انصاف کی ترازو میں!
(قسط-1)
اورنگ زیب ؒکے بارے میں جدوناتھ سرکار جیسے تنگ نظر ، متعصب، فرقہ پرست اور حقیقت بے زار مصنف کو بھی یہ کہنا پڑا کہ اورنگ زیب ؒکے اقتدار نے مغل حکومت کے ہلال کو بدر کامل بنا دیا ، اب اگر کوئی چاند پر تھوکنے کی کوشش کرے تو یہ تھوک اسی کی طرف واپس آئے گا ؛ اس لئے ایسی باتوں سے صَرف نظر کرجانا مناسب ہوتا ؛ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کی نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے ؛ بلکہ نئی تاریخ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ فرقہ پرست عناصر کو مسئلہ کی اصل حقیقت بتائی جائے اور سچائی کی روشنی پھیلائی جائے ۔
ہندوستان پر جن مسلم خاندانوں نے حکومت کی ہے ، ان میں غالباً سب سے طویل عرصہ مغلوں کے حصہ میں آیا ہے ، جو ۱۵۲۶ء سے لے کر ۱۸۵۷ء یعنی تقریباً ساڑھے تین سو سال کے عرصہ پر محیط ہے ، اس دوران اگرچہ ہمیشہ پورے ملک پر مغلوں کو دورِ اقتدار حاصل نہیں رہا اوربہت سے علاقے ان کے قبضہ میں آتے اور جاتے رہے ؛ لیکن تقریباً اس پورے عرصہ میں وہ قوتِ اقتدار کی علامت بنے رہے ، اس خاندان کا چھٹا فرمانر وا اورنگ زیب عالمگیرؒ تھا ، عالمگیر ۱۶۱۸ء میں ممتاز محل کے بطن سے پیدا ہوئے اور ۱۷۰۷ء میں وفات پائی ، گویا پورے نوے سال کی طویل عمر پائی ، پھر اس کی خوش قسمتی ہے کہ ۱۶۵۷ء سے لے کر ۱۷۰۷ء تک یعنی تقریباً پچاس سال اس نے حکومت کی اور اس کے عہد میں ہندوستان کا رقبہ جتنا وسیع ہوا ، اتنا وسیع نہ اس سے پہلے ہوا اور نہ اس کے بعد ، یعنی موجودہ افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش کی آخری سرحدوں اورلداخ و تبت سے لے کر جنوب میں کیرالہ تک وسیع و عریض سلطنت کا قیام اسی بادشاہ کی دَین ہے ۔
اس کی اخلاقی خوبیوں پر تمام مؤرخین یہاں تک کہ اس کے مخالفین بھی متفق ہیں کہ یہ تخت شاہی پر بیٹھنے والا ایک درویش تھا ، جو قرآن مجید کی کتابت اور ٹوپیوں کی سلائی سے اپنی ضروریات پوری کرتا تھا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی موت کے وقت وصیت کی کہ اس کی اسی آمدنی سے تجہیز و تکفین کی جائے ، ایسے زاہد ، درویش صفت ، قناعت پسند اور عیش و عشرت سے دُور بادشاہ کی نہ صرف ہندوستان بلکہ تاریخِ عالم میں کم مثالیں مل پائیں گی ، یہ تو اس کی ذاتی زندگی کے اوصاف ہیں ، اس کے علاوہ اورنگ زیبؒ نے اپنے عہد میں غیر معمولی اصلاحات بھی کیں ، ترقیاتی کام کئے ، نامنصفانہ احکام کو ختم کیا ، اور سرکاری خزانوں کو عوام پر خرچ کرنے اور رفاہی کاموں کو انجام دینے کی تدبیر کی ، اس سلسلہ میں چند نکات کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے :
(۱) اب تک عوام پر بہت سارے ٹیکس لگائے جاتے تھے ، اور یہ صرف مغل حکمرانوں کا ہی طریقہ نہیں تھا ؛ بلکہ اس زمانہ میں جو راجے رجواڑے اور ان کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں تھیں ، وہ بھی اس طرح کے ٹیکس لیا کرتی تھیں ، شیواجی تو اپنے مقبوضہ علاقہ میں چوتھ یعنی پیداوار کا چوتھائی حصہ وصول کیا کرتے تھے ، اورنگ زیب عالمگیرؒ نے مال گذاری کے علاوہ جو ٹیکس لئے جاتے تھے ، جن کی تعداد اَسّی (۸۰) ذکر کی گئی ہے ، ان سب کو نامنصفانہ اور کسان مخالف قرار دیتے ہوئے ختم کردیا ؛ حالاںکہ اس کی آمدنی کروڑوں ہوتی تھیں ، یہ بات قابل غور ہے کہ عام طورپر اورنگ زیب ؒکو ہندو مخالف پیش کیا جاتا ہے ؛ لیکن اس نے متعدد ایسے ٹیکسوں کو معاف کردیا ، جن کا تعلق ہندوؤں سے تھا ، جیسے گنگا پوجا ٹیکس ، گنگااشنان ٹیکس اور گنگا میں مُردوں کو بہانے کا ٹیکس ۔
(۲) اس نے مال گذاری کا قانون مرتب کیا اور اس کے نظم و نسق کو پختہ بنایا ، یہاں تک کہ شاہجہاں کے دور میں ڈھائی کروڑ پونڈ کے قریب سلطنت کی آمدنی تھی ، تو وہ عالمگیر کے دور میں چار کروڑ پونڈ کے قریب پہنچ گئی ۔
(۳) حکومتوں میں یہ رواج تھا کہ جب کسی عہدہ دار کا انتقال ہوجاتا تو اس کی ساری جائداد ضبط کرلی جاتی اور حکومت کے خزانہ میں داخل ہوجاتی ، آج بھی بعض مغربی ملکوں میں ایسا قانون موجود ہے کہ اگر کوئی شخص وصیت کے بغیر دنیا سے گزر جائے تو اس کا پورا ترکہ حکومت کی تحویل میں چلا جاتا ہے ، عالمگیر نے اس طریقہ کو ختم کیا ؛ تاکہ عہدہ دار کے وارثوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ۔
(۴) اس نے اس بات کی کوشش کی کہ مظلوموں کے لئے انصاف کا حاصل کرنا آسان ہوجائے ، وہ روزانہ دو تین بار دربار عام کرتا تھا ، یہاں حاضری میں کسی کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں تھی ، ہر چھوٹا بڑا ، غریب و امیر ، مسلمان و غیر مسلم ، بے تکلف اپنی فریاد پیش کرسکتا تھا اور بلا تاخیر اس کو انصاف فراہم کیا جاتا تھا ، وہ اپنے خاندان کے لوگوں ، شہزادوں اور مقرب عہدہ داروں کے خلاف فیصلہ کرنے میں بھی کسی تکلف سے کام نہیں لیتا تھا ؛ لیکن اس کے علاوہ اس نے دور دراز کے لوگوں کے لئے ۱۰۸۲ھ میں ایک فرمان کے ذریعہ ہر ضلع میں سرکاری نمائندے مقرر کئے کہ اگر لوگوں کو باشاہ اور حکومت کے خلاف کوئی دعویٰ کرنا ہو تو وہ ان کے سامنے پیش کریں اور ان کی تحقیق کے بعد عوام کے حقوق ادا کردیں ۔
(۵) عالمگیر کا ایک بڑا کار نامہ حکومت کی باخبری کے لئے واقعہ نگاری اور پرچہ نویسی کا نظام تھا ، جس کے ذریعہ ملک کے کونے کونے سے بادشاہ کے پاس اطلاعات آتی رہتی تھیں ، اور حکومت تمام حالات سے باخبر رہ کرمناسب قدم اُٹھاتی تھی ، اس نظام کے ذریعہ ملک کا تحفظ بھی ہوتا تھا ، عوام کوبروقت مدد بھی پہنچائی جاتی تھی ، اور عہدہ داروں کو ان کی غلطیوں پر سرزنش بھی کی جاتی تھی ، اس کا سب سے بڑا فائدہ رشوت ستانی کے سدباب کی شکل میں سامنے آیا ۔
عام طورپر حکومت کے اعلیٰ عہدہ داروں کو رشوت ’گفٹ ‘ کے نام پر دی جاتی ہے ، یہ نام کرپشن کے لئے ایک پردہ کا کام کرتا تھا ، اُس زمانہ میں یہ رقم نذرانہ کے نام سے دی جاتی تھی ، جو بادشاہوں کو حکومت کے عہدہ داران اور اصحاب ِثروت کی جانب سے اور عہدہ داروں کو ان کے زیر اثر رعایا کی جانب سے ملا کرتی تھی ، اورنگ زیبؒ نے ہر طرح کے نذرانہ پر پابندی لگادی ، خاص کر نوروز کے جشن پر تمام امراء بادشاہ کی خدمت میں بڑے بڑے نذرانے پیش کرتے تھے ، اورنگ زیبؒ نے اپنی حکومت کے اکیسویں سال اس جشن ہی کو موقوف کردیا اور فرمان جاری کردیا کہ خود اس کو کسی قسم کا نذرانہ پیش نہ کیا جائے ۔
(۶) عام طورپر جہاں بھی شخصی حکومتیں رہی ہیں ، وہاں عوام کو اطاعت و فرمانبرداری پر قائم رکھنے کے لئے بادشاہ کے بارے میں مبالغہ آمیز تصورات کا اسیر بنایا جاتا ہے ، اسی لئے تیمور لنگ کہا کرتا تھا کہ جیسے آسمان پر خدا ہے ، زمین میں وہی درجہ ایک بادشاہ کا ہے ، اسی لئے مغلوں کے یہاں بھی ہندوانہ طریقہ کے مطابق ایک طرح کی باشاہ پرستی مروج رہی ہے ، اکبر کے یہاں تو بادشاہ کا دیدار اور سجدہ کرنا ایک عبادت تھا اور ہر دن بے شمار لوگ یہ عبادت بجالاتے تھے ، جہانگیر نے سجدہ ختم کیا ؛ لیکن زمین بوسی باقی رہی ، عالمگیر نے جھروکا درشن بالکلیہ ختم کردیا ، جس میں لوگ صبح کو بطور عبادت بادشاہ کا دیدار کرتے تھے اور اس وقت تک کھاتے پیتے نہیں تھے ؛ البتہ اس بات کی اجازت تھی کہ اگر کوئی ضرورت مند آئے تو اس کی درخواست رسی میں باندھ کر اوپر بادشاہ کے پاس پہنچا دی جائے ۔
(۷) عموماً حکمرانوں کی شاہ خرچی اور حکمرانوں کے چونچلے غریب عوام کی کمر توڑ دیتے ہیں ، اورنگ زیب عالمگیرؒ نے ایسے تکلفات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی ، جیساکہ گذرا ، شاہی نذرانوں کو بند کیا ، دربار شاہی میں بادشاہوں کی تعریف کرنے والے شعراء ہوا کرتے تھے اوران پر ایک ذمہ دار ہوا کرتا تھا ، جو ’ ملک الشعراء ‘ کہلاتا تھا ، اورنگ زیبؒ نے اس شعبہ کو ختم کردیا ، وہ اپنی شان میں کسی بڑائی اور مبالغہ آمیز شاعری کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے ، بادشاہ کا دل بہلانے کے لئے دربار شاہی میں گانے بجانے کا خصوصی انتظام ہوتا تھا ، قوال اور رقاصائیں گاکر اور ناچ کر بادشاہ کا دل خوش کرتی تھیں اور ان پر بڑی بڑی رقمیں خرچ کی جاتی تھیں ، عالمگیر نے اس سلسلہ کو بھی موقوف کردیا ، بادشاہ کے لکھنے کے لئے سونے اور چاندی کی دواتیں رکھی جاتی تھیں ، عالمگیر نے اس کے بجائے چینی کی دواتیں رکھنے کی تلقین کی ، انعام کی رقمیں چاندی کے بڑے طشت میں لائی جاتی تھی ، اس طشت کی رسم کو بھی اورنگ زیبؒ نے موقوف کردیا ، عام طورپر بادشاہوں کی جیب خرچ کے لئے کروڑوں روپے کی آمدنی مخصوص کردی جاتی تھی ، آج بھی جمہوری ملکوں میں سربراہ حکومت کے لئے رہائش ، سفر اور ضروریات وغیرہ پر جو رقمیں صرف کی جاتی ہیں اور رہائش کے لئے جو وسیع مکان اور اعلیٰ درجہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، وہ گذشتہ بادشاہوں کی شاہ خرچی کو بھی شرمندہ کرتی ہیں ؛ لیکن اورنگ زیب نے اپنے لئے نہ کوئی عظیم الشان محل تعمیر کرایا ، نہ اپنی تفریح کے لئے کوئی باغ بنوایا ، اور اپنے مصارف کے لئے بھی محض چند گاؤں کو اپنی حصہ میں رکھا اور بقیہ سارے مصارف کو حکومت کے خزانہ میں شامل کردیا ۔
(۸) اس نے تعلیم کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ، ہر شہر اور ہر قصبہ میں اساتذہ مقرر ہوئے ، نہ صرف اساتذہ کے لئے وظائف مقرر کئے گئے اور جاگیریں دی گئیں ؛ بلکہ طلبہ کے اخراجات اور مدد معاش کے لئے بھی حکومت کی طرف سے سہولتیں فراہم کی گئیں ، کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیبؒ کے زیادہ تر فرامین تعلیم ہی سے متعلق ہیں ، جن کو ان کے بعض تذکرہ نگاروں نے نقل بھی کیا ہے ۔
(۹) اس زمانہ میں صنعت و حرفت کو آج کی طرح ترقی نہیں ہوئی تھی اور معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ زراعت تھی ، اورنگ زیبؒ نے زرعی ترقی پر خصوصی توجہ دی ، کسانوں کی حوصلہ افزائی کی ، جن کسانوں کے پاس کاشتکاری کے لئے پیسہ نہیں ہوتا ، ان کو سرکاری خزانوں سے پیسہ فراہم کئے جاتے ، حسب ِضرورت کسانوں سے مال گذاری معاف کی گئی ، جو زمینیں اُفتادہ تھیں اور ان میں کاشت نہیں کی جاتی تھی ، ان کو ایسے کسانوں کے حوالہ کیا گیا ، جو ان کو آباد کرنے کے لئے آمادہ تھے ، اپنے عہدہ داروں کو ہدایت کی کہ کسانوں کو اتنا ہی لگان لگایا جائے ، جتنا وہ بآسانی ادا کرسکیں اور بخوشی ادا کرسکیں ، اگر وہ نقد کے بجائے جنس دینا چاہیں تو قبول کرلیا جائے ، انھوںنے کسانوں کے لئے کنواں کھودوانے ، قدیم کنوؤں کو درست کرانے اور آبِ پاشی کے وسائل کو بہتر بنانے کو حکومت کی ایک ذمہ داری قرار دیا ، انھوںنے زمین کے سروے کرنے پر خصوصی توجہ کی ؛ تاکہ معلوم ہوا کہ کونسی اراضی اُفتادہ ہیں اور اُن کو قابل کاشت بنانے کی کیا صورت ہے ، انھوںنے اپنے فرمان میں لکھا ہے :
بادشاہ کی سب سے بڑی خواہش اور آرزو یہ ہے کہ زراعت ترقی کرے ، اس ملک کی رزعی پیداوار بڑھے ، کاشتکار خوشحال ہوں اور عام رعایا کو فراغت نصیب ہو ، جو خدا کی طرف سے امانت کے طورپر ایک بادشاہ کو سونپی گئی ہے ۔
زرعی پیداوار کی طرف اسی توجہ کا نتیجہ تھا کہ عالمگیرؒ کے دور میں فتح ہونے والے بہت سے علاقے ایسے تھے ، جہاں کے اخراجات وہاں کی آمدنی سے زیادہ تھے ؛ لیکن پھر بھی کہیں غذائی اشیاء کی قلت محسوس نہیں کی گئی ، اگر یہ صورتِ حال نہیں ہوتی تو اتنے طویل و عریض رقبہ پر پچاس سال تک اورنگ زیب حکومت نہیں کرپاتے اور عوام کی بغاوت کے نتیجہ میں مملکت پارہ پارہ ہوجاتی ۔
(۱۰) اورنگ زیبؒ کا ایک بڑا کارنامہ سماجی اصلاح بھی ہے ، اس نے بھنگ کی کاشت پر بابندی لگائی ، شراب و جوئے کی ممانعت کردی ، قحبہ گری کو روکا اور فاحشہ عورتوں کو شادی کرنے پر مجبور کیا ، لونڈی ، غلام بناکر رکھنے ، یا خواجہ سرا رکھنے پر پابندی لگائی ۔
(۱۱) ہندو سماج میں عرصۂ دراز سے ستی کا طریقہ مروج تھا ، جس کے تحت شوہر کے مرنے کے بعد بیوی شوہر کی چتا کے ساتھ نذر آتش کردی جاتی تھی ، ہندو سماج میں اسے مذہبی عمل سمجھا جاتا تھا ، مغلوں نے ہمیشہ اس کا خیال رکھا ، غیر مسلموں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ، اس لئے اورنگ زیبؒ نے قانونی طورپر اس کو بالکلیہ تو منع نہ کیا ؛ لیکن اصلاح اور ذہن سازی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے عہدہ داروں کو ہدایت دی کہ وہ عورتوں کو اس رسم سے باز رکھنے کی کوشش کریں اور اپنی خواتین کے ذریعہ بھی ان کو اس کی دعوت دیں ، نیز پابندی عائد کردی کہ علاقہ کے صوبہ دار کی اجازت کے بغیر ستی نہ کی جائے ؛ تاکہ کسی عورت کو اس عمل پر اس کے میکہ یا سسرال والے ، یا سوسائٹی کے دوسرے لوگ مجبور نہ کرسکیں ، اس طرح عملاً ستی کا رواج تقریباً ختم ہوگیا ۔ (جاری)
٭٭٭