ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

ایک بڑی ضرورت..... گھروں میں باقاعدہ نماز تراویح کا اہتمام

✍️ مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی

تراویح سنانے کے خواہش مند بہت سے حفاظ پریشان ہیں کہ انھیں مساجد نہیں مل رہیں، ایسے حفاظ کی خدمت میں عرض ہے کہ صحیح احادیث کی روشنی میں تراویح کی گھروں میں ادائیگی میں زیادہ ثواب ہے اس لیے وہ مسجد نہ ملنے پر کبیدہ خاطر نہ ہوں، اپنے یا کسی اور کے گھ پر تراویح کا اہتمام کریں. ان شاء اللہ ثواب کچھ زیادہ ہی ملے گا.

گھر پر تراویح کا باجماعت اہتمام اور بھی کئی پہلوؤں سے مفید ہے، اس کے نتیجہ میں گھر میں بہت مبارک ماحول بنتا ہے، جس کی ترغیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیا کرتے تھے، پھر اس کی برکت سے خواتین کو بھی رمضان کی راتوں میں لمبی نمازیں پڑھنے کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے.
.............................................................................

گزشتہ برس رمضان سے پہلے یہ مختصر تحریر لکھی تو متعدد حضرات اہل علم نے اس پر استدراک کیا، اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ اپنے موقف کے دلائل بھی عرض کردیے جائیں، اس لیے ذیل کی تحریر لکھی گئی تھی جو پیش خدمت ہے:

متعدد صحیح احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت منقول ہے کہ فرض نمازوں کے علاوہ بقیہ تمام نمازیں گھروں میں پڑھی جائیں، کہ اس کا ثواب زیادہ ہے، تراویح کی اصل کے طور پر جو حدیث نقل کی جاتی ہے اس کی بھی ایک روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں، یعنی خاص تراویح کے سیاق میں:

"عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ؛ فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ". (بخاری: 731)

غالبا یہی وجہ تھی کہ جب حضرت عمر نے مسجد میں باقاعدہ جماعت کا نظام قائم فرمایا تو اس سلسلہ کی موطأ کی مشہور روایت کے مطابق وہ خود اس جماعت میں شریک نہ تھے، الفاظ ملاحظہ ہوں:
"عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَانِي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ : نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ....." (موطأ: 301)

اور غالبا اسی وجہ سے حضرت ابی بن کعب جن کو حضرت عمر نے تراویح کا امام بنایا تھا وہ بھی آخری عشرہ میں یہ خدمت انجام نہ دیتے، اور آخری عشرہ میں نماز تراویح کھر پر ہی پڑھتے، سنن ابی داود کی روایت ملاحظہ ہو:

" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً،..... فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّى فِي بَيْتِهِ، فَكَانُوا يَقُولُونَ : أَبَقَ أُبَيٌّ. (1429)

وضاحت: مساجد میں تراویح کا انتظام واہتمام یقینا عہد صحابہ سے چلا آرہا عمل ہے، اس لیے وہ ایک سنت ہے، اور اس کا جاری رہنا ضروری ولازمی ہے، یہاں جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے وہ صرف ان لوگوں کی بابت ہے جو گھروں میں یہ نماز بکمال اہتمام پڑھ سکتے ہوں، کہ ان کے لیے اس نماز کا گھروں می‌ پڑھنا کیا حکم رکھتا ہے؟

حبیب احمد مشہور الحدادؒاور آپ کی زیارت

حبیب احمد مشہور الحدادؒ اس وقت تک مدینہ منورہ میں داخل نہ ہوتے تھے جب تک خواب میں رسولِ اکرم ﷺ سے داخلے کی اجازت نہ پا لیتے، اور نہ ہی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے جب تک انہیں رخصت کی اجازت نہ ملتی۔ یہاں تک کہ ایک سال انہوں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا، جنہوں نے فرمایا:
“میرے پیارے بیٹے! ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب جب چاہو مدینہ میں داخل ہو اور جب چاہو باہر جا سکو۔”

یہ عظیم ہستی میرے سب سے بڑے رول ماڈلز میں سے ایک ہے۔ تین لاکھ سے زائد افراد نے حبیب احمد مشہور الحدادؒ کے اخلاق، تقویٰ اور مجالس کے ذریعے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے دنیا کے انتہائی دور دراز علاقوں میں اسلام کی دعوت پہنچائی۔ دعوتِ دین کے لیے انہوں نے سواحیلی زبان روانی کے ساتھ سیکھ لی۔

حبیب احمدؒ اپنے گھر کے باہر بیٹھتے، اور جب کوئی غیر مسلم وہاں سے گزرتا تو محبت سے اسے چائے کے لیے اندر بلا لیتے اور نہایت شفقت اور نرمی سے گفتگو کرتے۔ لوگ چائے کا کپ ختم بھی نہ کر پاتے تھے کہ وہ کہہ دیتے:
“لا إله إلا الله محمد رسول الله ﷺ”

وہ تہجد کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ حتیٰ کہ بیماری کے عالم میں بھی انہوں نے کسی پر دروازہ بند نہیں کیا۔ ان کا گھر ہفتے کے ساتوں دن ہر شخص کے لیے کھلا رہتا تھا۔

ان کی زندگی اس مبارک ذات ﷺ کی کامل جھلک تھی جن کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے اعلیٰ ترین درجات عطا فرمائے۔

🌷 نماز کا طریقہ 🌷

🌷 نماز کا طریقہ 🌷

ہمارے مکاتب کے نصاب میں ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ بچوں کو نماز سکھاءیں ۔
اس کے لیے 6 کام نہایت ضروری ہیں ۔
👈 سب سے پہلے وظائف نماز صحت کے ساتھ یاد کرائیں ۔
👈 مدرس صاحب خود نماز پڑھ کر دکھائیں
👈 ہفتہ میں ایک بار نماز کی عملی مشق کروائیں یعنی بچوں کی نماز سنیں ۔
👈 فضائل یعنی وعدہ اور وعید کے ذریعہ نماز کی ترغیب دیتے رہے ۔
👈 نماز کی ڈائری بنا کر نماز کی حاضری لیں اور کارگزاری لیں ۔ 
👈 بچوں کو نمازی بنانے کے لیے دعا کرتے رہیں ۔
فقط

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © صراط مستقیم