Aug
Thursday,
29,

پردہ پردہ پردہ

پردہ پردہ پردہ

لڑکی نے کہا :
تنگ آگئے ہم مولویوں سے! پردہ پردہ پردہ!
بھائی ہم آزاد ہیں، جیسا لباس پہنیں، مرد نہ دیکھیں، کیوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سر سے پاؤں تک عورت کو دیکھتے ہیں! ان کے گھر میں بہن بیٹی نہیں ہے کیا؟؟ ہم کیوں پردہ کریں، تم دیکھو ہی نہیں—"

میں نے کہا جی جی ! بات تو تمہاری صحیح ہے کہ مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم ہے، نامحرم کو دیکھنا حرام ہے لیکن جو منطق تم پیش کررہی ہو وہ دماغ کی بتی فیوز منطق ہے—!!

بولی وہ کیسے؟؟؟

میں نے کہا کہ میں بھی رات دو بجے گھر میں بڑا سا ایک ساؤنڈ لگاکر قرآن کی تلاوت چلاؤں گا کوئی پڑوسی اعتراض کرے تو کہوں گا تم اور تمہارے بچے اپنے کان بند کرلو! مجھے ہی کیوں کہتے ہو میں آزاد ہوں، پورا محلہ مجھے ہی بولے جارہا ہے! اپنے کان بند نہیں کر سکتے۔۔۔۔

یا پھر ہسپتال میں بیٹھ کر سٹے لگاؤں گا لوگوں نے اعتراض کیا تو کہوں گا میری مرضی تم نہ سونگھو! اپنی ناک بند رکھو! کیوں سانس لیتے ہو!

لڑکی تھوڑی چونک سی گئی اور کہا " ہاں لیکن دیکھنے میں بھلا کیسا گناہ ، دیکھنا بھی حرام ہے عورت کو، دیکھنے سے بھلا کیا ہوجاتا ہے۔۔؟؟؟

میں نے کہا سانپ دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز کیوں ہو جاتی ہے ؟ طبیعت و احساسات میں تبدیلی کیوں آجاتی ہے ؟ سڑک پہ انسانی خون دیکھ کر طبیعت کیوں خراب ہوجاتی ہے ؟ 
ثابت ہوا کہ جذبات و احساسات کا دیکھنے سے بھی تعلق ہے--!
لہذا تم جوان لڑکیاں یہ مت کہو کہ ہم تنگ لباس پہنیں گے اور دیکھنے والے کو کچھ نہیں ہوگا ! "طبیعت خراب ہوگی جوانوں کی"

،،،،،،،،،،،،،،،،سبق،،،،،،،،،،،،،،،،،
    اسلئے اپنے آپ کو پردہ میں رکھو ڈھکی چیز کی ہی قیمت ہوتی ہے، عزت ہوتی ہے،
   میری بہنوں:— اگر ہر کوئی آپ کو دیکھے گا تو وہ آپ کی محبت میں نہیں دیکھے گا ، بلکہ ہوس کی نگاہوں سے دیکھے گا جس کی ذمہ دار آپ خود ہوں گی جب دعوت نہ دی جائے تو لوگ جائیں گے بھی نہیں ، میٹھی چیز نہ ہو تو چیونٹی بھی نہیں آئیں گی ۔۔۔۔۔

بچیوں کو محفوظ کریں

بچیوں کو محفوظ کریں

1: اپنی بچیوں کو کبھی کسی بھی مرد ٹیچر کے پاس سکول پڑھنے،، یا قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے کے لیے نہ بھیجیں! بچی چھوٹی ہو یا بڑی ہو،، ٹیچر یا قاری صاحب بڑی عمر کے سمجھ دار ہوں یا کم عمر نوجوان.. بچی ہمیشہ استانی کے پاس ہی پڑھے گی۔۔ 

2: جب بچی کچھ بڑی بڑی لگنے لگے تو اسے دکان پر چیز لینے نہ جانے دیں! خواہ بچی کتنی ہی کم عمر ہو.. اگر صحت مند ہے اور خد و خال واضح ہو رہے ہیں تو دکان پر مت جانے دیں! 

3: بچیوں کو کم لباس، یا تنگ لباس کر کے باہر مت بھیجیں! بلکہ گھر میں بھی مکمل کپڑے پہنا کر رکھیں! گھر میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی ہوں پھر بھی پورے ، اور کشادہ کپڑے پہننے کی عادت ڈالیں! 

4: بچیوں کو چھوٹے بچوں ، یا بڑے مرد کسی کے سامنے مت نہلائیں!! حتیٰ کہ باپ کے سامنے بھی بچیوں کو برہنہ مت کریں! بچیوں کے اعضاء ستر بچپن سے ہی پردے میں رہنے چاہییں! 

5: بچیوں کو بچیوں جیسا تیار کریں! سرخی پوڈر اور میک اپ کروا کر انہیں عورتوں کے مشابہ مت بنائیں! میک اپ کرکے تنگ کپڑے پہن کر چھوٹی چھوٹی عورتیں لگ رہی ہوتی ہیں ۔۔ پھر مردوں کی ہوس کی شکار بنتی ہیں ،، اور ان کی لاشیں ویرانوں سے برآمد ہوتی ہیں ۔

6: بالغ لڑکیوں کو،، یا قریب البلوغ بچیوں کو غیر محرم خصوصاً کزن، پھوپھا اور خالو وغیرہ کے ساتھ کبھی موٹر سائیکل پر مت بٹھائیں! اگر مجبوراً بھیجنا ہو تو ساتھ کوئی اور بچہ بھیجیں جو درمیان میں بیٹھ جائے۔ 

7: بچیاں ہوں یا بچے.. ہاتھ کا مذاق ان سے کوئی نہیں کرے گا۔ نہ استاد ، نہ کوئی بڑا انکل ، نہ ہی قریبی رشتے دار..
اسی طرح گالوں پر ہاتھ پھیرنا ، گود میں بٹھانا ، گدگدی کرنا وغیرہ.. یہ سب چیزیں بالکل ممنوع قرار دیں! 

8: بہنوں کے کمرے بھائیوں سے الگ ہونے چاہییں! بھائیوں کو بہنوں کے کمروں میں بلا اجازت جانے پر سخت سزا دیں! بہنوں کے گلے لگنا، گلے میں ہاتھ ڈالنا، مذاق مذاق میں ایک دوسرے سے گتھم گتھ ہونا بالکل غلط ہے ۔۔ بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے ۔

9: گھر میں کوئی بھی نامحرم مرد مہمان آئے ، قریب سے آئے یا دور سے،، جوان بچیاں اس سے سر پر ہاتھ نہیں رکھوائیں گی۔ بلکہ بہت قریبی رشتے دار نہ ہو تو سلام کرنا بھی ضروری نہیں۔ یہ بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا ۔
اپنی بچیوں کی جوانی کو ایسے چھپا کر رکھیں کہ کسی مرد کو ان کا سراپا ہی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں کی لڑکی اتنی موٹی اور اتنی لمبی تھی وغیرہ ۔۔

10: بچیوں کو گھر میں محرم رشتے داروں کے سامنے دوپٹہ لینے اور سنھبالنے کی خصوصی مشق کروائیں! دوپٹہ سر سے کبھی سرک بھی جائے تو سینے سے بالکل نہیں ہٹنا چاہیے! 
اور کھلے گلوں پر سختی سے پابندی لگائیں! بچیوں کو سمجھائیں کہ دستر خوان پر کبھی کسی کے سامنے جھک کر سالن نہیں ڈالنا، کوئی چیز گر جائے تو جھک کر نہیں اٹھانی.. اور اکیلے میں بھی اگر جھک کر کوئی کام کریں تو گلے اور سینے پر دوپٹے برابر قائم رہے ۔۔ تاکہ انجانے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے.. 

یہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا،، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بچیاں محفوظ رہیں تو ان پر عمل کریں! آج کے زمانے میں سب سے زیادہ فحش ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں ،، اور اب تو فحش نگاری کے باقاعدہ مصنفین موجود ہیں جو محرم رشتوں کے آپسی جنسی تعلقات سے متعلق گندی کہانیاں لکھ رہے ہیں اور ویڈیوز بنا رہے ہیں.. اور سب سے زیادہ ایسی ہی ویڈیوز اور کہانیاں دیکھی جا رہی ہیں ان سے مکمل بچیں کیونکہ ان کی نحوست سے اب لوگ آہستہ آہستہ بھیڑیے بنتے جا رہے ہیں ۔۔ اپنی بچیاں خود بچالیں! 
ورنہ یاد رکھیں! کسی کو آپ کی بچیوں پر ہونے والی زیادتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی لاش گٹر میں ملے ، ندی نالوں میں ملے یا کسی ویرانے میں ملے۔۔ تو یہ صرف اخبار کی ایک خبر ہے ، یا ٹی وی کی نیوز...
 انصاف وغیرہ کو بھول جائیں! وہ یہاں نہیں ملتا ۔
اس لیئے بہتر ہے کہ خود ہی احتیاط کریں !

14 حکمتیں جن پر عمل کرنے سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا

1. اعتماد کی انتہا یہ ہے کہ جب لوگ آپ کا مذاق اڑائیں تو آپ خاموش رہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور وہ کون ہیں۔
2. خاموش لوگ یا تو بڑے غم کے حامل ہوتے ہیں یا بڑے خواب کے۔
3. آپ نے یہ دنیا نہیں بنائی تاکہ دوسروں پر اپنی شرائط مسلط کریں۔ پہلے خود کو درست کریں تاکہ آپ دوسروں کے لیے مثال بن سکیں، پھر ان سے توقع کریں کہ وہ آپ کے جیسے ہوں۔
4. جاہلوں سے بحث کرنا پانی پر نقش بنانے کے مترادف ہے، چاہے آپ کتنی بھی محنت کریں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
5. جوتے کے پاس زبان ہے لیکن وہ بولتا نہیں، میز کے پاس پاؤں ہیں لیکن وہ چلتی نہیں، قلم کے پاس پر ہے لیکن وہ اڑتا نہیں، گھڑی کے پاس کانٹے ہیں لیکن وہ کاٹتے نہیں، اور بہت سے لوگوں کے پاس عقل ہے لیکن وہ سوچتے نہیں۔
6. وہ آپ کے بارے میں برا بولتے ہیں، پھر آپ کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور آپ کے چہرے پر مسکراتے ہیں، یہ سب سے گندے لوگ ہیں۔
7. مشکل وقت انسان کے اصل جوہر کو ظاہر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
8. چھوٹے دماغ کے لوگوں کی چھوٹی پریشانیاں ہوتی ہیں، جبکہ بڑے دماغ کے لوگوں کے پاس پریشانیوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔
9. ایسے شخص کے قریب نہ رہیں جو آپ کو خوش کرتا ہو، بلکہ ایسے شخص کے قریب رہیں جو صرف آپ کے ساتھ خوشی محسوس کرتا ہو۔
10. لوگ لہروں کی مانند ہیں، اگر آپ ان کے ساتھ چلیں تو وہ آپ کو ڈبو دیں گے، اور اگر ان کی مخالفت کریں تو وہ آپ کو تھکا دیں گے۔
11. میں نہیں جانتا کامیابی کا راز کیا ہے، لیکن ناکامی کا راز سب کو خوش کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
12. میں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہوں، تو یا تو میں کامیاب ہوں گا، یا میں کامیاب ہوں گا، یا میں کامیاب ہوں گا۔
13. اگر بھولنے کی نعمت نہ ہوتی، تو ہم میں سے بہت سے لوگ پاگل ہو جاتے۔
*سب سے اہم:*
14. خود کو کنجوسوں کی فہرست سے نکال دیں اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ❤️ پر درود بھیجیں۔

یہ حکمتیں آپ کو نہ صرف ذہنی سکون فراہم کریں گی بلکہ آپ کی زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

میں علماء سے کہتا ہوں کہ وہ مہربانی کریں کہ اب کوئی دارالعلوم کےنام پر ہرگز دار العلوم نہ بنائیں۔

میں علماء سے کہتا ہوں کہ وہ مہربانی کریں کہ اب کوئی دارالعلوم کےنام پر ہرگز دار العلوم نہ بنائیں۔
البتہ ایک ضروری کام یہ کریں ، کہ جہاں حکومت کوئی یونیورسٹی یا کالج بنائے، وہیں تم لوگ طلباء کی رہائش کے لیے ہاسٹل بناؤ، مدرسہ نہ ہو دارالعلوم نہ ہو، ہاسٹل ہو اور اس میں بس مسجد ہو اس ہاسٹل میں طلبا کو مفت رہائش دی جائے لیکن کھانے کے پیسے ان سے لیے جائیں ۔

ان سے کہا جائے کہ بھائی کھانے کے پیسے جمع کراؤ اور رہائش  فری ہو، بس ان سے یہ شرط طے کر لی جائے کہ بیٹا جب تک تم اس ہاسٹل میں رہو گے تو نماز باجماعت پڑھو گے ، جب تم کالج میں جاؤ، کہیں جاؤ تو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم جانو تمہارا خدا جانے اور صبح کی نماز کے بعد تین آیات درس قرآن اور عشاء کے بعد تین احادیث کا درس دیا جائے۔

پھر یہی لوگ کل کو حکومت کے اعلی عہدوں پر پہنچیں گے یہ مولوی تو نہیں بنیں گے لیکن مولوی بے زار نہیں ہوں گے  مولویوں سے نفرت نہیں ہوگی، یہ تمہارے قریب رہ چکے ہوں گے اور انہوں نے تم سے استفادہ کیا ہوگا۔

کسی شخص کو نیچے دبنا اور اوپر اٹھانا

ایک سکول میں ایک استاد نے کلاس میں موجود جسمانی طور پر ایک مضبوط بچے کو بُلایا اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا اپنا ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھا اور بولے تگڑا ہوجا پھر اُسے نیچے کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا یا - یوں کہہ لیجیے کہ دبانا شروع کردیا - وہ بچہ تگڑا تھا وہ اکڑ کر کھڑا رہا استاد محترم نے اپنا پورا زور لگانا شروع کر دیا وہ بچہ دبنے لگا اور بلآخر آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتا چلا گیا استاد محترم بھی اُسے دبانے کے لئے نیچے ہوتاچلا گیا وہ لڑکا آخر میں تقریباً گر گیا اور اُس سے تھوڑا کم استاد محترم بھی زمین پر تھے اُستاد صاحب نے اِس کے بعد اُسے اٹھایا اور کلاس سے مخاطب ہوئے

”آپ نے دیکھا مجھے اِس بچے کو نیچے گرانے کے لئے کتنا زور لگانا پڑا ؟

دوسرا یہ جیسے جیسے نیچے کی طرف جا رہا تھا میں بھی اِس کے ساتھ ساتھ نیچے جا رہا تھا یہاں تک کہ ہم دونوں زمین کی سطح تک پہنچ گئے“  وہ اُس کے بعد رکے لمبی سانس لی اور بولے  ”یاد رکھئیے ۔۔۔!!!

ہم جب بھی زندگی میں کِسی شخص کو نیچے دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف ہمارا ہدف ہی نیچے نہیں جاتا ہم بھی اُس کے ساتھ زمین کی سطح تک آ جاتے ہیں (مطلب انسانیت سے گِر جاتے ہیں) جب کہ اِس کے برعکس ہم جب کسی شخص کو نیچے سے اٹھاتے ہیں تو صرف وہ شخص اوپر نہیں آتا ہم بھی اوپر اٹھتے چلے جاتے ہیں ہمارا درجہ، ہمارا مقام بھی بلند ہو جاتا ہے
Aug
Tuesday,
20,

تنظیم المسلمین، علمائے کرام، گودھرا کی طرف سے منعقدمکتب کے اساتذہ میں ہوئی فکری نشست کی تفصیلی رپورٹ

تنظیم المسلمین، علمائے کرام، گودھرا کی طرف سے منعقد
مکتب کے اساتذہ میں ہوئی فکری نشست کی تفصیلی رپورٹ

آج مؤرخہ ۹ اگست، ۲۰۲۴، جمعہ کے روز تنظیم المسلمین علمائے کرام، گودھرا کی جانب سے اساتذۂ مکتب کے لیے ایک علمی و فکری مجلس کا انعقاد عمل میں آیا۔ مجلس کا مقررہ وقت نمازِعصر کے بعد سے مغرب تک کا تھا، الحمد للہ وقتِ مقررہ مجلس شروع ہوئی۔ 

آج کی مجلس کے خطیبِ مکرم حضرت مولانا ابو حسان پوترک صاحب فلاحی (پونہ) تھے، آپ گوناگوں اوصاف و کمالات اور میدان علم و تعلیم کے طویل ترین تجربات کی حامل شخصیت ہیں۔پچھلے ۲۵ سال سے تعلیم کے میدان کو اپنے فکر و عمل کا عنوان بنائے سرگرمِ عمل ہیں۔ آپ والا نہ صرف تعلیم، بلکہ فلسفۂ تعلیم و تربیت، فن تدریس، نفسیات اور خاص کر بچوں کی نفسیات کے میدان میں بھی گہری سمجھ اور طویل تجربہ رکھتے ہیں اور آپ نے انہی میدانوں کو اپنی جدوجہد کا محور بنا رکھا ہے، جس کے لیے آپ تقریبا سال بھر اپنے اس مشن کو لے کر ملک بھر کے مختلف مقامات کے اسفار میں سرگرداں رہتے ہیں۔ 

آج کی نشست کا موضوع تھا "ہندو تصورات جو اسکولی نظام کا حصہ ہو سکتے ہیں"۔ 
موضوع کی مناسبت سے آپ نے تمہیدی کلمات میں ہمارے ملک میں اسکولی تعلیم کے میدان میں ایمان و یقین کے حوالہ سے ہمارے بچوں کے مستقبل کو لے کر بڑی فکرمندی کا اظہار فرمایا۔ آپ کی گفتگو کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں: 

* آپ نے فرمایا کہ اس وقت ہم ایسے دور میں آ پہنچے ہیں جہاں ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہمارے بچوں کے ایمان کو بچانا ہے، اور ایمان کی حفاظت کے اگر کوئی مؤثر ترین ذرائع ہے تو ان میں سرفہرست مکتب ہے۔ 

* این ای پی (NEP: National Education Policy) پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اس کو آئے ہوئے چار سال ہو گئے، لیکن ہماری طرف سے اقدامی کوششیں تو کجا، دفاعی کوششیں بھی نہ ہونے کے برابر کی گئیں، جس کا ایک نتیجہ گزشتہ سال بھگوت گیتا کو گجرات کے اسکولی نصاب کا حصہ بنا دینے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

* این ای پی میں آیا کیا ہے؟ آج اس کو ہمیں سمجھنا ہے، آیا کیا ہے؟ وہ اس لیے بھی دیکھنا ضروری ہے تاکہ ہم مکتب میں کیا کر سکتے ہیں وہ سوچا جا سکے۔ کیونکہ چیزوں کو جب تک ٹھیک طریقے سے دیکھا نہیں جاتا، تب تک وہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس لیے آج پریزنٹیشن میں ان چیزوں کی کچھ صاف صاف تصاویر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش ہوگی۔

پھر آپ نے ایک بچی کا سوال پیش فرمایا کہ آج کے بچے کیسے کیسے سوالات اپنے ذہنوں میں لے کر آتے ہیں: 
* سوال یہ تھا کہ اللہ نے دنیا بنائی، لیکن یہ کیا لاجک ہے کہ اتنی اچھی بنی بنائی دنیا کو قیامت قائم کرکے توڑپھوڑ دے؟ اس کا کیا مطلب؟ اس سوال کا منبع کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ سوال آیا کہاں سے ہے اسے دیکھنے کے لیے ہمیں ہندوازم کے بنیادی نظریات و عقائد کو سمجھنا پڑے گا۔

اس کے بعد مولانا نے ہندوازم کے کچھ بنیادی عقائد اور اس کی تعلیم کی بنا پر ہمارے یہاں اس کی زد کہاں کہاں اور کن کن عقائد پر پڑے گی اس کا ایک تفصیلی خاکہ پیش فرمایا۔جیسے:
 
* دھرما: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندو دھرم کوئی دھرم نہیں، بلکہ وہ ایک زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ ایک کلچر ہے، حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ اور خلاف حقیقت ہے۔ کوئی بھی مذہب کچھ مخصوص عقائد، تہذیب اور اخلاقیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب بات ہندوازم کی آتی ہے تو اس میں بھی کرما، موکش، نروان، آواگون، پونرجنم، تناسخ، تری مورتی، یوگا وغیرہ عقائد ہی پر آ کر ختم ہوتی ہے، محض کلچر پر ہی نہیں رکتی۔ اور یہ چیزیں وہ اسکولی تعلیم میں حِسّی مثالوں کے ذریعہ سکھا رہے ہیں، کہانی اور مکالموں کے اسلوب میں لاشعوری طور پر ان کے دماغوں میں ٹھونس رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلہ میں ہمارے یہاں محض مجرد باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں بچہ ابھی دھرم کی گہری بحثوں کو سمجھتا بھی نہیں ہوتا، اس کو صرف ایمانیات کا ابھی اتنا حصہ سکھایا جاتا ہے جس کا تعلق بھی محض حافظہ سے ہوتا ہے، فہم سے نہیں۔ (ایمان مجمل، ایمان مفصل) اس لیے وہ خلاف اسلام عقائد و نظریات کو کاؤنٹر نہیں کر پاتا یا ان کے درمیان حد فاصل کھینچ نہیں پاتا۔

* ایک بچی نے اپنی دوست سے کہا کہ میں اسلام چھوڑنے والی ہوں، اس سے پوچھا گیا کہ کیوں؟ تو اس کا جواب یہ تھا کہ میں نے اللہ سے اتنی دعائیں مانگی، لیکن اس نے میری ایک بھی دعا نہیں سنی۔ یہ ذہن بچی کا کیسے اور کہاں سے بنا، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کو کیوں کہیں سے دعا کی حقیقت سیکھنے نہ ملی؟  

* اس لیے اب بچوں کو شعوری دین سکھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں بچوں کے پاس ریزننگ نہیں ہوتی، اس لیے اکثر وہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ 

* ایک بچی نے سوال کیا کہ: شادی کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟ کیونکہ میں نے پورا پورا ہفتہ اپنے والدین کو کبھی ایک دوسرے کے سامنے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔

* ایک اور بچی کا سوال تھا کہ: اللہ کی جنس کیا ہوتی ہے؟ کیوں کہ اللہ تعالی کے بارے میں صرف مذکر ہی کی ضمیر استعمال ہوتی ہے، مؤنث کی کیوں نہیں؟ اب دیکھو یہ سوال! یہ مسئلہ نکلا کہاں سے یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ یہ سوال آج کے مشہور زمانہ فتنہ 'فیمنزم' کی گود سے نکلا ہے۔

* ہمارے یہاں ایمان پڑھایا جاتا ہے، سکھایا نہیں جاتا۔ مکتب کی تعلیم میں ہمیں یہ اس طرح سمجھانا پڑے گا کہ یہ اس کی گھٹی میں پڑ جائے۔

پھر آپ نے ہندوازم کے بعض بنیادی عقائد جیسے کرما، موکش، تری مورتی، یوگا، تناسخ وغیرہ کا تقابل فرماکر یہ سمجھانے کی کوشش کی ان عقائد کی زد کیسے اسلام کے عقیدہ آخرت، عقیدہ جزا و سزا، عقیدہ بعث بعد الموت وغیرہ پر پڑتی ہے۔ آپ نے فرمایا: 
* اگر تصور آخرت مسلمانوں سے نکل گیا تو کوئی متبادل نہیں انسانی زندگی کو فساد سے بچا پانے کا۔ سارے خیر کی نیو تصور آخرت ہے۔ 

* اب وہ اپنے عقائد کی ترویج و اشاعت کے لیے اب فلمیں بھی بنا رہے ہیں۔

* مولانا نے فرمایا: (RTE)  حقِ تعلیم کے قانون میں  پہلے ۶ سے ۱۴ سال تک کے بچوں کو اسکولی تعلیم دلانا لازمی تھا، اب این ای پی کے نفاذ کے بعد یہ ۳ سے ۱۸ سال تک کر دیا گیا ہے، اگر آپ اس عمر کے بچے کو اسکول کی تعلیم سے محروم رکھتے ہیں تو آپ قانون کی نظر میں قابل سزا مجرم شمار ہوتے ہیں۔

* اسکولوں میں اب زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا، جو کچھ ہو سکتا ہے وہ مکتب میں ہو سکتا ہے، ان سب کا توڑ مکتب کی تعلیم ہے۔ 

* ہمیں بچوں سے مکالمہ کرتے رہنا پڑے گا۔ 

* جب ابتدا میں الحاد کا چیلنج آیا تو الحاد کے شکار بچے جب سوالات لے کر ہمارے پاس آتے تھے تو ہمارا جواب تیاری اور مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہوتا تھا کہ ایسی باتیں اور سوال نہیں کرنے کے، ایمان سے باہر نکل جاؤ گے۔ اور بچہ بھی سوسائٹی کے دباؤ سے خاموشی اختیار کر لیتا تھا، لیکن اب سوسائٹی کا وہ پریشر باقی نہیں رہا، اور اب اسی طرح کے سوالات ہندوازم سے متعلق ہمارے بچوں کی طرف سے آنے والے ہیں، اگر ہم نے اس کو گہرائی سے نہ سمجھا تو بچوں کے سولات کے تشفی بخش جواب نہ مل پائیں گے، اور نتیجہ میں ہم بچوں کے ایمان کو تزلزل سے نہیں روک سکیں گے۔

* یوگا کے بارے میں فرمایا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اگر روحانیت پانی ہے تو یوگا کرنا پڑے گا۔ یوگا ایک مذہبی عمل ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ابتلاء ہماری عورتوں کا ہے۔ 

آخر میں آپ نے گیتا کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ
* اب وہ یہاں تک پہنچ گئے کہ کتاب کے سامنے کتاب لے آئے ہیں، یعنی گیتا کا نصاب میں آنا یہ سیدھا مقابلہ ہے کتاب اللہ سے۔ اور اس کو بچوں کی دلچسپی اور ان کی نفسیات کے مطابق بنا کر لائے ہیں، کہانی اور مکالموں کی شکل میں گیتا کی تعلیم کو پیش کیا ہے۔

یوں یہ فکری مذاکرہ تقریبا سوا گھنٹہ کی طوالت پر ختم ہوا۔ مجلس کے اختتام پر تنظیم کی طرف سے شرکت کرنے والے تمام علمائے کرام کی چائے سے ضیافت کی گئی، اس دوران کئی ساتھیوں کے تاثرات سامنے آئے، جس میں ایک کامن تاثر یہ تھا اتنے اہم اور فکرانگیز موضوع کا اتنی وضاحت اور تفصیل سے یہ پہلی بار سامنا ہوا، کئی ساتھیوں نے بعد میں بھی مل کر کچھ مزید سوالات پیش فرمائے اور بعضوں نے اسے اپنی فکر و تدبر کا عنوان بنا کر اس پر نتیجہ خیز کوشش و توجہ کرنے کا اظہار فرمایا۔ الحمد للہ!

راقم: انس بدام، گودھرا
Aug
Thursday,
8,

مفتی تقی عثمانی کا معمول دو نفل پانچ نیتوں کے ساتھ پڑھتا ہوں

*استاد محترم مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے ایک مرتبہ درس کے دوران اپنا ایک معمول بیان فرمایا۔* فرمانے لگے کہ میں دن بھر کئی فیصلے کرتا ہوں، مجھے دن بھر کئی حاجات پیش اتی ہیں، دن بھر مصروفیات کی وجہ سے ہر فیصلے سے قبل استخارہ نہیں کر سکتا، اور بار بار نوافل نہیں پڑھ سکتا، بسا اوقات مصروفیات میں یاد بھی نہیں رہتا، تو میرا برسوں کا یہ معمول ہے کہ میں دو نفل پانچ نیتوں کے ساتھ پڑھتا ہوں کیونکہ نوافل میں متعدد نیتیں کی جا سکتی ہیں۔ حضرت فرمانے لگے وہ پانچ نیتیں یہ ہیں:
(1) پہلی نیت صلاۃ التوبہ کی۔ 
(2) دوسری نیت صلاۃ الحاجات کی۔
(3) تیسری نیت صلاۃ الشکر کی۔
(4) چوتھی نیت صلاۃ الاستعانہ کی۔
(5) پانچویں نیت صلاۃ الاستخارہ کی۔
 ان پانچ نیتوں سے دو نفل پڑھتا ہوں۔
فرمانے لگے ان پانچ نیتوں کی برکت سے مجھے دن بھر کے سارے کاموں میں بہت آسانی اور عافیت ہو جاتی ہے۔
صلوۃ التوبہ سے دن بھر کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں،
صلوۃ الحاجات سے دن بھر کی ساری ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں،
شکر سے ان تمام نعمتوں میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے اور پھر صلاۃ الاستعانہ سے دن بھر ہر کام میں اللّٰہ تعالی کی خاص الخاص مدد حاصل رہتی ہے۔
صلاۃ الاستخارہ کی نیت سے دن بھر مجھے فیصلہ کرنے میں بالکل تنگی نہیں ہوتی، بلکہ دو اور دو چار کی طرح میرے سامنے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ فیصلہ ہونا چاہیے۔
استاد محترم نے فرمایا یہ عمل جو دو رکعت نفل پانچ نیتوں کے ساتھ پڑھنا دن بھر رجوع الی اللّٰہ کا طریقہ ہے۔ اس طرح انسان کا گویا دن بھر اللّٰہ تعالی کی طرف رجوع رہتا ہے۔
واقعی استاد محترم مدظلہ العالیٰ نے بڑی کام کی بات بتائی ہے۔
 میں نے جب سے یہ پڑھا ہے الحمدللّٰہ آج تک ان نوافل کا معمول رکھا ہوا ہے اور ان نوافل کی برکت سے بہت فوائد و ثمرات سے مستفید ہوں۔
 *تمام احباب سے گزارش ہے کہ یہ دو رکعت نفل پانچ نیتوں کے ساتھ اہتمام کے ساتھ ادا کرنےکی کوشش کریں🌹🥀

ہر قسم کےمضامین کا پلیٹ فارم

Followers

Label

Recent Comments

Popular Posts

Argyle Creme Template © by beKreaTief | Copyright © 2025 صراط مستقیم