Oct
Sunday,
20,

بچوں کی آپس کی لڑائی اور ناراضگی ختم کروانے کے لیے 10 سادہ طریقے

بچوں کی آپس کی لڑائی اور ناراضگی ختم کروانے کے لیے 10 سادہ طریقے 

ماہرین نفسیات کے مُطابق چھوٹے بہن بھائیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا اُن کی دماغی نشوونما پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے مگر اس لڑائی جھگڑے کے ساتھ اُنہیں یہ بھی سیکھنا ضروری ہے کہ آپس کے معاملات اگر بگڑ جائیں تو اُنہیں ٹھیک کیسے کرنا چاہیے اور سمجھوتا کیسے کرنا چاہیے۔

بچوں کے ایک دُوسرے کے ساتھ معاملات اگر بگڑ جائیں اور اُنہیں ان معاملات کو ٹھیک کرنے کا پتہ نہ چلے تو لڑائی لمبی ہوجاتی ہے اور بچے جب جوان ہوجاتے ہیں تو معاملات سلجھانے کی سمجھ نہ ہونے کے باعث جب وہ اپنے بہن بھائیوں سے خفا ہوتے ہیں تو کئی کئی برس ایک دوسرے کا چہرہ نہیں دیکھتے اور آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں والدین کے لیے چند ایسی سادی تراکیب شامل کی جارہی ہیں جس سے وہ بچوں کی آپس کی لڑائی کو ختم کروا سکتے ہیں اور اُن میں سمجھوتا کرنے اور معاملات کو از خود درست کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔

 *نمبر 1 بچوں کو کہانیوں کے نتائج بتائیں:* 
ان کہانیوں کے علاوہ بچوں کو نبی ﷺ کی فتح مکہ کی کہانی بھی سُنائیں اور بتائیں کے کیسے ہمارے نبی ﷺ نے مکہ فتح کرنے کے بعد سب کو معاف کر دیا تھا اور کیوں وہ کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیتے تھے۔

 *نمبر 2 جرمانہ بکس اور جاب بکس:* 
بچوں کے لیے ایک ڈبہ مختص کریں اور اُنہیں بتائیں کے اگر اُنہوں نے آپس میں لڑائی کی تو ایک دن کا جیب خرچ جرمانے کے طور پر ادا کرنا پڑے گا اور اگر بچوں کو جیب خرچ نہیں ملتا تو ایک ڈبے میں کاغذوں پر مختلف کام لکھ کر ڈبہ بھر دیں اور اگر وہ آپس میں جھگڑا کریں تو اُنہیں ڈبے سے ایک پرچی نکالنے کا کہیں اور گھر کا جو بھی کام اُس پرچی پر لکھا ہو اُن سے کروائیں اس طریقے سے اُن کی لڑنے کی عادت ڈانٹ ڈپٹ کے بغیر ختم ہو سکتی ہے۔

 *نمبر 3 بچوں سے خط لکھوائیں:* 

اگر بچے آپس میں جھگڑ رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دُوسرے کی شکایت لیکر آرہے ہیں تو دونوں کو ایک ایک خالی پیپر دیکر اپنے اپنے جذبات اور احساسات لکھنے کا کہیں۔ اور اگر وہ چھوٹے ہیں تو ان کو کہیں کہ وہ اپنے جذبات کو آپ کے سامنے بلند آواز میں بیان کریں۔ اس عمل سے بچوں کو محسوسات کا خود بھی پتہ چلے گا اور وہ بات کو بڑھا چڑھا کر کرنے کے عمل سے بچیں گے اور اگر لکھنا پسند نہیں کرتے تو وہ کوشش کریں گے کے لڑائی سے بچیں تاکہ اُنہیں لکھنے کی کوفت گوارہ نہ کرنی پڑے۔

 *نمبر 4 بچوں کو علیحدہ علیحدہ وقت دیں:* 
بچوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ وقت گُزارنا اور اُن کی دلچسپیوں میں شامل ہونا، دُوسرے بچوں میں تھوڑا حسد پیدا کر سکتا ہے مگر اگر سب کو برابر برابر وقت مل رہا ہے تو اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ اس سے بچوں کو پتہ چلتا ہے کہ اُن کی بڑی اہمیت ہے اور اُن کے والدین اُن پر توجہ دیتے ہیں اور اُن سے باخبر رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ لڑائی جھگڑے سے بچنے کی کوشش کریں گے تاکہ اُن کو علیحدگی میں جواب دہ نہ ہونا پڑے۔

اس عمل سے بچوں کے درمیان آپس میں ایک اچھا فاصلہ بھی قائم ہوگا جو اُن کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے لیکن والدین ہمیشہ کوشش کریں کے مساوات قائم رہے۔

 *نمبر 5 کسی ایک بچے کا* *بلاوجہ دفاع نہ کریں* :
جب آپ کسی ایک بچے کا دفاع کرتے ہیں اور دوسرے کو ڈانٹ پلاتے ہیں تو اُس ڈانٹ کھانے والے کے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اُسے کم پسند کیا جاتا ہے۔ لہذا بچوں کو اُن کے آپس کے مسئلے خُود سلجھانے دیں اور اُنہیں بتائیں کے ایک دُوسرے کی ضروریات کو کیسے پُورا کرتے ہیں۔

 *نمبر 6 بچوں کے پزل:* 
بچوں کے لیے ایسے پزل کھلونے یا لیگو وغیرہ خریدیں جسے وہ مل کر کر حل کر سکیں اور بچوں کو ایسے کھیل کھیلنے کے لیے دیں جسے وہ مل کر کھیل سکیں۔ اس سے اُن میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی قوت پیداہوگی۔

 *نمبر 7 بچوں کو اکھٹے باہر لے کر جائیں:* 
بچوں کو پارک وغیرہ میں لے کر جائیں اور اُن کو جسمانی مشقت والے کھیل آپس میں کھلوائیں جیسے فُٹ بال، کرکٹ، وغیرہ اس سے جہاں اُن کے اندر موجود انرجی پازیٹیو کاموں میں خرچ ہوگی وہاں وہ تھکاؤٹ کے بعد لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں گے۔

 *نمبر 8 سیر و سیاحت:* 
بچوں کے ساتھ سیر و سیاحت بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے جب اکھٹے کسی مقام کی سیر کے لیے جاتے ہیں تو اُنہیں ایک دوسرے کے زیادہ قریب آنے کا موقع ملتا ہے۔

 *نمبر 9 بچوں کی تعریف* :
والدین کا بچوں کے اچھے کام کی تعریف کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور دوسرے بچوں میں بھی رغبت پیدا ہوتی ہے کہ وہ کُچھ اچھا کریں تاکہ اُن کی بھی تعریف ہو۔*نمبر 10 بچوں میں سوچنے کی قوت:* 
deep thinking
بچوں کو اُن کے کاموں پر غور کراوئیں اور اُنہیں خود سے سوچنے دیں کے کوئی کام ٹھیک ہے یا غلط، ایسا کرنے سے بچوں کو مختلف چیزوں اور معاملات کا پتہ چلے گا کے اُسے ٹھیک طرح کیسے سرانجام دینا ہے اور غلطی سے کیسے بچنا ہے۔

بچوں کی تربیت اور والدین

بچوں کی تربیت اور والدین

آج کل کے جدید دور میں بچوں کی تربیت ایک اہم مسئلہ ہے۔ والدین اس بارے میں مختلف کورسز بھی کرتے نظر آرہے ہیں اور جہاں ممکن ہو آگاہی بھی حاصل کرتے ہیں کہ بچوں کی تربیت کیسے کی جائے یا کن باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیت کی جائے۔ 

ماہر نفسیات ہونے کے ناطے میں سمجھتی ہوں کہ مسئلہ یہ نہیں کہ بچوں کو کیا سکھائیں۔۔ 
_مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ کیا سکھیں_
فطری طریقہ کار سے گزرتے ہوئے بچوں کہ تربیت کے اہداف حاصل کریں۔ 
والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے میں حق الیقین پیدا کریں اور یہ تبھی ممکن ہے جب والدین بھی حکم ربی کے پابند ہونگے۔ 
پیدا ہونے سے سات سال کی عمر تک بچے کا  Habbit pattern بن جاتا ہے۔ اس دوران جو بھی بچے سے کرنے کے لیے کہیں، کوشش کریں کہ خود کو بھی ان باتوں کا پابند رکھیں۔  کیونکہ بچے دیکھ کر زیادہ سکھتے ہیں۔ ان میں modeling یعنی نقل کرتے ہوئے سکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
Oct
Tuesday,
15,

شیطانی ہتھکنڈے اورمشاغل

*شیطانی مشاغل* 

علامہ بدرالدین بن شبلی اپنی مشہو رکتاب"آکام المرجان فی احکام الجا ن"میں نقل کرتے ہیں کہ شیطان لعین کے انسان کو نقصان پہنچانے کے ۶ درجات ہیں: 
(۱) پہلے مرحلہ میں وہ انسانکوکفر وشرک میں ملوث کرنے پرمحنت کر تا ہے،اگراس میں اُسے کامیابی مل جائے تو پھراس آدمی پراُسے مزید کسی محنت کی ضرورت باقی نہیں رہتی،کیوں کہ کفروشرک سے بڑھکر کوئی نقصان کی بات نہیں ہے۔ 
(۲) اگر آدمی (بفضل خداوندی) کفر وشرک پرراضی نہ ہو،تودوسرے مر حلہ میں شیطان لعین اُسے بدعات میں مبتلا کر دیتا ہے۔
حضرت سفیان ثوری رح فرماتے ہیں کہ شیطان کوفسق وفجوراور معصیت کے مقابلہ میں بدعت زیادہ پسند ہے؛ اس لئے کہ دیگر گناہوں سے تو آدمی کو توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے،مگربدعتی کوتوبہ کی تو فیق نہیں ہوتی(اسلئے کہ وہ بدعت کوثواب سمجھ کرانجام دیتا ہے توا س سے توبہ کاخیال بھی نہیں آتا)۔
(۳)اگرآدمی بدعت سے بھی محفوظ رہے توتیسرے مرحلہ میں اسے شیطا ن فسق وفجوراور بڑے بڑے گناہوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے ( مثلابدکاری قتل،جھوٹ یا تکبر، حسد وغیره)۔
(۴)اگرآدمی بڑے گناہوں سے بھی بچ جائے توشیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم ازکم آدمی کوصغیرہ گناہوں کا ہی عادی بنادے؛ کیوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ کبھی اتنی مقدارمیں جمع ہوجاتے ہیں کہ وہ انھیں کی وجہ سے مستحق سزا بن جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” تم لوگ حقیر سمجھے جانے والے گناہوں سے بچتے رہو؛ اس لئے کہ اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی جنگل میں پڑاؤڈا لیں اورہرآدمی ایک ایک لکڑی ایند ھن لائے ؛ تا آں کہ ان کے ذریعہ بڑا الاؤجلاکرکھاناپکایااورکھایاجائے ، تو یہی حال چھوٹے گناہوں کا ہے کہ وہ جمع ہوتے ہوتے بڑی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں(رواہ احمد،التر غیب والترہیب مکمل رقم : ۳۷۶۰ بیت الافکار )
(۵) اورجب شیطان کامذکورہ کا موں میں سے کسی مرحلہ میں بھی بس نہیں چلتاتواس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ایسے مباح کاموں میں لگادے جن میں کسی ثو ابکی امید نہیں ہوتی۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس وقت میں انسان نیکیاں کرکے عظیم ثوابکامستحق بن سکتا ہے، وہ وقت بلا کسی نفع کے گذر کر ضائع ہو جاتا ہے۔
(۶) اگر آدمی مذکورہ بالا ہر مرحلہ پر شیطان کے دام فریب میں آنے سے بچ جائے ،تو آخری مرحلہ میں شیطان انسان کو افضل اور زیادہ نفع بخش کام سے ہٹاکرمعمولی اور کم نفع بخش کام میں لگانے کی کو شش کرتا ہے؛ تاکہ جہاں تک ہو سکے انسان کو فضیلت کے ثواب سے محر وم کرسکے(آکام المرجان فی احکام الجان ۱۲۶ - ۱۲۷)
معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو نقصا ن پہنچانے کا کوئی موقع بھی ضائع کرنانہیں چاہتا، افسوس ہے کہ ایسے بدترین دشمن سے آج ہم غافل ہی نہیں ؛ بلکہ اس کے پکے دوست بنے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے دین دار بھی کسی نہ کسی مرحلہ پر شیطان کے فریب میں مبتلا نظر آتے ہیں، اور انھیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہمارے دشمن نے ہمارے ساتھ دشمنی کے کیا گل کھلا رکھے ہیں۔(رحمن کے خاص بندے/ ص:۳۶۰-۳۶۱)
Oct
Monday,
14,

ھارون الرشید نے بہلول کو ھدایت کی

ھارون الرشید نے بہلول کو ھدایت کی 
 کہ بازار جائیں اور قصائیوں کے ترازو اور جن پتھروں سے وہ گوشت تولتے ھیں وہ چیک کریں اور جن کے تول والا پتھر کم نکلے انھیں گرفتار کرکے دربار میں حاضر کریں 
بہلول بازار جاتے ہیں پہلے قصائی کا تول والا پتھر چیک کرتے ہیں تو وہ کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے چل رھے ھیں..؟
قصائی کہتا ہے کہ بہت برے دن ھیں دل کرتا ہے کہ یہ گوشت کاٹنے والی چھری بدن میں گھسا دوں اور ابدی ننید سوجاوں 
بہلول آگے دوسرے قصائی کے تول والے پتھر کو چیک کرتے ہیں وہ بھی کم نکلتا ھے قصائی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حالات ہیں گھر کے وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ نے پیدا ھی نہ کیا ھوتا بہت ذلالت کی زندگی گزار رھا ھوں بہلول اگے بڑھے 
تیسرے قصائی کے پاس پہنچے تول والا پتھر چیک کیا تو بلکل درست پایا قصائی سے پوچھا کہ زندگی کیسے گزر رھی ھے.... ؟
قصائی نے کہا کہ اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ھے بہت خوش ھوں اللہ تعالٰی نے بڑا کرم کیا ھے اولاد نیک ھے زندگی بہت اچھی گزر رھی ھے
بہلول واپس آتے ہیں سلطان ھارون الرشید پوچھتے ہیں کہ کیا پراگرس ھے... ؟
بہلول کہتے ہیں کہ کئی قصائیوں کے تول والے پتھر کم نکلے ھیں.
سلطان نے غصے سے کہا کہ پھر انھیں گرفتار کرکے لائے کیوں نہیں بہلول نے کہا اللہ تعالٰی انھیں خود سزا دے رھا تھا ان پر دنیا تنگ کردی تھی تو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی 
آج ھمارے بھی کچھ یہی حالات ھیں 
ھم نے بھی دنیا کو اپنایا ہے اسی کی فکر ھے، حرام حلال اور آخرت کی فکر ھی نہیں 
اس کو شیئر کردیں کیا پتہ اپ کے اک شیئر کی وجہ سے کتنے لوگ سدھر.

جو نیوٹرل رہتے ہیں وہ معاشرے کے منافق ہوتے ہیں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک 22 منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کے دوران ایک بچہ سوچ رہا تھا کہ وہ آگ بجھانے میں کس طرح مدد کر سکتا ہے، اسی دوران اسے آگ بجھانے والے کینوس کے پائپ میں ایک سوراخ نظر آیا جہاں سے پانی لیک ہو رہا تھا، اس نے تھیلی اٹھائی اور لیکیج بند کرکے خود اگلے دو گھنٹے تک اس کے اوپر بیٹھا رہا تاکہ آگ بجھانے والے عملے کو تھوڑا سا زیادہ پانی مل سکے۔تاریخ میں ہمیشہ اس بچے کا نام آگ لگانے والوں میں نہیں بلکہ بجھانے والوں میں لکھا جائے گا۔ اسی کو موقف کہتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ برا وہ شخص ہے جو ہر اچھا برا کام ہوتا ہوا دیکھے اور یہ کہے کہ وہ نیوٹرل ہے چاہے وہ مذہب ہو یا سیاست یا زندگی کا کوئی اورشعبہ اپنی بساط کے مطابق اپنا موقف ضرور رکھیں۔
جو نیوٹرل رہتے ہیں وہ معاشرے کے منافق ہوتے ہیں
انہیں معاشرے سے سب کچھ چاہیئے ہوتا ہے لیکن بہتر معاشرے کے لئے خود سے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوتے انہیں صرف اپنا مفاد عزیزہوتا ہے۔

*اصاغر کا اپنے اکابر سے اختلاف کا جواز

*اصاغر کا اپنے اکابر سے اختلاف کا جواز*
حضرت حکیم الامت تھانوی کا چند سیاسی مسائل میں اپنے استاذ سے اختلاف تھا ، تو ان پر اس اختلاف کی وجہ سے لوگ اعتراض کرنے لگے ، اس کے جواب میں حضرت حکیم الامت تھانوی نے فرمایا : زمانہ تحریک میں عام طور سے مجھ پر اعتراض ہوا کہ حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ سے اختلاف کیا ۔ میں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے امام ابو یوسف رح اور امام محمد رح نے اختلاف کیا اس کا کیا جواب ہے ، دوسرے میں نے مولانا سے اختلاف کیا خلاف تو نہیں کیا ، خدا نخواستہ میں نے کوئی بے ادبی تو نہیں کی اور نہ مولانا پر بحمد اللہ اس اختلاف سے ذرہ برابر گرانی ہوئی ، اس لئے کہ حضرت اختلاف کی حقیقت سے باخبر تھے ، اوراختلاف تو میں نے بعض بعض مسائل میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے کیا ہے جو حضرت مولانا کے بھی شیخ تھے

 (پاکستان کی پاک سیاست بمقابلہ منافقت ، مرتب مولا نا تنویرالحق ، ص ۳۱ ، مکتبه احتشامیہ جیکب لائن کراچی ، ط ۲۰۰۹ ء ۱) 

بچوں کی نفسیات سمجھ کر اگر ان کو ٹریٹ کیا جائے تو ہر بچہ اس معاشرے کا قابل فرد بن سکتا

کلاس میں اسکول کے ایک نئے استاد داخل ہوتے ہیں تھوڑا سا تعارف لے دے کر بچوں کا ٹیسٹ لینے کے لیے ایک سوال کرتے ہیں. اور اشارہ اس بچے کی طرف کر دیتے ہیں جو کلاس کا سب سے نا لائق بچہ ہوتا ہے. استاد کا اشارہ دیکھ کر کلاس کے دوسرے بچے ہنسنے لگتے ہیں. کہ استاد جی نے جواب دینے کے لیے اٹھایا بھی تو کس بچے کو .....
لیکن استاد تو پھر استاد ہی ہوتا ہے.
ان کو سمجھ آ گئی کہ یہ کلاس کا سب سے نالائق بچہ ہو گا
اسی لیے سب بچے ہنس رہے ہیں. استاد نے بچے کو بیٹھنے کے لیے کہا اور درس دینے میں مصروف ہو گئے.
چھٹی کے وقت استاد نے اس نالائق بچے کو اپنے پاس بلا لیا
اور جب سب بچے چلے گئے تو استاد نے اس بچے کو ایک سوال دیا اور اس کا جواب بھی لکھ کر دیا. اور کہا کہ اسے یاد کر لو اور کل جب میں کلاس میں سوال کروں گا. تو یہ جواب تم نے مجھے کلاس میں دینا ہے.
بچے نے وہ سوال اور جواب یاد کر لیا.
دوسرے دن جب استاد کلاس میں آئے تو انھوں نے وہی سوال جو اس نالائق بچے کو دیا تھا. ساری کلاس سے پوچھا
سوال تھوڑا مشکل تھا. تو سب بچے خاموش ہو گئے لیکن وہی نالائق بچہ جس کو استاد نے سوال یاد کرنے کا کہا تھا اس نے اپنا ہاتھ بلند کیا کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں. سب بچے جو کل ہنس رہے تھے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھنے لگے. استاد نے اس بچے کو کہا ہاں جواب دو. بچے نے فر فر اس سوال کا جواب سنا دیا..
استاد نے شاباش دی اور اسے بیٹھنے کو کہا.
اب اس نالائق بچے میں خوشی کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی پیدا ہونا شروع ہو چکی تھی.
استاد روزانہ اس بچے کے ساتھ یہی عمل دھراتے رہے .
اور پھر آخر وہ دن بھی آیا جب وہ نالائق بچہ اپنی کلاس کا سب سے لائق اور پر اعتماد بچہ بن چکا تھا....
 سبق.. 
 بچوں کی نفسیات سمجھ کر اگر ان کو ٹریٹ کیا جائے تو ہر بچہ اس معاشرے کا قابل فرد بن سکتا ہے💝

فیضان مجدد : نیک گمانی اور بدگمانی میں اعتدال

*فیضان مجدد : نیک گمانی اور بدگمانی میں اعتدال ص ۶۷۴*
فرمایا کہ شیخ سعدی کے دو شعر اس معاملہ میں متضاد ہیں ایک گلستان میں ہے ‏
ہر کہ جامہ پارسا بینی !!
پارسا دان و نیک مرد انگار
دوسرا بوستان میں ہے 
نگہ دارد آن شوخ در کیسہ دُر
 کہ داند ہمہ خلق را کیسہ بُر 
گلستان کے شعر سے سب کے بارے میں نیک گمانی کی اور بوستان کے شعر سے بدگمانی کی تلقین معلوم ہوتی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ اعتقاد کے اعتبار سے تو گلستان کے شعر پر عمل چاہیے کہ جس کا ظاہر اچھا دیکھے اس کے ساتھ نیک گمان رکھے مگر معاملات میں بوستان کے شعر پر عمل کرے کہ اپنے راز اور خاص چیزیں، ہر شخص کے سامنے نہ کھولے۔ اس میں احتیاط کرے۔
 ( مجالس حکیم الامت ص ۲۸۰،۲۷۹) 
بلاوجہ کسی کی طرف سے بدگمانی کے ناجائز ہونے سے تو یہ لازم نہیں آتا کہ دنیا بھر کو سچا ہی سمجھتا رہے بلکہ اگر کسی کی کوئی بات دل قبول نہ کرے اور اس کے قول کے سچا ہونے میں کسی وجہ سے شبہ پیدا ہو جائے تو وہاں پر گناہ سے بچنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس قائل کو یقینا جھوٹا نہ سمجھے۔ لیکن احتمال پیدا ہو جائے جس سے معاملہ احتیاط کا کرے۔ (انفاس عیسی حصہ دوم ص ۶۶۳)

*گناہ ہو جانے پر حد سے زیادہ مغموم ہونا از حد مضر ہے*
 ہر مسلمان کو گناہ نا گوار اور مکروہ معلوم ہوتا ہے اور اس اثر کا مقصود یہ ہے کہ اس گناہ کو چھوڑ دیں لیکن بعض مرتبہ جب اس میں افراط ہوتا ہے اور زیادہ گرانی ہوتی ہے تو شیطان یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ اے شخص تو تو مردود ہو گیا اور اب تیری کوئی اطاعت قبول نہیں یہ سمجھنا خود خلاف شریعت اور بہت برا خیال ہے۔
 (الجناح ص ۱۶۰ تا ۱۶۲) 
ایسے وقت تو خوب توبہ کر کے اعمال صالحہ میں مصروف رہے۔

عروج سے زوال کے تین اسباب

عروج سے زوال کے تین اسباب 
عبداللہ 1907 میں سعودی عرب کے شہر بریدہ میں پیدا ہوا، یہ بچپن سے ہی حساس اور بلا کا ذہین تھا-

جوانی تک پہنچتے اس کی صلاحیتوں کے جوہر کھلنے لگے، اس نے علمی دنیا میں بھونچال لایا -

1927 میں جامعہ ازہر مصر میں اس نے داخلہ لیا اور بیس سال کے اس طالب علم نے ازہر کے فلاسفرز اور اسکالرز کی ناک میں دم کرکے رکھا، انہوں نے ازہر کے نامور سکالر یوسف دجوی کی کتاب کے رد میں “البروق النجدية " کتاب لکھ کر تہلکہ مچا دیا،کتاب عرب دنیا میں پھیل گئی ازہر یونیورسٹی نے ان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا،انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا -

ان کی دوسری کتاب “صراع الإسلام و الوثنية"  اسلام اور نیشنل ازم کا ٹکراو اس کتاب نے تو دھوم ہی مچا دیا -

کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ عرب دنیا میں انہیں ابن تیمیہ ثانی سے پکارا جانے لگا، مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ انکی مدح میں امام کعبہ نے خانہ کعبہ میں قصیدہ پڑھا -

علمی حلقوں میں کہا جانے لگا کہ عبداللہ نے یہ کتاب لکھ کر جنت کا مہر ادا کیا ہے -

 عبداللہ القصیمی اسلام کے دفاع میں شہرہ آفاق کتابیں لکھ کر اپنا لوہا منوا چکے تھے،پوری عرب دنیا میں ان کا طوطی بول رہا تھا کہ 

اچانک ان کا دماغ گھوم گیا،یہ 90 ڈگری الٹ ٹریک پہ چڑھ گئے،یہ دائرہ اسلام سے نکل گئے،یہ ملحد بن گئے -

جو شخص زندگی بھر اسلام کی وکالت اور دفاع کرتا رہا تھا اب وہ اپنی صلاحیتوں کو اسلام کے خلاف استعمال کرنے لگ گیا،انہوں نے نماز ،روزہ اور دیگر فرائض کو ٹائم کا ضیاع قرار دیتے کتاب لکھ ڈالی ۔
“هذي هي الاغلال "
انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہنے میں نمازوں کے اوقات سبب ہیں،عبادات کو انہوں نے گلے میں پڑی زنجیروں سے تشبیہ دی خدا کے وجود کا انکار کر دیا -

یہ اسی الحاد میں بدبختی کی زندگی مرا -

بدبختی بتا کر نہیں آتی جس کیلئے حرم میں دعا ہوتی تھی اس کا جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا -

عبداللہ القصیمی کے متعلق میں نے پہلی کتاب مسجد نبوی شریف کی لائبریری میں پڑھی تھی،تب میں نے وہ وجوہات جاننے کی کوشش کی جن کے باعث یہ شخص گمراہ ہوگیا،اہل علم نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے -

کسی نے لکھا بیروت میں ایک عیسائی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوا تھا اسکی وجہ سے دماغ خراب ہوگیا -

لیکن سب سے معقول وجوہات قصیمی کے ایک دوست نے لکھی ہیں،ان کے مطابق تین بنیادی وجوہات تھیں جس کے باعث یہ ٹریک سے ہٹ گیا -

پہلی وجہ کبر و غرور یہ اپنے علمی مقام کے آگے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے،ان کے اندر میں میں بہت تھی -

دوسری وجہ کثرت بحث و مباحثہ یہ بحث بہت کرتے تھے،یہ ہر چیز کو بحث کے میزان پر رکھتے شک کے ترازوں میں تولتے یہاں تک کہ یہ اپنے وجود پر بھی سوالات اٹھاتے تھے -

تیسری وجہ مخالف فکر کی کتب کا حد سے زیادہ غیر ضروری مطالعہ -

آپ کتنے بھی بڑے فلسفی ،سقراط ،بقراط اور ارسطو کیوں نہ ہوں مت بھولیں کہ دماغ خراب ہونے میں وقت نہیں لگتا ،چنانچہ ان محرکات سے خود کو دور رکھیں جو گمراہی کی طرف لیکر جاتے ہیں -
اور ہر پل اللہ تعالی سے استقامت کی دعا مانگیں،انسان بہت کمزور ہے،اللہ کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہے -
منقول

فضلاء ضائع کیوں ہو جاتے ہیں؟

فضلاء ضائع کیوں ہو جاتے ہیں؟

 استاذ الاساتذہ حضرتِ اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: اس میں قصور کچھ اربابِ مدارس (مہتممین) کا ہے۔۔۔۔۔ مدارس والے مدرسین کو اتنا دیتے ہی نہیں کہ وہ زندگی بھر دلجمعی کے ساتھ کام کرسکیں ، گارا بنانے والے مزدور کو بھی یومیہ سوا سوروپے ملتے ہیں یعنی ماہانہ اس کی چار ہزار کی آمدنی ہوتی ہے اور مدرس کو دو ڈھائی ہزار روپے ملتے ہیں۔ جس نے پندرہ سال محنت کی ہے اور اپنی زندگی کا قیمتی وقت خرچ کیا ہے وہ گارا بنانے والے مزدور کے ہم تول بھی نہیں تو کیا مزدور کے خرچ کے بقدر بھی مولوی کے گھر کا خرچ نہیں ہوگا؟ مگر اہل مدارس سمجھتے نہیں ، بلکہ وہ یہ عذرِ لنگ پیش کرتے ہیں کہ مدرسہ میں گنجائش نہیں ، سوال یہ ہے کہ پھر بلڈنگیں کہاں سے بن رہی ہیں؟ اور مہتم بکارِ مدرسہ کیسے گھوم رہا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ آدمی چاہے ہی نہ تو باتیں ہزار ہیں۔ غرض جب تک کارکنان کو بقدرِ ضرورت روزگار مہیا نہیں کیا جائے گا وہ زندگی بھر کام سے کیسے چھٹے رہیں گے؟ اور آدمی تو بنتا ہی ہے پوری زندگی کھپانے سے ، اس میں سال پڑھانے سے کوئی شیخ الحدیث نہیں بنتا۔
(تحفہ الالمعی ج5 ص116)
Oct
Sunday,
13,

۔جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ دمیریؒ

۔جنگل کا قانون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ دمیریؒ نے’’عدالتی فیصلے‘‘ کا عجیب واقعہ لکھا ہے۔ ایک خرگوش کے ہاتھ کھجور کا دانہ لگا، وہ اسے کھایا ہی چاہتا تھا کہ لومڑی نے پھرتی کے ساتھ اس کے ہاتھ سے چھین کر کھا لیا، اس پر دونوں کے درمیان جھگڑا بڑھا تو وہ فیصلہ کرانے کے لئے گوہ کے پاس جا پہنچے، خرگوش مدعی تھا اسی نے گوہ سے گفتگو کی۔ 
خرگوش: اے ابا حسل!(یہ گوہ کی کنیت ہے) 
گوہ۔ تم نے ایک سننے والے کو پکارا ہے۔ (یعنی مقدمہ سماعت کے لئے منظور) 
خرگوش: ہم آپ کی خدمت عالیہ میں ایک مقدمہ لائے ہیں۔ 
گوہ: تم ایک مصنف اور دانا کے پاس آئے ہو۔ (یعنی میں عقلمند بھی ہوں اور منصف بھی) 
خرگوش: آپ باہر تشریف لائیے۔ 
گوہ: فیصلے ہمارے گھر میں لائے جاتے ہیں یا فیصلے عدالت میں ہوتے ہیں پس تم آئو۔ 
خرگوش: مجھے ایک کھجور ملی… 
گوہ: آہا! میٹھی چیز ملی فوراً کھا لو۔ 
خرگوش: وہ کھجور لومڑی نے مجھ سے چھین لی۔ 
گوہ: اس نے اپنی جان کے ساتھ بھلائی کی، بہت اچھا کیا۔ 
خرگوش: میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ 
گوہ: تم نے اچھا کیا کہ اپنا حق لے لیا۔ 
خرگوش: پھر اس نے مجھے تھپڑ مارا۔ 
گوہ: آزاد جانور اپنا بدلہ تو لیتا ہی ہے۔ یہ تو اس کا حق ہے۔ 
خرگوش: آپ ہمارے درمیان فیصلہ کیجئے۔ 
گوہ: میں نے تو فیصلہ سنا دیا ہے۔ 
’’ہمارے ہاں بھی کچھ ایسے ہی قوانین رائج ہیں۔۔۔ ‘‘

ﷲ کی محبت پیدا کرنے کا نسخہ

ﷲ کی محبت پیدا کرنے کا نسخہ
==========================
*پہلی قسط:* 

ﷲ سبحانہ و تعالٰی کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم دین کے ظاہری وباطنی تمام علوم کے جامع تھے اور انہوں نے دونوں طرح کے علوم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منتقل فرمائے۔
چنانچہ جس طرح انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نماز کی ظاہری صورت سکھائی،اسی طرح نماز کی حقیقت،خشوع و خضوع،مقام احسان،بلکہ لقائے یار کی کیفیت بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے واضح فرمائی۔
شراب کے حرام قرار دیئے جانے کے بعد جیسے اس کی خباثت سے ان کی جان چھڑائی،ویسے ہی عجب اور تکبر کی حرمت کے پیش نظر ان باطنی بیماریوں سے ان کو نجات دلائی۔
جہاں ﷲ تعالٰی کی نعمتوں کے ملنے پر زبان سے *الحمدللہ* کہ کر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی،وہاں دل میں منعم حقیقی کے سامنے احسان مند رہنے کی بھی تعلیم عطا فرمائی،معلوم ہوا کہ نبی علیہ السلام نے شریعت کی صورت اور حقیقت دونوں کا علم اپنے صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کو عطا فرمایا۔
صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کے ذریعے یہ علوم نسل در نسل باقی امت تک پہنچے لیکن وہ جمعیت قلبی جو صحابہ کرام کو حاصل تھی وہ دور صحابہ کے بعد باقی نہ رہی اور کسی ایک شخص کیلئے یہ تمام علوم اپنے اندر سمیٹنا بھی ممکن نہ رہا،لہذا دین کے مختلف شعبے بنتے گئے 
اور دین کے مختلف شعبوں میں تخصص کی ابتداء دور صحابہ میں ہی شروع ہوگئی تھی سو ہم جانتے ہیں کہ: 
*حضرت ابی بن کعب رضی ﷲ عنہ امام القراء بنے*
*حضرت عبدﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہ امام المفسرین بنے*
*حضرت عبداللہ ابن عمر رضی ﷲ عنہ امام المحدثین بنے* 
*حضرت عبدﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہ امام الفقہاء بنے* 
صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کے بعد قُوى کمزور ہوگئے اور زمانے کے فتنوں کے پیش نظر اللہ رب العزت نے ہر زمانے میں علم نبوت اور نور نبوت کی حفاظت کے لئے متعدد ماہرین کا انتخاب فرمایا۔
جس طرح اللہ تعالٰی نے شریعت محمدی صلی ﷲ علیہ وسلم کی *ظاہری تعلیمات* فقہاء کرام کے ذریعے سینوں میں محفوظ رکھا اسی طرح نبی علیہ السلام کی *باطنی کیفیات* کو حضرات مشائخ کے ذریعے سینوں میں محفوظ رکھا،یہ کیفیات سینہ بہ سینہ آگے منتقل ہوتی گئی۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام میں پوری طرح داخل ہونے کے لئے نہ صرف ظاہری احکام بجالانے کی ضرورت ہے بلکہ باطنی احکام کو پورا کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے،بلکہ ظاہری اعمال ان باطنی احوال کے تابع ہیں،جیسے: 
ﷲ تعالٰی کے پیارے حبیب صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: 
*کہ بنی آدم کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر یہ سنور گیا تو سارا جسم سنور جائے گا اور اگر یہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ جائے گا،جان لو!!! کہ وہ انسان کا دل ہے۔* الحدیث
اب جہاں مفسرین و محدثین ہمیں یہ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ سناتے ہیں اس کی تعلیم دیتے ہیں 
تو وہیں فقہاء کرام اس کے احکام کی تفصیل بتاتے ہیں 
جبکہ مشائخ عظام ان احکام کی کیفیت اپنے سینوں سے ہمارے سینوں میں منتقل فرماتے ہیں۔ 
 *مدارج السلوک۔۔۔۔۔*
Oct
Friday,
11,

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین رتن ٹاٹا اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ کل رات وفات پاگئے

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین رتن ٹاٹا اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ کل رات وفات پاگئے

( حقیقی خوشی )
جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹاٹا سے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ریڈیو پریزینٹر نے پوچھا:
 "جناب آپ کو کیا یاد ہے جب آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ملی"؟
 رتن جی ٹاٹا نے کہا:
 "میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزر چکا ہوں، اور آخر کار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ لیا ہے۔"
 پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا۔
 لیکن اس مرحلے پر مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو میں چاہتا تھا۔
 پھر قیمتی اشیاء اور اشیاء جمع کرنے کا دوسرا مرحلہ آیا۔
 لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس چیز کا اثر بھی عارضی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک زیادہ دیر نہیں رہتی۔
 پھر ایک بڑا پروجیکٹ حاصل کرنے کا تیسرا مرحلہ آیا۔  یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی کا 95% میرے پاس تھا۔
 میں ہندوستان اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری کا مالک بھی تھا۔  لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں نے تصور کیا تھا۔
 چوتھا مرحلہ تھا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔
 تقریباً 200 بچے۔
 ایک دوست کے کہنے پر میں نے فوراً وہیل چیئر خرید لی۔
 لیکن دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں اور وہیل چیئر بچوں کے حوالے کروں۔  میں تیار ہو کر اس کے ساتھ چلا گیا۔
 وہاں میں نے ان بچوں کو یہ وہیل چیئر اپنے ہاتھوں سے دی۔  میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔  میں نے ان سب کو وہیل چیئر پر بیٹھے، چلتے اور مزے کرتے دیکھا۔
 ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی پکنک کے مقام پر پہنچ گئے ہوں، جہاں وہ جیتنے والا تحفہ بانٹ رہے ہوں۔
 میں نے اپنے اندر حقیقی خوشی محسوس کی۔  جب میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو ایک بچے نے میری ٹانگ پکڑ لی۔
 میں نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن بچے نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور میری ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لی، میں نے جھک کر بچے سے پوچھا: کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟
 اس بچے نے جو جواب دیا اس نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ بھی بدل دیا۔
 اس بچے نے کہا:
 
 *"میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو میں آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کروں۔"*

( شکریہ شمیم عباس بمبئی )
Oct
Sunday,
6,

اک عورت دین پہ.... پورا گھرانہ دین پہ

*اک مرد دین پہ... اک فرد دین پہ..!!*
اک عورت دین پہ.... پورا گھرانہ دین پہ
*پوچھا گیا کہ اسلام کہ مضبوط قلعے کون سےہیں؟*
*بتلایا گیا نیک مائیں..!!!!!*
*تب سے غیر مسلموں کا حدف مسلمان خواتین ہیں...!!!!*
*جب خواتین نیک ہوتی تھی تو بچے امام بخاری ،صلاح الدین ایوبی جیسے پیدا ہوتے تھے*
*آج کی خواتین کا یہ حال ہے کہ نماز میں کتنے اعضاء چھپانے کا حکم ہے یہ بھی نہیں پتا*
*عورت کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟؟*
*نہیں پتہ*
*میاں بیوی کے حقوق کا نہیں پتہ*
*کن عورتوں پر لعنت کی گئی۔۔؟؟*
*جہنمی میں عورتوں کی کثرت کیوں؟؟*
*نہیں پتہ*
*جنتی عورتیں کون؟؟*
*نہیں پتہ۔۔*
*اگر سارا دن موبائل،ٹی وی پر گزرے گا*
*تو بچے بے نمازی اور بے ادب ہی پیدا ہوں گۓ...*
*خدارا دین سیکھیں*
*امت مسلمہ کی بیداری
یاد رہے۔۔
*تعلیم جس عورت کو سمجھ آجاتی ہے*
*وہ سادگی اختیار کر لیتی ہے*
*اور جس کے سر سے گزر جاتی ہے وہ ماڈرن بن جاتی ہے

قیادت اور سیاست میں فرق

سیاست؛جذبات سے کی جاتی ہے،نعروں سے کی جاتی ہے،بھیڑ دیکھی جاتی ہے،اور اسی پر کامیابی کا انحصاربھی ہوتاہے،لیکن قیادت جذبات سے نہیں،نعروں سے بھی نہیں،بھیڑ سے بھی نہیں،بلکہ بہت کچھ سوچ،سمجھ کر کی جاتی ہے،اول میں یہ دیکھاجاتاہے کہ دنیاکدھرجارہی ہے،جبکہ قیادت میں ہواکے رخ کوموڑنے کی کوشش کی جاتی ہے،اس لئے عام طورپر سیاسی لوگ ،عام وخاص میں بہت مقبول ہوتے ہیں،جبکہ قائدین کی بہت سی باتیں ظاہرِحال کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے ، انہیں گالیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔*
کوئی ضروری نہیں ہے کہ آپ ہماری ان باتوں سے اتفاق بھی کریں،لیکن ١٩٤٧میں جامع مسجد دہلی میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی،کی گئی تقریر کو پڑھیں گے تو یہ بات آسانی سےسمجھ میں آجائے گی،وہ کہتے ہیں: ' ' تمہیں یاد ہے میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری زبان کاٹ لی۔ میں نے قلم اُٹھایا اور تم نے میرے ہاتھ قلم کر دئیے۔ میں نے چلنا چاہا تم نے میرے پاؤں کاٹ دئیے، میں نے کروٹ لینا چاہی تو تم نے میری کمر توڑ دی۔ حتیّٰ کہ پچھلے سات سال کی تلخ نوا سیاست جو تمہیں آج داغِ جدائی دے گئی ہے اُس کے عہدِ شباب میں بھی میں نے تمہیں ہر خطرے کی شاہراہ پر جھنجھوڑا لیکن تم نے میری صدا سے نہ صرف اعراض کیا بلکہ منع و اِنکار کی ساری سنتیں تازہ کر دیں۔ نتیجہ معلوم کہ آج اُنہی خطروں نے تمہیں گھیر لیا ہے جن کا اندیشہ تمہیں صِراطِ مستقیم سے دور لے گیا تھا۔‘‘آگے وہ کہتے ہیں: ' ' میرے بھائی میں نے ہمیشہ سیاسیات کو ذاتیات سے الگ رکھنے کی کوشش کی ہے اور کبھی اِس پُر خار وادی میں قدم نہیں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ میری بہت سی باتیں کنایوں کا پہلو لئے ہوتی ہیں لیکن مجھے آج جو کہنا ہے میں اُسے بے روک ہو کر کہنا چاہتا ہوں۔ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ مذہبی اختلافات کو جس ڈھب سے ہوا دی گئی اُس کا لازمی نتیجہ یہی آثار و مظاہر تھے جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور بدقسمتی سے بعض مقامات پر ابھی تک دیکھ رہے ہیں ' '۔امام الہند کے ساتھ جمعیۃ علماء ہندکے تمام ہی اکابرتھے،جنہوں نے ملک کی آزادی میں اہم کردارپیش کیاتھا،مگر جناح کے مقابلے میں ہمارے ہی لوگ ان کی پگڑیاں اچھال رہے تھے، سڑکوں، چوراہوں میں انہیں ذلیل ورسواکیاجارہاتھا،چونکہ انہیں یہ لگتاتھاکہ یہ لوگ کانگریس کی غلامی کررہے ہیں،مسلم لیگ کا ساتھ نہ دے کرگناہِ عظیم کو انجام دے رہے ہیں،جمعیۃ علماء ہند اور اس کے اکابر میدان کارزارمیں ڈٹے رہے،یہاں تک تقسیم کے فارمولے پر انہوں نے دستخط نہیں کیا،آج ستر سال گذرنے کے بعد ہم پوری مضبوطی سےکہتے ہیں کہ ہمارے اکابرکا فیصلہ نہایت ہی دانشمندانہ تھا،اسی لئے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ ملک ہماراہے،ہم تقسیم کے اس وقت بھی مخالف تھے اور آج بھی اسی پر قائم ہیں۔

جبکہ دوسری طرف جناح تھے،جن کے سایہ کے نیچے سرمایہ داروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع تھی،وہ انہیں اپنامحسن ،ہمدرد،ماویٰ،ملجا سمجھ رہے،زندہ بادکے نعروں سے ان کی واہ واہی ہورہی تھی،لیکن اس کا نقصان کس کوہوا؟کمزورکون ہوئے؟تعدادمیں کمی کدھرہوئی؟تقسیم کا داغ کس کے چہرہ پرلگا؟آج تک کون موردالزام ٹھہرائے جارہے ہیں؟کبھی رات کی تنہائیوں پر اس پر غورکیجئے،اور مولاناابوالمحاسن سجادؒ نے اس موقع سے جناح کو جونصیحت آمیز خط لکھاتھا،اس کو پڑھئے،بہت سی گرہیں کھل جائیں گی !

*پولیٹیکل جتنی بھی پارٹیز ہوں،بھارت کے آئین کے اعتبارسے ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے پا س اپنے آپ کو یہ ثابت کریں کہ وہ سیکولر ہیں ، اور سیکولرازم کے اصولوں پر ہی بھارت کے آئین کو ترتیب دی گئی ہے، کئی طرح کے حالات پیش آنے کے باوجود آج اگرہم مضبوطی سے عدالت میں کھڑے ہوتے ہیں تو بنیادیہی سیکولرازم ہوتے ہیں!*

اس بات کو یادرکھئے!کہ ہمارے لئے قیادت بھی ضروری ہے،اور سیاست بھی،مگرنعرہ تکبیر کے نام پر ،یاخالص اسلام کے نام پر سیاست کی تائید ؛ اگربھارت جیسے ملک میں،جمعیۃ علماء ہند جیسی مذہبی جماعت کے اسٹیج سےکی جائے گی،تو اس کاانجام انتہائی خطرناک ہوگا،یہ ایساہی ہے کہ اگرتمام مسجدوں سے خالص اسلام کے نام پر کسی سیاسی پارٹی کا اعلان ہوجائے،تو پھر ملک میں دوپارٹی رہ جائے گی،یاتو مسلم یاہندو،اور دوسری طرف کے لوگ تو یہی چاہتے ہیں۔

*اسدالدین اویسی صاحب ؛ایک بہترین سیاست داں ہیں،پارلیامینٹ میں ان کی عالمانہ تقریروں نے تمام مسلمانوں کو حوصلہ دیاہے،بعض مسئلے میں اختلافات ہوسکتے ہیں ،مگر مجموعی طورپر ان کی باتیں بہت ہی خوبصورت،جامع،مدلل،مسکت اور وقت کی نزاکت کے اعتبار سے بہت ہی اہم اور قیمتی ہوتی ہیں،وہ حیدرآباد سے ایم پی ہیں،لیکن پورے ملک کے مسلمانوں اوردبے،کچلے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہیں،ان کا انداز اتناخوبصورت ہوتاہے کہ دیگرلوگوں کے لئے بھی کشش کا ذریعہ بن جاتا ہے،مگر جب بات مجلس اتحاد المسلمین کے پورے ملک کے سیاسی اکھاڑہ میں اترنے کی آئے گی، تو کوئی بھی مذہبی جماعت ،اپنی جماعت کے اسٹیج سے تائید وحمایت کا اعلان نہیں کرے گی،بصورتِ دیگر،دیگرلوگوں کے لئے راہیں ہموار کرنے کا ذریعہ ہوگا۔*

*بہت سے لوگ کئی طرح کی باتیں کرتے ہیں* ،وہ کہتے ہیں ،جمعیۃ علماء ہند ہی وہ جماعت جس نے ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک نہ خود مسلم پارٹی بنائی،اورنہ کسی کوبنانے دیا،یہ لوگ دراصل تقسیم ہند کی وجہ سے ملک میں کس طرح کے حالات پیداہوگئے تھے،اور اس موڑپر جمعیۃ علماء ہند کا کردارکیاتھااس سے ناواقف ہیں۔ ١٩٤٩ میں،لکھئومیں جمعیۃ علماء ہند کے سولہواں اجلاس عام کے موقع سے حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی ؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاتھا:بہت آسان تھاکہ جمعیۃ علماء ہند سیاست کا بھی دعویٰ کرتی رہتی، اور جداگانہ سیاست کے عادی کروڑوں مسلمانوں کو اپنے گرد جمع کرلیتی،مگریہ مسلمانوں کے حق میں خیرخواہی نہ ہوتی،اس کے حقیقی معنی یہ ہوتے کہ زہرکے پیالے کی طرف مسلمانوں کو دعوت دی جارہی ہے،اور دودھ کی نمائش کرکے سم قاتل ان کے حلق کے نیچے اتاراجارہا ہے،ملک کی ایک خیرخواہ جماعت ہرگز ایسانہیں کرسکتی تھی،کیامشترک انتخاب کی موجودگی میں کسی اقلیت کے لئے یہ مفید ہوسکتاہے کہ وہ سیاسی پلیٹ فارم جداگانہ بنائے؟ ' '

*جمعیۃ علماء ہند کے قائدوصدر محترم جناب مولاناسیدمحمود اسعدمدنی صاحب سے کئی باتوں میں اختلاف کیاجاسکتاہے؟اور اختلاف رائے کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے،لیکن ان کے بیان کی وجہ سے،جس طرح ان کی ذات پر حملے کئے جارہے ہیں،ان کے ناموں کو بگاڑاجارہاہے،جمعیۃ علماء ہند کے حوالہ سے جس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں،مذہب اسلام تو بہت دور،کسی بھی مہذب سماج میں اس کی گنجائش نہیں سمجھ میں نہیں آتی ہے۔*

*اگرکسی بات پر کسی سے اختلاف بھی ہوتوان کی تمام خدمات کو بھول جانا،انہیں ہدف تنقید کا نشانہ بنانے کا جواز کہاں سے پیداہوجاتاہے،دہلی فسادمیں ہزاروں فسادزدگان کے گھروں کو بسانے سے لے کر جیل کی تاریک کوٹھریوں سے انہیں نکال کر باعزت بری کرنے تک،نوح میوات سے لے کرملک کے مختلف حصوں میں ہورہے بلڈوزر کی کاروائی پر روک لگوانے تک کے لئے ودیگرہزاروں صفحات پر مشتمل ان کے کارنامے ہمیشہ یادکئے جائیں گے۔*

یہاں دوباتیں الگ الگ ہیں،دونوں کو الگ الگ انداز سے سوچا جاناچاہئیے،ایک تو اویسی صاحب ،اورنمبر٢ مجلس،اسی طرح مجلس کا صرف حیدرآبادوتلنگانہ میں ہونا،اور دوسرا ملک سے باہرکسی بھی ریاست میں جاکرالیکشن لڑنا،اس میں کوئی شک نہیں کہ اویسی صاحب بہت ہی باصلاحیت اور جرات مند ایم پی ہیں،اندورون پارلیامینٹ ان کی عالمانہ ،فاضلانہ تقریر سے دیگرلوگوں کو بھی خاموش کیاہے،مگر ان کی پارٹی کا حیدرآبادکے علاوہ ریاستوں میں الیکشن لڑنےکے حوالہ سے ،محض اسلام کے نام پر،بنی اس پارٹی کی حمایت وتائیدکا سوال ہوگا،تو جمعیۃ علماء ہند کبھی بھی واضح اورظاہری اندازمیں حمایت نہیں کرسکتی ہے،یہی قیادت کی پالیسی ہے،ہاں اس میں بھی امکان موجودہے،کہ جمعیۃ سے جڑاکوئی شخص،انفرادی طورپر زمینی سطح پر اس کے لئے کام کرے،جیساکہ اس سے قبل بھی اس پر عمل کیاگیاہے،مگر مذہبی جماعت کی حیثیت سے اگراعلان وتائیدہوجائے تو پھر دیگرلوگوں کے لئے مزید راہیں کھل جائیں گی!

*ہاں! یہ مستقل موضوع ہے کہ آج کے ماحول میں مسلمان کیاکریں؟کیاآج جداگانہ سیاست کی اجازت دی جاسکتی ہے،یانہیں؟اس کے نقصانات کیاہیں،اورفوائدکتنے ہیں؟اگر جمعیۃ علماء ہند کی پالیسی سے اتفاق نہیں ہے تو،ملک میں دیگرتنظیمیں بھی ہیں،بڑے بڑے دماغ بھی ہیں،اس موضوع پر پھر سے غوروفکرکریں،اور محض نعرہ کی بنیادپر نہیں زمین سے جڑکراس پر محنت کریں، ورنہیں تو ہم کئی جگہوں پر انجام دیکھ چکے ہیں،خوب ہنگامہ کیاکہ جیت رہے ہیں،لیکن شکشت ہی ہوئی؟اس کی وجہ جانکارحیرانی ہوئی کہ جنہوں نے ازیں قبل ان کے لئے سب کچھ قربان کیاتھا،ان کو بھی اپنے ساتھ شامل نہیں کرسکے،ہارکے بعد بدنام جمعیۃ کے احباب۔

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Blog Archive

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © 2025 صراط مستقیم