Oct
Tuesday,
15,

شیطانی ہتھکنڈے اورمشاغل

*شیطانی مشاغل* 

علامہ بدرالدین بن شبلی اپنی مشہو رکتاب"آکام المرجان فی احکام الجا ن"میں نقل کرتے ہیں کہ شیطان لعین کے انسان کو نقصان پہنچانے کے ۶ درجات ہیں: 
(۱) پہلے مرحلہ میں وہ انسانکوکفر وشرک میں ملوث کرنے پرمحنت کر تا ہے،اگراس میں اُسے کامیابی مل جائے تو پھراس آدمی پراُسے مزید کسی محنت کی ضرورت باقی نہیں رہتی،کیوں کہ کفروشرک سے بڑھکر کوئی نقصان کی بات نہیں ہے۔ 
(۲) اگر آدمی (بفضل خداوندی) کفر وشرک پرراضی نہ ہو،تودوسرے مر حلہ میں شیطان لعین اُسے بدعات میں مبتلا کر دیتا ہے۔
حضرت سفیان ثوری رح فرماتے ہیں کہ شیطان کوفسق وفجوراور معصیت کے مقابلہ میں بدعت زیادہ پسند ہے؛ اس لئے کہ دیگر گناہوں سے تو آدمی کو توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے،مگربدعتی کوتوبہ کی تو فیق نہیں ہوتی(اسلئے کہ وہ بدعت کوثواب سمجھ کرانجام دیتا ہے توا س سے توبہ کاخیال بھی نہیں آتا)۔
(۳)اگرآدمی بدعت سے بھی محفوظ رہے توتیسرے مرحلہ میں اسے شیطا ن فسق وفجوراور بڑے بڑے گناہوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے ( مثلابدکاری قتل،جھوٹ یا تکبر، حسد وغیره)۔
(۴)اگرآدمی بڑے گناہوں سے بھی بچ جائے توشیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم ازکم آدمی کوصغیرہ گناہوں کا ہی عادی بنادے؛ کیوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ کبھی اتنی مقدارمیں جمع ہوجاتے ہیں کہ وہ انھیں کی وجہ سے مستحق سزا بن جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” تم لوگ حقیر سمجھے جانے والے گناہوں سے بچتے رہو؛ اس لئے کہ اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی جنگل میں پڑاؤڈا لیں اورہرآدمی ایک ایک لکڑی ایند ھن لائے ؛ تا آں کہ ان کے ذریعہ بڑا الاؤجلاکرکھاناپکایااورکھایاجائے ، تو یہی حال چھوٹے گناہوں کا ہے کہ وہ جمع ہوتے ہوتے بڑی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں(رواہ احمد،التر غیب والترہیب مکمل رقم : ۳۷۶۰ بیت الافکار )
(۵) اورجب شیطان کامذکورہ کا موں میں سے کسی مرحلہ میں بھی بس نہیں چلتاتواس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ایسے مباح کاموں میں لگادے جن میں کسی ثو ابکی امید نہیں ہوتی۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس وقت میں انسان نیکیاں کرکے عظیم ثوابکامستحق بن سکتا ہے، وہ وقت بلا کسی نفع کے گذر کر ضائع ہو جاتا ہے۔
(۶) اگر آدمی مذکورہ بالا ہر مرحلہ پر شیطان کے دام فریب میں آنے سے بچ جائے ،تو آخری مرحلہ میں شیطان انسان کو افضل اور زیادہ نفع بخش کام سے ہٹاکرمعمولی اور کم نفع بخش کام میں لگانے کی کو شش کرتا ہے؛ تاکہ جہاں تک ہو سکے انسان کو فضیلت کے ثواب سے محر وم کرسکے(آکام المرجان فی احکام الجان ۱۲۶ - ۱۲۷)
معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو نقصا ن پہنچانے کا کوئی موقع بھی ضائع کرنانہیں چاہتا، افسوس ہے کہ ایسے بدترین دشمن سے آج ہم غافل ہی نہیں ؛ بلکہ اس کے پکے دوست بنے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے دین دار بھی کسی نہ کسی مرحلہ پر شیطان کے فریب میں مبتلا نظر آتے ہیں، اور انھیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہمارے دشمن نے ہمارے ساتھ دشمنی کے کیا گل کھلا رکھے ہیں۔(رحمن کے خاص بندے/ ص:۳۶۰-۳۶۱)

No comments:

Post a Comment

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © 2025 صراط مستقیم