Nov
Tuesday,
26,

. *مکاتب/ مدارس کے سامنے ایک نیا چیلنج*

.
 *مکاتب/ مدارس کے سامنے ایک نیا چیلنج* 

حکومت کی ایک اسکیم کے تحت اب سارے رجسٹرڈ اسکول/ مدرسوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبا کو حکومت کی ایک ویب سائٹ پر درج کریں جس میں نام وغیرہ بنیادی تفصیل کے علاوہ ایمیل اور موبائل نمبر بھی دینا ہوگا پھر ہر ایک طالب علم کے لیے ایک (PEN) Personal Education Number جاری ہوگا، یہ نمبر مارکشیٹ اور ٹی سی پر درج ہوگا، ابتدائی سے اعلی تعلیم تک طالب علم کے لیے یہ ریفرنس نمبر ہوگا اس کے بغیر کوئی بھی مارکشیٹ یا ڈگری بے معنی ہوگی۔ 

ابھی ابتدائی مرحلہ ہے اس لیے کچھ چھوٹ ہے، ایک دو سال میں اس نمبر کے حاصل کیے بغیر طلبا کی پڑھائی بے معنی ہوجائے گی، اور یہ نمبر صرف حکومت کے یہاں رجسٹرڈ مدارس اور اسکول کے طلبا کو مل سکتا ہے، اور جو بچے کسی ایسے مدرسے یا اسکول میں پڑھتے ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ اپنے طلبا کو پین نمبر نہیں دے پائیں گے۔

گاؤں گاؤں میں پائے جانے والے بیشتر مکاتب یا درسگاہیں رجسٹرڈ نہیں ہیں، یو پی میں فی الحال مدارس کو رجسٹریشن بھی نہی مل رہا ہے، ان مکاتب و درسگاہوں کے سامنے یہ بڑا چیلینج ہے، ذمہ داران کو جلد از جلد اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے ورنہ بچے مستقبل میں پڑھ کر بھی ان پڑھوں میں شمار کیے جائیں گے، پاسپورٹ وغیرہ بہت سے سرکاری دستاویزات بنانا مشکل ہوگا، اعلی تعلیم میں داخلے لینا نا ممکن ہوجائے گا۔ 

کسی بھی اسکول یا مدرسہ کا رجسٹریشن کرانے کے لیے رجسٹرڈ ٹرسٹ/ سوسائٹی ہونا ضروری ہے اس کے بعد ادارہ کے نام مطلوبہ رقبہ کی زمین یا ادارے کے نام پر 25 سال کے لیے زمین لیز پر ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد باقی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ مکاتب کے سامنے یہ بھی ایک چیلنج ہوگا کہ ان کے پاس زمینیں تو ہیں لیکن نہ ادارہ کے نام پر ہیں اور نہ ان کے نام لیز پر ہے، اور شاید وہ لوگ بھی نہیں ہوں گے جنھوں نے ادارے کو زمینیں وقف کی ہوں گی۔

بہت سے کام ہیں جو کسی طرح مینیج ہوجاتے ہیں،ادارہ کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ کسی طرح سب سے پہلے زمین ادارہ کے نام کرالیں یا لیز بنوا لیں، سوسائٹی رجسٹرڈ کرلیں پھر رجسٹریشن کی کارروائی شروع کردیں۔ ہر ضلع میں بیسیک شکچھا کے ڈپارٹمنٹ ہیں جہاں سے پرائمری کے رجسٹریشن ہوتے ہیں کوشش کرکے کم از کم پرائمری تک رجسٹریشن کرا لیں۔ 

جو مکاتب کوشش کے بعد کسی وجہ سے رجسٹریشن نہیں کراسکتے وہ دوسرے رجسٹرڈ مکاتب کی مدد سے اپنے بچوں کے لیے پین نمبر لینے کی کوشش کریں اور رجسٹریشن کرانے کے لیے کوشاں رہیں۔

جتنی معلومات مل سکی ہیں قلم بند کردیا ہے، کسی کے پاس مزید کچھ ہو تو براۓ مہربانی شیئر کریں۔ 

رجسٹریشن کی کارروائی کے سلسلے میں کچھ معلومات اکٹھا کی ہیں مزید معلومات حاصل کررہا ہوں مکمل معلوما ت ملنے پر شیئر کروں گا ان شاءاللہ۔

أبو معاذ 
علاء الدین پٹی
Nov
Sunday,
24,

پہلے قائد کا انتخاب کیجیےاور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌


 

جس میں قائدانہ صلاحیت صفات دکھے اُس کو قائد مانیے ،جب قائد مان لیے تو 
قائد کوئی بھی ہو جب تک اس پر اعتماد نہیں کیا جائیگا ،اُس کا ساتھ نہیں دیا جائیگا ،فتح اور شکست دونوں حالتوں میں اُس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی تو اُمت کو کبھی بھی مخلص قائد نہیں ملے گا ،اس کی غلطیوں پر اس كو متوجہ کیجیے ،لیکن اُس کو موقع دیجئے ، ہو سکتا ہے اُس کی کچھ حکمتِ عملی ہوں ،
قائد چنگیز خان سے ہاتھ ملا رہا ہوں تو اس کو رائے دے دوں یہ چنگیزخان ہے یہ تو ہمارا دشمن ہے پھر بھی قائد ہاتھ ملانا چاہتا ہے اُس کوکچھ دیر کے لیے  یہ سمجھ کر موقع دینا چاہیے کہ ہمارا قائد  چھوٹے دشمن سے بڑے دشمن کو ختم کرنا چاہ رہا ہے ،
سیرت میں اور تاریخ میں یہ سب باتیں مل جائے گی ۔

 *مگر پہلے تو ہم کسی کو قائد مانتے نہیں ہیں ،*بیرسٹر اسد اویسی صاحب* کو دیکھ لیجئے ،بیرسٹر ہے ،خاندانی سیاست دان ہے ،خاندانی امیر ہے ،قوم کا درد ہے ،قوم کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ ہے ،اُن کی تقریروں میں مسمانوں کا جم غفیر آتا ہے ،نعرہ تکبیر لگاتا ہے ،ایسا جوش ہوتا ہے جیسے اسد صاحب آزادی کی لڑائی کا اعلان کردے گے تو سب میدان میں کود جائیں گے ،مگر اسد صاحب اتنی پرجوش عوام سے ایک بٹن دبانے کی درخواست کرتے ہیں ، اپنے امیدوار کو جتانے کی ایپل کرتے ہیں تو چند سو اور چند ہزار کے علاوہ اُن کو ووٹ دینا تو دور کی بات اُن کو ہی قوم کا غدار سمجھتی ہیں ،اُن کو بی جی پی کی بی ٹیم کہتی ہے ،

جہاں بی جی پی چن کر آئی غلطی سے وہاں اویسی صاحب چلے گئے تو بی جی پی کی جیت کا پورا سہرا اویسی صاحب کو مسلمان دیتے ہیں ۔

اب اِس اسمبلی الیکشن میں نیا چہرہ سامنے آیا *حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ* یہ چہرہ تو امت کے ہر مسئلہ کے وقت سامنے آتے رہا ہے جب اچھے اچھے سیاست داں اور سماج سیوا کی زبانیں بند تھی اُس وقت بھی امت کی صحیح رہبری ڈنکے کی چوٹ پر کرنے والا یہی چہرہ تھا ،سب پسند بھی کرتے تھے ،حاسدین خاموش تماشائی بنے رہتے تھے ،
مگر اس الیکشن میں اللہ کا کرنا ایسا ہوا کی مولانا کی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوئی تو سب کو دل کھول کر بولنے کا موقع مل گیا ،
 عوام کی سوچ تو ایسی ہے جیتو تو سکندر ہارو تو بندر

اگر اس الیکشن میں مولانا سامنے نہ آتے تو بھی رزلٹ تقریباً یہیں آنا تھا مگر اُس وقت اویسی صاحب پر اپنی ہار کا ٹھیکرا پھوڑتے تھے ۔۔

میرا کہنا یہ ہے اویسی صاحب ہو یا مولانا ہو ،جو بھی میدان میں ہیں ، جس کی محنت برسوں سے قوم کے لئے جاری ہے ،ایسے قائد کو موقع دیں ۔

 *جیسا ہم نے سیکولر پارٹیوں پر ستر سال بھروسہ کرکے ووٹ دیا* ،اُن سے امیدیں رکھی ،صرف دس سال اپنے قائدین پر اعتماد کرکے ان کو موقع دو ،
ہار جیت تو میدان کی جان ہے ،اور غلطیاں بھی کھلاڑیوں کے میدان کا حصہ ہے ،میدانی غلطیاں اس سے نہیں ہوگی جو صرف میرے جیسا واٹس اپ فیس بک پر لکھتا ہوں یا بولتا ہوں ،میدانی لوگوں سے میدانی غلطیاں ہوتی ہیں ،مگر غلطیوں کو درست کرکے یہی لوگ میدان فتح کرتے ہیں ۔

 *حماس* کے ایک فیصلے سے کتنے فلسطینیوں نے شہادت کا جام پیا ،ایسی درد ناک واقعات سامنے آئے جو ہماری آنکھوں نے کبھی دیکھا نہ ھوگا اور کانوں نے کبھی سنا نہ ہوگا ،مگر ایک فلسطینی بتا نہیں سکتے جو اپنی قیادت کے شکوے کر رہی ہوں ،ان کو گالیاں دینا برا بھلا کہنا تو دور کی بات ہے ،آج بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں ،آج حماس کھڑا ہے اپنوں کے حوصلوں کی وجہ سے کھڑا ہے ،

آج کوئی قیادت اُبھرتی ہے تو ہم اُس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اگر جیت گیا تو پیٹ تھتھپانے اور کریڈٹ لینے چلے جاتے ہیں ،
اور ہار گیا تو اس کو بد نام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ،اور اُس کی حوصلہ شکنی اتنی کرتے کے اُس نے قیادت بھول ہی جانا ۔۔
اِس لیے ہم کو قائد کم اور لٹیرے زیادہ مل رہے ہیں ،اور دشمنوں سے ساز باز کرنے والے لوگ ہی اکثر ہم پر مسلط ہے ۔۔
اچھے انسان سے غلطی نہیں بھی ہوئی تو میڈیا اُس کو اٹھاتا ہے ،میڈیا ہماری اچھی اور مخلص قیادت کو کبھی اچھا نہیں بولے گا وہ بکا ہوا ہے ۔
اور ہمارے قلم کار بھی جن کے فجر کا پتا نہیں امت کے صحیح حالات کا پتہ نہیں صرف اتنا ہی معلوم جتنا میڈیا اور سوشل میڈیا سے پاخانہ ملتا ہے ،وہ بھی ہماری قیادت کی غلطیوں کو اچھالنے لگ جاتے ہیں ۔
 *اپنے قائد کی غلطیوں کو سر عام مت لاؤ ،* جاکر ان سے ملو ،اُن کو متوجہ کرو ،یہ غلطی ہوئی اور یہ حل ہے ۔
کیوں کہ جنگل کے جس جانور کو زخمی کردیا جاتا تو جنگل کے درندے اُس کو پھاڑ کھاتے ہیں ۔۔


ہم سب اپنی غلطیوں کو دیکھو کہ موجودہ حالات میں ہم نے کیا محنت کی ،اور کس کا ساتھ دیا ،اور کس لیے دیا ،اور ہم اُمت کی فلاح بہبودی کے لئے کیا قربانی دے رہے ہیں ،اپنی مقامی لوگوں سے ہم کتنا دبے ہوئے ہیں ،کتنا حق کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

دوسروں پر اُنگلی اٹھانا آسان مگر اپنی غلطیوں پر نگاہ رکھنا بڑا مشکل کام ہے ۔۔

 *معاف کرنا آج ہمارے واٹساپی فیسبوکی* قلم کار ،اور گفتار کے غازیوں نے اچھے لوگوں پر جو کیچڑ اچھالا وہ تاریخ میں شاید ہی کہیں ملے ۔۔میدانی لوگ اُتار چڑھاؤ کو سمجھتے ہیں ۔صبر سے کام لیتے ہیں ،صحیح اسباب اور نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔
باقی کامیابی ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔
ہمارا کام قرآن و حدیث اور سیرت کی روشنی میں کام کرنا ہے ۔محنت کرنا ہے ،اور اچھے نتیجہ کے لئے اللہ سے دعا کرنا ہے ۔۔


معافی کی درخواست 

نعیم ندوی دھاڑ

حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب کی سیاسی اپیل کا ایک مثبت تجزیہ


                    *عاطر اقبال قاسمی*
aatirbastavi@gmail.com 
             *پہلا منظر نامہ*
محترم قارئین ، میرا سوال آپ سبھی سے ہے ، کیا سیاست مولویوں کے لیے نہیں ہے، ایک عالم دین سے بہتر کون سیاست داں ہو سکتا ہے جبکہ یہ اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں جن سے بڑا ، اور جن سے بہتر سیاست داں اس کائنات میں آج تک پیدا نہیں ہوا ۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ جب سے مہاراشٹر کے رزلٹ آۓ ہیں تبھی سے ایک طوفان نصیحتوں کا چلا آرہا ہے وہ لوگ بھی تجزیے پیش کر رہے ہیں جن کا مہاراشٹرا کی سیاست سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔بھئ ٹھیک ہے ہو سکتا ہے مولانا کی ٹیم سے زمینی طور پر چوک ہوئ ہو لیکن ہم کو سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی شرعی حکم نہیں لاگو کیا گیا تھا بلکہ مولانا اور ان کی ٹیم کی ایک اپیل اور راۓ تھی جس کو ماننا ہے مانے نہ ماننا ہے نہ مانے ۔ 
*دوسرا منظر نامہ مولانا کی اپیل اور میڈیا کا رد عمل*
بھائی میڈیا تو مسلمانوں کے ہر فعل کو جہادی نظریہ سے دیکھتا ہے ، لو جہاد ، زیادہ بچہ پیدا کرنے کا جہاد ، مدرسہ جہاد ، مسجد جہاد 
تو اب کیا کریں گے ، کیا ہم کاروبار بند کردیں کہ میڈیا اسے جہاد بتا رہا ہے ، کیا ہم اپنے مسجد مدرسے بند کر دیں کیونکہ میڈیا اسے جہادی پناہ گاہ بتا رہا ہے ، بھئ یہ تو ان کا کام ہے ،ان کو تو یہ مشن دیا گیا ہے کہ آپ اسلاموفوبیا کی اشاعت کرو اور بچے بچے کے دل میں اسلام کے خلاف زہر بھردو ۔ بھائی اگر ہم میڈیا کے ڈیبیٹ اور سرخیوں کی ڈر سے فیصلے لینے لگے تو ہمیں اپنے مساجد ، مکاتب ، مدارس و خانقاہیں اور کاروبار کو مقفل کرنا پڑیگا ۔
*تیسرا منظر نامہ سیاسی فہم کی کمی اور نتائج* 
بھائی مولانا کو اللہ نے بصیرت سے نوازا ہے ۔ آپ صرف مہاراشٹرا پر سیاسی نظر رکھ رہے ہیں مولانا اس وقت پوری دنیا کے سیاسی خد و خال پر اپنی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اگرچہ یہ پہلی مرتبہ ہیکہ مولانا نعمانی صاحب نے اس طرح سے منظم طریقہ سے لائحہ عمل تیار کرکے کسی خاص مقصد کے تحت سیکولر پارٹیوں کی حمایت کی ہے ۔ بہر کیف مولانا موصوف کی پوری زندگی سیاست کے میدان میں سیاستدانوں کے درمیان ہی گذری ہے ۔ تو میں سمجھتا ہوں مولانا کے اس لائحہ عمل نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کام نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی وجود زندہ کرنے کا کام کیا ہے ، آج تک تمام سیکولر پارٹیوں کو مسلمانوں کے ووٹ چاہیے ہوتے لیکن مسلمانوں کے لیے بات کرنے سے ہر کوئی کتراتا اس مرتبہ مولانا نے اپنے مطالبات رکھ کر ان کی حمایت کی ، جس سے سیاست میں مسلمانوں کا ایک وزن پیدا ہوا ۔ اور اس کے نتائج انشاءاللہ ثم انشاءاللہ آنے والے انتخابات میں ظاہر ہونگے ۔ اب آنے والے انتخابات میں یہ سیکولر پارٹیاں جس طرح آدیواسیوں سے لیکر مراٹھیوں تک کی حمایت کے لیے ان کی بات سنتے ،مطالبات سنتے اور پورا کرنے کا وعدہ کرکے ان سے اپنے لیے حمایت حاصل کرتے تھے ، اسی طرح اب یہ مسلمانوں کے رہنماؤں سے حمایت کے مذاکرات ضرور کریں گے ، 
اسی طرح اس امت کے بکھرے شیرازوں کو سمیٹنے کا کام مولانا موصوف نے کیا ہے ، اگر یہ حکمت عملی مسلمانوں کے ہر مکتبئہ فکر کے ذمہ داروں نے اختیار کیا تو ، میں قسم کھا کر کہوں تو حانث نہ ہوں گا کہ ہم مسلمان اپنی سیاسی شناخت واپس پا جائیں گے ، انشاءاللہ ثم انشاءاللہ ۔
*چوتھا منظر نامہ تبصرہ نگار کا کہنا کہ مولانا کی اپیل سے ملت کو پہونچنے والے نقصانات* 
بھائی اس پورے انتخابی نظام میں صرف مولانا موصوف نے ہی اکیلے حمایت دی ہے کیا ۔ بھئی جس طرح مہاراشٹر کی دیگر تنظیموں نے اپنی حمایت دی ، اپنی جانب سے اپیل کی اسی طرح مولانا نے بھی اپیل کی۔ اس میں گٹھ بندھن مہا وکاس اگھاڑی یا امتیاز جلیل صاحب کے ہار کے ذمہ دار مولانا کیسے ہو سکتے ہیں ، آپ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ مہاراشٹر اور اسی طرح پورے ہندوستان میں لگ بھگ ہر جگہ گانگریس و گٹھ بندھن اندرون خانہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ ان کی آپسی رسہ کشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ تو اب اس کے ذمہ دار مولانا کیونکر ہوۓ ۔
اور رہی بات امتیاز جلیل صاحب کی ، تو ان کی ہار ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوئی نہ کہ مولانا کے اعلان کی وجہ سے ، 
آپ پورا سیناریو سمجھو اورنگ آباد سے مہا وکاس اگھاڑی کا ایک امیدوار نامزد کیا جاتا ہے لیکن وہ نومینیشن کے آخری دن یہ اپیل کرکے اپنا نام واپس لیتا ہے کہ بھلے ہی بی جے پی و مہا یوتی جیت جاۓ امتیاز جلیل نہیں جیتنا چاہے، اور اسی طرح دوسری جانب جان بوجھ کر ایسی بساط بچھائی جاتی ہیکہ کہہ پورے اورنگ آباد ایسٹ میں بحیثیت آزاد امیدوار 13 لوگوں کو کھڑا کیا جاتا ہے ، اب آپ سوچو بڑی سیدھی بات ہے جو امیدوار کھڑا ہوا اس کو اسکے گھر والوں کا ووٹ ملنا طے ہے اگر آپ ایک آدمی کا 100/200 ووٹ پکڑو تو بھی 2897 ووٹ گۓ ،اور امتیاز جلیل صاحب صرف لگ بھگ2161 ووٹوں سے ہارے ہیں , تو ازراہ کرم امتیاز جلیل صاحب کی ہار کا سہرا مولانا نعمانی صاحب کو پہنانا سراسر احمقانہ و بچکانہ پن ہے ، جلیل صاحب کی ہار ان کی اپنی غلطی سے ہوئی ، اگر موصوف کم از کم اپنے مقابل آزاد امیدواروں کو بھی اپنا نام واپس لینے کے لیے قائل کرلیتے تو بھی آج کا منظر نامہ کچھ اور ہوتا ۔ ہاں مولانا نعمانی صاحب نے عبد الغفار ( سماج وادی ) کی حمایت کی ہے اسمیں کوئی شک نہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عبد الغفار صاحب کا وجود اس لڑائی میں دیگر لوگوں کی بنسبت زیادہ تھا ۔ امتیاز جلیل صاحب کو چاہۓ تھا کہ وہ ان لوگوں کو بیٹھانے کی کوشش کرتے جن کے بارے میں پہلے دن سے یہ سمجھ میں ہی آرہا تھا کہ یہ سارے امیدوار نہیں بلکہ ایک سیاسی جال ہے جس میں امتیاز صاحب پھنس گۓ یہ معاملہ اور صاف اس وقت ہوا جب الیکشن کمیشن نے امتیاز جلیل صاحب کی جیت کا اعلان کیا پھر بی جے پی والے نے ری کاؤنٹنگ کی اپیل کی کیونکہ اس سے پتہ تھا کہ اس نے جو رائتہ پھیلایا ہے معاملہ اس کے برعکس ہو ہی نہیں سکتا چنانچہ ریکاؤنٹنگ ہوئی ، اور امتیاز جلیل صاحب ہار گئے😥
*آگے کا راستہ*
یہ وقت خود احتسابی کا ہے علماء اور دینی رہنماؤں کو اپنے شریعت اپنے دین اپنے ایمان اور امت مسلمہ کے کی تحفظات کے لیے اور شدت کے ساتھ سیاسی میدان میں انا چاہیے اور ایک بہترین لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ۔ یہ پہلی مرتبہ تھا اور اس کا رزلٹ بہتر رہا ،اگر ائندہ بھی اسی طرح مسلمانوں کے قائدین وہ امت کے اعلی رہنما اپنا سیاسی کردار ادا کریں گے تو انشاءاللہ العظیم منظر نامہ تبدیل ہونے میں کوئی شک نہیں۔
*نتیجہ*
حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب نے یہ جو پہل کی ہے یہ مسلمانوں کے لیے خوش ائند ہے اگر مسلمانوں نے اس طرح لائحہ عمل تیار کر لیا
تو انشاءاللہ العزیز مسلمانوں کے حقوق کی تحفظات کے لیے مسلمانوں کو محتاجگی کا احساس نہیں ہوگا۔ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ حضرت مولانا نعمانی دامت برکاتہم پر کہ حضرت والا اس پیرانہ سالی میں بھی اپنے جان مال اور تمام تنظیموں کو امت مسلمہ کو جگانے کے لیے داؤ پر لگا دیا۔ یہ بات کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں ہے کہ ، اب مولانا کے ساتھ کیا سلوک اختیار کیا جائے گا ای ڈی ، سی بی ائی ، انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ، جی ایس ٹی ڈیپارٹمنٹ ، اللہم حفظنا منہ ایسی کئی تنظیموں کو حضرت مولانا کے اداروں کے پیچھے لگا دیا جائے گا , اور مسلمانوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے گی ۔حضرت مولانا موصوف نےجس بہادری کا کام کیا ہے وہ ان مصلحت کا لبادہ اوڑھے ہوئے مولویوں کے منہ پر طمانچہ ہے ، جو مصلحت کے نام پر حضرت مولانا نعمانی صاحب اور دیگر مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ مسلمانوں کا کام سیاست کرنا نہیں ہے، ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ سیاست مسلمانوں کی وراثت ہے ، نبی کریم علیہم الصلوۃ والسلام نے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو سیاست کی ہے اس سے بہتر کوئی سیاست اس کائنات میں کرنے والا پیدا نہیں ہوا ۔ آپ اپنے لبادے کو اتاریں اور مصلحت کے نام پر امت مسلمہ کو ڈرانا بند کریں اب امت مسلمہ ڈرنے والی نہیں ہے حضرت مولانا نعمانی صاحب نے جو کام کیا ہے انشاءاللہ العزیز آنے والے وقت میں اس پر اور شدت سے عمل کیا جائے گا علماء سے اپیل ہے کہ اب وقت ہے علماء اپنا سیاسی کردار ادا کریں جس طرح وقت پڑنے پر ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے فضلا نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔
حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب نے ایک سیاسی حکمت عملی تیار کی تھی جس کے نتائج اعلی سے اعلی ترین ہو سکتے تھے اگر مہاوکاس اگھاڑی ، ونچت بہوجن سماج پارٹی میں آپسی انتشار نہ ہوتا ۔ مولانا نے بحیثیت انسان غلطی کی ہے ، ان لوگوں پہ بھروسہ کر کے جو اس بھروسے کے لائق نہیں تھے بہر حال انشاءاللہ العزیز ، ہم پر امید ہیں کہ حضرت والا اسی طرح اپنی سرپرستی فرماتے رہیں گے اور امت کے بہتر مستقبل کے لیے اپنے تجربات کی روشنی میں ایک منظم لا ئحہ عمل تیار کریں گے ۔
                      عاطر اقبال قاسمی 
aatirbastavi@gmail.com
Nov
Sunday,
10,

*اصل ... *اور* ... *اصول *



     امام ابن تیمیہ کے زمانے میں تاتاری فوجی شراب پی رہے تھے تو اس پر امام کے شاگردوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ انہیں منکر سے روکتے کیوں نہیں؟ اس موقع پر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ "انہیں ان کے حال میں مست رہنے دو" اگر میں انہیں روکوں گا تو وہ قتل و غارت گری کریں گے -حالانکہ اصول تو یہی ہے کہ منکر سے روکا جائے لیکن اس معاملے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اصول کی بجائے اصل پر استدلال کیا ہے - 
  
   عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جب کفار نے کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا تو وہ اسی حالت میں رسول اللہ صلعم کے پاس پہنچے اور اپنا ماجرا کہہ سنایا، اس پر رسول اللہ صلعم نے پوچھا، دل کا کیا حال ہے؟ کہنے لگے، ایمان پر مطمئن ہے - اس وقت رسول اللہ صلعم نےحضرت عمار رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے رخصت عطا کر دی کہ وہ اگر دوبارہ ایسا کریں تو پھر یہی کلمات دہرا دینا -

     قرآن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخصوص صورتحال کے پیش نظر حرام و حلال کے سلسلے میں بھی اصول کی بجائے اصل کا اعتبار کر کے رعایت دی ہے - 

     اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ مخصوص حالات میں اصول کی بجائے اصل کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے اندر لچک اور گنجائش کا پہلو رکھتا ہے - 

     اصول کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ "اصول سے کوئی سمجھوتہ نہیں" بلکہ بعض حالات میں اصول کی عظمت کو تسلیم کرنے کے باوجود عملی دشواریوں کے پیش نظر اصل سے ڈیل کرنا ہی وقت اور حالات کا تقاضا ہوتا ہے - 

     جماعت اسلامی کے نزدیک حکومت کے سلسلے میں "حاکمیت الہ" کا اصول اپنی جگہ مسلم ہے لیکن موجودہ سیاسی پس منظر میں اس کا اطلاق ابھی چونکہ ممکن نہیں ہے لہذا اصل کے اعتبار سے رائج سیاسی نظام کے تحت وہی لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اس وقت ہمارے لئے موزوں اور قابل عمل ہو سکتا ہے - 

     اقامت دین کے سفر میں میثاق مدینہ، صلح حدیبیہ، جیسے مراحل بھی آتے ہیں جنہیں عبور کرتے ہوئے آگے بڑھنا پڑتا ہے لہذا موجودہ سیاسی نظام کی بعض خرابیوں سے بچتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اسے مصلحتاً گوارا کرنا بلکہ اسے ممکنہ حد تک اپنے کاذ کے لئے استعمال کرنا ہی عملی رویہ ہے - 

     ویسے اس معاملے میں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ علمائے دیوبند اور دیگر مکاتب فکر کے نزدیک موجودہ جمہوری نظام میں ووٹ کی با ضابطہ شرعی حیثیت ہے اور وہ اسےقرآنی دلائل سے ثابت کرکے ایک گواہی، سفارش، وکالت، اور امانت کے طور پر پیش بھی کرتے ہیں نیز اس کے صحیح استعمال کو جائز اور نیکی قرار دیتے ہیں جبکہ اس کے غلط استعمال کو ناجائز اور بازپرس کا سبب مانتے ہیں - 

     اس وقت جو لوگ بھی انتخابات لڑ رہے ہیں ان کے بارے میں یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ وہ اہل امانت ہیں لیکن اگر ہم لوگ اس محاذ پر ڈٹے رہیں تو قوی امید ہے کہ اقدار پر مبنی سیاست کے لئے ڈسکورس کھڑا کر سکیں - 

     موجودہ انتخابات میں ہمارا اصل ہدف فسطائی طاقتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنا ہے - اور ظالم کو *بلیٹ* سے روکیں یا *بیلیٹ* سے بہرحال یہ نیکی ہے -
Nov
Saturday,
9,

یہ انبیائی مشن کے وارثین، مسجد اقصی کے متولی

یہ انبیائی مشن کے وارثین


 انہیں مٹایا نہیں جاسکتا ،یہ حوصلے سے نہیں جیتے بلکہ حوصلہ ان سے بھیک مانگتا ہے ،یہ امید کے پہاڑ نہیں بلکہ امید انکی پناہ میں ہے ،ہاں یہ وہ لوگ جنہیں عزم واستقلال جھک کر سلام کرتا ہے ، یہ صدق و وفا کے پیکر ہیں یہ ایمان و یقین کے نگہبان ہے دنیا نے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا انہوں نے *دنیا کو زندگی کا سبق دیا ،جینے کا ہنر دیا ، صبر واستقامت کا درس دیا ، ایمان و یقین کا پیغام دیا*
 
ایک طرف لاشیں ہیں ، تڑپتے زخمی ہیں ، آسمان سے بموں کی بارش ہے ، بارودی دھویں کی بدبو ہے ، اپنے بچھڑ گیے ،ماں باپ چلے گیے ،بھائ بہن نہیں رہے ، گھر نہیں ، کھانہ نہیں ، پانی نہیں، علاج نہیں ، ظالم نے اسپتال کو مسمار کردیا ،اسکولوں کو تباہ کردیا ،مدرسوں کو مٹادیا ، ملبے کے ڈھیر ہیں سنسان اور ویران آبادیاں ۔۔۔
*لیکن جو بچ گیے انکے اندر خوف نہیں ، ڈر نہیں ،مایوسی نہیں ، آہ بکا نہیں ، رونا دھونا نہیں ، شکوہ شکایت نہیں ، انکے سامنے ایک مشن ہے یہ وہی مشن ہے جو انبیاء کا مشن تھا ، انکے سامنے جینے کا ایک مقصد ہے*
 اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے سب کچھ قربان کرنا کوئی ان سے سیکھے ، یہ حرم ثالث کے متولی ہیں یہ ارض مقدس کے رکھوالے ہیں یہ مسجد اقصی کے مصلی ہیں ، نسلوں کو کیسے تیار کیا جاتا ہے کوئی ان سے سیکھے ،
سب کچھ ختم ہونے بعد بھی انہیں فکر ہے اپنی نسل کی تربیت کی اور بے سروسامانی میں مدرسہ قائم کرتے ہیں ان بچوں کی مسکراہٹ دیکھ کر کوئی کہ سکتا ہے کہ انکا سب کچھ چھین لیا گیا انکے گھر اجاڑ دیے گیے ہیں ؟ 
*جسموں کو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن فکر کو نہیں ،حوصلے اور ہمت کو نہیں جزبہ ایمانی کو نہیں ، ارض مقدس سے عشق ومحبت کو نہیں ہاں ہاں بالکل بھی نہیں* 
دشمن حیران ہے یہ کس مٹی کے لوگ ہیں کیا یہ اسی دنیا کے لوگ ہیں ؟  
*دشمن اپنی تمام تر طاقت و قوت کے ساتھ ہار گیا اور یہ تمام تر بے سروسامانی کے باوجود جیت گیے* 
وہ دن دور نہیں جب دشمن وہاں سے بھاگے گا انشاءاللہ 

*الا ان نصراللہ قریب* 

*یہ خان یونس کیمپ غزہ میں ایک نئے مدرسے کے افتتاح کی ویڈیو ہے جس میں تقریباًً 1200 بچے ہیں*  

عبد العلام ندوی 
جامعہ نگر دہلی

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © 2025 صراط مستقیم