مکتب کا نظام وقت کی اہم ضرورت


مکتب کا نظام وقت کی اہم ضرورت
 Maulana Khalid Saifullah Rahmani

موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور ان کی دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کیلئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے۔
بچوں کے لئے دینی مکاتیب کے نظام کو بدرجۂ اولیٰ اہمیت دینی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
قرآن مجید میں جن اولوالعزم پیغمبروں کا ذکر آیا ہے ، ان میں ایک اہم ترین شخصیت حضرت یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے ، جن کا مختلف عنوان کے تحت قرآن میں سولہ بار ذکر آیا ہے ۔ ان کے والد حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ، جن کا ایک نام اسرائیل بھی ہے ۔ بنی اسرائیل دراصل ان کی اولاد ہیں اور رسول اﷲ ﷺ کے علاوہ مصر اور عراق کے خطہ میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی خدا کے اولوالعزم پیغمبروں میں ہیں جن کو ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی رضا کے لئے قربان کیا تھا اورعید قرباں ان ہی کی یادگار کے طورپر منائی جاتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے دادا ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جنہوں نے تعمیر کعبہ کی تجدید فرمائی ، حج کے زیادہ تر افعال حضرت ابراہیم ؑ کی قربانیوں اور فرمانبرداریوں کی یاد کو تازہ کرنے کا باعث ہیں اور دنیا کے تین بڑے مذاہب یہودیت ، عیسائیت اور اسلام آپ علیہ السلام کی عظمت پر متفق ہیں ۔قرآن نے خاص طورپر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے توحید پر ایمان و ایقان کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں ابتلاؤں اور آزمائشوں میں پورا اُترنے کے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ آج جو مذاہب توحید کا اقرار کرتے ہیں ، وہ سبھی حضرت ابراہیم ؑ سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں ، حضرت یعقوب ؑ کے صاحبزادے حضرت یوسف علیہ السلام ہیں ، جن کے واقعہ پر قرآن مجید میں ایک مکمل سورہ ’’یوسف ‘‘ کے نام سے موجود ہے اور ان کی داستانِ زندگی کو اﷲ تعالیٰ نے احسن القصص کے نام سے ذکر فرمایا ہے ، گویا حضرت یعقوب علیہ السلام کا پورا خانوادہ نبیوں اور رسولوں کا خانوادہ ہے جس میں باپ ، چچا، دادا ، بیٹا ، سب اﷲ کے پیغمبر ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس خاندان میں کس قدر دین داری ، تقویٰ اور خشیت ِالٰہی رہی ہوگی اور گھر کے پورے ماحول پر کیسی اعلیٰ دینی فضاء سایہ فگن ہوگی۔ ایسے دین دار گھرانے کے افراد سے گناہ اور معصیت کا اندیشہ بھی لوگوں کو نہیں ہوتا ، چہ جائے کہ کفر و شرک کا خوف ان سے ہو ؛ لیکن جب حضرت یعقوبؑ کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے صاحبزادوں سے سوال کیا’’میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے ؟ صاحبزادوں نے جواب دیا : ہم آپ کے خدا ، آپ کے باپ دادا ابراہیمؑ ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے خدا یعنی ایک ہی خدا کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے ۔‘‘(بقرہ: ۱۳۳) 
اسی طرح سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو خود نبی تھے وصیت فرمائی :
’’بے شک اﷲ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے ؛ اس لئے اسلام ہی کی حالت میں تمہیں موت آنی چاہئے ۔‘‘(بقرہ: ۱۳۲)
غور کیجئے ! کہ انبیاء کرام اپنے بچوں کے سلسلہ میں اس بات کے فکر مند ہیں کہ وہ دین پر قائم رہیں اور ان کو دین پر قائم رہنے کی حالت میں موت آئے ، جب انبیاء کو اپنی اولاد کے بارے میں اتنی زیادہ فکر مندی تھی ، تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سلسلہ میں کتنا زیادہ فکر مند رہنے کی ضرورت ہے۔ آج ہماری نفسیات یہ ہے کہ ہم اپنی خاندانی روایات پر یقین کرکے اپنے بال بچوں کے بارے میں مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہمارے بچے اسی دین کے حامل رہیں گے ، جو ہمیں ہمارے ماں باپ کی طرف سے ملا ہے ۔
راقم الحروف کو متعدد مغربی ملکوں کے سفر کا موقع ملا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مغربی ملکوں نے مذہب سے اپنا رشتہ پوری طرح توڑ لیا ہے اور اگر کوئی اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے تو وہ محض روایات کے طورپر ایک تہذیب کے نقطۂ نظر سے عیسائی ہے ، یعنی کچھ مذہبی رسوم ہیں ، جو بطورِ عقیدہ کے انجام نہیں دی جاتیں بلکہ اب وہ تہذیب اور روایت کا حصہ بن چکی ہیں ، لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ جو مسلمان وہاں آباد ہیں اور خاص کر گجراتی مسلمان ، کہ ہندوستان سے زیادہ تر وہی اس ملک میں پہنچے ہیں ان کی نئی نسل میں بھی دین داری کا رجحان بہت ہی قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں یوں محسوس ہوتا ہے کہ لباس عورتوں کے لئے ناقابل برداشت بوجھ ہے ، اور جہاں نوجوان لڑکے نت نئے فیشن کے پرستار ہیں ، وہاں بھی مسلمان خواتین کی اچھی خاصی تعداد برقع پوش ہے ، یا کم سے کم چہرہ کے علاوہ پورا جسم بشمول سر ،ڈھکا ہوا ہے، نوجوان لڑکے باریش ہیں اور ان کی اچھی خاصی تعداد مشرقی لباس اور اسلامی وضع قطع کی حامل ہے ۔اس کے اسباب یوں تو گھریلو ماحول اور طبعی سلامت رَوی ، دینی تحریکوں اور جماعتوں سے تعلق اور خاص کر حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی تحریک دعوت و تبلیغ کی محنت علماء اورمشائخ سے تعلق و ارتباط وغیرہ بھی ہے ؛ لیکن سب سے اہم کردار اس میں نظام مکاتب کا ہے۔ ریاست ِگجرات میں بہت زمانہ سے ایک نظام یہ ہے کہ گاؤں گاؤں میں مکاتب قائم ہیں ، جو طلبہ عصری درسگاہوں میں پڑھتے ہیں ان کے لئے ان مکاتب میں پڑھنا ضروری سمجھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ مکتب کے اوقات میں کھیلتا ہوا مل جائے تو محلہ کے لوگ بے تکلف بچہ کے سرپرست سے پوچھ بیٹھتے ہیں کہ یہ مکتب نہیں جارہا ہے ؟ اور سرپرست کو شرمسار اور معذرت خواہ ہونا پڑتا ہے۔ عام طورپر مکتب کی تعلیم سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں قاعدۂ بغدادی اورپارۂ عم جیسے تیسے پڑھادیا جائے اور چند کلمات اور دُعائیں یاد کروا دی جائیں ، بس یہ کافی ہے ، یقیناً کچھ نہ ہونے کے مقابلے میں ہونا بہتر ہے ؛ لیکن گجرات کے نظم مکاتب کی سطح اس سے بہت بلند ہے۔ یہاں عام طورپر میٹرک تک آٹھ دس سال مکتب کی تعلیم ہوتی ہے ، روزانہ ڈھائی گھنٹہ بچوں کا وقت لیا جاتا ہے۔، ایک معلم پندرہ ، بیس طلبہ کو پڑھاتا ہے۔ ناظرہ قرآن تجوید کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے، کچھ پارے حفظ کرائے جاتے ہیں ، پھر اس کے ساتھ ساتھ آیات و احادیث کے ترجمے ، ایمانیات ، مسائل و احکام ، سیرتِ نبویؐ وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر عربی زبان کی ابتدائی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں ۔گجرات کے مسلمان تاجر پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ، وہ جہاں بھی گئے مکتب کا یہ نظام اپنے ساتھ لے گئے ، اس لئے ان کی نئی نسل پر دین داری کی جھلک نمایاں طورپر محسوس کی جاتی ہے ، چاہے وہ کتنے ہی مخالف ِاسلام ماحول میں ہوں ، وہ دوسرے مسلمانوں سے اپنے دینی ربط و تعلق کی بناء پر نمایاں محسوس ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں چونکہ ۱۶؍ سال کی عمر تک سرکاری نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ہر بچہ پر لازم ہے ، اس لئے اتنی عمر تک بچے پابندی سے مکتب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس طرح وہ نیم مولوی تو ہوہی جاتے ہیں اور بعض طلبہ تو قرآن مجید کا حفظ بھی مکمل کرلیتے ہیں ۔بعض اہل بصیرت کا گمان ہے کہ ایشیاء میں جو ملک سب سے پہلے مغربی تہذیب کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا اور جو تیزی سے مغرب کی پیروی کی طرف جارہا ہے ، وہ ہمارا ملک ہندوستان ہے اور مغربی ممالک کو چوںکہ افرادی وسائل کی ضرورت ہے اور ہندوستان کے نوجوان ذہانت ، صلاحیت ، محنت اور فنی مہارت کے ساتھ ساتھ مغربی تہذیب کو قبول کرنے کا مزاج بھی رکھتے ہیں ، اسی لئے یہاں کے کارکنان ان کے لئے سب سے زیادہ قابل قبول ہیں ۔ان حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کے لئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے ، کہ زیادہ سے زیادہ مکاتب قائم ہوں۔ یہ مکاتب صرف رسمی انداز کے نہ ہوں ؛ بلکہ اس کا دس سالہ کورس ہو ، جس میں ناظرہ قرآن ، حفظ ، منتخب آیات و احادیث کے ترجمے ، عبادات و معاملات اور شخصی زندگی سے متعلق ضروری احکام ، نیز رسول اﷲ ﷺ اورانبیاء کرام کی سیرت اور تاریخ ہند جیسے اہم مضامین شامل نصاب ہوں اور ان کی باضابطہ تعلیم ہوا کرے ، اُردو زبان بھی اس نصاب کا ایک اہم جزو ہو اور ان طلبہ کو اچھی طرح اُردو لکھنا اور پڑھنا آجائے ؛ تاکہ وہ اپنے اسلاف کے علمی ورثہ سے جڑے رہیں۔ علماء کو ان کا علم ، مشائخ کو ان کی دینی نسبت اور دعوتی کام کرنے والوں کو ان کی دعوتی وابستگی انہیں اپنے بچوں کی طرف سے بے پروا نہ کردے اور یہ خیال نہ پیدا ہوجائے کہ ہماری یہ دینی وابستگی لازمی طورپر ہماری آنے والی نسلوں کو بھی دین سے مربوط رکھے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت یعقوب علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبروں کے اُسوہ کو یاد رکھیں کہ پورا خاندان نبوت کے نور سے منور ہے ، اس کے باوجود انہیں اپنی وفات کے وقت یہی فکر دامن گیر ہے کہ ہماری اولاد دین پر قائم رہے گی یا نہیں ؟ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے ؟ اور کیا ہم نے بھی کبھی اپنی اولاد سے وہی استفسار کیا ہے جو آپؑ نے کیا تھا کہ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ ؟

موجودہ دور میں علماء و مصلحین کے فتنے

علماء ومصلحین کے فتنے
(محدث العصرحضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رح کی ایک نادرتحریر)

سب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ علماء ومصلحین کی جماعتوں میں جو فتنے آج کل رونما ہو رہے ہیں، نہایت خطرناک ہیں ، تفصیل کے لئے موقع نہیں ہے؛ لیکن فہرست کے درجہ میں چند باتوں کو ذکر کرنا ناگزیر ہے۔
 *مصلحت اندیشی کا فتنہ* 
یہ فتنہ آج کل خوب برگ وبار لا رہا ہے ، کوئی دینی یا علمی خدمت کی جائے ، اس میں پیش نظر دنیاوی مصالح رہتے ہیں، اس فتنہ کی بنیاد نفاق ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سی دینی وعلمی خدمات برکت سے خالی ہیں۔
*ہردل عزیزی کا فتنہ* 
جو بات کہی جاتی ہے، اس میں یہ خیال رہتا ہے کہ کوئی بھی ناراض نہ ہو، سب خوش رہیں، اس فتنہ کی اساس حب جاہ ہے۔
 *اپنی رائے پر جمود واصرار* 
اپنی بات کو صحیح وصواب اور قطعی ویقینی سمجھنا، دوسروں کی بات کو درخور اعتناء اور لائق التفات نہ سمجھنا، بس یہ یقین کرنا کہ میرا موقف سو فیصد حق اور درست ہے اور دوسرے کی رائے سو فیصد غلط اور باطل، یہ اعجاب بالرائے کا فتنہ ہے اور آج کل سیاسی جماعتیں اس مرض کا شکار ہیں، کوئی جماعت دوسرے کی بات سننا گوارا نہیں کرتی، نہ حقِ دینی ہے کہ مخالف کی رائے کسی درجہ میں صحیح ہو، یا یہ کہ شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں جو ہم چاہتے ہیں، صرف تعبیر اور عنوان کا فرق یا "الاہم فالاہم" کی تعیین کا اختلاف ہو ۔
 *سوء ظن کا فتنہ* 
ہر شخص یا ہر جماعت کا خیال یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ہر فرد مخلص ہے اور ان کی نیت بخیر ہے اور باقی تمام جماعتیں جو ہماری جماعت سے اتفاق نہیں رکھتیں، وہ سب خود غرض ہیں، ان کی نیت صحیح نہیں؛ بلکہ اغراض پر مبنی ہیں، اس کا منشا بھی عجب وکبر ہے ۔
 *سوء فہم کا فتنہ* 
کوئی شخص کسی مخالف کی بات جب سن لیتا ہے ، تو فورًا اسے اپنا مخالف سمجھ کر اس سے نہ صرف نفرت کا اظہار کرتا ہے؛ بلکہ مکروہ انداز میں اس کی تردید فرض سمجھی جاتی ہے، مخالف کی ایک ایسی بات میں جس کے کئی احتمال اور مختلف توجہیات ہو سکتی ہیں، وہی توجیہ اختیار کریں گے جس میں اس کی تحقیر وتذلیل ہو، کیا درج ذیل آیت اور حدیث مبارکہ کی نصوص مرفوع العمل ہو چکی ہیں؟ (ان بعض الظن اثم) ، اسی طرح حدیث مبارکہ (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث) ۔بدگمانی سے بچا کرو ؛ کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے.
اور بڑے بڑے جھوٹ اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
 *بہتان طرازی کا فتنہ* 
مخالفین کی تذلیل وتحقیر کرنا، بلا سند ان کی طرف گھناؤنی باتیں منسوب کرنا، اگر کسی مخالف کی بات ذرا بھی کسی نے نقل کردی، بلا تحقیق اس پر یقین کر لینا اور مزے لے کر محافل ومجالس کی زینت بنانا، بالفرض اگر خود بہتان طرازی نہ بھی کریں، دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق صحیح سمجھنا، کیا یہ اس نص قرآنی کے خلاف نہیں؟ {ان جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا}۔اگر آئے تمہارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر، تو تحقیق کرلو.
 *جذبہ انتقام کا فتنہ* 
کسی شخص کو کسی شخص سے عداوت ونفرت یا بدگمانی ہو تو، وہ مجبورًا خاموش رہتا ہے؛ لیکن جب ذرا اقتدار مل جاتا ہے، طاقت آجاتی ہے، تو پھر خاموشی کا سوال پیدا نہیں ہوتا، گویا یہ خاموشی معافی اور درگزر کی وجہ سے نہیں تھی؛ بلکہ بے چارگی وناتوانی اور کمزوری کی وجہ سے تھی، جب طاقت آگئی، تو انتقام لینا شروع کیا، رحم وکرم اور عفو ودر گزر سب ختم ۔
 *حب شہرت کا فتنہ* 
کوئی دینی یا علمی یا سیاسی کام کیا جائے، آرزو یہی ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ داد ملے اور تحسین وآفرین کے نعرے بلند ہوں، در حقیقت اخلاص کی کمی یا فقدان سے اور خود نمائی وریا کاری کی خواہش سے یہ جذبہ پیدا ہو گیا، در حقیقت یہ شرک خفی ہے، حق تعالی کے دربار میں کسی دینی یا علمی خدمت کے وزن اخلاص سے ہی بڑھتا ہے اور تمام اعمال میں قبول عند اللہ کا معیار ہے، اخبارات، جلسے، جلوس اور علماء کے بیرون ملکوں کے دورے زیادہ تر اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں ۔
 *خطبات وتقاریر کا فتنہ* 
یہ فتنہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ لن ترانیاں انتہائی درجہ میں ہوں، عملی کام صفر کے درجہ میں ہوں، قوالی کا شوق دامن گیر ہے، عمل وکردار سے زیادہ واسطہ نہیں.
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ، كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ} (الصف: ۲ ،۳)
اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے، بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے ہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو۔
خطیب اس انداز سے تقریر کرتا ہے کہ گویا تمام جہاں درد اس کے دل میں ہے؛ لیکن جب عملی زندگی سے نسبت کی جائے، تو درجہ صفر ہوتا ہے ۔
 *پروپیگنڈہ کا فتنہ* 
جو جماعتیں وجود میں آئی ہیں، خصوصًا سیاسی جماعتیں ان میں غلط پروپیگنڈہ اور واقعات کے خلاف جوڑ توڑ کی وبا پھیل گئی ہے جس میں نہ دین ہے اور نہ اخلاق ، نہ عقل ہے نہ انصاف ، نہ محض پورپ کی دین باختہ تہذیب کی نقالی ہے، اخبارات، اشتہارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن تمام اس کے مظاہر ہیں ۔
*تنظیم سازی کا فتنہ* 
چند اشخاص کسی بات پر متفق ہوگئے، یا کسی جماعت سے ذرا اختلاف رائے ہوگیا، ایک نئی جماعت کی تشکیل ہوگئی، طویل وعریض اغراض ومقاصد بتائے جاتے ہیں، پروپیگنڈہ کے لئے فورًا اخبار نکالا جاتا ہے، بیانات چھپتے ہیں کہ اسلام اور ملک بس ہماری جماعت کے دم قدم سے باقی رہ سکتا ہے ۔
نہایت دل کش عنوانات اور جاذب نظر الفاظ وکلمات سے قرار دادیں اور تجویزیں چھپنے لگتی ہیں، امت میں تفرقہ اور انتشار اور گروہ بندی کی آفت اسی راستے سے آئی ہے ۔
 *عصبیت وجاہلیت کا فتنہ* 
اپنی پارٹی کی ہر بات خواہ وہ کیسی ہی غلط ہو، اس کی حمایت وتائید کی جاتی ہے اور مخالف کی ہر بات پر تنقید در تنقید کرنا سب سے اہم فرض سمجھا جاتا ہے، مدعی اسلام جماعتوں کے اخبار ورسائل، تصویریں کارٹون، سینما کے اشتہار، سود اور قمار کے اشتہار اور گندے مضامین شائع کرتے ہیں؛ مگر چونکہ اپنی جماعت کے حامی ہیں، اس لئے جاہلی تعصب کی بنا پر ان سب کو بنظر استحسان دیکھا جاتا ہے، الغرض جو اپنا حامی ہو، وہ تمام بد کرداریوں کے باجود پکا مسلمان ہے اور جو اپنا مخالف ہو، اس کی نماز روزہ کا بھی مذاق اڑایا جاتا ہے ۔
*حب مال کا فتنہ*
حدیث میں تو آیا ہے کہ "حب الدنیا رأس کل خطیئۃ" یعنی دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے، حقیقت میں تمام فتنوں کا قدر مشترک حب جاہ یا حب مال ہے، بہت سے حضرات (ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ) کو دنیا کی جستجو اور محبت کے لئے دلیل بناتے ہیں؛ حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ ایک ہے دنیا سے تعلق اور ضروریات کا حصول، اس سے انکار نہیں، نیز ایک ہے طبعی محبت جو مال اور آسائش سے ہو، اس سے بھی انکار نہیں ۔
مقصد تو یہ ہے کہ حب دنیا یا حب مال کا اتنا غلبہ نہ ہو کہ شریعت محمدیہ اور دین اسلام کے تمام تقاضے ختم یا مغلوب ہوجائیں، اقتصاد واعتدال کی ضرورت ہے، عوام سے شکایت کیا کی جائے؟ آج کل عوام سے یہ فتنہ گزر کر خواص (علماء) کے قلوب میں بھی آرہا ہے ، الا ما شاء اللہ اس فتنے کی تفصیلات کے لئے ایک طویل مقالے کی ضرورت ہے، حق تعالی توفیق عطا فرمائے ، ہم ان مختصر اشاروں کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ایک دعا پر ختم کرتے ہیں ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الخَطْمِيِّ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ، اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ، اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِي فِيمَا تُحِبُّ. (ترمذی : ۳۴۹۱)

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم