تنظیم المسلمین، علمائے کرام، گودھرا کی طرف سے منعقد
مکتب کے اساتذہ میں ہوئی فکری نشست کی تفصیلی رپورٹ
آج مؤرخہ ۹ اگست، ۲۰۲۴، جمعہ کے روز تنظیم المسلمین علمائے کرام، گودھرا کی جانب سے اساتذۂ مکتب کے لیے ایک علمی و فکری مجلس کا انعقاد عمل میں آیا۔ مجلس کا مقررہ وقت نمازِعصر کے بعد سے مغرب تک کا تھا، الحمد للہ وقتِ مقررہ مجلس شروع ہوئی۔
آج کی مجلس کے خطیبِ مکرم حضرت مولانا ابو حسان پوترک صاحب فلاحی (پونہ) تھے، آپ گوناگوں اوصاف و کمالات اور میدان علم و تعلیم کے طویل ترین تجربات کی حامل شخصیت ہیں۔پچھلے ۲۵ سال سے تعلیم کے میدان کو اپنے فکر و عمل کا عنوان بنائے سرگرمِ عمل ہیں۔ آپ والا نہ صرف تعلیم، بلکہ فلسفۂ تعلیم و تربیت، فن تدریس، نفسیات اور خاص کر بچوں کی نفسیات کے میدان میں بھی گہری سمجھ اور طویل تجربہ رکھتے ہیں اور آپ نے انہی میدانوں کو اپنی جدوجہد کا محور بنا رکھا ہے، جس کے لیے آپ تقریبا سال بھر اپنے اس مشن کو لے کر ملک بھر کے مختلف مقامات کے اسفار میں سرگرداں رہتے ہیں۔
آج کی نشست کا موضوع تھا "ہندو تصورات جو اسکولی نظام کا حصہ ہو سکتے ہیں"۔
موضوع کی مناسبت سے آپ نے تمہیدی کلمات میں ہمارے ملک میں اسکولی تعلیم کے میدان میں ایمان و یقین کے حوالہ سے ہمارے بچوں کے مستقبل کو لے کر بڑی فکرمندی کا اظہار فرمایا۔ آپ کی گفتگو کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
* آپ نے فرمایا کہ اس وقت ہم ایسے دور میں آ پہنچے ہیں جہاں ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہمارے بچوں کے ایمان کو بچانا ہے، اور ایمان کی حفاظت کے اگر کوئی مؤثر ترین ذرائع ہے تو ان میں سرفہرست مکتب ہے۔
* این ای پی (NEP: National Education Policy) پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اس کو آئے ہوئے چار سال ہو گئے، لیکن ہماری طرف سے اقدامی کوششیں تو کجا، دفاعی کوششیں بھی نہ ہونے کے برابر کی گئیں، جس کا ایک نتیجہ گزشتہ سال بھگوت گیتا کو گجرات کے اسکولی نصاب کا حصہ بنا دینے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
* این ای پی میں آیا کیا ہے؟ آج اس کو ہمیں سمجھنا ہے، آیا کیا ہے؟ وہ اس لیے بھی دیکھنا ضروری ہے تاکہ ہم مکتب میں کیا کر سکتے ہیں وہ سوچا جا سکے۔ کیونکہ چیزوں کو جب تک ٹھیک طریقے سے دیکھا نہیں جاتا، تب تک وہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس لیے آج پریزنٹیشن میں ان چیزوں کی کچھ صاف صاف تصاویر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش ہوگی۔
پھر آپ نے ایک بچی کا سوال پیش فرمایا کہ آج کے بچے کیسے کیسے سوالات اپنے ذہنوں میں لے کر آتے ہیں:
* سوال یہ تھا کہ اللہ نے دنیا بنائی، لیکن یہ کیا لاجک ہے کہ اتنی اچھی بنی بنائی دنیا کو قیامت قائم کرکے توڑپھوڑ دے؟ اس کا کیا مطلب؟ اس سوال کا منبع کیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، یہ سوال آیا کہاں سے ہے اسے دیکھنے کے لیے ہمیں ہندوازم کے بنیادی نظریات و عقائد کو سمجھنا پڑے گا۔
اس کے بعد مولانا نے ہندوازم کے کچھ بنیادی عقائد اور اس کی تعلیم کی بنا پر ہمارے یہاں اس کی زد کہاں کہاں اور کن کن عقائد پر پڑے گی اس کا ایک تفصیلی خاکہ پیش فرمایا۔جیسے:
* دھرما: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندو دھرم کوئی دھرم نہیں، بلکہ وہ ایک زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ ایک کلچر ہے، حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ اور خلاف حقیقت ہے۔ کوئی بھی مذہب کچھ مخصوص عقائد، تہذیب اور اخلاقیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب بات ہندوازم کی آتی ہے تو اس میں بھی کرما، موکش، نروان، آواگون، پونرجنم، تناسخ، تری مورتی، یوگا وغیرہ عقائد ہی پر آ کر ختم ہوتی ہے، محض کلچر پر ہی نہیں رکتی۔ اور یہ چیزیں وہ اسکولی تعلیم میں حِسّی مثالوں کے ذریعہ سکھا رہے ہیں، کہانی اور مکالموں کے اسلوب میں لاشعوری طور پر ان کے دماغوں میں ٹھونس رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلہ میں ہمارے یہاں محض مجرد باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں بچہ ابھی دھرم کی گہری بحثوں کو سمجھتا بھی نہیں ہوتا، اس کو صرف ایمانیات کا ابھی اتنا حصہ سکھایا جاتا ہے جس کا تعلق بھی محض حافظہ سے ہوتا ہے، فہم سے نہیں۔ (ایمان مجمل، ایمان مفصل) اس لیے وہ خلاف اسلام عقائد و نظریات کو کاؤنٹر نہیں کر پاتا یا ان کے درمیان حد فاصل کھینچ نہیں پاتا۔
* ایک بچی نے اپنی دوست سے کہا کہ میں اسلام چھوڑنے والی ہوں، اس سے پوچھا گیا کہ کیوں؟ تو اس کا جواب یہ تھا کہ میں نے اللہ سے اتنی دعائیں مانگی، لیکن اس نے میری ایک بھی دعا نہیں سنی۔ یہ ذہن بچی کا کیسے اور کہاں سے بنا، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کو کیوں کہیں سے دعا کی حقیقت سیکھنے نہ ملی؟
* اس لیے اب بچوں کو شعوری دین سکھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں بچوں کے پاس ریزننگ نہیں ہوتی، اس لیے اکثر وہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔
* ایک بچی نے سوال کیا کہ: شادی کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟ کیونکہ میں نے پورا پورا ہفتہ اپنے والدین کو کبھی ایک دوسرے کے سامنے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔
* ایک اور بچی کا سوال تھا کہ: اللہ کی جنس کیا ہوتی ہے؟ کیوں کہ اللہ تعالی کے بارے میں صرف مذکر ہی کی ضمیر استعمال ہوتی ہے، مؤنث کی کیوں نہیں؟ اب دیکھو یہ سوال! یہ مسئلہ نکلا کہاں سے یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ یہ سوال آج کے مشہور زمانہ فتنہ 'فیمنزم' کی گود سے نکلا ہے۔
* ہمارے یہاں ایمان پڑھایا جاتا ہے، سکھایا نہیں جاتا۔ مکتب کی تعلیم میں ہمیں یہ اس طرح سمجھانا پڑے گا کہ یہ اس کی گھٹی میں پڑ جائے۔
پھر آپ نے ہندوازم کے بعض بنیادی عقائد جیسے کرما، موکش، تری مورتی، یوگا، تناسخ وغیرہ کا تقابل فرماکر یہ سمجھانے کی کوشش کی ان عقائد کی زد کیسے اسلام کے عقیدہ آخرت، عقیدہ جزا و سزا، عقیدہ بعث بعد الموت وغیرہ پر پڑتی ہے۔ آپ نے فرمایا:
* اگر تصور آخرت مسلمانوں سے نکل گیا تو کوئی متبادل نہیں انسانی زندگی کو فساد سے بچا پانے کا۔ سارے خیر کی نیو تصور آخرت ہے۔
* اب وہ اپنے عقائد کی ترویج و اشاعت کے لیے اب فلمیں بھی بنا رہے ہیں۔
* مولانا نے فرمایا: (RTE) حقِ تعلیم کے قانون میں پہلے ۶ سے ۱۴ سال تک کے بچوں کو اسکولی تعلیم دلانا لازمی تھا، اب این ای پی کے نفاذ کے بعد یہ ۳ سے ۱۸ سال تک کر دیا گیا ہے، اگر آپ اس عمر کے بچے کو اسکول کی تعلیم سے محروم رکھتے ہیں تو آپ قانون کی نظر میں قابل سزا مجرم شمار ہوتے ہیں۔
* اسکولوں میں اب زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا، جو کچھ ہو سکتا ہے وہ مکتب میں ہو سکتا ہے، ان سب کا توڑ مکتب کی تعلیم ہے۔
* ہمیں بچوں سے مکالمہ کرتے رہنا پڑے گا۔
* جب ابتدا میں الحاد کا چیلنج آیا تو الحاد کے شکار بچے جب سوالات لے کر ہمارے پاس آتے تھے تو ہمارا جواب تیاری اور مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہوتا تھا کہ ایسی باتیں اور سوال نہیں کرنے کے، ایمان سے باہر نکل جاؤ گے۔ اور بچہ بھی سوسائٹی کے دباؤ سے خاموشی اختیار کر لیتا تھا، لیکن اب سوسائٹی کا وہ پریشر باقی نہیں رہا، اور اب اسی طرح کے سوالات ہندوازم سے متعلق ہمارے بچوں کی طرف سے آنے والے ہیں، اگر ہم نے اس کو گہرائی سے نہ سمجھا تو بچوں کے سولات کے تشفی بخش جواب نہ مل پائیں گے، اور نتیجہ میں ہم بچوں کے ایمان کو تزلزل سے نہیں روک سکیں گے۔
* یوگا کے بارے میں فرمایا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اگر روحانیت پانی ہے تو یوگا کرنا پڑے گا۔ یوگا ایک مذہبی عمل ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ابتلاء ہماری عورتوں کا ہے۔
آخر میں آپ نے گیتا کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہا کہ
* اب وہ یہاں تک پہنچ گئے کہ کتاب کے سامنے کتاب لے آئے ہیں، یعنی گیتا کا نصاب میں آنا یہ سیدھا مقابلہ ہے کتاب اللہ سے۔ اور اس کو بچوں کی دلچسپی اور ان کی نفسیات کے مطابق بنا کر لائے ہیں، کہانی اور مکالموں کی شکل میں گیتا کی تعلیم کو پیش کیا ہے۔
یوں یہ فکری مذاکرہ تقریبا سوا گھنٹہ کی طوالت پر ختم ہوا۔ مجلس کے اختتام پر تنظیم کی طرف سے شرکت کرنے والے تمام علمائے کرام کی چائے سے ضیافت کی گئی، اس دوران کئی ساتھیوں کے تاثرات سامنے آئے، جس میں ایک کامن تاثر یہ تھا اتنے اہم اور فکرانگیز موضوع کا اتنی وضاحت اور تفصیل سے یہ پہلی بار سامنا ہوا، کئی ساتھیوں نے بعد میں بھی مل کر کچھ مزید سوالات پیش فرمائے اور بعضوں نے اسے اپنی فکر و تدبر کا عنوان بنا کر اس پر نتیجہ خیز کوشش و توجہ کرنے کا اظہار فرمایا۔ الحمد للہ!
راقم: انس بدام، گودھرا