ضرورت روزگار مہیا نہیں کیا جائے گا وہ زندگی بھر کام سے کیسے چھٹے رہیں گے؟ اور آدمی تو بنتا ہی ہے پوری زندگی کھپانے سے ، اس میں سال پڑھانے سے کوئی شیخ الحدیث نہیں بنتا۔
(تحفہ الالمعی ج5 ص116)
Oct
Sunday,
13,

۔جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ دمیریؒ

۔جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ دمیریؒ نے’’عدالتی فیصلے‘‘ کا عجیب واقعہ لکھا ہے۔ ایک خرگوش کے ہاتھ کھجور کا دانہ لگا، وہ اسے کھایا ہی چاہتا تھا کہ لومڑی نے پھرتی کے ساتھ اس کے ہاتھ سے چھین کر کھا لیا، اس پر دونوں کے درمیان جھگڑا بڑھا تو وہ فیصلہ کرانے کے لئے گوہ کے پاس جا پہنچے، خرگوش مدعی تھا اسی نے گوہ سے گفتگو کی۔ 
خرگوش: اے ابا حسل!(یہ گوہ کی کنیت ہے) 
گوہ۔ تم نے ایک سننے والے کو پکارا ہے۔ (یعنی مقدمہ سماعت کے لئے منظور) 
خرگوش: ہم آپ کی خدمت عالیہ میں ایک مقدمہ لائے ہیں۔ 
گوہ: تم ایک مصنف اور دانا کے پاس آئے ہو۔ (یعنی میں عقلمند بھی ہوں اور منصف بھی) 
خرگوش: آپ باہر تشریف لائیے۔ 
گوہ: فیصلے ہمارے گھر میں لائے جاتے ہیں یا فیصلے عدالت میں ہوتے ہیں پس تم آئو۔ 
خرگوش: مجھے ایک کھجور ملی… 
گوہ: آہا! میٹھی چیز ملی فوراً کھا لو۔ 
خرگوش: وہ کھجور لومڑی نے مجھ سے چھین لی۔ 
گوہ: اس نے اپنی جان کے ساتھ بھلائی کی، بہت اچھا کیا۔ 
خرگوش: میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ 
گوہ: تم نے اچھا کیا کہ اپنا حق لے لیا۔ 
خرگوش: پھر اس نے مجھے تھپڑ مارا۔ 
گوہ: آزاد جانور اپنا بدلہ تو لیتا ہی ہے۔ یہ تو اس کا حق ہے۔ 
خرگوش: آپ ہمارے درمیان فیصلہ کیجئے۔ 
گوہ: میں نے تو فیصلہ سنا دیا ہے۔ 
’’ہمارے ہاں بھی کچھ ایسے ہی قوانین رائج ہیں۔۔۔ ‘‘

ﷲ کی محبت پیدا کرنے کا نسخہ

ﷲ کی محبت پیدا کرنے کا نسخہ
==========================
*پہلی قسط:* 

ﷲ سبحانہ و تعالٰی کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم دین کے ظاہری وباطنی تمام علوم کے جامع تھے اور انہوں نے دونوں طرح کے علوم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منتقل فرمائے۔
چنانچہ جس طرح انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نماز کی ظاہری صورت سکھائی،اسی طرح نماز کی حقیقت،خشوع و خضوع،مقام احسان،بلکہ لقائے یار کی کیفیت بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے واضح فرمائی۔
شراب کے حرام قرار دیئے جانے کے بعد جیسے اس کی خباثت سے ان کی جان چھڑائی،ویسے ہی عجب اور تکبر کی حرمت کے پیش نظر ان باطنی بیماریوں سے ان کو نجات دلائی۔
جہاں ﷲ تعالٰی کی نعمتوں کے ملنے پر زبان سے *الحمدللہ* کہ کر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی،وہاں دل میں منعم حقیقی کے سامنے احسان مند رہنے کی بھی تعلیم عطا فرمائی،معلوم ہوا کہ نبی علیہ السلام نے شریعت کی صورت اور حقیقت دونوں کا علم اپنے صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کو عطا فرمایا۔
صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کے ذریعے یہ علوم نسل در نسل باقی امت تک پہنچے لیکن وہ جمعیت قلبی جو صحابہ کرام کو حاصل تھی وہ دور صحابہ کے بعد باقی نہ رہی اور کسی ایک شخص کیلئے یہ تمام علوم اپنے اندر سمیٹنا بھی ممکن نہ رہا،لہذا دین کے مختلف شعبے بنتے گئے 
اور دین کے مختلف شعبوں میں تخصص کی ابتداء دور صحابہ میں ہی شروع ہوگئی تھی سو ہم جانتے ہیں کہ: 
*حضرت ابی بن کعب رضی ﷲ عنہ امام القراء بنے*
*حضرت عبدﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہ امام المفسرین بنے*
*حضرت عبداللہ ابن عمر رضی ﷲ عنہ امام المحدثین بنے* 
*حضرت عبدﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہ امام الفقہاء بنے* 
صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کے بعد قُوى کمزور ہوگئے اور زمانے کے فتنوں کے پیش نظر اللہ رب العزت نے ہر زمانے میں علم نبوت اور نور نبوت کی حفاظت کے لئے متعدد ماہرین کا انتخاب فرمایا۔
جس طرح اللہ تعالٰی نے شریعت محمدی صلی ﷲ علیہ وسلم کی *ظاہری تعلیمات* فقہاء کرام کے ذریعے سینوں میں محفوظ رکھا اسی طرح نبی علیہ السلام کی *باطنی کیفیات* کو حضرات مشائخ کے ذریعے سینوں میں محفوظ رکھا،یہ کیفیات سینہ بہ سینہ آگے منتقل ہوتی گئی۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام میں پوری طرح داخل ہونے کے لئے نہ صرف ظاہری احکام بجالانے کی ضرورت ہے بلکہ باطنی احکام کو پورا کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے،بلکہ ظاہری اعمال ان باطنی احوال کے تابع ہیں،جیسے: 
ﷲ تعالٰی کے پیارے حبیب صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: 
*کہ بنی آدم کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر یہ سنور گیا تو سارا جسم سنور جائے گا اور اگر یہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ جائے گا،جان لو!!! کہ وہ انسان کا دل ہے۔* الحدیث
اب جہاں مفسرین و محدثین ہمیں یہ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ سناتے ہیں اس کی تعلیم دیتے ہیں 
تو وہیں فقہاء کرام اس کے احکام کی تفصیل بتاتے ہیں 
جبکہ مشائخ عظام ان احکام کی کیفیت اپنے سینوں سے ہمارے سینوں میں منتقل فرماتے ہیں۔ 
 *مدارج السلوک۔۔۔۔۔*
Oct
Friday,
11,

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین رتن ٹاٹا اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ کل رات وفات پاگئے

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین رتن ٹاٹا اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ کل رات وفات پاگئے

( حقیقی خوشی )
جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹاٹا سے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ریڈیو پریزینٹر نے پوچھا:
 "جناب آپ کو کیا یاد ہے جب آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ملی"؟
 رتن جی ٹاٹا نے کہا:
 "میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزر چکا ہوں، اور آخر کار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ لیا ہے۔"
 پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا۔
 لیکن اس مرحلے پر مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو میں چاہتا تھا۔
 پھر قیمتی اشیاء اور اشیاء جمع کرنے کا دوسرا مرحلہ آیا۔
 لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس چیز کا اثر بھی عارضی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک زیادہ دیر نہیں رہتی۔
 پھر ایک بڑا پروجیکٹ حاصل کرنے کا تیسرا مرحلہ آیا۔  یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی کا 95% میرے پاس تھا۔
 میں ہندوستان اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری کا مالک بھی تھا۔  لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں نے تصور کیا تھا۔
 چوتھا مرحلہ تھا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔
 تقریباً 200 بچے۔
 ایک دوست کے کہنے پر میں نے فوراً وہیل چیئر خرید لی۔
 لیکن دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں اور وہیل چیئر بچوں کے حوالے کروں۔  میں تیار ہو کر اس کے ساتھ چلا گیا۔
 وہاں میں نے ان بچوں کو یہ وہیل چیئر اپنے ہاتھوں سے دی۔  میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔  میں نے ان سب کو وہیل چیئر پر بیٹھے، چلتے اور مزے کرتے دیکھا۔
 ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی پکنک کے مقام پر پہنچ گئے ہوں، جہاں وہ جیتنے والا تحفہ بانٹ رہے ہوں۔
 میں نے اپنے اندر حقیقی خوشی محسوس کی۔  جب میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو ایک بچے نے میری ٹانگ پکڑ لی۔
 میں نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن بچے نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور میری ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لی، میں نے جھک کر بچے سے پوچھا: کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟
 اس بچے نے جو جواب دیا اس نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ بھی بدل دیا۔
 اس بچے نے کہا:
 
 *"میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو میں آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کروں۔"*

( شکریہ شمیم عباس بمبئی )
Oct
Sunday,
6,

اک عورت دین پہ.... پورا گھرانہ دین پہ

*اک مرد دین پہ... اک فرد دین پہ..!!*
اک عورت دین پہ.... پورا گھرانہ دین پہ
*پوچھا گیا کہ اسلام کہ مضبوط قلعے کون سےہیں؟*
*بتلایا گیا نیک مائیں..!!!!!*
*تب سے غیر مسلموں کا حدف مسلمان خواتین ہیں...!!!!*
*جب خواتین نیک ہوتی تھی تو بچے امام بخاری ،صلاح الدین ایوبی جیسے پیدا ہوتے تھے*
*آج کی خواتین کا یہ حال ہے کہ نماز میں کتنے اعضاء چھپانے کا حکم ہے یہ بھی نہیں پتا*
*عورت کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟؟*
*نہیں پتہ*
*میاں بیوی کے حقوق کا نہیں پتہ*
*کن عورتوں پر لعنت کی گئی۔۔؟؟*
*جہنمی میں عورتوں کی کثرت کیوں؟؟*
*نہیں پتہ*
*جنتی عورتیں کون؟؟*
*نہیں پتہ۔۔*
*اگر سارا دن موبائل،ٹی وی پر گزرے گا*
*تو بچے بے نمازی اور بے ادب ہی پیدا ہوں گۓ...*
*خدارا دین سیکھیں*
*امت مسلمہ کی بیداری
یاد رہے۔۔
*تعلیم جس عورت کو سمجھ آجاتی ہے*
*وہ سادگی اختیار کر لیتی ہے*
*اور جس کے سر سے گزر جاتی ہے وہ ماڈرن بن جاتی ہے

قیادت اور سیاست میں فرق

سیاست؛جذبات سے کی جاتی ہے،نعروں سے کی جاتی ہے،بھیڑ دیکھی جاتی ہے،اور اسی پر کامیابی کا انحصاربھی ہوتاہے،لیکن قیادت جذبات سے نہیں،نعروں سے بھی نہیں،بھیڑ سے بھی نہیں،بلکہ بہت کچھ سوچ،سمجھ کر کی جاتی ہے،اول میں یہ دیکھاجاتاہے کہ دنیاکدھرجارہی ہے،جبکہ قیادت میں ہواکے رخ کوموڑنے کی کوشش کی جاتی ہے،اس لئے عام طورپر سیاسی لوگ ،عام وخاص میں بہت مقبول ہوتے ہیں،جبکہ قائدین کی بہت سی باتیں ظاہرِحال کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے ، انہیں گالیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔*
کوئی ضروری نہیں ہے کہ آپ ہماری ان باتوں سے اتفاق بھی کریں،لیکن ١٩٤٧میں جامع مسجد دہلی میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی،کی گئی تقریر کو پڑھیں گے تو یہ بات آسانی سےسمجھ میں آجائے گی،وہ کہتے ہیں: ' ' تمہیں یاد ہے میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری زبان کاٹ لی۔ میں نے قلم اُٹھایا اور تم نے میرے ہاتھ قلم کر دئیے۔ میں نے چلنا چاہا تم نے میرے پاؤں کاٹ دئیے، میں نے کروٹ لینا چاہی تو تم نے میری کمر توڑ دی۔ حتیّٰ کہ پچھلے سات سال کی تلخ نوا سیاست جو تمہیں آج داغِ جدائی دے گئی ہے اُس کے عہدِ شباب میں بھی میں نے تمہیں ہر خطرے کی شاہراہ پر جھنجھوڑا لیکن تم نے میری صدا سے نہ صرف اعراض کیا بلکہ منع و اِنکار کی ساری سنتیں تازہ کر دیں۔ نتیجہ معلوم کہ آج اُنہی خطروں نے تمہیں گھیر لیا ہے جن کا اندیشہ تمہیں صِراطِ مستقیم سے دور لے گیا تھا۔‘‘آگے وہ کہتے ہیں: ' ' میرے بھائی میں نے ہمیشہ سیاسیات کو ذاتیات سے الگ رکھنے کی کوشش کی ہے اور کبھی اِس پُر خار وادی میں قدم نہیں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ میری بہت سی باتیں کنایوں کا پہلو لئے ہوتی ہیں لیکن مجھے آج جو کہنا ہے میں اُسے بے روک ہو کر کہنا چاہتا ہوں۔ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ مذہبی اختلافات کو جس ڈھب سے ہوا دی گئی اُس کا لازمی نتیجہ یہی آثار و مظاہر تھے جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور بدقسمتی سے بعض مقامات پر ابھی تک دیکھ رہے ہیں ' '۔امام الہند کے ساتھ جمعیۃ علماء ہندکے تمام ہی اکابرتھے،جنہوں نے ملک کی آزادی میں اہم کردارپیش کیاتھا،مگر جناح کے مقابلے میں ہمارے ہی لوگ ان کی پگڑیاں اچھال رہے تھے، سڑکوں، چوراہوں میں انہیں ذلیل ورسواکیاجارہاتھا،چونکہ انہیں یہ لگتاتھاکہ یہ لوگ کانگریس کی غلامی کررہے ہیں،مسلم لیگ کا ساتھ نہ دے کرگناہِ عظیم کو انجام دے رہے ہیں،جمعیۃ علماء ہند اور اس کے اکابر میدان کارزارمیں ڈٹے رہے،یہاں تک تقسیم کے فارمولے پر انہوں نے دستخط نہیں کیا،آج ستر سال گذرنے کے بعد ہم پوری مضبوطی سےکہتے ہیں کہ ہمارے اکابرکا فیصلہ نہایت ہی دانشمندانہ تھا،اسی لئے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ ملک ہماراہے،ہم تقسیم کے اس وقت بھی مخالف تھے اور آج بھی اسی پر قائم ہیں۔

جبکہ دوسری طرف جناح تھے،جن کے سایہ کے نیچے سرمایہ داروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع تھی،وہ انہیں اپنامحسن ،ہمدرد،ماویٰ،ملجا سمجھ رہے،زندہ بادکے نعروں سے ان کی واہ واہی ہورہی تھی،لیکن اس کا نقصان کس کوہوا؟کمزورکون ہوئے؟تعدادمیں کمی کدھرہوئی؟تقسیم کا داغ کس کے چہرہ پرلگا؟آج تک کون موردالزام ٹھہرائے جارہے ہیں؟کبھی رات کی تنہائیوں پر اس پر غورکیجئے،اور مولاناابوالمحاسن سجادؒ نے اس موقع سے جناح کو جونصیحت آمیز خط لکھاتھا،اس کو پڑھئے،بہت سی گرہیں کھل جائیں گی !

*پولیٹیکل جتنی بھی پارٹیز ہوں،بھارت کے آئین کے اعتبارسے ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے پا س اپنے آپ کو یہ ثابت کریں کہ وہ سیکولر ہیں ، اور سیکولرازم کے اصولوں پر ہی بھارت کے آئین کو ترتیب دی گئی ہے، کئی طرح کے حالات پیش آنے کے باوجود آج اگرہم مضبوطی سے عدالت میں کھڑے ہوتے ہیں تو بنیادیہی سیکولرازم ہوتے ہیں!*

اس بات کو یادرکھئے!کہ ہمارے لئے قیادت بھی ضروری ہے،اور سیاست بھی،مگرنعرہ تکبیر کے نام پر ،یاخالص اسلام کے نام پر سیاست کی تائید ؛ اگربھارت جیسے ملک میں،جمعیۃ علماء ہند جیسی مذہبی جماعت کے اسٹیج سےکی جائے گی،تو اس کاانجام انتہائی خطرناک ہوگا،یہ ایساہی ہے کہ اگرتمام مسجدوں سے خالص اسلام کے نام پر کسی سیاسی پارٹی کا اعلان ہوجائے،تو پھر ملک میں دوپارٹی رہ جائے گی،یاتو مسلم یاہندو،اور دوسری طرف کے لوگ تو یہی چاہتے ہیں۔

*اسدالدین اویسی صاحب ؛ایک بہترین سیاست داں ہیں،پارلیامینٹ میں ان کی عالمانہ تقریروں نے تمام مسلمانوں کو حوصلہ دیاہے،بعض مسئلے میں اختلافات ہوسکتے ہیں ،مگر مجموعی طورپر ان کی باتیں بہت ہی خوبصورت،جامع،مدلل،مسکت اور وقت کی نزاکت کے اعتبار سے بہت ہی اہم اور قیمتی ہوتی ہیں،وہ حیدرآباد سے ایم پی ہیں،لیکن پورے ملک کے مسلمانوں اوردبے،کچلے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہیں،ان کا انداز اتناخوبصورت ہوتاہے کہ دیگرلوگوں کے لئے بھی کشش کا ذریعہ بن جاتا ہے،مگر جب بات مجلس اتحاد المسلمین کے پورے ملک کے سیاسی اکھاڑہ میں اترنے کی آئے گی، تو کوئی بھی مذہبی جماعت ،اپنی جماعت کے اسٹیج سے تائید وحمایت کا اعلان نہیں کرے گی،بصورتِ دیگر،دیگرلوگوں کے لئے راہیں ہموار کرنے کا ذریعہ ہوگا۔*

*بہت سے لوگ کئی طرح کی باتیں کرتے ہیں* ،وہ کہتے ہیں ،جمعیۃ علماء ہند ہی وہ جماعت جس نے ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک نہ خود مسلم پارٹی بنائی،اورنہ کسی کوبنانے دیا،یہ لوگ دراصل تقسیم ہند کی وجہ سے ملک میں کس طرح کے حالات پیداہوگئے تھے،اور اس موڑپر جمعیۃ علماء ہند کا کردارکیاتھااس سے ناواقف ہیں۔ ١٩٤٩ میں،لکھئومیں جمعیۃ علماء ہند کے سولہواں اجلاس عام کے موقع سے حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی ؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاتھا:بہت آسان تھاکہ جمعیۃ علماء ہند سیاست کا بھی دعویٰ کرتی رہتی، اور جداگانہ سیاست کے عادی کروڑوں مسلمانوں کو اپنے گرد جمع کرلیتی،مگریہ مسلمانوں کے حق میں خیرخواہی نہ ہوتی،اس کے حقیقی معنی یہ ہوتے کہ زہرکے پیالے کی طرف مسلمانوں کو دعوت دی جارہی ہے،اور دودھ کی نمائش کرکے سم قاتل ان کے حلق کے نیچے اتاراجارہا ہے،ملک کی ایک خیرخواہ جماعت ہرگز ایسانہیں کرسکتی تھی،کیامشترک انتخاب کی موجودگی میں کسی اقلیت کے لئے یہ مفید ہوسکتاہے کہ وہ سیاسی پلیٹ فارم جداگانہ بنائے؟ ' '

*جمعیۃ علماء ہند کے قائدوصدر محترم جناب مولاناسیدمحمود اسعدمدنی صاحب سے کئی باتوں میں اختلاف کیاجاسکتاہے؟اور اختلاف رائے کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے،لیکن ان کے بیان کی وجہ سے،جس طرح ان کی ذات پر حملے کئے جارہے ہیں،ان کے ناموں کو بگاڑاجارہاہے،جمعیۃ علماء ہند کے حوالہ سے جس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں،مذہب اسلام تو بہت دور،کسی بھی مہذب سماج میں اس کی گنجائش نہیں سمجھ میں نہیں آتی ہے۔*

*اگرکسی بات پر کسی سے اختلاف بھی ہوتوان کی تمام خدمات کو بھول جانا،انہیں ہدف تنقید کا نشانہ بنانے کا جواز کہاں سے پیداہوجاتاہے،دہلی فسادمیں ہزاروں فسادزدگان کے گھروں کو بسانے سے لے کر جیل کی تاریک کوٹھریوں سے انہیں نکال کر باعزت بری کرنے تک،نوح میوات سے لے کرملک کے مختلف حصوں میں ہورہے بلڈوزر کی کاروائی پر روک لگوانے تک کے لئے ودیگرہزاروں صفحات پر مشتمل ان کے کارنامے ہمیشہ یادکئے جائیں گے۔*

یہاں دوباتیں الگ الگ ہیں،دونوں کو الگ الگ انداز سے سوچا جاناچاہئیے،ایک تو اویسی صاحب ،اورنمبر٢ مجلس،اسی طرح مجلس کا صرف حیدرآبادوتلنگانہ میں ہونا،اور دوسرا ملک سے باہرکسی بھی ریاست میں جاکرالیکشن لڑنا،اس میں کوئی شک نہیں کہ اویسی صاحب بہت ہی باصلاحیت اور جرات مند ایم پی ہیں،اندورون پارلیامینٹ ان کی عالمانہ ،فاضلانہ تقریر سے دیگرلوگوں کو بھی خاموش کیاہے،مگر ان کی پارٹی کا حیدرآبادکے علاوہ ریاستوں میں الیکشن لڑنےکے حوالہ سے ،محض اسلام کے نام پر،بنی اس پارٹی کی حمایت وتائیدکا سوال ہوگا،تو جمعیۃ علماء ہند کبھی بھی واضح اورظاہری اندازمیں حمایت نہیں کرسکتی ہے،یہی قیادت کی پالیسی ہے،ہاں اس میں بھی امکان موجودہے،کہ جمعیۃ سے جڑاکوئی شخص،انفرادی طورپر زمینی سطح پر اس کے لئے کام کرے،جیساکہ اس سے قبل بھی اس پر عمل کیاگیاہے،مگر مذہبی جماعت کی حیثیت سے اگراعلان وتائیدہوجائے تو پھر دیگرلوگوں کے لئے مزید راہیں کھل جائیں گی!

*ہاں! یہ مستقل موضوع ہے کہ آج کے ماحول میں مسلمان کیاکریں؟کیاآج جداگانہ سیاست کی اجازت دی جاسکتی ہے،یانہیں؟اس کے نقصانات کیاہیں،اورفوائدکتنے ہیں؟اگر جمعیۃ علماء ہند کی پالیسی سے اتفاق نہیں ہے تو،ملک میں دیگرتنظیمیں بھی ہیں،بڑے بڑے دماغ بھی ہیں،اس موضوع پر پھر سے غوروفکرکریں،اور محض نعرہ کی بنیادپر نہیں زمین سے جڑکراس پر محنت کریں، ورنہیں تو ہم کئی جگہوں پر انجام دیکھ چکے ہیں،خوب ہنگامہ کیاکہ جیت رہے ہیں،لیکن شکشت ہی ہوئی؟اس کی وجہ جانکارحیرانی ہوئی کہ جنہوں نے ازیں قبل ان کے لئے سب کچھ قربان کیاتھا،ان کو بھی اپنے ساتھ شامل نہیں کرسکے،ہارکے بعد بدنام جمعیۃ کے احباب۔
Sep
Sunday,
22,

مسلمانوں کی ایجاد

ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﮐﯿﻤﺮﮦ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦ ﺍﻟﮩﯿﺸﻢ

ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﮐﯿﻠﯿﻨﮉﺭ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻋﻤﺮ ﺧﯿﺎﻡ

ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ
ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺯﮐﺮﯾﺎ ﺍﻟﺮﺍﺯﯼ

ﺍﻟﺠﺒﺮﺍ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻣﻮﺳﯽٰ ﺍﻟﺨﻮﺍﺭﺯﻣﯽ

1759 ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻤﭙﻮ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻣﺤﻤﺪ

ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺯﻟﺰﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ
ﭘﮩﻠﮯ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺍﺑﻦِ ﺳﯿﻨﺎ

ﮐﭙﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﭼﻤﮍﺍ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯﺍﻭﺭ ﮔﻼﺱ
ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﯿﮕﻨﯿﺰ ﮈﺍﺋﯽ ﺁﮐﺴﺎﺋﮉ ﮐﺎ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦِ ﺳﯿﻨﺎ

ﺩﮬﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ، ﺳﭩﯿﻞ ﺑﻨﺎﻧﮯﮐﺎ
ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦِ ﺳﯿﻨﺎ

ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺩﺍﻧﺖ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻮﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﻟﺰﮨﺮﻭﯼ۔۔

ﭨﯿﮍﮬﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ
ﺧﺮﺍﺏ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ
ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻮﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﻟﺰﮨﺮﻭﯼ

ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ
ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦِ ﺳﯿﻨﺎ

ﮐﺸﺶ ﺛﻘﻞ ﮐﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﭘﯿﻤﺎﺋﺶ ﮐﺎ
ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﻋﻤﺮ ﺧﯿﺎﻡ

ﺁﻧﮑﮫ ، ﻧﺎﮎ، ﮐﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮯ ﮐﺎ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ
ﺳﮯ ﻋﻼﺝ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﻟﺰﮨﺮﻭ ﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﻟﺰﮨﺮﻭﯼ

ﺳﺮﺟﺮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﯿﻦ
ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺁﻻﺕ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺍﺑﻮﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﻟﺰﮨﺮﻭﯼ

ﻋﻠﻢِ ﺍﻋﺪﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺟﺪﯾﺪ ﺭﯾﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ
ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ 
ﯾﻌﻘﻮﺏ ﺍﻟﮑﻨﺪﯼ

ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﯼ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ
ﮐﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﯾﻌﻘﻮﺏ ﺍﻟﮑﻨﺪﯼ

ﺁﻧﮑﮫ ﭘﮧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﻣﻀﺮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺩﻧﯿﺎ
ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺯﮐﺮﯾﺎ ﺍﻟﺮﺍﺯﯼ

ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﮐﺎ ﺁﻭﺍﺯﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ
ﺗﯿﺰ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺍﻟﺒﯿﺮﻭﻧﯽ

ﺯﻣﯿﻦ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺎﺕ
ﺍﻭﺭ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻨﺎﺱ
ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﻟﺒﯿﺮﻭﻧﯽ

ﻗﻄﺐ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﻄﺐ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﮐﯽ
ﺳﻤﺖ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﻃﺮﯾﻘﮯ
ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﻟﺒﯿﺮﻭﻧﯽ

ﻋﻠﻢ ﺍﺭﺿﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻐﺮﺏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ
ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺑﺎﺋﮯ ﺍﺭﺿﯿﺎﺕ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ
ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦِ ﺳﯿﻨﺎ

ﮨﺎﺋﯿﮉﺭﻭﮐﻠﻮﺭﮎ ﺍﯾﺴﮉ، ﻧﺎﺋﭩﺮﮎ ﺍﯾﺴﮉ ﺍﻭﺭ
ﺳﻔﯿﺪ ﺳﯿﺴﮧ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺑﯿﺎﻥ
ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦِ ﺳﯿﻨﺎ

ﮐﯿﻤﯿﮑﻠﺰ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺑﺎﺑﺎﺋﮯ ﮐﯿﻤﯿﺎ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦِ ﺳﯿﻨﺎ

ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﺍﻧﻌﮑﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﺑﺼﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﺭﯾﭩﯿﻨﺎ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﺍﺑﻦ ﺍﻟﮩﯿﺸﻢ

ﺳﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﺗﻌﯿﻦ
ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ 
ﻧﺼﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻃﻮﺳﯽ

*ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺳﺎئنس دان ہیں*

      

قرآن نازل ہی اِس لیے ہوا کہ اُسے دستورِ حیات بنایا جائے اُس کی روشنی میں اپنی منزل اور راستہ متعین کیا جائے۔
Aug
Thursday,
29,

پردہ پردہ پردہ

پردہ پردہ پردہ

لڑکی نے کہا :
تنگ آگئے ہم مولویوں سے! پردہ پردہ پردہ!
بھائی ہم آزاد ہیں، جیسا لباس پہنیں، مرد نہ دیکھیں، کیوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سر سے پاؤں تک عورت کو دیکھتے ہیں! ان کے گھر میں بہن بیٹی نہیں ہے کیا؟؟ ہم کیوں پردہ کریں، تم دیکھو ہی نہیں—"

میں نے کہا جی جی ! بات تو تمہاری صحیح ہے کہ مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم ہے، نامحرم کو دیکھنا حرام ہے لیکن جو منطق تم پیش کررہی ہو وہ دماغ کی بتی فیوز منطق ہے—!!

بولی وہ کیسے؟؟؟

میں نے کہا کہ میں بھی رات دو بجے گھر میں بڑا سا ایک ساؤنڈ لگاکر قرآن کی تلاوت چلاؤں گا کوئی پڑوسی اعتراض کرے تو کہوں گا تم اور تمہارے بچے اپنے کان بند کرلو! مجھے ہی کیوں کہتے ہو میں آزاد ہوں، پورا محلہ مجھے ہی بولے جارہا ہے! اپنے کان بند نہیں کر سکتے۔۔۔۔

یا پھر ہسپتال میں بیٹھ کر سٹے لگاؤں گا لوگوں نے اعتراض کیا تو کہوں گا میری مرضی تم نہ سونگھو! اپنی ناک بند رکھو! کیوں سانس لیتے ہو!

لڑکی تھوڑی چونک سی گئی اور کہا " ہاں لیکن دیکھنے میں بھلا کیسا گناہ ، دیکھنا بھی حرام ہے عورت کو، دیکھنے سے بھلا کیا ہوجاتا ہے۔۔؟؟؟

میں نے کہا سانپ دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز کیوں ہو جاتی ہے ؟ طبیعت و احساسات میں تبدیلی کیوں آجاتی ہے ؟ سڑک پہ انسانی خون دیکھ کر طبیعت کیوں خراب ہوجاتی ہے ؟ 
ثابت ہوا کہ جذبات و احساسات کا دیکھنے سے بھی تعلق ہے--!
لہذا تم جوان لڑکیاں یہ مت کہو کہ ہم تنگ لباس پہنیں گے اور دیکھنے والے کو کچھ نہیں ہوگا ! "طبیعت خراب ہوگی جوانوں کی"

،،،،،،،،،،،،،،،،سبق،،،،،،،،،،،،،،،،،
    اسلئے اپنے آپ کو پردہ میں رکھو ڈھکی چیز کی ہی قیمت ہوتی ہے، عزت ہوتی ہے،
   میری بہنوں:— اگر ہر کوئی آپ کو دیکھے گا تو وہ آپ کی محبت میں نہیں دیکھے گا ، بلکہ ہوس کی نگاہوں سے دیکھے گا جس کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی جب دعوت نہ دی جائے تو لوگ جائیں گے بھی نہیں ، میٹھی چیز نہ ہو تو چیونٹی بھی نہیں آئیں گی ۔۔۔۔۔

بچیوں کو محفوظ کریں

بچیوں کو محفوظ کریں

1: اپنی بچیوں کو کبھی کسی بھی مرد ٹیچر کے پاس سکول پڑھنے،، یا قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے کے لیے نہ بھیجیں! بچی چھوٹی ہو یا بڑی ہو،، ٹیچر یا قاری صاحب بڑی عمر کے سمجھ دار ہوں یا کم عمر نوجوان.. بچی ہمیشہ استانی کے پاس ہی پڑھے گی۔۔ 

2: جب بچی کچھ بڑی بڑی لگنے لگے تو اسے دکان پر چیز لینے نہ جانے دیں! خواہ بچی کتنی ہی کم عمر ہو.. اگر صحت مند ہے اور خد و خال واضح ہو رہے ہیں تو دکان پر مت جانے دیں! 

3: بچیوں کو کم لباس، یا تنگ لباس کر کے باہر مت بھیجیں! بلکہ گھر میں بھی مکمل کپڑے پہنا کر رکھیں! گھر میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی ہوں پھر بھی پورے ، اور کشادہ کپڑے پہننے کی عادت ڈالیں! 

4: بچیوں کو چھوٹے بچوں ، یا بڑے مرد کسی کے سامنے مت نہلائیں!! حتیٰ کہ باپ کے سامنے بھی بچیوں کو برہنہ مت کریں! بچیوں کے اعضاء ستر بچپن سے ہی پردے میں رہنے چاہییں! 

5: بچیوں کو بچیوں جیسا تیار کریں! سرخی پوڈر اور میک اپ کروا کر انہیں عورتوں کے مشابہ مت بنائیں! میک اپ کرکے تنگ کپڑے پہن کر چھوٹی چھوٹی عورتیں لگ رہی ہوتی ہیں ۔۔ پھر مردوں کی ہوس کی شکار بنتی ہیں ،، اور ان کی لاشیں ویرانوں سے برآمد ہوتی ہیں ۔

6: بالغ لڑکیوں کو،، یا قریب البلوغ بچیوں کو غیر محرم خصوصاً کزن، پھوپھا اور خالو وغیرہ کے ساتھ کبھی موٹر سائیکل پر مت بٹھائیں! اگر مجبوراً بھیجنا ہو تو ساتھ کوئی اور بچہ بھیجیں جو درمیان میں بیٹھ جائے۔ 

7: بچیاں ہوں یا بچے.. ہاتھ کا مذاق ان سے کوئی نہیں کرے گا۔ نہ استاد ، نہ کوئی بڑا انکل ، نہ ہی قریبی رشتے دار..
اسی طرح گالوں پر ہاتھ پھیرنا ، گود میں بٹھانا ، گدگدی کرنا وغیرہ.. یہ سب چیزیں بالکل ممنوع قرار دیں! 

8: بہنوں کے کمرے بھائیوں سے الگ ہونے چاہییں! بھائیوں کو بہنوں کے کمروں میں بلا اجازت جانے پر سخت سزا دیں! بہنوں کے گلے لگنا، گلے میں ہاتھ ڈالنا، مذاق مذاق میں ایک دوسرے سے گتھم گتھ ہونا بالکل غلط ہے ۔۔ بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے ۔

9: گھر میں کوئی بھی نامحرم مرد مہمان آئے ، قریب سے آئے یا دور سے،، جوان بچیاں اس سے سر پر ہاتھ نہیں رکھوائیں گی۔ بلکہ بہت قریبی رشتے دار نہ ہو تو سلام کرنا بھی ضروری نہیں۔ یہ بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا ۔
اپنی بچیوں کی جوانی کو ایسے چھپا کر رکھیں کہ کسی مرد کو ان کا سراپا ہی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں کی لڑکی اتنی موٹی اور اتنی لمبی تھی وغیرہ ۔۔

10: بچیوں کو گھر میں محرم رشتے داروں کے سامنے دوپٹہ لینے اور سنھبالنے کی خصوصی مشق کروائیں! دوپٹہ سر سے کبھی سرک بھی جائے تو سینے سے بالکل نہیں ہٹنا چاہیے! 
اور کھلے گلوں پر سختی سے پابندی لگائیں! بچیوں کو سمجھائیں کہ دستر خوان پر کبھی کسی کے سامنے جھک کر سالن نہیں ڈالنا، کوئی چیز گر جائے تو جھک کر نہیں اٹھانی.. اور اکیلے میں بھی اگر جھک کر کوئی کام کریں تو گلے اور سینے پر دوپٹے برابر قائم رہے ۔۔ تاکہ انجانے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے.. 

یہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا،، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بچیاں محفوظ رہیں تو ان پر عمل کریں! آج کے زمانے میں سب سے زیادہ فحش ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں ،، اور اب تو فحش نگاری کے باقاعدہ مصنفین موجود ہیں جو محرم رشتوں کے آپسی جنسی تعلقات سے متعلق گندی کہانیاں لکھ رہے ہیں اور ویڈیوز بنا رہے ہیں.. اور سب سے زیادہ ایسی ہی ویڈیوز اور کہانیاں دیکھی جا رہی ہیں ان سے مکمل بچیں کیونکہ ان کی نحوست سے اب لوگ آہستہ آہستہ بھیڑیے بنتے جا رہے ہیں ۔۔ اپنی بچیاں خود بچالیں! 
ورنہ یاد رکھیں! کسی کو آپ کی بچیوں پر ہونے والی زیادتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی لاش گٹر میں ملے ، ندی نالوں میں ملے یا کسی ویرانے میں ملے۔۔ تو یہ صرف اخبار کی ایک خبر ہے ، یا ٹی وی کی نیوز...
 انصاف وغیرہ کو بھول جائیں! وہ یہاں نہیں ملتا ۔
اس لیئے بہتر ہے کہ خود ہی احتیاط کریں !

14 حکمتیں جن پر عمل کرنے سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا

1. اعتماد کی انتہا یہ ہے کہ جب لوگ آپ کا مذاق اڑائیں تو آپ خاموش رہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور وہ کون ہیں۔
2. خاموش لوگ یا تو بڑے غم کے حامل ہوتے ہیں یا بڑے خواب کے۔
3. آپ نے یہ دنیا نہیں بنائی تاکہ دوسروں پر اپنی شرائط مسلط کریں۔ پہلے خود کو درست کریں تاکہ آپ دوسروں کے لیے مثال بن سکیں، پھر ان سے توقع کریں کہ وہ آپ کے جیسے ہوں۔
4. جاہلوں سے بحث کرنا پانی پر نقش بنانے کے مترادف ہے، چاہے آپ کتنی بھی محنت کریں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
5. جوتے کے پاس زبان ہے لیکن وہ بولتا نہیں، میز کے پاس پاؤں ہیں لیکن وہ چلتی نہیں، قلم کے پاس پر ہے لیکن وہ اڑتا نہیں، گھڑی کے پاس کانٹے ہیں لیکن وہ کاٹتے نہیں، اور بہت سے لوگوں کے پاس عقل ہے لیکن وہ سوچتے نہیں۔
6. وہ آپ کے بارے میں برا بولتے ہیں، پھر آپ کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور آپ کے چہرے پر مسکراتے ہیں، یہ سب سے گندے لوگ ہیں۔
7. مشکل وقت انسان کے اصل جوہر کو ظاہر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
8. چھوٹے دماغ کے لوگوں کی چھوٹی پریشانیاں ہوتی ہیں، جبکہ بڑے دماغ کے لوگوں کے پاس پریشانیوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔
9. ایسے شخص کے قریب نہ رہیں جو آپ کو خوش کرتا ہو، بلکہ ایسے شخص کے قریب رہیں جو صرف آپ کے ساتھ خوشی محسوس کرتا ہو۔
10. لوگ لہروں کی مانند ہیں، اگر آپ ان کے ساتھ چلیں تو وہ آپ کو ڈبو دیں گے، اور اگر ان کی مخالفت کریں تو وہ آپ کو تھکا دیں گے۔
11. میں نہیں جانتا کامیابی کا راز کیا ہے، لیکن ناکامی کا راز سب کو خوش کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
12. میں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہوں، تو یا تو میں کامیاب ہوں گا، یا میں کامیاب ہوں گا، یا میں کامیاب ہوں گا۔
13. اگر بھولنے کی نعمت نہ ہوتی، تو ہم میں سے بہت سے لوگ پاگل ہو جاتے۔
*سب سے اہم:*
14. خود کو کنجوسوں کی فہرست سے نکال دیں اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ❤️ پر درود بھیجیں۔

یہ حکمتیں آپ کو نہ صرف ذہنی سکون فراہم کریں گی بلکہ آپ کی زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

میں علماء سے کہتا ہوں کہ وہ مہربانی کریں کہ اب کوئی دارالعلوم کےنام پر ہرگز دار العلوم نہ بنائیں۔

میں علماء سے کہتا ہوں کہ وہ مہربانی کریں کہ اب کوئی دارالعلوم کےنام پر ہرگز دار العلوم نہ بنائیں۔
البتہ ایک ضروری کام یہ کریں ، کہ جہاں حکومت کوئی یونیورسٹی یا کالج بنائے، وہیں تم لوگ طلباء کی رہائش کے لیے ہاسٹل بناؤ، مدرسہ نہ ہو دارالعلوم نہ ہو، ہاسٹل ہو اور اس میں بس مسجد ہو اس ہاسٹل میں طلبا کو مفت رہائش دی جائے لیکن کھانے کے پیسے ان سے لیے جائیں ۔

ان سے کہا جائے کہ بھائی کھانے کے پیسے جمع کراؤ اور رہائش  فری ہو، بس ان سے یہ شرط طے کر لی جائے کہ بیٹا جب تک تم اس ہاسٹل میں رہو گے تو نماز باجماعت پڑھو گے ، جب تم کالج میں جاؤ، کہیں جاؤ تو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم جانو تمہارا خدا جانے اور صبح کی نماز کے بعد تین آیات درس قرآن اور عشاء کے بعد تین احادیث کا درس دیا جائے۔

پھر یہی لوگ کل کو حکومت کے اعلی عہدوں پر پہنچیں گے یہ مولوی تو نہیں بنیں گے لیکن مولوی بے زار نہیں ہوں گے  مولویوں سے نفرت نہیں ہوگی، یہ تمہارے قریب رہ چکے ہوں گے اور انہوں نے تم سے استفادہ کیا ہوگا۔

کسی شخص کو نیچے دبنا اور اوپر اٹھانا

ایک سکول میں ایک استاد نے کلاس میں موجود جسمانی طور پر ایک مضبوط بچے کو بُلایا اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا اپنا ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھا اور بولے تگڑا ہوجا پھر اُسے نیچے کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا یا - یوں کہہ لیجیے کہ دبانا شروع کردیا - وہ بچہ تگڑا تھا وہ اکڑ کر کھڑا رہا استاد محترم نے اپنا پورا زور لگانا شروع کر دیا وہ بچہ دبنے لگا اور بلآخر آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتا چلا گیا استاد محترم بھی اُسے دبانے کے لئے نیچے ہوتاچلا گیا وہ لڑکا آخر میں تقریباً گر گیا اور اُس سے تھوڑا کم استاد محترم بھی زمین پر تھے اُستاد صاحب نے اِس کے بعد اُسے اٹھایا اور کلاس سے مخاطب ہوئے

”آپ نے دیکھا مجھے اِس بچے کو نیچے گرانے کے لئے کتنا زور لگانا پڑا ؟

دوسرا یہ جیسے جیسے نیچے کی طرف جا رہا تھا میں بھی اِس کے ساتھ ساتھ نیچے جا رہا تھا یہاں تک کہ ہم دونوں زمین کی سطح تک پہنچ گئے“  وہ اُس کے بعد رکے لمبی سانس لی اور بولے  ”یاد رکھئیے ۔۔۔!!!

ہم جب بھی زندگی میں کِسی شخص کو نیچے دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف ہمارا ہدف ہی نیچے نہیں جاتا ہم بھی اُس کے ساتھ زمین کی سطح تک آ جاتے ہیں (مطلب انسانیت سے گِر جاتے ہیں) جب کہ اِس کے برعکس ہم جب کسی شخص کو نیچے سے اٹھاتے ہیں تو صرف وہ شخص اوپر نہیں آتا ہم بھی اوپر اٹھتے چلے جاتے ہیں ہمارا درجہ، ہمارا مقام بھی بلند ہو جاتا ہے
Aug
Tuesday,
20,

تنظیم المسلمین، علمائے کرام، گودھرا کی طرف سے منعقدمکتب کے اساتذہ میں ہوئی فکری نشست کی تفصیلی رپورٹ

تنظیم المسلمین، علمائے کرام، گودھرا کی طرف سے منعقد
مکتب کے اساتذہ میں ہوئی فکری نشست کی تفصیلی رپورٹ

آج مؤرخہ ۹ اگست، ۲۰۲۴، جمعہ کے روز تنظیم المسلمین علمائے کرام، گودھرا کی جانب سے اساتذۂ مکتب کے لیے ایک علمی و فکری مجلس کا انعقاد عمل میں آیا۔ مجلس کا مقررہ وقت نمازِعصر کے بعد سے مغرب تک کا تھا، الحمد للہ وقتِ مقررہ مجلس شروع ہوئی۔ 

آج کی مجلس کے خطیبِ مکرم حضرت مولانا ابو حسان پوترک صاحب فلاحی (پونہ) تھے، آپ گوناگوں اوصاف و کمالات اور میدان علم و تعلیم کے طویل ترین تجربات کی حامل شخصیت ہیں۔پچھلے ۲۵ سال سے تعلیم کے میدان کو اپنے فکر و عمل کا عنوان بنائے سرگرمِ عمل ہیں۔ آپ والا نہ صرف تعلیم، بلکہ فلسفۂ تعلیم و تربیت، فن تدریس، نفسیات اور خاص کر بچوں کی نفسیات کے میدان میں بھی گہری سمجھ اور طویل تجربہ رکھتے ہیں اور آپ نے انہی میدانوں کو اپنی جدوجہد کا محور بنا رکھا ہے، جس کے لیے آپ تقریبا سال بھر اپنے اس مشن کو لے کر ملک بھر کے مختلف مقامات کے اسفار میں سرگرداں رہتے ہیں۔ 

آج کی نشست کا موضوع تھا "ہندو تصورات جو اسکولی نظام کا حصہ ہو سکتے ہیں"۔ 
موضوع کی مناسبت سے آپ نے تمہیدی کلمات میں ہمارے ملک میں اسکولی تعلیم کے میدان میں ایمان و یقین کے حوالہ سے ہمارے بچوں کے مستقبل کو لے کر بڑی فکرمندی کا اظہار فرمایا۔ آپ کی گفتگو کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں: 

* آپ نے فرمایا کہ اس وقت ہم ایسے دور میں آ پہنچے ہیں جہاں ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہمارے بچوں کے ایمان کو بچانا ہے، اور ایمان کی حفاظت کے اگر کوئی مؤثر ترین ذرائع ہے تو ان میں سرفہرست مکتب ہے۔ 

* این ای پی (NEP: National Education Policy) پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اس کو آئے ہوئے چار سال ہو گئے، لیکن ہماری طرف سے اقدامی کوششیں تو کجا، دفاعی کوششیں بھی نہ ہونے کے برابر کی گئیں، جس کا ایک نتیجہ گزشتہ سال بھگوت گیتا کو گجرات کے اسکولی نصاب کا حصہ بنا دینے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

* این ای پی میں آیا کیا ہے؟ آج اس کو ہمیں سمجھنا ہے، آیا کیا ہے؟ وہ اس لیے بھی دیکھنا ضروری ہے تاکہ ہم مکتب میں کیا کر سکتے ہیں وہ سوچا جا سکے۔ کیونکہ چیزوں کو جب تک ٹھیک طریقے سے دیکھا نہیں جاتا، تب تک وہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس لیے آج پریزنٹیشن میں ان چیزوں کی کچھ صاف صاف تصاویر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش ہوگی۔

پھر آپ نے ایک بچی کا سوال پیش فرمایا کہ آج کے بچے کیسے کیسے سوالات اپنے ذہنوں میں لے کر آتے ہیں: 
* سوال یہ تھا کہ اللہ نے دنیا بنائی، لیکن یہ کیا لاجک ہے کہ اتنی اچھی بنی بنائی دنیا کو قیامت قائم کرکے توڑپھوڑ دے؟ اس کا کیا مطلب؟ اس سوال کا منبع کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ سوال آیا کہاں سے ہے اسے دیکھنے کے لیے ہمیں ہندوازم کے بنیادی نظریات و عقائد کو سمجھنا پڑے گا۔

اس کے بعد مولانا نے ہندوازم کے کچھ بنیادی عقائد اور اس کی تعلیم کی بنا پر ہمارے یہاں اس کی زد کہاں کہاں اور کن کن عقائد پر پڑے گی اس کا ایک تفصیلی خاکہ پیش فرمایا۔جیسے:
 
* دھرما: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندو دھرم کوئی دھرم نہیں، بلکہ وہ ایک زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ ایک کلچر ہے، حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ اور خلاف حقیقت ہے۔ کوئی بھی مذہب کچھ مخصوص عقائد، تہذیب اور اخلاقیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب بات ہندوازم کی آتی ہے تو اس میں بھی کرما، موکش، نروان، آواگون، پونرجنم، تناسخ، تری مورتی، یوگا وغیرہ عقائد ہی پر آ کر ختم ہوتی ہے، محض کلچر پر ہی نہیں رکتی۔ اور یہ چیزیں وہ اسکولی تعلیم میں حِسّی مثالوں کے ذریعہ سکھا رہے ہیں، کہانی اور مکالموں کے اسلوب میں لاشعوری طور پر ان کے دماغوں میں ٹھونس رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلہ میں ہمارے یہاں محض مجرد باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں بچہ ابھی دھرم کی گہری بحثوں کو سمجھتا بھی نہیں ہوتا، اس کو صرف ایمانیات کا ابھی اتنا حصہ سکھایا جاتا ہے جس کا تعلق بھی محض حافظہ سے ہوتا ہے، فہم سے نہیں۔ (ایمان مجمل، ایمان مفصل) اس لیے وہ خلاف اسلام عقائد و نظریات کو کاؤنٹر نہیں کر پاتا یا ان کے درمیان حد فاصل کھینچ نہیں پاتا۔

* ایک بچی نے اپنی دوست سے کہا کہ میں اسلام چھوڑنے والی ہوں، اس سے پوچھا گیا کہ کیوں؟ تو اس کا جواب یہ تھا کہ میں نے اللہ سے اتنی دعائیں مانگی، لیکن اس نے میری ایک بھی دعا نہیں سنی۔ یہ ذہن بچی کا کیسے اور کہاں سے بنا، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کو کیوں کہیں سے دعا کی حقیقت سیکھنے نہ ملی؟  

* اس لیے اب بچوں کو شعوری دین سکھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں بچوں کے پاس ریزننگ نہیں ہوتی، اس لیے اکثر وہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ 

* ایک بچی نے سوال کیا کہ: شادی کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟ کیونکہ میں نے پورا پورا ہفتہ اپنے والدین کو کبھی ایک دوسرے کے سامنے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔

* ایک اور بچی کا سوال تھا کہ: اللہ کی جنس کیا ہوتی ہے؟ کیوں کہ اللہ تعالی کے بارے میں صرف مذکر ہی کی ضمیر استعمال ہوتی ہے، مؤنث کی کیوں نہیں؟ اب دیکھو یہ سوال! یہ مسئلہ نکلا کہاں سے یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ یہ سوال آج کے مشہور زمانہ فتنہ 'فیمنزم' کی گود سے نکلا ہے۔

* ہمارے یہاں ایمان پڑھایا جاتا ہے، سکھایا نہیں جاتا۔ مکتب کی تعلیم میں ہمیں یہ اس طرح سمجھانا پڑے گا کہ یہ اس کی گھٹی میں پڑ جائے۔

پھر آپ نے ہندوازم کے بعض بنیادی عقائد جیسے کرما، موکش، تری مورتی، یوگا، تناسخ وغیرہ کا تقابل فرماکر یہ سمجھانے کی کوشش کی ان عقائد کی زد کیسے اسلام کے عقیدہ آخرت، عقیدہ جزا و سزا، عقیدہ بعث بعد الموت وغیرہ پر پڑتی ہے۔ آپ نے فرمایا: 
* اگر تصور آخرت مسلمانوں سے نکل گیا تو کوئی متبادل نہیں انسانی زندگی کو فساد سے بچا پانے کا۔ سارے خیر کی نیو تصور آخرت ہے۔ 

* اب وہ اپنے عقائد کی ترویج و اشاعت کے لیے اب فلمیں بھی بنا رہے ہیں۔

* مولانا نے فرمایا: (RTE)  حقِ تعلیم کے قانون میں  پہلے ۶ سے ۱۴ سال تک کے بچوں کو اسکولی تعلیم دلانا لازمی تھا، اب این ای پی کے نفاذ کے بعد یہ ۳ سے ۱۸ سال تک کر دیا گیا ہے، اگر آپ اس عمر کے بچے کو اسکول کی تعلیم سے محروم رکھتے ہیں تو آپ قانون کی نظر میں قابل سزا مجرم شمار ہوتے ہیں۔

* اسکولوں میں اب زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا، جو کچھ ہو سکتا ہے وہ مکتب میں ہو سکتا ہے، ان سب کا توڑ مکتب کی تعلیم ہے۔ 

* ہمیں بچوں سے مکالمہ کرتے رہنا پڑے گا۔ 

* جب ابتدا میں الحاد کا چیلنج آیا تو الحاد کے شکار بچے جب سوالات لے کر ہمارے پاس آتے تھے تو ہمارا جواب تیاری اور مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہوتا تھا کہ ایسی باتیں اور سوال نہیں کرنے کے، ایمان سے باہر نکل جاؤ گے۔ اور بچہ بھی سوسائٹی کے دباؤ سے خاموشی اختیار کر لیتا تھا، لیکن اب سوسائٹی کا وہ پریشر باقی نہیں رہا، اور اب اسی طرح کے سوالات ہندوازم سے متعلق ہمارے بچوں کی طرف سے آنے والے ہیں، اگر ہم نے اس کو گہرائی سے نہ سمجھا تو بچوں کے سولات کے تشفی بخش جواب نہ مل پائیں گے، اور نتیجہ میں ہم بچوں کے ایمان کو تزلزل سے نہیں روک سکیں گے۔

* یوگا کے بارے میں فرمایا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اگر روحانیت پانی ہے تو یوگا کرنا پڑے گا۔ یوگا ایک مذہبی عمل ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ابتلاء ہماری عورتوں کا ہے۔ 

آخر میں آپ نے گیتا کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ
* اب وہ یہاں تک پہنچ گئے کہ کتاب کے سامنے کتاب لے آئے ہیں، یعنی گیتا کا نصاب میں آنا یہ سیدھا مقابلہ ہے کتاب اللہ سے۔ اور اس کو بچوں کی دلچسپی اور ان کی نفسیات کے مطابق بنا کر لائے ہیں، کہانی اور مکالموں کی شکل میں گیتا کی تعلیم کو پیش کیا ہے۔

یوں یہ فکری مذاکرہ تقریبا سوا گھنٹہ کی طوالت پر ختم ہوا۔ مجلس کے اختتام پر تنظیم کی طرف سے شرکت کرنے والے تمام علمائے کرام کی چائے سے ضیافت کی گئی، اس دوران کئی ساتھیوں کے تاثرات سامنے آئے، جس میں ایک کامن تاثر یہ تھا اتنے اہم اور فکرانگیز موضوع کا اتنی وضاحت اور تفصیل سے یہ پہلی بار سامنا ہوا، کئی ساتھیوں نے بعد میں بھی مل کر کچھ مزید سوالات پیش فرمائے اور بعضوں نے اسے اپنی فکر و تدبر کا عنوان بنا کر اس پر نتیجہ خیز کوشش و توجہ کرنے کا اظہار فرمایا۔ الحمد للہ!

راقم: انس بدام، گودھرا

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © 2025 صراط مستقیم