🌷 ممتحن کیسا ہو 🌷
👈 مکتب کا امتحان مکتب والوں سے کروائیں تو زیادہ مناسب ہے۔
👈 ممتحن طریقۂ امتحان سے واقف ہو۔
👈 ممتحن مخلص اور خیر خواہ ہو۔
👈 ممتحن امین ہو۔
👈 ممتحن مشفق ہو (بچوں سے پیار سے سوالات کرے / پیش آئے)۔
👈 نصاب و نظام کے دائرہ میں رہ کر سوالات کرے۔
👈 خارجی سوالات نہ کرے۔
👈 حسب و نسب کی رعایت نہ کرے اور نہ کسی سے مرعوب ہو۔
👈 کیفیت میں حق بات، حق نیت کے ساتھ اور حق طریقے سے لکھے۔
👈 مقصد پر نظر ہو، ذریعہ پر زیادہ نظر نہ ہو۔ جیسے: ایک بچہ صحتِ حروف اور قواعد کے ساتھ اور روانی کے ساتھ قرآن پڑھتا ہو تو مقصد حاصل ہو گیا ہے؛ اب مخرج، قواعد اور ہجے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت مولانا اسماعیل صاحب کاپودروی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ میں امتحان میں تین چیزیں دیکھتا ہوں:
👈 مقدارِ واقفیت، یعنی بچوں کو اپنے نصاب کے متعلق کتنی معلومات ہیں۔
👈 مقدارِ دل چسپی، یعنی بچوں نے امتحان میں کس قدر شوق ظاہر کیا۔
👈 مقدارِ ذہنی حیات، یعنی بچوں میں کتنی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔
بہر حال امتحان اصلاح کے لیے ہونا چاہیے نہ تعریف کے لیے۔
سوال: ایک بچے سے کم سے کم کتنے سوالات کرنے چاہییں؟
جواب: جب تک ممتحن کو اطمینان نہ ہو۔
سوال: امتحان اجتماعی ہے یا انفرادی؟
جواب: انفرادی ہے۔
سوال: ایک ساتھ کتنے بچوں کو بلانا چاہیے؟
جواب: ممتحن کی یکسوئی پر ہے، دو چار۔
سوال: مدرس کو ممتحن کے ساتھ بٹھانا چاہیے کہ نہیں؟
جواب: ممتحن کے ساتھ مدرس رہے تو بہتر ہے۔
غلطی ہو تو اصلاح فرمائیں
فقط
الطاف ہتھورنی
No comments:
Post a Comment