Apr
Friday,
4,

اورنگ زیب عالمگیرؒ انصاف کی ترازو میں

اورنگ زیب عالمگیرؒ 
انصاف کی ترازو میں!

(قسط-1)

 اورنگ زیب ؒکے بارے میں جدوناتھ سرکار جیسے تنگ نظر ، متعصب، فرقہ پرست اور حقیقت بے زار مصنف کو بھی یہ کہنا پڑا کہ اورنگ زیب ؒکے اقتدار نے مغل حکومت کے ہلال کو بدر کامل بنا دیا ، اب اگر کوئی چاند پر تھوکنے کی کوشش کرے تو یہ تھوک اسی کی طرف واپس آئے گا ؛ اس لئے ایسی باتوں سے صَرف نظر کرجانا مناسب ہوتا ؛ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کی نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے ؛ بلکہ نئی تاریخ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ فرقہ پرست عناصر کو مسئلہ کی اصل حقیقت بتائی جائے اور سچائی کی روشنی پھیلائی جائے ۔
 ہندوستان پر جن مسلم خاندانوں نے حکومت کی ہے ، ان میں غالباً سب سے طویل عرصہ مغلوں کے حصہ میں آیا ہے ، جو ۱۵۲۶ء سے لے کر ۱۸۵۷ء یعنی تقریباً ساڑھے تین سو سال کے عرصہ پر محیط ہے ، اس دوران اگرچہ ہمیشہ پورے ملک پر مغلوں کو دورِ اقتدار حاصل نہیں رہا اوربہت سے علاقے ان کے قبضہ میں آتے اور جاتے رہے ؛ لیکن تقریباً اس پورے عرصہ میں وہ قوتِ اقتدار کی علامت بنے رہے ، اس خاندان کا چھٹا فرمانر وا اورنگ زیب عالمگیرؒ تھا ، عالمگیر ۱۶۱۸ء میں ممتاز محل کے بطن سے پیدا ہوئے اور ۱۷۰۷ء میں وفات پائی ، گویا پورے نوے سال کی طویل عمر پائی ، پھر اس کی خوش قسمتی ہے کہ ۱۶۵۷ء سے لے کر ۱۷۰۷ء تک یعنی تقریباً پچاس سال اس نے حکومت کی اور اس کے عہد میں ہندوستان کا رقبہ جتنا وسیع ہوا ، اتنا وسیع نہ اس سے پہلے ہوا اور نہ اس کے بعد ، یعنی موجودہ افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش کی آخری سرحدوں اورلداخ و تبت سے لے کر جنوب میں کیرالہ تک وسیع و عریض سلطنت کا قیام اسی بادشاہ کی دَین ہے ۔
 اس کی اخلاقی خوبیوں پر تمام مؤرخین یہاں تک کہ اس کے مخالفین بھی متفق ہیں کہ یہ تخت شاہی پر بیٹھنے والا ایک درویش تھا ، جو قرآن مجید کی کتابت اور ٹوپیوں کی سلائی سے اپنی ضروریات پوری کرتا تھا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی موت کے وقت وصیت کی کہ اس کی اسی آمدنی سے تجہیز و تکفین کی جائے ، ایسے زاہد ، درویش صفت ، قناعت پسند اور عیش و عشرت سے دُور بادشاہ کی نہ صرف ہندوستان بلکہ تاریخِ عالم میں کم مثالیں مل پائیں گی ، یہ تو اس کی ذاتی زندگی کے اوصاف ہیں ، اس کے علاوہ اورنگ زیبؒ نے اپنے عہد میں غیر معمولی اصلاحات بھی کیں ، ترقیاتی کام کئے ، نامنصفانہ احکام کو ختم کیا ، اور سرکاری خزانوں کو عوام پر خرچ کرنے اور رفاہی کاموں کو انجام دینے کی تدبیر کی ، اس سلسلہ میں چند نکات کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے :
 (۱) اب تک عوام پر بہت سارے ٹیکس لگائے جاتے تھے ، اور یہ صرف مغل حکمرانوں کا ہی طریقہ نہیں تھا ؛ بلکہ اس زمانہ میں جو راجے رجواڑے اور ان کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں تھیں ، وہ بھی اس طرح کے ٹیکس لیا کرتی تھیں ، شیواجی تو اپنے مقبوضہ علاقہ میں چوتھ یعنی پیداوار کا چوتھائی حصہ وصول کیا کرتے تھے ، اورنگ زیب عالمگیرؒ نے مال گذاری کے علاوہ جو ٹیکس لئے جاتے تھے ، جن کی تعداد اَسّی (۸۰) ذکر کی گئی ہے ، ان سب کو نامنصفانہ اور کسان مخالف قرار دیتے ہوئے ختم کردیا ؛ حالاںکہ اس کی آمدنی کروڑوں ہوتی تھیں ، یہ بات قابل غور ہے کہ عام طورپر اورنگ زیب ؒکو ہندو مخالف پیش کیا جاتا ہے ؛ لیکن اس نے متعدد ایسے ٹیکسوں کو معاف کردیا ، جن کا تعلق ہندوؤں سے تھا ، جیسے گنگا پوجا ٹیکس ، گنگااشنان ٹیکس اور گنگا میں مُردوں کو بہانے کا ٹیکس ۔
 (۲) اس نے مال گذاری کا قانون مرتب کیا اور اس کے نظم و نسق کو پختہ بنایا ، یہاں تک کہ شاہجہاں کے دور میں ڈھائی کروڑ پونڈ کے قریب سلطنت کی آمدنی تھی ، تو وہ عالمگیر کے دور میں چار کروڑ پونڈ کے قریب پہنچ گئی ۔
 (۳) حکومتوں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی عہدہ دار کا انتقال ہوجاتا تو اس کی ساری جائداد ضبط کرلی جاتی اور حکومت کے خزانہ میں داخل ہوجاتی ، آج بھی بعض مغربی ملکوں میں ایسا قانون موجود ہے کہ اگر کوئی شخص وصیت کے بغیر دنیا سے گزر جائے تو اس کا پورا ترکہ حکومت کی تحویل میں چلا جاتا ہے ، عالمگیر نے اس طریقہ کو ختم کیا ؛ تاکہ عہدہ دار کے وارثوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ۔
 (۴) اس نے اس بات کی کوشش کی کہ مظلوموں کے لئے انصاف کا حاصل کرنا آسان ہوجائے ، وہ روزانہ دو تین بار دربار عام کرتا تھا ، یہاں حاضری میں کسی کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں تھی ، ہر چھوٹا بڑا ، غریب و امیر ، مسلمان و غیر مسلم ، بے تکلف اپنی فریاد پیش کرسکتا تھا اور بلا تاخیر اس کو انصاف فراہم کیا جاتا تھا ، وہ اپنے خاندان کے لوگوں ، شہزادوں اور مقرب عہدہ داروں کے خلاف فیصلہ کرنے میں بھی کسی تکلف سے کام نہیں لیتا تھا ؛ لیکن اس کے علاوہ اس نے دور دراز کے لوگوں کے لئے ۱۰۸۲ھ میں ایک فرمان کے ذریعہ ہر ضلع میں سرکاری نمائندے مقرر کئے کہ اگر لوگوں کو باشاہ اور حکومت کے خلاف کوئی دعویٰ کرنا ہو تو وہ ان کے سامنے پیش کریں اور ان کی تحقیق کے بعد عوام کے حقوق ادا کردیں ۔
 (۵) عالمگیر کا ایک بڑا کار نامہ حکومت کی باخبری کے لئے واقعہ نگاری اور پرچہ نویسی کا نظام تھا ، جس کے ذریعہ ملک کے کونے کونے سے بادشاہ کے پاس اطلاعات آتی رہتی تھیں ، اور حکومت تمام حالات سے باخبر رہ کرمناسب قدم اُٹھاتی تھی ، اس نظام کے ذریعہ ملک کا تحفظ بھی ہوتا تھا ، عوام کوبروقت مدد بھی پہنچائی جاتی تھی ، اور عہدہ داروں کو ان کی غلطیوں پر سرزنش بھی کی جاتی تھی ، اس کا سب سے بڑا فائدہ رشوت ستانی کے سدباب کی شکل میں سامنے آیا ۔
 عام طورپر حکومت کے اعلیٰ عہدہ داروں کو رشوت ’گفٹ ‘ کے نام پر دی جاتی ہے ، یہ نام کرپشن کے لئے ایک پردہ کا کام کرتا تھا ، اُس زمانہ میں یہ رقم نذرانہ کے نام سے دی جاتی تھی ، جو بادشاہوں کو حکومت کے عہدہ داران اور اصحاب ِثروت کی جانب سے اور عہدہ داروں کو ان کے زیر اثر رعایا کی جانب سے ملا کرتی تھی ، اورنگ زیبؒ نے ہر طرح کے نذرانہ پر پابندی لگادی ، خاص کر نوروز کے جشن پر تمام امراء بادشاہ کی خدمت میں بڑے بڑے نذرانے پیش کرتے تھے ، اورنگ زیبؒ نے اپنی حکومت کے اکیسویں سال اس جشن ہی کو موقوف کردیا اور فرمان جاری کردیا کہ خود اس کو کسی قسم کا نذرانہ پیش نہ کیا جائے ۔
 (۶) عام طورپر جہاں بھی شخصی حکومتیں رہی ہیں ، وہاں عوام کو اطاعت و فرمانبرداری پر قائم رکھنے کے لئے بادشاہ کے بارے میں مبالغہ آمیز تصورات کا اسیر بنایا جاتا ہے ، اسی لئے تیمور لنگ کہا کرتا تھا کہ جیسے آسمان پر خدا ہے ، زمین میں وہی درجہ ایک بادشاہ کا ہے ، اسی لئے مغلوں کے یہاں بھی ہندوانہ طریقہ کے مطابق ایک طرح کی باشاہ پرستی مروج رہی ہے ، اکبر کے یہاں تو بادشاہ کا دیدار اور سجدہ کرنا ایک عبادت تھا اور ہر دن بے شمار لوگ یہ عبادت بجالاتے تھے ، جہانگیر نے سجدہ ختم کیا ؛ لیکن زمین بوسی باقی رہی ، عالمگیر نے جھروکا درشن بالکلیہ ختم کردیا ، جس میں لوگ صبح کو بطور عبادت بادشاہ کا دیدار کرتے تھے اور اس وقت تک کھاتے پیتے نہیں تھے ؛ البتہ اس بات کی اجازت تھی کہ اگر کوئی ضرورت مند آئے تو اس کی درخواست رسی میں باندھ کر اوپر بادشاہ کے پاس پہنچا دی جائے ۔
 (۷) عموماً حکمرانوں کی شاہ خرچی اور حکمرانوں کے چونچلے غریب عوام کی کمر توڑ دیتے ہیں ، اورنگ زیب عالمگیرؒ نے ایسے تکلفات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی ، جیساکہ گذرا ، شاہی نذرانوں کو بند کیا ، دربار شاہی میں بادشاہوں کی تعریف کرنے والے شعراء ہوا کرتے تھے اوران پر ایک ذمہ دار ہوا کرتا تھا ، جو ’ ملک الشعراء ‘ کہلاتا تھا ، اورنگ زیبؒ نے اس شعبہ کو ختم کردیا ، وہ اپنی شان میں کسی بڑائی اور مبالغہ آمیز شاعری کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے ، بادشاہ کا دل بہلانے کے لئے دربار شاہی میں گانے بجانے کا خصوصی انتظام ہوتا تھا ، قوال اور رقاصائیں گاکر اور ناچ کر بادشاہ کا دل خوش کرتی تھیں اور ان پر بڑی بڑی رقمیں خرچ کی جاتی تھیں ، عالمگیر نے اس سلسلہ کو بھی موقوف کردیا ، بادشاہ کے لکھنے کے لئے سونے اور چاندی کی دواتیں رکھی جاتی تھیں ، عالمگیر نے اس کے بجائے چینی کی دواتیں رکھنے کی تلقین کی ، انعام کی رقمیں چاندی کے بڑے طشت میں لائی جاتی تھی ، اس طشت کی رسم کو بھی اورنگ زیبؒ نے موقوف کردیا ، عام طورپر بادشاہوں کی جیب خرچ کے لئے کروڑوں روپے کی آمدنی مخصوص کردی جاتی تھی ، آج بھی جمہوری ملکوں میں سربراہ حکومت کے لئے رہائش ، سفر اور ضروریات وغیرہ پر جو رقمیں صرف کی جاتی ہیں اور رہائش کے لئے جو وسیع مکان اور اعلیٰ درجہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، وہ گذشتہ بادشاہوں کی شاہ خرچی کو بھی شرمندہ کرتی ہیں ؛ لیکن اورنگ زیب نے اپنے لئے نہ کوئی عظیم الشان محل تعمیر کرایا ، نہ اپنی تفریح کے لئے کوئی باغ بنوایا ، اور اپنے مصارف کے لئے بھی محض چند گاؤں کو اپنی حصہ میں رکھا اور بقیہ سارے مصارف کو حکومت کے خزانہ میں شامل کردیا ۔
 (۸) اس نے تعلیم کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ، ہر شہر اور ہر قصبہ میں اساتذہ مقرر ہوئے ، نہ صرف اساتذہ کے لئے وظائف مقرر کئے گئے اور جاگیریں دی گئیں ؛ بلکہ طلبہ کے اخراجات اور مدد معاش کے لئے بھی حکومت کی طرف سے سہولتیں فراہم کی گئیں ، کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیبؒ کے زیادہ تر فرامین تعلیم ہی سے متعلق ہیں ، جن کو ان کے بعض تذکرہ نگاروں نے نقل بھی کیا ہے ۔
 (۹) اس زمانہ میں صنعت و حرفت کو آج کی طرح ترقی نہیں ہوئی تھی اور معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ زراعت تھی ، اورنگ زیبؒ نے زرعی ترقی پر خصوصی توجہ دی ، کسانوں کی حوصلہ افزائی کی ، جن کسانوں کے پاس کاشتکاری کے لئے پیسہ نہیں ہوتا ، ان کو سرکاری خزانوں سے پیسہ فراہم کئے جاتے ، حسب ِضرورت کسانوں سے مال گذاری معاف کی گئی ، جو زمینیں اُفتادہ تھیں اور ان میں کاشت نہیں کی جاتی تھی ، ان کو ایسے کسانوں کے حوالہ کیا گیا ، جو ان کو آباد کرنے کے لئے آمادہ تھے ، اپنے عہدہ داروں کو ہدایت کی کہ کسانوں کو اتنا ہی لگان لگایا جائے ، جتنا وہ بآسانی ادا کرسکیں اور بخوشی ادا کرسکیں ، اگر وہ نقد کے بجائے جنس دینا چاہیں تو قبول کرلیا جائے ، انھوںنے کسانوں کے لئے کنواں کھودوانے ، قدیم کنوؤں کو درست کرانے اور آبِ پاشی کے وسائل کو بہتر بنانے کو حکومت کی ایک ذمہ داری قرار دیا ، انھوںنے زمین کے سروے کرنے پر خصوصی توجہ کی ؛ تاکہ معلوم ہوا کہ کونسی اراضی اُفتادہ ہیں اور اُن کو قابل کاشت بنانے کی کیا صورت ہے ، انھوںنے اپنے فرمان میں لکھا ہے :
بادشاہ کی سب سے بڑی خواہش اور آرزو یہ ہے کہ زراعت ترقی کرے ، اس ملک کی رزعی پیداوار بڑھے ، کاشتکار خوشحال ہوں اور عام رعایا کو فراغت نصیب ہو ، جو خدا کی طرف سے امانت کے طورپر ایک بادشاہ کو سونپی گئی ہے ۔
 زرعی پیداوار کی طرف اسی توجہ کا نتیجہ تھا کہ عالمگیرؒ کے دور میں فتح ہونے والے بہت سے علاقے ایسے تھے ، جہاں کے اخراجات وہاں کی آمدنی سے زیادہ تھے ؛ لیکن پھر بھی کہیں غذائی اشیاء کی قلت محسوس نہیں کی گئی ، اگر یہ صورتِ حال نہیں ہوتی تو اتنے طویل و عریض رقبہ پر پچاس سال تک اورنگ زیب حکومت نہیں کرپاتے اور عوام کی بغاوت کے نتیجہ میں مملکت پارہ پارہ ہوجاتی ۔
 (۱۰) اورنگ زیبؒ کا ایک بڑا کارنامہ سماجی اصلاح بھی ہے ، اس نے بھنگ کی کاشت پر بابندی لگائی ، شراب و جوئے کی ممانعت کردی ، قحبہ گری کو روکا اور فاحشہ عورتوں کو شادی کرنے پر مجبور کیا ، لونڈی ، غلام بناکر رکھنے ، یا خواجہ سرا رکھنے پر پابندی لگائی ۔
 (۱۱) ہندو سماج میں عرصۂ دراز سے ستی کا طریقہ مروج تھا ، جس کے تحت شوہر کے مرنے کے بعد بیوی شوہر کی چتا کے ساتھ نذر آتش کردی جاتی تھی ، ہندو سماج میں اسے مذہبی عمل سمجھا جاتا تھا ، مغلوں نے ہمیشہ اس کا خیال رکھا ، غیر مسلموں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ، اس لئے اورنگ زیبؒ نے قانونی طورپر اس کو بالکلیہ تو منع نہ کیا ؛ لیکن اصلاح اور ذہن سازی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے عہدہ داروں کو ہدایت دی کہ وہ عورتوں کو اس رسم سے باز رکھنے کی کوشش کریں اور اپنی خواتین کے ذریعہ بھی ان کو اس کی دعوت دیں ، نیز پابندی عائد کردی کہ علاقہ کے صوبہ دار کی اجازت کے بغیر ستی نہ کی جائے ؛ تاکہ کسی عورت کو اس عمل پر اس کے میکہ یا سسرال والے ، یا سوسائٹی کے دوسرے لوگ مجبور نہ کرسکیں ، اس طرح عملاً ستی کا رواج تقریباً ختم ہوگیا ۔ (جاری)


٭٭٭
Mar
Tuesday,
25,

ہندستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورت حال اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی پیشین گوئیاں

"گاہے گاہے باز خواں"
(ہندستان میں مسلمانوں کی 
موجودہ صورت حال اور حضرت 
تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی پیشین گوئیاں)
ملک کی ٓازادی میں علمائے کرام اور صوفیائے عظام کا جو کردار رہا ہے وہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے۔آرایس ایس اور کٹر ہندو تنظیمیں لاکھ تاریخی حقائق کو چھپانے کی کوشش کریں لیکن حق کے متلاشی کو اصل حقیقت تک رسائی ہو ہی جاتی ہے۔ملک کی آزادی کے آخری دور کی جدوجہد میں علمائے دیوبند کا نام سر فہرست ہے۔ان علماءمیں قائد کی حیثیت سے شیخ الھند مولانا محمودالحسن دیوبندی ؒ ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ اورمولانا عبید اللہ سندھیؒ کا نام آتا ہے۔ان کی قیادت میں علماءو طلبائے دیوبند آزادی ہند کی تحریک چلا رہے تھے ۔ہندوستان کو آزادی تو مل گئی لیکن تقسیم کے ساتھ۔ یعنی پاکستان کے نام سے ایک علاحدہ ملک بھی وجود میں آگیا۔ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کی قیادت کی ذمہ داری ان ہی علماءکی رہی جنہوں نے بٹوارے کی مخالفت کی تھی۔ چنانچہ ہمیں صرف تصویر کا ایک رخ دکھایا گیا یعنی ہمیں صرف یہ بتایا کہ علمائے دیوبند ملک کے بٹوارے کے مخالف تھے۔ مسلمانوں کے لئے علاحدہ مملکت کا مطالبہ دیندار طبقے کی طرف سے نہیں کیا گیاتھا بلکہ یہ مطالبہ محمد علی جناح کا تھا جو ایک سیکولر آدمی تھے اور مذہب کا نام صرف اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے لیا کرتے تھے۔علماءنے جناح کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔ افسوس صد افسوس کہ ہندستان کے مسلمانوں کو صرف آدھا سچ بتایا اور باقی آدھا سچ کسی سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ جید علما دیوبند کا ایک بہت بڑا طبقہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں کانگریس سے بدظن تھا. کانگریس کو مسلمانوں کے لئے زہر ہلاہل سمجھتا تھا کیونکہ اس میں مسلمانوں کے کٹر دشمن ہندوﺅں کا غلبہ تھا لیکن معلوم نہیں کہ کیوں اس تاریخی حقیقت کو ہندستانی مسلمانوں سے چھپایا گیا؟
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمیعة علماء ہند کو بار بار متنبہ کیا کہ: ہندوﺅں پر بھروسہ کرنا غیردانشمندی ہے۔انگریزوں سے زیادہ ہندو مسلمانوں کے دشمن ہیں. برسراقتدار ہونے کے باوجود انگریز مسلمانوں کے ساتھ کچھ ناکچھ رعایت کا معاملہ کرتے ہیں لیکن اگر یہ ہندو برسراقتدار آگئے تو وہ مسلمانوں کو جڑ سمیت اکھاڑ پھینکیں گے.
خلافت کا معاملہ مسلمانوں کا ایک شرعی مسئلہ ہے لیکن تحریک خلافت کے دوران جو طریقہ کار اختیار کئے گئے نیز تحریک کو گاندھی کے ذریعے اچک لئے جانے کے سبب حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس تحریک سے علاحدگی اختیار کرلی تھی۔ چناں چہ ایک مجلس میں فرمایا کہ تدابیر کو کون منع کرتا ہے تدابیر کریں مگرحدود شرعیہ میں رہ کرچونکہ مسلمانوں نے تدابیر غیر شرعیہ کو اپنی کامیابی کا زینہ بنایا ہے تو اس صورت میں اول تو کامیابی مشکل ہے اگر ہو بھی گئی تو ہندوﺅں کو ہوگی اور اگر مسلمانوں کو ہوئی توہندو نما مسلمانوں کو ہوگی.
(الافادات یومیہ جلد ششم صفحہ 278) 
 تحریک خلافت کے دوران ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط بنانے کی غرض سے مسلمان بہت سی غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے ماتھے پہ قشقے لگائے اور جئے کے کفریہ نعرے بلند کئے۔ ہندوﺅں کی ارتھی کو کندھے دیئے۔ مساجد میں کافروں کو بٹھاکر منبر رسول ﷺ کی بے حرمتی کی۔ رام لیلا کا انتظام کیا. ایک عالم دین نے انکشاف کیا کہ اگر ختم نبوت نہ ہوتی گاندھی مستحق نبوت تھا
 یہ تمام قابل اعتراض امور مولانا کو سخت ناپسند اور ناگوار گزرے. اس لئے آپ کے ملفوظات میں بار بار ان باتوں کی مذمت ملے گی.
(الافادات یومیہ جلد ششم صفحہ109)
مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اعتراض یہ تھا کہ مسلمان لیڈروں نے گاندھی کے اقوال کو حجت بنا لیا ہے۔ وہ لیڈر اس بات کے منتظر رہتے تھے کہ جوں ہی *گاندھی کے منھ سے کوئی بات نکلے اس کو فوراً قرآن و حدیث پر منطبق کردیا جائے.
 فرماتے ہیں:
 اس تحریک میں کوئی چیز بھی تو ایسی نہیں جو کسی مسلمان یا عالم کی تجویز ہو، دیکھئے ہوم رول گاندھی کی تجویز ،بائیکاٹ گاندھی کی تجویز ،کھدر گاندھی کی تجویز، ہجرت کا مسئلہ گاندھی کی تجویز غرض کہ جملہ تجویزیں اس کی ہیں‘ ان کا کام صرف یہ ہے کہ اس نے جو کہا لبیک کہہ کر اس کے ساتھ ہوگئے‘ کچھ تو غیرت آنی چاہئے۔ ایسے بدفہموں نے اسلام کو سخت بدنام کیا ہے۔ سخت صدمہ ہے ‘سخت افسوس ہے‘ اس کی باتوں کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
(الافادات یومیہ جلد اول صفحہ 89-90)
اس سلسلے میں آپ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ سہارن پور میں ایک وعظ ہوا ۔ایک مقرر نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر سوراج مل گیا تو ہندو اذان نہ ہونے دیں گے تو کیا بلا اذان نماز نہیں ہوسکتی۔ کہتے ہیں گائے کی قربانی بند کر دیں گے تو کیا بکرے کی قربانی نہیں ہوسکتی‘ کیا گائے کی قربانی واجب ہے۔
 یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرزفکر پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے فرمایاکہ:
اس مقرر کے بیان میں ایک بات باقی رہ گئی، اگر وہ یہ بھی کہہ دیتا تو جھگڑا ہی باقی نہ رہتا کہ اگر ہندوﺅں نے اسلام اور ایمان پر زندہ رہنے نہ دیا تو کیا بغیر اسلام اور ایمان کے زندہ نہ رہیں گے.
یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے دوست نما دشمن ہیں. (الافادات یومیہ جلد چہارم صفحہ 86)
ہندو مسلم اتحاد کے جوش میں کچھ مسلمانوں نے مشہور متعصب ہندو لیڈر سردھانند (جس نے آگے چل کر مسلمانوں کے خلاف شدھی کی تحریک چلائی) کو جامع مسجد دہلی میں لے جا کر اس کا وعظ کروایا.
مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو اس واقعہ پر سخت صدمہ پہنچا اور آپ نے مسلمانوں کو شرم دلائی کہ وہ یہ حرکت کر کے منبر رسول ﷺ کی بے ادبی کے مرتکب ہوئے ہیں.
 ۔تحریک خلافت کے دوران ہندوﺅں کی دیکھا دیکھی مسلمان بھی اپنے لیڈروں کی جئے بولا کرتے تھے۔
مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک لفظ جئے چوں کہ شعار کفر ہے اس لئے مسلمانوں کا یہ فعل بھی شرعی نقطہ نظر سے قابل اعتراض تھا۔
(الافادات یومیہ جلد چہارم صفحہ 611 )
جو لوگ آپ کی تحریک خلافت میں عد م شمولیت پر اعتراض کرتے تھے آپ انہیں جواب دیتے کہ *اگر تمہاری موافقت کی جائے تو ایمان جائے ہے اس میں حدود شریعت کا تحفظ نہیں.
( الافادات یومیہ جلد چہارم صفحہ 65)
مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ہندو مسلمانوں کے اول درجہ دشمن تھے۔ آپ کے ملفوظات میں جہاں کہیں ہندوﺅں کا ذکر آیا ہے آپ نے ان کے لئے سخت ترین الفاظ استعمال کئے ہیں. مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو اس بات پر ہندوﺅں سے سخت گلہ شکوہ تھا کہ انہوں نے 1857 کی جنگ آزادی مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ لڑی اور وہ بھی اس میں برابر کے شریک تھے مگر جنگ آزادی کے خاتمے پر وہ نہ صرف انگریزوں سے مل گئے بلکہ انہوں نے مسلمانوں کی مخبری کرکے انہیں پھانسی پر چڑھوادیا. 
۔اسی سلسلے میں فرمایا کہ:
”یہ قوم (ہندو) نہایت احسان فراموش ہے. مسلمانوں کو تو اس سے سبق سیکھنا چاہئے کہ انگریزوں کی خدمت کے صلے میں جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک کیا وہ ظاہر ہے. دیکھو غدر سب کے مشورے سے شروع ہوا جو کچھ بھی ہوا مگر اس پر مسلمانوں کو تباہ و برباد کردیا. بڑے بڑے رئیس و نواب ان کی (ہندو) بدولت تختہ پر سوار ہوگئے پھر تحریک کانگریس میں مسلمان شامل ہوئے بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ اس کا صلہ شدھی کے مسئلے سے ادا ہوا۔ آئے دن کے واقعات اسی کے شاہد ہیں کہ ہر جگہ مسلمانوں کی جہاں آبادی مسلمانوں کی قلیل دیکھی پریشان کر دیا مگر ان باتوں کے ہوتے ہوئے بھی بعض بدفہم اور بے سمجھ ان کو دوست سمجھ کر ان کی بغلوں میں گھستے ہیں۔)
الا فاضات یومیہ جلد چہارم صفحہ (529)

اور ایک مجلس میں ہندوﺅں کے اس طرزعمل کے متعلق فرمایا کہ ہندوﺅں کی قوم عالی حوصلہ نہیں ان کے وعدے وعید کا اعتبار نہیں. انگریزوں سے اگر دشمنی کی بنا یہ ہے کہ اسلام کے دشمن ہیں تو ہندو ان سے زیادہ مسلمانوں اور اسلام کے دشمن ہیں.
(الافاضات یومیہ جلد چہارم صفحہ (493-494)

مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سگرچہ انگریزوں کو مسلمانوں کا دشمن قرار دیتے تھے لیکن ہندوﺅں کے مسلم کش رویے کو دیکھتے ہوئے آپ اس قطعی نتیجے پر پہنچے تھے کہ ہندو انگریزوں سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں.
۔ایک مرتبہ فرمایا کہ:
گورے سانپ سے زیادہ زہریلا کالا سانپ ہوتا ہے۔ اس لئے اگر گورے سانپ کو گھر سے نکال دیاجائے تو کالا تو ڈسنے کو موجود ہے اور جس کا ڈسا ہوا زندہ رہنا ہی مشکل ہے.
 الافاضات یومیہ جلد ششم صفحہ (197)

مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہندوﺅں کے اس وجہ سے مخالف تھے کہ انہوں نے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا تھا۔ ایک مجلس میں فرمایا کہ 
بعض کفار پر تو مجھے بہت ہی غیض ہے۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ ہجرت کا سبق سکھایا۔ شدھی کا مسئلہ اٹھایا. مسلمانوں کو عرب جانے کی آواز اٹھائی. قربانی گاﺅ پر انہوں نے اشتعال دیا. یہ لوگ مسلمانوں کے جانی دشمن ہیں بلکہ ایمان ‘ جان و مال مسلمانوں کی سب چیزوں کے دشمن ہیں۔
(الافاضات یومیہ جلد پنجم صفحہ 150)

۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ:
جب تک ہم کلمہ پڑھتے ہیں تمام غیرمسلم ہمارے دشمن ہیں۔ اس میں گورے کالے کی قید نہیں 
 ۔مولانا اس امر پر حیرت کا اظہار فرماتے کہ
ہندستان میں دو کافر قومیں موجود ہیں پھر کیا بات کہ ایک ہی قوم سے اس قدر دشمنی دوسرے قوم سے کیوں نہیں؟ (الافاضات یومیہ جلد پنجم صفحہ 177)

ایک اور مجلس میں فرمایا:
بعض لوگ کفار کی ایک جماعت کو برا کہتے ہیں اور بعض دوسری کو‘ میں کہتا ہوں دونوں برے ہیں‘ فرق صرف یہ ہے کہ ایک نجاست مرئیہ ہے اور دوسری غیرمرئیہ لیکن ہیں دونوں نجاست. ( ایضاً صفحہ 256)

مولانا کے نزدیک اہل کتاب کی دشمنی اور مشرکین کی دشمنی کے درمیان ایک فرق موجود تھا ۔آپ کے خیال میں اہل کتاب دین کے دشمن نہیں دنیا کے دشمن ہیں گو اس کے ضمن میں وہ دین کی دشمنی بھی کرجاتے ہیں- اس کے مقابلے میں مشرکین دین کے دشمن ہیں. اس کا معیار یہ ہے کہ جس قدر قوت اور سطوت اہل کتاب کو حاصل ہے ‘اگر مشرکین کو حاصل ہوجائے تو ہندوستان میں مسلمانوں کا بیج تک نہ چھوڑیں۔ (الافاضات یومیہ جلد چہارم صفحہ 83)

 ایک اور موقع پہ فرمایا کہ: 
اگر ہندوﺅں کو انگریزوں کی طرح قوت حاصل ہوتی تو ہندوستان میں ایک بچہ بھی زندہ نہ چھوڑتے۔ 
(الافاضات یومیہ جلد سوم صفحہ 71)
ہندوﺅں کی مسلم دشمنی کو مدنظر مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نتیجے پر پہنچے تھے کہ قیامت آجائے ہندو کبھی مسلمانوں کے خیرخواہ اور ہمدرد نہیں ہوسکتے۔ (الافاضات یومیہ جلد چہارم صفحہ 638)
( #ایس_اے_ساگر )
Jan
Sunday,
12,

بریلوی مسلک بھائیوں سے تین سوالات

*میرے استاذ محترم مفتی یوسف صاحب تاولی حفظہ اللہ نے دوران درس ایک واقعہ سنایا بغور پڑھیں* 
ایک مرتبہ میرا صابر کلیریؒ کے مزار پر جانا ہوا وہاں متولی حضرات کو جب پتہ چلا دیوبند سے ایک بہت بڑے مفتی صاحب آئے ہوئے ہیں تو انہوں نے میرا پر جوش استقبال کیا، حضرت کی قبر پر گیا ایصال ثواب کر کے جب واپس ہونے لگا تو متولی صاحب نے بڑی عاجزی و انکساری اور احترام کے ساتھ درخواست کی حضرت برکتًا ہمارے دسترخوان پر تشریف لے آئیں، میں نے بخوشی قبول کیا، 
حضرت نے آگے فرمایا جب میں آنے لگا تو میں نے ان متولی صاحب سے تین سوال کئے، 
سوال نمبر: ۱۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی نازل ہوتی تھی؟    
ان صاحب نے جواب دیا جی بالکل اور جنکا یہ عقیدہ نہ ہو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ 
سوال نمبر: ۲۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج کی؟ 
ان صاحب نے پھر وہی جواب دیا، 
سوال نمبر: ۳۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کل قیامت کے دن اپنے امتیوں کے لئے سفارش کرینگے؟ 
ان صاحب نے بڑی تاکید کے ساتھ وہی جواب دیا، 

آگے حضرت فرماتے ہیں  میں نے ان سے کہا آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو عالم الغیب ہیں پھر وحی کی کیا ضرورت تھی؟،
آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو حاضر و ناظر ہیں پھر معراج کی کیا ضرورت تھی؟، 
آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو خود مختار ہیں تو پھر سفارش کی کیا ضرورت ہے؟، 
حضرت نے فرمایا وہ شخص ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پایا۔ 
یہ تین عقائد ایسے ہیں جن میں بریلوی حضرات نے بہت ہی زیادہ افراط سے کام لیا ہے،
اور ہمارے بزرگوں نے ان کے غلط عقائد کو چٹکیوں میں تار تار کر دیا۔

🖋️✏️
Jan
Thursday,
2,

اقبال بیت بازیقسط نمبر

اقبال بیت بازی
قسط نمبر 1

(الف) 

آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا


آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیں. 

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

آئین جواں مرداں حق گوئی وبیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی 

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں 
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر 

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شائد کہ ترے دل میں اتر جاے مری بات


الفاظ ومعانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

اس سے بڑھ کر اور کیا فکر ونظر کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں

اے شیخ بہت اچھی مکتب کی فضا لیکن
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی

امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہوتو لاحاصل
نہ زور حیدری تجھ میں، نہ استغناے سلمانی

اسی روزو شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

ان تازہ خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
Dec
Sunday,
29,

*قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلاء

قلتِ تنخواہ کا قہر اور مدارس سے بدکتے فضلاء

*ایک شاگرد سے ملاقات*

گزشتہ دنوں ممبئی میں اپنے ایک شاگرد سے ملاقات ہوئی، یہ مولوی فرقان تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور مرکزالمعارف ممبئی سے سند یافتہ- یہ دارالعلوم عزیزیہ میرا روڈ میں میرے پاس متعدد کتابیں پڑھ چکے تھے، میں کبھی کبھی "گلزارِ دبستاں "کا جملہ "ملاّ فرقان خود را خراب کرد "ان پر چسپاں کرتا، تو مسکراتے اور مزہ لیتے- سکڑا ہوا چہرہ، چھوارے سا بدن، داڑھی کے عنوان سے چند بال ٹھوڑی سے لٹکے ہوے- پہلے کی طرح اب بھی چھوئی موئی ہی تھے، مجھے دیکھ کر کھل اٹھے، آؤ بھگت اور سلام و نیاز- ایک عرصے کے بعد انہیں دیکھا تو میری خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا، علیک سلیک کے بعد حال احوال کا تبادلہ ہوا تو پتہ چلا کہ ممبئی کی کسی ایمبیسی میں مترجم کا کام کر رہے ہیں- میں نے تنخواہ معلوم کی تو انہوں نے بتایا: تیس ہزار روپے - مجھے بڑی مسرت ہوئی، اکہرے جسم اور بے گوشت چہرے کے باوجود اطمینان کی چمک ان کی پیشانی پر نمایاں تھی- میں نے پوچھا کہ بیٹے! تم تو اچھی صلاحیت کے مالک تھے، کتب فہمی تمہاری مثالی تھی، حاضر باشی میں بھی اساتذہ میں تمہارے چرچے تھے، اتنی اچھی استعداد اور خدمت ایمبیسی میں؟

*وحشت ہے مجھے قلتِ تنخواہ سے یارو!*

کہنے لگا: مدارسِ اسلامیہ میں ہمارے لیے گنجائش ہی کہاں ہیں؟ خدمات زیادہ، مگر تنخواہ اس قدر کم کہ ہم جیسے غریبوں کا گزر بسر ہی ممکن نہیں- مجھے سمجھ سے پرے ہے کہ مدارس والے تنخواہیں کیوں نہیں بڑھاتے؟ ابھی تک وہی فرسودہ فکر اور وہی پٹا پٹایا نظام - اب تو ہر چیز بدل گئی، مدارس کا زاویۂ فکر بھی تبدیل ہونا چاہیے-

*مساجد بھی مدارس کے شانہ بشانہ*

اربابِ مدارس کی دیکھا دیکھی مساجد نے بھی اپنا قبلہ اب تک درست نہیں کیا، وہی پرانی روش اور وہی کج ادائیاں- تنخواہیں بے حد قلیل، ائمہ کا اکرام ندارد- آزار، جھڑکیاں اور قید و بند ان کا مقدر- مسجدیں بڑی خوب صورت، تاج محل کو ٹکر دیتی ہوئی، حسن و دل کشی میں لازوال، مگر ائمہ کی یافت وہی مختصر، اونٹ کے منہ میں زیرے جیسی- بے چارے ائمہ اپنی علمیت بھی ضائع کریں، تقریریں بھی ٹرسٹیوں کے مطابق ہوں، زندانی کیفیت میں شب وروز بھی گزاریں، معاشی بہتری کے لیے دوسری راہیں بھی مسدود، بایں ہمہ تنخواہ کا وہ معیار کہ:

آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

کی مصداق- بھلا بتائیے، ایسے میں امامت کی ہمت کون کرے اور جرأتِ رندانہ کہاں سے لاے؟ 

*مدارس مجاھدہ گاہ ہیں، معیشت گاہ نہیں*

میں اپنے عزیز کی اس تقریر پر دنگ تھا، میں نے کہا: بیٹے! تم تو جانتے ہی ہو کہ دنیا کو مؤمن کا "قیدخانہ "کہا گیا ہے، بعض احادیث میں اس پر "مسافر خانے "کا بھی اطلاق ہوا ہے، قید خانہ ہو یا مسافر خانہ، دل لگانے کی جگہ نہ یہ ہے، نہ وہ- امتِ مسلمہ "امتِ مجاھدہ "بھی ہے، مدارسِ اسلامیہ اور مساجد اساتذہ اور ائمہ کو یہی مجاھدے سکھاتے ہیں، قلیل تنخواہوں کے پیچھے ان کا یہی نقطۂ نظر کار فرما ہے، عہدِ نبوی سے لے کر قریب کے ماضئ مرحوم تک کے اکابر محض اشاعتِ اسلام کے لیے دینی اداروں سے وابستہ رہے، دنیا ان کے پیچھے ناک رگڑتی ہوئی آئی، مگر انہوں نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، لہذا قلتِ تنخواہ کا عذر "عذرِ لنگ "سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا-

*مجاھدے کی نوعیتیں بدل گئیں تو تنخواہوں کی نوعیتیں تبدیل کیوں نہ ہوں؟*

کہنے لگا: اب تو سب کچھ بدل چکا، ماضی کی زمین اور کل کا آسمان اپنا وجود کھو بیٹھا ہے، تبدیلی کی لہر نے جن جہانوں کو زیر و زبر کیا ہے، مدارس بھی اس سے اچھوتے نہیں رہے، مثلاً دیکھیے! پچھے ادوار میں طلبہ کی پٹائی کا بڑا ماحول تھا، اساتذہ ہر وقت عصا بدست اور "کف در فضا " رہتے، تنبیہ کے لیے دست و عصا کا استعمال ایک عام سی بات تھی، والدین کا ذہن بھی یہی تھا کہ تہدید و ضربت طلبہ کی استعداد کو جگاتی اور فنکاری کو ابھارتی ہے، اسی لیے داخلے کے وقت بچوں کے ذمے دار کہتے کہ ہڈی ہماری ہے اور کھال آپ کی- لیکن اب مار دھاڑ بالکل بند ہے، طلبہ جسمانی آزار سے مکمل محفوظ ہیں، اساتذہ کو سخت تاکید ہے کہ حرب و ضرب نہیں چلے گی، گوشِ شنوا نہ رکھنے والے مدرّسین کو فوراً سے پیش تر "باب الخروج "تک دکھا دیا جاتا ہے- دوسری مثال بھی لے لیجیے! پچھلے زمانے میں طلبہ کی صلاحیت سازی کے لیے مختلف علوم و فنون کی اہم کتابیں پڑھائی جاتی تھیں، اب وہ کتابیں "طاقِ نسیاں "کی یادگار بن چکی ہیں، ان کتابوں کے اخراج کی وجہ یہی بیان کی گئی کہ طلبہ کی برق طبعی پہلے جیسی نہیں رہی، یہ کمزور ہو گئے ہیں، اساتذہ بھی عدمِ مہارت کے سبب ان کتابوں کی تدریس کی اہلیت کھو بیٹھے - آج صدرا اور شمس بازغہ کا نام کتنوں کو معلوم ہے؟ اگر معلوم بھی ہو تو ان کی فنی وابستگی کون بتا سکتا ہے؟ جب اتنی تبدیلیاں نصابِ تعلیم وغیرہ میں واقع ہو گئیں اور اساتذہ و طلبہ کو مجاھدے سے بچا لیا گیا تو تنخواہ بے چاری نے کیا قصور کیا ہے کہ یہ "بَونی " بڑھتی ہی نہیں، اس کا نصاب آسانیاں پیدا کرنے سے آج بھی قاصر ہے، اب بھی چار ہزار، پانچ ہزار اور چھ ہزار روپے کو "معقول تنخواہ "نام زد کیا جا رہا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟

*جدید باصلاحیت فضلا اسی لیے بھاگ رہے ہیں*

سلسلۂ کلام میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنخواہ کے تئیں مدارس اور مساجد کے قدامت پسندانہ رجحان نے نوجوان فضلا کو پریشان کر رکھا ہے، کم زور اور متوسط استعداد کے حاملین نانِ شعیر پر ہی قناعت کر لیتے ہیں، کیوں کہ ان کا دائرۂ فکر و عمل آگے بڑھنے نہیں دیتا، وہ اپنی بے مائیگی، گھریلو پریشانی، تنگ دست پس منظر اور ناگفتہ بہ افلاس کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، ان کے پاس قناعت پسندی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا، جب کہ باصلاحیت فضلا ان مقامات کی خدمت سے گریزاں رہتے ہیں اور کثیرالمشاہرہ ادارے کی طرف رجوع ان کا ہدف ہوتا ہے- باتوں کا سلسلہ یہیں تک چلا تھا کہ ہمارے راستے جدا ہوگئے، سلامِ وداع کے بعد وہ اپنی منزل کی جانب، میں اپنے مستقر کی طرف-

*فضلاے مدارس حکومتی اداروں کی پناہ میں*

 اپنی منزل کی طرف میں جوں جوں بڑھ رہا تھا، عزیز مکرم کے خیالات ذہن میں گردش کر رہے تھے، دیر تک میں اسی سوچ میں غرق رہا کہ ممتاز صلاحیتیں اگر اسی طرح مدارس اور مساجد سے بھاگتی رہیں اور امت کی قیادت مفقودالاستعداد علما کے حصے میں آنے لگی تو اس قوم کا کیا ہوگا؟

دیکھا یہ گیا ہے کہ ممتاز ترین فضلاے ندوہ بالعموم خلیجی ممالک میں سرکاری محمکوں کے کلرک ہوتے ہیں، ان کی یافت زوردار اور مرفہ الحالی اپنے جوبن پر ہوتی ہے، اقتصاد کی یہ کیفیت ان کے لیے کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو، لیکن مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی صاحب اس رجحان سے نالاں رہتے اور فرماتے کہ ندوہ نے تعلیمی سلسلہ حکومتی اداروں کو کلرک دینے کے لیے جاری نہیں کیا تھا، اس کا مقصد دنیا بھر میں اسلام کی اشاعت ہے، فضلا کی موجودہ صورتِ حال میرے لیے مایوس کن ہے- یہ بات حضرت علی ندوی کی فضلاے ندوہ سے متعلق ہے، مگر اس باب میں وہ بھی تنہا نہیں رہے، تازہ ترین حقائق یہ ہیں کہ فضلاے دارالعلوم بھی حکومتی اداروں سے مربوط رہنے میں اپنی سلامتی باور کرتے ہیں، فراغت پاتے ہی ذی استعداد فضلا کا رخ یونیورسٹیوں کی جانب ہو جاتا ہے، قال اللہ اور قال الرسول کے زمزموں سے دارالحدیثوں کو معمور کر دینے والے طلبہ علوم عصریہ کی طرف ایسے لپکتے ہیں گویا ان کے دامن زر و گوہر سے ہنوز خالی ہوں-

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ عصری دانش گاہیں خوبیوں سمیت اپنے ساتھ بڑی خرابیاں بھی لاتی ہیں، ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر تازہ کر لیجیے:

گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ

چناں چہ مشاھدہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں داخلہ ہوتے ہی سب سے پہلا حملہ ان کے حلیہ پر ہی ہوتا ہے، مشرقیت ختم ہو جاتی ہے اور مغربیت ان کے انگ انگ سے مترشح - ستم بالاے ستم یہ کہ علماے اسلام اور ان کے مراکز ان کی نگاہوں میں نہیں جچتے ، خوش عیشی اور تن آسانی انہیں اسلام بیزار بنا دیتی ہے- یہ دینی علوم کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے؟ 

*بورڈ کے مدارس میں علما کی بھیڑ*

 سرکار سے ناوابستہ دینی اداروں میں تنخواہوں کی خرگوش روی کا ایک مذموم اثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بورڈ کے مدارس پر فضلاے مدارس دیوانہ وار گرنے لگے ہیں، قرض لے لے کر اور بھاری بھرکم رشوت دے دے کر یہ لوگ ان سے مربوط ہو رہے ہیں، جاہل اور غیرمستند فضلا اپنی مثالی رشوت کے بل پر بڑے بڑے عہدوں پر بھی براجمان ہیں، اساتذۂ حکومت کا خیال ہے کہ یہاں کی تدریس سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے،  ہر طرح منفعت بخش ، اخراج کا خوف دل میں نہیں رہتا، تنخواہ معقول ترین اور دل خواہ ہوتی ہے، اس کے بڑھنے کی رفتار بھی برق آسا- یہاں بلا وجہ کی محکومی بھی نہیں، حریفوں کا دباؤ بھی نہیں، اور آزادی کی آزادی بھی ہے- 

*عزل تو مکروہ ہے*

بورڈ کے ایک مدرس سے میری ملاقات ہوئی، کہنے لگے: مولانا! آپ حضرات مدرسہ بورڈ کو نگاہِ حقارت سے دیکھتے ہیں اور ہماری کمائی کو مکروہ گردانتے ہیں، ایسا کیوں؟ میں نے کہا کہ بورڈ کے مدارس میں تعلیم صفر ہوتی ہے اور آمدنی محنت سے زائد، کہنے لگے کہ ایک لطیفہ یاد آیا، اجازت ہو تو سناؤں! میں نے کہا: جی ضرور، کہنے لگے کہ ایک شخص زنا میں ملوث ہوا، نتیجتاً عورت حاملہ ہوگئی، لوگوں نے زانی کا پتہ پوچھا تو ناچاروناچار عورت کو بتانا پڑا، زانی پکڑا گیا اور اسے سزا ملی، کسی دوست نے اس سے پوچھا کہ نفس کی شرارت سے اگر تو نے زنا کر ہی لیا تو "عزل "سے کام لے لیتا تا کہ عورت کو علوق ہی نہ ہو اور تو بچ جاتا! کہنے لگا کہ عزل کیسے کرتا؟ عزل تو مکروہ ہے- ٹھیک یہی حال ہمارے بعض علما کا ہے، الٹی سیدھی رسیدیں چھپا کر چندہ کرتے ہیں، فرضی مدارس کے عنوان سے مال کی فراہمی ہوتی ہے، دین کے نام پر اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں، اساتذہ کی ضروریات کا خیال بالکل نہیں رکھتے مگر جب ان سے کہا جاے کہ مدرسہ بورڈ سے منسلک ہو جائیے! تو بے تکلف کہتے ہیں کہ بورڈ کی تنخواہ مکروہ ہے- ایں چہ بوالعجبی ست؟

*لہذا مدارس والے بھی تنخواہ کا معیار بلند کریں*

کوئی مانے یا نہ مانے، وقت بہت کچھ بدل چکا، مادیت ہر جگہ اپنے پاؤں پسار چکی ہے، گرانی در گرانی سے حالات دگرگوں ہیں - وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس اور مساجد والے بھی اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہوں کا معیار بلند ترین کریں - پچھلے دور میں اخراجات کم تھے،اس لیے چل جاتا تھا، اب بڑھ گئے ہیں، ہر استاذ اور امام اپنے بچوں کو عصری علوم دلانا چاہتے ہیں، عصری علوم کی گرانی کون نہیں جانتا، داخلے کی فیس اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ ہوش اڑ جائیں، پھر کتابوں کی خرید، ان کے ماسوا دیگر اخراجات- سالانہ حساب لگائیے تو ابتدائی جماعتوں میں ہی ایک بچے پر ساٹھ ہزار خرچ ہو جاتے ہیں، اگر علما و ائمہ کی تنخواہیں وہی چھ ہزار ہوں اور ساٹھ ہزار بچے کی پڑھائی میں چلے گئے تو گھر کے دیگر اخراجات کی سبیل کیا ہوگی؟ اس پہلو پر کون غور کرے گا؟ لہذا مدارس اور مساجد پر لازم ہے کہ اساتذہ اور ائمہ کی تنخواہیں بڑھائیں، الحمدللہ ہمارے دیوبند میں تنخواہیں معقول ہیں، دارالعلوم دیوبند سمیت تقریباً تمام ہی بڑے ادارے اپنے اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، مگر بیشتر ملک کے دیگر مدارس میں تنخواہ کے تئیں پرانی روایتیں اب بھی برقرار ہیں، وہاں اب بھی وہی چار، پانچ اور چھ ہزار کو بیس ہزار کا مساوی سمجھا جاتا ہے اور برکت برکت کی رٹ لگا کر اساتذہ کی دل شکنی کی جاتی ہے، کام خوب لیتے ہیں اور تنخواہ وہی گئی گزری اور پژمردہ- آج کے ماحول میں تنخواہ کی شروعات پندرہ ہزار سے ہونی چاہیے، پھر درجہ بدرجہ مزید اور مزیدتر - اس سے نیچے کی تنخواہ کو تنخواہ کہنا علم دین کی توہین ہے- مشہور محدث سفیان ثوری فرماتے ہیں: اگر علما کے پاس دولت نہ ہو تو دنیا دار لوگ علما کو رومال بنالیتے ہیں، جسے استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے-

*مدارس کا نظام اللہ چلاتا ہے*

جو شے زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ زیادہ بڑھتی ہے، تنخواہیں بڑھائیں گے تو مدرسے کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تنخواہ کس بنیاد پر بڑھائی جاے، ادارے کا سالانہ بجٹ اس کی اجازت نہیں دیتا، ان کی فکر کا قبلہ درست نہیں ہے- قوم دینے کو تیار ہے، آپ تنخواہیں بڑھائیے،پھر دیکھیے: خوش دل اساتذہ اپنی خدمات کس طرح پیش کرتے ہیں! دارالعلوم کے رابطۂ مدارس اجلاس میں بار بار اس موضوع کو اساتذۂ دارالعلوم نے اٹھایا، مگر اس موضوع پر سنجیدہ نظر شاید ڈالنا نہیں چاہتے- اللہ جانے کیوں؟

"مفتی" کون ؟؟

"مفتی" کون ؟؟

استاد محترم حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ پاکستان میں مفتی کورس کا کوئی تصور ہی نہیں تھا،جب ہم دونوں بھائیوں نے درس نظامی مکمل کیا تو ہمارے والد صاحب نے فقہ میں مہارت حاصل کرنے اور فتوی دینے کے لئے ہمیں ایک نصاب بنا کر پڑھایا اور اس کے بعد دوسری شرط یہ رکھی کہ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد آپ نے بیس تیس سال کسی ماہر مفتی کے نگرانی میں مشق کرنا ہے اس تربیت کے بعد بڑے مشورہ کریں گے اگر ان کو تسلی ہوئی تو آپ کو "مفتی" لقب مل سکتا ہے ورنہ نہیں۔
آج بھی دارالعلوم کراچی میں کئی سفید ریش علماء کو مفتی لکھنے کی اجازت تاحال نہیں مل سکی۔

گویا نصاب کے ساتھ "مفتی" بننے کے لئے دو چیزیں لازم تھیں:
 (1) کم ازکم بیس سال تربیت و تمرین، 
(2) بڑوں کا اعتماد۔

استاد جی نے شکوہ کیا ہے کہ آج کل تو تخصص کے کلاس میں داخلہ لیتے ہی بعض طالب علم اپنے نام کے ساتھ "مفتی" لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔یہی بے احتیاطی ہے کہ ہر جگہ مفتی ملتا ہے۔
فرماتے ہیں کہ حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ دار العلوم دیوبند میں جب کو سائل مسئلہ پوچھنے آتا تو ہر مفتی یہ کہہ کر اس کو دوسرے کے پاس بھجتے کہ میں چھوٹا ہوں اس عالم سے پوچھیئے وہ مجھ سے بڑا ہے، آج کل ہر کوئی خود کو بڑا کہتا ہے۔
۔۔۔۔۔

 اصل میں المیہ یہ ہے کہ صرف یک سالہ و دو سالہ نصاب رہ گیا، تربیت کی شرط کو حذف کر دیا گیا اور بلا کسی امتحان و اطمینان کے، ہر کوئی خود کو ہی مفتی لکھنا شروع کر دیتا ہے۔بلکہ بعض تو اس شوق میں خود کو مفتی لکھتے ہیں کہ مفتی سے انسان بڑا سمجھا جاتاہے ۔

ہم نے بڑوں سے سنا ہے کہ مفتی اللہ تعالی کا خلیفہ ہوتا ہے اس کے مہر سے عام آدمی کے لئے کوئی چیز حرام بھی بن جاتا ہے اور حلال بھی۔

یاد رکھئے!
اہلیت کے بغیر جب کوئی کسی منصب و عہدہ کو سنبھالتا ہے تو اداروں کے ادارے بلکہ معاشرے برباد ہو جاتے ہیں۔
مفتی کوئی عہدہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، حتی المقدور خود کو بلا ضرورت اس ذمہ داری سے بچانا چاہئے ...
Dec
Tuesday,
24,

برتھ سرٹیفکیٹ کیوں ضروری

*کیا زیادہ تر مسلمان بھائی اسکول کے سرٹیفکیٹ پر درج تاریخ پیدائش کو پیدائش کے ثبوت کے طور پر سمجھتے ہیں؟*

اہم خبر 

جن شہریوں کی پیدائش کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے، وہ صرف 27 اپریل 2026 تک رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ مدت کسی بھی صورت میں نہیں بڑھائی جائے گی۔

اس کے علاوہ، پورے ملک میں یکم اکتوبر 2023 سے پیدائش و وفات کی رجسٹریشن (ترمیمی) قانون 2023 نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیدائش کا سرٹیفکیٹ اب مختلف سرکاری کاموں کے لیے ثبوت کے طور پر استعمال ہوگا۔

مسلمان بھائیوں کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ شہری ہونے کا سب سے مضبوط ثبوت پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اسکول کے سرٹیفکیٹ پر درج تاریخ کو ہی پیدائش کی تاریخ سمجھ لیتے ہیں، جو غلط ہے۔

🔹 پیدائش کی رجسٹریشن میں نام شامل کرنے کی آخری تاریخ پہلے 14 مئی 2020 تھی، جسے اب بڑھا کر 27 اپریل 2026 کر دیا گیا ہے۔

پیدائش کے سرٹیفکیٹ میں نام شامل کرنے کے لیے شہریوں کو درخواست کے ساتھ درج ذیل میں سے کسی دو ثبوت جمع کرانے ہوں گے:

اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ

تعلیمی سرٹیفکیٹ (دسویں یا بارہویں جماعت)

پاسپورٹ

پین کارڈ

آدھار کارڈ


🔹 1969 سے پہلے یا اس کے بعد جن شہریوں کی پیدائش کی رجسٹریشن صرف نام کے بغیر ہوئی ہے، وہ دوبارہ یہ موقع حاصل کر سکتے ہیں۔

🔹 جن کے انتقال ہو چکے ہیں اور ان کی وفات یا پیدائش کا اندراج نہیں ہوا، ان کے اہل خانہ یہ اندراج کروائیں۔

🔹 اب پیدائش کی رجسٹریشن عدالتی طریقہ کار کے بجائے تحصیل آفس کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔

مسلمان بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ مستقبل میں یہ ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

🔹 اسکول، کالج میں داخلہ، نوکری، اہم سرکاری کام، یا بیرون ملک سفر کے لیے پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

🔹 حکومت نے ایک بار پھر ان لوگوں کو موقع فراہم کیا ہے جو اپنے یا اپنے بچوں کی پیدائش کا اندراج کروانے سے محروم رہ گئے تھے۔

🔹 1969 سے پہلے کے پیدائش کے اندراجات، جن میں نام شامل نہیں ہیں، ان کے لیے بھی درخواست دی جا سکتی ہے۔

🔹 حکومت کے صحت عامہ کے ڈائریکٹر نے تمام مقامی انتظامیہ کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں۔

🔹 15 سال سے زیادہ پرانے پیدائش کے اندراج میں بھی اب نام شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ سہولت صرف 27 اپریل 2026 تک دستیاب ہوگی۔

🔹 اب پیدائش و وفات کا سرٹیفکیٹ آدھار کارڈ کی طرح ایک مستند شناختی دستاویز کے طور پر استعمال ہوگا۔

*مسلمان بھائیوں کو یہ بات ضرور سمجھانی چاہیے تاکہ وہ اس معاملے میں غفلت نہ برتیں۔

صراط مستقیم

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © 2025 صراط مستقیم