(حلیة الأولیاء لأبي نعيم، ٥/ الرقم:٦٢٢٠)
بچوں کو پابند کرنے کے لیے انعام
سیدنا زُبید ایامی رحمہ اللہ اپنے محلے کی مسجد میں مؤذن تھے۔ آپ بچوں کو کہا کرتے: “بچو! چلو نماز پڑھو، میں تمہیں اخروٹ دوں گا۔” بچے آ کر نماز پڑھتے، پھر آپ کے اردگرد جمع ہو جاتے۔ اُن سے کہا گیا: “آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟” فرمایا: “اس میں میرا کیا جاتا ہے کہ میں ان کے لئے پانچ درہم کے اخروٹ خریدوں اور وہ نماز کے عادی بن جائیں۔”
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم
About Me
Followers
Label
Recent Comments
Popular Posts
-
شیخ یوسف القرضاویؒ کی مشہور چھوٹی مگر بہت گہری کتاب جس کا نام ہے "أين الخلل؟" 72 صفحات کی یہ چھوٹی سی کتاب اسلامی تحریکوں کی نا...
-
*مسلمان لڑکیاں ارتداد کے دہانےپر* ✍🏻 تحریر: *مولانامحمدعمرین محفوظ رحمانی* _(سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ٬مالیگاؤں)_ ملک کے مختلف ...
-
مو لا نا الطاف حسین حالی کی تنقید نگاری خواجہ الطاف حسین حالی (1914-1837) اُردو کے مشہور شاعر ‘ انشا پرداز سوانح نگار اور نقاد گذرے ہی...
No comments:
Post a Comment